Oct 7, 2013

انبیاء علیہ الصلوۃ والسلام کے علوم کیفیات

0 comments
انبیاء علیہ الصلوۃ والسلام کے علوم کیفیات :۔اللہ کے نبی جب کسی موضوع پر بات کرتے ہیں تو وہ صرف جملے ہی نہیں کہتے بلکہ اسکے ساتھ وہ کفیات بھی تقسیم فرما دیتے ہیں جس اس ارشاد پر عمل کرنے کا جذبہ بھی پیدا ہو جاتا ہے،یہ کفیات قلب اطہر ﷺ سے ان قلب کو منتقل ہو تی ہیں،جن میں قبولیت کی استعداد باقی ہوتی ہے۔
جب اللہ کے نبیﷺ کسی چیز کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ نیکی ہے تو صرف یہ علم ہی منتقل نہیں ہوتا بلکہ ایک کفیت بھی منتقل ہوتی ہے ،جس سے نیکی کرنے کو جی چاہتا ہے اور انبیاء علیہ الصلوۃ والسلام کے اس کمال کا اثر ہے کہ جب وہ ارشاد فرمائیں کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرو تو لوگ بے تابانہ دوڑ پڑتے ہیں ،سینے چھلنی کروا لیتے ہیں ،گردنیں کٹوا لیتے ہیں اور خود کو قربان کر دیتے ہیں۔
اسی طرح نبی علیہ الصلوۃ والسلام جب کسی کام سے منع فرما دیتے ہیں تو اس کام سے ایک نفرت پیدا ہو جاتی ہے ،ایک کراہت آنے لگتی ہے،اور یہ کفیت عہد مبارکہ میں اعلیٰ ترین درجے میں عطا ہوئی لیکن ختم کبھی نہیں ہوئی،آج کے برائے نام مسلمان میں بھی موجود ہے ۔ذرا ہم خود ہی دل میں سوال کر لیں کہ جب گناہ کی بات ہو تو کیا برا محسوس نہیں ہوتا؟ کیا گناہ چوری رشوت ،جھوٹ کےلئے دل کے اندر ایک نفرت سی محسوس نہیں ہوتی ؟
ہم سے اگر کوئی نیکی ہو جائے ،کبھی رمضان کے روزے عطا ہو جائیں ،درود ،کلمہ پڑھنا نصیب ہو جائے،فرائض اور سجدے نصیب ہو جائے ،کسی کی مدد کرنے کی توفیق نصیب ہو جائے تو کیا ہمارا اندر ایک چھوٹی سی تشفی پیدا نہیں ہوتی کہ ہم نے اچھے کام کیے ! یہ محسوسات کہاں سے آتے ہیں ؟ یہ کفیات ارشادات نبویﷺ سے آتی ہیں ۔یہ کمال ہمارا نہیں ، یہ نبی علیہ الصلوۃ والسلام کا کمال ہے۔
برکات نبوتﷺ
انبیاء علیہ الصلوۃ والسلام کے علوم کیفیات :۔اللہ کے نبی جب کسی موضوع پر بات کرتے ہیں تو وہ صرف جملے ہی نہیں کہتے بلکہ اسکے ساتھ وہ کفیات بھی تقسیم فرما دیتے ہیں جس اس ارشاد پر عمل کرنے کا جذبہ بھی پیدا ہو جاتا ہے،یہ کفیات قلب اطہر ﷺ سے ان قلب کو منتقل ہو تی ہیں،جن میں قبولیت کی استعداد باقی ہوتی ہے۔
جب اللہ کے نبیﷺ کسی چیز کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ نیکی ہے تو صرف یہ علم ہی منتقل نہیں ہوتا بلکہ ایک کفیت بھی منتقل ہوتی ہے ،جس سے نیکی کرنے کو جی چاہتا ہے اور انبیاء علیہ الصلوۃ والسلام کے اس کمال کا اثر ہے کہ جب وہ ارشاد فرمائیں کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرو تو لوگ بے تابانہ دوڑ پڑتے ہیں ،سینے چھلنی کروا لیتے ہیں ،گردنیں کٹوا لیتے ہیں اور خود کو قربان کر دیتے ہیں۔
اسی طرح نبی علیہ الصلوۃ والسلام جب کسی کام سے منع فرما دیتے ہیں تو اس کام سے ایک نفرت پیدا ہو جاتی ہے ،ایک کراہت آنے لگتی ہے،اور یہ کفیت عہد مبارکہ میں اعلیٰ ترین درجے میں عطا ہوئی لیکن ختم کبھی نہیں ہوئی،آج کے برائے نام مسلمان میں بھی موجود ہے ۔ذرا ہم خود ہی دل میں سوال کر لیں کہ جب گناہ کی بات ہو تو کیا برا محسوس نہیں ہوتا؟ کیا گناہ چوری رشوت ،جھوٹ کےلئے دل کے اندر ایک نفرت سی محسوس نہیں ہوتی ؟
ہم سے اگر کوئی نیکی ہو جائے ،کبھی رمضان کے روزے عطا ہو جائیں ،درود ،کلمہ پڑھنا نصیب ہو جائے،فرائض اور سجدے نصیب ہو جائے ،کسی کی مدد کرنے کی توفیق نصیب ہو جائے تو کیا ہمارا اندر ایک چھوٹی سی تشفی پیدا نہیں ہوتی کہ ہم نے اچھے کام کیے ! یہ محسوسات کہاں سے آتے ہیں ؟ یہ کفیات ارشادات نبویﷺ سے آتی ہیں ۔یہ کمال ہمارا نہیں ، یہ نبی علیہ الصلوۃ والسلام کا کمال ہے۔
برکات نبوتﷺ
انبیاء علیہ الصلوۃ والسلام کے علوم کیفیات :۔اللہ کے نبی جب کسی موضوع پر بات کرتے ہیں تو وہ صرف جملے ہی نہیں کہتے بلکہ اسکے ساتھ وہ کفیات بھی تقسیم فرما دیتے ہیں جس اس ارشاد پر عمل کرنے کا جذبہ بھی پیدا ہو جاتا ہے،یہ کفیات قلب اطہر ﷺ سے ان قلب کو منتقل ہو تی ہیں،جن میں قبولیت کی استعداد باقی ہوتی ہے۔
جب اللہ کے نبیﷺ کسی چیز کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ نیکی ہے تو صرف یہ علم ہی منتقل نہیں ہوتا بلکہ ایک کفیت بھی منتقل ہوتی ہے ،جس سے نیکی کرنے کو جی چاہتا ہے اور انبیاء علیہ الصلوۃ والسلام کے اس کمال کا اثر ہے کہ جب وہ ارشاد فرمائیں کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرو تو لوگ بے تابانہ دوڑ پڑتے ہیں ،سینے چھلنی کروا لیتے ہیں ،گردنیں کٹوا لیتے ہیں اور خود کو قربان کر دیتے ہیں۔
اسی طرح نبی علیہ الصلوۃ والسلام جب کسی کام سے منع فرما دیتے ہیں تو اس کام سے ایک نفرت پیدا ہو جاتی ہے ،ایک کراہت آنے لگتی ہے،اور یہ کفیت عہد مبارکہ میں اعلیٰ ترین درجے میں عطا ہوئی لیکن ختم کبھی نہیں ہوئی،آج کے برائے نام مسلمان میں بھی موجود ہے ۔ذرا ہم خود ہی دل میں سوال کر لیں کہ جب گناہ کی بات ہو تو کیا برا محسوس نہیں ہوتا؟ کیا گناہ چوری رشوت ،جھوٹ کےلئے دل کے اندر ایک نفرت سی محسوس نہیں ہوتی ؟
ہم سے اگر کوئی نیکی ہو جائے ،کبھی رمضان کے روزے عطا ہو جائیں ،درود ،کلمہ پڑھنا نصیب ہو جائے،فرائض اور سجدے نصیب ہو جائے ،کسی کی مدد کرنے کی توفیق نصیب ہو جائے تو کیا ہمارا اندر ایک چھوٹی سی تشفی پیدا نہیں ہوتی کہ ہم نے اچھے کام کیے ! یہ محسوسات کہاں سے آتے ہیں ؟ یہ کفیات ارشادات نبویﷺ سے آتی ہیں ۔یہ کمال ہمارا نہیں ، یہ نبی علیہ الصلوۃ والسلام کا کمال ہے۔
برکات نبوتﷺ
انبیاء علیہ الصلوۃ والسلام کے علوم کیفیات :۔اللہ کے نبی جب کسی موضوع پر بات کرتے ہیں تو وہ صرف جملے ہی نہیں کہتے بلکہ اسکے ساتھ وہ کفیات بھی تقسیم فرما دیتے ہیں جس اس ارشاد پر عمل کرنے کا جذبہ بھی پیدا ہو جاتا ہے،یہ کفیات قلب اطہر ﷺ سے ان قلب کو منتقل ہو تی ہیں،جن میں قبولیت کی استعداد باقی ہوتی ہے۔
جب اللہ کے نبیﷺ کسی چیز کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ نیکی ہے تو صرف یہ علم ہی منتقل نہیں ہوتا بلکہ ایک کفیت بھی منتقل ہوتی ہے ،جس سے نیکی کرنے کو جی چاہتا ہے اور انبیاء علیہ الصلوۃ والسلام کے اس کمال کا اثر ہے کہ جب وہ ارشاد فرمائیں کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرو تو لوگ بے تابانہ دوڑ پڑتے ہیں ،سینے چھلنی کروا لیتے ہیں ،گردنیں کٹوا لیتے ہیں اور خود کو قربان کر دیتے ہیں۔
اسی طرح نبی علیہ الصلوۃ والسلام جب کسی کام سے منع فرما دیتے ہیں تو اس کام سے ایک نفرت پیدا ہو جاتی ہے ،ایک کراہت آنے لگتی ہے،اور یہ کفیت عہد مبارکہ میں اعلیٰ ترین درجے میں عطا ہوئی لیکن ختم کبھی نہیں ہوئی،آج کے برائے نام مسلمان میں بھی موجود ہے ۔ذرا ہم خود ہی دل میں سوال کر لیں کہ جب گناہ کی بات ہو تو کیا برا محسوس نہیں ہوتا؟ کیا گناہ چوری رشوت ،جھوٹ کےلئے دل کے اندر ایک نفرت سی محسوس نہیں ہوتی ؟
ہم سے اگر کوئی نیکی ہو جائے ،کبھی رمضان کے روزے عطا ہو جائیں ،درود ،کلمہ پڑھنا نصیب ہو جائے،فرائض اور سجدے نصیب ہو جائے ،کسی کی مدد کرنے کی توفیق نصیب ہو جائے تو کیا ہمارا اندر ایک چھوٹی سی تشفی پیدا نہیں ہوتی کہ ہم نے اچھے کام کیے ! یہ محسوسات کہاں سے آتے ہیں ؟ یہ کفیات ارشادات نبویﷺ سے آتی ہیں ۔یہ کمال ہمارا نہیں ، یہ نبی علیہ الصلوۃ والسلام کا کمال ہے۔
برکات نبوتﷺ
انبیاء علیہ الصلوۃ والسلام کے علوم کیفیات :۔اللہ کے نبی جب کسی موضوع پر بات کرتے ہیں تو وہ صرف جملے ہی نہیں کہتے بلکہ اسکے ساتھ وہ کفیات بھی تقسیم فرما دیتے ہیں جس اس ارشاد پر عمل کرنے کا جذبہ بھی پیدا ہو جاتا ہے،یہ کفیات قلب اطہر ﷺ سے ان قلب کو منتقل ہو تی ہیں،جن میں قبولیت کی استعداد باقی ہوتی ہے۔
جب اللہ کے نبیﷺ کسی چیز کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ نیکی ہے تو صرف یہ علم ہی منتقل نہیں ہوتا بلکہ ایک کفیت بھی منتقل ہوتی ہے ،جس سے نیکی کرنے کو جی چاہتا ہے اور انبیاء علیہ الصلوۃ والسلام کے اس کمال کا اثر ہے کہ جب وہ ارشاد فرمائیں کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرو تو لوگ بے تابانہ دوڑ پڑتے ہیں ،سینے چھلنی کروا لیتے ہیں ،گردنیں کٹوا لیتے ہیں اور خود کو قربان کر دیتے ہیں۔
اسی طرح نبی علیہ الصلوۃ والسلام جب کسی کام سے منع فرما دیتے ہیں تو اس کام سے ایک نفرت پیدا ہو جاتی ہے ،ایک کراہت آنے لگتی ہے،اور یہ کفیت عہد مبارکہ میں اعلیٰ ترین درجے میں عطا ہوئی لیکن ختم کبھی نہیں ہوئی،آج کے برائے نام مسلمان میں بھی موجود ہے ۔ذرا ہم خود ہی دل میں سوال کر لیں کہ جب گناہ کی بات ہو تو کیا برا محسوس نہیں ہوتا؟ کیا گناہ چوری رشوت ،جھوٹ کےلئے دل کے اندر ایک نفرت سی محسوس نہیں ہوتی ؟
ہم سے اگر کوئی نیکی ہو جائے ،کبھی رمضان کے روزے عطا ہو جائیں ،درود ،کلمہ پڑھنا نصیب ہو جائے،فرائض اور سجدے نصیب ہو جائے ،کسی کی مدد کرنے کی توفیق نصیب ہو جائے تو کیا ہمارا اندر ایک چھوٹی سی تشفی پیدا نہیں ہوتی کہ ہم نے اچھے کام کیے ! یہ محسوسات کہاں سے آتے ہیں ؟ یہ کفیات ارشادات نبویﷺ سے آتی ہیں ۔یہ کمال ہمارا نہیں ، یہ نبی علیہ الصلوۃ والسلام کا کمال ہے۔
برکات نبوتﷺ
انبیاء علیہ الصلوۃ والسلام کے علوم کیفیات :۔اللہ کے نبی جب کسی موضوع پر بات کرتے ہیں تو وہ صرف جملے ہی نہیں کہتے بلکہ اسکے ساتھ وہ کفیات بھی تقسیم فرما دیتے ہیں جس اس ارشاد پر عمل کرنے کا جذبہ بھی پیدا ہو جاتا ہے،یہ کفیات قلب اطہر ﷺ سے ان قلب کو منتقل ہو تی ہیں،جن میں قبولیت کی استعداد باقی ہوتی ہے۔
جب اللہ کے نبیﷺ کسی چیز کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ نیکی ہے تو صرف یہ علم ہی منتقل نہیں ہوتا بلکہ ایک کفیت بھی منتقل ہوتی ہے ،جس سے نیکی کرنے کو جی چاہتا ہے اور انبیاء علیہ الصلوۃ والسلام کے اس کمال کا اثر ہے کہ جب وہ ارشاد فرمائیں کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرو تو لوگ بے تابانہ دوڑ پڑتے ہیں ،سینے چھلنی کروا لیتے ہیں ،گردنیں کٹوا لیتے ہیں اور خود کو قربان کر دیتے ہیں۔
اسی طرح نبی علیہ الصلوۃ والسلام جب کسی کام سے منع فرما دیتے ہیں تو اس کام سے ایک نفرت پیدا ہو جاتی ہے ،ایک کراہت آنے لگتی ہے،اور یہ کفیت عہد مبارکہ میں اعلیٰ ترین درجے میں عطا ہوئی لیکن ختم کبھی نہیں ہوئی،آج کے برائے نام مسلمان میں بھی موجود ہے ۔ذرا ہم خود ہی دل میں سوال کر لیں کہ جب گناہ کی بات ہو تو کیا برا محسوس نہیں ہوتا؟ کیا گناہ چوری رشوت ،جھوٹ کےلئے دل کے اندر ایک نفرت سی محسوس نہیں ہوتی ؟
ہم سے اگر کوئی نیکی ہو جائے ،کبھی رمضان کے روزے عطا ہو جائیں ،درود ،کلمہ پڑھنا نصیب ہو جائے،فرائض اور سجدے نصیب ہو جائے ،کسی کی مدد کرنے کی توفیق نصیب ہو جائے تو کیا ہمارا اندر ایک چھوٹی سی تشفی پیدا نہیں ہوتی کہ ہم نے اچھے کام کیے ! یہ محسوسات کہاں سے آتے ہیں ؟ یہ کفیات ارشادات نبویﷺ سے آتی ہیں ۔یہ کمال ہمارا نہیں ، یہ نبی علیہ الصلوۃ والسلام کا کمال ہے۔
برکات نبوتﷺ
انبیاء علیہ الصلوۃ والسلام کے علوم کیفیات :۔اللہ کے نبی جب کسی موضوع پر بات کرتے ہیں تو وہ صرف جملے ہی نہیں کہتے بلکہ اسکے ساتھ وہ کفیات بھی تقسیم فرما دیتے ہیں جس اس ارشاد پر عمل کرنے کا جذبہ بھی پیدا ہو جاتا ہے،یہ کفیات قلب اطہر ﷺ سے ان قلب کو منتقل ہو تی ہیں،جن میں قبولیت کی استعداد باقی ہوتی ہے۔
جب اللہ کے نبیﷺ کسی چیز کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ نیکی ہے تو صرف یہ علم ہی منتقل نہیں ہوتا بلکہ ایک کفیت بھی منتقل ہوتی ہے ،جس سے نیکی کرنے کو جی چاہتا ہے اور انبیاء علیہ الصلوۃ والسلام کے اس کمال کا اثر ہے کہ جب وہ ارشاد فرمائیں کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرو تو لوگ بے تابانہ دوڑ پڑتے ہیں ،سینے چھلنی کروا لیتے ہیں ،گردنیں کٹوا لیتے ہیں اور خود کو قربان کر دیتے ہیں۔
اسی طرح نبی علیہ الصلوۃ والسلام جب کسی کام سے منع فرما دیتے ہیں تو اس کام سے ایک نفرت پیدا ہو جاتی ہے ،ایک کراہت آنے لگتی ہے،اور یہ کفیت عہد مبارکہ میں اعلیٰ ترین درجے میں عطا ہوئی لیکن ختم کبھی نہیں ہوئی،آج کے برائے نام مسلمان میں بھی موجود ہے ۔ذرا ہم خود ہی دل میں سوال کر لیں کہ جب گناہ کی بات ہو تو کیا برا محسوس نہیں ہوتا؟ کیا گناہ چوری رشوت ،جھوٹ کےلئے دل کے اندر ایک نفرت سی محسوس نہیں ہوتی ؟
ہم سے اگر کوئی نیکی ہو جائے ،کبھی رمضان کے روزے عطا ہو جائیں ،درود ،کلمہ پڑھنا نصیب ہو جائے،فرائض اور سجدے نصیب ہو جائے ،کسی کی مدد کرنے کی توفیق نصیب ہو جائے تو کیا ہمارا اندر ایک چھوٹی سی تشفی پیدا نہیں ہوتی کہ ہم نے اچھے کام کیے ! یہ محسوسات کہاں سے آتے ہیں ؟ یہ کفیات ارشادات نبویﷺ سے آتی ہیں ۔یہ کمال ہمارا نہیں ، یہ نبی علیہ الصلوۃ والسلام کا کمال ہے۔
برکات نبوتﷺ
انبیاء علیہ الصلوۃ والسلام کے علوم کیفیات :۔اللہ کے نبی جب کسی موضوع پر بات کرتے ہیں تو وہ صرف جملے ہی نہیں کہتے بلکہ اسکے ساتھ وہ کفیات بھی تقسیم فرما دیتے ہیں جس اس ارشاد پر عمل کرنے کا جذبہ بھی پیدا ہو جاتا ہے،یہ کفیات قلب اطہر ﷺ سے ان قلب کو منتقل ہو تی ہیں،جن میں قبولیت کی استعداد باقی ہوتی ہے۔
جب اللہ کے نبیﷺ کسی چیز کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں کہ یہ نیکی ہے تو صرف یہ علم ہی منتقل نہیں ہوتا بلکہ ایک کفیت بھی منتقل ہوتی ہے ،جس سے نیکی کرنے کو جی چاہتا ہے اور انبیاء علیہ الصلوۃ والسلام کے اس کمال کا اثر ہے کہ جب وہ ارشاد فرمائیں کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرو تو لوگ بے تابانہ دوڑ پڑتے ہیں ،سینے چھلنی کروا لیتے ہیں ،گردنیں کٹوا لیتے ہیں اور خود کو قربان کر دیتے ہیں۔
اسی طرح نبی علیہ الصلوۃ والسلام جب کسی کام سے منع فرما دیتے ہیں تو اس کام سے ایک نفرت پیدا ہو جاتی ہے ،ایک کراہت آنے لگتی ہے،اور یہ کفیت عہد مبارکہ میں اعلیٰ ترین درجے میں عطا ہوئی لیکن ختم کبھی نہیں ہوئی،آج کے برائے نام مسلمان میں بھی موجود ہے ۔ذرا ہم خود ہی دل میں سوال کر لیں کہ جب گناہ کی بات ہو تو کیا برا محسوس نہیں ہوتا؟ کیا گناہ چوری رشوت ،جھوٹ کےلئے دل کے اندر ایک نفرت سی محسوس نہیں ہوتی ؟
ہم سے اگر کوئی نیکی ہو جائے ،کبھی رمضان کے روزے عطا ہو جائیں ،درود ،کلمہ پڑھنا نصیب ہو جائے،فرائض اور سجدے نصیب ہو جائے ،کسی کی مدد کرنے کی توفیق نصیب ہو جائے تو کیا ہمارا اندر ایک چھوٹی سی تشفی پیدا نہیں ہوتی کہ ہم نے اچھے کام کیے ! یہ محسوسات کہاں سے آتے ہیں ؟ یہ کفیات ارشادات نبویﷺ سے آتی ہیں ۔یہ کمال ہمارا نہیں ، یہ نبی علیہ الصلوۃ والسلام کا کمال ہے۔
برکات نبوتﷺ

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

علمی وفکری اختلاف آپ کا حق ہے۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔