Jul 22, 2014

سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ،جد امجد نسبت اویسیہ۔ ابو الاحمدین

0 comments
غارِ ثور کی تین راتیں
غارِ ثور میں آقائے نامدارﷺ کی معیت میں تین راتوں کی قدر و قیمت کا اندازہ کون لگا سکتا ہے! اس کی قدر و قیمت حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ خوب سمجھتے تھے۔ وہ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا کرتے:
’’مجھ سے میری تمام نیکیاں لے لو لیکن غار ثور کی تین راتوں میں سے صرف ایک رات عطا کر دو۔‘‘
اگر حضرت صدیق اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ درخواست قبول کر لیتے تو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے یہ سودا دنیا وآخرت سے زیادہ قیمتی ہوتا لیکن حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی تمام نیکیاں پیش کرنے کے باوجود بھی قیمت نہ لگا سکے کیونکہ یہ اعزاز جس ہستی کا تھا‘ پوری کائنات میں کوئی اور اس میں شریک نہ ہوسکا۔
ایک مرتبہ ستاروں بھرے آسمان کو دیکھ کر حبیبۂ حبیب کبریا سیدہ عائشہصدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آپﷺ سے دریافت کیا: کیا کوئی شخص ایسا بھی ہوگا جس کی نیکیاں ان ستاروں سے بھی زیادہ ہوں گی؟ آپﷺ نے جواب دیا‘ حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا خیال تھا کہ شاید آپﷺ ان کے والد گرامی حضرت صدیق اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام لیں گے۔ انہوں نے پھر پوچھا ‘ اَیْنَ حَسَنَاتُ اَبِی بَکْرٍ کیا میرے والد کی نیکیاں اتنی نہیں ہیں؟ آپﷺ نے ارشاد فرمایا‘ غارِ ثور کی ایک رات ان ستاروں کے برابر نیکیوں سے بڑھ کر ہے۔

ایک سعادت جو صرف رفیقہ حیات اور رفیق غار کے حصہ میں آئی
دامان رحمتﷺ تمام جہانوں کے لئے جائے پناہ ہے۔ قیامت کی ہولناکیوں میں تمام انبیاء علیہم السلام‘ اولیاء کرام’ پوری انسانیت‘ تمام مخلوق شفاعت مصطفیﷺ کی منتظر ہو گی کہ میدان حشر میں انتظار کی یہ کٹھن گھڑی تمام ہو لیکن وہ ہستیاں بھی کیا خوب تھیں جنہوں نے آپﷺ کو بھی حوصلہ دینے کی سعادت حاصل کی۔ نزول وحی کے بعد آپﷺ غار حرا سے گھر تشریف لائے تو پورے بدن پر کپکپی طاری تھی۔ حریم ناز سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا‘ مجھے کمبل اوڑھا دو۔ یہ حالت دیکھ کر ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آپﷺ کو حوصلہ دلایا۔ گھبرائیں نہیں‘ اللہ تعالیٰ آپﷺ کو ضائع نہیں کرے گا۔
اسی طرح کا ایک موقع اور بھی آیا۔ عریش بدر میں آقائے نامدارﷺ نے اللہ کے حضور دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے ہوئے ہیں: 
رسول(ﷺ) کی تکذیب پر تل گئے ہیں۔ اللہ! آج وہ مدد آجائے جس کا تو نے وعدہ فرمایا تھا۔ بارِالھا! اگر آج تیرے یہ نام لیوا مٹ گئے تو قیامت تک تیرا نام لینے والا کوئی نہ ہو گا۔ ‘‘
آہ و زاری میں دوش مبارک سے چادر بار بار سرک رہی تھی جسے سیدنا صدیق اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ سنبھالتے۔ حضورﷺ کی یہ کیفیت دیکھ کر وہ خود بھی رقت میں ڈوب گئے اور عرض کیا: 
’’یارسول اللہﷺ! اب بس کیجئے۔ اللہ تعالیٰ اپناوعدہ ضرور پورا کرے گا۔ ‘‘
یہ سن کر حضورﷺ خوشی کی حالت میں عریش بدر سے یہ آیت پڑھتے ہوئے باہر تشریف لائے :
33333333
یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہماری اتنی جمعیت ہے کہ ضرور غالب رہے گی مگر عنقریب یہ جمعیت شکست کھائے گی اور پیٹھ پھیر کر بھاگے گی۔ (سورۃ القمر آیات 45‘ 46)
آقائے نامدارﷺ کی ڈھارس بندھاے کا یہ منفرد اعزاز یا تو رفیقہ حیات سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حصے میں آیا‘ یا پھر رفیق غار سیدنا صدیق اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ملا۔
فہم قرآن
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ چشم بصیرت اور فراست کی نگاہ سے قرآنی اشاروں میں پنہاں حقیقت کا مشاہدہ کرتے اور اس کی شہادت دیتے۔ حضورﷺ 33333333بن خلف سے شرط لگا دی کہ رومی چند سالوں میں ایرانیوں پر غالب ہوں گے اور مسلمان مشرکین مکہ پر فتح حاصل کریں گے حالانکہ اسی وقت یہ دونوں امر محال نظر آتے تھے۔ غزوۂ بدر میں مسلمانوں کی فتح کے ساتھ ہی ایرانیوں پر اہل روم کے غلبہ کی اطلاع ملی تو حضرت ابو بکر صدیقرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شرط کے سو اونٹ ابی بن خلف کے ورثاء سے وصول کئے اور اللہ کی راہ میں صدقہ کر دیئے۔ 
صلح حدیبیہ کے موقع پر حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ جیسے جری اور صاحبِ خرد صحابہ پریشان تھے لیکن حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قلب اس قدر مطمئن تھا کہ بیعت رضوان کرنے والے صحابہ کو حوصلے بانٹ رہا تھا حتیٰ کہ سورۂ فتح میں مسلمانوں کے غلبہ کی نوید کی اطلاع سے اس کی تصدیق ہوگئی۔ دوسری طرف 3333 کی خوشخبری پر صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین باہم مبارک دے رہے تھے لیکن صاحب مشاہدہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسے آقائے نامدارﷺ کی دنیا سے روانگی کی خبر سمجھتے ہوئے رنج و الم میں ڈوبے الگ بیٹھے تھے۔ 
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شخصیت کے اس پہلو کو بیان کرتے ہوئے حضرت جی ؒ اکثر فرمایا کرتے:
’’محدثین لکھتے ہیں: اَصَحُّ الْکُتُبِ بَعْدَ کِتَابِ اللّٰہِ اَلبُخَارِی یعنی کتاب اللہ کے بعد صحیح ترین کتاب بخاری شریف ہے۔ اس کی کتابُ التفسیر میں سورۃ النصر کے بارے میں آتا ہے۔
(جب اللہ کی مدد اور فتح آئے اور آپﷺ دیکھیں لوگوں کو اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہوتے ہوئے تو اپنے رب کی تسبیح بیان کریں اورشکر گزار ہوں اور اس سے بخشش طلب کریں‘ بے شک وہ توبہ قبول کرنے والا ہے۔ )
جس وقت نبی کریمﷺ نے یہ سورۃ پڑھی تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ زاروقطار رونے لگے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم نے کہا‘ نبی کریمﷺ تو فتح کی خوشخبری سناتے ہیں‘ دیکھو انہوں نے رونا شروع کر دیا۔ بعد میں وہ سمجھے کہ ہم سب سے زیادہ جاننے والے ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں:
اَعْلَمُنَا اَبُوبَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالیٰ عَنْہُ ‘‘
یہ فہم وفراست اور منشائے باری تعالیٰ کی سمجھ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خاصہ تھا جس کا صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی جماعت نے اکثر اعتراف کیا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین اس بات پر فرحاں تھے کہ فتح کی خوش خبری مل گئی اور اب اللہ تعالیٰ کے دین میں لوگوں کے فوج در فوج داخل ہونے کا وقت ہے لیکن سیدنا صدیق اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سورۃ کو آقائے نامدارﷺ کی روانگی کی خبر سمجھا کہ کارِ نبوت کی تکمیل کے بعد حبیب کبریاﷺ کا اس دار فانی میں کیا کام! 
جلد ہی وہ کٹھن لمحہ بھی آ گیا‘ حضورﷺ کے داغ مفارقت سے صحابہ کرام میں کہرام مچا ہوا تھا اور حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تلوار نکال رکھی تھی اور کہہ رہے تھے:
’’جس شخص نے کہا کہ آپﷺ کی وفات ہو گئی ہے میں اس کی گردن اڑا دوں گا۔‘
اس موقع پر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خطبہ دیا اور قرآن کی آیت 3333 تلاوت کی تو حقیقت حال سمجھ میں آئی کہ گویا یہ آیت اسی موقع کے لئے نازل ہوئی ہو۔
خلیفۃ رسول اللہﷺ
آقائے نامدارﷺ کے عالم آب و گل سے عالم برزخ میں تشریف لے جانے کے بعد انصار و مہاجرین جن مشکل حالات سے دوچار ہوئے‘ ان کے بارے میں وہ سوچ سکتے تھے نہ ذہنی طور پر تیار تھے۔ اس گومگو کی کیفیت اور غیریقینی صورتحال میں صرف حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہی شخصیت تھی جس پر اتفاق رائے ممکن تھا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیعت سے وہ گرد چھٹ گئی جو ایک بہت بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہو سکتی تھی۔
ثقیفہ بنی سعد میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیعت پر اتفاق رائے کی بنیاد یہ بنی کہ حضورﷺ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نمازوں کی امامت کا حکم دیا تھا اور یہ کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضورﷺ کے رفیق غار تھے۔ اگرچہ یہ سیاسی پہلو بھی زیر بحث آیا کہ عرب قریش کے سوا کسی کی امارت نہیں مانیں گے لیکن حضرت بشیربن سعدرضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خطاب کے بعد کہ انصار کی خدمات صرف رضائے الٰہی کے لئے تھیں‘ انصار و مہاجرین یا قریش اور غیر قریش کی بات نہ رہی۔ حضرت بشیر بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیعت کے ساتھ ہی انصار کی بیعت کا آغاز ہو گیا۔ انصار کی بیعت کے بعد حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مہاجرین کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: 
’’اللہ تعالیٰ نے تمہارا امیر اس شخص کو بنایا جو تم میں سے سبسے بہتر ہے۔ اللہ کے رسولﷺ کا مقرب ہے اور یہی وہ شخص ہے جسے غارِ ثور میں آنحضرتﷺ کی رفاقت نصیب ہوئی۔ اس کے حلقہ بیعت میں شامل ہوجاؤ۔‘‘
حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کایہ مختصر خطاب سننے کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم بیعت کے لئے اس طرح دیوانہ وار بڑھے کہ ایک دوسرے پر گرے پڑتے تھے۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفۃ رسول اللہﷺ تھے جو صرف اور صرف آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہی کا اعزاز ہے۔ باقی تینوں خلفائے راشدین کو امیر المومنین کہا جاتا ہے لیکن حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت محمد رسو ل اللہﷺ کے خلیفہ تھے جو کسی غیر نبی کے لئے سب سے بڑا مقام ہے اور پوری انسانیت میں وہ صرف ایک ہی ہیں‘ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ! 
آقائے نامدارﷺ نے خود آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس عالی مقام پر متعین فرمایا۔ آخری ایام میں شدت مرض کے باعث حضورﷺ باہر تشریف نہ لا سکے توحضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سترہ نمازوں کی امامت کرائی۔ اس دوران ایک مرتبہ آقائے نامدارﷺ دو اصحاب رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے سہارے مسجد میں تشریف لائے اور دوران امامت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے برابر کھڑے ہوگئے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیچھے ہٹنے لگے تو آپﷺ نے اشارے سے منع فرمایا۔ ادائیگی نماز کی صورت یہ تھی کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ امام الانبیاءﷺ کی اقتدا کررہے تھے اور تمام مقتدی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کیاقتدا کر رہے تھے۔ گویا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو عملاً خلیفۃ رسول اللہﷺ نامزد فرما دیا گیا تھا۔ آپﷺ کا ارشاد ہے:
لَایَنْبَغِیْ لِقَوْمٍ فِیْھِمْ اَبُوْبَکْرٍ اَنْ یَّؤُمَّھُمْ غَیْرُہٗاَوْ کَمَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ (ترمذی)
جس قوم میں ابوبکر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) ہوں‘ اس کے لئے مناسب نہیں کہ ان کے علاوہ کوئی اور شخص امامت کرے۔
حضورﷺ نے 9ہجری میں300بزرگ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم پر مشتمل ایک قافلۂ حج روانہ فرمایا جس پر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو امیر حج مقرر فرمایا۔صلح حدیبیہ کا معاہدہ لکھا گیا تو حضور اقدسﷺ کے دستخط مبارک کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دستخط کئے۔ ایک مرتبہ آپﷺ کی خدمت میں ایک عورت آئی تو آپﷺ نے فرمایا‘ پھر آنا۔ اس نے پوچھا اگر میں آؤں اور آپﷺ کو نہ پاؤں تو کیا کروں؟ فرمایا: اِنْ لَّمْ تَجِدِیْنِیْ فَأتِیْ اَبَا بَکْرٍ اَوْ کَمَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ(اگر تو آئے اور مجھے نہ پائے تو ابوبکر کے پاس آ) (متفق علیہ)۔
ایسے متعدد واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور اقدسﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اشارتاً‘ قولاً اور عملاً اپنے خلیفہ کے طور پر تعیین فرما دی تھی۔ نہ صر ف صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی مقدس جماعت‘ بلکہ کفار بھی اس حقیقت سے بخوبی آشنا تھے۔
غزوۂ احد میں لشکر اسلام کو میدان خالی کرنا پڑا تو ابوسفیان نے قریبی پہاڑی پر کھڑے ہو کر آواز دی ’’مسلمانوں! کیا تم میں محمدﷺ ہیں‘‘ آپﷺ نے جواب دینے سے روک دیا تو اس نے حضرت ابوبکررضی اللہ تعالیٰ عنہ اورررضی اللہ تعالیٰ عنہ کا نام لے کر پکارا‘ گویا کفار بھی خوب جانتے تھے کہ حضورﷺ کے بعد ترتیب کیا ہو گی۔
آقائے نامدارﷺ دار دنیا سے دارآخرت میں تشریف فرما ہوئے تو حضرت ابوبکر صدیقرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیعت خلافت لینے کے بعد ارشاد فرمایا:
وَاللّٰہٖ مٰاکُنْتُ حَرِیْصًا عَلَی الْاِمَارَۃِ یَوْمًاوَّلَا لَیْلَۃً قَطُّ وَلَاکُنْتُ فِیْھَا رَاغِبَاً وَلَاسَءَلْتُھَا اللّٰہَ قَطُّ فِی سِرٍّ وَّعَلَانِیَۃٍ وَمٰالِی فِی اْلِامَارَۃِ مِنْ رَاحَۃٍ
قسم ہے اللہ تعالیٰ کی! میں نے کبھی ایک دن یا ایک رات بھی امارت کی خواہش نہیں کی‘ نہ ہی میں اس کے لئے اپنے اندر کوئی رغبت رکھتا تھا اور نہ ہی میں نے کبھی خفیہ یا اعلانیہ اسے اللہ تعالیٰ سے مانگا اور نہ ہی امارت میرے لئے کوئی سامان راحت ہے۔
پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:
اَطِیْعُوْنِی مَا اَطَعْتُ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ فَاِنْ عَصَیْتُ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ فلَاَطَاعَۃَ لِیْ عَلَیْکُمْ
میری اطاعت کرو جب تک میں اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کرتا ہوں لیکن اگر میں اللہ اور اس کے رسولﷺ کی نافرمانی کروں تو میری کوئی اطاعت تم پر نہیں ہے۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بعد حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ منبر رسولﷺ پر بیٹھے تو حاضرین میں سے کسی نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلیفۃ الرسولﷺ کہہ دیا۔ فرمایا: خلیفۃ الرسولﷺ صرف حضرتصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔ حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے لئے امیر المومنین کہنے کی اجازت دی۔
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے وصال کی اطلاع ملی تو فرمایا:
’’اَلْیَوْمَ انْقَابوطَعَتْ خِلَافَۃُ النُّبُوَّۃِ‘‘ آج خلافت نبوت کا انقطاع ہو گیا۔ ‘‘
ایک مرتبہ حضرت حسن بصریؒ سے سوال کیا گیا کہ کیا حضورﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلافت کے لئے نامزد کیا تھا تو انہوں نے فرمایا:
’’واللہ! حضورﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنا خلیفہ مقرر کر دیا تھا ورنہ وہ اس درجہ کے متقی اور اللہ کے جاننے والے تھے کہ اگر ان کو حکم نہ ہوتا تو ہر گز مسلمانوں پر چھلانگ نہ لگاتے‘‘ یعنی فوراً خلیفہ نہ بن جاتے۔
حضرت جیؒ نے ایک مرتبہ فضیلت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے موضوع پر خصوصی خطاب فرمایا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت کا پہلو بیان کرتے ہوئے فرمایا:
’’حضورﷺ نے حضرت صدیق اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ کو عملاً خلیفہ مقرر فرما دیا۔ نماز کے تابع زکوٰۃ ہے اور حج کے تابع جہاد ہے۔ آپﷺ نے نماز میں حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خلیفہ بنایا اور حج میں خلیفہ بنا کر بھیجا تاکہ دنیا دیکھ لے۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے دیکھا‘ زمین
کی مخلوق نے دیکھا‘ آسمانوں کی مخلوق نے دیکھا۔ شاہ ولی اللہؒ نے قرۃ العین فی فضیلۃ الشیخین میں بیان کیا کہ حضورﷺ نے زبان سے‘ قولاً امت کو کہہ دیا کہ میرے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا‘ اپنے باپ اور بھائی کو بلاؤ کہ میں ان کو خلافت لکھ دوں۔
عَنْ عَاءِشَۃَ قَالَتْ: قَالَ لِی رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ فِیْ مَرَضِہٖ اُدعِیْ لِیْ اَبَابَکْرٍ اَبَاکِ وَاَخَاکِ حَتّٰی أَکْتُبَ کِتَابًا فَاِنِّی اَخَافُ اَنْ یَّتَمَنّٰی مُتَمَنٍّ وَیَقُوْلَ قَاءِلٌ اَنَا اَوْلٰی وَیَابَی اللّٰہُ وَالْمُوْمِنُونَ اِلَّا اَبَا بَکْرٍ۔ اَوْ کَمَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ(رواہ مسلم)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہھا سے روایت ہے کہ مجھ سے رسول اللہﷺ نے اپنی بیماری میں فرمایا کہ اپہنے والد ابوبکر(رضی اللہ تعالیٰ عنہ) اور اپنے بھائی کو بلا لو تاکہ میں ایک تحریر لکھ دوں کیونکہ مجھے ڈر ہے کہ کوئی تمنا کرنے والا تمنا کرے اور کہنے والا کہے‘ میں زیادہ بہتر ہوں حالانکہ اللہ اور مومنوں کے نزدیک ابوبکر(رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کے سوا کوئی دوسرا بہتر نہیں ۔‘‘
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے 2 سال 3ماہ10دن کے مختصر دورِ خلافت میں سلطنت اسلامیہ کو استحکام ملا۔ نوزائدہ سلطنت کے خلاف ہونے والی بغاوتوں اور سازشوں کی نہ صرف سرکوبی ہوئی بلکہ سلطنت کی حدودمیں بلادِ عراق‘ شام اور ایران کا اضافہ ہوا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے انتہائی مختصر دورِ خلافت میں اس قدر مہمات سر ہوئیں جس کی نظیر نہیں ملتی۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت کا پہلا خطبہ مختصر ترین ہوتے ہوئے جامع ترین تھا۔ اس خطبہ میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ ارشاد ملت اسلامیہ کے حسب حال اور آج کے ابتر حالات کی اصلاح کا حل تجویز کرتا ہے: 
لَا یَدَعُ قَوْمٌ الْجِہَادَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اِلَّاضَرَبَھُمُ اللّٰہُ بِالذُّلِ وَّلَاَیُشِیْعُ قَومٌ قَطَّ الْفَاحِشَۃَ اِلَّاعَمَّمَھُمُ اللّٰہُ بِالْبَلَاَءِ 
’’جو قوم جہاد چھوڑ دیتی ہے اللہ اس پر ذلت مسلط کر دیتا ہے اور جس قوم میں فحاشی پھیل جاتی ہے اللہ اس کو مصائب میں گرفتار کر دیتا ہے۔‘‘

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

علمی وفکری اختلاف آپ کا حق ہے۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔