Feb 2, 2017

وَاللّٰہُ أَخْرَجَکُم مِّن بُطُونِ أُمَّہَاتِکُمْ لاَ تَعْلَمُونَ شَیْْئاً وَجَعَلَ لَکُمُ الْسَّمْعَ وَالأَبْصَارَ وَالأَفْئِدَۃَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُون((سورۃ النحل‘ آیت 78۔اکرام التفاسیر)

0 comments
الْسَّمْعَ وَالأَبْصَارَ وَالأَفْئِدَۃَ (اکرام التفاسیر)
اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم‘ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمنِ الرَّحِیْمِ
وَاللّٰہُ أَخْرَجَکُم مِّن بُطُونِ أُمَّہَاتِکُمْ لاَ تَعْلَمُونَ شَیْْئاً وَجَعَلَ لَکُمُ الْسَّمْعَ وَالأَبْصَارَ وَالأَفْئِدَۃَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُون
اور اللہ نے تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹ سے اس حالت میں نکالا کہ تم کچھ بھی نہ جانتے تھے اور اس نے تم کو کان عطا فرمائے اور آنکھیں اور دل تاکہ تم شکر کرو (سورۃ النحل‘ آیت 78)
مولایا صلی وسلیم دائما ابدا‘ علی حبیبک خیر الخلق کلھم
    ترجمہ: اللہ کریم نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے اس عالم میں پیدا فرمایا کہ تم کچھ نہیں جانتے تھے۔ پھر اس نے تمہارے لئے سننے اور دیکھنے کی قوت عطا فرمائی۔ والافئدۃ اور دل کی گہرائی میں ایک لطیفہ ربانی عطا فرمایا تاکہ تم اللہ کا شکر ادا کرسکو۔ اللہ کریم نے علم کے بنیادی ذرائع تین ارشاد فرمائے۔ سمع‘ بصارت اور افئدۃ۔ افئدۃ یا فواد دل میں ایک لطیفۂ ربانی ہے جو عالم امر سے ہے۔ آنکھیں دنیا بھر سے علوم حاصل کرتی ہیں۔ آدمی کے سیکھنے کے ذریعے دو ہی ہیں۔  یا وہ دیکھ کر سیکھتا ہے یا سن کر سیکھتا ہے۔ بنیادی طور پر جاننے کے ذریعے‘ اور علم کہتے ہیں جاننے کو۔ لکھنا پڑھنا ایک الگ صفت ہے کہ آپ جو کچھ جانتے ہیں اسے لکھ کر محفوظ کر سکتے ہیں۔ جو پڑھنا جانتا ہے اسے پڑھ کر آپ کے علوم سے واقف ہو سکتا ہے۔ علم کو آگے منتقل کرنے کا ذریعہ لکھنا اور پڑھنا ہے۔ فی نفسہٖ لکھنا پڑھنا علم نہیں ہے بلکہ یہ ایک ذریعہ ہے کہ آپ علم کو آگے منتقل کرتے ہیں اور اگلے لوگ آپ سے سیکھتے ہیں۔ بنیادی ذرائع سمع اور بصارت ہے۔ ہم دیکھتے ہیں جو بچہ جہاں پیدا ہوتا ہے وہاں کی زبان بغیر سکھائے سیکھ جاتا ہے صرف والدین سے سن کر سیکھتا ہے وہاں کے حالات دیکھ کر سمجھ جاتا ہے۔یہ دو ذرائع تو وہ ہے جسے ہر انسانی بچہ استعمال کرتا ہے۔ ہر انسان استعمال کرتا ہے اور کرتا رہتا ہے زندگی بھر۔ نئی سے نئی چیزیں جانتا رہتا ہے‘ سنتا رہتا ہے۔ نئی سے نئی چیزیں دیکھتا رہتا ہے اور عمر بھر اس کا علم بڑھتا رہتا ہے چیزوں کے بارے‘ اس کی تحقیقات بڑھتی رہتی ہے۔ لہٰذا چونکہ یہ دونوں مادی ذرائع ہیں سمع بھی اور بصارت بھی اور یہ مادی علوم کے حصول کا ذریعہ ہے۔ دنیا بھر کے مادی علوم ان سے حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ افئدۃ قلب کی گہرائی میں‘ دل میں ایک لطیفہ ربانی ہے جو عالم امر سے اور یہ علوم الٰہیات حاصل کرتا ہے۔ مادی علوم سمع و بصارت سے حاصل ہوتے ہیں‘ اللہ کی ذات اس کی صفات‘ اس کا نظام اس کی قدرت کاملہ‘ دنیا اور اس کا انجام‘ افعال و اعمال‘ کردار اور اس کے نتائج‘ یہ نتائج جاننا‘ آخرت کو سمجھنا‘ عظمت الٰہی کو پانا یہ افئدۃ  کا کام ہے۔ اور یہ  افئدۃ‘لطیفہ ربانی جو ہے صرف انسان کو عطا ہوا ہے۔ سمع و بصارت ہر ذی روح کو اللہ نے دی اور وہ اپنی حیثیت‘ اپنی استعداد کے مطابق‘ اپنی ضرورت کے مطابق اپنی زندگی گزارنے کے لئے جو چیزیں اسے چاہئیں وہ سیکھتا ہے۔ یہ جانوروں میں بھی ہیں‘ پرندوں میں بھی ہیں سمندری آبی جانوروں میں بھی ہیں‘ ہر جاندار میں جہاں روح ہے وہاں سمع و بصارت بھی ہے۔ اپنی زندگی کرنے کا طریقہ‘ ہر چیز  سیکھ لیتا ہے۔ لیکن یہ قلب میں لطیفہ ربانی جو ہے یہ صرف انسان کو ودیعت ہوا ہے اور یہ ودیعت ہوا ہے عظمت الٰہی کو پانے کو‘ معرفت الٰہی کو پانے کو ‘ اس دنیا کے آگے جو حقیقی دنیا ہے اس کے پانے کو ۔ سمع و بصارت تمام عالم سے سیکھتا ہے ‘ افئدۃ صرف انبیاء علیہم السلام سے علوم حاصل کرتا ہے  کیونکہ اللہ کی معرف کے علوم کے امین انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام ہوتے ہیں۔ اس میں اتنی قوت ہوتی ہے کہ جتنا اسے علوم عطا کرنے والا‘ جتنا اس فن کا کوئی ماہر یا بلند ہستی ہو اتنے فیوضات و برکات یہ حاصل کر لیتا ہے۔ حتیٰ کہ یہ نبی پر ایمان لے آئے  اور نبی کی صحبت پا لے تو یہ ایک نگاہ میں شرفِ صحابیت پر فائز ہو جاتا ہے‘ اتنا کچھ حاصل کر لیتا ہے ایک نظر میں کیونکہ وہ دینے والی ہستی جو ہوتی ہے وہ بہت بلند ہوتی ہے۔ اس کے منازل بہت بلند ہوتے ہیں۔ مقام نبوت عظیم تر مقام ہے۔ اسی طرح صحابہ کی صحبت پائے‘ تابعی بن جاتا ہے‘ تابعین کی صحبت پائے تبع تابعی بن جاتا ہے۔ یہ تین طبقے ایسے ہیں اور یہ تین ہستیاں اس قدر قوی ہوتی ہیں کہ ان کی ایک نگاہ یہ سارا کام کر جاتی ہے۔ اس کے بعد ان لوگوں کی باری آتی ہے جنہوں نے یہ برکات حاصل کیں تو ان سے اسے محنت مجاہدہ کر کے حاصل کرنا پڑتا ہے جیسے سن کر علم حاصل کرنا پڑتا ہے ‘ پڑھ کر ذریعہ علم بنتا ہے اور حاصل کرنا پڑتا ہے ‘ اسی طرح اس لطیفہ ربانی پر محنت کر کے اور پڑھنے کے لئے کچھ چاہئیے‘ کوئی تحریر چاہیئے کہ آپ پڑھ سکیں‘ سننے کے لئے کوئی آواز چاہیئے  کہ آپ اسے سن کر سیکھ سکیں۔ اسی طرح اس لطیفہ قلب کے لئے بھی کوئی ایسی ہستی چاہیئے کہ جو اسے روشن کرے‘ جو اس کی آنکھیں کھولے ‘ جو اسے علوم عطا کرے اور معرفت الٰہی سے آشنا کرے۔ یہ ایک ایسی عجیب نعمت ہے اور اللہ کریم کا اتنا بڑا انعام ہے کہ دنیا و مافیھا‘ جو کچھ دنیا میں ہے اس کے مقابلے میں ہیچ ہے‘  اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ دنیا میں جو کچھ ہے وہ مادی نعمتوں کے حصول کے لئے ہے ‘ مادی حالات کو جاننے کے لئے ہے اور جسم کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ہے لیکن کیا انسانی زندگی صرف جسم کو پالنا ‘ اولاد پالنا یا گھر بنانے تک محدود ہے‘ نہیں۔ اس کے نتائج ہوں گے کہ زندگی کس انداز سے گزاری۔ اس پر اس کی دائمی زندگی کا مدار ہے‘ اخروی زندگی کا مدار ہے۔ اس کے مطابق اس سے سلوک کیا جائے گا اور اخروی زندگی کی اگر خبر ہی نہ ہو‘ جان ہی نہ پائے‘ تو اس کے لئے تیاری کیا کرے گا۔ لہٰذا ساری اصلاح احوال کا مدار اس افئدۃ پر ‘ لطیفہ ربانی پر جو قلب میں ہے‘ اس پر ہے کہ اگر جتنا یہ مضبوط ہو گا‘ جتنی اس میں زندگی ہو گی‘ جتنی اس میں قوت ہو گی‘ جتنا یہ حقائق کو جانے گا ‘ اس قدر دنیوی زندگی بھی بہتر ہوتی چلی جائے گی‘ اور آخرت کی زراعت بنتی چلی جائے گی۔ دنیوی زندگی کیا ہے!  یہ ایک زراعت ہے جو آخرت کے لئے ہے ۔ جو کچھ دنیا میں کرتا ہے‘ جو کچھ سوچتا ہے ‘ جو کچھ سنتا ہے‘ جو کچھ دیکھتا ہے ‘جو کردار اپناتا ہے‘ آخرت میں اس کھیتی کا پھل کاٹے گا۔ اکثریت لوگوں کی محض ان دو ذرائع کو استعمال کرتی ہے ساری زندگی‘ چونکہ کفر ایک ایسی مصیبت ہے کہ جب تک وہ ایمان نہ لائے‘ یہ لطیفہ ربانی زندہ نہیں ہوتا۔ اس میں موجود رہتا ہے‘ ایمان لانے کی استعداد موجود رہتی ہے‘ اور وہ مکلف ہے کہ اپنی سمع و بصارت سے دیکھ کر فیصلہ کرے‘ سن کر فیصلہ کرے‘ اور اللہ کے نبی پر ایمان لائے کہ نورِ ایمان اس لطیفہ قلب کو حیات بخشتا ہے۔ اب حیات تو جو بچہ پیدا ہوتا ہے‘ اس میں بھی ہے ‘ جو دنیا بھر کے علوم میں ماہر ہوتا ہے اس میں بھی ہے۔ تو حیات کے بعد ہر کوئی آگے چلتا ہے‘ سیکھتا ہے‘ چیزوں کو جانتا ہے ‘ ان کے نفع و نقصان کو جانتا ہے‘ ان کے اثرات اور نتائج سے آگاہ ہوتا ہے ‘ اسی طرح یہ لطیفہ قلب بھی زندہ ہو جائے تو پھر اسے مزید معلومات کی‘ مزید تعلیم و تربیت کی ضرورت ہوتی ہے  تاکہ یہ معرفت الٰہی کو پا سکے۔ حقائق کو جان سکے‘ حقیقی زندگی کو جان سکے‘ اس کی ضروریات کو جان سکے‘ پھر ان کے مطابق یہ دنیوی زندگی جو چند روزہ ہے ‘ اس کے مطابق بسر کرے تاکہ آخرت میں اسے عظمت نصیب ہو اور اللہ کا قریب نصیب ہو اور اللہ کی بخشش نصیب ہو۔ لیکن بڑے دکھ کی بات یہ ہے کہ بہت کم لوگ اس ذریعہ علم کو استعمال کرتے ہیں۔ لوگوں کی اکثریت جو ہے وہ انہی دو مادع ذرائع کو استعمال کر کے ‘ مادی زندگی بسر کر کے رخصت ہو جاتے ہیں۔ اسی لئے فرمایا کہ (وَقَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّکُوْرُ‘ سورۃ سبا‘آیت 13) بہت قلیل ‘ بہت تھوڑے میرے بندے ہوتے ہیں جو شکر ادا کرتے ہیں‘ اور شکر کیا ہے؟ اس پر بڑی لمبی باتیں ہوئیں ‘ بڑی بحثیں ہوئیں‘ بڑے انداز لکھے گئے کہ شکر نہ کرسکنا ہی شکر ہے‘ یہ جان لینا کہ شکر ادا نہیں کر سکتا‘ یہ شکر ہے اور بہت سے اقوال ملتے ہیں لیکن اس کی حقیقت یہ ہے کہ شکر کی حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی اطاعت کی جائے۔ جتنی اللہ کی اطاعت کرے گا‘ اتنا اس نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ اطاعت کے لئے جاننا شرط ہے۔ ایک آدمی نیکی کرتا ہے‘ نیک کام کرتا ہے تو اس کے لئے جاننا شرط ہے کہ نیکی کیا ہے‘ برائی کیا ہے۔ بھلا کیا ہے‘ برا کیا ہے۔ کیا اچھاہے‘ کیا اچھا نہیں ہے۔ جانتا ہو گا تو اچھے کام کو منتخب کر کے اس پر عمل کرے گا۔ اسی طرح انسان مکلف ہے کہ اس تیسرے ذریعہ علم کو اور حقیقی علم کو پانے کا جو ذریعہ ہے‘ اس کو بھی استعمال کرے سمع و بصارت کے ساتھ۔ پھر یہ ایک دوسرے متآثر کرتے ہیں۔ انسان لطیفہ قلب پر محنت نہ کرے اور صرف سمع و بصارت پہ رہے تو پھر یہی مادی چیزیں اس پر بھی غالب آجاتی ہیں اور وہ بے بس ہو جاتا ہے۔ اور اگر اسے استعمال کرے‘ اس پر محنت کرے اور اللہ جل شانہٗ کے قرب کی کیفیات نصیب ہوں تو پھر یہ سمع و بصارت پہ غالب آجاتا ہے  پھر اچھی چیزیں دیکھ کر بندہ خوش ہوتا ہے اور برائی دیکھنے کو جی نہیں کرتا۔ اچھی بات سن کر اسے سکون ملتا ہے اور بری باتیں سننے کو اس کا جی نہیں چاہتا۔ بری باتوں کے سننے سے بھی پرہیز کرتا ہے۔ آپس میں ان کا رشتہ یہ ہے کہ جو جتنا طاقتور ہوگا وہ دوسرے پر بھی اثر انداز ہوگا‘ اسے مغلوب کر لے گا۔ تو اب آپ سوچئے‘ آپ انداز کیجئے کہ اس بھری دنیا میں کتنے لوگ ہوں گے جو اس لطیفہ ربانی کو جانتے ہیں ‘ سمجھتے ہیں یا اس پر محنت کرتے ہیں یا اس کے ذریعے علوم آخرت یا حقیقی علوم تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بہت تھوڑے خوش نصیب ایسے ہوتے ہیں جو اس تک پہنچتے ہیں‘ اس پر محنت کرتے ہیں۔ اور حقیقی زندگی یہی ہے کہ اس ذریعہ علم کو زندہ کیا جائے‘ اسے استعمال کیا جائے‘ اس سے استفادہ کیا جائے‘ اور اس کے مطابق کردار کو ڈھالا جائے تو اللہ کا شکر ادا کرنے کا انداز یہی ہے۔ آپ آنکھ پر اگر پٹی باندھ دیں اور وہ برسوں بندھی رہے تو برسوں بعد کھولیں گے تو آنکھ میں بینائی نہیں ہوگی۔ کان بند کردیں اور برسوں بند رہیں تو پھر انہیں کھول بھی دیں تو اس میں قوت سماعت نہیں رہے گی۔ ایک بازو کو گلے سے لٹکا دیں‘ باندھ دیں ‘ کچھ عرصہ بندھا رہے تو پھر وہیں رک جائے گا‘ اس میں حرکت نہیں رہے گی۔ اسی طرح اگر کوئی شخص زندگی بھر اس لطیفہ ربانی کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوتا ‘ اسے زندگی کرتا ہی نہیں‘ اس پر محنت ہی نہیں کرتا‘ تو یہ بھی رفتہ رفتہ مر جاتا ہے‘ ختم ہو جاتا ہے‘ بے کار ہو جاتا ہے۔ آپ نے دیکھا ‘ اللہ کریم فرماتے ہیں (ینظرون الیک وھم لا یبصرون) آپ کی طرف دیدے تو گھماتے ہیں‘ آپﷺ کو دیکھ نہیں پاتے۔ وجود عالی تو انہیں نظر آتا تھا‘ لیکن وہ سمجھتے تھے‘ ہمارا ایک قریشی بھائی ہے۔ محمد(ﷺ) نام ہے‘ حضرت عبداللہ کے فرزند ہیں‘ اور مکہ مکرمہ کے رہنے والے ہیں‘ محمد الرسول اللہ ﷺ انہیں نظر نہیں آتے تھے۔اسی طرح قرآن کریم فرماتا ہے‘ آپ کی بات یہ سن نہیں پاتے‘ ان کی کانوں میں پردے دیئے گئے ہیں‘ تو آپﷺ کی آواز مبارک تو سنتے تھے‘ تبھی تو ناراض ہوتے تھے‘ اعتراض کرتے تھے‘ لیکن اس میں جو اصل مفاہیم تھے‘ ان کو پانے کی اہلیت نہیں رکھتے تھے۔ اس لئے کہ انہوں نے اپنے اس  افئدۃ کو مردہ کر دیا تھا‘ بیکار کر دیا تھا‘ اس میں استطاعت ہی نہیں رہی تھی‘ تو مسلسل غفلت سے یہ بھی مردہ ہو جاتا ہے ‘ اس میں استطاعت نہیں رہتی اور یہ بہت سخت سزا ہے اللہ کریم کی طرف سے کہ کوئی زندگی بھر اس کی طرف متوجہ ہی نہ ہو ‘ یہ بہت بڑی ناشکری شمار ہوتی ہے‘ بہت بڑی ناشکری۔ اور اللہ کا فرمان ہے (لعلکم تشکرون) تاکہ تم اللہ کا شکر ادا کر سکو ‘ سمع کو استعمال کرو‘ بصارت کو استعمال کرو‘ اور افئدۃ  کو‘ لطیفہ ربانی جو قلب میں ہے اسے استعمال کر کے علوم حاصل کرو۔ تم ماؤں کے پیٹ سے پیدا ہوئے تو کچھ نہیں جانتے تھے‘ پھر تمہیں جاننے کے لئے یہ تین ذرائع عطا فرمائے گئے‘ سمع‘ بصارت اور افئدۃ۔ تم شنوائی سے‘ قوت سماعت سے سیکھتے ہو‘ بصارت سے سیکھتے ہو‘ بہت بڑے بڑے عہدے پاتے ہو‘ حکومتیں‘ اقتدار پا لیتے ہو‘ دولت جمع کر لیتے ہو تو طبقہ امراء میں آجاتے ہو‘ زندگی کی سہولتیں اپنی پہنچ اور اپنی حیثیت کے مطابق حاصل کرتے ہو‘ دنیا میں دولت‘ اقتدار اور چیزوں کے پیچھے تگ و دو کرتے ہواور حاصل کرتے ہو ‘ اگر یہ سمع و بصارت نہ ہوتی‘ نہ تم سیکھتے‘ نہ جانتے تو کیسے ان کے لئے دوڑتے۔ سمع و بصارت تھی جس نے یہ چیزیں تم پر آشکارا کیں تو تم ان کے پیچھے دوڑے۔ اسی طرح  افئدۃ تیسری قوت ہے حصول علم کی ‘ تیسرا ذریعہ علم ہے اور سمع و بصارت مادی علوم حاصل کرتے ہیں‘ دنیا میں بدن کی ضروریات کی تکمیل اور انسان کی دنیوی ارادوں کی تکمیل کے ذرائع اور وسائل حاصل کرتے ہیں لیکن  افئدۃ اور یہ لطیفہ قلب  بہت اعلیٰ اور سب سے قیمتی ہے کہ یہ علوم الٰہیات حاصل کرتا ہے۔ عظمت الٰہی کو پاتا ہے ‘ معرفت الٰہی کو حاصل کرتا ہے اور قرب الٰہی کی تمنا اس میں جاگتی ہے  اور اس کا واحد ذریعہ اللہ کا شکر ہے‘  اور شکر ہے جتنی کامل‘ پرخلوص ‘ جتنی دل کی گہرائی سے اطاعت کی جائے گی اتنا ہی شکر ادا ہو گا۔ شکر ادا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ کریم کی پورے خلوص اور دل کی گہرائی سے اطاعت کی جائے۔ اطاعت شکر ہے اور عدم اطاعت ناشکری ہے۔ ناشکری کو ہی کفر بھی کہا گیا ہے۔ تو اگر اس پر نظر کی جائے تو الحمدللہ بیشمار لوگ ہیں جنہیں اللہ کریم نے نورِ ایمان عطا فرمایا‘ کافر کی تو اس میں بحث ہی نہیں ہے‘ کافر کو تو افئدۃ سے سروکار ہی نہیں ہے‘ لطیفہ قلب سے سروکار ہی نہیں ہے‘ اس نے تو قناعت کر لی سمع و بصارت پر ‘ مادی چیزوں پر اور اسی دارِ دنیا پر اور اسی کی نعمتوں پر وہ تو قانع ہو گیا ‘ اسے اس سے زیادہ کی جستجو ہی نہ رہی۔ نورِ ایمان جسے نصیب ہوتا ہے اس میں بڑے بڑے نام ہیں‘ بڑے بڑے عالم ہیں‘ بڑے بڑے جاننے والے ہیں‘ اور عام مسلمان بھی بہت سی چیزیں جانتا ہے سن کر‘ دیکھ کر‘ کتابیں پڑھتا ہے‘ اہل علم سے سنتا ہے۔ اس سب کے باوجود کتنے لوگ ہیں جنہوں نے  افئدۃ کو استعمال کیا۔کم از کم میں نے جتنا کچھ دیکھا ہے‘ اللہ کریم نے پڑھنے کی توفیق عطا فرمائی ہے‘  تفاسیر‘ احادیث کی شرح‘ اسلامی علوم‘ جتنی کتابیں میری نظر سے گزریں‘ میں نے کسی میں اس افئدۃ کی بحث نہیں پڑھی۔یہ بھی ایک عجیب بات ہے کہ بندہ دین میں آکر‘ اسلام میں آکر‘ مسلمان ہو کر پھر بھی انہیں دو ذرائع پر قناعت کر جائے۔ آپ بہت بحثیں پڑھیں گے کہ ایسی بات سننی چاہیئے ‘ ایسی نہیں سننی چاہئے‘ اچھی بات سنی جائے‘ بری نہ سنی جائے‘ اچھائی دیکھی جائے‘ برائی کی طرف توجہ نہ کی جائے‘ بری چیزیں‘ برے واقعات دیکھے بھی نہ جائیں‘ برائی دیکھنا منع ہے۔ لیکن ان ساری بحثوں کے ساتھ تیسرے ذریعہ علم جو حقیقی ذریعہ علم ہے اور جس کے نتائج ہمیشہ کی زندگی کو متاثر کرتے ہیں اور جس پر پوری دنیوی زندگی کا بھی مدار ہے۔ کہ اگر یہ زندہ و بیدار نہیں ہوگاتو انسان دنیا کی نعمتوں کے حصول کے پیچھے عمر بسر کر دے گا۔ ساری عمر یا پیسہ جمع کرنے کی سوچتا رہے گا یا کہیں اقتدار و وقار حاصل کرنے کی سوچتا رہے گا ‘ اسی میں عمر بسر کر دے گا۔ اب بڑی عجیب بات یہ ہے کہ میں نے اس پر کوئی بحث پڑھی نہیں ہے ‘ میری نظر سے نہ گزری ہوگی۔ ہاں! صوفیاء نے اس پر بحث کی ہے ۔ ایک طبقہ ہے پوری امت میں ‘صوفیاء کا‘ ذاکرین کا ‘ اللہ اللہ کرنے والوں کا اور علمائے باطن جنہیں کہتے ہیں‘ تو انہوں نے شروع سے لے کر آخر تک بحث ہی اس پر کی ہے۔ آپ صوفیاء کی کتابیں‘ بزرگوں کی کتابیں‘ اہل اللہ کی کتابیں یا علمائے باطن کی کتابیں دیکھیں گے تو ان میں بنیادی بحث ہی اس پر ہے اور سمع و بصارت کی بات وہ ضمناً کرتے ہیں اور یہی صحیح طریقہ ہے۔ لیکن میں نے علمائے ظواہر کو بھی دیکھا ہے کہ وہ ان کی اس بحث پر گرفت کرتے ہیں ‘ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے فالتو بات چھیڑ دی‘ اس کی ضرورت کیا تھی‘ یہ درست نہیں ہے‘ یہ صحیح نہیں ہے۔ یہ بڑی عجیب بات ہے!قرآن کریم اس کو اہم ترین ذریعہ علم کے طور پر ارشاد فرماتا ہے‘ آپ اگر اسے اہم نہ سمجھیں تو سمع و بصارت کے برابر تو ذریعہ علم خواہ مخواہ سمجھنا پڑے گا۔ کہ قرآن نے اسے اس صف میں (وَجَعَلَ لَکُمُ الْسَّمْعَ وَالأَبْصَارَ وَالأَفْئِدَۃَ) تمہارے لئے سماعت بنائی‘ بصارت بنائی‘ تم کچھ نہیں جانتے تھے  اور افئدۃ بنایا۔ تو یہ تینوں کو برابر توجہ تو کم از کم دی جائے۔ تینوں میں جو ایک نہیں ہوگا‘ دنیا کے علوم میں بھی اگر کان نہ رہیں تو آدھا ذریعہ علم ختم ہو جاتا ہے۔ آنکھیں نہ رہیں تو بہت بڑا ذریعہ علم ختم ہو جاتا ہے۔اور اگر یہ لطیفہ قلب نہ رہے تو پھر یہ تو اہم ترین ذریعہ علم ہے عظمت الٰہی اور معرفت الٰہی کو جاننے کی انسان کو جو استعداد دی گئی ہے اور جس نے اسے اشرف المخلوقات بنایا۔ قرآن کریم اللہ کا کلام ہے اللہ کا کلام نازل ہوتا ہے انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام پر اور اللہ کلام جیسے موسیٰ علیہ السلام پر (وکلمہ ربہ تکلیما) آپ اللہ کے کلیم تھے‘ اللہ سے باتیں کرنے کا شرف حاصل تھا انہیں‘ تو بارہا میں نے حضرتؒ نے سنا‘ آپؒ فرماتے تھے کہ اللہ کا کلام صرف کان نہیں سنتے تھے کہ اللہ کی طرف سے ارشاد ہوتا اور موسیٰ علیہ السلام کے کان سنتے بلکہ ہر جزو بدن سنتا تھا‘ ہر ذرہ بدن کلام کو سنتا تھا‘ نبیﷺ ایک ایسی ہستی ہیں جسے اللہ کریم نے ساری مخلوق میں بے مثل اور بے مثال پیدا فرمایا ۔ وہ حسن ظاہر ہو‘ قد و قامت ہو ‘ لب و رخسار ہوں‘ ہر چیز آپﷺ کو ایسی عطا ہوئی جیسی دوسرے کسی انسان کو عطا نہیں ہوئی‘ سب سے افضل ترین‘ سب سے اعلیٰ ترین۔ اسی طرح سمع و بصارت بھی آپﷺ کی سب سے اعلیٰ تھی۔ آپﷺ کا دماغ بھی سب سے اعلیٰ تھا‘ لیکن جب قرآن نازل ہوتا ہے تو قرآن کریم فرماتا ہے (علی قلبک) آپ کے لطیفہ قلب پر نازل ہوا۔ کلام الٰہی کو وصول کرنے کا آلہ نہ کان ہیں‘ نہ آنکھ ہے یا حصول علم کے دوسرے نہیں ہیں یہی لطیفہ قلب جو ہے ‘ انبیاء کا کلام باری کو یہی لطیفہ حاصل کرتا ہے۔ ورنہ حضورﷺ کا دماغ عالی کائنات کا افضل ترین دماغ تھا۔ دماغ ذریعہ علم ہے‘ اس پر بھی نازل ہو سکتا تھا فرمایا‘ نہیں! اللہ کا کلام (علی قلبک) آپ کے قلب اطہر پر وارد ہوتا ہے‘ قلب اطہر پر نازل ہوتا ہے۔ اب اس کلام سے مستفید ہونے کے لئے بھی یہی لطیفہ ربانی چاہیئے۔ جن کے یہ لطائف‘ یہ صفت جن میں ختم ہو چکی تھی ‘ جن کا یہ لطیفہ مر چکا تھا‘ تو آپﷺ سے سن کر تو انہیں اور نفرت پیدا ہوتی تھی محبت کی بجائے الٹا اثر ہوتا تھا ‘ اس لئے کہ وہ آلہ اس کے سننے کا‘ وہ ہے ہی نہیں۔ ایک آدمی کی سماعت بند ہے تو اس کے سامنے راگ الاپتے رہیں‘ اس کے سامنے خوبصورت باتیں کریں‘ اسے کیا فرق پڑتا ہے۔ ایک آدمی کی نظر ہے ہی نہیں آپ اس کے سامنے دنیا بھر کے نظارے لے آئیں‘ اسے کیا فرق پڑتا ہے۔ اسی طرح قلب جب مر جاتا ہے‘ لطیفہ ربانی جس میں ہے ‘ یہ اپنی استعداد کھو دیتا ہے‘ تو اس کے سامنے انبیاء کے ارشادات اور اللہ کا کلام بھی کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ کتنے لوگ ہیں جن کو اللہ کا کلام پڑھے بغیر دن نہیں گزرتا‘ کتنے لوگ ہیں۔ کوئی چیز دوعالم میں اللہ کے کلام سے بڑھ کر قیمتی‘ اللہ کے کلام سے بڑھ کر شیریں‘ اللہ کے کلام سے بڑھ کر لذیذ ہے؟ ہر گز نہیں۔ تو پھر اتنی قیمتی‘ اتنی لذیذ‘ اتنی اعلیٰ چیز گھروں میں  طاقوں پہ رکھی ہے‘ ریشمی غلافوں میں رکھی ہے۔ فرصت کیوں نہیں ہوتی کہ اسے دیکھا جائے ‘ پڑھا جائے‘ سمجھا جائے ۔ سمع و بصارت ہے لیکن سمع و بصارت کو اس سے کچھ لذت نہیں ملتی ‘ اس کی لذتیں نصیب ہوتی ہیں لطیفہ قلب کو۔ اور یہ زندہ ہو تو اس کے بغیر چارہ نہیں۔ میں نے صوفیوں کو دیکھا ہے کہ دن پر قرآن کریم بغل میں اٹھائے پھرتے ہیں‘ جہاں فرصت ملی‘ وہاں بیٹھ کر کھول لیا‘ تلاوت کی۔ وہ کیوں پاگلوں کی طرح اٹھائے پھرتے ہیں؟ قرآن کریم تو مسلمانوں کے گھروں میں بیشمار موجود ہیں‘ بڑے ادب و آداب سے رکھے ہیں‘ بڑے قیمتی غلافوں میں رکھے ہیں‘ انہیں اس سے لذت ملتی ہے۔ ان کا لطیفہ قلب اور ذریعہ علم حیات ہے ‘ زندہ ہے‘ کام کر رہا ہے‘ اور انہیں اس سے شیرینی ملتی ہے۔ اکثریت کیوں نہیں کرتی‘ اس لئے کہ ان کے صرف سمع و بصارت ہے‘انہوں نے دل کو زندہ ہی نہیں کیا‘ سمع و بصارت جو ذرائع علم ہیں‘ ان کی تو عام ہر جگہ چیزیں مل جاتی ہیں‘ دیکھنے کو بھی‘ سننے کو بھی ۔ ذریعہ قلب جو ہے اس کے دیکھنے اور سننے کو چیزیں ہر جگہ نہیں ملتیں۔ یہ اللہ کے خاص لوگ ہوتے ہیں‘ اللہ کے خاص بندے ہوتے ہیں جنہوں نے زندگیاں لگا کر اپنے پہلوں سے‘ اپنے مشائخ سے ‘ اپنے بزرگوں سے یہ نعمت حاصل کی ہوتی ہے جو یہ آگے بانٹ سکتے ہیں۔ اس کے ذرائع جو ہیں وہ اس طرح عام نہیں ہیں کہ ہر چیز کو دیکھ کر قلب زندہ ہو جائے بلکہ دنیا اور دنیا کے حالات تو اس پر گرد ڈالتے ہیں‘ دنیا اور دنیا کے واقعات اور سمع  بصار ت کے ذریعے حاصل ہونے علوم تو اس پر مزید گرد ڈالتے ہیں ‘ تاریکی پھینکتے ہیں اور اس کی قوت کو کمزور کرتے ہیں۔ یہ تو چاہئے کہ سمع و بصارت کی نسبت یہ لطیفہ قلب زیادہ مضبوط ہو جائے ‘ زیادہ قوی ہو جائے تاکہ سمع و بصارت اس پر گرد نہ ڈال سکیں بلکہ یہ اپنی روشنی ان پر بھی ڈالے ۔ ان کو بھی اس میں مصروف کر دے اور آنکھوں اور کانوں کو بھلی بات سننے کا چسکہ ہو جائے  اور برائی سے بھاگ جائیں۔ تو یہ ان قوتوں میں مقابلہ ہوتا ہے لیکن انسان مکلف ہے اس کا کہ وہ کس نعمت کا کتنا استعمال کرتا ہے اور افئدۃ  برکات نبوت سے لطیفہ قلب زندہ ہوتا ہے ‘ اطاعت الٰہی‘ اتباع رسالتﷺ اور خلوص کے ساتھ یہ سینچا جاتا ہے حتیٰ کہ اللہ اس کو اتنی طاقت دے دے کہ پھر یہ اتنا قوی ہو جائے کہ سمع و بصارت پر یہ غالب آجائے اور جو چیز اس کے لئے مفید ہو وہی کان بھی سنیں ‘ جو اس کے لئے مفید ہو وہی آنکھیں بھی دیکھیں۔ اور پھر ہاتھ اور پاؤں اور کردار اسی سانچے میں ڈھل جائے تب جا کر بات بنتی ہے۔ لیکن بڑے دکھ اور بڑے افسوس کی بات ہے‘ اس پر عمل کرنا تو اللہ کے بڑے کرم کی بات ہے اس پر میں نے تو بحثیں بھی نہیں سنیں۔ اس پر لکھنا بھی ہاں! صوفی شروع سے لے کر آج تک صوفیاء اس پر لکھتے بھی رہے ہیں‘ بیان بھی کرتے رہیں ہیں اور الٹے ان پر فتوے لگا کئے۔ اس کی تردید کی گئی ہے۔ لوگوں کو اس سے روکا گیا ہے یہ بڑی عجیب بات ہے۔ سو اللہ کریم کا یہ احسان ہے کہ کسی ایسی مجلس میں‘ کسی ایسی جگہ پہنچا دے‘ جہاں اس پہ بھی بات ہو‘ اس پہ بھی کام ہو‘ اس کی زندگی کے اثبات پہ بات ہو اور عملی طور پر اس کو حیات دینے کا کام کیا جائے۔ یہ نعمت اگر اس دنیا میں نصیب ہو جائے تو یہ اس دنیا میں بے مثال نعمت ہے جس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ اور دنیا کی ساری لذتیں اس کے سامنے ہیچ ہیں۔ دنیا بھر کی حکومت بھی کسی کو مل جائے ‘ وہ بات نہیں بنتی جو ایک دلِ زندہ سے کسی کو نصیب ہو جائے۔ میں نے حضرتؒ سے کئی بار یہ سنا ‘ فرماتے تھے کہ اگر کوئی مجھے کہے کہ ساری دنیا کی حکومت لے لو تو یہ دل کا کام اور یہ ذکر الٰہی چھوڑ دو تو میں اسے ٹھوکر مار دوں گا۔ یہ اتنا قیمتی ہے کہ پوری دنیا کی سلطنت کے مقابلے میں بھی چھوڑا نہیں جا سکتا۔ اب جتنی یہ بات قیمتی ہے‘ اتنی ہی ضروری بھی ہے کیونکہ آخرت کا مدار دنیا کے عقیدہ اور عمل پر ہے اور عقیدہ اور عمل کی تصحیح کے لئے دلِ زندہ چاہیئے ورنہ سب رسم و رواج رہ جاتے ہیں۔ الحمد للہ ‘ اللہ کی اطاعت نصیب ہو‘ بڑی اچھی بات ہے لیکن اس میں جان اور روح اسی لطیفہ قلب سے پیدا ہوتی ہے ورنہ اطاعت بھی ہم رسم و رواج کی طرح کرتے رہتے ہیں‘ اس میں روح نہیں ہوتی۔ اس میں وہ خلوص نہیں ہوتا ‘ اس میں وہ خشوع و خضوع نہیں ہوتا۔ یہ خشوع و خضوع‘ خلوص اور گہرائی  یہ ساری وہ چیزیں ہیں جو اس لطیفہ قلب سے اور اس ذریعہ علم سے متعلق ہیں۔ اللہ کریم یہ نعمت نصیب فرمائے تو اس پر ایسی محنت کی جائے تو اس کا حق ہے۔ اور زندگی میں اس کو ہر کام میں اولیت دی جائے۔ کھانے پینے‘ لباس‘ بول چال میں ہر چیز میں یہ احتیاط کی جائے کہ کوئی ایسا کام نہ کیا جائے ‘ کوئی ایسی بات نہ سنی جائے ‘ کوئی ایسا لفظ نہ بولاجائے ‘  جو اس لطیفہ قلب کو متاثر کرتا ہو‘ اس کا نقصان کرتا ہو۔ اور ہر قدم ایسا اٹھایا جائے جو اس میں ترقی کا سبب بنے‘ اس میں کیفیات کے بڑھنے کا سبب بنے۔ یہ ذرائع علم دوسرے جو ہیں‘ کان آواز سنتے ہیں‘ آنکھیں کوئی مادی چیز دیکھتی ہیں‘ یہ ذریعہ علم افئدۃ جو ہے اس کے لئے کیفیات چاہیے اور یہ کیفیات کو جذب کر کے علوم الٰہیات کی طرف بڑھتا ہے اور حقیقی زندگی سے آشنا کرتا ہے‘ اسے اللہ حیات دے دے‘ تو پھر ایک زندگی دنیوی نظر نہیں آتی‘ دنیا اور آخرت سامنے آجاتی ہیں‘ آخرت اور دنیا مل کر چل رہی ہوتی ہیںاور سامنے آ جاتی ہیں اور آدمی آخرت کو پسند کر کے چلتا رہتا ہے۔ یہ کیفیات اس افئدۃ کی حیات سے نصیب ہوتی ہیں۔اللہ کریم نے اگر یہ انعام فرمایا کہ ہمیں یہ ذریعہ علم جاننے اور سیکھنے کا موقع نصیب ہوا‘ تو وہ مہربانی فرمائے ہمیشہ اس پہ قائم رکھے اور اس میں ترقی عطا فرمائے۔ اور اسی پر‘ ایمان پر‘ یقین پر‘ خلوص  پر خاتمہ نصیب فرمائے۔
وآخر دعونا عن الحمد اللہ رب العلمین

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

علمی وفکری اختلاف آپ کا حق ہے۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔