Jul 18, 2014

حضرت امیر محمد اکرم اعوان مدظلہ العالی ا یک عہد ساز شخصیت

0 comments
حضرت امیر محمد اکرم اعوان مدظلہ العالی ا یک عہد ساز شخصیت
یک زمانہ صحبت بااولیاء
بہتر از صد سالہ طاعت بے ریا​
برکات نبویﷺ کی ترسیل سے ابد سے جاری و ساری ہے مگر اس دور میں وہ ہستیاں خال خال ہیں جو برکات نبویﷺ کو حاصل کر کے دوسروں کے قلوب کو منور کرنے کا سبب بن سکیں۔ اہل اللہ کا اصل کام برکات نبویﷺ کی ترسیل اور قلوب کی زمین میں حب الٰہی اور اتباع رسالت مآبﷺ کا بیج بو کر ایسے افراد تیارکرنا ہوتا ہے جن کا وجود نسل انسانی کے لئے رحمت کا باعث ہو۔ صوفیاء کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ تبع تابعین کے بعد کوئی ایسی ہستی نہیں ملتی جس کے پاس جانے والا ہر مرد و عورت‘ امیر و غریب‘ ان پڑھ اور تعلیم یافتہ سب ہی کیفیات قلبی لے کر لوٹے ہوں۔ چودہ سو سال بعد قلوم فیوض و برکات حضرت مولانا اللہ یار خانؒ نے اس سنت کا احیاء کیا کہ ہر آنے والے کو قلبی کییفات نصیب ہوئیں۔
حضرت جیؒ نے ایسے ہزاروں افراد تیار کئے جن کی تربیت خالص اسلامی تصوف کی بنیاد پر کی گئی۔ انہوں نے ضلع چکوال کے قصبہ منارہ کے قریب دارلعرفان کی بنیاد رکھی جہاں ملک بھر سے اور بیرونی ممالک سے راہِ سلوک کے متلاشی اپنی روحانی پیاس بجھاتے ہیں۔
حضرت جیؒ کے اس مشن کو ان کے مایہ ناز شاگرد حضرت امیر المکرم مولانا محمد اکرم اعوان مدظلہ العالی نہ صرف جاری و ساری رکھے ہوئے ہیں بلکہ انٹرنیٹ کے ذریعے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے سالکین کے قلوب کو ذکر الٰہی سے منور کر رہے ہیں۔ آج کے اس پرفتن دور میں طالب الٰہی کو ایک پل میں احدیت‘ معیت‘ اقریب‘ فنا بقاء‘ سیر کعبہ اور فنا فی الرسول میں پہنچا دینا کوئی معمولی بات ہے؟ صدیوں کے سینے چیر کر کسی کو آقائے نامدارﷺ کے روبرو پیش کرنا کوئی عام سی بات ہے؟ اس پر تو ہزاربار جان قربان کی جا سکتی ہے۔ دارالعرفان منارہ میں آج یہی کام ہو رہا ہے۔ یہاں ذکر خفی سکھایا جاتا ہے جس سے قلوب منور ہو جاتے ہیں۔ اللہ کا ذکر ہی اخروی نجات کے لئے سکۂ رائج الوقت کی حیثیت رکھتا ہے۔
حضرت امیر المکرم محمد اکرم اعوان مدظلہ العالی تحریر و تقریر میں اپنی مثال آپ ہیں۔ آپ اعلیٰ پائے کے مفسر قرآن ہیں۔ آپ نے تفسیر اسرار التنزیل اس انداز سے لکھی کہ پیغام الٰہی قاری کے دل کی گہرائیوں تک پہنچ جائے‘ سوئے ہوئے دلوں کو جلا دے‘ ایک ہل چل مچا دے‘ ایک وجدانی کیفیت پیدا کر کے دل میں محبت الٰہی کی ایسی تڑپ پیدا کر دے کہ ہر دھڑکن میں اللہ کی خوشنودی مقصود بن جائے۔ حضرت امیر محمد اکرم اعوان اب اکرم التفاسیر کے بھی سات پارے مکمل کر چکے ہیں نیز 40 سے زائد کتب کے مصنف ہیں۔آپ نے اپنے شیخ حضرت مولانا اللہ یار خانؒ سے 25 برس تک تزکیہ نفس کی تربیت حاصل کی اور فروری 1984ء میں اپنے مرشد کی وفات کے بعد ان کے جانشین مقرر ہوئے۔ اسلام آباد سے 150 کلومیٹر چکوال‘ کلرکہار‘ خوشاب روڈ پر دارالعرفان منارہ میں قیام پذیر ہیں اور ایمان و یقین اور اطمینان قلب دیسی نعمت بانٹ رہے ہیں۔ آپ کا فرمان ہے کہ میں آپ حضرات کی تربیت میں معمور صرف اللہ کا محتاج‘ عاجز بندہ اور عام انسان ہوں۔ ہاں میں عمر لگائی ہے اللہ سیکھنے میں اور اللہ کا احسان کہ اس نے مجھے برکات نبویﷺ کی ترسیل کا ذریعہ بنایا ہے۔
حضرت امیر محمد اکرم اعوان مدظلہ شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ ایک ایسی شخصیت ہیں جنہوں نے گناہوں کی دلدل میں دھنسے ہزاروں لوگوں کے قلوب کو اللہ کے ذکر آشنا کر کے انہیں دربار نبویﷺ کی حضوری جیسی روحانی بلندیوں سے ہمکنار کر کے ان کی زندگیوں کو عاشقان رسولﷺ کے رنگ میں رنگ دیا ہے۔

آپ بین الاقوامی مبلغ ہیں۔ دین کی ترویج کے لئے دنیا بھر کا سفر کر چکے ہیں اور ہر جگہ آپ کا حلقۂ ارادت موجود ہے۔ آپ نے ایک رفاہی ادارہ ’’الفلاح فاؤنڈیشن‘‘ کے نام سے قائم کیا ہے جس کے آپ سرپرست اعلیٰ ہیں۔ یہ شمالی علاقہ جات اور ملک کے دور دراز علاقوں کے حاجت مندوں کی ضروریات کی کفالت کا بیڑا اٹھائے ہوئے ہیں۔ صقارہ نظامِ تعلیم کے آپ بانی ہیں۔ اس نظام کے تحت لاہور میں سائنس کالج‘ صقارہ گرلز کالج‘ منارہ ضلع چکوال میں انٹرمیڈیٹ کالج اور صقارہ اکیڈمی کام کر رہے ہیں۔
حضرت امیر محمد اکرم اعوان مدظلہ مروجہ نظام سیاست‘ نظام عدل اور نظام معیشت کو انگریزی استبداد کو دوام بخشنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس باطل نظام کی بیخ کنی کے لئے آپ نے تنظیم الاخوان قائم کی ہے۔ اس تنظیم کے پلیٹ فارم پر آپ نے ’’رب کی دھرتی‘ رب کا نظام‘‘ کا نعرہ بلند کیا جسے عوامی حلقوں میں بہت پذیرائی ملی۔
کیا آپ بھی اللہ والوں کے تلاش میں سرگرداں ہیں؟ کیا آپ بھی درد دل اور لذت آشنائی کے طلبگار ہیں؟ تو آئیے چند لمحے اللہ کے کامل ولی کے ساتھ گزار کر زندگی کو عشق رسولﷺ اور محبت الٰہی سے منور کر لیں۔
صلائے عام ہے یارانِ نقطہ داں کے لئے

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

علمی وفکری اختلاف آپ کا حق ہے۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔