Jul 18, 2014

برکات نبویﷺ کا حصول‘ تزکیہ نفس اور ذکر الٰہی

0 comments
برکات نبویﷺ کا حصول‘ تزکیہ نفس اور ذکر الٰہی
انوکھی وضع ہے‘ سارے زمانے سے نرالے ہیں
یہ عاشق کون سی بستی کے یا رب رہنے والے ہیں

جی ہاں! یہ عاشق اہل اللہ ہیں‘ جنہوں نے رشد و ہدایت کے موتی بکھیرے اور راہِ سلوک کے متلاشی سالکین کے لئے رہبر بنے۔ آج اس خطے میں بسنے والے مسلمان اگر اسلامی اقدار سے مالا مال اور سرشار ہیں تو یہ سب اہل اللہ کی محنت کا نتیجہ ہے۔
اہل اللہ کا اصل کام برکاتِ نبویﷺ کی ترسیل اور قلوب کی زمین میں حب الٰہی اور اتباعِ رسالت مآبﷺ کا بیج بونا ہوتا ہے۔ اس دورِ پرفتن میں قلزمِ فیوض و برکات حضرت مولانا اللہ یار خانؒ کا وجود ایک ایسے ہی چراغ کی مانند تھا جس کے سامنے چار سو پھیلی ہوئی ظلمت ماند پڑ جائے۔ آپؒ نے بھرپور اعتماد کے ساتھ فرمایا:
’’مجھ پر اللہ تعالیٰ کا بڑا احسان ہے کہ میں تزکیۂ باطن کی تربیت کر سکتا ہوں۔ حتیٰ کہ روحانی تربیت کرنے کے بعد طالب کی روح کو بارگاہِ نبویﷺ میں پیش کر کے اسے نبی اکرمﷺ سے روحانی طور پر بیعت بھی کرا سکتا ہوں۔ اگر کسی میں طلب ہے تو آئے اور اپنا دامن اس دولت سے بھرے۔‘‘
حضرت مولانا محمد اکرم اعوان مدظلہ‘ شیخ المکرم سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ پچیس سال تک حضرت مولانا اللہ یار خانؒ کے زیرتربیت رہے۔ آپ قلوب کو اللہ کے ذکر سے آباد کرنے کی محنت پچاس سال سے کر رہے ہیں۔ آپ کا فرمان ہے:
’’اللہ اللہ سکھانے کا مقصد گوشہ نشینی نہیں بلکہ وہ قوت اور جذبہ حاصل کرنا مقصود ہے جو مردہ تنوں میں حیاتِ نو پیدا کرے‘ بے عمل کو باعمل بنائے‘ جو نااہل کو اہلیت عطا کرے‘ مردہ دل کو آتش فشاں کا دہانہ بنا کر چھوڑے۔ یہ سب کچھ کسی دنیاوی مقصد کے لئے نہیں بلکہ احقاقِ حق کے لئے‘ باطل اور ظلم کو مٹانے اور کفر و شرک کے سامنے بند باندھنے کے لئے ہے۔ ایسے بندے جب اپنے وسائل سمیت یقین و ہمت سے کھڑے ہوں گے تو کبھی تنہا نہیں ہوں گے بلکہ نصرتِ الٰہیہ ان کے ساتھ ہو گی۔ انشاء اللہ۔‘‘
آپ بھی اہل اللہ کے اس قافلہ میں شریک ہو جائیں تاکہ ظلم کی سیاہ رات کو روشنی اور نور سے بدل کر اپنی اصلاح کریں پھر اصلاحِ امت کا فریضہ ادا کر سکیں جو ہم سب پر فرض ہے۔
بھٹکے ہوئے آہو کو پھر سوئے حرم لے چل
اس شہر کے خوگر کو پھر وسعت صحرا دے

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

علمی وفکری اختلاف آپ کا حق ہے۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔