Sep 17, 2017

0 comments

وطریقت کا تحقیقی وتنقیدی جائزہ

 مولاناعبدالرحمن کیلانی مصنف ”شریعت و طریقت “کے سوالوں کے جوابات
جوابات سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ مولانا کیلانی کا شمارناقدین تصوف و احسان میں ہوتا ہے،ذیل میں سولات ان کی کتاب شریعت وطریقت سے لئے گئے ہیں،ان سوالوں کیااہل علم کے نزدیک کیا اہمیت ہے چند دن پہلے ایک سلفی صوفی عالم بتا رہے تھے کہ مولانا عبدالرحمن کیلانی کا ایک اعتراض بھی ایسا نہیں جو قابل غور ہو۔
 سچ تو یہ ہے کہ مولانا تصوف کی الف،ب بھی نہیں جانتے تھے اور نہ ہی یہ کتاب اس قابل ہے کہ اس کا جواب دیا جائے۔مگر ہمارے ایک خاص مقلدانہ ذہن کے نزدیک یہ کتاب ایک مقدس صحیفہ کی حیثیت اختیار کر چکی ہے اور وہ جہاں بھی تصوف واحسان پر معترض ہوتے تو اکثر حوالے اسی کتاب سے دیتے ہیں ۔لہذا میں نے ضروری سمجھا کہ ہمارے یہ انجانے دوست کئی تصوف واحسان کی اندھی مخالفت میں اپنے ایمان کو برباد کر رہے ان کی رہنمائی کے لئے کچھ لکھا جائے۔
اس کتاب کے آخر میں علماء تصوف واحسان سے پر سوالوں کی ایک فہرست پیش کی گئی اور بعض منچلے انٹرنیٹ پر یہ سوال پیسٹ کر کے نیچے لکھ دیتے ہیں
’’شاید ان سوالوں کا جواب دینا اہل تصوف کے لئے ممکن نہ ہو‘‘
 یہ لفظ پڑھ کر مجھے وہ صوفیائے اہل حدیث یاد آ جاتے ہیں جو بیک وقت صوفی بھی تھی ،محدث بھی اورمفسر بھی،کہ ایک منکر تصوف اٹھتاہے اور تصوف و احسان کے مقدس علم پر یاوہ گوئی کرتا ہے تو اس کی کتاب پر صوفیائے اہل حدیث تڑپ اٹھتے ہیں خاندان غزنویہ کا عظیم صوفی اور مسلک اہل حدیث کا امام عبد الجبار غزنوی نقشبندی  ؒشیخ الکل سید نذیر حسین دہلویؒ اور  نواب صدیق حسنؒ کے ایماء پر اٹھ کر دندان شکم جوابـ’’اثبات الہام و البیعت بادلۃ الکتاب السنت المقلب بہ تضحیک الانام علی تحقیق الکلام‘‘دیتے ہیں اورپھر منکرین تصوف پر ایک مرگ کی کیفیت طاری رہتی ہے پھر ڈیڑھ صدی بعد ایک مذکورہ صاحب ’’شریعت وطریقت‘‘ کا صحیفہ لے کر نازل ہوتے مگر افسوس کہ اب مسلک اہل حدیث میں امام عبد الجبار غزنوی  ؒ نہیں تھے ۔
افسوس کے کارواں جاتا رہا اور کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
 منکرین تصوف و احسان اورجہالت معنی ومفہوم کے اعتبار سے ایک ہیں،اور پھر سوال کر لینا یا تنقید کر لینا کون سا مشکل کام ہے،یاد رکھیں تعمیر مشکل ہے اور تخریب آسان ہے۔دیکھا تو یہ گیا ہے کہ اہل حرص و ہو ا محض ناموری کے لئے صوفیاءاسلام پر طعن و تشیع کرتے ہیں ،کیونکہ اہل اللہ پر تنقید کرنے سے شہرت مل جاتی ہے،مگر عاقبت برباد ہو جاتی ہے ۔کسی صاحب حال نے کہا تھا کہ اہل اللہ پر تنقید کفر تو نہیں ،مگر مرتے انھے کفر پر ہی دیکھا ہے۔
 پھرکسی بھی موضوع پر جرح کے لئے اسے جانناضروری ہے ،تصوف وسلوک میں زمانے کے ساتھ ساتھ جو بگاڑ آتا ہے،اسکی اصلاح بھی صوفیاءکے ہی ذمہ ہے اور وہ یہ کام الحمد للہ بڑے احسن طریقے سے کرتے چلے آ رہے ہیں ،اس معاملہ میں راہ سلوک سے نابلد شخص کی مثال وہ آندھوں کو ہاتھی دکھانے والی بات ہے۔
 مولانا کیلانی نے اپنی پہچان مسلک اہلحدیث کے نام سے قائم کی ہوئی تھی،اپنی کتاب میں انہوں نے کسی بھی اہل حدیث صوفی پر جرح نہیں کی ہے،کیونکہ مرحوم یہ بات بخوبی سمجھتے تھے کہ کسی اہلحدیث صوفی پر طعن کرنے سے ان پر مسلکی اعتبار اٹھ جائے گا،اس لئے انہوں نے اپنی کتاب میں مسلک اہل حدیث کی آڑ لیکر صوفیاءپر متشدادنہ و غیر عدلانہ جرح کی ۔
اہل باطل کا وطیرہ یہی رہا ہے کہ وہ اپنی تلبیسات کو حق کی آڑ لیکر پھیلاتے ہیں ،اور مرحوم اس مقصد میں کسی حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں کیونکہ آج جہلاءکے نزدیک یہ کتاب ایک مقدس صحیفے کی حثیت اختیار کر چکی ہے۔
مرحوم نے اپنی کتاب میں فقط ایک مقام پر سید عبد اللہ غزنوی ؒ کا ذکر کیا جو اکابر اہلحدیث میں سے ہیں ،نقشبندیہ سلسلہ سے تعلق رکھتے تھے ۔ان کے متعلق اتنا لکھا ہے کہ وہ حد درجہ متبع سنت تھے ،کمال ہے اگر حنفی صوفی ہوتو گمراہ اور اہلحدیث ہو تو متبع سنت۔
لیکن خود سید عبد اللہ غزنویؒ کی مبارک سوانح میں ملتا ہے کہ:۔
    ” آپ اگرچہ سلوک کی کتابوں اور صوفیہ کے مشاغل مروجہ سے پہلے ہی بری تھے،لیکن جذبہ غیبی کے پہنچنے کے بعدآپ میں صوفیاءکے مشاغل کے ثمرات اوراثار کسی کے تعلیم کے سواء مشاہدہ کرتے تھے،رفتہ رفتہ صوفیاءکے طریق کے مطابق اس راہ پر طالبوں کو تعلیم دینے لگے ،اور ہمیشہ بہمہ تن ہدایت کی زیادتی کے لئے اللہ تعالیٰ کے آگے اور نالاں رہتے،گویا آپکا بدن اللہ تعالیٰ کی طرف رغبت کرنے اوراس سے ڈرنے کی تصویر تھا۔    
مولانا غلام رسول قلعویؒ جو آپ کے خلیفہ مجاز بھی تھے ،اورآپ کے ساتھ بھائی چارہ بھی تھا ،سید عبد اللہ غزنویؒ کے طریق السلوک کے متعلق فرماتے ہیں:۔
          ”اسم ذات کی تلقین میں انکا طریق تمام مشائخ کے طریق سے جدا تھا،اور جوش بھی علیحدہ خصوصاً لطیفہ اخفی بہت جوش کے ساتھ آتا جب قلب کے لطیفے کا سبق دیتے تو فرماتے دل کو ایک ریت کا ڈھیر خیال کر کے اسم ذات کو ریت کے ہر دانہ سے نکا لو اور لطیفہ قالب یعنی سلطان الذکرمیں بھی آپ جدا طریقہ سے سکھلاتے کہ اپنے جسم کو ایک ریت کا ڈھیر تصور کر کے اسم ذات کا ذکر کرو اور سورۃ  فاتحہ پڑھنے میں بہت کوشش فرماتے معنوں کے لحاظ اورآیتوں کو بار بار پڑھنے کی شرط کے ساتھ اور وصیت کرتے تھے کہ اپنے تابعداروں میں سے ہر ایک شخص کو سکھلاو۔اور چشتیہ کے ذکروں میں سے اللہ الصمد کے ذکر کو بلحاظ معنی بہت مفید جانتے تھے،اور دورہ کا طریقہ جو بعض لوگوں کو سکھلاتے تو فلک چہارم کی سیر یا فوق عرش کی سیر پر دلالت نہیں کرتے تھے بلکہ اللہ تعالیٰ کی صفتوں یعنی سمیع ،بصیر،قدیر ،علیم وغیرہ میں فکر کرنے کی تاکید فرماتے ،اور مریدوں کے کشف سے ڈرتے تھے،کیونکہ یہ بعض لوگوں کے حق میں مجازی فیض سے روک ہو جاتا ہے،اور اگر کوئی شخص ذکر کے وقت حرکت یا بے چینی یا اضطراب کرتا تو اسکو زجر کیساتھ منع فرماتے۔
          ایک دن فقیر نے سوال کیا کہ یہ شخص رعشہ والوں کی طرح حرکت کرتا ہے ،اور آپ زجر کیساتھ منع فرماتے ہیں فرمایا کہ شاید ہوائے نفسانی کا شائبہ اسکے ساتھ نہ مل جاوے۔اور ظالموں اور انکے متعلقین کے کھانے سے پرہیز کرتے مگراس وقت کو صاف معلوم ہو جاتا کہ ادھار لیا گیا ہے،ایک دن آپ نے شیخ شہاب الدین سہروردیؒ سے حکایت کی ،کہ وہ مریدوں کو اسماءالحسنیٰ کے ورد کی تعلیم کرتے ،اور چالیس دن کے بعد ان سے سنتے،جس اسم کے ساتھ انکی حالت میں تغیر آنے لگتا وہی اسم تعلیم فرماتے۔پھر فرمانے لگے اس عاجز کی دانست میں اسکے مطابق اسم ذات ہے،پھر کسر نفسی کرتے تھے ،میں کیا ہوں اور میری سمجھ کیا ہے،اور کبھی فرماتے یہ کیا مسلمانی ہے ،یہ کیسا ایمان ہے،اور بہت وقتوںمیں اپنا انکسار ظاہر کرتے،اور حبس کا طریق کسی مرید کو نہیں سکھاتے تھے ،اگر چہ اسکے منع ہونے میں دم نہیں مارتے تھے۔
          اورا پنے شیخ سید حبیب اللہ اخوندؒ کے متعلق سید عبد اللہ غزنویؒ فرماتے ہیں:۔
” اخوند حبیب اللہؒ فرماتے تھے کہ معیت کا مراقبہ مجھے سب مراقبوں سے پسند آتا ہے۔“
خودآپکے اپنے احوال میں مذکور ہے:۔
          ” کہ جذبہ الہٰی کا آغاز پہلے دن شام کے بعد تھا،جو خود بخود بلا واسطہ پیر کے جذب الٰہی پہنچ گیا،اور تمام زور کیساتھ ماسواللہ کو میرے دل سے کھینچ لیا،یہاں تک کہ تین دن تک مجھ کو اپنے نفس سے کدورت اور ظلمت اس طور معلوم ہوتی تھی،از خود گندی بو آتی ،جس سے جی متلانے لگتا،اور باقی لوگوں سے بھی دیکھنے کے وقت قے آنے لگتی۔فقر امل یہاں تک تھی کہ فانی زندگی پر کسی طرح اعتماد نہ رہا اور مخلوقات سے یہاں تک نفرت تھی کہ نماز جماعت کیساتھ بڑی دشواری کیساتھ گزاری جاتی اور ذکر کی نسبت اسطرح غالب تھی کہ جو شخص مجھ کو دیکھتا، ذکر کرنے لگتا تھا۔ اور کبھی کبھی چھت کی لکڑیوں سے بھی ذکر سنا جاتا۔
          برف کی بارش کے موسم میں جب آگ پر بیٹھتا ،تو نفی اثبات کے وقت جو میں سر کو ہلاتا تو اس طرح آگ بھی گھومتی ،اور اس سبب سے کہ میں نے کسی شیخ کی صحبت نہیں اٹھائی تھی،اور نہ مشائخ کا حال دیکھا سنا تھا،حیرانی پیش آتی تھی کہ آیا کسی شیخ کے پاس جا کر تعلیم حاصل کروں، چنانچہ اسی نواح میں ایک شیخ صاحب شاہ صاحب غلام علی دہلویؒ مجددی کے مریدوں میں سے ریاضت شاقہ اور چلوں کیساتھ مشہور تھا ،انکو دیکھنے کا دل میں پختہ ارادہ ہوا ،چونکہ میں اکیلا راہ کا واقف نہ تھا اور کسی کی ہمراہی بھی ناممکن تھی ،ایک شخص کو رہ بتلانے کے لئے میرے ساتھ کیا ،اس طرح کے وہ دور سے راہ دکھلائے ،جب شیخ سے ملاقات ہوئی ،تو اس پر حالت آگئی ،جو خود بخود اپنے سر کو ہلاتا تھا ،اور اس نے اپنے سارے لطیفے اس جوش میں ظاہر کئے ،جو کچھ میں نے دیکھا کسی زمانہ میں نہیں دیکھا ،پس ناامید ہو کر واپس آیا “۔(دیکھئے بسوانح عمری سید عبد اللہ غزنویؒ)
الغرض اشغال صوفیاءاہلحدیث کے ہوں یاصوفیاءاحناف کے کچھ فرق نہیں ،لیکن تعجب منکرین تصوف کے دجل وفریب پر ہے کہ اہل حدیث یہ سب کچھ کرنے کے باوجود متبع سنت اور کسی اور مکتبہ فکر کا صوفی یہی کام کرے تو بدعت!ان اشغال کی صوفیاءکے نزدیک کیا حثیت ہے انشاءاللہ تعالیٰ اپنے مقام پر بحث کی جائے گی۔
حقیقت تو یہ ہے کہ مسلک اہل حدیث صوفیاءکا مسلک ہے ،اس مسلک کے موسس وبانی سید نذیر حسین دہلویؒ نہ خود صوفی تھے بلکہ اس مسلک کی تراویج و اشاعت کرنے والے اکثر حضرات صوفی ہی تھے۔اس موضوع پرایک کتاب”تصوف و احسان علمائے اہل حدیث کی نظر میں“شائع ہو چکی ہے جبکہ اکابر صوفیاء مسلک اہل حدیث کے حالات پر”احوال و آثار صوفیاء مسلک اہل حدیث“ زیر طبع ہے۔جس میں تمام صوفیاءاہل حدیث کا تفصیلی ذکر کیا جائے گا ۔انشاءاللہ

سوالنمبر۱:۔کیا وحدت الوجود کا عقیدہ یا وحدت الشہود کے عقائد کی ازروئے شرع گنجائش ہے اگر ہے تو دلائل سے مطلع فرمائیں۔ ورنہ یہ بتائیں کہ ایسے عقائد کے حامی صوفیا کی حمایت کیوں کی جاتی ہے ؟
 جواب :وحدت الوجود اور شہود کو لوگوں نے مختلف انداز میں لیا اور اس کی حقیقت یہ ہے
وحدت الوجود اور شہود کی حقیقت:
”صوفیا کے مختلف مراقبات اور مختلف کیفیات ہوتی ہیں۔جس طرح علوم ظاہری میں اسباق چلتے ہیں اسی طرح کیفیات باطنی بھی سبق درسبق چلتی ہیں اور ان کی مختلف کیفیات ہوتی ہیں۔ جن دوستوں کے اسباق ہیں وہاں تک اور جنہیں مشاہدہ ہے اندازہ فرماتے ہوں گے کہ جب ” مراقبہ فنا “ کیا جاتاہے تو اس میں ہر چیز فنا ہوتی نظر آتی ہے حتیٰ کہ ساری کائنات فنا ہو جاتی ہے کچھ باقی نہیں بچتا۔ کوئی چیز باقی نہیں رہتی۔ ہر چیز فنا ہوجاتی ہے۔اس کے بعد جب بقاباللہ کا مراقبہ کیا جاتا ہے۔و یبقی ٰ وجہ ربک ذوالجلال والا کرام تو ہر وجود کے ساتھ قادر مطلق کے انوارت نظرآتے ہیں۔ جن کی وجہ سے وہ قائم ہے تو سامنے سمجھ آرہی ہے کہ قائم بذات صرف اللہ کی ذات ہے باقی سارے وجود اس کے قائم بذات صرف اللہ کی ذات ہے باقی سارے وجود اس کے قائم رکھنے سے قائم ہیں۔ اس کے بنانے سے بنتے ہیں اور اس کے مٹانے سے مٹ جاتے ہیں ان کی اپنی ذاتی کوئی حثییت نہیں ہے۔ جب اس کیفیت سے صوفیا ءگزرے تو انہوں نے کہا کہ وجودراصل ایک ہی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ ہے۔جو ازل سے ابد تک ہے ، ہمیشہ ہے ،ہر حال میں ہے ہر جگہ ہے۔ باقی نہ ہونے کے برابر ہیں اور صرف اس کے قائم رکھنے سے قائم رہتے ہیں اس کے مٹا دینے سے مٹ جاتے ہیں ان کی کوئی ذاتی حثییت نہیں ہے۔ اسے’وحدت الوجود ‘ کا نام دیا گیا ہے کہ وجود صرف ایک ہے واحد لا شریک ہے۔باقی وجودوں کا ہونا یا نہ ہونا برابر ہے۔شیخ محی لدین عربی ? نے جب اس نظر یے کو اپنی کتاب میں جگہ دی اور اس پر بحث فرمائی تو پھریہ مستقل ایک نظریہ بن گیا۔ لیکن اس کا مفہوم یہ تھا جو میں عرض کر رہا ہوں۔
کاملین سے جاہلین
یہ بات کا ملین کی تھی ، اہل علم کی تھی۔بعد میں جب لوگ آئے ان کا کمال نہ علوم باطنی میں اس پائے کا تھا نہ علوم ظاہری میں ان کے علوم اس پائے کے تھے تو اس میں ایک قبا حت آگئی۔ بجائے اس کے کہ یہ سمجھا جاتاکہ اللہ ہی باقی ہے جو کچھ ہے یہ فانی ہے سمجھا یہ جانے لگا کہ ہر وجود میں اللہ ہے۔وحدت الوجود کاجو مفہوم تھا وہ یکسر بدلنے لگا تو یہ ہندوں والا عقیدہ بننے لگ تھا جیسے ہر وہ طاقت جسے وہ ناقا بل تسخیر سمجھتے ہیں کہ اس میں بھگوان موجود ہے۔ بڑا پہاڑ ہوتو اس کی پوجا شروع کر دو، بڑا درخت ہو تو اس کی پو جاشروع کر دو۔کو ئی بھی جانور ایسا ہوتا جو قابو نہ آئے تو اس کی پوجا شروع کرنا کہ اس میں بھگوان ہے۔تو وہ اس میں قبا حتیں در آئیں نااہلوں کی وجہ سے وہ یہ تھیں۔ ان قباحتوں کی وجہ سے حضرت الف ثانی ? نے اس کے مقابلے
 میں کروحدت الشہود کا لفظ دیا کہ ہر چیز ہر وجود اس کی وحدت پہ گواہ ہے یعنی ہر وجود کی ذات ہے وہ اس کی قدرت کاملہ پہ گواہ ہے۔اس کی شہادت دے ہی ہے تو ان قباحتوں سے بچنے کے لئے اس کی اصلاحی صورت تشکیل دی گئی جس میں خطرہ کم تھا یا نہ ہونے کے برابرتھا۔اب جسے گمراہ ہونا ہو اور کوئی ایسی گستاخی کر بیٹھے کہ اللہ کریم اسے رو کر دے تو گمراہ ہوتا ہی ہے۔
یھدی الیہ من ینیب قرآن حکیم کتاب ہدایت ہے لو گ اس کی وجہ سے اعتراض تراش کر گمراہ ہو جاتے ہیں تو جو آب حیات پی کر مر جائے اب اس کا علاج ہے لیکن وہ خطرات ختم ہو گئے اور اصل بات نکھر کر سامنے آگئی۔ اسے حقوق دے ہیں اسے زندگی سی ہے یا اسے شعور دیا ہے لیکن وہ گواہ ہے اللہ کی قدرت کاملہ پر۔وہ انسان ہے یا حیوان ہے ‘ جاندار ہے نباتات ہے ، آسمان ہے یا زمین ہے ‘ کوئی وجود بھی ہے تو وہ ایک شہادت دے رہا ہے اور سب شہادت جو ہے وہ اللہ کی قدرت کاملہ پر ہے ، اس کے خالق اور اس کی قادر مطلق ہونے پر ہے تو یہ ان خطرات سے بچنے کے لئے جو لوگوں کی علمی یا باطنی استعداد کی کمزوری کی وجہ سے وحدت الوجود کیاا صطلا ح سے در آئے تھے ان سے بچنے کیلئے جو لوگوں کی علمی یا باطنی استعداد کی کمزوری کی وجہ سے وحدت الوجود کی اصطلاح سے در آئے تھے ان بچنے کے لئے یہ راستہ اپنایا گیا۔ وحدت الشہود کا تو یہ اصطلاحات ہیں یہ نظریات نہیں ہیں یہ اصطلاحات ہیں۔نظریات یا عقائدوہی ہیں جو شریعت مطہرہ نے بیان فرما دئیے۔
نظریات یا عقائد وہی ہیں جو شریعت مطہرہ نے بیا ن فرمادئیے۔اب مختلف کیفیات کے اظہار کے لئے مختلف اصطلاحات ہیں جن سے اس کی کیفیت کا اظہار مطلوب ہے۔ تو اپنی اصل دونوں درست ہیں ان میں اختلاف نہیں ہے۔ صرف یہ ہے کی وحدت الوجود جب کہاگیا تو اس میں خطرات درآئے اور بجائے اس کے یہ سمجھاجا کہ ہر وجود جو ہے اسکی ذاتی کوئی حثییت نہیں ہے سمجھایہ جانے لگاکہ ہر وجود اللہ ہے۔تو اس کی اصطلاح حضرت مجدد الف ثانی ؒجو لائے وہ تھی وحدت پر ہے۔اس کے خالق کائنات ،خالق کل اور قادرمطلق ہونے پر ہے تو وہ نظریات ہیں جن کے پاس علوم ظاہربھی ہوں اور انہیں کمالات باطنی بھی حاصل ہوں۔تو عموماًاہل علم جو اس شعبے میں آتے ہیں تو یہ ان کے بحث کرنے کی باتیں ہیں اور اپنے علم کے مطا بق اسے سمجھتے ہیں اور اس میں غلطیاں ہوتی ہیں۔دراصل بات ایک ہی ہے اس کے لئے اصطلاحیں دو ہیں اور یہ بنیادی عقیدہ ہے اسلام کا اس میں سے ہے کہ قائم بذات صرف اللہ ہے باقی ہر چیز فانی ہے اور جسے اللہ بناتا ہے بنتی ہے جسے اللہ مٹادیتاہے مٹ جاتی ہے۔کو ئی تشریح ان حدود سے متجاوزنہیں ہونی چاہیے جو شریعت مطہرہ نے متعین فرمادی ہیں
یہ ایسا فن ہے کہ اسمیں ہر شخص کو اپنی استعداد اور اپنی علمی استعداد جس طرح اللہ کریم نے مختلف استعداددی ہے علم ظاہر کے لئے۔دو شخص اکٹھے پڑھتے ہیں ایک استاد سے پڑھتے ہیں ایک جیسی کتابیں پڑھتے ہیں لیکن دونوں کی حثییت الگ الگ ہوتی ہے۔اس لئے کہ دونوں کی اپنی استعداد جو ہے حصول علم کی وہ الگ ہوتی ہے۔اس طرح بے شمار لوگ اللہ اللہ سیکھتے ہیں ،کیفیات باطنی حاصل کرتے ہیں ایک ہی استاد سے ایک ہی وقت میں کرتے رہتے ہیں لیکن ہر حال الگ ہوتاہے۔ جس طرح کی کیفیات کی استعداد اللہ کریم نے اسکے وجود میں رکھی ہوتی ہے اس طرح کی کیفیات بھی حاصل کرتاہے اور جس طرح کا شعورو آگہی کا مادہ اس میں اللہ کریم نے رکھا ہوتاہے اسی طرح سے وہ سمجھتاہے۔تو اصولی بات یہ ہے کہ جو بنیادی عقائدہیں شریعت کے اصل ہیں۔آگے یہ سب تشریحات ہیں اور کوئی تشریح ان حدودسے متحاوزنہیں ہونی چاہیے جو شریعت مطہرہ نے متعین فرمادی ہیں۔
ان حدودکے اندروضاحتیں ہیں تفصیلات ہیں۔جیسے قرآن حکیم کی تفسیر میں بے شمار تفصیل لکھی حضرات نے اللہ مفسرین کرام پرکروڑوں رحمتیں نازل فرمائے لیکن اس سب کا معیار یہ ہے کہ وہ جتنی تفصیل میں چلے جائیں وہ تفصیل ان حدود کے اندرہونی چاہئے جو حضوراکرم ﷺ نے متعین فرمادیں۔ شارحیں حدیث نے حدیث مبارکہ پر بڑی لمبی بحثیں فرمائی ہیں۔مختلف لوگوں نے اعتراض کئے۔حضرات نے ان کے جواب دئیے اور ایک ایک حدیث پر بہت بڑی بڑی لمبی بحثیں ہیں تو شرط بنیادی صرف یہ ہے کہ جو نبی کریم ﷺ کی مراد رتھی۔ارشاد سے آپ ﷺ کی مراد کیا تھی اس کی دلیل یہ ہے کہ صحابہ کرام نے اس کا کیامفہوم سمجھا، اس پر حضور ﷺ کے سامنے کیسے عمل کیا اور حضور ﷺ نے اسکی تصدق فرمائی وہ ہوجاتی ہے۔ ان الفاط سے مراد کیا تھا اس حد کے اندر جتنی تشریح ، جتنی تفصیل ہوتی رہے۔جب اس حد سے متصادم ہو گی تو باطل ہو جائے گی۔چو نکہ حق اس کے اندر ہے۔اس طرح صوفیا کے مراقبات ہوتے ہیں کیفیات ہوتی ہیں مختلف کیفیات سمجھتے ہیں وہ اور ان کی تعبیر ات ان کو دیتے ہیں لیکن اس سب کی شرط یہی ہے کہ شریعت مظہرہ کی حدود کے اندجو کچھ ہے وہ حق ہے جہاں سے کسی کی کیفیت یا کسی کا کشف یا کسی کا الہام شریعت سے متصادم ہوگا تو باطل ہو جائے گا اور شریعت بر حق ہے۔
وحی کی کیفیت اور کشف والہام
ہوتایہ ہے کہ انبیا ءعلیہم الصلوۃ والسلام نے بھی ساری شریعت کشف وا لہام سے ، وحی سے حاصل فرمائی۔وحی کی کیفیت بھی صرف نبی پہ ظاہر ہوتی ہے کوئی دوسرا جو پاس بیٹھا ہوا اور وحی نازل ہو رہی ہوتو دوسرے کو سمجھ نہیں آتی۔اس طرح کشف و الہام بھی صاحب کشف والہام پہ وارد ہوتاہے کوئی ساتھ دوسرا بیٹھا ہواسے سمجھ نہیں آتی۔لیکن نبی کریم ﷺ پر جو وارد ہوتااس میں دوباتیں یقینی تھیں۔اس میں ایک تو حضور ﷺ پہ جوکچھ واردہوتاوہ حق ہوتا تھا۔اس میں شیطان مداخلت نہیں کرسکتا تھا۔دوسری بات یہ حق ہوتی تھی کہ جو کچھ حضور پہ وحی یا کشف سے ‘ یا نبی کا خواب بھی وحی الہیٰ ہوتاہے ‘ خواب سے اگر کوئی بات نبی پہ وارد ہوتی ہے تو وہ بھی وحی ہوتی ہے اور وہ بھی برحق ہوتی ہے نہ اس میں شیطان مداخلت کرتاہے اورنہ اللہ کے نبی کوسمجھنے میں غلطی لگتی ہے۔
صوفیا ء اور انبیا ءکے کشف اور مجاہدہ میں فرق :
جو کشف اور مجاہدہ صوفیاءکو ہوتاہے وہ بھی وہی ہوتاہے جو نبی کو ہوتاہے۔اس لئے کہ باتباع نبی اور نبی کی اطاعت میں فنا ہونے سے وہ برکات نصیب ہوتی ہیں۔لیکن یہاں بہت بڑا فرق ہے۔صوفی کے مشاہدے یا اس کے القایا کشف میں شطان بھی مداخلت کرسکتاہے۔یہ دونوں خطرات ولی کے ساتھ موجود ہیں جو نبی کے ساتھ نہیں ہیں ،لہٰذاہر ولیٰ االلہ کا کشف ومشاہدہ محتاج ہے نبی کے ارشادات عالیہ کا۔ اگر حضور ﷺ کے احکام کی حدود کے اندر ہے ،اس کے مطابق ہے تو درست ہے اگر متصادم ہے تو باطل ہے۔دوسری بات یہ ہوتی ہے کہ جو کشف نبی کو ہوتوہے ،جوا لہام نبی ہوتا ہے ،جو وحی نبی پہ آتی ہے ، جو خواب اللہ کا نبی دیکھتا ہے ساری امت اس کی مکلف ہوتی ہے۔پوری امت کو وہ ماننا پڑتا ہے۔ جو مشاہدہ ولی کو ہوتا ہے کو ئی دوسرا بندہ اس کا مکلف نہیں۔صاحب مشاہدہ اگر اس کا مشاہدہ شرعی حدود کے اندر ہے تو اس پر عمل کرنے کا پابند نہیں ہے کہ فلاں کو یہ کشف ہوااس لئے میں یہ عمل کروں۔ یہ شان صرف انبیاءعلیہم الصلوۃوالسلام کی ہے تو لہذا کو ئی بھی نظریہ ہو یا اسے آپ اصطلاح کہیں یا کشف کہیں یا مشاہدہ کہیں تو بنیاد شریعت مطہرہ ہے اور ارشادات نبوی ﷺاور قرآن اور حدیث ہے اور سنت ہے اس کے اندر اندر اس کی تشریحات اس کی تفصیلات علماءکو اللہ کریم علم کے راستے بتادیتاہے ،علم کے ذریعے سے سمجھادیتا ہے اور بڑی بڑی بحثیں علماء حضرات نے فرمائی ہیں اور علما ہی کو مشاہدات بھی نصیب ہوتے ہیں۔جو اس طرف آجائے اس اللہ کریم کشف اور مشاہدے سے سرفراز فرماتے ہیں ان کے کشف سے کوئی نیا حکم جاری نہیں ہو سکتااور شرعی حدود سے باہر بھی نہیں ہو سکتیں۔اسلام تو ارشادات نبویﷺ کا نام ہے ، اسلام تو اعمال نبوی کا نام ہے ،اسلام تواخلاق نبوی ﷺکا نام ہے۔جو حضو ر ﷺ نے سکھادیا وہ اسلام ہے۔(بحوالہ ماہنامہ المرشد فروری اور مارچ 2007)
راہ سلوک میں اس مسئلہ کی حثیت نہ فرض ،نہ واجب پھراس پر جرح فضول ہے ،میرے علم کے مطابق اس عہد میں یہ مسئلہ اہل سلوکو پیش ہی نہیں ہے ۔پھر منکرین تصوف کا اس پر زور ماسوائے جہالت اور تلبس کے کچھ بھی نہیں۔فی زمانہ میں اہل سلوک کے چاروں سلاسل وحدت الوجود بامعنی عقیدہ حلول بری الذمہ ہیں۔نقشبندیہ کے سرخیل امام مجدد الف ثانیؒ نے صاف صاف لکھا ہے:۔
”ہم کو نص سے کلام ہے نہ فص سے فتوحات مدینہ یعنی حادیث نے ہم کو فتوحات مکیہ سے لاپرواہ کر دیا ہے“۔( مکتوبات۱۰۰جلد اول)
سوال کا دوسرا حصہ یہ ہے:۔
ایسے عقائد کے حامی صوفیاءکی حمایت کیوں کی جاتی ہے؟
جہاں تک ابن عربیؒ کی حمایت کی بات تو اس صف میں بڑے بڑے لوگ نظر آتے ہیں ، اور س کی حمایت کی وجہ یہ ہے کہ ہر شخص اپنے علم وفکر کی نظر سے دیکھتا ہے۔کیلانی صاحب کو چاہے تھا کہ وہ یہ سوال صوفیاء سے پوچھنے کے بجائے پہلے اپنے ہم مسلک علماء سے پوچھتے کہ اکابرعلماء اہل حدیث امام ابن عربیؒ کے اتنے دیوانے کیوں تھے؟
مسلک اہل حدیث کے پیشواوموسس شیخ الکل سید نذیر حسین دہلویؒ کی مبارک سوانح میں ملتا ہے:
 سید نذیر حسین دہلویؒ اور عقیدت علامہ ابن عربیؒ:۔
 حضرت سید نذیر حسین دہلوی ؒ صوفیاءعظام سے بے حد عقیدت ومحبت اور احترام کیا کرتے تھے۔خاص الخاص شیخ اکبرعلامہ ابن عربیؒ سے تو بہت زیادہ عقیدت تھی۔مولانا بہاریؒ لکھتے ہیں:۔
 ”طبقہ علماءاکرام میں شیخ محی الدین ابن عربیؒ کی بڑی تعظیم کرتے ،اور خاتم الولایہ المحمدیہ فرماتے۔اور بات بھی یہی ہے کہ علم ظاہر وباطن کی ایسی جامعیت ندرت سے خالی نہیں ہے۔مولانا قاضی بشیر الدین قنوج علیہ الرحمہ جو شیخ اکبر کے سخت مخالف تھے۔ایک مرتبہ دہلی سے اس غرض تشریف لائے کہ انکے بارے میں میاں صاحبؒ سے مناظرہ کریں ،اور دو مہنے دہلی میں رہے،اور روزانہ مجلس مناظرہ گرم رہی،مگر میاں صاحب اپنی عقیدت سابقہ سے جو شیخ اکبر ؒ کی نسبت رکھتے تھے،ایک تل کے برابربھی پیچھے نہ ہٹے،آخرممدوح جن کو میاں صاحب ؒ سے کمال عقیدت تھی،دومہینے کے بعد واپس تشریف لے گئے ۔
مولانا مغفور اکثر طلباءکو کتب درسیہ پڑھا کر حدیث پڑھنے کے لئے دہلی بھیج دیتے ، چنانچہ پیشتر شاگرد مولانا مغفور کے میاں صاحبؒ کے بھی شاگرد ہیں۔مگر چونکہ ان لوگوں کے خیالات شیخ اکبر کی طرف سے مولانا مغفور کے سنیچے ہوئے تھے،ان میں بہت کم ایسے تھے جو شیخ اکبر کے ساتھ حسن ظن رکھتے ہوں۔مولانا ابوالطیب محمد شمس الحق (جو مولانا مغفور کے تلمیذ خاص اور میاں صاحب ؒ کے شاگرد رشید ہیں)نے بھی میاں صاحب ؒ سے کئی دن متواتر شیخ اکبر کی نسبت بحث کی ،اور فصوص الحکم شیخ اکبر پر اعتراض جمائے۔میاں صاحب نے پہلے سمجھایا ،مگر جب دیکھا کہ ابھی لا تسلم ہی کے کو چہ میں یہ ہیں تو فرمایاکہ:۔
” فتوحات مکیہ“ آخری تصنیف شیخ اکبر کی ہے ،اور اسی لیے اپنی سب تصانیف ما سبق کی یہ ناسخ ہے“
اس جملہ پر یہ بھی سمجھ گئے(الحیات بعد الممات ص ۳۲۱،۴۲۱)
مولانا ابرہیم میر سیالکوٹی اور عقیدت ابن عربیؒ:۔
مولانا محمد ابرہیم میر سیالکوٹیؒ صوفیاءعظام سے بے حد محبت اور عقیدت و احترام رکھتے تھے،اور صوفیاءعظام ؒ کے طریق کو دنیا وآخرت کی کامیابی کا ذریعہ جانتے تھے، ”تاریخ اہل حدیث “ میں آپؒ نے علم وعمل بالحدیث ہندوستان کے تحت جن علما ء کا تذکرہ فرمایا ،وہاں آپ ؒ نے حضرات محدثین ؒ کے تعلق تصوف و احسان کو بھی کھل کر بیان فرمایا۔
آپ اپنی مایہ ناز تفسیر ام لقرآن واضح البیان میں فرماتے ہیں:۔
”جن پر اللہ تعالیٰ کی باطنی و روحانی نعمتیں ہوئیں اور وہی اس قابل ہیں کہ اللہ تک پہنچنے کےلئے انکی راہ اختیار کی جائے،اور وہی اس لائق ہیں کہ انکی اقتداءکی جائے“۔(ص)
ابن عربی رحمہ اللہ سے عقیدت اور وحدت الوجود:۔
آپ کواپنے استاد شیخ الکل سید نذیرحسین دہلویؒ کی طرح شیخ ابن عربی ؒ سے بڑی عقیدت و مواظبت تھی،آپ نے اپنی تصنیفات میں مختلف مقامات پر ابن عربیؒ کی کتب سے خوب استفادہ کیا،اور بڑی عقیدت ومحبت سے ” حضرت شیخ اکبر رحمہ اللہ“ کے لقب سے یاد فرماتے ہیں ۔آپ وحدت الوجود کے بھی قائل تھے
 ”مولانا ثناءاللہ امرتسریؒ فرماتے ہیں کہ ہم نے مولانا ابرہیم میر سیالکوٹی ؒ سے سلسلہ وحدۃ الوجود کے متعلق دریافت کیاتھا۔وحدت الوجود کے سواہ چارہ نہیں“۔(فتاوی ثنائیہ جلد اول)
یہ ذہن میں رہے کہ وحدۃ الوجود سے مراد یہ ہر گز نہیں ہے کہ ہر شئے ہی خدا ہے ،یہ جہلاءکا نظریہ ہے۔
نواب صدیق حسن خان اور مسئلہ وحدت الوجود:
نواب صدیق حسن خانؒخطیرۃالقدس میں اس موضوع پر تفصیلی بحث فرمائی ہے اس اختلاف کے متعلق فرماتے ہیں:۔
”ہم لوگ چونکہ ان اختلافات کے بعد پیدا ہوئے ہیں اس لئے ہم کو طرفین میں سے کسی ایک طرف جزماًمیلان نہیں ہو سکتا ۔مذہب وحدت الوجود اور مذہب وحدت شہود دونوں پر اگر نظر ڈالی جائے تو جسطرح ایک جانب بہت سے دلائل ہیں اسی طرح دوسری طرف بھی بہت سی دلیلیں ہیں ہم پر اعتقادً لازم ہے کہ ہم کسی جانب بھی ضلالت اور گمراہی کا خیال دل میں نہ لائیں کیونکہ اس میں بہت سے علماءاکرام اور مشائخ عظام کی تضلیل و تکفیر لازم آتی ہے،وحدت الوجود کے اثبات یا ابطال میں لب کشائی نہ کرنی چاہئے اگر خود ذی فہم ہے تو
 اپنی فہم پر قناعت کرے اور اگر وہ نہیں سمجھتا تو ان اقوال کو انکے قائلین پر چھوڑ دے “۔
مزید فرماتے ہیں:۔
وحدت الوجود وشہودجس سے مراد ہستی حق اور نیستی کو زمانہ حال و استقبال میں پیش نطر رکھاجائے تو یہ امر شرع کے اصل مقصد کے منافی نہیں ہے البتہ جو اختلاف اقوال و احوال اور اسکے شرح و بسط میں پیدا ہو گئے ہیں ۔کچھ شک نہیں کہ وہ شریعت سے کسی قدر بعد رکھتے ہیں اور ایک عالم کی گمراہی کا سبسب بن گئے۔اگر یہ خدشہ مانع نہ ہوتا تو میں اس مسلئہ وحدت الوجود کو متکلمین کے ہفوات چھوڑ کر محدثین کے اقوال و اشارات اور دلائل عقلی و نقلی سے اس طرح ثابت کرتا کہ علماءظاہری میں سے بھی کسی کو اس سے انکار نہ ہوتااور وہ اسکے خلاف میں لب کشائی نہ کر سکتا مگر کیا کیا جائے مصیبت تو یہ ہے کہ جوارباب علم ہیں انکو تفنن عبارات کی طرف توجہ رہتی ہے نہ معانی کی طرف ورنہ اگر حقیقتاً دیکھا جائے تو اس میں مابہ النزاع بات نہیں ہے،ع الا کل ۔اخل اللہ باطل اس سے بڑھ کر نادانی کیا ہو سکتی ہے کہ آدمی ہر مرتبہ اور ہر حال میں احکام وجود کا منکر اور ہمہ اوست کے معانی نعوذ باللہ شریعت سے آزاد ہونا سمجھے۔(تفصیل دیکھئے خطیرۃ القدس و مآثر صدیقی حصہ چہارم)
ابن عربی ؒ مولانا ثناء اللہ امرتسری کی نظر میں:
مولانا ثناء اللہ امرتسری ؒ سےجب پوچھا گیا کہ اکثر علماء اورصوفیاء اکرام ابن عربی ؒکو مقدس بزرگ مانتے ہیں اور بعض علماء انکو مسلئہ وحدت الوجود کا قائل ہونے کی وجہ سے کافروالحاد کی طرف منسوب کر کے دائرہ اسلام سے خارج فرماتے ہیںان کے متعلق آپ کا کیا خیال ہےاور مسلمانوں کیا گمان رکھنا چاہئے؟
جواب:شیخ ابن عربی کو کافرقرار دینے والا مسئلہ بہت نازک ہےمولانا نواب صاحب(نواب صدیق حسن خانؒ)بھوپال اپنی کتاب تکثار میں علامہ شوکانی سے نقل کرتے ہیںکہ میں نے چالیس سال تک شیخ ابن عربی کی تکفیر کی آخر میں میری رائے غلط معلوم ہوئی تو میں نے رجوع کیا،نواب صاحبؒ شیخ ابن عربی کوعزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اورمولانا سید نذیر  حسین المعروف حضرت میاں صاحب دہلویؒ شیخ ابن عربی کو شیخ اکبرلکھتے ہیںحضرت مجدد سرہندی بھی شیخ موصوف کومقربان الٰہی سے لکھتے ہیںاس لئے خاکسار کی ناقص رائے میں بھی شیخ موصوف قابل عزت لوگوں میں ہیں۔(فتاوی ثنائیہ جلد 1صفحہ 332)
یہ تمام حضرات مسلک اہل حدیث کی مستند شخصیات میں سے ہیں ،طوالت کے خوف سے ان ہی حوالہ جات پر اکتفاءکرتا ہوں ورنہ صوفیاءاہل حدیث کے اس مسلئہ پر مزید حوالہ جات بھی میرے علم میں ہیں ۔
یہ رائے اب صاحب علم لوگوں کی ہے ،اب کیلانی جیسا شخص جو نہ ظاہری علوم میں کامل اور نہ علوم باطنی کو جانتاہے ایسے شخص کی کیا حثیت کہ معارف سلوک میں گفتگو کریں اور اہل اللہ پر جرح کریں علم سلوک کے متعلق مناظر اسلام ابولوفا مولانا ثنا ءاللہ امرتسریؒ جیسا اہل حدیث عالم یہ کہنے پر مجبور ہے
راہ اعتدال مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ
”اس مسئلہ کی غلط فہمی سے کہ شریعت کو طریقت سے کیا نسبت اورر تعلق ہے مسلمانوں میں سخت افراط وتفریط ہو رہی ہے بعض بلکہ اکثر جہّال تو اس بہانے سے کہ شریعت ظاہر ہے اور ظاہر بینوں کے لئے ہے تمام احکام شریعت کو جواب دے بیٹھےہیں ،شریعت مطہرہ کے کسی حکم کا ادب انکے دل میں نہیں ہے حتی کہ نماز روزہ کو بھی جو نشان اسلام سمجھے جاتےہیں،یہ نالائق ٹٹی کی آڑ میں شکار کھیلنے والے صاف صاف لفظوں میں جواب دیتے ہیں،اور کھلے منہ بغیر مطلب سمجھنے کے ایسے راگ الاپتے ہیں ؟
                نہ رکھ روزہ نہ مر بھوکا نہ جا مسجد نہ دے سجدہ                  
                   وضو  کا توڑ  دے کوزہ شراب شوق پیتا جا  
ایسے ہی جاہلوں کے زغم اٹھا کر بعض اہل شریعت،طریقت اور تصوف سے منکر ہو جاتے ہیں،اور یہ سمجھتے ہیں کہ یہی نماز یں جو ہم سیدھی ٹیڑی پڑھتے ہیں، بس یہی اصل اسلام ہیں،یہی پیغمبر اسلام علیہ السلام کی تعلیم کا خلاصہ اور اصل ہیں مگر بغور دیکھیں تو دونوں کی رائے غلط۔ گو پہلے فریق کی تو اغلط بلکہ کفر تک پہونچتی ہیں۔اس لئے میں نے چاہا کہ اس رسالہ میں شریعت وطریقت کی نسبت اور تعلق بتلاوں ،جو پیغمبر علیہ السلام نے ان دونوں کو بتلایا ہے۔مگر مشکل یہ ہے کہ طریقت اور تصوف بیان مشکل ہے جسکی بابت کہا جاتاہے کہ
                             فنّ التصوّف ما ادقّ   بتحیر فیہ الام الرازی                                      
” یعنی تصوف کافن ایسا باریک ہے کہ امام رازی ؒ جیسی فاضل اجل اور باریک بین بھی اس میں حیران و سرگردان ہیں“
پھر مجھ جیسے کج مج زبان سے کیونکر اسکا مطلب ادا ہو سکے۔مگر چونکہ اس مسئلہ کو بزرگانِ دین اور اکابرانِ ملّت قویم علماءکرام و صوفیاءعظام رضی اللہ عنہم نے جو شریعت اور طریقت کے مسلّمہ امام ہیں واضح طور سے بیان کیا ہوا ہے ،لہذا انہی کی کتابوں سے نقل کر کے مسئلہ ہذا کی توضیح کر تا ہوں۔الفضل اللمتقدم“۔(مولانا ثناءاللہ امرتسری، رسالہ شریعت اور طریقت ص 1۔2 ،مطبع اہلحدیث امرتسر اشاعت 30 دسمبر 1909ء)
کیلانی صاحب کی کتاب انتہائی سطحی نوعیت کی ہےافسوس ہے کہ مجھے تلاش وبیسار سے بھی کوئی ایسی بات نہ مل سکی جس کا جواب دینا ضروری ہوکیونکہ مولانا صاحب اصل اور نقل میں فرق کرنے سے محروم تھے ۔یہاں پر میں نے فقط ایک سوال کا جواب دیا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ قارہین پر اس کتاب کی حقیقت واضح ہو جائے
میری احباب سے گذارش ہے کہ اگر کسی سوال کو اہم سمجھتے ہیں تو اسکو پیش کریں ان شاءاللہ اس کا جواب دیا جائے گا ،میں نہیں چاہتا ہے کہ وقت کو ان فضول باتوں میں ضائع نہ کروں۔

ابن محمد جی قریشی
ibne_m.jee@hotmail.com
http//knooz-e-dil.blogspot.com
fcbook:qureshiaqeel/5940
WhatsAPP:0331-9110527

Jul 1, 2017

مسئلہ اعانت واستعانت

0 comments
مسئلہ اعانت واستعانت
برصغیرپاک وہندمیںمسلمانوں کے درمیان جو اختلاف پائے جاتے ہیں ان میں ایک بڑا شدید اختلافی مسئلہ غیر اللہ سے غائبانہ اعانت واستعانت کا ہے۔ہمارے پاس الحمد للہ اس مسئلہ کے حل کے لئے دونوںطرح کے دلائل موجود ہے جہاں تک ظاہری علوم کا تعلق ہے۔تو یہ مسئلہ قرآن و حدیث میں بالکل واضح ہے۔دوسری دلیل اہل ذوق کے لئے کہ وہ آئے خود محنت کرے ، خود ولی بنےاللہ کرے گاانشاء اللہ تو ان پر حقائق واضح ہو جائیں گے۔اسے معلوم ہو جائے گا کہ حقیقت میں فیض کسے کہتے ہیں؟تصرف فی اولیاء کی حقیقت کیا ہے؟
ہمارےہاںایک طبقہ نےتوکشف ومشاہدات کاانکارکردیاہےاوردوسرے طبقے نے اولیاء اللہ کو مشکل کشا مان لیا ہے ان کا خیال ہے کہ جو چاہئں وہ کر سکتے ہیں اصل میں یہ مسئلہ بین بین ہے۔
اولیاء اللہ کو کشف ومشاہدہ ہ اور تصرف بھی ہوتا ہے اس میں کچھ شک نہیں۔حضرت سلیمان علیہ السلام کے صحابی کا واقعہ قرآن میں ہے۔قَالَ يٰٓاَيُّهَا الْمَلَؤُا اَيُّكُمْ يَاْتِيْنِيْ بِعَرْشِهَا قَبْلَ اَنْ يَّاْتُوْنِيْ مُسْلِمِيْنَ ( 38) قَالَ عِفْرِيْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِيْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَ  ۚ وَاِنِّىْ عَلَيْهِ لَقَوِيٌّ اَمِيْنٌ)39)قَالَ الَّذِيْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ اَنَا اٰتِيْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ يَّرْتَدَّ اِلَيْكَ طَرْفُكَ  ۭ فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ قَالَ ھٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّيْ   ڷ لِيَبْلُوَنِيْٓ ءَاَشْكُرُ اَمْ اَكْفُر ُ  ۭ وَمَنْ شَكَرَ فَاِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ  ۚ وَمَنْ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّيْ غَنِيٌّ كَرِيْمٌ   ( 40؀ ) 
سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے سردارو ! تم میں کوئی ایسا ہے کہ ان کے فرمانبردار ہو کر آنے سے پہلے اس (ملکہ) کا تخت میرے پاس لے آئے( 38)تو ایک قوی ہیکل جن نے عرض کیا کہ میں پہلے اس کے آپ اجلاس سے اٹھیں آپ کی خدمت میں پیش کردوں گا اور بیشک میں بہت طاقتور بھی ہوں اسے لاسکتا ہوں (اور) امانتدار بھی ہوں(39) جس کے پاس کتاب (الٰہی) کا علم تھا اس نے کہا میں آپ کی آنکھ جھپکنے سے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کیے دیتا ہوں۔ پس جب انہوں نے اس (تخت) کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا تو فرمایا یہ میرے پروردگار کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے کہ میں شکر ادا کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں۔ اور جو شخص شکر ادا کرتا ہے تو وہ اپنے ہی نفع کے لئے کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو یقینا میرا پروردگار بےنیاز (اور) کرم کرنے والا ہے(40) (اکرام التراجم)
صاحب اسرار التنزیل ان آیات کی تفسیر میں”کتاب اللہ “کی تفسیر میںلکھتے ہیں کہ:
 ”کتاب اللہ کا علم کیا ہےحق یہ کہ کتاب محض الفاظ ومعانی ہی نہیں ہوتےبلکہ ہر لفظ میں انوارات و تجلیات اور کیفیات ہوتی ہیںجو سب نبی کے دل پر وارد ہوتی ہیںاور اس کی حقیقت متبعین کو سینہ بسینہ نصیب ہوتی ہیں انہی کیفیات کے حامل ولی اللہ کہلاتے ہیں اور ایسے علماء ہی انبیاء کے وارث ہوتے ہیں ورنہ محض الفاظ و معانی سے کھیلنے والے عموماً کتاب اللہ کو بھی ذریعہ معاش بنا پاتے ہیں اور بس۔ان کیفیات کے حامل لوگوں میںتصرف کی قوت بھی حسب استعداد ہوتی ہےجس کا اظہاربھی مختلف مواقع پر ہوتا رہتا ہے ۔ قلبی طور پر اس کی تحقیق جو حضرت  کے حکم پر کی گئی تھی یہ سمجھ آئی تھی کہ اس شخص نے جو آپ کا صحابی اور درباری تھااور مفسرین جس کا نام اآصف بن برخیا لکھا ہےاپنے قلب کے انوارات تخت پر القا ء فرما کرایک بار اللہ کہاتو تخت سامنے پڑا تھا“۔ 
مگر یہاں پر جو خاص بات جاننے اور سمجھنے والی ہےوہ یہ ہے کہ اس طرح کے روحانی تصرف کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ اولیاء اللہ جب جو اور جیسے چاہے کشفاً دیکھتے رہےاور تصرف کرتے رہے،ایسا ممکن نہیں ۔یہ قوت صرف اللہ کی ہے کہ وہ جو چاہےاور جیسے چاہےکر سکتا ہے۔ہوتا یہ ہے کہ جب اللہ چاہتا ہےدنیا دار السبب ہےاللہ بطور سبب اپنے محبوب بندے کے دل میںبات ڈال دیتا اور جوں ہی وہ توجہ کرتا ہے کام ہو جاتا ہے اور اسے کرامت کہتے ہیںاور بعض کرامت خود صاحب کرامت کو بھی حیران کر دیتی ہے۔
قرآن مجید میں حضرت ابراہیم ؈کا ذکر مبار ک موجود ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کے اولولعزم نبی تھے اللہ نے ان کے سامنے کائنات منکشف کر دی وَكَذٰلِكَ نُرِيْٓ اِبْرٰهِيْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلِيَكُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِيْنَ(سورۃ الانعام:75)مگر وہی ابراہیم علیہ السلام ہیںوَلَقَدْ جَاۗءَتْ رُسُلُنَآ اِبْرٰهِيْمَ بِالْبُشْرٰي قَالُوْا سَلٰمًا  ۭ قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَاۗءَ بِعِجْلٍ حَنِيْذٍ  (سورۃھود 69؀)
”صاحب اسرار التنزیل فرماتے ہیںاس آیت سے یہ عقدہ بھی کھلا کہ انبیاء اپنے علم کی وسعت کے باوجود ہر آن اللہ کے دربار میں ہی امیدوار کرم رہتے ہیں اور وہی جانتے ہیں جو وہ بتاتا ہے کہ فرشتے تھے انھوں نے کھانا تو نہ کھانا تھا مگر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پہچان نہ سکے اور انسان سمجھ کر تو اضع کی لیکن جب انھوں نے کھانے کی طرف ہاتھ نہ بڑھایا تو آپ گھبراگئے کہ عرب اور فلسطین کا دستور تھا کہ دشمن کا کھانا نہ کھاتے تھے آپ نے سمجھا کہ شاید کوئی دشمن ہوں مگر فرشتوں نے عرض کیا کہ ہم تو اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں اور اللہ نے قوم لوط کو تباہ کرنے کے لئے بھیجا ہے تو ان کی بیوی ہنس دیں۔ غالباً اسی بات سے کہ کس قدر جلدی فرمائی بچھڑا ذبح کیا مجھ سے پکوایا اور اب پتہ چلا کہ یہ تو فرشتے ہیں انھیں کھانے پینے سے غرض نہیں ۔(تفسیر اسرار التنزیل)
اب یہ اللہ کی شان ہے کہاں پوری کائنات کا منکشف ہونا اور کہاں فرشتوں کو انسان سمجھ کر ان کے آگے تلا ہو ابچھڑا رکھ دینا۔اسی طرح حکم دیافَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْیَ قَالَ یَا بُنَیَّ إِنِّی أَرٰی فِی الْمَنَامِ أَنِّی أَذْبَحُکَ فَانْظُرْ مَاذَا تَرَیجب وہ ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ دوڑنے کی عمر کو پہنچے تو اُنہوں نے فرمایا: اے پیارے بیٹے! میں خواب میںدیکھتاہوں کہ تمہیں ذبح کررہاہوں۔ بتاؤ! تمہاری کیا رائے ہے ؟(سورۃ الصافات۔102)یَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِیْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِینَ .اے میرے والد بزرگوار!آپ کو جو حکم دیاجارہاہے اس کو پورا کرگزرئیے، اگر اللہ نےچاہاتو یقینا آپ مجھے صبرکرنے والوںمیں پائیں گے۔(سورۃ الصافات۔102)
جب انہیں حکم دیا کہ بیٹے کو میرے سامنے ذبح کرو تو آخر تک نہیں بتایا کہ تیرے بیٹے کو بچا لوں گا۔بسم اﷲ، اﷲ اکبر چھری چلا دی خون بہہ نکلاجسم تڑپ کرٹھنڈا ہو گیا اور ابھی تک حضرت ابراھیم علیہ السلام سمجھ رہے ہیں کہ میں نے اسمٰعیل علیہ السلام کو ذبح کر دیا ۔ آنکھوں سے پٹی ہٹائی تو حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کھڑے مسکرا رہے ہیں او ر دنبہ ذبہ ہوا پڑا ہے۔گھبرا گئے میں نے اسمٰعیل علیہ السلام کو ذبح کرنا تھاکیا میری قربانی ضائع گئی؟ فوراً اﷲ کی طرف سے یہ وحی آئی فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِینِ . وَنَادَیْنَاهُ أَنْ یَا إِبْرَاهِیمُ ،قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْیَا إِنَّا کَذَلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِینَ جب وہ دونوں نے حکمِ الہی کو تسلیم کیا اور والد نےلخت جگر کو پیشانی کے بل لٹادیا اور ذبح کرنے لگے توہم نے انہیں ندا دی کہ اے ابراہیم ! واقعی آپ نے خواب سچا کردکھایا‘ بے شک ہم محسنوں کو ایساہی بدلہ دیتے ہیں ۔ (سورۃ الصافات ۔ 104) 
اللہ کا امتحان تھا اگر پہلے بتا دیا جاتا تو امتحان نہ ہوتا ورنہ اس طرح تو کسی کے لئے کچھ مشکل نہیں کہ اسے پتہ ہو کہ بچے کے گلے پر چھری پھیرو بچہ ذبح نہیں ہو گا دنبہ ہوگا تو پھر کیا مشکل ہے حضرت ابرہیم نے اپنی طرف اسماعیل کے گلے پر چھری پھیری تھی آگے اللہ کی اپنی مرضی تھی۔
اسی طرح قرآن کریم میں حضرت یوسف کے واقعے میں ملتا ہے کہ حضرت یوسف ؑ نے اپنے بھائیوں کو مصر میں اپنا کرتہ عطاء کیا اورکہاکہ یہ میرے والد کی آنکھوں پر لگانا ان کی بینائی لوٹ آئے گی اور وہ شخص کرتہ لے کر جب مصر سے نکلا کنعان میں بیٹھے ہوئے حضرت یعقوب ؑ نے فرمایا آج مجھے یوسف ؑ کی خوشبو آرہی ہے۔ وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيْرُ قَالَ اَبُوْهُمْ اِنِّىْ لَاَجِدُ رِيْحَ يُوْسُفَ لَوْلَآ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ    94؀جب قافلہ (مصر سے) روانہ ہوا تو ان کے والد فرمانے لگے کہ بیشک مجھے یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو آرہی ہے اگر تم یہ نہ کہو کہ بڑھاپے میں بہکی باتیں کررہا ہوں
لیکن عجیب بات کہ مصر جو کم وبیش آٹھ دن کی مسافت پر تھا وہاں سے خوشبو آنے لگی مگر خود کنعان کے کنویں  
اور قافلے والوں کے پاس سے نہ آئی پھر مصر میں بھی
انھیں برسوں بیت چکے تھے پہلے تو نہ آئی اس کا آسان ساجواب یہ ہے کہ کشف اور مشاہد ہ ازقسم ثمرات ہے جو ہمیشہ وہبی ہوتے ہیں جب اللہ چاہے بتا بھی دے دکھا بھی دے اور جو نہ چاہے نہ بتائے ۔ جب تک اسے منظور تھا نہ یوسف (علیہ السلام) نے اطلاع بھجوائی اور نہ ہوانے خوشبوپہنچائی اور جب اس نے اجازت بخشی تو انھوں نے بھی پیغام روانہ کردیا اور ہوا بھی خوشبولے اڑی۔
  تو ثابت ہوا کہ اللہ کریم اپنے بندوں کو غیب کی خبریں پہنچا تے ہیں  خصوصا انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو اور سب سے زیادہ آقائے نامدار (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غیب پر اطلاع دی گئی جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان کے مطابق تھی مگر یہ علم کسی ذریعے سے پہنچتا ہے کشف الہام القاء وجدان یا پھر انبیاء کو سب سے مضبوط ذریعہ جو نصیب ہوتا ہے وہ وحی الٰہی کا ہے اور نبی کا کشف والہام تو کیا نبی کا خواب بھی وحی ہوتا ہے لیکن یہ سب علم غیب نہیں کہلائے گا علم غیب صرف اللہ کا خاصہ ہےجس میں کوئی بھی دوسرا اس کا شریک نہیں اور آسان لفظوں میں علم غیب کی تعریف یہ ہے کہ بغیر کسی سبب کے حاصل ہو۔ اگر درمیان میں سبب یاواسطہ آگیا تو غیب کی خبر کہلائے گا علم غیب نہ ہوگا اور بغیر واسطے یا کسی ذریعے کے جاننایہ صرف اللہ کریم کا خاصہ ہے۔
یہ چند مثالیں سمجھانے کے لئے قرآن سے بیان کی گئی ہیں ورہمارے ہاں توانتہاء پسندی ہےجہاں یہ عقیدہ رکھنا کہ اولیاء اللہ کچھ تصرف نہیں رکھتے گمراہی ہے اور وہی یہ عقیدہ رکھنا کہ جو وہ چاہئے کر سکتے ہیں تو یہ بھی نری جہالت ہےجو حقیقت وہ عرض کر دی گئی ہے ۔اب یہ اللہ کی مرضی ہے کہ وہ کیا چھپاتا ہے اور کیا منکشف کرتا ہے یہ اسی مالک الملک کہ دست قدرت میں ہے کوئی بندہ کتنا بھی اللہ کاقرب پا جائے ۔بندہ بندہ ہی رہے گا ،خدا نہیں بن سکتا اور اللہ کتنا ہی قریب کیوں نہ ہو اللہ اللہ ہے۔ 
ہمارے ہاں مسلک و شخصیت پرستی اور پھر علماء سو اپنے مفاد کے لئے لوگوں کو حقائق بتانے کے بچائے الٹا گمراہ کر رہے ہیں۔کہیں تو حید کے نام پر اولیاء اللہ کی توہین کی جاتی ہے اور کہیں اولیاء اللہ کی محبت میںانھیں مشکل کشا اور حاجت رواں سمجھا جاتا ہے۔
راقم الحروف نے ایک سفر کے دوران  حافظ غلام قادریحفظہ اللہ تعالی سے اس مسئلہ کے متعلق استفسار کیا تو درج بالا تقریر کے بعد آپ نے مجھے ایک واقعہ بھی سنایا کہ:   
”1971ء کی جنگ میں ہماراکیمپ گجرات کے علاقہ میں تھا ،جس کی پوزیشن جنگی حالات کے پیش نظربدلتی رہتی تھی ۔گجرات شہر میں بھی ہمارا آنا جانا لگا رہتا تھا۔گجرات سے متصل علاقہ مہمداں میں ایک بزرگ( سائیں کرم الٰہیؒ) عرف کاواںوالی سرکارکامدفن ہے۔ایک دن ذاکرین ساتھیوںکے ہمراہ سائیں کرم الٰہی کے مزار پر جانے کا اتفاق ہوا۔میرے ہمراہ رشید احمد بھی تھا۔رشید احمد سمندری کا رہنے والا تھا ۔کیمپ ایریا میں ہی اس نے میری دعوت پر ذکرکرناشروع کیا تھا۔رشیداحمدکواللہ تعالیٰ نےبہت تیز قوت بصیرت عطا فرمائی تھی۔میں مزار پر پہنچ کر ابھی وضو ہی کر رہا تھا کہ رشیداحمد آئےاور مجھے کہنے لگے صاحب قبر فرما رہے ہیں کہ حافظ غلام قادری کو کہو کہ وہ جلدی آئے ۔وضو سے فارغ ہو کرہم نے مزار پر جا کر ذکر شروع کیا۔
کشفاً یہ معلوم ہوا کہ انہوں نے فقیرانہ سے لباس (ایک پاجامعہ ،کرتا) میں زندگی بسر کی ہے، انہوں نے فرمایا کہ میںشاہ دولہؒ کے بعد آیا ہوں اور کچھ عرصہ ان کے مزار پر بھی رہا ہوں۔ اسی اثناء میں ایک ٹانگہ آکر رکا اس سے ایک عورت اتری اور اس نے قبر کے پتھر کو پکڑ کر زور زور سے روناچیخناشروع کر دیااور ساتھ یہ دوہائی بھی دے رہی تھی کہ میں سالم(سپیشل )ٹانگہ کرکے ہائی ہوں۔ سائیں کاواں والیاں میری مشکلیں آسان کر دے،مجھے آنکھیں عطا کراور مزید بھی کچھ اس طرح مانگ رہی تھی۔ اس دوران مشاہدہ میں یہ آرہا تھا کہ صاحب قبر اس کی طرف کچھ توجہ نہیں کر رہے تھے بلکہ وہ ہماری طرف متوجہ ہیں ۔میں نے رشید احمد کو کہا کہ صاحب قبرسے عرض کرو کہ آپ اس عورت کی طرف بھی توجہ کریں۔انہوں نے جواباً فرمایامیں اس کے لئے کیا کر سکتا ہوں،ہم نے عرض کیا دعا تو کرسکتے ہیں مگر انہوں نے دعا بھی نہ کی ۔ پھر میں نے رشید احمد سے کہا کہ ان سے عرض کرو کہ اس عورت کے ایمان کے لئے دعا کریںتو پھر انہوں دعا کر دی ۔
پھر وہ فرمانے لگے کہ حافظ غلام قادری کو اس علاقہ میں اتنے عرصہ سے دیکھ رہا ہوں مگر یہ بڑے عرصہ بعد میرے پاس آئے ہیں۔رشید احمد نے عرض کیا کہ آپ کو یہ کیسے پتہ چل گیا۔انہوں نے فرمایا کہ تم لوگ جہاں بھی ذکر کرتے ہو ہمیں پتہ چل جاتا ہے جس طرح گپ اندھیرا ہواور اس میں دیا سلائی بھی جلائی جائے تو بڑے دور سےروشنی نظر آتی ہے اسی طرح آپ لوگ ہمیں دنیا میں نظر آتے ہو ۔آخر میں ہم نے عرض کی کہ جب ہم ذکر کرتے ہیں تو آپ توجہ کیا کریں۔ انہوں نے فرمایا یہ کہنے کی ضرورت نہیں ایک میں نہیں بلکہ آپ جہاں ذکر کریںگے وہاں کے تمام صوفیاء خود بخودمتوجہ ہوجاتے ہیں کیونکہ ہم نے خود زندگی میں یہ محنت کی ہے اور یہی ذکر کرنے والے لوگ ہمیں اچھے لگتے ہیں۔
حافظ غلام قادری فرماتے ہیںکراچی کے ہی ایک دورہ موقع پرمیں نے حضرت مولانا اللہ یار خان سے پوچھا کہ حضرت ہماری یونٹ کے خطیب صاحب مشکل وقت کے لئے ایک دعا بتاتے ہیں کہواَعِینُوني یَا عِبَاد اللہ، اے اللہ کہ نیک بندو میری مدد کرو۔آپؒ نے فرمایایو ں کیو ں نہ کہو اَعِینُوني یَا اللہ،اے اللہ میری مدد فرما۔
(یہ  ایک موضو ع احادیث ہے اس پر ذرا تفصیل سے کلام کرنا ہے)
اصل بات یہ ہے کہ اولیاءاللہ تو عالم برزخ میں اپنے مقام پر تشریف فرما ہوتے ہیںجس مقام کے لئے انھوں نے دن رات محنت کی ،دنیا کی لذّات کو چھوڑا ،انھیں برزخ میں بارگاہ نبویﷺ کی حاضری نصیب ہوتی ہے۔اب کہاں بارگاہ نبوی ﷺ کی حاضری اور آخرت کی عظیم نعمتیں اور کہاں یہ دنیاوی لتھیڑے،انھیں اس بات سے کیا غرض کہ کون ان کی قبر پر آ رہا ہے اور کیا مانگ رہا ہے؟۔ہاں اگر روحانی رابطہ ہو کشف قبور ہو تو دعا کے لئے عرض کی جا سکتی ہے ،مگر یہ بھی ان کی مرضی کہ دعا کریں یا نہ کریںکیونکہ وہ اس بات کے مکلف نہیں۔
حضرت علی ہجویری کی قبر پر ہمارے ایک ساتھی گئےداتا گنج بخش ؒ سے روحانی کلام نصیب ہوا تو عرض کیا حضرت ساری زندگی جس کام سے آپ لوگوں کو منع کرتے رہے آج وہ تمام بدعات وخرافات آپ کی قبرپرہو رہی ہیں انہوں نے فرمایا جب تک ہم دنیا میں تھے ہم مکلف تھے ہم نے لوگوں کو منع کیا اب تم مکلف ہو ،جواب دہ ہو،یعنی انہوں نے شرعی مسئلہ بھی سمجھا دیا۔کہ ہم تو قبر(عالم برزخ)میں ہیں ہم دارالعمل سے دارالاجزاء میں منتقل ہو چکے ہیںتم دنیا میں تمھارا کام لوگوں کو برائی سے روکنا اور اچھائی کی دعوت دینا ہے۔ 
کرامت اور تصرف میں فرق
یہاں تصرف اور کرامت کے متعلق کچھ ضمناًعرض کرتا چلوں کہ تصرف اور کرامت میں ایک باریک فرق یہ بھی ہے کہ تصرف میں صاحب تصرف کا ارادہ شامل ہوتا ہے جبکہ کرامت کے اظہار پرتو بعض اوقات صاحب کرامت بھی حیران رہ جاتا ہے۔دوسرا تصرف اصطلاح میں خیال و نظر کی طاقت استعمال کر کے حیرت انگیز کام صادر کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے جس کے لئے نبی یا ولی بلکہ مسلمان ہونا بھی شرط نہیں۔
تصرف مسمریزم جیسا ایک عمل ہے۔بس اس کو آپ یو ں سمجھ لیں جیسے اسلحہ، مسلمان علاء کلمۃ اللہ کے لئے استعمال کرے گا اور کافر باطل مقاصد کے لئے۔بس تصرف بھی ایک ایسی ہی قوت ہےجسے صوفیاء نیک مقاصد میں بروئے کار لاتے ہیں اور اہل باطل لوگوں کو دھوکا دینے کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔اہل اللہ کےہاں جو تصرف ہوتا ہے اس میں باطنی قوتوں کے علاوہ روحانی قوت بھی شامل ہوتی ہےاس لئے اہل اللہ کے ہاں عموماً ایسے موقعوں پر جدھر توجہ کرتے ہیں معملات کھل جاتے ہیںجیسے مذکورہ بالا واقعہ میں حضرت سلیمان کے درباری صحابی نے اعلی الاعلان کہا کہ میں پلک چھپنے سے پہلے تخت لے کر آسکتا ہوں ۔اسی طرح آپ ﷺ کے امتیوں میں بھی ایسے صاحب قوت اہل اللہ موجود ہوتے ہیں ۔ جو باطل نظریات کا رد بھی روحانی قوت سے کر سکتے ہیں۔
اسی ضمن میںحضرت مولانا اللہ یار خان نوّر اللہ مرقدہ اکثر حضرت امداد اللہ مہاجر مکیؒ کا مشہور واقعہ بیان فرمایا کرتے تھے جس میں اُن کی طرف سے علماء نے پادری فنڈر کو چیلنج کیا تھا کہ اسلام اور عیسائیت کے مابین حقانیت کے ثبوت میں علمی مناظرہ کے بعد عملی مناظرہ بھی ہو گا۔  چونکہ مسلمانوں کا دعویٰ ہے کہ اسلام ہی تمام انبیاءعلیہم السلام کا دین ہے اور اس طرح وہ حضرت عیسیٰ کے حقیقی وارث ہیں، اس لئے وہ پادری فنڈر کے ساتھ ایک بوسیدہ قبر پر کھڑے ہو کر قُمْ بِاِذْنِ اللّٰہ کہیں گے اور جس کے کہنے پر مردہ زندہ ہو گیا، وہی حضرت  عیسیٰ کا اصل جانشین ہو گا کیونکہ نبی کا معجزہ مثل ِ کرامت، حقیقی جانشین کو وَرثہ کی صورت میں منتقل ہوتا ہے۔ عیسائی مبلغ خوب جانتا تھا کہ جب اللہ کا ایک ولی اس طرح کا  دعویٰ کر گزرتا ہے، اس کے  پیچھے اللہ کا ہاتھ ہوتا ہے ا ور یقیناً اسی طرح ہو کر رہتا ہے۔ چنانچہ وہ عملی مناظرے کی شرط سے خائف ہو کر مقابلے سے ہی دستبردار ہو گیا۔
اولیاء اللہ کو عالم الغیب ، مشکل کشا اور حاجت رواں سمجھناجہالت وگمراہی ہے۔حقیت تو یہ ہے کہ بریلوی مسلک کے جیدعالم دین علامہ  غلام رسول سعیدی ؒاپنی مایہ ناز تفسیر وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ۔۔۔۔۔کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
”ہمارے زمانہ میں بعض جہلا اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے کے بجائے اپنی حاجتوں کا سوال پیروں ‘ فقیروں سے کرتے ہیں اور قبروں اور آستانوں پر جا کر اپنی حاجات بیان کرتے ہیں اور اولیاء اللہ کی نذر مانتے ہیں ‘ حالانکہ ہر چیز کی دعا اللہ تعالیٰ سے کرنی چاہیے اور اسی کی نذر ماننی چاہیے ‘ کیونکہ دعا اور نذر دونوں عبادت ہیں اور غیر اللہ کی عبادت جائز نہیں ہے ‘ البتہ دعا میں انبیاء کرام اور اولیاء عظام کا وسیلہ پیش کرنا چاہیے۔
اسی طرح علم الغیب کے متعلق خلاصہ بحث یہ فرماتے ہیں
”اس تمام بحث کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو علی حسب المراتب غیب کی خبروں پر مطلع فرمایا ہے لیکن غیب مطلق (یعنی تمام معلومات کا احاطہ کاملہ) یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے اور اسی کو غیب مطلق کا علم ہے ‘ اور غیب کی جن خبروں پر اللہ نے اپنے خواص کو مطلع فرمایا ہے ان کے اعتبار سے ان بندوں کو غیب کا علم ہے ‘ لیکن اس کو علم الغیب کہنا درست نہیں ہے کیونکہ ان کو ایسی صفت حاصل نہیں ہے جس سے ان پر ہر غیب منکشف ہو ‘ یہ علامہ شامی کی بیان کردہ توجہیہ ہے ‘ اور علامہ آلوسی کی توجیہ یہ ہے کہ اگرچہ ان کو بعض غیوبات پر مطلع کیا گیا لیکن ظاہر آیات سے تعارض کی بناء پر یہ کہنا درست نہیں ہے کہ ان کو غیب کا علم ہے ‘ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ ان کو غیب پر مطلع کیا گیا ہے یا ان پر غیب ظاہر کیا گیا ہے ‘ اور امام احمد رضا قادری ؒکی تحقیق ہے کہ مطلقا غلم غیب بولا جائے تو اس سے علم ذاتی مراد ہوتا ہے ‘ اس لیے یہ کہنا جائز نہیں ہے کہ فلاں شخص کو علم غیب ہے ‘ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بعض غیوب کو ظاہر فرمایا ‘ آپ کو بعض غیوب پر مطلع کیا گیا یا آپ کو غیب کی خبریں دی گئیں اور جن علماء اور فقہاء کی عبارات میں مخلوق کی طرف علم غیب کا اسناد کیا گیا ہے ‘ وہاں چونکہ غیب سے مراد غیب مطلق نہیں ہے اس لیے وہ عبارات عقلا جائز ہیں اور کفر وشرک نہیں ہیں لیکن ایسا کہنا شرعا مستحسن نہیں ہے۔(تبیان القرآن ج۱ ص) 

Mar 24, 2017

ahan posh col imam,آہن پوش کرنل امام،جنگ افغان کا اصل ہیرو

0 comments

آہن پوش 


کرنل امام شہیدؒ کا شمار ان مجاہدین میں کیا جاتا ہے جو عہد ساز کہلاتے ہیں ،افغان
جنگ کے اصل ہیرو کرنل امام ہی تھے ، آپ کو جہاد کے یہ جذبے اسلام کی سربلندی کی یہ لگن سلسلہ عالیہ نقشبندیہ اوّیسیہ کے شیخ حضرت العلام مولانا اللہ یارخانؒ اور حضرت امیرمحمد اکرم اعوان کی صحبت سے نصیب ہوئے۔صوفیاء عظام کی روحانی تربیت کا یہ اثر تھا کہ ساری زندگی اللہ کی راہ جہاد کرتے گزار دی 
اورباالآخر خوارج کے ہاتھوں شہید ہو گئے۔



Feb 7, 2017

آپ کس خوشی میں ویلنٹائن ڈے مناتے ہیں؟الشیخ المکرم حضرت امیر محمد اکرم اعوان مدظلہ العالیٰ

0 comments
  آپ کس خوشی میں ویلنٹائن ڈے مناتے ہیں؟
الشیخ المکرم حضرت امیر محمد اکرم اعوان مدظلہ العالیٰ:
 بڑی عجیب بات ہے لوگوں کو عشق ہو جاتا ہے اوریہ عشق ہمیشہ جنس مخالف سے ہی ہوتا ہے عشق کے لیے یہ ضروری نہیں کہ جنس مخالف ہو جنس مخالف ہماری ضرورت ہے ہم ضرورتوں کو محبت کا نام دے دیتے ہیں عشق کا نام دے دیتے ہیں یہ ہماری ضرورت ہے اور بعض اوقات یہ ہوتا ہے کہ شادی سے پہلے تو بڑا عشق ہوتا ہے اور چند ہفتے گزرتے ہیں تو نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہے یعنی ایک دوسرے کو صحیح جانتے نہیں ہوتے جب ایک دوسرے پر کھلتے ہیں توکہتے ہیں کہ ہمارا تو گزارا نہیں ہو سکتا یہ کہاں کا عشق ؟عشق ایک کیفیت کانام ہے کہ جب آپ کو احساس ہو کہ کوئی میرا بہت ہی خیال رکھنے والا ہے مجھے خود اپنا اتنا خیال نہیں جتنا میری بہتری چاہنے والا میرا خیال رکھتا ہے اس کے جواب میں جوآپ کو اس ہستی سے محبت ہو گی ایک کیفیت آپ کے دل پر آئے گی آپ اس سے پیار کریں گے اسے اچھا جانیں گے اس کا احترام کریں گے اسی کا نام عشق ہے اور سوائے اﷲ کے کوئی دوسرااس کا مستحق ہی نہیں کہ سب سے زیادہ ہماراخیال وہی رکھتا ہے جو آنکھ کے ایک ایک ذرے، باڈی کے ایک ایک سیل کی نشو نما کررہا ہے ہم اسے مانیں یا نہ مانیں، ہم جانیں یانا جانیں وہ چلا رہا ہے پھر عشق ہے اس ذات کے ساتھ جس نے ہمیں اﷲ سے آشنا کردیااگر درمیان میں وہ ذات نہ ہو تو ہم اپنی سوچ ، اپنی فکر سے اﷲ تک نہیں پہنچ سکتے تو عشق وہ ہے جو آپ کو اپنے نبی ﷺ سے ہو گا جس نے آپ کی ہرضرورت کی خوبصورت راہ متعین کردی اگر آپ ان راہوں پرچلیں تو اس دنیا میں بھی آپ معزز و معتبراور آخرت میں بھی آپ معزز اور معتبر اور اﷲ کی بارگاہ میں سرخرو انسانوں کااتنا زیادہ بھلا چاہنے والاکون ہے ؟ لوگوں نے پتھر برسائے ،تلواریں چلائیں، جنگیں کیں، مخالفت کی لیکن اس ہستی نے ان کا بھی بھلا چاہا اﷲ نے فرشتوں کو فرمایا کہ میرے نبیﷺ سے اجازت لے لو اور طائف والوں پر پہاڑ الٹ دوتوآپ ﷺ نے فرمایااے اﷲانہیں تباہ نہ کران کو ہدایت دے اور اگر یہ ہدایت نہیں پائیں گے تو شاید ان کی اولادیں ہدایت پا جائیں پتھر مارنے والوں کی بہتری چاہے حالانکہ خون مبارک  نعلین مبارک میں جم گیا تھا، زخموں سے چور تھے اور اگرکوئی کسی شہر ،کسی گاؤں جاتا ہے اور وہ اس کو پتھر مارنے لگ جائیں تو وہ کتنا صبر کرے گا؟ دل کی کیسی کیفیت ہو گی؟پھر وہ بندہ ان پتھر مارنے والو ں کی بہتری چاہے تو کیسی کریم ذات ہے ؟اگر ہم ان کے کرم سے محروم ہیں تو اس کا مطلب ہے ہم نے رشتہ توڑا ہوا ہے وہ تو ان پر بھی کرم برساتے ہیں جنہوں نے انہیں پتھر برسائے تو اگر یہ نسبتیں پیدا ہو جائیں تو یہ عشق ہے باقی ہماری ضرورتیں ہیں بھائی پیسے سے محبت نہیں ہے پیسہ ہماری ضرورت ہے اقتدار سے محبت نہیں ہے اقتدار ہماری ضرورت ہے ہم خود کو بڑا بنانا چاہتے ہیں جنس مخالف سے محبت نہیں ہے ہماری ضرورت ہے ہاں کسی میں انسانیت ہو تو وہ محض اسے ضرورت نہیں سمجھتا پھر وہ اس کا احترام بھی کرتا ہے جنس مخالف جب ایک دوسرے کے قریب ہو جاتے ہیں تواگر دونوں کے رشتے میں خلوص ہو تودونوں ایک دوسرے کااحترام کرتے ہیںاسے محبت کہتے ہیں لیکن یہ بہت ادنیٰ درجہ ہے محبت کا یہ ضرورتوں کی محبت ہے ہم اولاد سے محبت کرتے ہیں بچوں سے پیار چھوٹے چھوٹے بچے راتوں کو جاگ کر پالتے ہیں کما کر کھلاتے ہیں بڑا ہو کر اگر کمائی نہ کرے نافرمان ہو جائے کہا ں جاتی ہے محبت؟ محبت ہوتی تو ختم نہ ہوتی ضرورت تھی پوری نہیں ہوئی تم ہم ڈسہلٹ ہوگئے توقعات پوری نہیں ہوئیں اس کو ہم نے محبت کا نام دے رکھا ہے کیونکہ یہ دولت سے محبت یا عورت سے محبت یہ ساری خرافات ہیں یہ ضرورتیں ہیں اور ضرورت کہیں سے بھی پوری ہوجاتی ہے کوئی ہمیں پیار سے پانی پلا دے تو ہمیں اس کا شکریہ تو ادا کرنا چاہیے لیکن یہ محبت کا ادنیٰ درجہ ہے اورعشق تو بہت بڑا جذبہ ہے جو میں نہیں سمجھتا کہ رسول ﷺ کے سوا کسی ہستی سے ہو سکتا ہے؟ 
 ملکوں میں آئین و دساتیر بنتے ہیں لیکن خود ان کے ملک میں اس پر عمل نہیں ہوتا کوئی بھی ملک کسی دوسرے ملک کے آئین کو تسلیم ہی نہیں کرتا انہیں وہ فٹ بھی نہیں بیٹھتا اور اس پروہ عمل کر بھی نہیں سکتے ان کے موسم الگ ہوتے ہیں لباس، رہائش وبودوباش الگ ہوتی ہے طریقے الگ ہوتے ہیں لیکن فرمایا  نٓ وَالْقَلَمِ وَمَا یَسْطُرُوْنَ(القلم:۱) یہ زمانہ گواہ ہے اہل علم گواہ ہیں خود قلم گواہ ہے اور تمام وہ باتیں جو قلم سے لکھی گئیں وہ اس بات پر گواہ ہیں کہ یہ آپ ﷺ کا معجزہ عظیم ہے کہ آپ نے ایسا کردیا اور صرف اس وقت کے لیے نہیں تب سے لے کر قیامت تک یہ انقلاب جاری رہے گا تو دو طبقے بن گئے دو جماعتیں بن گئیں دوفریق بن گئے ایک اسلامی نظام کو مٹانے کے درپے ہے دوسرا اسلامی نظام کو زندہ قائم کرنے پر جانیں لٹا رہا ہے یادرکھیں جو لوگ اسلامی نظام کے حق میں ہیں وہ اس بات پر نہیں رہتے کہ حکومت نظام لائے توہم اختیار کریں گے وہ اپنی زندگی پہلے ہی اس نظام کے مطابق ڈھال لیتے ہیں اور حضور ﷺ کی معیت اسی کو نصیب ہو گی جو عقیدے عبادت سے لے کر عمل تک کو سنت کے مطابق ڈھال لے اگر کوئی چاہتا ہے مسلمان ہے کلمہ پڑھتاہے نمازیں پڑھتا ہے اچھی بات ہے زکوٰۃ دیتا ہے اور حج کرتا ہے اچھی بات ہے اﷲ اس کا قبول کرے صدقہ،خیرات کرتا ہے اچھی بات ہے لیکن اپنے روز مرہ کے لین دین، معامالات ،عدالتیں ، سیاست ،نظام تعلیم، معاشی اور معاشرتی نظام میں کہتا ہے یہ میں کافروں جیسے کروں گا انہیں ناراض نہیں کرنا جیسے بھی ہیں ان کے ساتھ دنیا میں رہنا ہے تو ان کو خفا نہیں کرنااسے منافقت کہتے ہیں منافقت کفر کی بدترین قسم ہے اﷲ ہمیں پناہ دے ۔آج کے مسلمان ماسوائے چند خوش نصیب ریاستوں کے ساری حکومتیں اس میں پھنسی ہوئی ہیں کوئی امریکہ کی خوشنودی کے لئے کوئی روس کی رضامندی کے لیے کوئی یورپ کی خوشنودی کے لئے کافرانہ نظامِ معیشت ،کافرانہ نظام عدالت، کافرانہ نظام تعلیم ، کافرانہ لباس ،کافرانہ حلیے، کافرانہ انداز، کافرانہ رسومات اپنائے ہوئے ہیں آپ نے کبھی سوچا۔
الحمد اﷲ میں روئے زمین پر پھرا ہوں اﷲ نے مجھے توفیق دی شلوار قمیض ویسٹ کوٹ اور پگڑی پسند کرتے تھے تعریف کرتے تھے عزت کرتے تھے یہ زرعی کھسے جو ہم پہنتے ہیں یہاںمجھ سے برطانوی اور امریکی نو مسلم لے کر گئے میںنے ایک امریکی سے پوچھا بھئی تم وہ کھسہ لائے تھے اس کا کیا ہوا؟اس نے کہا وہ کھسہ میں نے ڈرائنگ روم میں دیوار سے ٹانگا ہوا ہے یعنی اتنا اسے وہ تحفہ نادر لگا لیکن کبھی آپ نے دیکھا کسی انگریز نے کھسہ پہنا ہوا ہو؟ کبھی دیکھا کسی انگریز نے شلوار قمیض پہنی ہو؟ روئے زمین پر کسی کافر کو دیکھا اس نے شیروانی پہنی ہو؟ تو پھرآپ کس خوشی میں ٹائی تک درست کررہے ہوتے ہیں؟ آپ پتلون کوٹ اور ٹائی لگا کر مونچھ داڑی صاف کرکے اور ٹیڑھے بال کر کے انگریز بننے کی کس خوشی میں کوشش کر رہے ہیں ؟کسی امریکن، کسی یورپین ،کسی خاتون کو دیکھا اس نے برقعہ پہنا ہو، پردہ کیا ہو؟ کوئی اسلامی رسم جس کی وہ تعریف بھی کرتے ہیں ،پسند بھی کرتے ہیں، کسی نے اپنائی؟ کسی کافر ملک نے رمضان کی یا قربانی کی عید منائی ؟ کسی کافر ملک میں عید کے ایک دن پر چھٹی کی گئی؟ تو پھر وہاں جو خرافات ہوتی ہیں وہ آپ کیوں اپنا لیتے ہیں؟ شرم نہیں آتی آپ کس خوشی میں ویلنٹائن ڈے مناتے ہیں؟ آپ کسی خوشی میں اپریل فول مناتے ہیں؟ آپ کسی خوشی میں بلیک فرائی ڈے مناتے ہیں؟ ہفتہ یہودیوں کا متبرک دن تھا اتوار عیسائیوں کا متبرک دن تھا جمعہ مسلمانوں کو متبرک دن کے طور پر عطا ہواہفتے کے دنوں میں سب سے مبارک دن اسے کافروں نے کہہ دیا یہ سیاہ دن ہے اور اس دن یہ یہ کام کرنے ہیں وہی کام اب آپ پاکستان میں کر رہے ہیں ہم مسلمان ہیں؟ مسلمان دنیا سے گزر جاتا ہے تو مسلمان جمع ہو کر اس کی مغفرت کی دعا کرتے ہیں عیسائی، یہودی، کافرمرجاتا ہے تو وہ موم بتیاں جلاتے ہیں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کرتے ہیں ان کے پاس کرنے کو کچھ نہیں آپ بھی اب موم بتیاں جلاتے ہیں اور ایک منٹ کی خاموشی اختیار کرتے ہیں کبھی انہوں نے فاتحہ خوانی کی جس طرح آپ کرتے ہیں؟ کبھی انہوں نے مرنے والے کے لئے دعا کی؟ کبھی انہوں نے مرنے والے کے لیے اپنی کتاب ہی بیٹھ کر پڑھی؟ قرآن نہ پڑھتے یہودیوں اور عیسائیوںکے پاس کتاب ہے تورات و انجیل کبھی انہوں نے انہیں پڑھنے کا اہتمام کیا؟ تو پھر آپ کو شرم نہیں آتی آپ کس خوشی میں ان کے تہوار مناتے ہیں؟ اور کیا یہ اسلام ہے؟ یہ منافقت ہے جو بدترین کفر ہے ۔
مجھے بڑی حیرت ہوئی بے شمار لوگ ،مرد،عورتیں،بچے ،بوڑھے اچھل کود رہے تھے آتش بازی چلائی جا رہی تھی ہمارے زرائع ابلاغ دکھا رہے تھے اور میں سوچ رہا تھا یہ وہ قوم ہے جس کے ہزاروں لوگ اس سال میں بے دردی سے قتل کر دئیے گے سینکڑوں بچے سکول میں تیع تیغ کردیے گئے ،پڑھا لکھاطبقہ وکلا ء تک، امیر ،غریب، بازاروں میں، گھروں میں ،سارا سال آگ اور خون کا کھیل جاری رہا اﷲ کریم نے توفیق دی فوجی جرنیل کو اس نے ہمت کی کتنے فوجی شہید ہوئے ؟کتنے اہل کار پولیس کے ،رینجر کے شہید ہوئے؟ اور شاید ایک بڑے خون کے دریا سے نکل کر ہم اس ۲۰۱۶ سے ۲۰۱۷ تک پہنچے سب کچھ بھول کر لوگ اچھل کود رہے تھے کسی کو احساس نہیں کہ اﷲ کی بارگاہ میں رجوع کریں توبہ کریں گناہوں کی معافی مانگیں آئندہ سال کے لیے عافیت مانگیں چند امراء نے غریبوں کو لوٹ کر کھربوں روپے جمع کر لیے ہیں اس سے آتش بازیاں چلا ئی جارہی ہیں ملی بھگت سے دولتیں جمع کرلیں ہیں اب اس کا اظہار ہورہا ہے آخرت کی فکر کسی کو نہیں ہے خوف خدا نہیں ہے آخرت کی فکر نہیں تو دنیا ہی کی کر لو ذرا بیٹھ کر سوچیں تو سہی لیکن عجیب بات ہے اﷲ پاک شعور دے اور احساس دے و ہ جو علامہ محروم نے کہا تھا ناکہ کارواں کے دل سے احساس ضیاع جاتا رہا قافلے تو لٹتے رہتے ہیں اور پھر بن جاتے ہیں لیکن اگر انہیں یہ احسا س ہوتو کہ ہمارا نقصان ہوا توتلافی کر لیتے ہیں ہماری بدنصیبی یہ ہے کہ ہمارا تو احساس ضیاع بھی رخصت ہو چکا ہے۔


ماخوذ:
 المرشد پروگرام نمبر :  40  
02-01-2017  بیان   
29-11-2016  بیان






































Feb 4, 2017

”عبادان“ صوفیاء کی اوّلین خانقاہ:ابن محمد جی قریشی(اقتباس ،اشاعت حدیث میں صوفیاء برصغیر کا کردار)

0 comments
”عبادان“ صوفیاء کی اوّلین خانقاہ
امام ربیع بن صبیح جس طرح احادیث کے اوّلین مصنفوں میں سے ہیں اسی طرح اللہ نے آپ ؒ کو یہ سعادت بھی بخشی حاملین برکات نبوتﷺ کا اوّلین مرکز عبادان کے مقام پر قائم کیا۔عبادان کی اس اوـلین خانقاہ(رباط)کاایک پہلو یہ تھاکہ یہ اہل زہاد و عباد کا مرکز تھا جہاں پورے عالم اسلام سے اہل زہاد عباد کھنچے چلے آتے تھے۔حضرت بشر بن حارث جیسے صاحب علم وعرفان نے بھی عبادان کا سفر کیا۔دوسرا اس کا پہلو یہ تھا اسلامی شہروں کی طرح آئمہ حدیث اور علمائے دین حدیث کا درس دیتے تھےاور حدیث کے طالب علم اپنے علمی اسفار میں عبادان کا سفر کرتے تھے۔امام احمد بن حنبل   جیسے عظیم المرتبت محدث نے تحصیل حدیث اور برکات نبوت کے لئے عبادان کا سفر اختیار کیا۔ عبادان کاتیسرا پہلویہ تھایہ ایک سرحدی قلعہ تھا۔قاضی اطہر مبارک پوری فرماتے ہیں:
    ” ۱۴هہجری میں بصرہ آباد کیا گیا ۔عبادان بصرہ سے کچھ دوردریائے دجلہ اور دریائے خورستان کے دو آبہ میں واقع ایک معمولی سا گاؤں تھا۔عبادان کا نام عباد بن حصین حبطی کے نام پر رکھا گیاہشام بن کلبی کی روایت کے مطابق عباد بن حصین نے سب سے پہلے خوداس مقام پر مرابطت کی اس کے بعد ربیع بن صبیح نے اہل بصرہ سے چندہ کر کےعبادان کی قلعہ بندی کی اور یہیں رہ کر رضا کارانہ طور پر اسلامی سرحد کی نگرانی کرنے لگے“۔
عبّاد بن حصین حبطی کا تعلق بنو تمیم سے تھا۔ابن زبیر کے عہد حکومت میں بصرہ کے اعلی پولیس آفسر تھے۔آپ کا شمار اپنے عہد کے جری شاہ سہواروں میں کیا جاتا ہے۔خارجیوں سے معرکہ آرائیوں میں عمر بن عبید اللہ بن عمر کی حمایت بنو تمیم کے سردار تھے ۔اس جنگ میں خوب جانفشانیاں دکھائی ۔ امام حسن بصری اور عباد بن حصین قابل کی فتح میںایک ساتھ رہے۔امام حسن بصری نے آپ کی جرات وبہادری کی داد ان الفاظ میں دی ہے:
”جب میں نے عباد بن حصین کے کارناموںکو دیکھا تو مجھے یقینا آیا کہ ایک آدمی ایک ہزار آدمیوں کے قائم مقام کیسے ہو سکتاہے“۔
ابن اشعت نے جب حجاج بن یوسف کے خلاف خروج کیا تو اس وقت آپ بوڑھے ہو چکے تھے۔ابن اشعت کو آپ نے بعض جنگی نوعیت کے مشورے بھی دئیے ۔آپ کےبیٹے جہضم نے ابن اشعت کا ساتھ دیا۔ابن اشعت کو جب شکست ہوئی تو حجاج نے آپ کے بیٹے کو قتل کر دیا اور آپ حجاج کے خوف سے بھاگ کر قابل آگئے جہاں آپ کے دشمنوں نے آپ کو قتل کر دیا(المعارف اردو،ص ۴۲۴/۴۲۵،ابی محمد عبداللہ بن مسلم ابن قتیبہ الدینوری ۲۱۳هھ/۸۲۸ء۔ ۲۷۲هھ/۸۸۹ء۔مترجم پروفیسر علی محسن ،قیرطاس پیبلیشر)
اب سوال یہ ہے کہ عبادان کی بنیادحضرت عباد بن حصین نے کب رکھی تھی تو یقیناً عبادان کی پہلی قلعہ بندی حضرت عبد اللہ بن زبیر؄ کے عہد حکومت اس وقت رکھی گئی جب حضرت عباد، ؒابن زبیر؄ کی طرف سے بصرہ میں پولیس کے اعلی عہدے پر تھے۔کیونکہ آپ کی زندگی کا اکثر حصہ جہاد میں گزرا ہے۔جغرفیائی لحاظ سے بھی عبادان بصرہ کے قریب ہی واقع ہے۔قاضی اطہرمبارک پوری ؒ نے لکھا ہے:
عبادان فوجی ا عتبار سےبہت اہم مقام تھااور دشمن اس کے نواحی علاقےسے عراق پر حملہ کر سکتے تھےاس لئے یہاں مطعوعین اورمرابطین کی جمعیت جو عام طور پرعباد ز ہاد اور علماء و صلحا پر مشتمل ہوتی تھی جس کا کام باغی عناصر،خوارج اور بحری ڈاکوئوں کا مقابلہ کر کے شکست دینا تھا۔(مسلمانوںکی عظمت رفتہ ص۱۵۳)
عبادان کی مزید ترقی اور شہرت دینے والے حضرت ربیع بن صبیع بصری ہندی ہیں ۔حضرت ربیع بن صبیح کی تاریخ پیدائش کا واضح تعین نہ ہو سکا، آلبتہ محسن ہند محقق تاریخ ہندو عرب قاضی اطہر مبارک پوری نے لکھا ہے کہ آپ نے دوسری صدی ہجری کے اوائل میں آنکھ کھولی(ص۱۳۸)اور آپ کی وفات ۱۶۰ ہجری میں ہندوستان میں ہوئی۔تو اس لحاظ سے یہ اندازہ ہوتاہے کہ عبادان کی خانقاہی حثیت (رباط)دوسری صدی ہجری کا وسط دہائی ہو گئی یہیں وہ زمانہ جس میں علم حدیث باقاعدہ علم وفن کی صورت میں سامنے آیا ۔اس سے یہ ثابت ہوا کہ علوم الا حسان اور علوم الحدیث تدوینی لحاظ سے ہم عصر ہیں۔
مرابطت اور رباط اسلامی حربی سیاست میں بہت اہم شعبہ ہےاس کے ذریعہ اسلامی سرحدوں کی حفاظت کی جاتی ہےاور دشمن سے باخبر رہا جاتا ہے ساتھ ہی اندرونی بد امنی کوفرو کیا جاتا ہےجہاد کی طرح ربا ط کے بڑے فضائل ہیںاور اس میں بڑا اجرو ثواب ہےاسی لئے عباد وزہاد اہل اللہ یہ خدمت اپنے ذمہ لیا کرتے تھےاور جستہ للہ دور دراز مقامات پر جا کر ذکر الٰہی کے ساتھ اسلامی سرحدوں کی نگرانی کرتے تھے۔بعد میں مرابطت اور رباط کا تصوربزرگوں کی خانقاہوں میں تبدیل ہو گیا افریقہ میں سنوسیوں کی رباطین اور زاویے ایک حد تک اسی قدیم حقیقت پر مبنی تھے۔جن میں رہ کر عوام کو فرانسیسی جبرو استبداد کے خلاف تیار کرتے تھےمگر عام طور پر اب رباط کا لفظ خانقاہ کے ہم معنی ہو گیا ہے بلکہ سرائوں اور مسافر خانوں پر بھی بولا جانے لگا ہے۔(مسلمانوں کی عظمت رفتہ ص ۱۵۲)
عبادان کے محل وقوع کے متعلق بشاری مقدسی نے تفصیل سے کام لیا ہےجس کا خلاصہ یہ ہے عبادان بصرہ سے کچھ دوردریائے دجلہ اور دریائے خورستان کے دو آبہ میں معمولی شکل میں ایک گاؤں تھاجہاں ساحل سمندرہونے کی وجہ سےآب ہوا مرطوب تھی اور وبائی امراض کی کثرت تھی پانی کے لئےسیلے کی بڑی قلت تھی اور مد وجزر کی وجہ سے یہ بستی ہمیشہ معرض خطرہ میں رہا کرتی تھی ۔اس میں مرابطین کے زاویے تھے جن میں اکثر عباد اور صلحا ءتھےان کی اکثریت چھلکے کی چٹائیاں بناتی تھی۔بشاری مقدسی کا یہ بیان چوتھی صدی ہجری سے تعلق رکھتا ہے۔
(اقتباس،زیر طبع اشاعت حدیث میں صوفیاء برصغیر کا کردار)

Feb 2, 2017

وَاللّٰہُ أَخْرَجَکُم مِّن بُطُونِ أُمَّہَاتِکُمْ لاَ تَعْلَمُونَ شَیْْئاً وَجَعَلَ لَکُمُ الْسَّمْعَ وَالأَبْصَارَ وَالأَفْئِدَۃَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُون((سورۃ النحل‘ آیت 78۔اکرام التفاسیر)

0 comments
الْسَّمْعَ وَالأَبْصَارَ وَالأَفْئِدَۃَ (اکرام التفاسیر)
اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم‘ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمنِ الرَّحِیْمِ
وَاللّٰہُ أَخْرَجَکُم مِّن بُطُونِ أُمَّہَاتِکُمْ لاَ تَعْلَمُونَ شَیْْئاً وَجَعَلَ لَکُمُ الْسَّمْعَ وَالأَبْصَارَ وَالأَفْئِدَۃَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُون
اور اللہ نے تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹ سے اس حالت میں نکالا کہ تم کچھ بھی نہ جانتے تھے اور اس نے تم کو کان عطا فرمائے اور آنکھیں اور دل تاکہ تم شکر کرو (سورۃ النحل‘ آیت 78)
مولایا صلی وسلیم دائما ابدا‘ علی حبیبک خیر الخلق کلھم
    ترجمہ: اللہ کریم نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے اس عالم میں پیدا فرمایا کہ تم کچھ نہیں جانتے تھے۔ پھر اس نے تمہارے لئے سننے اور دیکھنے کی قوت عطا فرمائی۔ والافئدۃ اور دل کی گہرائی میں ایک لطیفہ ربانی عطا فرمایا تاکہ تم اللہ کا شکر ادا کرسکو۔ اللہ کریم نے علم کے بنیادی ذرائع تین ارشاد فرمائے۔ سمع‘ بصارت اور افئدۃ۔ افئدۃ یا فواد دل میں ایک لطیفۂ ربانی ہے جو عالم امر سے ہے۔ آنکھیں دنیا بھر سے علوم حاصل کرتی ہیں۔ آدمی کے سیکھنے کے ذریعے دو ہی ہیں۔  یا وہ دیکھ کر سیکھتا ہے یا سن کر سیکھتا ہے۔ بنیادی طور پر جاننے کے ذریعے‘ اور علم کہتے ہیں جاننے کو۔ لکھنا پڑھنا ایک الگ صفت ہے کہ آپ جو کچھ جانتے ہیں اسے لکھ کر محفوظ کر سکتے ہیں۔ جو پڑھنا جانتا ہے اسے پڑھ کر آپ کے علوم سے واقف ہو سکتا ہے۔ علم کو آگے منتقل کرنے کا ذریعہ لکھنا اور پڑھنا ہے۔ فی نفسہٖ لکھنا پڑھنا علم نہیں ہے بلکہ یہ ایک ذریعہ ہے کہ آپ علم کو آگے منتقل کرتے ہیں اور اگلے لوگ آپ سے سیکھتے ہیں۔ بنیادی ذرائع سمع اور بصارت ہے۔ ہم دیکھتے ہیں جو بچہ جہاں پیدا ہوتا ہے وہاں کی زبان بغیر سکھائے سیکھ جاتا ہے صرف والدین سے سن کر سیکھتا ہے وہاں کے حالات دیکھ کر سمجھ جاتا ہے۔یہ دو ذرائع تو وہ ہے جسے ہر انسانی بچہ استعمال کرتا ہے۔ ہر انسان استعمال کرتا ہے اور کرتا رہتا ہے زندگی بھر۔ نئی سے نئی چیزیں جانتا رہتا ہے‘ سنتا رہتا ہے۔ نئی سے نئی چیزیں دیکھتا رہتا ہے اور عمر بھر اس کا علم بڑھتا رہتا ہے چیزوں کے بارے‘ اس کی تحقیقات بڑھتی رہتی ہے۔ لہٰذا چونکہ یہ دونوں مادی ذرائع ہیں سمع بھی اور بصارت بھی اور یہ مادی علوم کے حصول کا ذریعہ ہے۔ دنیا بھر کے مادی علوم ان سے حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ افئدۃ قلب کی گہرائی میں‘ دل میں ایک لطیفہ ربانی ہے جو عالم امر سے اور یہ علوم الٰہیات حاصل کرتا ہے۔ مادی علوم سمع و بصارت سے حاصل ہوتے ہیں‘ اللہ کی ذات اس کی صفات‘ اس کا نظام اس کی قدرت کاملہ‘ دنیا اور اس کا انجام‘ افعال و اعمال‘ کردار اور اس کے نتائج‘ یہ نتائج جاننا‘ آخرت کو سمجھنا‘ عظمت الٰہی کو پانا یہ افئدۃ  کا کام ہے۔ اور یہ  افئدۃ‘لطیفہ ربانی جو ہے صرف انسان کو عطا ہوا ہے۔ سمع و بصارت ہر ذی روح کو اللہ نے دی اور وہ اپنی حیثیت‘ اپنی استعداد کے مطابق‘ اپنی ضرورت کے مطابق اپنی زندگی گزارنے کے لئے جو چیزیں اسے چاہئیں وہ سیکھتا ہے۔ یہ جانوروں میں بھی ہیں‘ پرندوں میں بھی ہیں سمندری آبی جانوروں میں بھی ہیں‘ ہر جاندار میں جہاں روح ہے وہاں سمع و بصارت بھی ہے۔ اپنی زندگی کرنے کا طریقہ‘ ہر چیز  سیکھ لیتا ہے۔ لیکن یہ قلب میں لطیفہ ربانی جو ہے یہ صرف انسان کو ودیعت ہوا ہے اور یہ ودیعت ہوا ہے عظمت الٰہی کو پانے کو‘ معرفت الٰہی کو پانے کو ‘ اس دنیا کے آگے جو حقیقی دنیا ہے اس کے پانے کو ۔ سمع و بصارت تمام عالم سے سیکھتا ہے ‘ افئدۃ صرف انبیاء علیہم السلام سے علوم حاصل کرتا ہے  کیونکہ اللہ کی معرف کے علوم کے امین انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام ہوتے ہیں۔ اس میں اتنی قوت ہوتی ہے کہ جتنا اسے علوم عطا کرنے والا‘ جتنا اس فن کا کوئی ماہر یا بلند ہستی ہو اتنے فیوضات و برکات یہ حاصل کر لیتا ہے۔ حتیٰ کہ یہ نبی پر ایمان لے آئے  اور نبی کی صحبت پا لے تو یہ ایک نگاہ میں شرفِ صحابیت پر فائز ہو جاتا ہے‘ اتنا کچھ حاصل کر لیتا ہے ایک نظر میں کیونکہ وہ دینے والی ہستی جو ہوتی ہے وہ بہت بلند ہوتی ہے۔ اس کے منازل بہت بلند ہوتے ہیں۔ مقام نبوت عظیم تر مقام ہے۔ اسی طرح صحابہ کی صحبت پائے‘ تابعی بن جاتا ہے‘ تابعین کی صحبت پائے تبع تابعی بن جاتا ہے۔ یہ تین طبقے ایسے ہیں اور یہ تین ہستیاں اس قدر قوی ہوتی ہیں کہ ان کی ایک نگاہ یہ سارا کام کر جاتی ہے۔ اس کے بعد ان لوگوں کی باری آتی ہے جنہوں نے یہ برکات حاصل کیں تو ان سے اسے محنت مجاہدہ کر کے حاصل کرنا پڑتا ہے جیسے سن کر علم حاصل کرنا پڑتا ہے ‘ پڑھ کر ذریعہ علم بنتا ہے اور حاصل کرنا پڑتا ہے ‘ اسی طرح اس لطیفہ ربانی پر محنت کر کے اور پڑھنے کے لئے کچھ چاہئیے‘ کوئی تحریر چاہیئے کہ آپ پڑھ سکیں‘ سننے کے لئے کوئی آواز چاہیئے  کہ آپ اسے سن کر سیکھ سکیں۔ اسی طرح اس لطیفہ قلب کے لئے بھی کوئی ایسی ہستی چاہیئے کہ جو اسے روشن کرے‘ جو اس کی آنکھیں کھولے ‘ جو اسے علوم عطا کرے اور معرفت الٰہی سے آشنا کرے۔ یہ ایک ایسی عجیب نعمت ہے اور اللہ کریم کا اتنا بڑا انعام ہے کہ دنیا و مافیھا‘ جو کچھ دنیا میں ہے اس کے مقابلے میں ہیچ ہے‘  اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ دنیا میں جو کچھ ہے وہ مادی نعمتوں کے حصول کے لئے ہے ‘ مادی حالات کو جاننے کے لئے ہے اور جسم کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ہے لیکن کیا انسانی زندگی صرف جسم کو پالنا ‘ اولاد پالنا یا گھر بنانے تک محدود ہے‘ نہیں۔ اس کے نتائج ہوں گے کہ زندگی کس انداز سے گزاری۔ اس پر اس کی دائمی زندگی کا مدار ہے‘ اخروی زندگی کا مدار ہے۔ اس کے مطابق اس سے سلوک کیا جائے گا اور اخروی زندگی کی اگر خبر ہی نہ ہو‘ جان ہی نہ پائے‘ تو اس کے لئے تیاری کیا کرے گا۔ لہٰذا ساری اصلاح احوال کا مدار اس افئدۃ پر ‘ لطیفہ ربانی پر جو قلب میں ہے‘ اس پر ہے کہ اگر جتنا یہ مضبوط ہو گا‘ جتنی اس میں زندگی ہو گی‘ جتنی اس میں قوت ہو گی‘ جتنا یہ حقائق کو جانے گا ‘ اس قدر دنیوی زندگی بھی بہتر ہوتی چلی جائے گی‘ اور آخرت کی زراعت بنتی چلی جائے گی۔ دنیوی زندگی کیا ہے!  یہ ایک زراعت ہے جو آخرت کے لئے ہے ۔ جو کچھ دنیا میں کرتا ہے‘ جو کچھ سوچتا ہے ‘ جو کچھ سنتا ہے‘ جو کچھ دیکھتا ہے ‘جو کردار اپناتا ہے‘ آخرت میں اس کھیتی کا پھل کاٹے گا۔ اکثریت لوگوں کی محض ان دو ذرائع کو استعمال کرتی ہے ساری زندگی‘ چونکہ کفر ایک ایسی مصیبت ہے کہ جب تک وہ ایمان نہ لائے‘ یہ لطیفہ ربانی زندہ نہیں ہوتا۔ اس میں موجود رہتا ہے‘ ایمان لانے کی استعداد موجود رہتی ہے‘ اور وہ مکلف ہے کہ اپنی سمع و بصارت سے دیکھ کر فیصلہ کرے‘ سن کر فیصلہ کرے‘ اور اللہ کے نبی پر ایمان لائے کہ نورِ ایمان اس لطیفہ قلب کو حیات بخشتا ہے۔ اب حیات تو جو بچہ پیدا ہوتا ہے‘ اس میں بھی ہے ‘ جو دنیا بھر کے علوم میں ماہر ہوتا ہے اس میں بھی ہے۔ تو حیات کے بعد ہر کوئی آگے چلتا ہے‘ سیکھتا ہے‘ چیزوں کو جانتا ہے ‘ ان کے نفع و نقصان کو جانتا ہے‘ ان کے اثرات اور نتائج سے آگاہ ہوتا ہے ‘ اسی طرح یہ لطیفہ قلب بھی زندہ ہو جائے تو پھر اسے مزید معلومات کی‘ مزید تعلیم و تربیت کی ضرورت ہوتی ہے  تاکہ یہ معرفت الٰہی کو پا سکے۔ حقائق کو جان سکے‘ حقیقی زندگی کو جان سکے‘ اس کی ضروریات کو جان سکے‘ پھر ان کے مطابق یہ دنیوی زندگی جو چند روزہ ہے ‘ اس کے مطابق بسر کرے تاکہ آخرت میں اسے عظمت نصیب ہو اور اللہ کا قریب نصیب ہو اور اللہ کی بخشش نصیب ہو۔ لیکن بڑے دکھ کی بات یہ ہے کہ بہت کم لوگ اس ذریعہ علم کو استعمال کرتے ہیں۔ لوگوں کی اکثریت جو ہے وہ انہی دو مادع ذرائع کو استعمال کر کے ‘ مادی زندگی بسر کر کے رخصت ہو جاتے ہیں۔ اسی لئے فرمایا کہ (وَقَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّکُوْرُ‘ سورۃ سبا‘آیت 13) بہت قلیل ‘ بہت تھوڑے میرے بندے ہوتے ہیں جو شکر ادا کرتے ہیں‘ اور شکر کیا ہے؟ اس پر بڑی لمبی باتیں ہوئیں ‘ بڑی بحثیں ہوئیں‘ بڑے انداز لکھے گئے کہ شکر نہ کرسکنا ہی شکر ہے‘ یہ جان لینا کہ شکر ادا نہیں کر سکتا‘ یہ شکر ہے اور بہت سے اقوال ملتے ہیں لیکن اس کی حقیقت یہ ہے کہ شکر کی حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی اطاعت کی جائے۔ جتنی اللہ کی اطاعت کرے گا‘ اتنا اس نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ اطاعت کے لئے جاننا شرط ہے۔ ایک آدمی نیکی کرتا ہے‘ نیک کام کرتا ہے تو اس کے لئے جاننا شرط ہے کہ نیکی کیا ہے‘ برائی کیا ہے۔ بھلا کیا ہے‘ برا کیا ہے۔ کیا اچھاہے‘ کیا اچھا نہیں ہے۔ جانتا ہو گا تو اچھے کام کو منتخب کر کے اس پر عمل کرے گا۔ اسی طرح انسان مکلف ہے کہ اس تیسرے ذریعہ علم کو اور حقیقی علم کو پانے کا جو ذریعہ ہے‘ اس کو بھی استعمال کرے سمع و بصارت کے ساتھ۔ پھر یہ ایک دوسرے متآثر کرتے ہیں۔ انسان لطیفہ قلب پر محنت نہ کرے اور صرف سمع و بصارت پہ رہے تو پھر یہی مادی چیزیں اس پر بھی غالب آجاتی ہیں اور وہ بے بس ہو جاتا ہے۔ اور اگر اسے استعمال کرے‘ اس پر محنت کرے اور اللہ جل شانہٗ کے قرب کی کیفیات نصیب ہوں تو پھر یہ سمع و بصارت پہ غالب آجاتا ہے  پھر اچھی چیزیں دیکھ کر بندہ خوش ہوتا ہے اور برائی دیکھنے کو جی نہیں کرتا۔ اچھی بات سن کر اسے سکون ملتا ہے اور بری باتیں سننے کو اس کا جی نہیں چاہتا۔ بری باتوں کے سننے سے بھی پرہیز کرتا ہے۔ آپس میں ان کا رشتہ یہ ہے کہ جو جتنا طاقتور ہوگا وہ دوسرے پر بھی اثر انداز ہوگا‘ اسے مغلوب کر لے گا۔ تو اب آپ سوچئے‘ آپ انداز کیجئے کہ اس بھری دنیا میں کتنے لوگ ہوں گے جو اس لطیفہ ربانی کو جانتے ہیں ‘ سمجھتے ہیں یا اس پر محنت کرتے ہیں یا اس کے ذریعے علوم آخرت یا حقیقی علوم تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بہت تھوڑے خوش نصیب ایسے ہوتے ہیں جو اس تک پہنچتے ہیں‘ اس پر محنت کرتے ہیں۔ اور حقیقی زندگی یہی ہے کہ اس ذریعہ علم کو زندہ کیا جائے‘ اسے استعمال کیا جائے‘ اس سے استفادہ کیا جائے‘ اور اس کے مطابق کردار کو ڈھالا جائے تو اللہ کا شکر ادا کرنے کا انداز یہی ہے۔ آپ آنکھ پر اگر پٹی باندھ دیں اور وہ برسوں بندھی رہے تو برسوں بعد کھولیں گے تو آنکھ میں بینائی نہیں ہوگی۔ کان بند کردیں اور برسوں بند رہیں تو پھر انہیں کھول بھی دیں تو اس میں قوت سماعت نہیں رہے گی۔ ایک بازو کو گلے سے لٹکا دیں‘ باندھ دیں ‘ کچھ عرصہ بندھا رہے تو پھر وہیں رک جائے گا‘ اس میں حرکت نہیں رہے گی۔ اسی طرح اگر کوئی شخص زندگی بھر اس لطیفہ ربانی کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوتا ‘ اسے زندگی کرتا ہی نہیں‘ اس پر محنت ہی نہیں کرتا‘ تو یہ بھی رفتہ رفتہ مر جاتا ہے‘ ختم ہو جاتا ہے‘ بے کار ہو جاتا ہے۔ آپ نے دیکھا ‘ اللہ کریم فرماتے ہیں (ینظرون الیک وھم لا یبصرون) آپ کی طرف دیدے تو گھماتے ہیں‘ آپﷺ کو دیکھ نہیں پاتے۔ وجود عالی تو انہیں نظر آتا تھا‘ لیکن وہ سمجھتے تھے‘ ہمارا ایک قریشی بھائی ہے۔ محمد(ﷺ) نام ہے‘ حضرت عبداللہ کے فرزند ہیں‘ اور مکہ مکرمہ کے رہنے والے ہیں‘ محمد الرسول اللہ ﷺ انہیں نظر نہیں آتے تھے۔اسی طرح قرآن کریم فرماتا ہے‘ آپ کی بات یہ سن نہیں پاتے‘ ان کی کانوں میں پردے دیئے گئے ہیں‘ تو آپﷺ کی آواز مبارک تو سنتے تھے‘ تبھی تو ناراض ہوتے تھے‘ اعتراض کرتے تھے‘ لیکن اس میں جو اصل مفاہیم تھے‘ ان کو پانے کی اہلیت نہیں رکھتے تھے۔ اس لئے کہ انہوں نے اپنے اس  افئدۃ کو مردہ کر دیا تھا‘ بیکار کر دیا تھا‘ اس میں استطاعت ہی نہیں رہی تھی‘ تو مسلسل غفلت سے یہ بھی مردہ ہو جاتا ہے ‘ اس میں استطاعت نہیں رہتی اور یہ بہت سخت سزا ہے اللہ کریم کی طرف سے کہ کوئی زندگی بھر اس کی طرف متوجہ ہی نہ ہو ‘ یہ بہت بڑی ناشکری شمار ہوتی ہے‘ بہت بڑی ناشکری۔ اور اللہ کا فرمان ہے (لعلکم تشکرون) تاکہ تم اللہ کا شکر ادا کر سکو ‘ سمع کو استعمال کرو‘ بصارت کو استعمال کرو‘ اور افئدۃ  کو‘ لطیفہ ربانی جو قلب میں ہے اسے استعمال کر کے علوم حاصل کرو۔ تم ماؤں کے پیٹ سے پیدا ہوئے تو کچھ نہیں جانتے تھے‘ پھر تمہیں جاننے کے لئے یہ تین ذرائع عطا فرمائے گئے‘ سمع‘ بصارت اور افئدۃ۔ تم شنوائی سے‘ قوت سماعت سے سیکھتے ہو‘ بصارت سے سیکھتے ہو‘ بہت بڑے بڑے عہدے پاتے ہو‘ حکومتیں‘ اقتدار پا لیتے ہو‘ دولت جمع کر لیتے ہو تو طبقہ امراء میں آجاتے ہو‘ زندگی کی سہولتیں اپنی پہنچ اور اپنی حیثیت کے مطابق حاصل کرتے ہو‘ دنیا میں دولت‘ اقتدار اور چیزوں کے پیچھے تگ و دو کرتے ہواور حاصل کرتے ہو ‘ اگر یہ سمع و بصارت نہ ہوتی‘ نہ تم سیکھتے‘ نہ جانتے تو کیسے ان کے لئے دوڑتے۔ سمع و بصارت تھی جس نے یہ چیزیں تم پر آشکارا کیں تو تم ان کے پیچھے دوڑے۔ اسی طرح  افئدۃ تیسری قوت ہے حصول علم کی ‘ تیسرا ذریعہ علم ہے اور سمع و بصارت مادی علوم حاصل کرتے ہیں‘ دنیا میں بدن کی ضروریات کی تکمیل اور انسان کی دنیوی ارادوں کی تکمیل کے ذرائع اور وسائل حاصل کرتے ہیں لیکن  افئدۃ اور یہ لطیفہ قلب  بہت اعلیٰ اور سب سے قیمتی ہے کہ یہ علوم الٰہیات حاصل کرتا ہے۔ عظمت الٰہی کو پاتا ہے ‘ معرفت الٰہی کو حاصل کرتا ہے اور قرب الٰہی کی تمنا اس میں جاگتی ہے  اور اس کا واحد ذریعہ اللہ کا شکر ہے‘  اور شکر ہے جتنی کامل‘ پرخلوص ‘ جتنی دل کی گہرائی سے اطاعت کی جائے گی اتنا ہی شکر ادا ہو گا۔ شکر ادا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ کریم کی پورے خلوص اور دل کی گہرائی سے اطاعت کی جائے۔ اطاعت شکر ہے اور عدم اطاعت ناشکری ہے۔ ناشکری کو ہی کفر بھی کہا گیا ہے۔ تو اگر اس پر نظر کی جائے تو الحمدللہ بیشمار لوگ ہیں جنہیں اللہ کریم نے نورِ ایمان عطا فرمایا‘ کافر کی تو اس میں بحث ہی نہیں ہے‘ کافر کو تو افئدۃ سے سروکار ہی نہیں ہے‘ لطیفہ قلب سے سروکار ہی نہیں ہے‘ اس نے تو قناعت کر لی سمع و بصارت پر ‘ مادی چیزوں پر اور اسی دارِ دنیا پر اور اسی کی نعمتوں پر وہ تو قانع ہو گیا ‘ اسے اس سے زیادہ کی جستجو ہی نہ رہی۔ نورِ ایمان جسے نصیب ہوتا ہے اس میں بڑے بڑے نام ہیں‘ بڑے بڑے عالم ہیں‘ بڑے بڑے جاننے والے ہیں‘ اور عام مسلمان بھی بہت سی چیزیں جانتا ہے سن کر‘ دیکھ کر‘ کتابیں پڑھتا ہے‘ اہل علم سے سنتا ہے۔ اس سب کے باوجود کتنے لوگ ہیں جنہوں نے  افئدۃ کو استعمال کیا۔کم از کم میں نے جتنا کچھ دیکھا ہے‘ اللہ کریم نے پڑھنے کی توفیق عطا فرمائی ہے‘  تفاسیر‘ احادیث کی شرح‘ اسلامی علوم‘ جتنی کتابیں میری نظر سے گزریں‘ میں نے کسی میں اس افئدۃ کی بحث نہیں پڑھی۔یہ بھی ایک عجیب بات ہے کہ بندہ دین میں آکر‘ اسلام میں آکر‘ مسلمان ہو کر پھر بھی انہیں دو ذرائع پر قناعت کر جائے۔ آپ بہت بحثیں پڑھیں گے کہ ایسی بات سننی چاہیئے ‘ ایسی نہیں سننی چاہئے‘ اچھی بات سنی جائے‘ بری نہ سنی جائے‘ اچھائی دیکھی جائے‘ برائی کی طرف توجہ نہ کی جائے‘ بری چیزیں‘ برے واقعات دیکھے بھی نہ جائیں‘ برائی دیکھنا منع ہے۔ لیکن ان ساری بحثوں کے ساتھ تیسرے ذریعہ علم جو حقیقی ذریعہ علم ہے اور جس کے نتائج ہمیشہ کی زندگی کو متاثر کرتے ہیں اور جس پر پوری دنیوی زندگی کا بھی مدار ہے۔ کہ اگر یہ زندہ و بیدار نہیں ہوگاتو انسان دنیا کی نعمتوں کے حصول کے پیچھے عمر بسر کر دے گا۔ ساری عمر یا پیسہ جمع کرنے کی سوچتا رہے گا یا کہیں اقتدار و وقار حاصل کرنے کی سوچتا رہے گا ‘ اسی میں عمر بسر کر دے گا۔ اب بڑی عجیب بات یہ ہے کہ میں نے اس پر کوئی بحث پڑھی نہیں ہے ‘ میری نظر سے نہ گزری ہوگی۔ ہاں! صوفیاء نے اس پر بحث کی ہے ۔ ایک طبقہ ہے پوری امت میں ‘صوفیاء کا‘ ذاکرین کا ‘ اللہ اللہ کرنے والوں کا اور علمائے باطن جنہیں کہتے ہیں‘ تو انہوں نے شروع سے لے کر آخر تک بحث ہی اس پر کی ہے۔ آپ صوفیاء کی کتابیں‘ بزرگوں کی کتابیں‘ اہل اللہ کی کتابیں یا علمائے باطن کی کتابیں دیکھیں گے تو ان میں بنیادی بحث ہی اس پر ہے اور سمع و بصارت کی بات وہ ضمناً کرتے ہیں اور یہی صحیح طریقہ ہے۔ لیکن میں نے علمائے ظواہر کو بھی دیکھا ہے کہ وہ ان کی اس بحث پر گرفت کرتے ہیں ‘ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے فالتو بات چھیڑ دی‘ اس کی ضرورت کیا تھی‘ یہ درست نہیں ہے‘ یہ صحیح نہیں ہے۔ یہ بڑی عجیب بات ہے!قرآن کریم اس کو اہم ترین ذریعہ علم کے طور پر ارشاد فرماتا ہے‘ آپ اگر اسے اہم نہ سمجھیں تو سمع و بصارت کے برابر تو ذریعہ علم خواہ مخواہ سمجھنا پڑے گا۔ کہ قرآن نے اسے اس صف میں (وَجَعَلَ لَکُمُ الْسَّمْعَ وَالأَبْصَارَ وَالأَفْئِدَۃَ) تمہارے لئے سماعت بنائی‘ بصارت بنائی‘ تم کچھ نہیں جانتے تھے  اور افئدۃ بنایا۔ تو یہ تینوں کو برابر توجہ تو کم از کم دی جائے۔ تینوں میں جو ایک نہیں ہوگا‘ دنیا کے علوم میں بھی اگر کان نہ رہیں تو آدھا ذریعہ علم ختم ہو جاتا ہے۔ آنکھیں نہ رہیں تو بہت بڑا ذریعہ علم ختم ہو جاتا ہے۔اور اگر یہ لطیفہ قلب نہ رہے تو پھر یہ تو اہم ترین ذریعہ علم ہے عظمت الٰہی اور معرفت الٰہی کو جاننے کی انسان کو جو استعداد دی گئی ہے اور جس نے اسے اشرف المخلوقات بنایا۔ قرآن کریم اللہ کا کلام ہے اللہ کا کلام نازل ہوتا ہے انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام پر اور اللہ کلام جیسے موسیٰ علیہ السلام پر (وکلمہ ربہ تکلیما) آپ اللہ کے کلیم تھے‘ اللہ سے باتیں کرنے کا شرف حاصل تھا انہیں‘ تو بارہا میں نے حضرتؒ نے سنا‘ آپؒ فرماتے تھے کہ اللہ کا کلام صرف کان نہیں سنتے تھے کہ اللہ کی طرف سے ارشاد ہوتا اور موسیٰ علیہ السلام کے کان سنتے بلکہ ہر جزو بدن سنتا تھا‘ ہر ذرہ بدن کلام کو سنتا تھا‘ نبیﷺ ایک ایسی ہستی ہیں جسے اللہ کریم نے ساری مخلوق میں بے مثل اور بے مثال پیدا فرمایا ۔ وہ حسن ظاہر ہو‘ قد و قامت ہو ‘ لب و رخسار ہوں‘ ہر چیز آپﷺ کو ایسی عطا ہوئی جیسی دوسرے کسی انسان کو عطا نہیں ہوئی‘ سب سے افضل ترین‘ سب سے اعلیٰ ترین۔ اسی طرح سمع و بصارت بھی آپﷺ کی سب سے اعلیٰ تھی۔ آپﷺ کا دماغ بھی سب سے اعلیٰ تھا‘ لیکن جب قرآن نازل ہوتا ہے تو قرآن کریم فرماتا ہے (علی قلبک) آپ کے لطیفہ قلب پر نازل ہوا۔ کلام الٰہی کو وصول کرنے کا آلہ نہ کان ہیں‘ نہ آنکھ ہے یا حصول علم کے دوسرے نہیں ہیں یہی لطیفہ قلب جو ہے ‘ انبیاء کا کلام باری کو یہی لطیفہ حاصل کرتا ہے۔ ورنہ حضورﷺ کا دماغ عالی کائنات کا افضل ترین دماغ تھا۔ دماغ ذریعہ علم ہے‘ اس پر بھی نازل ہو سکتا تھا فرمایا‘ نہیں! اللہ کا کلام (علی قلبک) آپ کے قلب اطہر پر وارد ہوتا ہے‘ قلب اطہر پر نازل ہوتا ہے۔ اب اس کلام سے مستفید ہونے کے لئے بھی یہی لطیفہ ربانی چاہیئے۔ جن کے یہ لطائف‘ یہ صفت جن میں ختم ہو چکی تھی ‘ جن کا یہ لطیفہ مر چکا تھا‘ تو آپﷺ سے سن کر تو انہیں اور نفرت پیدا ہوتی تھی محبت کی بجائے الٹا اثر ہوتا تھا ‘ اس لئے کہ وہ آلہ اس کے سننے کا‘ وہ ہے ہی نہیں۔ ایک آدمی کی سماعت بند ہے تو اس کے سامنے راگ الاپتے رہیں‘ اس کے سامنے خوبصورت باتیں کریں‘ اسے کیا فرق پڑتا ہے۔ ایک آدمی کی نظر ہے ہی نہیں آپ اس کے سامنے دنیا بھر کے نظارے لے آئیں‘ اسے کیا فرق پڑتا ہے۔ اسی طرح قلب جب مر جاتا ہے‘ لطیفہ ربانی جس میں ہے ‘ یہ اپنی استعداد کھو دیتا ہے‘ تو اس کے سامنے انبیاء کے ارشادات اور اللہ کا کلام بھی کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ کتنے لوگ ہیں جن کو اللہ کا کلام پڑھے بغیر دن نہیں گزرتا‘ کتنے لوگ ہیں۔ کوئی چیز دوعالم میں اللہ کے کلام سے بڑھ کر قیمتی‘ اللہ کے کلام سے بڑھ کر شیریں‘ اللہ کے کلام سے بڑھ کر لذیذ ہے؟ ہر گز نہیں۔ تو پھر اتنی قیمتی‘ اتنی لذیذ‘ اتنی اعلیٰ چیز گھروں میں  طاقوں پہ رکھی ہے‘ ریشمی غلافوں میں رکھی ہے۔ فرصت کیوں نہیں ہوتی کہ اسے دیکھا جائے ‘ پڑھا جائے‘ سمجھا جائے ۔ سمع و بصارت ہے لیکن سمع و بصارت کو اس سے کچھ لذت نہیں ملتی ‘ اس کی لذتیں نصیب ہوتی ہیں لطیفہ قلب کو۔ اور یہ زندہ ہو تو اس کے بغیر چارہ نہیں۔ میں نے صوفیوں کو دیکھا ہے کہ دن پر قرآن کریم بغل میں اٹھائے پھرتے ہیں‘ جہاں فرصت ملی‘ وہاں بیٹھ کر کھول لیا‘ تلاوت کی۔ وہ کیوں پاگلوں کی طرح اٹھائے پھرتے ہیں؟ قرآن کریم تو مسلمانوں کے گھروں میں بیشمار موجود ہیں‘ بڑے ادب و آداب سے رکھے ہیں‘ بڑے قیمتی غلافوں میں رکھے ہیں‘ انہیں اس سے لذت ملتی ہے۔ ان کا لطیفہ قلب اور ذریعہ علم حیات ہے ‘ زندہ ہے‘ کام کر رہا ہے‘ اور انہیں اس سے شیرینی ملتی ہے۔ اکثریت کیوں نہیں کرتی‘ اس لئے کہ ان کے صرف سمع و بصارت ہے‘انہوں نے دل کو زندہ ہی نہیں کیا‘ سمع و بصارت جو ذرائع علم ہیں‘ ان کی تو عام ہر جگہ چیزیں مل جاتی ہیں‘ دیکھنے کو بھی‘ سننے کو بھی ۔ ذریعہ قلب جو ہے اس کے دیکھنے اور سننے کو چیزیں ہر جگہ نہیں ملتیں۔ یہ اللہ کے خاص لوگ ہوتے ہیں‘ اللہ کے خاص بندے ہوتے ہیں جنہوں نے زندگیاں لگا کر اپنے پہلوں سے‘ اپنے مشائخ سے ‘ اپنے بزرگوں سے یہ نعمت حاصل کی ہوتی ہے جو یہ آگے بانٹ سکتے ہیں۔ اس کے ذرائع جو ہیں وہ اس طرح عام نہیں ہیں کہ ہر چیز کو دیکھ کر قلب زندہ ہو جائے بلکہ دنیا اور دنیا کے حالات تو اس پر گرد ڈالتے ہیں‘ دنیا اور دنیا کے واقعات اور سمع  بصار ت کے ذریعے حاصل ہونے علوم تو اس پر مزید گرد ڈالتے ہیں ‘ تاریکی پھینکتے ہیں اور اس کی قوت کو کمزور کرتے ہیں۔ یہ تو چاہئے کہ سمع و بصارت کی نسبت یہ لطیفہ قلب زیادہ مضبوط ہو جائے ‘ زیادہ قوی ہو جائے تاکہ سمع و بصارت اس پر گرد نہ ڈال سکیں بلکہ یہ اپنی روشنی ان پر بھی ڈالے ۔ ان کو بھی اس میں مصروف کر دے اور آنکھوں اور کانوں کو بھلی بات سننے کا چسکہ ہو جائے  اور برائی سے بھاگ جائیں۔ تو یہ ان قوتوں میں مقابلہ ہوتا ہے لیکن انسان مکلف ہے اس کا کہ وہ کس نعمت کا کتنا استعمال کرتا ہے اور افئدۃ  برکات نبوت سے لطیفہ قلب زندہ ہوتا ہے ‘ اطاعت الٰہی‘ اتباع رسالتﷺ اور خلوص کے ساتھ یہ سینچا جاتا ہے حتیٰ کہ اللہ اس کو اتنی طاقت دے دے کہ پھر یہ اتنا قوی ہو جائے کہ سمع و بصارت پر یہ غالب آجائے اور جو چیز اس کے لئے مفید ہو وہی کان بھی سنیں ‘ جو اس کے لئے مفید ہو وہی آنکھیں بھی دیکھیں۔ اور پھر ہاتھ اور پاؤں اور کردار اسی سانچے میں ڈھل جائے تب جا کر بات بنتی ہے۔ لیکن بڑے دکھ اور بڑے افسوس کی بات ہے‘ اس پر عمل کرنا تو اللہ کے بڑے کرم کی بات ہے اس پر میں نے تو بحثیں بھی نہیں سنیں۔ اس پر لکھنا بھی ہاں! صوفی شروع سے لے کر آج تک صوفیاء اس پر لکھتے بھی رہے ہیں‘ بیان بھی کرتے رہیں ہیں اور الٹے ان پر فتوے لگا کئے۔ اس کی تردید کی گئی ہے۔ لوگوں کو اس سے روکا گیا ہے یہ بڑی عجیب بات ہے۔ سو اللہ کریم کا یہ احسان ہے کہ کسی ایسی مجلس میں‘ کسی ایسی جگہ پہنچا دے‘ جہاں اس پہ بھی بات ہو‘ اس پہ بھی کام ہو‘ اس کی زندگی کے اثبات پہ بات ہو اور عملی طور پر اس کو حیات دینے کا کام کیا جائے۔ یہ نعمت اگر اس دنیا میں نصیب ہو جائے تو یہ اس دنیا میں بے مثال نعمت ہے جس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ اور دنیا کی ساری لذتیں اس کے سامنے ہیچ ہیں۔ دنیا بھر کی حکومت بھی کسی کو مل جائے ‘ وہ بات نہیں بنتی جو ایک دلِ زندہ سے کسی کو نصیب ہو جائے۔ میں نے حضرتؒ سے کئی بار یہ سنا ‘ فرماتے تھے کہ اگر کوئی مجھے کہے کہ ساری دنیا کی حکومت لے لو تو یہ دل کا کام اور یہ ذکر الٰہی چھوڑ دو تو میں اسے ٹھوکر مار دوں گا۔ یہ اتنا قیمتی ہے کہ پوری دنیا کی سلطنت کے مقابلے میں بھی چھوڑا نہیں جا سکتا۔ اب جتنی یہ بات قیمتی ہے‘ اتنی ہی ضروری بھی ہے کیونکہ آخرت کا مدار دنیا کے عقیدہ اور عمل پر ہے اور عقیدہ اور عمل کی تصحیح کے لئے دلِ زندہ چاہیئے ورنہ سب رسم و رواج رہ جاتے ہیں۔ الحمد للہ ‘ اللہ کی اطاعت نصیب ہو‘ بڑی اچھی بات ہے لیکن اس میں جان اور روح اسی لطیفہ قلب سے پیدا ہوتی ہے ورنہ اطاعت بھی ہم رسم و رواج کی طرح کرتے رہتے ہیں‘ اس میں روح نہیں ہوتی۔ اس میں وہ خلوص نہیں ہوتا ‘ اس میں وہ خشوع و خضوع نہیں ہوتا۔ یہ خشوع و خضوع‘ خلوص اور گہرائی  یہ ساری وہ چیزیں ہیں جو اس لطیفہ قلب سے اور اس ذریعہ علم سے متعلق ہیں۔ اللہ کریم یہ نعمت نصیب فرمائے تو اس پر ایسی محنت کی جائے تو اس کا حق ہے۔ اور زندگی میں اس کو ہر کام میں اولیت دی جائے۔ کھانے پینے‘ لباس‘ بول چال میں ہر چیز میں یہ احتیاط کی جائے کہ کوئی ایسا کام نہ کیا جائے ‘ کوئی ایسی بات نہ سنی جائے ‘ کوئی ایسا لفظ نہ بولاجائے ‘  جو اس لطیفہ قلب کو متاثر کرتا ہو‘ اس کا نقصان کرتا ہو۔ اور ہر قدم ایسا اٹھایا جائے جو اس میں ترقی کا سبب بنے‘ اس میں کیفیات کے بڑھنے کا سبب بنے۔ یہ ذرائع علم دوسرے جو ہیں‘ کان آواز سنتے ہیں‘ آنکھیں کوئی مادی چیز دیکھتی ہیں‘ یہ ذریعہ علم افئدۃ جو ہے اس کے لئے کیفیات چاہیے اور یہ کیفیات کو جذب کر کے علوم الٰہیات کی طرف بڑھتا ہے اور حقیقی زندگی سے آشنا کرتا ہے‘ اسے اللہ حیات دے دے‘ تو پھر ایک زندگی دنیوی نظر نہیں آتی‘ دنیا اور آخرت سامنے آجاتی ہیں‘ آخرت اور دنیا مل کر چل رہی ہوتی ہیںاور سامنے آ جاتی ہیں اور آدمی آخرت کو پسند کر کے چلتا رہتا ہے۔ یہ کیفیات اس افئدۃ کی حیات سے نصیب ہوتی ہیں۔اللہ کریم نے اگر یہ انعام فرمایا کہ ہمیں یہ ذریعہ علم جاننے اور سیکھنے کا موقع نصیب ہوا‘ تو وہ مہربانی فرمائے ہمیشہ اس پہ قائم رکھے اور اس میں ترقی عطا فرمائے۔ اور اسی پر‘ ایمان پر‘ یقین پر‘ خلوص  پر خاتمہ نصیب فرمائے۔
وآخر دعونا عن الحمد اللہ رب العلمین

Jan 26, 2017

مسئلہ اعانت واستعانت تحریر ابن محمد جی قریشی

0 comments
مسئلہ اعانت واستعانت      تحریر ابن محمد جی قریشی
برصغیرپاک وہندمیںمسلمانوں کے درمیان جو اختلاف پائے جاتے ہیں ان میں ایک بڑا شدید اختلافی مسئلہ غیر اللہ سے غائبانہ اعانت واسعانت کا ہے۔ہمارے پاس الحمد للہ اس مسئلہ کے حل کے لئے دونوںطرح کے دلائل موجود ہے جہاں تک ظاہری علوم کا تعلق ہے۔تو یہ مسئلہ قرآن و حدیث میں بالکل واضح ہے۔دوسری دلیل اہل ذوق کے لئے کہ وہ آئے خود محنت کرے ، خود ولی بنےاللہ کرے گاانشاء اللہ تو ان پر حقائق واضح ہو جائے گے۔اسے معلوم ہو جائے گا کہ حقیقت میں فیض کسے کہتے ہیں؟تصرف فی اولیاء کی حقیقت کیا ہے؟ہمارے ہاں ایک طبقہ نے تو کشف ومشاہدات کاانکار کر دیا ہےاور دوسرا اولیاء اللہ کو مشکل کشا مان لیا ہے ان کا خیال ہے کہ جو چاہئے وہ کر سکتے ہیں اصل میں یہ مسئلہ بین بین ہے۔
اولیاء اللہ کو کشف ومشاہدہ ہ اور تصرف بھی ہوتا ہے اس میں کچھ شک نہیں۔حضرت سلیمان علیہ السلام کے صحابی کا واقعہ قرآن میں ہے۔قَالَ يٰٓاَيُّهَا الْمَلَؤُا اَيُّكُمْ يَاْتِيْنِيْ بِعَرْشِهَا قَبْلَ اَنْ يَّاْتُوْنِيْ مُسْلِمِيْنَ ( 38) قَالَ عِفْرِيْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِيْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَ  ۚ وَاِنِّىْ عَلَيْهِ لَقَوِيٌّ اَمِيْنٌ)39)قَالَ الَّذِيْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ اَنَا اٰتِيْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ يَّرْتَدَّ اِلَيْكَ طَرْفُكَ  ۭ فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ قَالَ ھٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّيْ ڷ لِيَبْلُوَنِيْٓ ءَاَشْكُرُ اَمْ اَكْفُرُ  ۭ وَمَنْ شَكَرَ فَاِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ ۚ وَمَنْ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّيْ غَنِيٌّ كَرِيْمٌ   ( 40؀ ) 
سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے سردارو ! تم میں کوئی ایسا ہے کہ ان کے فرمانبردار ہو کر آنے سے پہلے اس (ملکہ) کا تخت میرے پاس لے آئے( 38)تو ایک قوی ہیکل جن نے عرض کیا کہ میں پہلے اس کے آپ اجلاس سے اٹھیں آپ کی خدمت میں پیش کردوں گا اور بیشک میں بہت طاقتور بھی ہوں اسے لاسکتا ہوں (اور) امانتدار بھی ہوں(39) جس کے پاس کتاب (الٰہی) کا علم تھا اس نے کہا میں آپ کی آنکھ جھپکنے سے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کیے دیتا ہوں۔ پس جب انہوں نے اس (تخت) کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا تو فرمایا یہ میرے پروردگار کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے کہ میں شکر ادا کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں۔ اور جو شخص شکر ادا کرتا ہے تو وہ اپنے ہی نفع کے لئے کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو یقینا میرا پروردگار بےنیاز (اور) کرم کرنے والا ہے(40) (اکرام التراجم)
صاحب اسرار التنزیل ان آیات کی تفسیر میںکتاب اللہ کی تفسیر میںلکھتے ہیں کہ:
 کتاب اللہ کا علم کیا ہےحق یہ کہ کتاب محض الفاظ ومعانی ہی نہیں ہوتےبلکہ ہر لفظ میں انوارات و تجلیات اور کیفیات ہوتی ہیںجو سب نبی کے دل پر وارد ہوتی ہیںاور اس کی حقیقت متبعین کو سینہ بسینہ نصیب ہوتی ہیں انہی کیفیات کے حامل ولی اللہ کہلاتے ہیں اور ایسے علماء ہی انبیاء کے وارث ہوتے ہیں ورنہ محض الفاظ و معانی سے کھیلنے والے عموماً کتاب اللہ کو بھی ذریعہ معاش بنا پاتے ہیں اور بس۔ان کیفیات کے حامل لوگوں میںتصرف کی قوت بھی حسب اسعداد ہوتی ہےجس کا اظہاربھی مختلف مواقع پر ہوتا رہتا ہے ۔ قلبی طور پر اس کی تحقیق جو حضرت  کے حکم پر کی گئی تھی یہ سمجھ آئی تھی کہ اس شخص نے جو آپ کا صحابی اور درباری تھااور مفسرین جس کا نام اآصف بن برخیا لکھا ہےاپنے قلب کے انوارات تخت پر القا ء فرما کرایک بار اللہ کہاتو تخت سامنے پڑا تھا۔ 
مگر اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ جب ،جو اور جیسے چاہئے کشفاً دیکھتے رہےاور تصرف کرتے رہئے،ایسا ممکن نہیں ۔یہ قوت صرف اللہ کی ہے کہ جو چاہئے اور جیسے چاہئے کر سکتا ہے۔ہوتا یہ ہے کہ جب وقت برابر ہوتا ۔دنیا دار السبب ہےاللہ بطور سبب اپنے محبوب بندے کے دل میں ڈال دیتا اور جوں ہی وہ توجہ کرتا ہے کام ہو جاتا ہے اور اسے کرامت کہتے ہیں۔
تصرف اور کرامت میں ایک باریک فرق یہ بھی ہے کہ تصرف میں صاحب تصرف کا ارادہ شامل ہوتا ہے جبکہ کرامت کے اظہار پرتو بعض اوقات صاحب کرامت بھی حیران رہ جاتا ہے۔دوسرا تصرف اصطلاح میں خیال و نظر کی طاقت استعمال کر کے حیرت انگیز کام صادر کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے جس کے لئے نبی یا ولی بلکہ مسلمان ہونا بھی شرط نہیں، تصرف مسمریزم جیسا ایک عمل ہے۔بس اس کو آپ یو ں سمجھ لے جیسے اسلحہ، مسلمان علاء کلمۃ اللہ کے لئے استعمال کرے گا اور کافر باطل مقاصد کے لئے استعمال کرے گا۔بس تصرف بھی ایک ایسی ہی قوت ہےجسے صوفیاء نیک مقاصد میں بروئے کار لاتے ہیں اور اہل باطل لوگوں کو دھوکا دینے کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔
قرآن مجید میں حضرت ابراہیم ؈کا ذکر مبار ک موجود ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کے اولولعزم نبی تھے اللہ نے ان کے سامنے کائنات منکشف کر دی وَكَذٰلِكَ نُرِيْٓ اِبْرٰهِيْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلِيَكُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِيْنَ(سورۃ الانعام:75)مگر وہی ابراہیم علیہ السلام ہیںوَلَقَدْ جَاۗءَتْ رُسُلُنَآ اِبْرٰهِيْمَ بِالْبُشْرٰي قَالُوْا سَلٰمًا  ۭ قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَاۗءَ بِعِجْلٍ حَنِيْذٍ  (سورۃھود 69؀)
صاحب اسرار التنزیل فرماتے ہیںاس آیت سے یہ عقدہ بھی کھلا کہ انبیاء اپنے علم کی وسعت کے باوجود ہر آن اللہ کے دربار میں ہی امیدوار کرم رہتے ہیں اور وہی جانتے ہیں جو وہ بتاتا ہے کہ فرشتے تھے انھوں نے کھانا تو نہ کھانا تھا مگر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پہچان نہ سکے اور انسان سمجھ کر تو اضع کی لیکن جب انھوں نے کھانے کی طرف ہاتھ نہ بڑھایا تو آپ گھبراگئے کہ عرب اور فلسطین کا دستور تھا کہ دشمن کا کھانا نہ کھاتے تھے آپ نے سمجھا کہ شاید کوئی دشمن ہوں مگر فرشتوں نے عرض کیا کہ ہم تو اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں اور اللہ نے قوم لوط کو تباہ کرنے کے لئے بھیجا ہے تو ان کی بیوی ہنس دیں۔ غالیا اسی بات سے کہ کس قدر جلدی فرمائی بچھڑا ذبح کیا مجھ سے پکوایا اور اب پتہ چلا کہ یہ تو فرشتے ہیں انھیں کھانے پینے سے غرض نہیں ۔
اب یہ اللہ کی شان ہے کہاں پوری کائنات کا منکشف ہونا اور کہاں فرشتوں کو انسان سمجھ کر ان کے آگے تلا ہو ابچھڑا رکھ دینا۔اسی طرح حکم دیافَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْیَ قَالَ یَا بُنَیَّ إِنِّی أَرٰی فِی الْمَنَامِ أَنِّی أَذْبَحُکَ فَانْظُرْ مَاذَا تَرَیجب وہ ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ دوڑنے کی عمر کو پہنچے تو اُنہوں نے فرمایا: اے پیارے بیٹے! میں خواب میںدیکھتاہوں کہ تمہیں ذبح کررہاہوں۔ بتاؤ! تمہاری کیا رائے ہے ؟(سورۃ الصافات۔102)یَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِیْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِینَ .اے میرے والد بزرگوار!آپ کو جو حکم دیاجارہاہے اس کو پورا کرگزرئیے، اگر اللہ نےچاہاتو یقینا آپ مجھے صبرکرنے والوںمیں پائیں گے۔(سورۃ الصافات۔102)
جب انہیں حکم دیا کہ بیٹے کو میرے سامنے ذبح کرو تو آخر تک نہیں بتایا کہ تیرے بیٹے کو بچا لوں گا۔بسم اﷲ اﷲ اکبر چھری چلا دی خون بہہ نکلاجسم تڑپ کرٹھنڈا ہو گیا اور ابھی تک حضرت ابراھیم علیہ السلام سمجھ رہے ہیں کہ میں نے اسمٰعیل علیہ السلام کو ذبح کر دیا ۔ آنکھوں سے پٹی ہٹائی تو حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کھڑے مسکرا رہے ہیں او ر دنبہ ذبہ ہوا پڑا ہے۔گھبرا گئے میں نے اسمٰعیل علیہ السلام کو ذبح کرنا تھاکیا میری قربانی ضائع گئی؟ فوراً اﷲ کی طرف سے یہ وحی آئی فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِینِ . وَنَادَیْنَاهُ أَنْ یَا إِبْرَاهِیمُ ،قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْیَا إِنَّا کَذَلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِینَ جب وہ دونوں نے حکمِ الہی کو تسلیم کیا اور والد نے صاحبزادہ کو پیشانی کے بل لٹادیا اور ذبح کرنے لگے توہم نے انہیں ندا دی کہ اے ابراہیم ! واقعی آپ نے خواب سچا کردکھایا‘ بے شک ہم محسنوں کو ایساہی بدلہ دیتے ہیں ۔(سورۃ الصافات ۔ 104) 
اللہ کا امتحان تھا اگر پہلے بتا دیا جاتا تو امتحان نہ ہوتا اس طرح تو کسی کے لئے کچھ مشکل نہیں کہ اسے پتہ ہو کہ بچے کے گلے پر چھری پھیرو بچہ ذبح نہیں ہو گا دنبہ ہوگا تو پھر کیا مشکل ہے حضرت ابرہیم نے اپنی طرف اسماعیل کے گلے پر چھری پھیری تھی آگے اللہ کی اپنی مرضی تھی۔
اسی طرح قرآن کریم میں حضرت یوسف کے واقعے میں ملتا ہے کہ حضرت یوسف ؑ نے اپنے بھائیوں کو مصر میں اپنا کرتہ عطاء کیا اورکہاکہ یہ میرے والد کی آنکھوں پر لگانا ان کی بینائی لوٹ آئے گی اور وہ شخص کرتہ لے کر جب مصر سے نکلا کنعان میں بیٹھے ہوئے حضرت یعقوب ؑ نے فرمایا آج مجھے یوسف ؑ کی خوشبو آرہی ہے۔ وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيْرُ قَالَ اَبُوْهُمْ اِنِّىْ لَاَجِدُ رِيْحَ يُوْسُفَ لَوْلَآ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ    94؀جب قافلہ (مصر سے) روانہ ہوا تو ان کے والد فرمانے لگے کہ بیشک مجھے یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو آرہی ہے اگر تم یہ نہ کہو کہ بڑھاپے میں بہکی باتیں کررہا ہوں
لیکن عجیب بات کہ مصر جو کم وبیش آٹھ دن کی مسافت پر تھا وہاں سے خوشبو آنے لگی مگر خود کنعان کے کنویں اور قافلے والوں کے پاس سے نہ آئی پھر مصر میں بھی انھیں برسوں بیت چکے تھے پہلے تو نہ آئی اس کا آسان ساجواب یہ ہے کہ کشف اور مشاہد ہ ازقسم ثمرات ہے جو ہمیشہ وہبی ہوتے ہیں جب اللہ چاہے بتا بھی دے دکھا بھی دے اور جو نہ چاہے نہ بتائے ۔ جب تک اسے منظور تھا نہ یوسف (علیہ السلام) نے اطلاع بھجوائی اور نہ ہوانے خوشبوپہنچائی اور جب اس نے اجازت بخشی تو انھوں نے بھی پیغام روانہ کردیا اور ہوا بھی خوشبولے اڑی۔
  تو ثابت ہوا کہ اللہ کریم اپنے بندوں کو غیب کی خبریں پہنچا تے ہیں  خصوصا انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو اور سب سے زیادہ آقائے نامدار (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غیب پر اطلاع دی گئی جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان کے مطابق تھی مگر یہ علم کسی ذریعے سے پہنچتا ہے کشف الہام القاء
 وجدان یا پھر انبیاء کو سب سے مضبوط ذریعہ جو نصیب ہوتا ہے وہ وحی الٰہی کا ہے اور نبی کا کشف والہام تو کیا نبی کا خواب بھی وحی ہوتا ہے لیکن یہ سب علم غیب نہیں کہلائے گا علم غیب صرف اللہ کا خاصہ ہےجس میں کوئی بھی دوسرا اس کا شریک نہیں اور آسان لفظوں میں علم غیب کی تعریف یہ ہے کہ بغیر کسی سبب کے حاصل ہو۔ اگر درمیان میں سبب یاواسطہ آگیا تو غیب کی خبر کہلائے گا علم غیب نہ ہوگا اور بغیر واسطے یا کسی ذریعے کے جاننایہ صرف اللہ کریم کا خاصہ ہے۔
یہ چند مثالیں سمجھانے کے لئے قرآن سے بیان کی گئی ہیں ورہمارے ہاں توانتہاء پسندی ہےجہاں یہ عقیدہ رکھنا کہ اولیاء اللہ کچھ تصرف نہیں رکھتے گمراہی ہے اور وہی یہ عقیدہ رکھنا کہ جو وہ چاہئے کر سکتے ہیں تو یہ بھی نری گمراہی ہےجو حقیقت وہ عرض کر دی گئی ہے ۔اب یہ اللہ کی مرضی ہے کہ وہ کیا چھپاتا ہے اور کیا منکشف کرتا ہے یہ اسی مالک الملک کہ دست قدرت میں ہے کوئی بندہ کتنا بھی اللہ کاقرب پا جائے ۔بندہ بندہ ہی رہے گا ،خدا نہیں بن سکتا اور اللہ کتنا ہی قریب کیوں نہ ہو اللہ اللہ ہے۔ ہمارے ہاں مسلک و شخصیت پرستی اور پھر علماء سو اپنے مفاد کے لئے لوگوں کو حقائق بتانے کے بچائے الٹا گمراہ کر رہے ہیں۔کہیں تو حید کے نام پر اولیاء اللہ کی توہین کی جاتی ہے اور کہیں اولیاء اللہ کی محبت میںانھیں مشکل کشا اور حاجت رواں سمجھا جاتا ہے۔
راقم الحروف نے ایک سفر کے دوران  حافظ غلام قادریحفظہ اللہ تعالی سے اس مسئلہ کے متعلق استفسار کیا تو درج بالا تقریر کے بعد آپ نے مجھے ایک واقعہ بھی سنایا کہ:   
1971ء کی جنگ میں ہماراکیمپ گجرات کے علاقہ میں تھا ،جس کی پوزیشن جنگی حالات کے پیش نظربدلتی رہتی تھی ۔گجرات شہر میں بھی ہمارا آنا جانا لگا رہتا تھا۔گجرات سے متصل علاقہ مہمداں میں ایک بزرگ( سائیں کرم الٰہیؒ) عرف کاواںوالی سرکارکامدفن ہے۔ایک دن ذاکرین ساتھیوںکے ہمراہ سائیں کرم الٰہی کے مزار پر جانے کا اتفاق ہوا۔میرے ہمراہ رشید احمد بھی تھا۔رشید احمد سمندری کا رہنے والا تھا ۔کیمپ ایریا میں ہی اس نے میری دعوت پر ذکرکرناشروع کیا تھا۔رشیداحمدکواللہ تعالیٰ نےبہت تیز قوت بصیرت عطا فرمائی تھی۔میں مزار پر پہنچ کر ابھی وضو ہی کر رہا تھا کہ رشیداحمد آئےاور مجھے کہنے لگا صاحب قبر فرما رہے ہیں کہ حافظ غلام قادری کو کہے کہ وہ جلدی آئے ۔وضو سے فارغ ہو کرہم نے مزار پر جا کر ذکر شروع کیا۔
کشفاً یہ معلوم ہوا کہ انہوں نے فقیرانہ سے لباس (ایک پاجامعہ ،کرتا) میں زندگی بسر کی ہے، انہوں نے فرمایا کہ میںشاہ دولہؒ کے بعد آیا ہوں اور کچھ عرصہ ان کے مزار پر بھی رہا ہوں۔ اسی اثناء میں ایک ٹانگہ آکر رکا اس سے ایک عورت اتری اور اس نے قبر کے پتھر کو پکڑ کر زور زور سے روناچیخناشروع کر دیااور ساتھ یہ دوہائی بھی دے رہی تھی کہ میں سالم(سپیشل )ٹانگہ کرکے ہائی ہوں۔ سائیں کاواں والیاں میری مشکلیں آسان کر دے،مجھے آنکھیں عطا کراور مزید بھی کچھ اس طرح مانگ رہی تھی۔ اس دوران مشاہدہ میں یہ آرہا تھا کہ صاحب قبر اس کی طرف کچھ توجہ نہیں کر رہے تھے بلکہ وہ ہماری طرف متوجہ ہیں ۔میں نے رشید احمد کو کہا کہ صاحب قبر عرض کرو کہ آپ اس عورت کی طرف بھی توجہ کرے۔انہوں نے جواباً فرمایامیں اس کے لئے کیا کر سکتا ہوں،ہم نے عرض کیا دعا تو کرسکتے ہیں مگر انہوں نے دعا بھی نہ کی ۔پھر میں نے رشید احمد سے کہا کہ ان سے عرض کرو کہ اس عورت کے ایمان کے لئے دعا کرے ،تو پھر انہوں دعا کر دی ۔
پھر وہ فرمانے لگے کہ حافظ غلام قادری کو اس علاقہ میں اتنے عرصہ سے دیکھ رہا ہوں مگر یہ بڑے عرصہ بعد میرے پاس آئے ہیں۔رشید احمد نے عرض کیا کہ آپ کو یہ کیسے پتہ چل گیا۔انہوں نے فرمایا کہ تم لوگ جہاں بھی ذکر کرتے ہو ہمیں پتہ چل جاتا ہے جس طرح گپ اندھیرا ہواور اس میں دیا سلائی بھی جلائی جائے تو بڑے دور سےروشنی نظر آتی ہے اسی طرح آپ لوگ ہمیں دنیا میں نظر آتے ہو ۔آخر میں ہم نے عرض کی کہ جب ہم ذکر کرتے ہیں تو آپ توجہ کیا کرے۔ انہوں نے فرمایا یہ کہنے کی ضرورت نہیں ایک میں نہیں بلکہ آپ جہاں ذکر کرے گے وہاں کے تمام صوفیاء خود بخودمتوجہ ہوجاتے ہیں کیونکہ ہم نے خود زندگی میں یہ محنت کی ہے اور یہی ذکر کرنے والے لوگ ہمیں اچھے لگتے ہیں۔
اصل بات یہ ہے کہ اولیاءاللہ تو عالم برزخ میں اپنے مقام پر تشریف فرما ہوتے ہیںجس مقام کے لئے انھوں نے دن رات محنت کی ،دنیا کی لذات کو چھوڑا ،انھیں برزخ میں بارگاہ نبویﷺ کی حاضری نصیب ہوتی ہے۔اب کہاں بارگاہ نبوی ﷺ کی حاضری اور آخرت کی عظیم نعمتیں اور کہاں یہ دنیاوی لتھیڑے،انھیں اس بات سے کیا غرض کہ کون ان کی قبر پر آ رہا ہے اور کیا مانگ رہا ہے؟۔ہاں اگر روحانی رابطہ ہو کشف قبور ہو تو دعا کے لئے عرض کی جا سکتی ہے ،مگر یہ بھی ان کی مرضی کہ دعا کرے یا نہ کرےکیونکہ وہ اس بات کے مکلف نہیں۔
حضرت علی ہجویری کی قبر پر ہمارے ایک ساتھی گئےداتا گنج بخش ؒ سے روحانی کلام نصیب ہوا تو عرض کیا حضرت ساری زندگی جس کام سے آپ لوگوں کو منع کرتے رہے آج وہ تمام بدعات وخرافات آپ کی قبرپرہو رہی ہیں انہوں نے فرمایا جب تک ہم دنیا میں تھے ہم مکلف تھے ہم نے لوگوں کو منع کیا اب تم مکلف ہو ،جواب دہ ہو،یعنی انہوں نے شرعی مسئلہ بھی سمجھا دیا۔کہ ہم تو قبر(عالم برزخ)میں ہیں ہم دارالعمل سے دارالاجزاء میں منتقل ہو چکے ہیںتم دنیا میں تمھارا کام لوگوں کو برائی سے روکنا اور اچھائی کی دعوت دینا ہے۔ 
اولیاء اللہ کو عالم الغیب ، مشکل کشا اور حاجت رواں سمجھنانری گمراہی ہے۔حقیت تو یہ ہے کہ بریلوی مسلک کے جیدعالم دین علامہ  غلام رسول سعیدی ؒاپنی مایہ ناز تفسیر وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ۔۔۔۔۔کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
ہمارے زمانہ میں بعض جہلا اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے کے بجائے اپنی حاجتوں کا سوال پیروں ‘ فقیروں سے کرتے ہیں اور قبروں اور آستانوں پر جا کر اپنی حاجات بیان کرتے ہیں اور اولیاء اللہ کی نذر مانتے ہیں ‘ حالانکہ ہر چیز کی دعا اللہ تعالیٰ سے کرنی چاہیے اور اسی کی نذر ماننی چاہیے ‘ کیونکہ دعا اور نذر دونوں عبادت ہیں اور غیر اللہ کی عبادت جائز نہیں ہے ‘ البتہ دعا میں انبیاء کرام اور اولیاء عظام کا وسیلہ پیش کرنا چاہیے۔
اسی طرح علم الغیب کے متعلق خلاصہ بحث یہ فرماتے ہیں
اس تمام بحث کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو علی حسب المراتب غیب کی خبروں پر مطلع فرمایا ہے لیکن غیب مطلق (یعنی تمام معلومات کا احاطہ کاملہ) یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے اور اسی کو غیب مطلق کا علم ہے ‘ اور غیب کی جن خبروں پر اللہ نے اپنے خواص کو مطلع فرمایا ہے ان کے اعتبار سے ان بندوں کو غیب کا علم ہے ‘ لیکن اس کو علم الغیب کہنا درست نہیں ہے کیونکہ ان کو ایسی صفت حاصل نہیں ہے جس سے ان پر ہر غیب منکشف ہو ‘ یہ علامہ شامی کی بیان کردہ توجہیہ ہے ‘ اور علامہ آلوسی کی توجیہ یہ ہے کہ اگرچہ ان کو بعض غیوبات پر مطلع کیا گیا لیکن ظاہر آیات سے تعارض کی بناء پر یہ کہنا درست نہیں ہے کہ ان کو غیب کا علم ہے ‘ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ ان کو غیب پر مطلع کیا گیا ہے یا ان پر غیب ظاہر کیا گیا ہے ‘ اور امام احمد رضا قادری (رح) کی تحقیق ہے کہ مطلقا غلم غیب بولا جائے تو اس سے علم ذاتی مراد ہوتا ہے ‘ اس لیے یہ کہنا جائز نہیں ہے کہ فلاں شخص کو علم غیب ہے ‘ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بعض غیوب کو ظاہر فرمایا ‘ آپ کو بعض غیوب پر مطلع کیا گیا یا آپ کو غیب کی خبریں دی گئیں اور جن علماء اور فقہاء کی عبارات میں مخلوق کی طرف علم غیب کا اسناد کیا گیا ہے ‘ وہاں چونکہ غیب سے مراد غیب مطلق نہیں ہے اس لیے وہ عبارات عقلا جائز ہیں اور کفر وشرک نہیں ہیں لیکن ایسا کہنا شرعا مستحسن نہیں ہے۔(تبیان القرآن ج۱ ص) 
قارہین اکرام! یہاں جو کچھ عرض کیا گیا ہے بغیر کسی تعصب کے ،بریلوی دیوبندی اہل حدیث سے بالا تر ہو کر لکھا گیا ہے صرف اس غرض سے شاید کسی کو یہ حقیقت سمجھ میں آ جائے اور مسلمانوں کے اختلاف دور ہو جائے ۔میری قارہین سے گذارش وہ اس جو بھی تبصرہ فرمائیں یہ ان کا حق ہے مگر خدا راہ اگر آپ کا وسیع مطالع نہیں ہے اور اہل اللہ صوفیاء کی صحبت میں بھی نہیں بیٹھے ہیں تو پہلے اس علم کو حاصل کیجئے ۔کیونکہ یہاں میں نےکشف کے واقعات تو لکھے مگر اس موضوع پر دلائل نہیں دئیے جو انشاء اللہ پھر کبھی سہی ۔
متقدمین اور متاخرین مفسرین و آئمہ کے دلائل اس اندیشہ کے پیش نظر چھوڑا دیا کہ بات بہت طویل ہو جائے گی۔اللہ ہو کو صراط مستقیم پر استقامت نصیب فرمائیں۔