Jul 21, 2014

علم غیب‘ کشف اور کفر کے فتوے: ازفادات: بحر العلوم حضرت مولانا اللہ یار خان رحمہ اللہ

0 comments

علم غیب‘ کشف اور کفر کے فتوے
صوفیائے کرام اور اولیاء اللہ کو ذکر الٰہی ‘ مجاہدہ اورریاقت کے ثمرہ کے طورپر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مکاشفہ اور مشاہدہ کی جو نعمت عطا ہوتی ہے تاریخ تصوف اس سے بھری پڑی ہے مگر کچھ لوگ جنہیں ان مقدس ہستیوں سے خدا واسطے کا بیر ہے ان کے اس وصف کا انکار کرنے کے لیے راہیں نکال لیتے ہیں۔ ان کی اس کوشش کی ایک صورت یہ سوال ہے کہ قرآن کریم نے علم غیب کی مخلوق سے نفی کی ہے۔ صرف رسولوں پر اظہار فرمایا ہے۔ اوررسولوں کے بغیر کسی کو اس کلمے سے مستثنیٰ نہیں فرمایا۔ کما قال اللہ تعالی۔ فلا یظھر علی غیبہ احداً الا من ارتضی من رسول النح اور کشف قبور ہونا علم غیب ہی تو ہے اور کشف قبور کا دعویٰ کرنا علم غیب کا دعویٰ کرنا ہے اور یہ کفر ہے یعنی کشف ہی شرک ہے۔
اس سوال کا جواب تفصیل طلب ہے۔ اس لئے ہم اس کی وضاحت کرتے ہیں۔
تعریف علم غیب:
لا یعرف بالحواس ولا یداھۃ العقل یعنی علم غیب سے مراد وہ علم ہے جو حواس ظاہری و باطنی اور عقل سے حاصل نہ ہو بلکہ باخبار اللہ یا باعلام اللہ یا باخبار الرسول حاصل ہو۔ جو علم حواس یا عقل سے حاصل ہو گیا وہ غیب نہ رہا۔
آیت کا مفہوم: اس میں علم یقینی قطعی کی نفی ہے جو انبیاء کو علم بذریعہ وحی وغیرہ دیا جاتا ہے علم ظنی کی نفی نہیں ہے اورعلم قطعی استقلالی کی نفی ہے غیر استقلالی کی نفی نہیں۔ اس علم کی نفی ہے جس سے کلیات و جزئیات کا احاطہ ہو جائے جزوی واقعات کی نفی نہیں ہے۔ اس لئے اگر کوئی شخص استقلالی‘ قطعی یقینی علم کا مدعی ہو تو وہ کافر ہے۔ یعنی ایسا شخص علم ذاتی کا قائل ہے کسی ذریعہ‘ واستہ اوروسیلہ کا قائل نہیں ہے مگر جو شخص اس بات کا بھی منکر ہو کہ جزوی واقعات کا علم کسی واسطہ سے بھی حاصل نہیں ہو سکتا تو اسے اپنے متعلق خود سوچنا چاہئے کہ وہ کیا ہے؟ مثلاً حضرت خضر اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ملاقات کا ذکر قرآن مجید میں تفصیل سے موجود ہے یہ جزوی واقعات حضرت خضر پر منکشف ہوئے مگر حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نہ ہوئے تو کیا اس کے انکشاف کو علم غیب کہیں گے؟
علامہ شامی نے رسالہ ’’الحسام الھندی لنصرۃ مولانا خالد نقشبندی‘‘ ۳۱۳۱۲ پر ان دو آیتوں پر بحث کی ہے۔
اول:فلا یظھر غیبۃ احدا ۔۔۔۔۔۔ الخ
دوم: وعندہ مفاتیح الغیب ۔۔ ۔ ۔الخ
فرماتے ہیں:
’’یہ دو آیتیں جو سوال میں مذکور ہیں منافی نہیں۔ کیونکہ انبیاء اور اولیاء کو علم ہوتا ہے یہ باعلام اللہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ انہیں مطلع فرماتا ہے اور ہمیں اس امر کا علم انبیاء اور اولیاء کے بتانے سے ہوا۔ یہ علم باری تعالیٰ کے علم کے سوا ہے جس میں ذات باری منفرد ہے۔ علم باری اس کی صفات سے ایک صفت ہے جو قدیم ہے ازلی ہے ابدی ہے جو تغیر و تبدل‘ حدوث‘ نقص‘ مشارکت اور تقسیم سے پاک ہے۔ بلکہ وہ علم واحد ذاتی ہے اس ایک علم سے تمام معلومات کلیات و جزئیات ماکان و ما یکون کو جانتا ہے جو نہ ضروری ہے نہ کسبی ہے نہ حادث ہے بخلاف علم تمام مخلوقات کے۔ جب یہ مقرر ہو گیا تو علم باری تعالیٰ جسکا ذکر ہوا جس علم سے باری تعالیٰ کی مدح کی جاتی ہے اس علم میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ یہ علم غیب ہے جس پر وہ کسی کو مطلع نہیں کرتا۔ اس علم قدیم ذاتی کے بغیر جزوی واقعات کے علم جو انبیاء اوراولیاء کو ہو جاتا ہے وہ خود اللہ تعالیٰ کے اطلاع دینے سے ہوتا ہے اس لیے یہ حقیقت واضح ہو گئی ہے کہ اس علم پر غیب کا اطلاق نہیں ہوتا۔ انبیاء اوراولیاء قدرت نہیں رکھتے کہ استقلالی علم پر قادر ہوں پھر جو علمانبیاء اوراولیاء کو دیا گیا اس سے کوئی محال لازم نہیں آتا۔ اس جزوی علم کا انکار کرنا محض عناد اور ضد کی وجہ سے ہے۔ اس جزوی علم سے علم باری میں شرکت لازم نہیں آتی ہے۔ جس علم میں وہ منفرد ہے جس علم سے اس کی مدح کی جاتی ہے۔ جس علم سے وہ ازل سے متصف ہواہے۔
علم غیب
اس بیان سے واضح ہو گیا کہ علم غیب کی تعریفک یا ہے اور اس کا اطلاق کس علم پر ہوتا ہے۔
امام رازی نے یہی حقیقت یوں بیان فرمائی ہے۔ تفسیر کبیر: جلد۶ صفحہ ۶
’’خوب جان لو کہ اللہ تعالیٰ لذاتہ عالم ہے تمام معلومات کا عالم ہے تمام اوقات میں عالم ہے۔ علم واحد سے تمام معلومات کو جانتا ہے یہ علم متغیر نہیں ہوتا یہ علم ذات باری کو لازم ہے۔ علم باری تعالیٰ خدوث و امکان سے پاک ہے۔ انسان بلکہ تمام ذی عقل مخلوق رب العٰلمین کے علم میں شریک نہیں سوائے اس کے نفس علم یا مطلق علم میں بھی صرف اسم علم میں اشتراک ہے۔ پھر یہ مطلق علم بھی باری تعالیٰ اور مخلوق میں نصف نصف ہے۔‘‘
امام رازی کی اس مثال سے تفصیل یوں سمجھئے کہ علم کے کل چھ حصے لیجئے۔ پانچ حصے علم باری تعالیٰ ہے چھٹے حصے میں پھر نصف کے برابر گویا باری تعالیٰ کا علم ہے اور نصف باقی پوری کائنات میں تقسیم کرو۔ مخلوق کوریت کے ذرے کے برابر بھی شاید نہ بنے‘ پھر وہ ذرا بھر علم جو مخلوق کو عطا ہوا اس کی حقیقت یہ ہے کہ مخلوق کا علم۔
(۱) ذاتی نہیں اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ہے۔
(۲) مخلوق اس علم پر خود قادر نہیں۔
(۳) یہ علم حادث ہے خواہ حصولی ہو یا حضوری۔
(۴) اس علم میں تغیر و تبدل ہوتا ہے۔
(۵) یہ علم کسی واسطہ یا ذریعہ سے حاصل ہوتا ہے مثلاً وحی‘ کشف‘ الہام‘ خواب‘ تجربہ وغیرہ
(۶) مخلوق ایک علم سے تمام کائنات کو نہیں جانتی اور ہر وقت نہیں جانتی۔
اس کے برعکس خالق کی علم کی خصوصیات یہ ہیں کہ:
(۱) علم باری تعالیٰ لذاتہ ہے کسی کا عطا کردہ نہیں۔
(۲) حضوری قدیم ہے حصولی نہیں جیسا کہ اس کی ذات قدیم ہے۔
(۳) باری تعالیٰ اس علم پر خود قادر ہے۔ مخلوق میں صفت قدرت مفقود ہے وہ محتاج ہے۔
(۵) باری تعالیٰ ایک علم سے تمام معلومات کا عالم ہے۔
(۶) باری تعالیٰ تمام اوقات میں تمام معلومات کا علم رکھتا ہے۔
خالق اورمخلوق کے علم کی ان خصوصیات کو سامنے رکھیں اور سوچیں کیا کوئی ذی ہوش انسان یہ کہہ سکتا ہے کہ مخلوق اپنے خالق کے علم میں شریک ہے اور اگر کوئی کہہ دے تو اس کے کفر میں شک کی گنجائش کہاں باقی رہ جاتی ہے۔
علمائے ظواہر کا مذہب اور عقیدہ واضح طور پر سامنے آ گیا۔ اب صوفیاء کرام کی تحقیق ملاحظہ ہو۔
مذکورہ بلالا بیان سے ظاہر ہے کہ ذات باری کی طرف علم حصول کی نسبت کرنا کفر ہے اس طرح علم حضوری حادثات کی نسبت کرنا بھی کٹر ہے۔ رہا علم حضوری قدیم تو صوفیہ کے نزدیک یہ بھی درجہ اتحاد و عینیت میں ساقط ہے۔ حضوری قدیم بھی متین کو چاہتا ہے اور عینیت و اتحاد ذاتی اس کے منافی ہے اس کی ذات قدیم‘ اس کا علم قدیم اور عین ذات باری ہے تو پھر درجہ حضور بھی ساقط ہوا۔
کلام روح
کشف قبور یا کلام بالروح علم کا واسطہ یا ذریعہ ہے۔ جیسے الہام و القاء ان واسطوں سے جو علم حاصل ہوا وہ پہلے نہ تھا اس لیے کشف قبور سے جو علم حاصل ہوا وہ حادث بھی ہوا اور حصولی بھی اور اوصاف باری تعالیٰ میں اتحاد و عینیت یہ ہے تو شراکت کیسے لازم آئی اور شرک کا فتویٰ کہاں سے ٹپک پڑا۔
اشتراک ہے تو صرف لفظی اور نام میں نہ کہ ماہیت اور ذات میں اس لئے کشف قبور یا کلام بالروح کو شرک قرار دینا محض جہالت اور نری حماقت ہے۔ یہ ہمارے حال کے ماہرین شغل تکفیر ایک اور پینترا بدلتے ہیں کہ روح سے اخذ فیض تو استہداد بغیر اللہ شرک ہے۔ لہٰذا روح سے اخذ فیض بھی شرک ہے۔
حقیقت میں یہ بات کہنا بھی صرف جہالت کا فیض ہے ورنہ بات تو صاف ہے کہ روح زندہ ہے اس کے لئے نہ موت ہے نہ فنا۔ ہاں مشرکین عرب کا عقیدہ یہی تھا کہ بدن کی موت سے روح پر بھی موت آ جاتی ہے اور اگر کوئی توحیدی یہ عقیدہ اپنا لے تو اسے کون روک سکتا ہے۔ البتہ قرآن حکیم نے اس کی تردید فرما دی اورفرمایا کہ موت خود عدمی چیز نہیں اور روح ہمیشہ زندہ رہتی ہے جب روح زندہ ہے تو وہ تمام کمالات جن سے وہ متصف تھا بدن کی موت سے روح سے کیوں چھن گئے۔ اس حقیقت سے قرآن کریم بھرا پڑا ہے کہ بدن کی موت سے روح کے کمالات زائل نہیں ہو جاتے۔ اس لئے روح سے اخذ فیض‘ زندہ سے اخذ فیض ہے۔ اگر یہ شرک ہے تو کیا علماء کے پاس کر تعلیم حاصل کرنا شرک قرار پایا اور یہ تمام دارالعلوم شرک کے مراکز ٹھہرے اور تمام علماء مشرک قرار پائے بلکہ یہ شرک کا فتویٰ دینے والے پہلے خود برسوں شرک میں مبتلا رہ کر جب سند لے کر نکلے تو دوسروں کو مشرک کہنے کا مشغلہ اختیار کر لیا۔ ان حضرات کو کون بتائے کہ روح سے اخذ فیض اہلسنت والجماعت کا اجتماعی عقیدہ ہے اور روح ہی حصول علم باطنی کا سبب ہے جو علم ماتحت اسباب ہو اسے شرک وہی کہے گا جو توحید کی حقیقت سے آشنا تک نہ ہو۔
موسیٰ عالم برزخ میں تھےحضور اکرمﷺ کو انہوں نے مشورہ دیا اور پانچ نمازیں فرض ہوئیں۔ یہی فیض ہے۔ اس کو شرک وہی کہے جو ’’پکا توحیدی‘‘ ہو سیدھا سادا مسلمان کہاں یہ جرأت کر سکتا ہے۔
ایسی باتیں کہنا دراصل ایک چھپے ہوئے مرض کی علامات سے ہے جسے حسد کہتے ہیں اسی مرض نے مشرکین کو انبیاء کرام سے اخذ فیض سے محروم رکھا علامہ شامی نے فرمایا:
’’حسد کے مرض نے کفار و مشرکین کوانبیاء کے معجزات کے انکار پر ابھارا حتیٰ کہ کفار نے حضرات انبیاء کو ساحر‘ مجنون‘ شاعراور کاہن تک کہا اور یہ کہ خدا پر جھوٹ باندھتے ہیں اورکس طرح ان فتویٰ بازوں کے لیے جائز ہے کہ موحدین پر فتویٰ کفر لگائیں جس کی بناء محض فاسق فاجر لوگوں کی خبروں پر یا حسد پر ہو‘ تو یہ حسد ان کے دین کو بگاڑ دے گا بلکہ ایمان کو فاسد کر دے گا جیسے ایلوا شہد کو بگاڑ کے رکھ دیتا ہے۔
ان فتویٰ بازوں نے اس جوان پر حسد کیا جب اس کی عظمت نہ پہنچ سکے۔ یہ سب اس جوان کے دشمن اور جھگڑالو ہیں۔ جیسے کسی حسینہ جمیلہ کو اس کی سوکنیں حسد کی بناء پر کہتی ہیں کہ یہ پست قامت ہے یہ فتویٰ باز اپنی پھونکوں سے نور خدا کو بجھانا چاہتے ہیں مگر اللہ اس کی تکمیل کا ارادہ کر چکا ہے۔
اس امر میں شک نہیں کہ ہمیشہ اہل کمال سے ہی حسد کیا جاتا ہے اور ان فضائل کو صرف رزیل انسان ہی نہیں مانتا‘‘۔
پھر اسی کتاب میں فرمایا:
کشف
’’اور کشف و کرامات کا انکار ان جاہلوں سے کوئی تعجب کی بات نہیں۔ ان نفس پرستوں نے ان چیزوں کو اپنے اندر موجود پایا نہ اپنے گمراہ کنندہ اساتذہ سے سنا وہ استاد جو اپنے طور پر سمجھتے ہیں کہ ہم بھی کچھ ہیں۔ باوجود عبادت میں کوشش کرنے کے وہ صاحب کرامات اولیاء اللہ کے چمڑے کاٹنے لگے اور ان کا گوشت کھانے لگے۔‘‘
یعنی ان فتویٰ بازوں کی حقیقت یہ ہے کہ اپنی کوتاہ فکری اور بے عملی کی وجہ سے ’’انگور کھٹے‘‘ کہہ کر اہل حق پر طعنہ زنی کرنے لگتے ہیں اور کفرو شرک کیرٹ لگانے لگتے ہیں کیونکہ ان کے دل و دماغ میں یہی کچھ بھرا ہے لطف یہ ہے کہ جو آدمی لا الٰہ اللہ پڑھتا ہے‘ نماز کا پابند ہے‘ روزہ رکھتا ہے۔ انبیاء‘ ملائکہ‘ قیامت‘ عذاب و ثواب‘ حساب‘ میزان‘ جنت‘ دوزخ پر ایمان رکھتا ہے۔ ذکر الٰہی میں مشغول ہے ضروریات دین کا قائل ہے اسے تو یہ لوگ کافر اور مشرک
ذوقی دلیل کے سلسلے میں یہ بات واضح کر دینا ضروری ہے کہ کشف و الہام ولی۔ مظہر احکام ہے مثبت احکام نہیں یعنی شریعت کے احکام وہی ہیں جو قرآن و سنت سے ظاہر ہیں کوئی نیا حکم وضع نہیں ہو گا۔ ہاں احکام کے اسرار و رموز اس سے ظاہر ہو جاتے ہیں زرتانی چھٹی جلد میں اس کی حیثیت پر تفصیلی بحث کی گئی ہے جس کا ماحصل یہی ہے کہ کشف و الہام مثبت احکام نہیں۔ لہٰذا شریعت کے احکام وہی ہیں اور عمل انہی پر ہو گا جو قرآن و سنت سے ثابت ہوں۔ حضور اکرمﷺ کی روح پرفتوح سے جو بات معلوم ہو اس سے شریعت کے احکام نہیں بدلیں گے۔
اسی طرحا گر کوئی شخص کشفی طور پر حضور اکرمﷺ کی زیارت کرتے ہیں وہ صحابی نہیں بن جاتا۔ کیونکہ صحابیت کیلئے جانبین کا مکلف ہونا۔ دنیا میں موجود ہونا اور دیکھنے والے کا باایمان ہونا شرط ہے۔ بلکہ یہاں تک لکھا ہے کہ اگر نبی کریمﷺ کو دنیا سے انتقال کے بعد بھی کسی شخص نے دیکھ لیا تو وہ صحابی نہیں بن سکے گا۔
فرمایا: جس طرح علوم ظاہریہ پیغمبرﷺ سے ہمیں تواتر پہنچتے ہیں اسی طرح علوم باطنیہ بھی تواتر سے ملے ہیں۔ کسی شخص نے حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کو لکھا تھا کہ یہ تصوف جو آپ پیش کرتے ہیں اس کا کیا ثبوت ہے تو آپ نے اس کے جواب میں لکھا
قاصر گر کن پر ایں طائفہ طعن قطور
حاشا للہ کہ برآرم بزبان ایں گلہ را
ہمہ شیران جہاں بستہ ایں سلسلہ اند
او بہ از حیلہ چناں بگسلد ایں سلسلہ را
قال قالت لیس الغرض من تلک الکتب اکتساب تلک العلوم ولا یحصل بمطالعۃ تلک الکتب شیء من القرب والولایۃ بل الغرض منھا ۔۔۔۔۔۔ العارفین المحصلین تلک العلوم بالحذب والسلوک علی بعض تفاصلیما
کشف ایک کیفی چیز ہے جس کو خدا تعالیٰ عنایت فرمائے (وہی اسے سمجھ سکتا ہے)۔ حضرت مولانا عبد الحئ لکھنویؒ فی رد المذحب الماثور بالسعی المشکور ص نمبر ۴۲۸ پر فرماتے ہیں اس قسم کے مسائل کے علم سے علماء غور ہر مراحل دور ہیں۔
قال رسول اللہ ﷺ واسلک حبک وجب من یجیک۔۔۔۔۔۔ (شرح) وقدور وفی السنۃ‘ ذکر الاسباب التی یتسبب بھا العباد الی صحبۃ اللہ سبحانہ ومثالہ حب من یحبہ فانہ لا یحب اللہ عنی وجل الالمخلص من عبادہ نجبھم طاعۃ من الطاعات وقربۃ من القربات۔۔۔۔۔۔ (تحفۃ الذاکرین ص ۳۳۱)
اور اولیاء اللہ کی ہم نشینی (کی برکات) تو ظاہر ہیں لا یسقی جلیسھم ؂
احب الصالحین ولست منھم
لعل اللہ یرزقنی صلاحا
لوگ کہتے ہیں کشف کا ثبوت کیا ہے یہ تو بدعت ہے۔ بھئی ان سے پوچھو جس چیز کا ثبوت بالسنۃ وجود ہو اسے کیا کہیں گے معراج کے واقعہ پر غور کرو۔ حضور اکرمﷺ کو جبریل کیسے نظر آ گئے۔ جیریلک و کیسے پہچانا۔ جبریل کی بات کیسے سنی۔ موسیٰ علیہ السلام کو قبر میں نماز پڑھتے کیسے دیکھا۔ پیغمبروں سے ملاقات کیسے ہوئی۔
ابراہیم سے کلام کیسے ہوئی۔ بیت المقدس میں انبیاء کی امامت کیسے کرائی۔ کیا یہ سب ثابت بالسنۃ نہیں۔ کیا یہ فعل رسول نہیں کیا یہ قول رسول نہیں قول رسول اور فعل رسول کو بدعت کہتے ہیں۔
شعر مرا یہ مدرسہ کہ برد
کشف مثبت احکام نہیں مظہر حقائق ہے
فرمایا: عالم دنیا اور عالم آخرت کے درمیانی عرصہ کو عالم برزخ کہتے ہیں۔ اس عالم میں جو حالت پیش آتی ہے۔ اسے حالت برزخی کہتے ہیں۔ اس میں میت پر دونوں جہانوں کے حالات منکشف ہوتے رہتے ہیں۔
اس کے تصوف پر بات چل نکلی انہوں نے کہا کشف جو ہے یہ الہام ہے میں نے کہا الہام سے تو قرآن بھرا ہوا ہے اس کا انکار غلط ہے کشف پر بات کرو نہ کہا کہ صوفیائے کرام لکھتے ہیں کہ فیض الرجال ہے میں نے کہا ٹھیک ہے مردوں کے جو بچے ہوتے ہیں یعنی صوفی ابتدائی دور میں جو ذکر کرتے ہیں ان کی تربیت کی جاتیہے اور کشف مقصودی چیز نہیں یہ غیر مقصوم ہے جس کی دربار نبوی میں حاضری ہو جائے فنا فی الرسول۔ فنا الرسول کا مطلب ایک مراقبہ ہے جو دربار نبویؐ بغیر اس کے کہ جب تک وہ حاصل نہ ہو ترقی ہوتی ہی نہیں تو آقائے نامدار محمد رسول اللہﷺ کے صحابی جو ہیں حضورﷺ کو حالت ایمان میں جس شخص نے دیکھا ہے وہ صحابی ہے اگر اس نے نہیں دیکھا حضورﷺ نے دیکھ لیا تب بھی صحابی۔ اندھا آدمی ہے زندگی میں ہے حیات میں ہے اگر دنیا میں نبی رخصت ہو چکا کسی نے چہرہ دیکھا ہے تو وہ صحابی نہ بنے گا کیونکہ آپ اب برزخ میں آ چکے قدم آپ کا برزخ میں ہے اس طریقہ سے تعبد رئک کانک تراہ ۔۔۔۔۔۔ یراک اگر عبادت رب کی اس طرح کی کہ اللہ کو دیکھ رہا ہے یہ کشفی حالت ہے اگر آپ نہیں دیکھ سکتے تو اللہ تو دیکھ رہا ہے یہ ہے استغراقی کشف کی صورتیں میں نے ان سے کہا کشف مقصودی چیز نہیں اورنہ ہم اس کو مقصودی چیز سمجھتے ہیں یہ اللہ کا انعام ہے جس پر ہو جائے اور شرعی دلائل جو ہیں یہ بھی صرف چار ہی قسم کے ہیں کتاب اللہ سنت رسول۔ اجماع امت اور قیاس۔ کشف الہام شرعی دلائل میں داخل نہیں ہاں ان سے رموز اور اسرار شریعت حاصل ہوتے ہیں۔
فرق یہ ہے کہ گناہ کی وجہ سے ہم اسے خراب کر دیتے ہیں۔ جس وقت کسی ڈاکٹر یا کسی حکیم کے پاس چال جائے اگر وہ واقعی ڈاکٹر یا حکیم ہو‘ مصنوعی نہ ہو‘ تو طاقت رکھنی‘ میرے رب کے ہاتھ میں ہے۔ یہ شیخ کی طاقت سے باہر ہے یہ ایک ایسی چیز ہے جو منجانب اللہ عطا ہوتی ہے۔ کہ روح کی آنکھ کھول دے کان کھول دے‘ اسی کا اختیار ہے۔ جب آنکھ کھل جائے تو سب ٹھیک ہے ہر وقت دیکھ سکتا ہے۔ اگر گناہ کر بیٹھے‘ حرام غذا کھا جائے بری مجلس میں بیٹھ کر بری باتیں شروع کر دے تو روح کو پھر تکلیف ہو جاتی ہے۔ جس وقت وہ فضلات پورے نکل جائیں جو کہ غذا کی صورت میں پیدا ہوئے تھے۔
دوبارہ استغفار پڑھنے سے‘ ذکر کرنے سے روح سے گرد مٹ جاتی ہے۔ تو وہ روح کی آنکھ سے دوبارہ دیکھنا شروع کر دیتا ہے۔
کشف کا مطلقاً انکار کفر ہے۔ اگر کشف نہ ہوتا تو انبیاء کرام فرشتوں کو کیسے دیکھتے وحی کیسے آتی؟ احکام ربانی کیسے وصول کئے جاتے؟ تبلیغ کس چیز کی فرماتے؟ لوگوں کو کیا سمجھاتے؟ غرضیکہ پورا دین کشفاً حاصل کیا گیا۔
اس دور کی بہت بڑی بیماری یہ ہے کہ معلومات کو علم کا نام دیا جاتا ہے حالانکہ علم کی شان یہ ہے کہ وہ حقیقت شناس بنا دے بہرحال اس وہمی علم کا حال یہ ہے کہ اس میں وسعت یعنی طول و عرض بے پناہ ہے مگر عمیق یعنی گہرائی نام کو بھی نہیں۔ چنانچہ اس ’’علم‘‘ کو ذرا سا کریدیں تو نیچے سے جہالت نمودار ہو جاتی ہے ستم بالائے ستم یہ کہ اس جہالت کو ’’علم‘‘ کہنے بلکہ منوانے پر اصرار بھی ہوتا ہے۔
کتب احادیث میں ’’حدیث جبریل‘‘ کواصول دین کے بیان میں بنیادی حیثیت حاصل ہے جس میں دین کو اسلام‘ ایمان اور احسان سے مرکب بیان فرمایا گیا احسان کی وضاحت یوں بیان کی گئی ہے۔
’’جبریل نے کہا مجھے احسان کے متعلق بتائیے۔ رسول خداﷺ نے فرمایا اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تو اسے دیکھ رہا ہے۔ پس تو اگر اسے نہیں دیکھ رہا تو وہ تجھے دیکھ رہا ہے‘‘۔
انبیاء تین اغراض کے لئے مبعوث ہوتے رہے اول تصیح عقائد‘ دوم تصیح اعمال‘ سوم تصیح اخلاص۔ سو تصیح عقائد کے فن کے کفیل علمائے اصول ہوتے ہیں۔ اعمال کی تصیح کے کفیل فقہائے امت ہوتے ہیں اور فن خلوص و احسان کے کفیل صوفیہ کرام ہوتے ہیں۔
کتاب و سنت اجماع صحابہ اور عقلی دلائل سے ثابت ہے کہ روح ایک جسم ہے جو اپنی ماہیت کے لحاظ سے اس محسوس جسم عنصری کے مخالف ہے۔ وہ جسم نورانی‘ ہلکا‘ زندہ اور متحرک ہے جو تمام اعضاء بدن میں نفوذ کر جاتا ہے بدن میں اس کا سریان ایسا ہے جیسے گلاب کے پھول میں پانی‘ زیتون میں رون اور کوئلہ میں آگ کا سریان ہوتا ہے‘ روح کا جسم لطیف ہونا اور اس جسم عنصری کا مخالف ہونا قرآن مجید سے ثابت ہے۔
’’پس جب بدن آدم کو پورا بنا چکوں اور اس میں روح پھونکوں۔‘‘
’’قل الروح من امر ربی‘‘ کہہ دو کہ روح تو میرے ربک ے امر سے ہے۔
اگر اسک ی پیدائش کسی مادہ مثلاً پانی‘ ہوا‘ آگ یا نور سے ہوتی تو اس کا ذکر کیا جاتا معلومہوا کہ یہ نور سے بھی زیادہ لطیف ہے۔
’’روح عالم امر کی چیز ہے‘‘ عقل انسانی عالم امر کا ادراک کرنے سے قاصر ہے تو عالم امر کی چیزوں کا ادراک کیونکر کر سکتی ہے۔ اس لئے علوم عقلی یا علوم ظاہری سے روح کی معرفت محال ہے درحقیت روح کی معرفت کا تعلق دلائل ذوقیہ‘ نور بصیرت یعنی کشف سے ہے اور جب دلائل ظاہریہ‘ ذوق اور کشف کی تائید کر دیں تو نور علی نور ہے۔
جہاں تک ذوق اور کشف کا تعلق ہے اس بارے میں صرف محققین اصحاب کشف اور ارباب ذوق کا فیصلہ ہی حجت قرار دیا جا سکتا ہے اور دیا جانا چاہئے۔ محققین صوفیہ کالمین اصحاب کشف کا فیصلہ یہ ہے کہ یہ جسم لطیف نورانی ہے۔ اس کی شکل اس جسم کی شکل کے عین مطابق ہوتی ہے جس بدن کا وہ روح ہے قدو قامت اور ہیئت میں ہوبہو اس جسم کے مطابق ہوتی ہے۔
روح لطیف ہے نورانی ہے جس بدن میں وہ ہے اسی کی شکل پر ہے بدن سے جدا ہونے کے لئے اس کے لئے جسم مثامی کی ضرورت نہیں اس کی تفصیل یہ ہے کہ سب سے پہلے یہ معلوم کر لینا چاہئے کہ حیات کسے کہتے ہیں حیات نام ہے حس و حرکت‘ دیکھنا‘ سننا‘ بولنا‘ قویٰ ظاہری و باطنی کا موجود ہونا۔ روح دنیا میں بدن کو زندگی بختشا ہے۔ دنیا میں مادی چیزوں کو سنانے میں مادی آلات کا محتاج ہے نہ کہ اپنی حیات میں مادی بدن کا محتاج ہے بلکہ روح بدن کوحیات بخشتا ہے برزخ میں جا کر روح مادی دنیا کو اپنی آواز نہیں سنا سکتا۔ اس لئے مادی آنکھیں اسے نہیں دیکھ سکتیں۔ مادی کان اس کی بات سن نہیں سکتے حالانکہ وہ خود بولتا ہے سنتا ہے اس کے سارے اعضاء ذاتی ہیں۔ روح خود جسم لطیف‘ اس کے کان لطیف‘ اس کی آواز لطیف‘ اس کو تمام لطیف چیزیں لیتی ہیں اس کی آواز سن لیتی ہیں جیسا ملائکہ قلوب انبیاء قلوب اولیا لطیف چیزوں کو دیکھنے یا سننے سنانے میں کسی غیر جسم کے آلات کے محتاج نہیں۔
عالم برزخ‘ قیامت صغریٰ ہے جہاں روح زندہ رہتی ہے اور عالم آخرت‘ قیامت کبریٰ ہے۔ ارشاد ربانی ہے۔ ’’یقیناً آخرت کا گھر ہی تو زندگی ہے۔‘‘
اور ظاہر ہے کہ دنیا کی زندگی کے مقابلے میں اکمل زندگی ہے دنیا اور اس کی ہر شے کے لئے موت اور فنا ہے مگر آخرت کی زندگی ابدی ہے اس لئے دار آخرت کی ہر شے کیا جزاء کیا کل موت سے پاک ہے جب روح کے لئے جزاء و سزا ہے تو ظاہر ہے کہ وہ زندہ ہے کیونکہ مردو اور معدوم کے لئے جزا و سزا نہیں اس لئے روح سنتی ہے دیکھتی ہے‘ بولتی ہے بلکہ اس کی ساری قوتیں اور تمام صلاحیتیں اسی جگہ کامل درجے پر معرض اظہار میں آتی ہیں۔
اہل سنت والجماعت کا اجمالی عقیدہ یہ ہے کہ برزخ میں روح بالذات معکف ہے اور بدن تابع روح ہوتا ہے۔
* کسی عارف باللہ نے کشف کے ذریعہ حضور اکرمﷺ سے بات چیت کی تو حضور اکرمﷺ کے لئے ایسے ارشادات حدیث نہیں کہلائیں گے۔
* حدیث رسول دلائل شرعی میں سے ہے اور کشف و الہام محض اسرار و رموز بیان کرنے کے لیے ہوتے ہیں۔
* حدیث رسول کا موضوع ذات محمد رسول اللہﷺ ہے بحیثیت نبی و رسول کے‘ پس حدیث وہ بات ہے جس کی نسبت بااضافت حضور اکرمﷺ کی طرف کر دی جائے۔ مثلاً قول رسولﷺ‘ فعل رسولﷺ‘ تقریر رسولﷺ‘ ارادہ رسولﷺ‘ صفات رسولﷺ یہ سب باتیں حدیث کہلاتی ہیں۔
* حدیث کو جانچنے کے دو طریقے ہیں روایت اور درایت‘ ہم درایت میں امام ابو حنیفہ کے مقلد ہیں مگر روایت میں محدثین کے مقلد ہیں۔
کشف ظنی چیز ہے دلیل شرعی نہیں۔ کشف میں غلطی کی وجہ دراصل تعبیر میں غلطی ہوتی ہے۔ کشف و الہام کوڈ لینگویج ہوتی ہے، اس کو ڈی کوڈ کرنے میں صاحب کشف کو غلطی لگ سکتی ہے۔ کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ بے خیالی میں کوڈ لینگویج کو پلین لینگویج سمجھ لیا جاتا ہے اس جہ سے تعبیر میں غلطی ہو جاتی ہے۔
فرمایا: کشف مقصودی چیز نہیں ہے اور نہ ہم اس کو مقصودی چیز سمجھتے ہیں یہ اللہ کا انعام ہے جس پر ہو جائے۔
* آپﷺ کی نیابت اور خلافت کی صورت انہیں صفات کمال سے حصہ وافر آپﷺ کے متبعین اور شاگردوں کو بطور تبعیت و وراثت ملا تو کوئی فقیہ و محدث بنا کوئی مفسر قرآن ہوا وراثت محبت تزکیہ نفس کے لیے اکسیر قرار پائی کسی کے لیے تعبیر اللہ کے نور کی صورت میں ظاہرہوئی۔
فرمایا: ہم ظاہر کے مکلف ہیں۔ کشف اگر احکام شریعت کے مخالف نہ ہو تو صاحب کشف خود اس پر عمل کر سکتا ہے۔ کشف و الہام کیلئے شرعی دلیل کی ضرورت نہیں‘ صرف اتنا ضروری ہے کہ شریعت سے متصادم نہ ہو۔ ہمارے کئی ساتھی صاحب کشف ہیں۔ میں ہمیشہ تاکید کرتا ہوں کہ جب تک وہ مجھ سے پوچھ نہ لیں اس پر عمل نہ کریں۔
کشف اور علوم غیبیہ
اس کو کشف قلوب کہا جاتا ہے اور یہ علم غیب نہیں۔ کیونکہ علم غیب کی تعریف یہ ہے کہ اس کی ابتداء اورانتہاء نہ ہو۔ ذاتی ہو اور کسی واسطہ سے حاصل نہ ہو مگر اولیاء کا علم ذاتی نہیں۔ بلکہ کشف و الہام کے واسطے سے ہوتا ہے۔ قدیم نہیں حادث ہے۔ حضوری نہیں حصولی ہے۔
کشف و کرامات
فرمایا: امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے سوال کیا گیا کہ متاثرین کی نسبت صحابہ کرامؓ سے کراماتک ا ظہور کم کیوں ہوا؟ جواب دیا کہ صحابہ کرامؓ سے کرامات کی ضرورت ہی نہ تھی وہ تو نبوت کے رنگ میں رنگے ہوئے تھے۔ صحابہؓ کے دور میں انوار نبوت جلوہ فگن تھے۔ خورشید نبوت کی موجودگی میں چراغوں کی کیا ضرورت تھی۔ چراغ اندھیرے میں جلائے جاتے ہیں‘ دن میں روشن نہیں کئے جاتے۔ صحابہؓ کا وجود ہی بذات خود ایک کرامت کا درجہ رکھتا تھا۔ یہ حقیقت بھی اپنے مقام پر ناقابل تردید ہے کہ صحابہ کرامﷺ سے بھی بکثرت کراماتک ا ظہور ہوا۔
تمام تر کمالات آقائے نامدارﷺ کو عطا کئے گئے۔ پھر خلفائے راشدین کو منتقل ہوئے۔ پھر حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کو حاصل ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر کسی کو مختلف خصوصیات سے نوازا۔ میں حصرت صاحبؒ کی خدمت میں تھا۔ میرے استاد میرے ساتھ تھے۔ میں نے کہا حضرت! خواجہ قطب صاحب‘ محمد شاہ صاحب دولہ رحمۃ اللہ علیہ دہلی والے‘ یہ عالم ہیں یا نہیں۔ استاد بہت سادہ تھے۔ انہوں نے یہ بات حضرت قطب صاحب کو بتا دی۔ وہ بہت متحمل مزاج تھے‘ فرمانے لگے: مولوی صاحب کو مغالطہ لگا ہے۔ میں فارغ التحصیل عالم ہوں۔ اللہ کریم نے مجھے دو خصوصیات عطا فرمائی ہیں۔ سارے کمالات کسی کو نہیں۔ میری پہلی خصوصیت مدت کے بعد دوام حضور ہے۔ ہر وقت حضورﷺ کی حضوری میں رہتا ہوں۔ دوم: مستجاب الدعوات ہوں۔ میں دل سے دعا کروں تو آسمان گر پڑے گا زمین پھٹ جائے گی۔ مگر میری دعا رد نہیں ہو گی۔
کشف و الہام:
کشف و الہام مقصودی چیز نہیں ہاں ایک انعام ہے سالک کا مقصود تو رضائے الٰہی ہونا چاہئے۔کشف مخض ظنی چیز ہے شریعت سے متصادم ہو تو ہر گز معتبر نہیں شریعت کی تائید کرے تو قابل اعتبار ہے۔
جسم مثالی کوئی پانچویں مخلوق ہو گا؟
جسم مثالی کے متعلق فرمایا جسم مثالی کا عقیدہ رکھنے والوں کے لیے غور کا مقام ہے! حدیث شریف سے ثابت ہے کہ انبیاء قبروں میں نماز پڑھتے ہیں۔ جسم مثالی جو تصویر کی مانند ہے۔ کیا تصاویر یعنی عکس بھی نماز پڑھتے ہیں۔ اس عقیدے کی سختی سے تردید فرمائی۔
فرمایا بعض اوقات ہمارے ساتھی اندرون ملک اور بیرون ملک جو بھی صاحب کشف ہیں دوران ذکر مجھے اپنے ساتھ محسوس کرتے ہیں۔ آواز سنتے ہیں۔ حج کرنے والے کئی احباب کشفاً مجھے وہاں دیکھتے ہیں اور مجھے خبر تک نہیں ہوتی۔ اسی طرح دربار نبویﷺ میں مجھے دیکھتے ہیں آواز سنتے ہیں اور بعض لکھ بھی لیتے ہیں یہ سب جسم مثالی کی حقیقت ہے۔
۱۔ جسم مثالی کا عقیدہ رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ عذاب و ثواب اس جسم کو نہیں بلکہ جسم مثالی کو ہو گا۔ جنت و دوزخ میں بھی مادی جسم کی بجائے جسم مثالی ہی جائے گا۔
۲۔ ایسا عقیدہ رکھنے والے اللہ کو بھی ناانصاف سمجھتے ہیں کہ اچھائی اور برائی تو جسم مادی کریں اور سزا جسم مثالی کو ملے۔
۳۔ انسانوں اور فرشتوں کا مادہ تو ہے۔ جسم مثالی کا مادہ کیا ہے اس کا تو کہیں بھی ذکر نہیں۔ روح کا مادہ کوئی نہیں۔ لیکن فرمایا: قل الروح من امر ربی
۴۔ کیا جسم مثالی پر کچھ فرائض بھی ہیں۔ پھر ان احکامات کا ذکرکہاں اور کس جگہ ہے کہ جن کی نافرمانی سے اس کو عذاب ہو گا؟
۵۔ جسم مثالی کے لیے پھر اسی مادے کا رسول بھی مثالی آنا چاہئے تھا۔
۶۔ دنیاوی زندگی میں یہ جسم مثالی رہتا کہاں ہے؟
مجھے تو کہیں اس کا ثبوت نہیں ملا! خدا جانے انہوں نے کہاں سے گھڑ لیا یہ عقیدہ۔
مقاصد اجتماع
منارہ میں ہمارا یہ قیام محض اخروی زندگی کو درست کرنے‘ دین کے سیکھنے کے لئے ہے لوگ دنیاوی اغراض و مقاصد رکھنے والوں کو کبھی ساتھ نہ لایا کریں۔ تعویذ گنڈے کرنے والے کافی ہیں ان کی دکانیں چلتی ہیں وہیں جایا کریں۔
جس کو دین کی کوئی غرض ہے نہ سمجھ۔ اس کو اس وقت تک مت لائیں جب تک کہ اسکی نیت و ارادہ ٹھیک نہ ہو‘ بعض لوگوں کو کشف تو ہو جاتا ہے لیکن اگر ان کے کام شریعت کے خلاف ہوں تو آہستہ آہستہ یہ کیفیت ختم ہو جائے گی۔ یہ انعام محض بزرگی کے اظہار کا ذریعہ نہیں

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

علمی وفکری اختلاف آپ کا حق ہے۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔