Aug 21, 2015

اگر تصوف بدعت ہوتا!

0 comments
اگر تصوف بدعت ہوتا!
منکرین تصوف کا ایک واویلا یہ بھی ہے کہ تصوف بدعت ہے اور اس پر دلیل یہ ہے کہ عہد نبوی ﷺ میں لفظ تصوف کا وجود نہیں ملتا؟
جی ہاں اسی اصول کے تحت خود منکرین تصوف بدعتی ہونگے کیونکہ عہد نبوی ﷺ تو کیا ماضی قریب تک سلفیت ،غامدیت،اور پرویزیت وغیر ہ وغیرہ کا نام و نشان تک نہیں ملتا۔اس اصول کے تحت خود منکرین تصوف سب سے بڑے بدعتی ٹھہرے۔
ارے کم فہمو!
    اتنا تو سوچواگر تصوف بدعت ہوتا توتاریخ اسلام کی پندرہ صدیوں میں بے شمار اہل علم اسکے خلاف ضرور لکھتے جیسا کہ دیگر بدعتی فرقوں کے خلاف لکھا گیا ہے،مگر یہاں تو معاملہ الٹ نظر آتا ہے۔ہمیں تاریخ میں نامور مفسر ،محدث،اور متکلم صوفی تو ملتے ہیں ،مگر تصوف کا مطلق انکار کرنے والا(منکرین تصوف کی طرح)کوئی اہل علم نظر نہیں آتا۔
بلکہ تصوف کے تو بڑے ناقد عبد الرحمن ابن جوزی ؒ اور ابن تیمیہؒ بھی اہل تصوف کے قدر دان نظر آتے ہیں ،اور اس بات پر ان حضرات کی تصنیفات  گواہ ہیں ۔اس بات کو اہل نظر بخوبی جانتے ہیں ۔
اسی لئے تو میں منکرین تصوف سے کہتا ہوں
جا! تاریخ اسلام کی پندرہ صدیوں میں ،جو تمھاری طرح صوفیاءپر طعن کرنے والے،بدزبان،بے لگام ،علم سلوک کے انکاری ہوں ،صرف اور صرف پندرہ صاحبان علم کے نام لے آ،تمھاری جیت میری ہار۔
     لیکن میں جانتا ہوں
     نہ خنجر اٹھے گا  نہ تلوار  ان   سے
       یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

علمی وفکری اختلاف آپ کا حق ہے۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔