Jul 22, 2014

پیش لفظ(حیات طیبہ)

0 comments
حیات طیبہ


پیش لفظ
ایک معجزاتی نسبت
کلام الٰہی کے حروف و الفاظ اور اس کے معانی و برکات تاابد محفوظ ہیں اور یہ آقائے نامدارﷺ کا وہ معجزہ ہے جسے آپﷺ کی نبوت کی طرح ابدیت حاصل ہے۔ اسی طرح سینہ اطہرﷺ سے برکات کی تقسیم بھی تاابد ہے۔ سینہ اطہرﷺ سے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے سینے منور ہوئے‘ ان سے تابعین نے برکات حاصل کیں‘ تابعین سے تبع تابعین نے برکات حاصل کیں اور اسی طرح ایک قلب سے دوسرا قلب منور ہوا‘ ایک چراغ سے دوسرا چراغ روشن ہوا اور یہ تسلسل تاقیامت جاری رہے گا۔ یہ سعادت سلاسل تصوف کے حصہ میں آئی کہ وہ برکات نبویﷺ کی معجزاتی تقسیم کا مستقل واسطہ ہیں۔ 
یہاں نسبت اویسیہ کا ایک منفرد اعجاز نظر آتا ہے۔ جب ایک چراغ اور دوسرے چراغ کے درمیان صدیاں حائل ہوں‘ زمانی و مکانی فاصلے حائل ہوں لیکن روشنی اسی طرح منتقل ہو رہی ہو‘ برکات کی ترسیل ان تمام فاصلوں کے باوجود متصل ہو اور درمیان میں کسی واسطے یا رابطے کی ضرورت نہ ہو‘ یہ وہ اعجاز ہے جس کا اظہار نسبت اویسیہ کے ذریعہ صدیوں کے تواتر سے جاری ہے۔ چودہ صدیوں میں نسبت اویسیہ کے صرف 9 مشائخ عظام ہیں لیکن منبع برکاتﷺ سے ترسیل برکات میں اتصال ہے۔ اس طرح نسبت اویسیہ زمانی و مکانی فاصلوں سے بے نیاز برکات نبویﷺ کی متصل ترسیل کا معجزاتی واسطہ ہے جیسا کہ مجدد فی الطریقت حضرت العلام مولانا اللہ یار خانؒ نے فرمایا:
’’میں نے اویسی طریقے سے شیخ کی روح سے فیض حاصل کیا۔ بڑے بڑے اولیاء اللہ اویسی طریقے سے فیض حاصل کرتے رہے۔ اس سلسلہ والے حضورﷺ کی روح پرفتوح سے فیض حاصل کرتے ہیں۔ بحمد للہ اس فقیر کو اب بھی حضورﷺ کی روح مبارکہ سے فیض حاصل ہو رہا ہے۔‘‘

حضرت شاہ ولی اللہؒ نے ’’انتباہ فی سلاسل اولیاء اللہ‘‘ میں طریق اویسیہ کا ذکر کرتے ہوئے شیخ ابوالحسن خرقانیؒ اور حضرت بایزید بسطامیؒ کی مثال دی جن میں بُعدِ زمانی تھا لیکن اسی طرح اکتساب فیض کیا جس طرح حضرت اویس قدس اللہ سرہٗ نے آنحضرتﷺ سے فیض حاصل کیا۔ تاریخ تصوف میں طریق اویسیہ سے اکتساب فیض کی بہت مثالیں ہیں لیکن یہ سب استثنائی صورت کا درجہ رکھتی ہیں یعنی کسی ایک شیخ نے دوسرے شیخ سے فیض حاصل کیا یا کسی خوش قسمت ہستی کو آقائے نامدارﷺ سے بطریق اویسیہ براہ راست فیض حاصل کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ یہ انفرادی واقعات ہیں جو باہم متصل ہیں نہ ایک نسبت کی صورت ان میں تواتر پایا جاتا ہے۔ 
بطریق اویسیہ اکتساب فیض کی انفرادی مثالوں سے قطع نظرنسبت اویسیہ آقائے نامدارﷺ سے ایک شجرہ کے ذریعہ متصل ہے۔ اس نسبت کے مشائخ ایک زنجیر کی کڑیوں کی طرح باہم منسلک ہیں خواہ دو مشائخ کے درمیان صدیوں کا فاصلہ ہی کیوں نہ ہو۔
تاریخ تصوف نے نسبت اویسیہ کے اس معجزاتی پہلو کا ہمیشہ اعتراف کیا۔ حضرت شاہ ولی اللہؒ ’’ھمعات‘‘ میں نسبت اویسیہ کے اس منفرد تشخص کے بارے میں فرماتے ہیں:
’’جیسے پانی زیر زمین موجود رہتا ہے ‘ کسی وقت چشمہ کی صورت میں باہر ابل پڑتا ہے اور زمین کو سیراب کرتا ہے‘ اسی طرح حقیقی تصوف و سلوک بھی کبھی کبھی غائب ہو جاتا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کسی بندہ کو پیدا کرتا ہے اور اس کی ذات کے واسطہ سے تصوف و سلوک کا چشمہ ابل پڑتا ہے اور ایک مخلوق کے قلوب کو سیراب کرتا ہے۔ اسی وجہ سے سلسلہ اویسہ ظاہر میں متصل نہیں ہوتا مگر حقیقت میں متصل ہوتا ہے اور سلسلہ اویسیہ کے متوسلین بڑی عظمت اور ہیبت کے مالک ہوتے ہیں۔‘‘
اس دور میں بھی نسبت اویسیہ کا یہ اعجاز ہے کہ آج سینہ اطہرﷺ سے براہ راست شیخ کے سینہ میں برکات آرہی ہیں اور اس سے ایک جہان منور ہو رہا ہے۔ کتنے ہی ایسے خوش نصیب ہیں جو حجابات برزخ سے گزر کر دربار نبویﷺ میں حاضری کی سعادت حاصل کرتے ہیں۔ اس دور میں جب آقائے نامدارﷺ کو اس جہانِ آب و گل سے پردہ فرمائے چودہ صدیاں بیت چکی ہیں‘ کسی خوش نصیب کو خدمت اقدسﷺ میں حاضری نصیب ہو جائے اورعالم بیداری میں دست اقدسﷺ پر بیعت کی سعادت مل جائے! یہ نبی اول و آخرﷺ کا وہ معجزہ ہے جس کا اظہار اس دور میں نسبت اویسیہ کے ذریعہ ہو رہا ہے۔
اس نسبت کے جد امجد سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عظمت کے بارے میں آقائے نامدارﷺ کا یہ فرمان حرفِ آخر اور قول فیصل کا مقام رکھتا ہے۔
’’انبیاء علیہم السلام کے ماسویٰ ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے افضل کسی پر نہ تو آفتاب طلوع ہوا نہ غریب۔‘‘
برکات کے متعلق مستدرکِ حاکم میں آپﷺ کا یہ قول نقل کیا گیا ہے جس کے مفہوم کو اہل تصوف خوب سمجھتے ہیں:
مَا صَبَّ اللّٰہُ فِیْ صَدْرِیْ شَیْءًا اِلَّاصَبَبْتُہٗ فِیْ صَدْرِ اَبِیْ بَکْرٍ اَوْ کَمَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ
اللہ نے جو میرے سینہ میں ڈالا‘ وہ میں نے ابوبکر کے سینہ میں ڈال دیا۔
نسبت اویسیہ کے پہلے شیخ حضرت امام حسن بصریؒ ہیں جنہوں نے دین کے اہم ترین شعبہ احسان کی بطور ایک الگ شعبہ تشکیل فرمائی اور مسلمہ طور پر امام تصوف کہلائے۔ تیسری صدی ہجری میں جب تصوف کے خدوخال قرآن و حدیث کے منافی افکار و نظریات اور فلسفہ و منطق کے امتزاج سے مسخ ہونے لگے تو تجدید و احیائے تصوف کا بار عظیم نسبت اویسیہ کے تیسرے شیخ حضرت جنید بغدادیؒ نے اٹھایا اور قرآن و حدیث کی بنیاد پر تصوف کے اصول و مبادی کی اس طرح تعیین فرمادی کہ آج تک کوئی صوفی ان سے انحراف نہیں کر سکا۔ اس کے اعتراف میں تمام سلاسل تصوف حضرت جنید بغدادیؒ کو بلا استثناء سید الطائفہ تسلیم کرتے ہیں۔ 
حضرت جنید بغدادیؒ کے چھ صدیوں بعد جب تصوف بے عملی اور جمود کا شکار ہوچکا تھا‘ نسبت اویسیہ کے عظیم شیخ حضرت خواجہ عبید اللہ احرارؒ نے اسے پھر سے فعال کیا اور تصوف کی نظریاتی اور عملی تصویر پیش کرتے ہوئے اسے عالمگیریت عطا کی۔ آپؒ نے کلیات تصوف پر مبنی انتہائی مختصر لیکن اس قدر جامعیت کے ساتھ تصوف کے خدوخال متعین کر دیئے جنہیں بجا طور پر دستورِ طریقت کہا جا سکتا ہے۔ تاریخ تصوف میں نسبت اویسیہ کے یہ شیخؒ صاحب عزیمت‘ جلال و کمال‘ قوت قاہرہ اور روحانی تصرف و دبدبہ کی علامت ہیں۔ 
مزید چار صدیاں گزرنے کے بعد اسی نسبت میں حضرت العلام مولانا اللہ یار خانؒ کا نام نامی ہے۔ تصوف کا رشتہ ایک مرتبہ پھر عملی زندگی سے منقطع ہورہا تھا اور یہ دور عملی خرابیوں کا نہیں بلکہ عقائد کے فساد کا دور تھا جس کی انتہا یہ تھی کہ صرف تصوف کا ہی نہیں بلکہ برکات نبویﷺ کا بھی انکار کیا جا رہا تھا۔ اس عالم میں حضرت جیؒ نے تجدید و احیائے تصوف کا فریضہ تحریر و تقریر کے ذریعے اور عملاً تقسیم برکات کو عام کرتے ہوئے اس طرح سرانجام دیا کہ حیاۃ النبیﷺ اور ترسیل برکات نبویﷺ کے انکار کی جو روش چل نکلی تھی‘ اس کا سدباب ہوا۔ تاریخ تصوف کے اس طائرانہ جائزہ سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ نسبت اویسیہ ہی کے پہلے شیخ حضرت امام حسن بصری ؒ کو امام تصوف تسلیم کیا گیا ہے تو اسی نسبت کے مشائخ حضرت جنید بغدادیؒ ‘ خواجہ عبید اللہ احرارؒ اور حضرت مولانا اللہ یار خانؒ نے شعبہ تصوف میں بگاڑ کی صورت تجدید و احیائے طریقت کا فریضہ بھی سرانجام دیا۔
آج جبکہ دنیا ایک گلوبل ویلج کی صورت اختیار کر چکی ہے‘ نسبت اویسیہ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ رنگ و نسل ملکی اور جغرافیائی حد بندیوں سے بے نیاز شیخ سلسلہ کے علم تلے ایک عالمی حقیقت بن چکی ہے۔ روزانہ دو مرتبہ دنیا بھر سے متوسلین کا حضرت امیر المکرم کے ساتھ انٹرنیٹ پر محفل ذکر میں شامل ہونا اس عالمگیریت کا بین ثبوت ہے۔
نسبت اویسیہ کے بعد چند حروف زیر نظر کاوش کے بارے میں۔ نسبت اویسیہ کے مشائخ عظام کی خدمت میں ہدیہ تبریک پیش کرنا راقم کے بس کی بات نہ تھی۔ اگرچہ ایک عشرہ قبل اس کاوش کا آغاز کیا تھا لیکن قدم قدم ہمت ٹوٹتی رہی یہاں تک کہ حضرت امیر المکرم کی توجہ نصیب ہوئی تو یہ کاوش پایۂ تکمیل کو پہنچی۔
صوفیائے کرام کے حالات بیان کرتے ہوئے بالعموم کشف و کرامات اور طلسماتی واقعات کو مبالغہ آرائی کی حد تک بیان کیا جاتا ہے جنہیں پڑھنے کے بعد قاری تصوف کو ناقابل عمل قرار دے کر اپنی بے بسی کا اعتراف کر لیتا ہے۔ اس کے برعکس بعض سکالر اور محقق‘ جو خود صوفی نہیں ہوتے‘ صوفیاء کے حالات بیان کرتے ہوئے اپنے خود ساختہ اوزان و پیمان پر تصوف کی چھان پھٹک شروع کردیتے ہیں اور جب بات بنتی نظر نہیں آتی تو اسے شریعت سے خارج قرار دے دیتے ہیں۔ 
ایسے سوانح نگار خال خال ہیں جو صوفیائے کرام کے حالات اور تعلیمات کو دعوت عمل کے نقطہ نظر سے پیش کرتے ہیں اور یہی مقصد اس کوشش ناتمام میں بھی کارفرما ہے۔ ایک پہلو البتہ اضافی بھی نظر آئے گا جو نسبت اویسیہ کے حوالے سے مشائخ عظام سلسلہ عالیہ کے منفرد تشخص کے بارے میں ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ حاملین نسبت کے ساتھ انجام فرمائے۔ 
۔ آمین!
ابوالاحمدین
3 جولائی 2009ء

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

علمی وفکری اختلاف آپ کا حق ہے۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔