Jun 26, 2015

رمضان المبارک ۔ روزہ کے احکامات:از خطابات حضرت امیر المکرم مولانا محمد اکرم اعوان مدظلہ العالیٰ

0 comments
اکرم التفاسیر جلد دوم ص 122 از خطابات حضرت امیر المکرم مولانا محمد اکرم اعوان مدظلہ العالیٰ
رمضان المبارک ۔ روزہ کے احکامات
 اﷲ تعالیٰ نے رمضان المبارک کے گنتی کے دنوں میں اپنے بندوں کے لئے یہ رعایت بھی بخشی (سورة البقرہ آیت 184)کہ اگر رمضان شریف میں کسی کو سفر درپیش ہے یا ایسی بیماری ہے جس کے لئے دوا کھانا ضروری ہے یا روزہ رکھنے سے بیماری کے بڑھ جانے کا اندیشہ ہے یا کوئی ایسی بیماری ہے جس میں بار بار غذا لینا پڑتی ہے یا ایسے انجیکشن لگانا پڑتے ہیں جن میں غذائیت ہوتی ہے تو وہ قضا کر لے کوئی سفر میں ہے اور اثنائے سفر سحری کا بندوبست نہیں ہو سکتا یا سفر ایسا ہے کہ اس میں روزہ رکھنا مشکل ہے تو اس کے لئے رعایت ہے کہ و ہ رمضان شریف کے بعد جب سفر ختم ہو ،اس وقت قضا کر لے۔
 آیت نمبر 184 بھی ان آیات مبارکہ میں سے ہے جن کا حکم منسوخ ہو گیااور آیت باقی ہے کہ اگر کسی میں طاقت ہو تو وہ ایک روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا دے دے یہ حکم اس طرح سے منسوخ ہوا کہ جو آدمی سفر میں بھی نہیں ،صحت مند ہے بیمار بھی نہیں،اس کے لئے یہ گنجائش ختم کر دی گئی لیکن ایسے لوگ جو عمر کے ا س حصے میں ہیں کہ واپس صحت مند ہونے کی امید نہیںہے یا بیماری ایسی ہے جس سے واپس آنے کی امیدنہیں رکھتا ،کسی کو شوگر ہے کسی کو کینسر ہو گیا ہے،دن بدن کمزور ہو رہا ہے،وہ عمر کے اس حصے میں پہنچ گیا ہے جس میں اب اس کا واپس صحت مند ہونا آسان نظر نہیں آتاتو اس کے لئے یہ حکم آج بھی موجو د ہے وہ ایک روزے کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دے۔یہ بھی اس کی کرم نوازی اور رعایت ہے کہ اسے بھی رمضان شریف کا اتنا ہی اجر نصیب ہوگا، ویسی ہی کیفیات نصیب ہو ں گی وہی رحمتیں وہی عنایات ہوں گی جیسا روزہ رکھنے والے کے لئے ہیں۔
مختلف لوگوں کے کھانے کا معیار مختلف ہوتا ہے ،ایک آدمی عام روکھی سوکھی کھاتا ہے،دوسرا اس سے زیادہ اچھا کھاتا ہے،تیسرا امیر ہے وہ بہت اچھا کھاتا ہے،تو ہر آدمی کا کھانے کا اپنا معیار ہے مسکین کے کھانے میں یہ رعایت موجود ہے کہ جس طرح کاکھا نا وہ خود کھاتا ہے اس معیار کا کھانا کسی مسکین کو کھلا دے یا اس کھانے کی اندازاً قیمت ایک روزے کے بدلے کسی مسکین کو دے دے لیکن اگر کوئی اس سے زیادہ دینا چاہے ،اﷲ کی راہ میں اس سے زیادہ خرچ کرنا چاہے،روزے کا کفارہ تو یہ ہے کہ جس معیار کا کھانا وہ خود کھاتا ہے اسی معیار کا کھانا کسی مسکین کو دے دے یا اس کی قیمت ادا کر دے لیکن اگر وہ اپنی طرف سے زیادہ دینا چاہتا ہے تو بھلائی میں بھی جو زیادتی کرتا ہے اسے زیادہ اجر ملتا ہے،جو شخص خوشی سے زیادہ خیرات کرنا چاہے یا زیادہ دینا چاہے تو وہ اس کے لئے بہتر ہے اسے اس کا اجر ملے گا۔حق بات یہ ہے کہ جو کیفیات روزے سے پیدا ہوتی ہیں اور حضور حق روزے سے نصیب ہوتا ہے وہ خصوصیت روزے کی ہے اس لئے تم روزہ رکھ سکوتو یہ بہت بڑی بات ہے،تمہارے لئے بہت بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو، جانتے ہو،بات کو سمجھتے ہوتو روزہ رکھنا ہی بہتر ہے۔
 رمضان المبارک میں جو روزہ قضا ہو جاتا ہے اس کی قضا ہمیشہ غیر رمضان میں ہی ادا کی جاتی ہے چونکہ رمضان جب بھی آئے گا اس کے اپنے روزے فرض ہوں گے رمضان میں تو قضا ہو ہی نہیں سکتی آدمی روزہ تو رکھے گالیکن اس ماہ مبارک کی کیفیات اور برکات اس میں نہیں ہوتیں،رمضان المبارک میں رحمت الٰہی کی فراوانی ہوتی ہے،بخشش جوش پہ ہوتی ہے رمضان کی اپنی کیفیات،انوارات وتجلیات ہیں  لیکن جو حضور حق روزہ رکھنے سے نصیب ہوتا ہے وہ روزے ہی کی خصوصیت ہے آدمی یوں تو ساری عمر غلطیاں بھی کرتا ہے،کوتاہیاں بھی کرتا ہے اور بہت ہی خوش نصیب ہے وہ شخص جسے حضور حق کا احساس نصیب ہو جائے اور یہ احساس زندہ رہے لیکن روزہ ایک ایسی نعمت ہے کہ اس میں عام آدمی کو بھی حضور حق کا احساس نصیب ہوتاہے اور یہ روزہ کی عجیب دین ہے اگر کوئی خوش نصیب ہو تو اس کے لئے کافی ہے کہ رمضان المبارک کے روزوں میںاسے حضور حق کا جو ادراک ہوتا ہے ،اسے وہ باقی گیارہ مہینے بھی زندہ رکھے تا کہ پھر رمضان شریف آئے تو وہ اس میں تازہ دم ہو جائے اور اس احساس کی تجدید ہو جائے۔
اگر تم بیماری میں بھی روزہ رکھ سکو ،اگر سمجھو کہ ممکن ہے تو ضرور رکھو چونکہ جو برکت رمضان کے روزہ رکھنے کی ہے ،کفارہ دینے یا قضاکرنے سے شاید وہ مقام،وہ عظمت یا وہ کیفیات نصیب نہ ہوںبیشک اﷲکے حکم کی اطاعت ہو جائے گی،فرض ادا ہو اجائے گالیکن فرض کا ادا ہو جانا ایک اور بات ہے اور کیفیات کا نصیب ہونا ایک اور بات ہے اگر مسافر یا بیمار کے لئے ممکن ہو ،روزہ رکھ سکے تو ضرور رکھے ،یہ بہتر ہے ۔نہ رکھ سکے تو اﷲکی طرف سے رعایت ہے کہ وہ بعد میں قضا کر لے یا کوئی ایسا شخص ہے جو قضا بھی نہیں کر سکتا تو اﷲکریم کی بخشش ہے ،رعایتیں ہیں کہ وہ کفارہ ادا کرے۔
ایک صحابی سے روزہ ٹوٹ گیا تو وہ بارگاہ نبوی ﷺ میں حاضر ہوا خوش نصیب تھے وہ لوگ !ذرا سی بات ہوتی تو بارگاہ رسالت پناہی میں ﷺ میں حاضر ہوجاتے ۔یہ  ا یک احساس تھا جو چیز اصل دین ہے،وہ احساس حضوری ہے کہ میرا رب،میراخالق،میرا مالک ،میرا پروردگار،میرا معبود ہر لمحہ میرے پاس ہے اس نے بارگاہ رسالت پناہی ﷺ میں حاضر ہو کر عرض کی،یا رسول اﷲ ﷺ میں نے روزہ توڑدیا،ا ب میں کیا کر سکتا ہوں؟آپ ﷺ نے فرمایا کہ ”اگرجان بوجھ کر توڑا ہے تو اس کے بدلے ساٹھ رکھنے ہوں گے“۔اس نے عرض کی ،یارسول اﷲ !میں ایسا کمزورآدمی جو رمضان کا روزہ توڑ بیٹھا ہوں،غیر رمضان میں کیسے رکھوں گا؟مجھ میں اتنی ہمت کہاں ! اگر رمضان کا روزہ ٹوٹ گیا تو یہ میری کمزوری ہے ،اس کے بدلے میں ساٹھ کیسے رکھوں گا! آپ ﷺ نے فرمایا ساٹھ مساکین کو کھانا کھلا دو۔یا رسول اﷲ ﷺ اپنے بچوں کے لئے تو ہے کچھ نہیں ،کبھی مزدوری لگ گئی تو کھانا نصیب ہو گیااور کسی دن مزدوری نہ ملی تو رات فاقے میں گزر گئی ،میں ساٹھ مساکین کو کیسے کھلا سکتا ہوں! آپ ﷺ نے فرمایا ،اچھا بیٹھ جاو،یہیں بیٹھو،تھوڑی دیر ہوئی تو کوئی شخص حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں کھجوروں کا ٹوکرا لے آیا ۔آپ ﷺ نے قبول فرمایا اور جس شخص سے روزہ ٹوٹا تھا ،اس کو فرمایا :یہ کھجوریں لے جاو¿ اور مساکین میں بانٹ دو،تمہارا کفارہ ادا ہو جائے گا وہ جب کھجورں کا ٹوکرا اٹھا چکا تو پھر عرض کرنے لگا یا رسول اﷲ ﷺ مجھے تو شہر بھر میں اپنے گھر والوں اور اپنے بیوی بچوں سے بڑا کوئی مسکین نظر نہیں آتا ،اس شہر میں تو سب سے بڑے مسکین میری بیوی بچے ہیں ،میں ہوں ۔آپ ﷺ نے فرمایا ،اچھا گھر لے جاو
¿ ،بچوں کو کھلا دو تو تمہارا کفارہ ادا ہو جائے گا۔

تو یہ اﷲ کریم کی عنایت ہے،بخشش ہے کہ اس نے رعایت فرما دی کہ بیمار ہو تو روزہ نہ رکھو ،قضاکر لو یا کوئی ایسا بیمار جس کے صحت مند ہونے کی امید نہیں یا ایسا بوڑھا ہے جسے پیر فرتوت کہتے ہیں ،جس کے واپس آنے کی امید نہیں،تو وہ ایک مسکین کو فدیہ دے دے یا کھانا کھلا دے یا اس کے بدلے رقم دے دے۔لیکن جو مزہ روزہ رکھنے میں ہے،جو کیفیات روزہ رکھ کر نصیب ہوتی ہیں ،جو حضور حق روزہ رکھنے سے نصیب ہوتا ہے وہ ان سے نصیب نہیں ہو سکتا،فرضیت کی ادائیگی ہو گئی ،اطاعت ہو گئی الحمداﷲ اﷲکریم نے معاف فرما دیالیکن اصل مقصد تو حضورحق کی اس کیفیت کا حصول ہے جو روزہ دار کو نصیب ہوتی ہے جس کا دھیان وہ سارا دن رکھتا ہے ،رات کو چین سے سو نہیں پاتا کہ مجھے سحری کرنی ہے،کہیں دیر نہ ہو جائے ،سارا دن ایسے گزارتا ہے جیسے اﷲ کریم اس کے ساتھ ہے ،انتہائی پیاس میں بھی ،گرمیوں کے روزوںمیں بھی لوگ مزدوری بھی کرتے دیکھے اور اس کے باوجود وہ استقامت کے ساتھ روزے رکھتے تھے اورر توڑتے نہیں تھے ،کیوں رکھتے تھے ؟ایک حضور حق نصیب ہوتا تھا ،ایک کیفیت ہوتی تھی کہ میرا اﷲ میرے ساتھ ہے ،اب میں کیسے اس کی نافرمانی کر سکتا ہوں۔
                                                                          

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

علمی وفکری اختلاف آپ کا حق ہے۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔