Jan 26, 2017

مسئلہ اعانت واستعانت تحریر ابن محمد جی قریشی

0 comments
مسئلہ اعانت واستعانت      تحریر ابن محمد جی قریشی
برصغیرپاک وہندمیںمسلمانوں کے درمیان جو اختلاف پائے جاتے ہیں ان میں ایک بڑا شدید اختلافی مسئلہ غیر اللہ سے غائبانہ اعانت واسعانت کا ہے۔ہمارے پاس الحمد للہ اس مسئلہ کے حل کے لئے دونوںطرح کے دلائل موجود ہے جہاں تک ظاہری علوم کا تعلق ہے۔تو یہ مسئلہ قرآن و حدیث میں بالکل واضح ہے۔دوسری دلیل اہل ذوق کے لئے کہ وہ آئے خود محنت کرے ، خود ولی بنےاللہ کرے گاانشاء اللہ تو ان پر حقائق واضح ہو جائے گے۔اسے معلوم ہو جائے گا کہ حقیقت میں فیض کسے کہتے ہیں؟تصرف فی اولیاء کی حقیقت کیا ہے؟ہمارے ہاں ایک طبقہ نے تو کشف ومشاہدات کاانکار کر دیا ہےاور دوسرا اولیاء اللہ کو مشکل کشا مان لیا ہے ان کا خیال ہے کہ جو چاہئے وہ کر سکتے ہیں اصل میں یہ مسئلہ بین بین ہے۔
اولیاء اللہ کو کشف ومشاہدہ ہ اور تصرف بھی ہوتا ہے اس میں کچھ شک نہیں۔حضرت سلیمان علیہ السلام کے صحابی کا واقعہ قرآن میں ہے۔قَالَ يٰٓاَيُّهَا الْمَلَؤُا اَيُّكُمْ يَاْتِيْنِيْ بِعَرْشِهَا قَبْلَ اَنْ يَّاْتُوْنِيْ مُسْلِمِيْنَ ( 38) قَالَ عِفْرِيْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِيْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَ  ۚ وَاِنِّىْ عَلَيْهِ لَقَوِيٌّ اَمِيْنٌ)39)قَالَ الَّذِيْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ اَنَا اٰتِيْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ يَّرْتَدَّ اِلَيْكَ طَرْفُكَ  ۭ فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ قَالَ ھٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّيْ ڷ لِيَبْلُوَنِيْٓ ءَاَشْكُرُ اَمْ اَكْفُرُ  ۭ وَمَنْ شَكَرَ فَاِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ ۚ وَمَنْ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّيْ غَنِيٌّ كَرِيْمٌ   ( 40؀ ) 
سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے سردارو ! تم میں کوئی ایسا ہے کہ ان کے فرمانبردار ہو کر آنے سے پہلے اس (ملکہ) کا تخت میرے پاس لے آئے( 38)تو ایک قوی ہیکل جن نے عرض کیا کہ میں پہلے اس کے آپ اجلاس سے اٹھیں آپ کی خدمت میں پیش کردوں گا اور بیشک میں بہت طاقتور بھی ہوں اسے لاسکتا ہوں (اور) امانتدار بھی ہوں(39) جس کے پاس کتاب (الٰہی) کا علم تھا اس نے کہا میں آپ کی آنکھ جھپکنے سے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کیے دیتا ہوں۔ پس جب انہوں نے اس (تخت) کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا تو فرمایا یہ میرے پروردگار کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے کہ میں شکر ادا کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں۔ اور جو شخص شکر ادا کرتا ہے تو وہ اپنے ہی نفع کے لئے کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو یقینا میرا پروردگار بےنیاز (اور) کرم کرنے والا ہے(40) (اکرام التراجم)
صاحب اسرار التنزیل ان آیات کی تفسیر میںکتاب اللہ کی تفسیر میںلکھتے ہیں کہ:
 کتاب اللہ کا علم کیا ہےحق یہ کہ کتاب محض الفاظ ومعانی ہی نہیں ہوتےبلکہ ہر لفظ میں انوارات و تجلیات اور کیفیات ہوتی ہیںجو سب نبی کے دل پر وارد ہوتی ہیںاور اس کی حقیقت متبعین کو سینہ بسینہ نصیب ہوتی ہیں انہی کیفیات کے حامل ولی اللہ کہلاتے ہیں اور ایسے علماء ہی انبیاء کے وارث ہوتے ہیں ورنہ محض الفاظ و معانی سے کھیلنے والے عموماً کتاب اللہ کو بھی ذریعہ معاش بنا پاتے ہیں اور بس۔ان کیفیات کے حامل لوگوں میںتصرف کی قوت بھی حسب اسعداد ہوتی ہےجس کا اظہاربھی مختلف مواقع پر ہوتا رہتا ہے ۔ قلبی طور پر اس کی تحقیق جو حضرت  کے حکم پر کی گئی تھی یہ سمجھ آئی تھی کہ اس شخص نے جو آپ کا صحابی اور درباری تھااور مفسرین جس کا نام اآصف بن برخیا لکھا ہےاپنے قلب کے انوارات تخت پر القا ء فرما کرایک بار اللہ کہاتو تخت سامنے پڑا تھا۔ 
مگر اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ جب ،جو اور جیسے چاہئے کشفاً دیکھتے رہےاور تصرف کرتے رہئے،ایسا ممکن نہیں ۔یہ قوت صرف اللہ کی ہے کہ جو چاہئے اور جیسے چاہئے کر سکتا ہے۔ہوتا یہ ہے کہ جب وقت برابر ہوتا ۔دنیا دار السبب ہےاللہ بطور سبب اپنے محبوب بندے کے دل میں ڈال دیتا اور جوں ہی وہ توجہ کرتا ہے کام ہو جاتا ہے اور اسے کرامت کہتے ہیں۔
تصرف اور کرامت میں ایک باریک فرق یہ بھی ہے کہ تصرف میں صاحب تصرف کا ارادہ شامل ہوتا ہے جبکہ کرامت کے اظہار پرتو بعض اوقات صاحب کرامت بھی حیران رہ جاتا ہے۔دوسرا تصرف اصطلاح میں خیال و نظر کی طاقت استعمال کر کے حیرت انگیز کام صادر کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے جس کے لئے نبی یا ولی بلکہ مسلمان ہونا بھی شرط نہیں، تصرف مسمریزم جیسا ایک عمل ہے۔بس اس کو آپ یو ں سمجھ لے جیسے اسلحہ، مسلمان علاء کلمۃ اللہ کے لئے استعمال کرے گا اور کافر باطل مقاصد کے لئے استعمال کرے گا۔بس تصرف بھی ایک ایسی ہی قوت ہےجسے صوفیاء نیک مقاصد میں بروئے کار لاتے ہیں اور اہل باطل لوگوں کو دھوکا دینے کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔
قرآن مجید میں حضرت ابراہیم ؈کا ذکر مبار ک موجود ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کے اولولعزم نبی تھے اللہ نے ان کے سامنے کائنات منکشف کر دی وَكَذٰلِكَ نُرِيْٓ اِبْرٰهِيْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلِيَكُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِيْنَ(سورۃ الانعام:75)مگر وہی ابراہیم علیہ السلام ہیںوَلَقَدْ جَاۗءَتْ رُسُلُنَآ اِبْرٰهِيْمَ بِالْبُشْرٰي قَالُوْا سَلٰمًا  ۭ قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَاۗءَ بِعِجْلٍ حَنِيْذٍ  (سورۃھود 69؀)
صاحب اسرار التنزیل فرماتے ہیںاس آیت سے یہ عقدہ بھی کھلا کہ انبیاء اپنے علم کی وسعت کے باوجود ہر آن اللہ کے دربار میں ہی امیدوار کرم رہتے ہیں اور وہی جانتے ہیں جو وہ بتاتا ہے کہ فرشتے تھے انھوں نے کھانا تو نہ کھانا تھا مگر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پہچان نہ سکے اور انسان سمجھ کر تو اضع کی لیکن جب انھوں نے کھانے کی طرف ہاتھ نہ بڑھایا تو آپ گھبراگئے کہ عرب اور فلسطین کا دستور تھا کہ دشمن کا کھانا نہ کھاتے تھے آپ نے سمجھا کہ شاید کوئی دشمن ہوں مگر فرشتوں نے عرض کیا کہ ہم تو اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں اور اللہ نے قوم لوط کو تباہ کرنے کے لئے بھیجا ہے تو ان کی بیوی ہنس دیں۔ غالیا اسی بات سے کہ کس قدر جلدی فرمائی بچھڑا ذبح کیا مجھ سے پکوایا اور اب پتہ چلا کہ یہ تو فرشتے ہیں انھیں کھانے پینے سے غرض نہیں ۔
اب یہ اللہ کی شان ہے کہاں پوری کائنات کا منکشف ہونا اور کہاں فرشتوں کو انسان سمجھ کر ان کے آگے تلا ہو ابچھڑا رکھ دینا۔اسی طرح حکم دیافَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْیَ قَالَ یَا بُنَیَّ إِنِّی أَرٰی فِی الْمَنَامِ أَنِّی أَذْبَحُکَ فَانْظُرْ مَاذَا تَرَیجب وہ ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ دوڑنے کی عمر کو پہنچے تو اُنہوں نے فرمایا: اے پیارے بیٹے! میں خواب میںدیکھتاہوں کہ تمہیں ذبح کررہاہوں۔ بتاؤ! تمہاری کیا رائے ہے ؟(سورۃ الصافات۔102)یَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِیْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِینَ .اے میرے والد بزرگوار!آپ کو جو حکم دیاجارہاہے اس کو پورا کرگزرئیے، اگر اللہ نےچاہاتو یقینا آپ مجھے صبرکرنے والوںمیں پائیں گے۔(سورۃ الصافات۔102)
جب انہیں حکم دیا کہ بیٹے کو میرے سامنے ذبح کرو تو آخر تک نہیں بتایا کہ تیرے بیٹے کو بچا لوں گا۔بسم اﷲ اﷲ اکبر چھری چلا دی خون بہہ نکلاجسم تڑپ کرٹھنڈا ہو گیا اور ابھی تک حضرت ابراھیم علیہ السلام سمجھ رہے ہیں کہ میں نے اسمٰعیل علیہ السلام کو ذبح کر دیا ۔ آنکھوں سے پٹی ہٹائی تو حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کھڑے مسکرا رہے ہیں او ر دنبہ ذبہ ہوا پڑا ہے۔گھبرا گئے میں نے اسمٰعیل علیہ السلام کو ذبح کرنا تھاکیا میری قربانی ضائع گئی؟ فوراً اﷲ کی طرف سے یہ وحی آئی فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِینِ . وَنَادَیْنَاهُ أَنْ یَا إِبْرَاهِیمُ ،قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْیَا إِنَّا کَذَلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِینَ جب وہ دونوں نے حکمِ الہی کو تسلیم کیا اور والد نے صاحبزادہ کو پیشانی کے بل لٹادیا اور ذبح کرنے لگے توہم نے انہیں ندا دی کہ اے ابراہیم ! واقعی آپ نے خواب سچا کردکھایا‘ بے شک ہم محسنوں کو ایساہی بدلہ دیتے ہیں ۔(سورۃ الصافات ۔ 104) 
اللہ کا امتحان تھا اگر پہلے بتا دیا جاتا تو امتحان نہ ہوتا اس طرح تو کسی کے لئے کچھ مشکل نہیں کہ اسے پتہ ہو کہ بچے کے گلے پر چھری پھیرو بچہ ذبح نہیں ہو گا دنبہ ہوگا تو پھر کیا مشکل ہے حضرت ابرہیم نے اپنی طرف اسماعیل کے گلے پر چھری پھیری تھی آگے اللہ کی اپنی مرضی تھی۔
اسی طرح قرآن کریم میں حضرت یوسف کے واقعے میں ملتا ہے کہ حضرت یوسف ؑ نے اپنے بھائیوں کو مصر میں اپنا کرتہ عطاء کیا اورکہاکہ یہ میرے والد کی آنکھوں پر لگانا ان کی بینائی لوٹ آئے گی اور وہ شخص کرتہ لے کر جب مصر سے نکلا کنعان میں بیٹھے ہوئے حضرت یعقوب ؑ نے فرمایا آج مجھے یوسف ؑ کی خوشبو آرہی ہے۔ وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيْرُ قَالَ اَبُوْهُمْ اِنِّىْ لَاَجِدُ رِيْحَ يُوْسُفَ لَوْلَآ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ    94؀جب قافلہ (مصر سے) روانہ ہوا تو ان کے والد فرمانے لگے کہ بیشک مجھے یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو آرہی ہے اگر تم یہ نہ کہو کہ بڑھاپے میں بہکی باتیں کررہا ہوں
لیکن عجیب بات کہ مصر جو کم وبیش آٹھ دن کی مسافت پر تھا وہاں سے خوشبو آنے لگی مگر خود کنعان کے کنویں اور قافلے والوں کے پاس سے نہ آئی پھر مصر میں بھی انھیں برسوں بیت چکے تھے پہلے تو نہ آئی اس کا آسان ساجواب یہ ہے کہ کشف اور مشاہد ہ ازقسم ثمرات ہے جو ہمیشہ وہبی ہوتے ہیں جب اللہ چاہے بتا بھی دے دکھا بھی دے اور جو نہ چاہے نہ بتائے ۔ جب تک اسے منظور تھا نہ یوسف (علیہ السلام) نے اطلاع بھجوائی اور نہ ہوانے خوشبوپہنچائی اور جب اس نے اجازت بخشی تو انھوں نے بھی پیغام روانہ کردیا اور ہوا بھی خوشبولے اڑی۔
  تو ثابت ہوا کہ اللہ کریم اپنے بندوں کو غیب کی خبریں پہنچا تے ہیں  خصوصا انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو اور سب سے زیادہ آقائے نامدار (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غیب پر اطلاع دی گئی جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان کے مطابق تھی مگر یہ علم کسی ذریعے سے پہنچتا ہے کشف الہام القاء
 وجدان یا پھر انبیاء کو سب سے مضبوط ذریعہ جو نصیب ہوتا ہے وہ وحی الٰہی کا ہے اور نبی کا کشف والہام تو کیا نبی کا خواب بھی وحی ہوتا ہے لیکن یہ سب علم غیب نہیں کہلائے گا علم غیب صرف اللہ کا خاصہ ہےجس میں کوئی بھی دوسرا اس کا شریک نہیں اور آسان لفظوں میں علم غیب کی تعریف یہ ہے کہ بغیر کسی سبب کے حاصل ہو۔ اگر درمیان میں سبب یاواسطہ آگیا تو غیب کی خبر کہلائے گا علم غیب نہ ہوگا اور بغیر واسطے یا کسی ذریعے کے جاننایہ صرف اللہ کریم کا خاصہ ہے۔
یہ چند مثالیں سمجھانے کے لئے قرآن سے بیان کی گئی ہیں ورہمارے ہاں توانتہاء پسندی ہےجہاں یہ عقیدہ رکھنا کہ اولیاء اللہ کچھ تصرف نہیں رکھتے گمراہی ہے اور وہی یہ عقیدہ رکھنا کہ جو وہ چاہئے کر سکتے ہیں تو یہ بھی نری گمراہی ہےجو حقیقت وہ عرض کر دی گئی ہے ۔اب یہ اللہ کی مرضی ہے کہ وہ کیا چھپاتا ہے اور کیا منکشف کرتا ہے یہ اسی مالک الملک کہ دست قدرت میں ہے کوئی بندہ کتنا بھی اللہ کاقرب پا جائے ۔بندہ بندہ ہی رہے گا ،خدا نہیں بن سکتا اور اللہ کتنا ہی قریب کیوں نہ ہو اللہ اللہ ہے۔ ہمارے ہاں مسلک و شخصیت پرستی اور پھر علماء سو اپنے مفاد کے لئے لوگوں کو حقائق بتانے کے بچائے الٹا گمراہ کر رہے ہیں۔کہیں تو حید کے نام پر اولیاء اللہ کی توہین کی جاتی ہے اور کہیں اولیاء اللہ کی محبت میںانھیں مشکل کشا اور حاجت رواں سمجھا جاتا ہے۔
راقم الحروف نے ایک سفر کے دوران  حافظ غلام قادریحفظہ اللہ تعالی سے اس مسئلہ کے متعلق استفسار کیا تو درج بالا تقریر کے بعد آپ نے مجھے ایک واقعہ بھی سنایا کہ:   
1971ء کی جنگ میں ہماراکیمپ گجرات کے علاقہ میں تھا ،جس کی پوزیشن جنگی حالات کے پیش نظربدلتی رہتی تھی ۔گجرات شہر میں بھی ہمارا آنا جانا لگا رہتا تھا۔گجرات سے متصل علاقہ مہمداں میں ایک بزرگ( سائیں کرم الٰہیؒ) عرف کاواںوالی سرکارکامدفن ہے۔ایک دن ذاکرین ساتھیوںکے ہمراہ سائیں کرم الٰہی کے مزار پر جانے کا اتفاق ہوا۔میرے ہمراہ رشید احمد بھی تھا۔رشید احمد سمندری کا رہنے والا تھا ۔کیمپ ایریا میں ہی اس نے میری دعوت پر ذکرکرناشروع کیا تھا۔رشیداحمدکواللہ تعالیٰ نےبہت تیز قوت بصیرت عطا فرمائی تھی۔میں مزار پر پہنچ کر ابھی وضو ہی کر رہا تھا کہ رشیداحمد آئےاور مجھے کہنے لگا صاحب قبر فرما رہے ہیں کہ حافظ غلام قادری کو کہے کہ وہ جلدی آئے ۔وضو سے فارغ ہو کرہم نے مزار پر جا کر ذکر شروع کیا۔
کشفاً یہ معلوم ہوا کہ انہوں نے فقیرانہ سے لباس (ایک پاجامعہ ،کرتا) میں زندگی بسر کی ہے، انہوں نے فرمایا کہ میںشاہ دولہؒ کے بعد آیا ہوں اور کچھ عرصہ ان کے مزار پر بھی رہا ہوں۔ اسی اثناء میں ایک ٹانگہ آکر رکا اس سے ایک عورت اتری اور اس نے قبر کے پتھر کو پکڑ کر زور زور سے روناچیخناشروع کر دیااور ساتھ یہ دوہائی بھی دے رہی تھی کہ میں سالم(سپیشل )ٹانگہ کرکے ہائی ہوں۔ سائیں کاواں والیاں میری مشکلیں آسان کر دے،مجھے آنکھیں عطا کراور مزید بھی کچھ اس طرح مانگ رہی تھی۔ اس دوران مشاہدہ میں یہ آرہا تھا کہ صاحب قبر اس کی طرف کچھ توجہ نہیں کر رہے تھے بلکہ وہ ہماری طرف متوجہ ہیں ۔میں نے رشید احمد کو کہا کہ صاحب قبر عرض کرو کہ آپ اس عورت کی طرف بھی توجہ کرے۔انہوں نے جواباً فرمایامیں اس کے لئے کیا کر سکتا ہوں،ہم نے عرض کیا دعا تو کرسکتے ہیں مگر انہوں نے دعا بھی نہ کی ۔پھر میں نے رشید احمد سے کہا کہ ان سے عرض کرو کہ اس عورت کے ایمان کے لئے دعا کرے ،تو پھر انہوں دعا کر دی ۔
پھر وہ فرمانے لگے کہ حافظ غلام قادری کو اس علاقہ میں اتنے عرصہ سے دیکھ رہا ہوں مگر یہ بڑے عرصہ بعد میرے پاس آئے ہیں۔رشید احمد نے عرض کیا کہ آپ کو یہ کیسے پتہ چل گیا۔انہوں نے فرمایا کہ تم لوگ جہاں بھی ذکر کرتے ہو ہمیں پتہ چل جاتا ہے جس طرح گپ اندھیرا ہواور اس میں دیا سلائی بھی جلائی جائے تو بڑے دور سےروشنی نظر آتی ہے اسی طرح آپ لوگ ہمیں دنیا میں نظر آتے ہو ۔آخر میں ہم نے عرض کی کہ جب ہم ذکر کرتے ہیں تو آپ توجہ کیا کرے۔ انہوں نے فرمایا یہ کہنے کی ضرورت نہیں ایک میں نہیں بلکہ آپ جہاں ذکر کرے گے وہاں کے تمام صوفیاء خود بخودمتوجہ ہوجاتے ہیں کیونکہ ہم نے خود زندگی میں یہ محنت کی ہے اور یہی ذکر کرنے والے لوگ ہمیں اچھے لگتے ہیں۔
اصل بات یہ ہے کہ اولیاءاللہ تو عالم برزخ میں اپنے مقام پر تشریف فرما ہوتے ہیںجس مقام کے لئے انھوں نے دن رات محنت کی ،دنیا کی لذات کو چھوڑا ،انھیں برزخ میں بارگاہ نبویﷺ کی حاضری نصیب ہوتی ہے۔اب کہاں بارگاہ نبوی ﷺ کی حاضری اور آخرت کی عظیم نعمتیں اور کہاں یہ دنیاوی لتھیڑے،انھیں اس بات سے کیا غرض کہ کون ان کی قبر پر آ رہا ہے اور کیا مانگ رہا ہے؟۔ہاں اگر روحانی رابطہ ہو کشف قبور ہو تو دعا کے لئے عرض کی جا سکتی ہے ،مگر یہ بھی ان کی مرضی کہ دعا کرے یا نہ کرےکیونکہ وہ اس بات کے مکلف نہیں۔
حضرت علی ہجویری کی قبر پر ہمارے ایک ساتھی گئےداتا گنج بخش ؒ سے روحانی کلام نصیب ہوا تو عرض کیا حضرت ساری زندگی جس کام سے آپ لوگوں کو منع کرتے رہے آج وہ تمام بدعات وخرافات آپ کی قبرپرہو رہی ہیں انہوں نے فرمایا جب تک ہم دنیا میں تھے ہم مکلف تھے ہم نے لوگوں کو منع کیا اب تم مکلف ہو ،جواب دہ ہو،یعنی انہوں نے شرعی مسئلہ بھی سمجھا دیا۔کہ ہم تو قبر(عالم برزخ)میں ہیں ہم دارالعمل سے دارالاجزاء میں منتقل ہو چکے ہیںتم دنیا میں تمھارا کام لوگوں کو برائی سے روکنا اور اچھائی کی دعوت دینا ہے۔ 
اولیاء اللہ کو عالم الغیب ، مشکل کشا اور حاجت رواں سمجھنانری گمراہی ہے۔حقیت تو یہ ہے کہ بریلوی مسلک کے جیدعالم دین علامہ  غلام رسول سعیدی ؒاپنی مایہ ناز تفسیر وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ۔۔۔۔۔کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
ہمارے زمانہ میں بعض جہلا اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے کے بجائے اپنی حاجتوں کا سوال پیروں ‘ فقیروں سے کرتے ہیں اور قبروں اور آستانوں پر جا کر اپنی حاجات بیان کرتے ہیں اور اولیاء اللہ کی نذر مانتے ہیں ‘ حالانکہ ہر چیز کی دعا اللہ تعالیٰ سے کرنی چاہیے اور اسی کی نذر ماننی چاہیے ‘ کیونکہ دعا اور نذر دونوں عبادت ہیں اور غیر اللہ کی عبادت جائز نہیں ہے ‘ البتہ دعا میں انبیاء کرام اور اولیاء عظام کا وسیلہ پیش کرنا چاہیے۔
اسی طرح علم الغیب کے متعلق خلاصہ بحث یہ فرماتے ہیں
اس تمام بحث کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو علی حسب المراتب غیب کی خبروں پر مطلع فرمایا ہے لیکن غیب مطلق (یعنی تمام معلومات کا احاطہ کاملہ) یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے اور اسی کو غیب مطلق کا علم ہے ‘ اور غیب کی جن خبروں پر اللہ نے اپنے خواص کو مطلع فرمایا ہے ان کے اعتبار سے ان بندوں کو غیب کا علم ہے ‘ لیکن اس کو علم الغیب کہنا درست نہیں ہے کیونکہ ان کو ایسی صفت حاصل نہیں ہے جس سے ان پر ہر غیب منکشف ہو ‘ یہ علامہ شامی کی بیان کردہ توجہیہ ہے ‘ اور علامہ آلوسی کی توجیہ یہ ہے کہ اگرچہ ان کو بعض غیوبات پر مطلع کیا گیا لیکن ظاہر آیات سے تعارض کی بناء پر یہ کہنا درست نہیں ہے کہ ان کو غیب کا علم ہے ‘ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ ان کو غیب پر مطلع کیا گیا ہے یا ان پر غیب ظاہر کیا گیا ہے ‘ اور امام احمد رضا قادری (رح) کی تحقیق ہے کہ مطلقا غلم غیب بولا جائے تو اس سے علم ذاتی مراد ہوتا ہے ‘ اس لیے یہ کہنا جائز نہیں ہے کہ فلاں شخص کو علم غیب ہے ‘ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بعض غیوب کو ظاہر فرمایا ‘ آپ کو بعض غیوب پر مطلع کیا گیا یا آپ کو غیب کی خبریں دی گئیں اور جن علماء اور فقہاء کی عبارات میں مخلوق کی طرف علم غیب کا اسناد کیا گیا ہے ‘ وہاں چونکہ غیب سے مراد غیب مطلق نہیں ہے اس لیے وہ عبارات عقلا جائز ہیں اور کفر وشرک نہیں ہیں لیکن ایسا کہنا شرعا مستحسن نہیں ہے۔(تبیان القرآن ج۱ ص) 
قارہین اکرام! یہاں جو کچھ عرض کیا گیا ہے بغیر کسی تعصب کے ،بریلوی دیوبندی اہل حدیث سے بالا تر ہو کر لکھا گیا ہے صرف اس غرض سے شاید کسی کو یہ حقیقت سمجھ میں آ جائے اور مسلمانوں کے اختلاف دور ہو جائے ۔میری قارہین سے گذارش وہ اس جو بھی تبصرہ فرمائیں یہ ان کا حق ہے مگر خدا راہ اگر آپ کا وسیع مطالع نہیں ہے اور اہل اللہ صوفیاء کی صحبت میں بھی نہیں بیٹھے ہیں تو پہلے اس علم کو حاصل کیجئے ۔کیونکہ یہاں میں نےکشف کے واقعات تو لکھے مگر اس موضوع پر دلائل نہیں دئیے جو انشاء اللہ پھر کبھی سہی ۔
متقدمین اور متاخرین مفسرین و آئمہ کے دلائل اس اندیشہ کے پیش نظر چھوڑا دیا کہ بات بہت طویل ہو جائے گی۔اللہ ہو کو صراط مستقیم پر استقامت نصیب فرمائیں۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

علمی وفکری اختلاف آپ کا حق ہے۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔