Jan 19, 2018

حضرت عیسی علیہ السلام کب اور کیوں تشریف لائیں گے؟ اسباب وعلل کی دنیا میں نظام باطنی

0 comments
حضرت عیسی علیہ السلام کب اور کیوں تشریف لائیں گے؟
اسباب وعلل کی دنیا میں نظام باطنی
…………………………………………..          
حق و باطل کی کشمکش میں ہمیشہ سے اہل اللہ کا ایک منفرد کردار رہا ہے جو اسباب و علل کی دنیا میں اگرچہ اس قدر نمایاں نظر نہیں آتا لیکن حقیقت میں اسے فیصلہ کن مقام حاصل ہوتا ہے۔ جب کسی بھی دور میں شر سے پیدا ہونے والی ظلمت حد سے بڑھ جائے توان ذواتِ قدسیہ کی روحانیت سے بپا ہونے والے اثرات، خیر و شر کے مابین بگڑے ہوئے توازن کو پھر سے درست کر دیتے ہیں۔ یہ نظام تکوینی یا  باطنی نظام کا حصہ ہے جو  بقائے عالَم کے لئے ناگزیر ہے۔
               1984ء میں راقم کو ایک مرتبہ حضرت امیر محمد اکرم اعوان رحمہ اللہ کے ہمراہ سفر کرنے کی سعادت نصیب ہوئی   تو انہوں نے اس نظام پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا:
‘‘حق وباطل کی جنگ میں بظاہر کچھ قوتیں برسرِپیکار نظر آتی ہیں جن کے مابین وسائل کے اعتبار سے کوئی نسبت نہیں ہوتی لیکن مشیّتِ ایزدی کی طرف سے فیصلہ اسباب ظاہری سے قطعاً مختلف ظہور میں آتا ہے۔ اس کے پسِ پردہ  وہ  روحانی عوامل ہوتے ہیں جنہیں دیکھنے سے اہلِ دنیاکی نگاہ قاصر ہے۔ ظلمت اور نورانیت میں ایک حد تک توازن سے وجودِ کائنات قائم ہے۔ جب یہ توازن بگڑنے لگتا ہے تو اس دور کے شیخ کو اس قدر عالی مقام عطا کیاجاتا ہے کہ اس کا وجود ظلمت ونورانیت کے مابین توازن کا ذریعہ بن جاتا ہے۔پھرایک دور ایسا بھی آئے گا جب دنیا پر چھا جانے والی ظلمت کو قطع کرنا کسی بڑے سے بڑے ولی  کے بس کی بات نہ ہو گی۔ حضرت اما م مہدیؒ کا وجود اپنے منصب اور بلندیٔ منازل کے باوجود قاصر ہو گا کہ نور اور ظلمت کے مابین بگڑے ہوئے توازن کو پھر سے درست کر سکے۔ اس وقت نظامِ ہستی کو رواں دواں رکھنے اور ظلمت کے مقابلے کے لئے ولی سے بڑھ کر ایک نبی کے وجود کی ضرورت ہو گی۔ یہ وہ دور ہو گا جب حضرت عیسیٰ دنیامیں دوبارہ  تشریف لائیں گے۔’’

مشہور عالم ِدین ڈاکٹر غلام مرتضیٰ ملک ؒنے 1990ء میں حضرت امیر محمد اکرم اعوان رحمہ اللہ سے اولین ملاقات کے دوران کئی ایک سوالات پوچھنے کے بعد آخری سوال یہ کیا کہ حضرت عیسیٰ دنیا میں دوبارہ تشریف کیوں لائیں گے؟ آپ نے جب مندرجہ بالا حقیقت بیان فرمائی تو ڈاکٹر صاحب نے اعتراف کیا کہ اس حقیقت کو بیان کرنا کسی اور کے بس کی بات نہ تھی۔اسی وقت ڈاکٹر صاحب نے اپنے بیٹے محمد زید کے ہمراہ حضرت امیر محمد اکرم اعوان رحمہ اللہ کے ہاتھ پر بیعت کی اور سلسلہ ٔ عالیہ میں داخل ہو گئے۔

Jan 17, 2018

0 comments

ردِّ قادیانیت اور

حضرت العلام مولانا اللہ یارخان ؒ کا کردار

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  نے قادیانیت کے بارے میں محکمہ جیل کی ملازمت کے دوران ہی مطالعہ کا آغاز کردیا تھا جب کہ دینی تعلیم کا آغاز اس ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد فرمایا۔ آپؒ برصغیر میں فتنۂ قادیانیت کے خلاف علماء کی جدوجہد سے خود کو پوری طرح باخبر رکھتے۔
            1963ء میں حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  کے اپنے علاقے میں قادیانی مذہب کے ردّ میں ایک یادگار جلسہ منعقد ہوا۔تلہ گنگ میانوالی روڈ پر پچنند ایک مشہور قصبہ ہے جہاں قادیانیوں کو دراندازی کا موقع مل گیا۔ نہ صرف چند بڑے زمیندار مرتد ہوگئے بلکہ ان کے زیراثر کئی سادہ دیہاتی بھی گمراہ ہوگئے۔
 ان لوگوں نے یہاں ایک خیراتی ہسپتال بنایا اور آئندہ نسل کو گمراہ کرنے کے لئے ایک سکول بھی قائم کیا۔ مردوں کے لیے تربیتی پروگرام شروع کردیئے اور عورتوں میں تبلیغ کے لئے ربوہ سے دوخواتین مبلغ آگئیں جو عورتوں اور مردوں، دونوں کے ایمان کے لئے برابر سمِ قاتل تھیں۔
اس علاقے کا مرکزی قصبہ ہونے کی وجہ سے قادیانیوں کی نظر پچنندپر تھی جہاں سے اٹک، چکوال، تلہ گنگ، میانوالی اورخوشاب وغیرہ کے اضلاع میں پنجے گاڑنے کے لئے ایک ذیلی ربوہ بنایا جا سکتا تھا۔ قادیانیوں کے مذموم ارادوں کو بھانپتے ہوئے یہاں تحریک ِ ختمِ نبوت کے جلسے بھی ہوئے لیکن اصلاح نہ ہوئی۔  پچنند کے ایک غریب شخص نے حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ صورتِ احوال بیان کی تو آپؒ نے یہاں جلسہ رکھا۔ چکڑالہ سے چار سے زیادہ آدمی حضرت جؒی کے ہمرکاب تھے جو اپنا کھانا ساتھ لائے۔
اس جلسہ میں حضرت امیرالمکرم، قاضی جؒی اور سلسلۂ عالیہ کے ابتدائی دور کے چند ساتھی بھی شریک ہوئے۔  میزبان کی غربت کا یہ حال تھا کہ مختلف گھرانوں سے روکھی سوکھی مانگ کر باہر سے آنے والے چند مہمانوں کے کھانے کا بندوبست کیا گیا۔ رات زمین پر بسر ہوئی اور اگلی صبح جلسہ منعقد ہوا۔ حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  کے ساتھ سٹیج پرحضرت امیر المکرم اور قاضی جؒی بھی تشریف رکھتے تھے اور عقیدت مندوں کی ایک بڑی تعداد نے آپؒ کو حصار میں لے رکھا تھا۔ اس جلسہ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت جؒی فرمایا کرتے تھے:
 اگر ان لوگوں کے سامنے ختمِ نبو ت کے دلائل دیئے جاتے تو دیہاتی نہ سمجھتے، چنانچہ مقامی لوگوں کی ذہنی سطح کے مطابق مرزا قادیانی کی اپنی تحریروں کے حوالوں سے اس کی شخصیت، کردار اور عقائد کا ایسا نقشہ کھینچا گیا کہ اس قصبہ کے لوگ قادیانیت سے تائب ہو گئے۔ اس نقشہ میں حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  نے آخر میں جو رنگ بھرا وہ محمدی بیگم کے متعلق مرزا قادیانی کا دعویٰ تھا کہ وہ اس کی منکوحہ ہے ۔ آسمانوں پر نکاح خواں خود اللہ تعالیٰ اور گواہ اس کے فرشتے ہیں اور اسے وہ جنت میں ملے گی۔
 حوالوں کے ساتھ اس کا یہ دعویٰ پیش کرنے کے بعد حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  نے فرمایا:
‘‘ زمیندارو! تم خود ہی بتاؤ، نکاح خدا نے پڑھا، گواہ فرشتے اورنکاح پڑھاگیانبی کا، پھرلے کون گیا؟ دو بیگوں کا زمیندار، جو نبی کی بیوی اٹھا لے گیا۔ خدا بھی دیکھتا رہا، نبی بھی دیکھتا رہا، فرشتے بھی دیکھتے رہے لیکن جٹ گِھن کے بیٹھا نبی کی زنانی کو۔ اب خدا کہتا ہے تمہیں جنت میں دوں گا، واہ! اب دنیامیں کیا زنا ہوتا رہا؟ نہیں ہوتا رہا؟’’
سامعین نے کہا:
 ہاں! ہوتا رہا۔
حضرت مولانا اللہ یارخانؒ نے اپنے مخصوص میانوالی لہجے میں کہا:
          ‘‘پھر اودُھل گئی ناں!’’
       یہ اندازِبیاں انتہائی کارگر ثابت ہوا۔ گاؤں کے لوگ قادیانیت سے تائب ہوئے اور  پچنند کو
ربوہ ثانی بنانے کا منصوبہ خاک میں مل گیا۔
            اسی طرح تھمے والی (ضلع میانوالی) میں ایک قادیانی مبلغ نے کچھ زمین خریدی اور گردونواح کے علاقے میں تبلیغ شروع کردی۔ حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  نے وہاں ایک جلسہ رکھا جو دس بجے قبل دوپہر سے نمازِ ظہر تک جاری رہا۔ اس میں آپؒ نے مرزا غلام احمد قادیانی کی اس طرح سے تصویر کشی کی کہ اس کے بعد قادیانی مبلغ خجالت کے ساتھ وہ علاقہ چھوڑ گیا۔
            حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  ایک قادیانی خاندان کے تائب ہونے اور دوبارہ مسلمان ہونے کا واقعہ اکثر بیان فرمایا کرتے تھے جو آپؒ کے اپنے الفاظ میں مختلف مواقع پر ریکارڈ کر لیا گیا۔یہ واقعہ انتہائی عبرت آموز اور تذبذب کے شکار قادیانیوں کے لیے ذریعۂ ہدایت بن سکتا ہے۔
لیفٹیننٹ رفیق احمد، جو بعد میں لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے سے ریٹائر ہوئے، خاندانی طور پر قادیانی تھے۔ ان کا دادا مرتد ہوا جس کے نتیجے میں پورا خاندان قادیانی ہو گیا تھا اور انہوں نے بھی اسی ماحول میں آنکھ کھولی۔ ایک فوجی کورس کے دوران رسالپور میں احبابِ سلسلہ سے رابطہ ہوا تو عقائد پر بحث کی بجائے انہیں ذکر کی دعوت دی گئی جو ہمیشہ سے صوفیاء کا طریقہ رہا ہے۔
  لیفٹیننٹ رفیق نے قلبی ذکر شروع کیا تو اللہ تعالیٰ نے طلب ِصادق کے نتیجہ میں ہدایت عطا فرما دی۔ حقیقت ِحال واضح ہوئی تو قادیانیت سے تائب ہو گئے۔ کورس مکمل کرنے کے بعد حسب ضابطہ تعطیل ہوئی تو سیدھے حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  کی خدمت میں چکڑالہ حاضر ہوئے اور عرض کیا، اب قادیانی گھرانے میں کس طرح جاؤں؟
آپؒ نے فرمایا:
میرے پاس ہی قیام رکھو۔
ایک روز حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  نے رفیق کو پریشانی کی حالت میں دیکھا تو اس کی وجہ دریافت کی۔
اس نے بتایا کہ چچا کی بیٹی سے منگنی ہوچکی ہے لیکن اس کا ساراگھرانہ کافر ہے۔
 حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  نے فرمایااس کو لکھو:
‘‘ کیاتم محمد رسول اللہﷺ کو خاتم النبیین سمجھتی ہو یا نہیں اور کیا محمدرسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی آ سکتا ہے یا نہیں؟ تمہارا کیاعقیدہ ہے؟’’
اس نے جوا ب دیا:
‘‘میں محمدرسول اللہﷺ کو خاتم النبیین سمجھتی ہوں اور اس سے آگے کی باتوں میں نہ پڑو۔’’
حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  نے فرمایا:
 یہ تو سوال کو ٹال گئی۔ اب اس کو لکھو:
‘‘کیاتم محمدرسول اللہﷺ کوخاتم النبیین سمجھتی ہو اور محمد رسول اللہﷺ کے بعد جو شخص نبوت کا دعویٰ کرتا ہے، کیا تم اسے کافر سمجھتی ہو یامسلمان سمجھتی ہو اور اس کو جو شخص مسلمان سمجھتا ہے یانبی مانتا ہے، اسے تم کافر سمجھتی ہو یامسلمان سمجھتی ہو؟ ان باتوں کا جواب دو۔’’
اس نے جواب میں لکھا:
میں محمدرسول اللہﷺ کو خاتم النبیین مانتی ہوں اور جو شخص محمدرسول اللہﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے اسے کافر سمجھتی ہوں اور جو شخص اسے نبی مانے، اسے بھی کافر سمجھتی ہوں۔’’اس طرح حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  نے مختصر ترین الفاظ میں عقیدۂ ختم ِ نبوت کے خدوخال متعین فرمادیئے۔ اس عقیدہ کے ہر پہلو کو بطور جزوِ ایمان، الگ الگ کہلوانے کا یہ اسلوب اس وقت دستورِ پاکستان میں ایک مسلمان کے حلف نامے میں واضح نظر آتا ہے۔
حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  نے فرمایا:
            اب تو باپ کو بھی کافر کہہ دیا، اس خط کو سنبھال کر رکھنا۔ اس کے بعد لیفٹیننٹ رفیق کی اسی خاتون سے شادی ہوئی اور اسے سلسلہ ٔعالیہ میں شامل ہونے کی سعادت بھی نصیب ہوئی حضرت پیر مہر علی شاہؒ اور سیّد انور شاہ کشمیریؒ کے حالات میں اس چیلنج کا تذکرہ ملتا ہے کہ وہ قبر میں مرزا قادیانی کے حالات کا مشاہدہ کرا سکتے ہیں لیکن فریق مخالف ان کے اس چیلنج کو قبول کرنے کی جرأت نہ کر سکا۔ حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  کا یہ خصوصی اعزاز ہے کہ آپؒ نے قبر میں مرزا قادیانی کی حالت دکھانے کے بارے میں دعویٰ کے بعد عملی طور پر یہ کر بھی دکھایا۔ حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  کی ریکارڈ شدہ گفتگو میں اس واقعہ کا تذکرہ ان الفاظ میں ملتا ہے:
‘‘خیال نہیں سحری کا ذکر تھا یامغرب کا، رفیق سے دریافت کیا:
کیا تم کبھی قادیان گئے تھے اور مرزا قادیانی کی قبر دیکھی ہے؟
 لیفٹیننٹ رفیق نے جواب دیا کہ متعدد بار وہاں جا چکا ہوں۔
کیا ا ب بھی اس کا خیال کر سکتے ہو؟
 اس نے اثبات میں جواب دیا۔
 تو اسے کہا چلو اب روحانی طور پر وہاں پہنچو اور قبر کے اندر خیال کرو۔
قبر میں خیال کرتے ہی وہ گھبرا اُٹھا۔
اندر تو ریچھ ہے!
کوئی اور قبر تو نہیں؟
لیفٹیننٹ رفیق نے جواب دیا:
حضرت! وہی قبر ہے، میں کئی دفعہ گیا ہوں۔’’
یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  نے فرمایا:
‘‘سب سے بڑی سزا یہ ہے کہ جنس تبدیل ہو جائے اور یہی معاملہ مرزا ناصر الدین کا بھی ہے۔عارضی زندگی کے لئے ابدی زندگی برباد کر دی۔ زنانیوں کاعاشق،یہ نبی (کذّاب) کی شان! محمدی بیگم، محمدی بیگم کی تسبیح کرتے مر گیا، جہنم میں پہنچ گیا۔’’
اس کے بعد حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  نے یہ آیت پڑھی۔
وَجَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيْرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوتَ ط
اور ان میں سے بعضوں کو بندر اور سؤر بنا دیا ہے اور انہوں نے شیطان کی بندگی کی۔ (سورة المائدہ۔60)
چونکہ لیفٹیننٹ رفیق کے اکثر رشتہ دار قادیانی تھے، احباب نے اس کے دوبارہ گمراہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا تو  حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  نے فرمایا:
‘‘اب قادیانی تو بنتا نہیں، اِنْ شَاءَ اللّٰه!
 مرزا قادیانی کو جو دیکھ لیا، اب مرزائی نہیں ہو گا۔
 ویسے چھوڑ جائے (سلسلہ چھوڑ جائے) مشکل کام ہے، الگ بات ہے۔’’
لیفٹیننٹ رفیق احمد نے عالم برزخ میں مرزا قادیانی کے حالات کا مشاہدہ کرنے کے بعد خاندان کے ایک ایک فرد کو حقیقت حال سے آگاہ کیا اور انہیں خطوط تحریر کئے جس کے نتیجہ میں خاندان کی اکثریت تائب ہو گئی۔  دادا اور باپ تو مرچکے تھے، البتہ والدہ خوش قسمت تھی جو ابھی تک زندہ تھی، وہ مشرف بہ اسلام ہوئی۔
            1977ء میں حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  پشاور کے دورہ پر تھے تو آپؒ کے سامنے ایک فوجی افسر کا مسئلہ پیش ہوا جس کی اہلیہ کا تعلق ایک قادیانی مبلغ گھرانے سے تھا۔ والدین کے اثرات کی وجہ سے گھر میں اکثر بحث شروع ہو جاتی۔ جب اسے بتایا جاتا کہ یہ کفر ہے تو جواب میں کہتی کہ میں اسے کفر نہیں سمجھتی، وہی کلمہ، وہی نماز، قبلہ بھی وہی ہے تو کفر کیسا؟ روز روز کی بحث سے گھریلو ناچاقی پیدا ہوگئی تو بات حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  تک پہنچی۔ آپؒ پشاور کے دورہ پر تشریف لائے تو میاں بیوی کو طلب فرمایااور اس خاتون سے دریافت کیا۔
 تمہارا عقیدہ کیا ہے؟
کہنے لگی، مسلمان ہوں۔
آپؒ نے دوبارہ سوال کیا:
‘‘ہر شخص خود کو مسلمان کہتا ہے، ختمِ نبوت کے بارے میں تمہارا کیا عقیدہ ہے؟
 کیا حضورﷺ کے بعد کوئی نبی آئے گا۔’’
اس نے جواب دیا:
 نہیں۔
حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  نے پوچھا:
‘‘کیا تمہارے والد کا بھی یہی عقیدہ تھا۔’’
‘‘نہیں، وہ احمدی تھا۔’’
حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  نے پھر پوچھا:
‘‘قادیانیوں کے بارے میں تمہارا کیا عقیدہ ہے؟ کیا تم ان کو مسلمان سمجھتی ہو یا کافر۔’’
قدرےتوقف کے بعد جواب دیا:
‘‘میں ان کو کافر سمجھتی ہوں۔’’
حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  مسکرائے اور فرمایا:
‘‘گل ٹھیک اے (بات درست ہے)۔ فکر کی کوئی بات نہیں۔’’
مرزا قادیانی کے متعلق حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  فرمایا کرتے کہ اس شخص کے حالات پڑھ کر یہ دکھ ہوتا ہے کہ اگر اس ظالم کواتنا بڑا دعویٰ ہی کرنا تھا تو اپنا کردار بھی نظر میں رکھا ہوتا۔ اتنا بھی نہ سوچا کہ اس قدر گھٹیاکردار سے یہ دعویٰ کوئی مناسبت نہیں رکھتا۔
            ایک مرتبہ ڈی سی میانوالی نے چکڑالہ کے دورہ کے موقع پر اپنے عملہ کے ہمراہ حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  سے ملاقات کی۔نمازِ عصر کے بعد حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  معمول کے مطابق گھر کے بیرونی صحن میں چند مقامی لوگوں کے ساتھ تشریف فرما تھے۔ ڈی سی کی آمد پر فوراً خیال گزرا کہ یہ شخص قادیانی ہے یا پرویزی۔
  ظلمت اور نحوست عقائد کی نسبت سے جدا جدا ہوتی ہے اور صاحبِ بصیرت کسی شخص کی ظلمت سے اس کے عقائد جان سکتا ہے۔ پرویزیت اور قادیانیت دونوں نے نبوت کو ہدف بنایا۔ ایک نے نبیﷺ  کو بطور معلم اور شارع ماننے سے انکار کر دیا تو دوسرے نے ختم نبوت کا انکار کرتے ہوئے نئی نبوت کا دعویٰ کیا۔ اس حوالے سے دونوں میں ظلمت بھی ایک ہی طرح کی پائی جاتی ہے۔اس شخص نے حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  کو گاؤں کا ایک عام مولوی سمجھتے ہوئے الٹے سیدھے سوال شروع کر دیئے۔ حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  دوسرے ہی سوال پر سمجھ گئے کہ یہ شخص قادیانی ہے۔ آپؒ نے سورة النساء کی آیت نمبر 115 تلاوت کی جس میں مرتدین کا انجام بیان فرمایا گیا ہے۔
وَمَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْم بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصْلِهٖ جَهَنَّمَ طوَسَآءَتْ مَصِيْرًا o
اور جو کوئی اپنے آپ پر حق بات ظاہر ہو جانے کے بعد پیغمبر کی مخالفت کرے اور ایمان والوں کی راہ کے علاوہ (دوسری راہ پر) چلے تو وہ جدھر پھرا ہے ہم اُسے اُدھر ہی پھیر دیں گے اور اُس کو دوزخ میں داخل کریں گے اور وہ جانے کی بہت بُری جگہ ہے۔

حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  فرمایا کرتے تھے:‘‘قادیانیت پر کفر کی دلیل اِجماعِ امت ہے۔’’
(حیات جاوداں)

Oct 12, 2017

شریعت وطریقت کا تحقیقی وتنقیدی جائزہ

0 comments
شریعت وطریقت کا تحقیقی وتنقیدی جائزہ

 مولاناعبدالرحمن کیلانی مصنف ”شریعت و طریقت “کے سوالوں کے جوابات
جوابات سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ مولانا کیلانی کا شمارناقدین تصوف و احسان میں ہوتا ہے،ذیل میں سولات ان کی کتاب شریعت وطریقت سے لئے گئے ہیں،ان سوالوں کیااہل علم کے نزدیک کیا اہمیت ہے چند دن پہلے ایک سلفی صوفی عالم بتا رہے تھے کہ مولانا عبدالرحمن کیلانی کا ایک اعتراض بھی ایسا نہیں جو قابل غور ہو۔
 سچ تو یہ ہے کہ مولانا تصوف کی الف،ب بھی نہیں جانتے تھے اور نہ ہی یہ کتاب اس قابل ہے کہ اس کا جواب دیا جائے۔مگر ہمارے ایک خاص مقلدانہ ذہن کے نزدیک یہ کتاب ایک مقدس صحیفہ کی حیثیت اختیار کر چکی ہے اور وہ جہاں بھی تصوف واحسان پر معترض ہوتے تو اکثر حوالے اسی کتاب سے دیتے ہیں ۔لہذا میں نے ضروری سمجھا کہ ہمارے یہ انجانے دوست کئی تصوف واحسان کی اندھی مخالفت میں اپنے ایمان کو برباد کر رہے ان کی رہنمائی کے لئے کچھ لکھا جائے۔
اس کتاب کے آخر میں علماء تصوف واحسان سے پر سوالوں کی ایک فہرست پیش کی گئی اور بعض منچلے انٹرنیٹ پر یہ سوال پیسٹ کر کے نیچے لکھ دیتے ہیں
’’شاید ان سوالوں کا جواب دینا اہل تصوف کے لئے ممکن نہ ہو‘‘
 یہ لفظ پڑھ کر مجھے وہ صوفیائے اہل حدیث یاد آ جاتے ہیں جو بیک وقت صوفی بھی تھی ،محدث بھی اورمفسر بھی،کہ ایک منکر تصوف اٹھتاہے اور تصوف و احسان کے مقدس علم پر یاوہ گوئی کرتا ہے تو اس کی کتاب پر صوفیائے اہل حدیث تڑپ اٹھتے ہیں خاندان غزنویہ کا عظیم صوفی اور مسلک اہل حدیث کا امام عبد الجبار غزنوی نقشبندی  ؒشیخ الکل سید نذیر حسین دہلویؒ اور  نواب صدیق حسنؒ کے ایماء پر اٹھ کر دندان شکم جوابـ’’اثبات الہام و البیعت بادلۃ الکتاب السنت المقلب بہ تضحیک الانام علی تحقیق الکلام‘‘دیتے ہیں اورپھر منکرین تصوف پر ایک مرگ کی کیفیت طاری رہتی ہے پھر ڈیڑھ صدی بعد ایک مذکورہ صاحب ’’شریعت وطریقت‘‘ کا صحیفہ لے کر نازل ہوتے مگر افسوس کہ اب مسلک اہل حدیث میں امام عبد الجبار غزنوی  ؒ نہیں تھے ۔
افسوس کے کارواں جاتا رہا اور کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
 منکرین تصوف و احسان اورجہالت معنی ومفہوم کے اعتبار سے ایک ہیں،اور پھر سوال کر لینا یا تنقید کر لینا کون سا مشکل کام ہے،یاد رکھیں تعمیر مشکل ہے اور تخریب آسان ہے۔دیکھا تو یہ گیا ہے کہ اہل حرص و ہو ا محض ناموری کے لئے صوفیاءاسلام پر طعن و تشیع کرتے ہیں ،کیونکہ اہل اللہ پر تنقید کرنے سے شہرت مل جاتی ہے،مگر عاقبت برباد ہو جاتی ہے ۔کسی صاحب حال نے کہا تھا کہ اہل اللہ پر تنقید کفر تو نہیں ،مگر مرتے انھے کفر پر ہی دیکھا ہے۔
 پھرکسی بھی موضوع پر جرح کے لئے اسے جانناضروری ہے ،تصوف وسلوک میں زمانے کے ساتھ ساتھ جو بگاڑ آتا ہے،اسکی اصلاح بھی صوفیاءکے ہی ذمہ ہے اور وہ یہ کام الحمد للہ بڑے احسن طریقے سے کرتے چلے آ رہے ہیں ،اس معاملہ میں راہ سلوک سے نابلد شخص کی مثال وہ آندھوں کو ہاتھی دکھانے والی بات ہے۔
 مولانا کیلانی نے اپنی پہچان مسلک اہلحدیث کے نام سے قائم کی ہوئی تھی،اپنی کتاب میں انہوں نے کسی بھی اہل حدیث صوفی پر جرح نہیں کی ہے،کیونکہ مرحوم یہ بات بخوبی سمجھتے تھے کہ کسی اہلحدیث صوفی پر طعن کرنے سے ان پر مسلکی اعتبار اٹھ جائے گا،اس لئے انہوں نے اپنی کتاب میں مسلک اہل حدیث کی آڑ لیکر صوفیاءپر متشدادنہ و غیر عدلانہ جرح کی ۔
اہل باطل کا وطیرہ یہی رہا ہے کہ وہ اپنی تلبیسات کو حق کی آڑ لیکر پھیلاتے ہیں ،اور مرحوم اس مقصد میں کسی حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں کیونکہ آج جہلاءکے نزدیک یہ کتاب ایک مقدس صحیفے کی حثیت اختیار کر چکی ہے۔
مرحوم نے اپنی کتاب میں فقط ایک مقام پر سید عبد اللہ غزنوی ؒ کا ذکر کیا جو اکابر اہلحدیث میں سے ہیں ،نقشبندیہ سلسلہ سے تعلق رکھتے تھے ۔ان کے متعلق اتنا لکھا ہے کہ وہ حد درجہ متبع سنت تھے ،کمال ہے اگر حنفی صوفی ہوتو گمراہ اور اہلحدیث ہو تو متبع سنت۔
لیکن خود سید عبد اللہ غزنویؒ کی مبارک سوانح میں ملتا ہے کہ:۔
    ” آپ اگرچہ سلوک کی کتابوں اور صوفیہ کے مشاغل مروجہ سے پہلے ہی بری تھے،لیکن جذبہ غیبی کے پہنچنے کے بعدآپ میں صوفیاءکے مشاغل کے ثمرات اوراثار کسی کے تعلیم کے سواء مشاہدہ کرتے تھے،رفتہ رفتہ صوفیاءکے طریق کے مطابق اس راہ پر طالبوں کو تعلیم دینے لگے ،اور ہمیشہ بہمہ تن ہدایت کی زیادتی کے لئے اللہ تعالیٰ کے آگے اور نالاں رہتے،گویا آپکا بدن اللہ تعالیٰ کی طرف رغبت کرنے اوراس سے ڈرنے کی تصویر تھا۔    
مولانا غلام رسول قلعویؒ جو آپ کے خلیفہ مجاز بھی تھے ،اورآپ کے ساتھ بھائی چارہ بھی تھا ،سید عبد اللہ غزنویؒ کے طریق السلوک کے متعلق فرماتے ہیں:۔
          ”اسم ذات کی تلقین میں انکا طریق تمام مشائخ کے طریق سے جدا تھا،اور جوش بھی علیحدہ خصوصاً لطیفہ اخفی بہت جوش کے ساتھ آتا جب قلب کے لطیفے کا سبق دیتے تو فرماتے دل کو ایک ریت کا ڈھیر خیال کر کے اسم ذات کو ریت کے ہر دانہ سے نکا لو اور لطیفہ قالب یعنی سلطان الذکرمیں بھی آپ جدا طریقہ سے سکھلاتے کہ اپنے جسم کو ایک ریت کا ڈھیر تصور کر کے اسم ذات کا ذکر کرو اور سورۃ  فاتحہ پڑھنے میں بہت کوشش فرماتے معنوں کے لحاظ اورآیتوں کو بار بار پڑھنے کی شرط کے ساتھ اور وصیت کرتے تھے کہ اپنے تابعداروں میں سے ہر ایک شخص کو سکھلاو۔اور چشتیہ کے ذکروں میں سے اللہ الصمد کے ذکر کو بلحاظ معنی بہت مفید جانتے تھے،اور دورہ کا طریقہ جو بعض لوگوں کو سکھلاتے تو فلک چہارم کی سیر یا فوق عرش کی سیر پر دلالت نہیں کرتے تھے بلکہ اللہ تعالیٰ کی صفتوں یعنی سمیع ،بصیر،قدیر ،علیم وغیرہ میں فکر کرنے کی تاکید فرماتے ،اور مریدوں کے کشف سے ڈرتے تھے،کیونکہ یہ بعض لوگوں کے حق میں مجازی فیض سے روک ہو جاتا ہے،اور اگر کوئی شخص ذکر کے وقت حرکت یا بے چینی یا اضطراب کرتا تو اسکو زجر کیساتھ منع فرماتے۔
          ایک دن فقیر نے سوال کیا کہ یہ شخص رعشہ والوں کی طرح حرکت کرتا ہے ،اور آپ زجر کیساتھ منع فرماتے ہیں فرمایا کہ شاید ہوائے نفسانی کا شائبہ اسکے ساتھ نہ مل جاوے۔اور ظالموں اور انکے متعلقین کے کھانے سے پرہیز کرتے مگراس وقت کو صاف معلوم ہو جاتا کہ ادھار لیا گیا ہے،ایک دن آپ نے شیخ شہاب الدین سہروردیؒ سے حکایت کی ،کہ وہ مریدوں کو اسماءالحسنیٰ کے ورد کی تعلیم کرتے ،اور چالیس دن کے بعد ان سے سنتے،جس اسم کے ساتھ انکی حالت میں تغیر آنے لگتا وہی اسم تعلیم فرماتے۔پھر فرمانے لگے اس عاجز کی دانست میں اسکے مطابق اسم ذات ہے،پھر کسر نفسی کرتے تھے ،میں کیا ہوں اور میری سمجھ کیا ہے،اور کبھی فرماتے یہ کیا مسلمانی ہے ،یہ کیسا ایمان ہے،اور بہت وقتوںمیں اپنا انکسار ظاہر کرتے،اور حبس کا طریق کسی مرید کو نہیں سکھاتے تھے ،اگر چہ اسکے منع ہونے میں دم نہیں مارتے تھے۔
          اورا پنے شیخ سید حبیب اللہ اخوندؒ کے متعلق سید عبد اللہ غزنویؒ فرماتے ہیں:۔
” اخوند حبیب اللہؒ فرماتے تھے کہ معیت کا مراقبہ مجھے سب مراقبوں سے پسند آتا ہے۔“
خودآپکے اپنے احوال میں مذکور ہے:۔
          ” کہ جذبہ الہٰی کا آغاز پہلے دن شام کے بعد تھا،جو خود بخود بلا واسطہ پیر کے جذب الٰہی پہنچ گیا،اور تمام زور کیساتھ ماسواللہ کو میرے دل سے کھینچ لیا،یہاں تک کہ تین دن تک مجھ کو اپنے نفس سے کدورت اور ظلمت اس طور معلوم ہوتی تھی،از خود گندی بو آتی ،جس سے جی متلانے لگتا،اور باقی لوگوں سے بھی دیکھنے کے وقت قے آنے لگتی۔فقر امل یہاں تک تھی کہ فانی زندگی پر کسی طرح اعتماد نہ رہا اور مخلوقات سے یہاں تک نفرت تھی کہ نماز جماعت کیساتھ بڑی دشواری کیساتھ گزاری جاتی اور ذکر کی نسبت اسطرح غالب تھی کہ جو شخص مجھ کو دیکھتا، ذکر کرنے لگتا تھا۔ اور کبھی کبھی چھت کی لکڑیوں سے بھی ذکر سنا جاتا۔
          برف کی بارش کے موسم میں جب آگ پر بیٹھتا ،تو نفی اثبات کے وقت جو میں سر کو ہلاتا تو اس طرح آگ بھی گھومتی ،اور اس سبب سے کہ میں نے کسی شیخ کی صحبت نہیں اٹھائی تھی،اور نہ مشائخ کا حال دیکھا سنا تھا،حیرانی پیش آتی تھی کہ آیا کسی شیخ کے پاس جا کر تعلیم حاصل کروں، چنانچہ اسی نواح میں ایک شیخ صاحب شاہ صاحب غلام علی دہلویؒ مجددی کے مریدوں میں سے ریاضت شاقہ اور چلوں کیساتھ مشہور تھا ،انکو دیکھنے کا دل میں پختہ ارادہ ہوا ،چونکہ میں اکیلا راہ کا واقف نہ تھا اور کسی کی ہمراہی بھی ناممکن تھی ،ایک شخص کو رہ بتلانے کے لئے میرے ساتھ کیا ،اس طرح کے وہ دور سے راہ دکھلائے ،جب شیخ سے ملاقات ہوئی ،تو اس پر حالت آگئی ،جو خود بخود اپنے سر کو ہلاتا تھا ،اور اس نے اپنے سارے لطیفے اس جوش میں ظاہر کئے ،جو کچھ میں نے دیکھا کسی زمانہ میں نہیں دیکھا ،پس ناامید ہو کر واپس آیا “۔(دیکھئے بسوانح عمری سید عبد اللہ غزنویؒ)
الغرض اشغال صوفیاءاہلحدیث کے ہوں یاصوفیاءاحناف کے کچھ فرق نہیں ،لیکن تعجب منکرین تصوف کے دجل وفریب پر ہے کہ اہل حدیث یہ سب کچھ کرنے کے باوجود متبع سنت اور کسی اور مکتبہ فکر کا صوفی یہی کام کرے تو بدعت!ان اشغال کی صوفیاءکے نزدیک کیا حثیت ہے انشاءاللہ تعالیٰ اپنے مقام پر بحث کی جائے گی۔
حقیقت تو یہ ہے کہ مسلک اہل حدیث صوفیاءکا مسلک ہے ،اس مسلک کے موسس وبانی سید نذیر حسین دہلویؒ نہ خود صوفی تھے بلکہ اس مسلک کی تراویج و اشاعت کرنے والے اکثر حضرات صوفی ہی تھے۔اس موضوع پرایک کتاب”تصوف و احسان علمائے اہل حدیث کی نظر میں“شائع ہو چکی ہے جبکہ اکابر صوفیاء مسلک اہل حدیث کے حالات پر”احوال و آثار صوفیاء مسلک اہل حدیث“ زیر طبع ہے۔جس میں تمام صوفیاءاہل حدیث کا تفصیلی ذکر کیا جائے گا ۔انشاءاللہ

سوالنمبر۱:۔کیا وحدت الوجود کا عقیدہ یا وحدت الشہود کے عقائد کی ازروئے شرع گنجائش ہے اگر ہے تو دلائل سے مطلع فرمائیں۔ ورنہ یہ بتائیں کہ ایسے عقائد کے حامی صوفیا کی حمایت کیوں کی جاتی ہے ؟
 جواب :وحدت الوجود اور شہود کو لوگوں نے مختلف انداز میں لیا اور اس کی حقیقت یہ ہے
وحدت الوجود اور شہود کی حقیقت:
”صوفیا کے مختلف مراقبات اور مختلف کیفیات ہوتی ہیں۔جس طرح علوم ظاہری میں اسباق چلتے ہیں اسی طرح کیفیات باطنی بھی سبق درسبق چلتی ہیں اور ان کی مختلف کیفیات ہوتی ہیں۔ جن دوستوں کے اسباق ہیں وہاں تک اور جنہیں مشاہدہ ہے اندازہ فرماتے ہوں گے کہ جب ” مراقبہ فنا “ کیا جاتاہے تو اس میں ہر چیز فنا ہوتی نظر آتی ہے حتیٰ کہ ساری کائنات فنا ہو جاتی ہے کچھ باقی نہیں بچتا۔ کوئی چیز باقی نہیں رہتی۔ ہر چیز فنا ہوجاتی ہے۔اس کے بعد جب بقاباللہ کا مراقبہ کیا جاتا ہے۔و یبقی ٰ وجہ ربک ذوالجلال والا کرام تو ہر وجود کے ساتھ قادر مطلق کے انوارت نظرآتے ہیں۔ جن کی وجہ سے وہ قائم ہے تو سامنے سمجھ آرہی ہے کہ قائم بذات صرف اللہ کی ذات ہے باقی سارے وجود اس کے قائم بذات صرف اللہ کی ذات ہے باقی سارے وجود اس کے قائم رکھنے سے قائم ہیں۔ اس کے بنانے سے بنتے ہیں اور اس کے مٹانے سے مٹ جاتے ہیں ان کی اپنی ذاتی کوئی حثییت نہیں ہے۔ جب اس کیفیت سے صوفیا ءگزرے تو انہوں نے کہا کہ وجودراصل ایک ہی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ ہے۔جو ازل سے ابد تک ہے ، ہمیشہ ہے ،ہر حال میں ہے ہر جگہ ہے۔ باقی نہ ہونے کے برابر ہیں اور صرف اس کے قائم رکھنے سے قائم رہتے ہیں اس کے مٹا دینے سے مٹ جاتے ہیں ان کی کوئی ذاتی حثییت نہیں ہے۔ اسے’وحدت الوجود ‘ کا نام دیا گیا ہے کہ وجود صرف ایک ہے واحد لا شریک ہے۔باقی وجودوں کا ہونا یا نہ ہونا برابر ہے۔شیخ محی لدین عربی ? نے جب اس نظر یے کو اپنی کتاب میں جگہ دی اور اس پر بحث فرمائی تو پھریہ مستقل ایک نظریہ بن گیا۔ لیکن اس کا مفہوم یہ تھا جو میں عرض کر رہا ہوں۔
کاملین سے جاہلین
یہ بات کا ملین کی تھی ، اہل علم کی تھی۔بعد میں جب لوگ آئے ان کا کمال نہ علوم باطنی میں اس پائے کا تھا نہ علوم ظاہری میں ان کے علوم اس پائے کے تھے تو اس میں ایک قبا حت آگئی۔ بجائے اس کے کہ یہ سمجھا جاتاکہ اللہ ہی باقی ہے جو کچھ ہے یہ فانی ہے سمجھا یہ جانے لگا کہ ہر وجود میں اللہ ہے۔وحدت الوجود کاجو مفہوم تھا وہ یکسر بدلنے لگا تو یہ ہندوں والا عقیدہ بننے لگ تھا جیسے ہر وہ طاقت جسے وہ ناقا بل تسخیر سمجھتے ہیں کہ اس میں بھگوان موجود ہے۔ بڑا پہاڑ ہوتو اس کی پوجا شروع کر دو، بڑا درخت ہو تو اس کی پو جاشروع کر دو۔کو ئی بھی جانور ایسا ہوتا جو قابو نہ آئے تو اس کی پوجا شروع کرنا کہ اس میں بھگوان ہے۔تو وہ اس میں قبا حتیں در آئیں نااہلوں کی وجہ سے وہ یہ تھیں۔ ان قباحتوں کی وجہ سے حضرت الف ثانی ? نے اس کے مقابلے
 میں کروحدت الشہود کا لفظ دیا کہ ہر چیز ہر وجود اس کی وحدت پہ گواہ ہے یعنی ہر وجود کی ذات ہے وہ اس کی قدرت کاملہ پہ گواہ ہے۔اس کی شہادت دے ہی ہے تو ان قباحتوں سے بچنے کے لئے اس کی اصلاحی صورت تشکیل دی گئی جس میں خطرہ کم تھا یا نہ ہونے کے برابرتھا۔اب جسے گمراہ ہونا ہو اور کوئی ایسی گستاخی کر بیٹھے کہ اللہ کریم اسے رو کر دے تو گمراہ ہوتا ہی ہے۔
یھدی الیہ من ینیب قرآن حکیم کتاب ہدایت ہے لو گ اس کی وجہ سے اعتراض تراش کر گمراہ ہو جاتے ہیں تو جو آب حیات پی کر مر جائے اب اس کا علاج ہے لیکن وہ خطرات ختم ہو گئے اور اصل بات نکھر کر سامنے آگئی۔ اسے حقوق دے ہیں اسے زندگی سی ہے یا اسے شعور دیا ہے لیکن وہ گواہ ہے اللہ کی قدرت کاملہ پر۔وہ انسان ہے یا حیوان ہے ‘ جاندار ہے نباتات ہے ، آسمان ہے یا زمین ہے ‘ کوئی وجود بھی ہے تو وہ ایک شہادت دے رہا ہے اور سب شہادت جو ہے وہ اللہ کی قدرت کاملہ پر ہے ، اس کے خالق اور اس کی قادر مطلق ہونے پر ہے تو یہ ان خطرات سے بچنے کے لئے جو لوگوں کی علمی یا باطنی استعداد کی کمزوری کی وجہ سے وحدت الوجود کیاا صطلا ح سے در آئے تھے ان سے بچنے کیلئے جو لوگوں کی علمی یا باطنی استعداد کی کمزوری کی وجہ سے وحدت الوجود کی اصطلاح سے در آئے تھے ان بچنے کے لئے یہ راستہ اپنایا گیا۔ وحدت الشہود کا تو یہ اصطلاحات ہیں یہ نظریات نہیں ہیں یہ اصطلاحات ہیں۔نظریات یا عقائدوہی ہیں جو شریعت مطہرہ نے بیان فرما دئیے۔
نظریات یا عقائد وہی ہیں جو شریعت مطہرہ نے بیا ن فرمادئیے۔اب مختلف کیفیات کے اظہار کے لئے مختلف اصطلاحات ہیں جن سے اس کی کیفیت کا اظہار مطلوب ہے۔ تو اپنی اصل دونوں درست ہیں ان میں اختلاف نہیں ہے۔ صرف یہ ہے کی وحدت الوجود جب کہاگیا تو اس میں خطرات درآئے اور بجائے اس کے یہ سمجھاجا کہ ہر وجود جو ہے اسکی ذاتی کوئی حثییت نہیں ہے سمجھایہ جانے لگاکہ ہر وجود اللہ ہے۔تو اس کی اصطلاح حضرت مجدد الف ثانی ؒجو لائے وہ تھی وحدت پر ہے۔اس کے خالق کائنات ،خالق کل اور قادرمطلق ہونے پر ہے تو وہ نظریات ہیں جن کے پاس علوم ظاہربھی ہوں اور انہیں کمالات باطنی بھی حاصل ہوں۔تو عموماًاہل علم جو اس شعبے میں آتے ہیں تو یہ ان کے بحث کرنے کی باتیں ہیں اور اپنے علم کے مطا بق اسے سمجھتے ہیں اور اس میں غلطیاں ہوتی ہیں۔دراصل بات ایک ہی ہے اس کے لئے اصطلاحیں دو ہیں اور یہ بنیادی عقیدہ ہے اسلام کا اس میں سے ہے کہ قائم بذات صرف اللہ ہے باقی ہر چیز فانی ہے اور جسے اللہ بناتا ہے بنتی ہے جسے اللہ مٹادیتاہے مٹ جاتی ہے۔کو ئی تشریح ان حدود سے متجاوزنہیں ہونی چاہیے جو شریعت مطہرہ نے متعین فرمادی ہیں
یہ ایسا فن ہے کہ اسمیں ہر شخص کو اپنی استعداد اور اپنی علمی استعداد جس طرح اللہ کریم نے مختلف استعداددی ہے علم ظاہر کے لئے۔دو شخص اکٹھے پڑھتے ہیں ایک استاد سے پڑھتے ہیں ایک جیسی کتابیں پڑھتے ہیں لیکن دونوں کی حثییت الگ الگ ہوتی ہے۔اس لئے کہ دونوں کی اپنی استعداد جو ہے حصول علم کی وہ الگ ہوتی ہے۔اس طرح بے شمار لوگ اللہ اللہ سیکھتے ہیں ،کیفیات باطنی حاصل کرتے ہیں ایک ہی استاد سے ایک ہی وقت میں کرتے رہتے ہیں لیکن ہر حال الگ ہوتاہے۔ جس طرح کی کیفیات کی استعداد اللہ کریم نے اسکے وجود میں رکھی ہوتی ہے اس طرح کی کیفیات بھی حاصل کرتاہے اور جس طرح کا شعورو آگہی کا مادہ اس میں اللہ کریم نے رکھا ہوتاہے اسی طرح سے وہ سمجھتاہے۔تو اصولی بات یہ ہے کہ جو بنیادی عقائدہیں شریعت کے اصل ہیں۔آگے یہ سب تشریحات ہیں اور کوئی تشریح ان حدودسے متحاوزنہیں ہونی چاہیے جو شریعت مطہرہ نے متعین فرمادی ہیں۔
ان حدودکے اندروضاحتیں ہیں تفصیلات ہیں۔جیسے قرآن حکیم کی تفسیر میں بے شمار تفصیل لکھی حضرات نے اللہ مفسرین کرام پرکروڑوں رحمتیں نازل فرمائے لیکن اس سب کا معیار یہ ہے کہ وہ جتنی تفصیل میں چلے جائیں وہ تفصیل ان حدود کے اندرہونی چاہئے جو حضوراکرم ﷺ نے متعین فرمادیں۔ شارحیں حدیث نے حدیث مبارکہ پر بڑی لمبی بحثیں فرمائی ہیں۔مختلف لوگوں نے اعتراض کئے۔حضرات نے ان کے جواب دئیے اور ایک ایک حدیث پر بہت بڑی بڑی لمبی بحثیں ہیں تو شرط بنیادی صرف یہ ہے کہ جو نبی کریم ﷺ کی مراد رتھی۔ارشاد سے آپ ﷺ کی مراد کیا تھی اس کی دلیل یہ ہے کہ صحابہ کرام نے اس کا کیامفہوم سمجھا، اس پر حضور ﷺ کے سامنے کیسے عمل کیا اور حضور ﷺ نے اسکی تصدق فرمائی وہ ہوجاتی ہے۔ ان الفاط سے مراد کیا تھا اس حد کے اندر جتنی تشریح ، جتنی تفصیل ہوتی رہے۔جب اس حد سے متصادم ہو گی تو باطل ہو جائے گی۔چو نکہ حق اس کے اندر ہے۔اس طرح صوفیا کے مراقبات ہوتے ہیں کیفیات ہوتی ہیں مختلف کیفیات سمجھتے ہیں وہ اور ان کی تعبیر ات ان کو دیتے ہیں لیکن اس سب کی شرط یہی ہے کہ شریعت مظہرہ کی حدود کے اندجو کچھ ہے وہ حق ہے جہاں سے کسی کی کیفیت یا کسی کا کشف یا کسی کا الہام شریعت سے متصادم ہوگا تو باطل ہو جائے گا اور شریعت بر حق ہے۔
وحی کی کیفیت اور کشف والہام
ہوتایہ ہے کہ انبیا ءعلیہم الصلوۃ والسلام نے بھی ساری شریعت کشف وا لہام سے ، وحی سے حاصل فرمائی۔وحی کی کیفیت بھی صرف نبی پہ ظاہر ہوتی ہے کوئی دوسرا جو پاس بیٹھا ہوا اور وحی نازل ہو رہی ہوتو دوسرے کو سمجھ نہیں آتی۔اس طرح کشف و الہام بھی صاحب کشف والہام پہ وارد ہوتاہے کوئی ساتھ دوسرا بیٹھا ہواسے سمجھ نہیں آتی۔لیکن نبی کریم ﷺ پر جو وارد ہوتااس میں دوباتیں یقینی تھیں۔اس میں ایک تو حضور ﷺ پہ جوکچھ واردہوتاوہ حق ہوتا تھا۔اس میں شیطان مداخلت نہیں کرسکتا تھا۔دوسری بات یہ حق ہوتی تھی کہ جو کچھ حضور پہ وحی یا کشف سے ‘ یا نبی کا خواب بھی وحی الہیٰ ہوتاہے ‘ خواب سے اگر کوئی بات نبی پہ وارد ہوتی ہے تو وہ بھی وحی ہوتی ہے اور وہ بھی برحق ہوتی ہے نہ اس میں شیطان مداخلت کرتاہے اورنہ اللہ کے نبی کوسمجھنے میں غلطی لگتی ہے۔
صوفیا ء اور انبیا ءکے کشف اور مجاہدہ میں فرق :
جو کشف اور مجاہدہ صوفیاءکو ہوتاہے وہ بھی وہی ہوتاہے جو نبی کو ہوتاہے۔اس لئے کہ باتباع نبی اور نبی کی اطاعت میں فنا ہونے سے وہ برکات نصیب ہوتی ہیں۔لیکن یہاں بہت بڑا فرق ہے۔صوفی کے مشاہدے یا اس کے القایا کشف میں شطان بھی مداخلت کرسکتاہے۔یہ دونوں خطرات ولی کے ساتھ موجود ہیں جو نبی کے ساتھ نہیں ہیں ،لہٰذاہر ولیٰ االلہ کا کشف ومشاہدہ محتاج ہے نبی کے ارشادات عالیہ کا۔ اگر حضور ﷺ کے احکام کی حدود کے اندر ہے ،اس کے مطابق ہے تو درست ہے اگر متصادم ہے تو باطل ہے۔دوسری بات یہ ہوتی ہے کہ جو کشف نبی کو ہوتوہے ،جوا لہام نبی ہوتا ہے ،جو وحی نبی پہ آتی ہے ، جو خواب اللہ کا نبی دیکھتا ہے ساری امت اس کی مکلف ہوتی ہے۔پوری امت کو وہ ماننا پڑتا ہے۔ جو مشاہدہ ولی کو ہوتا ہے کو ئی دوسرا بندہ اس کا مکلف نہیں۔صاحب مشاہدہ اگر اس کا مشاہدہ شرعی حدود کے اندر ہے تو اس پر عمل کرنے کا پابند نہیں ہے کہ فلاں کو یہ کشف ہوااس لئے میں یہ عمل کروں۔ یہ شان صرف انبیاءعلیہم الصلوۃوالسلام کی ہے تو لہذا کو ئی بھی نظریہ ہو یا اسے آپ اصطلاح کہیں یا کشف کہیں یا مشاہدہ کہیں تو بنیاد شریعت مطہرہ ہے اور ارشادات نبوی ﷺاور قرآن اور حدیث ہے اور سنت ہے اس کے اندر اندر اس کی تشریحات اس کی تفصیلات علماءکو اللہ کریم علم کے راستے بتادیتاہے ،علم کے ذریعے سے سمجھادیتا ہے اور بڑی بڑی بحثیں علماء حضرات نے فرمائی ہیں اور علما ہی کو مشاہدات بھی نصیب ہوتے ہیں۔جو اس طرف آجائے اس اللہ کریم کشف اور مشاہدے سے سرفراز فرماتے ہیں ان کے کشف سے کوئی نیا حکم جاری نہیں ہو سکتااور شرعی حدود سے باہر بھی نہیں ہو سکتیں۔اسلام تو ارشادات نبویﷺ کا نام ہے ، اسلام تو اعمال نبوی کا نام ہے ،اسلام تواخلاق نبوی ﷺکا نام ہے۔جو حضو ر ﷺ نے سکھادیا وہ اسلام ہے۔(بحوالہ ماہنامہ المرشد فروری اور مارچ 2007)
راہ سلوک میں اس مسئلہ کی حثیت نہ فرض ،نہ واجب پھراس پر جرح فضول ہے ،میرے علم کے مطابق اس عہد میں یہ مسئلہ اہل سلوکو پیش ہی نہیں ہے ۔پھر منکرین تصوف کا اس پر زور ماسوائے جہالت اور تلبس کے کچھ بھی نہیں۔فی زمانہ میں اہل سلوک کے چاروں سلاسل وحدت الوجود بامعنی عقیدہ حلول بری الذمہ ہیں۔نقشبندیہ کے سرخیل امام مجدد الف ثانیؒ نے صاف صاف لکھا ہے:۔
”ہم کو نص سے کلام ہے نہ فص سے فتوحات مدینہ یعنی حادیث نے ہم کو فتوحات مکیہ سے لاپرواہ کر دیا ہے“۔( مکتوبات۱۰۰جلد اول)
سوال کا دوسرا حصہ یہ ہے:۔
ایسے عقائد کے حامی صوفیاءکی حمایت کیوں کی جاتی ہے؟
جہاں تک ابن عربیؒ کی حمایت کی بات تو اس صف میں بڑے بڑے لوگ نظر آتے ہیں ، اور س کی حمایت کی وجہ یہ ہے کہ ہر شخص اپنے علم وفکر کی نظر سے دیکھتا ہے۔کیلانی صاحب کو چاہے تھا کہ وہ یہ سوال صوفیاء سے پوچھنے کے بجائے پہلے اپنے ہم مسلک علماء سے پوچھتے کہ اکابرعلماء اہل حدیث امام ابن عربیؒ کے اتنے دیوانے کیوں تھے؟
مسلک اہل حدیث کے پیشواوموسس شیخ الکل سید نذیر حسین دہلویؒ کی مبارک سوانح میں ملتا ہے:
 سید نذیر حسین دہلویؒ اور عقیدت علامہ ابن عربیؒ:۔
 حضرت سید نذیر حسین دہلوی ؒ صوفیاءعظام سے بے حد عقیدت ومحبت اور احترام کیا کرتے تھے۔خاص الخاص شیخ اکبرعلامہ ابن عربیؒ سے تو بہت زیادہ عقیدت تھی۔مولانا بہاریؒ لکھتے ہیں:۔
 ”طبقہ علماءاکرام میں شیخ محی الدین ابن عربیؒ کی بڑی تعظیم کرتے ،اور خاتم الولایہ المحمدیہ فرماتے۔اور بات بھی یہی ہے کہ علم ظاہر وباطن کی ایسی جامعیت ندرت سے خالی نہیں ہے۔مولانا قاضی بشیر الدین قنوج علیہ الرحمہ جو شیخ اکبر کے سخت مخالف تھے۔ایک مرتبہ دہلی سے اس غرض تشریف لائے کہ انکے بارے میں میاں صاحبؒ سے مناظرہ کریں ،اور دو مہنے دہلی میں رہے،اور روزانہ مجلس مناظرہ گرم رہی،مگر میاں صاحب اپنی عقیدت سابقہ سے جو شیخ اکبر ؒ کی نسبت رکھتے تھے،ایک تل کے برابربھی پیچھے نہ ہٹے،آخرممدوح جن کو میاں صاحب ؒ سے کمال عقیدت تھی،دومہینے کے بعد واپس تشریف لے گئے ۔
مولانا مغفور اکثر طلباءکو کتب درسیہ پڑھا کر حدیث پڑھنے کے لئے دہلی بھیج دیتے ، چنانچہ پیشتر شاگرد مولانا مغفور کے میاں صاحبؒ کے بھی شاگرد ہیں۔مگر چونکہ ان لوگوں کے خیالات شیخ اکبر کی طرف سے مولانا مغفور کے سنیچے ہوئے تھے،ان میں بہت کم ایسے تھے جو شیخ اکبر کے ساتھ حسن ظن رکھتے ہوں۔مولانا ابوالطیب محمد شمس الحق (جو مولانا مغفور کے تلمیذ خاص اور میاں صاحب ؒ کے شاگرد رشید ہیں)نے بھی میاں صاحب ؒ سے کئی دن متواتر شیخ اکبر کی نسبت بحث کی ،اور فصوص الحکم شیخ اکبر پر اعتراض جمائے۔میاں صاحب نے پہلے سمجھایا ،مگر جب دیکھا کہ ابھی لا تسلم ہی کے کو چہ میں یہ ہیں تو فرمایاکہ:۔
” فتوحات مکیہ“ آخری تصنیف شیخ اکبر کی ہے ،اور اسی لیے اپنی سب تصانیف ما سبق کی یہ ناسخ ہے“
اس جملہ پر یہ بھی سمجھ گئے(الحیات بعد الممات ص ۳۲۱،۴۲۱)
مولانا ابرہیم میر سیالکوٹی اور عقیدت ابن عربیؒ:۔
مولانا محمد ابرہیم میر سیالکوٹیؒ صوفیاءعظام سے بے حد محبت اور عقیدت و احترام رکھتے تھے،اور صوفیاءعظام ؒ کے طریق کو دنیا وآخرت کی کامیابی کا ذریعہ جانتے تھے، ”تاریخ اہل حدیث “ میں آپؒ نے علم وعمل بالحدیث ہندوستان کے تحت جن علما ء کا تذکرہ فرمایا ،وہاں آپ ؒ نے حضرات محدثین ؒ کے تعلق تصوف و احسان کو بھی کھل کر بیان فرمایا۔
آپ اپنی مایہ ناز تفسیر ام لقرآن واضح البیان میں فرماتے ہیں:۔
”جن پر اللہ تعالیٰ کی باطنی و روحانی نعمتیں ہوئیں اور وہی اس قابل ہیں کہ اللہ تک پہنچنے کےلئے انکی راہ اختیار کی جائے،اور وہی اس لائق ہیں کہ انکی اقتداءکی جائے“۔(ص)
ابن عربی رحمہ اللہ سے عقیدت اور وحدت الوجود:۔
آپ کواپنے استاد شیخ الکل سید نذیرحسین دہلویؒ کی طرح شیخ ابن عربی ؒ سے بڑی عقیدت و مواظبت تھی،آپ نے اپنی تصنیفات میں مختلف مقامات پر ابن عربیؒ کی کتب سے خوب استفادہ کیا،اور بڑی عقیدت ومحبت سے ” حضرت شیخ اکبر رحمہ اللہ“ کے لقب سے یاد فرماتے ہیں ۔آپ وحدت الوجود کے بھی قائل تھے
 ”مولانا ثناءاللہ امرتسریؒ فرماتے ہیں کہ ہم نے مولانا ابرہیم میر سیالکوٹی ؒ سے سلسلہ وحدۃ الوجود کے متعلق دریافت کیاتھا۔وحدت الوجود کے سواہ چارہ نہیں“۔(فتاوی ثنائیہ جلد اول)
یہ ذہن میں رہے کہ وحدۃ الوجود سے مراد یہ ہر گز نہیں ہے کہ ہر شئے ہی خدا ہے ،یہ جہلاءکا نظریہ ہے۔
نواب صدیق حسن خان اور مسئلہ وحدت الوجود:
نواب صدیق حسن خانؒخطیرۃالقدس میں اس موضوع پر تفصیلی بحث فرمائی ہے اس اختلاف کے متعلق فرماتے ہیں:۔
”ہم لوگ چونکہ ان اختلافات کے بعد پیدا ہوئے ہیں اس لئے ہم کو طرفین میں سے کسی ایک طرف جزماًمیلان نہیں ہو سکتا ۔مذہب وحدت الوجود اور مذہب وحدت شہود دونوں پر اگر نظر ڈالی جائے تو جسطرح ایک جانب بہت سے دلائل ہیں اسی طرح دوسری طرف بھی بہت سی دلیلیں ہیں ہم پر اعتقادً لازم ہے کہ ہم کسی جانب بھی ضلالت اور گمراہی کا خیال دل میں نہ لائیں کیونکہ اس میں بہت سے علماءاکرام اور مشائخ عظام کی تضلیل و تکفیر لازم آتی ہے،وحدت الوجود کے اثبات یا ابطال میں لب کشائی نہ کرنی چاہئے اگر خود ذی فہم ہے تو
 اپنی فہم پر قناعت کرے اور اگر وہ نہیں سمجھتا تو ان اقوال کو انکے قائلین پر چھوڑ دے “۔
مزید فرماتے ہیں:۔
وحدت الوجود وشہودجس سے مراد ہستی حق اور نیستی کو زمانہ حال و استقبال میں پیش نطر رکھاجائے تو یہ امر شرع کے اصل مقصد کے منافی نہیں ہے البتہ جو اختلاف اقوال و احوال اور اسکے شرح و بسط میں پیدا ہو گئے ہیں ۔کچھ شک نہیں کہ وہ شریعت سے کسی قدر بعد رکھتے ہیں اور ایک عالم کی گمراہی کا سبسب بن گئے۔اگر یہ خدشہ مانع نہ ہوتا تو میں اس مسلئہ وحدت الوجود کو متکلمین کے ہفوات چھوڑ کر محدثین کے اقوال و اشارات اور دلائل عقلی و نقلی سے اس طرح ثابت کرتا کہ علماءظاہری میں سے بھی کسی کو اس سے انکار نہ ہوتااور وہ اسکے خلاف میں لب کشائی نہ کر سکتا مگر کیا کیا جائے مصیبت تو یہ ہے کہ جوارباب علم ہیں انکو تفنن عبارات کی طرف توجہ رہتی ہے نہ معانی کی طرف ورنہ اگر حقیقتاً دیکھا جائے تو اس میں مابہ النزاع بات نہیں ہے،ع الا کل ۔اخل اللہ باطل اس سے بڑھ کر نادانی کیا ہو سکتی ہے کہ آدمی ہر مرتبہ اور ہر حال میں احکام وجود کا منکر اور ہمہ اوست کے معانی نعوذ باللہ شریعت سے آزاد ہونا سمجھے۔(تفصیل دیکھئے خطیرۃ القدس و مآثر صدیقی حصہ چہارم)
ابن عربی ؒ مولانا ثناء اللہ امرتسری کی نظر میں:
مولانا ثناء اللہ امرتسری ؒ سےجب پوچھا گیا کہ اکثر علماء اورصوفیاء اکرام ابن عربی ؒکو مقدس بزرگ مانتے ہیں اور بعض علماء انکو مسلئہ وحدت الوجود کا قائل ہونے کی وجہ سے کافروالحاد کی طرف منسوب کر کے دائرہ اسلام سے خارج فرماتے ہیںان کے متعلق آپ کا کیا خیال ہےاور مسلمانوں کیا گمان رکھنا چاہئے؟
جواب:شیخ ابن عربی کو کافرقرار دینے والا مسئلہ بہت نازک ہےمولانا نواب صاحب(نواب صدیق حسن خانؒ)بھوپال اپنی کتاب تکثار میں علامہ شوکانی سے نقل کرتے ہیںکہ میں نے چالیس سال تک شیخ ابن عربی کی تکفیر کی آخر میں میری رائے غلط معلوم ہوئی تو میں نے رجوع کیا،نواب صاحبؒ شیخ ابن عربی کوعزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اورمولانا سید نذیر  حسین المعروف حضرت میاں صاحب دہلویؒ شیخ ابن عربی کو شیخ اکبرلکھتے ہیںحضرت مجدد سرہندی بھی شیخ موصوف کومقربان الٰہی سے لکھتے ہیںاس لئے خاکسار کی ناقص رائے میں بھی شیخ موصوف قابل عزت لوگوں میں ہیں۔(فتاوی ثنائیہ جلد 1صفحہ 332)
یہ تمام حضرات مسلک اہل حدیث کی مستند شخصیات میں سے ہیں ،طوالت کے خوف سے ان ہی حوالہ جات پر اکتفاءکرتا ہوں ورنہ صوفیاءاہل حدیث کے اس مسلئہ پر مزید حوالہ جات بھی میرے علم میں ہیں ۔
یہ رائے اب صاحب علم لوگوں کی ہے ،اب کیلانی جیسا شخص جو نہ ظاہری علوم میں کامل اور نہ علوم باطنی کو جانتاہے ایسے شخص کی کیا حثیت کہ معارف سلوک میں گفتگو کریں اور اہل اللہ پر جرح کریں علم سلوک کے متعلق مناظر اسلام ابولوفا مولانا ثنا ءاللہ امرتسریؒ جیسا اہل حدیث عالم یہ کہنے پر مجبور ہے
راہ اعتدال مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ
”اس مسئلہ کی غلط فہمی سے کہ شریعت کو طریقت سے کیا نسبت اورر تعلق ہے مسلمانوں میں سخت افراط وتفریط ہو رہی ہے بعض بلکہ اکثر جہّال تو اس بہانے سے کہ شریعت ظاہر ہے اور ظاہر بینوں کے لئے ہے تمام احکام شریعت کو جواب دے بیٹھےہیں ،شریعت مطہرہ کے کسی حکم کا ادب انکے دل میں نہیں ہے حتی کہ نماز روزہ کو بھی جو نشان اسلام سمجھے جاتےہیں،یہ نالائق ٹٹی کی آڑ میں شکار کھیلنے والے صاف صاف لفظوں میں جواب دیتے ہیں،اور کھلے منہ بغیر مطلب سمجھنے کے ایسے راگ الاپتے ہیں ؟
                نہ رکھ روزہ نہ مر بھوکا نہ جا مسجد نہ دے سجدہ                    
                   وضو  کا توڑ  دے کوزہ شراب شوق پیتا جا    
ایسے ہی جاہلوں کے زغم اٹھا کر بعض اہل شریعت،طریقت اور تصوف سے منکر ہو جاتے ہیں،اور یہ سمجھتے ہیں کہ یہی نماز یں جو ہم سیدھی ٹیڑی پڑھتے ہیں، بس یہی اصل اسلام ہیں،یہی پیغمبر اسلام علیہ السلام کی تعلیم کا خلاصہ اور اصل ہیں مگر بغور دیکھیں تو دونوں کی رائے غلط۔ گو پہلے فریق کی تو اغلط بلکہ کفر تک پہونچتی ہیں۔اس لئے میں نے چاہا کہ اس رسالہ میں شریعت وطریقت کی نسبت اور تعلق بتلاوں ،جو پیغمبر علیہ السلام نے ان دونوں کو بتلایا ہے۔مگر مشکل یہ ہے کہ طریقت اور تصوف بیان مشکل ہے جسکی بابت کہا جاتاہے کہ
                             فنّ التصوّف ما ادقّ   بتحیر فیہ الام الرازی                                        
” یعنی تصوف کافن ایسا باریک ہے کہ امام رازی ؒ جیسی فاضل اجل اور باریک بین بھی اس میں حیران و سرگردان ہیں“
پھر مجھ جیسے کج مج زبان سے کیونکر اسکا مطلب ادا ہو سکے۔مگر چونکہ اس مسئلہ کو بزرگانِ دین اور اکابرانِ ملّت قویم علماءکرام و صوفیاءعظام رضی اللہ عنہم نے جو شریعت اور طریقت کے مسلّمہ امام ہیں واضح طور سے بیان کیا ہوا ہے ،لہذا انہی کی کتابوں سے نقل کر کے مسئلہ ہذا کی توضیح کر تا ہوں۔الفضل اللمتقدم“۔(مولانا ثناءاللہ امرتسری، رسالہ شریعت اور طریقت ص 1۔2 ،مطبع اہلحدیث امرتسر اشاعت 30 دسمبر 1909ء)
کیلانی صاحب کی کتاب انتہائی سطحی نوعیت کی ہےافسوس ہے کہ مجھے تلاش وبیسار سے بھی کوئی ایسی بات نہ مل سکی جس کا جواب دینا ضروری ہوکیونکہ مولانا صاحب اصل اور نقل میں فرق کرنے سے محروم تھے ۔یہاں پر میں نے فقط ایک سوال کا جواب دیا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ قارہین پر اس کتاب کی حقیقت واضح ہو جائے
میری احباب سے گذارش ہے کہ اگر کسی سوال کو اہم سمجھتے ہیں تو اسکو پیش کریں ان شاءاللہ اس کا جواب دیا جائے گا ،میں نہیں چاہتا ہے کہ وقت کو ان فضول باتوں میں ضائع نہ کروں۔

ابن محمد جی قریشی
ibne_m.jee@hotmail.com
http//knooz-e-dil.blogspot.com
fcbook:qureshiaqeel/5940
WhatsAPP:0331-9110527

Sep 17, 2017

0 comments

وطریقت کا تحقیقی وتنقیدی جائزہ

 مولاناعبدالرحمن کیلانی مصنف ”شریعت و طریقت “کے سوالوں کے جوابات
جوابات سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ مولانا کیلانی کا شمارناقدین تصوف و احسان میں ہوتا ہے،ذیل میں سولات ان کی کتاب شریعت وطریقت سے لئے گئے ہیں،ان سوالوں کیااہل علم کے نزدیک کیا اہمیت ہے چند دن پہلے ایک سلفی صوفی عالم بتا رہے تھے کہ مولانا عبدالرحمن کیلانی کا ایک اعتراض بھی ایسا نہیں جو قابل غور ہو۔
 سچ تو یہ ہے کہ مولانا تصوف کی الف،ب بھی نہیں جانتے تھے اور نہ ہی یہ کتاب اس قابل ہے کہ اس کا جواب دیا جائے۔مگر ہمارے ایک خاص مقلدانہ ذہن کے نزدیک یہ کتاب ایک مقدس صحیفہ کی حیثیت اختیار کر چکی ہے اور وہ جہاں بھی تصوف واحسان پر معترض ہوتے تو اکثر حوالے اسی کتاب سے دیتے ہیں ۔لہذا میں نے ضروری سمجھا کہ ہمارے یہ انجانے دوست کئی تصوف واحسان کی اندھی مخالفت میں اپنے ایمان کو برباد کر رہے ان کی رہنمائی کے لئے کچھ لکھا جائے۔
اس کتاب کے آخر میں علماء تصوف واحسان سے پر سوالوں کی ایک فہرست پیش کی گئی اور بعض منچلے انٹرنیٹ پر یہ سوال پیسٹ کر کے نیچے لکھ دیتے ہیں
’’شاید ان سوالوں کا جواب دینا اہل تصوف کے لئے ممکن نہ ہو‘‘
 یہ لفظ پڑھ کر مجھے وہ صوفیائے اہل حدیث یاد آ جاتے ہیں جو بیک وقت صوفی بھی تھی ،محدث بھی اورمفسر بھی،کہ ایک منکر تصوف اٹھتاہے اور تصوف و احسان کے مقدس علم پر یاوہ گوئی کرتا ہے تو اس کی کتاب پر صوفیائے اہل حدیث تڑپ اٹھتے ہیں خاندان غزنویہ کا عظیم صوفی اور مسلک اہل حدیث کا امام عبد الجبار غزنوی نقشبندی  ؒشیخ الکل سید نذیر حسین دہلویؒ اور  نواب صدیق حسنؒ کے ایماء پر اٹھ کر دندان شکم جوابـ’’اثبات الہام و البیعت بادلۃ الکتاب السنت المقلب بہ تضحیک الانام علی تحقیق الکلام‘‘دیتے ہیں اورپھر منکرین تصوف پر ایک مرگ کی کیفیت طاری رہتی ہے پھر ڈیڑھ صدی بعد ایک مذکورہ صاحب ’’شریعت وطریقت‘‘ کا صحیفہ لے کر نازل ہوتے مگر افسوس کہ اب مسلک اہل حدیث میں امام عبد الجبار غزنوی  ؒ نہیں تھے ۔
افسوس کے کارواں جاتا رہا اور کارواں کے دل سے احساس زیاں جاتا رہا
 منکرین تصوف و احسان اورجہالت معنی ومفہوم کے اعتبار سے ایک ہیں،اور پھر سوال کر لینا یا تنقید کر لینا کون سا مشکل کام ہے،یاد رکھیں تعمیر مشکل ہے اور تخریب آسان ہے۔دیکھا تو یہ گیا ہے کہ اہل حرص و ہو ا محض ناموری کے لئے صوفیاءاسلام پر طعن و تشیع کرتے ہیں ،کیونکہ اہل اللہ پر تنقید کرنے سے شہرت مل جاتی ہے،مگر عاقبت برباد ہو جاتی ہے ۔کسی صاحب حال نے کہا تھا کہ اہل اللہ پر تنقید کفر تو نہیں ،مگر مرتے انھے کفر پر ہی دیکھا ہے۔
 پھرکسی بھی موضوع پر جرح کے لئے اسے جانناضروری ہے ،تصوف وسلوک میں زمانے کے ساتھ ساتھ جو بگاڑ آتا ہے،اسکی اصلاح بھی صوفیاءکے ہی ذمہ ہے اور وہ یہ کام الحمد للہ بڑے احسن طریقے سے کرتے چلے آ رہے ہیں ،اس معاملہ میں راہ سلوک سے نابلد شخص کی مثال وہ آندھوں کو ہاتھی دکھانے والی بات ہے۔
 مولانا کیلانی نے اپنی پہچان مسلک اہلحدیث کے نام سے قائم کی ہوئی تھی،اپنی کتاب میں انہوں نے کسی بھی اہل حدیث صوفی پر جرح نہیں کی ہے،کیونکہ مرحوم یہ بات بخوبی سمجھتے تھے کہ کسی اہلحدیث صوفی پر طعن کرنے سے ان پر مسلکی اعتبار اٹھ جائے گا،اس لئے انہوں نے اپنی کتاب میں مسلک اہل حدیث کی آڑ لیکر صوفیاءپر متشدادنہ و غیر عدلانہ جرح کی ۔
اہل باطل کا وطیرہ یہی رہا ہے کہ وہ اپنی تلبیسات کو حق کی آڑ لیکر پھیلاتے ہیں ،اور مرحوم اس مقصد میں کسی حد تک کامیاب بھی ہوئے ہیں کیونکہ آج جہلاءکے نزدیک یہ کتاب ایک مقدس صحیفے کی حثیت اختیار کر چکی ہے۔
مرحوم نے اپنی کتاب میں فقط ایک مقام پر سید عبد اللہ غزنوی ؒ کا ذکر کیا جو اکابر اہلحدیث میں سے ہیں ،نقشبندیہ سلسلہ سے تعلق رکھتے تھے ۔ان کے متعلق اتنا لکھا ہے کہ وہ حد درجہ متبع سنت تھے ،کمال ہے اگر حنفی صوفی ہوتو گمراہ اور اہلحدیث ہو تو متبع سنت۔
لیکن خود سید عبد اللہ غزنویؒ کی مبارک سوانح میں ملتا ہے کہ:۔
    ” آپ اگرچہ سلوک کی کتابوں اور صوفیہ کے مشاغل مروجہ سے پہلے ہی بری تھے،لیکن جذبہ غیبی کے پہنچنے کے بعدآپ میں صوفیاءکے مشاغل کے ثمرات اوراثار کسی کے تعلیم کے سواء مشاہدہ کرتے تھے،رفتہ رفتہ صوفیاءکے طریق کے مطابق اس راہ پر طالبوں کو تعلیم دینے لگے ،اور ہمیشہ بہمہ تن ہدایت کی زیادتی کے لئے اللہ تعالیٰ کے آگے اور نالاں رہتے،گویا آپکا بدن اللہ تعالیٰ کی طرف رغبت کرنے اوراس سے ڈرنے کی تصویر تھا۔    
مولانا غلام رسول قلعویؒ جو آپ کے خلیفہ مجاز بھی تھے ،اورآپ کے ساتھ بھائی چارہ بھی تھا ،سید عبد اللہ غزنویؒ کے طریق السلوک کے متعلق فرماتے ہیں:۔
          ”اسم ذات کی تلقین میں انکا طریق تمام مشائخ کے طریق سے جدا تھا،اور جوش بھی علیحدہ خصوصاً لطیفہ اخفی بہت جوش کے ساتھ آتا جب قلب کے لطیفے کا سبق دیتے تو فرماتے دل کو ایک ریت کا ڈھیر خیال کر کے اسم ذات کو ریت کے ہر دانہ سے نکا لو اور لطیفہ قالب یعنی سلطان الذکرمیں بھی آپ جدا طریقہ سے سکھلاتے کہ اپنے جسم کو ایک ریت کا ڈھیر تصور کر کے اسم ذات کا ذکر کرو اور سورۃ  فاتحہ پڑھنے میں بہت کوشش فرماتے معنوں کے لحاظ اورآیتوں کو بار بار پڑھنے کی شرط کے ساتھ اور وصیت کرتے تھے کہ اپنے تابعداروں میں سے ہر ایک شخص کو سکھلاو۔اور چشتیہ کے ذکروں میں سے اللہ الصمد کے ذکر کو بلحاظ معنی بہت مفید جانتے تھے،اور دورہ کا طریقہ جو بعض لوگوں کو سکھلاتے تو فلک چہارم کی سیر یا فوق عرش کی سیر پر دلالت نہیں کرتے تھے بلکہ اللہ تعالیٰ کی صفتوں یعنی سمیع ،بصیر،قدیر ،علیم وغیرہ میں فکر کرنے کی تاکید فرماتے ،اور مریدوں کے کشف سے ڈرتے تھے،کیونکہ یہ بعض لوگوں کے حق میں مجازی فیض سے روک ہو جاتا ہے،اور اگر کوئی شخص ذکر کے وقت حرکت یا بے چینی یا اضطراب کرتا تو اسکو زجر کیساتھ منع فرماتے۔
          ایک دن فقیر نے سوال کیا کہ یہ شخص رعشہ والوں کی طرح حرکت کرتا ہے ،اور آپ زجر کیساتھ منع فرماتے ہیں فرمایا کہ شاید ہوائے نفسانی کا شائبہ اسکے ساتھ نہ مل جاوے۔اور ظالموں اور انکے متعلقین کے کھانے سے پرہیز کرتے مگراس وقت کو صاف معلوم ہو جاتا کہ ادھار لیا گیا ہے،ایک دن آپ نے شیخ شہاب الدین سہروردیؒ سے حکایت کی ،کہ وہ مریدوں کو اسماءالحسنیٰ کے ورد کی تعلیم کرتے ،اور چالیس دن کے بعد ان سے سنتے،جس اسم کے ساتھ انکی حالت میں تغیر آنے لگتا وہی اسم تعلیم فرماتے۔پھر فرمانے لگے اس عاجز کی دانست میں اسکے مطابق اسم ذات ہے،پھر کسر نفسی کرتے تھے ،میں کیا ہوں اور میری سمجھ کیا ہے،اور کبھی فرماتے یہ کیا مسلمانی ہے ،یہ کیسا ایمان ہے،اور بہت وقتوںمیں اپنا انکسار ظاہر کرتے،اور حبس کا طریق کسی مرید کو نہیں سکھاتے تھے ،اگر چہ اسکے منع ہونے میں دم نہیں مارتے تھے۔
          اورا پنے شیخ سید حبیب اللہ اخوندؒ کے متعلق سید عبد اللہ غزنویؒ فرماتے ہیں:۔
” اخوند حبیب اللہؒ فرماتے تھے کہ معیت کا مراقبہ مجھے سب مراقبوں سے پسند آتا ہے۔“
خودآپکے اپنے احوال میں مذکور ہے:۔
          ” کہ جذبہ الہٰی کا آغاز پہلے دن شام کے بعد تھا،جو خود بخود بلا واسطہ پیر کے جذب الٰہی پہنچ گیا،اور تمام زور کیساتھ ماسواللہ کو میرے دل سے کھینچ لیا،یہاں تک کہ تین دن تک مجھ کو اپنے نفس سے کدورت اور ظلمت اس طور معلوم ہوتی تھی،از خود گندی بو آتی ،جس سے جی متلانے لگتا،اور باقی لوگوں سے بھی دیکھنے کے وقت قے آنے لگتی۔فقر امل یہاں تک تھی کہ فانی زندگی پر کسی طرح اعتماد نہ رہا اور مخلوقات سے یہاں تک نفرت تھی کہ نماز جماعت کیساتھ بڑی دشواری کیساتھ گزاری جاتی اور ذکر کی نسبت اسطرح غالب تھی کہ جو شخص مجھ کو دیکھتا، ذکر کرنے لگتا تھا۔ اور کبھی کبھی چھت کی لکڑیوں سے بھی ذکر سنا جاتا۔
          برف کی بارش کے موسم میں جب آگ پر بیٹھتا ،تو نفی اثبات کے وقت جو میں سر کو ہلاتا تو اس طرح آگ بھی گھومتی ،اور اس سبب سے کہ میں نے کسی شیخ کی صحبت نہیں اٹھائی تھی،اور نہ مشائخ کا حال دیکھا سنا تھا،حیرانی پیش آتی تھی کہ آیا کسی شیخ کے پاس جا کر تعلیم حاصل کروں، چنانچہ اسی نواح میں ایک شیخ صاحب شاہ صاحب غلام علی دہلویؒ مجددی کے مریدوں میں سے ریاضت شاقہ اور چلوں کیساتھ مشہور تھا ،انکو دیکھنے کا دل میں پختہ ارادہ ہوا ،چونکہ میں اکیلا راہ کا واقف نہ تھا اور کسی کی ہمراہی بھی ناممکن تھی ،ایک شخص کو رہ بتلانے کے لئے میرے ساتھ کیا ،اس طرح کے وہ دور سے راہ دکھلائے ،جب شیخ سے ملاقات ہوئی ،تو اس پر حالت آگئی ،جو خود بخود اپنے سر کو ہلاتا تھا ،اور اس نے اپنے سارے لطیفے اس جوش میں ظاہر کئے ،جو کچھ میں نے دیکھا کسی زمانہ میں نہیں دیکھا ،پس ناامید ہو کر واپس آیا “۔(دیکھئے بسوانح عمری سید عبد اللہ غزنویؒ)
الغرض اشغال صوفیاءاہلحدیث کے ہوں یاصوفیاءاحناف کے کچھ فرق نہیں ،لیکن تعجب منکرین تصوف کے دجل وفریب پر ہے کہ اہل حدیث یہ سب کچھ کرنے کے باوجود متبع سنت اور کسی اور مکتبہ فکر کا صوفی یہی کام کرے تو بدعت!ان اشغال کی صوفیاءکے نزدیک کیا حثیت ہے انشاءاللہ تعالیٰ اپنے مقام پر بحث کی جائے گی۔
حقیقت تو یہ ہے کہ مسلک اہل حدیث صوفیاءکا مسلک ہے ،اس مسلک کے موسس وبانی سید نذیر حسین دہلویؒ نہ خود صوفی تھے بلکہ اس مسلک کی تراویج و اشاعت کرنے والے اکثر حضرات صوفی ہی تھے۔اس موضوع پرایک کتاب”تصوف و احسان علمائے اہل حدیث کی نظر میں“شائع ہو چکی ہے جبکہ اکابر صوفیاء مسلک اہل حدیث کے حالات پر”احوال و آثار صوفیاء مسلک اہل حدیث“ زیر طبع ہے۔جس میں تمام صوفیاءاہل حدیث کا تفصیلی ذکر کیا جائے گا ۔انشاءاللہ

سوالنمبر۱:۔کیا وحدت الوجود کا عقیدہ یا وحدت الشہود کے عقائد کی ازروئے شرع گنجائش ہے اگر ہے تو دلائل سے مطلع فرمائیں۔ ورنہ یہ بتائیں کہ ایسے عقائد کے حامی صوفیا کی حمایت کیوں کی جاتی ہے ؟
 جواب :وحدت الوجود اور شہود کو لوگوں نے مختلف انداز میں لیا اور اس کی حقیقت یہ ہے
وحدت الوجود اور شہود کی حقیقت:
”صوفیا کے مختلف مراقبات اور مختلف کیفیات ہوتی ہیں۔جس طرح علوم ظاہری میں اسباق چلتے ہیں اسی طرح کیفیات باطنی بھی سبق درسبق چلتی ہیں اور ان کی مختلف کیفیات ہوتی ہیں۔ جن دوستوں کے اسباق ہیں وہاں تک اور جنہیں مشاہدہ ہے اندازہ فرماتے ہوں گے کہ جب ” مراقبہ فنا “ کیا جاتاہے تو اس میں ہر چیز فنا ہوتی نظر آتی ہے حتیٰ کہ ساری کائنات فنا ہو جاتی ہے کچھ باقی نہیں بچتا۔ کوئی چیز باقی نہیں رہتی۔ ہر چیز فنا ہوجاتی ہے۔اس کے بعد جب بقاباللہ کا مراقبہ کیا جاتا ہے۔و یبقی ٰ وجہ ربک ذوالجلال والا کرام تو ہر وجود کے ساتھ قادر مطلق کے انوارت نظرآتے ہیں۔ جن کی وجہ سے وہ قائم ہے تو سامنے سمجھ آرہی ہے کہ قائم بذات صرف اللہ کی ذات ہے باقی سارے وجود اس کے قائم بذات صرف اللہ کی ذات ہے باقی سارے وجود اس کے قائم رکھنے سے قائم ہیں۔ اس کے بنانے سے بنتے ہیں اور اس کے مٹانے سے مٹ جاتے ہیں ان کی اپنی ذاتی کوئی حثییت نہیں ہے۔ جب اس کیفیت سے صوفیا ءگزرے تو انہوں نے کہا کہ وجودراصل ایک ہی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ ہے۔جو ازل سے ابد تک ہے ، ہمیشہ ہے ،ہر حال میں ہے ہر جگہ ہے۔ باقی نہ ہونے کے برابر ہیں اور صرف اس کے قائم رکھنے سے قائم رہتے ہیں اس کے مٹا دینے سے مٹ جاتے ہیں ان کی کوئی ذاتی حثییت نہیں ہے۔ اسے’وحدت الوجود ‘ کا نام دیا گیا ہے کہ وجود صرف ایک ہے واحد لا شریک ہے۔باقی وجودوں کا ہونا یا نہ ہونا برابر ہے۔شیخ محی لدین عربی ? نے جب اس نظر یے کو اپنی کتاب میں جگہ دی اور اس پر بحث فرمائی تو پھریہ مستقل ایک نظریہ بن گیا۔ لیکن اس کا مفہوم یہ تھا جو میں عرض کر رہا ہوں۔
کاملین سے جاہلین
یہ بات کا ملین کی تھی ، اہل علم کی تھی۔بعد میں جب لوگ آئے ان کا کمال نہ علوم باطنی میں اس پائے کا تھا نہ علوم ظاہری میں ان کے علوم اس پائے کے تھے تو اس میں ایک قبا حت آگئی۔ بجائے اس کے کہ یہ سمجھا جاتاکہ اللہ ہی باقی ہے جو کچھ ہے یہ فانی ہے سمجھا یہ جانے لگا کہ ہر وجود میں اللہ ہے۔وحدت الوجود کاجو مفہوم تھا وہ یکسر بدلنے لگا تو یہ ہندوں والا عقیدہ بننے لگ تھا جیسے ہر وہ طاقت جسے وہ ناقا بل تسخیر سمجھتے ہیں کہ اس میں بھگوان موجود ہے۔ بڑا پہاڑ ہوتو اس کی پوجا شروع کر دو، بڑا درخت ہو تو اس کی پو جاشروع کر دو۔کو ئی بھی جانور ایسا ہوتا جو قابو نہ آئے تو اس کی پوجا شروع کرنا کہ اس میں بھگوان ہے۔تو وہ اس میں قبا حتیں در آئیں نااہلوں کی وجہ سے وہ یہ تھیں۔ ان قباحتوں کی وجہ سے حضرت الف ثانی ? نے اس کے مقابلے
 میں کروحدت الشہود کا لفظ دیا کہ ہر چیز ہر وجود اس کی وحدت پہ گواہ ہے یعنی ہر وجود کی ذات ہے وہ اس کی قدرت کاملہ پہ گواہ ہے۔اس کی شہادت دے ہی ہے تو ان قباحتوں سے بچنے کے لئے اس کی اصلاحی صورت تشکیل دی گئی جس میں خطرہ کم تھا یا نہ ہونے کے برابرتھا۔اب جسے گمراہ ہونا ہو اور کوئی ایسی گستاخی کر بیٹھے کہ اللہ کریم اسے رو کر دے تو گمراہ ہوتا ہی ہے۔
یھدی الیہ من ینیب قرآن حکیم کتاب ہدایت ہے لو گ اس کی وجہ سے اعتراض تراش کر گمراہ ہو جاتے ہیں تو جو آب حیات پی کر مر جائے اب اس کا علاج ہے لیکن وہ خطرات ختم ہو گئے اور اصل بات نکھر کر سامنے آگئی۔ اسے حقوق دے ہیں اسے زندگی سی ہے یا اسے شعور دیا ہے لیکن وہ گواہ ہے اللہ کی قدرت کاملہ پر۔وہ انسان ہے یا حیوان ہے ‘ جاندار ہے نباتات ہے ، آسمان ہے یا زمین ہے ‘ کوئی وجود بھی ہے تو وہ ایک شہادت دے رہا ہے اور سب شہادت جو ہے وہ اللہ کی قدرت کاملہ پر ہے ، اس کے خالق اور اس کی قادر مطلق ہونے پر ہے تو یہ ان خطرات سے بچنے کے لئے جو لوگوں کی علمی یا باطنی استعداد کی کمزوری کی وجہ سے وحدت الوجود کیاا صطلا ح سے در آئے تھے ان سے بچنے کیلئے جو لوگوں کی علمی یا باطنی استعداد کی کمزوری کی وجہ سے وحدت الوجود کی اصطلاح سے در آئے تھے ان بچنے کے لئے یہ راستہ اپنایا گیا۔ وحدت الشہود کا تو یہ اصطلاحات ہیں یہ نظریات نہیں ہیں یہ اصطلاحات ہیں۔نظریات یا عقائدوہی ہیں جو شریعت مطہرہ نے بیان فرما دئیے۔
نظریات یا عقائد وہی ہیں جو شریعت مطہرہ نے بیا ن فرمادئیے۔اب مختلف کیفیات کے اظہار کے لئے مختلف اصطلاحات ہیں جن سے اس کی کیفیت کا اظہار مطلوب ہے۔ تو اپنی اصل دونوں درست ہیں ان میں اختلاف نہیں ہے۔ صرف یہ ہے کی وحدت الوجود جب کہاگیا تو اس میں خطرات درآئے اور بجائے اس کے یہ سمجھاجا کہ ہر وجود جو ہے اسکی ذاتی کوئی حثییت نہیں ہے سمجھایہ جانے لگاکہ ہر وجود اللہ ہے۔تو اس کی اصطلاح حضرت مجدد الف ثانی ؒجو لائے وہ تھی وحدت پر ہے۔اس کے خالق کائنات ،خالق کل اور قادرمطلق ہونے پر ہے تو وہ نظریات ہیں جن کے پاس علوم ظاہربھی ہوں اور انہیں کمالات باطنی بھی حاصل ہوں۔تو عموماًاہل علم جو اس شعبے میں آتے ہیں تو یہ ان کے بحث کرنے کی باتیں ہیں اور اپنے علم کے مطا بق اسے سمجھتے ہیں اور اس میں غلطیاں ہوتی ہیں۔دراصل بات ایک ہی ہے اس کے لئے اصطلاحیں دو ہیں اور یہ بنیادی عقیدہ ہے اسلام کا اس میں سے ہے کہ قائم بذات صرف اللہ ہے باقی ہر چیز فانی ہے اور جسے اللہ بناتا ہے بنتی ہے جسے اللہ مٹادیتاہے مٹ جاتی ہے۔کو ئی تشریح ان حدود سے متجاوزنہیں ہونی چاہیے جو شریعت مطہرہ نے متعین فرمادی ہیں
یہ ایسا فن ہے کہ اسمیں ہر شخص کو اپنی استعداد اور اپنی علمی استعداد جس طرح اللہ کریم نے مختلف استعداددی ہے علم ظاہر کے لئے۔دو شخص اکٹھے پڑھتے ہیں ایک استاد سے پڑھتے ہیں ایک جیسی کتابیں پڑھتے ہیں لیکن دونوں کی حثییت الگ الگ ہوتی ہے۔اس لئے کہ دونوں کی اپنی استعداد جو ہے حصول علم کی وہ الگ ہوتی ہے۔اس طرح بے شمار لوگ اللہ اللہ سیکھتے ہیں ،کیفیات باطنی حاصل کرتے ہیں ایک ہی استاد سے ایک ہی وقت میں کرتے رہتے ہیں لیکن ہر حال الگ ہوتاہے۔ جس طرح کی کیفیات کی استعداد اللہ کریم نے اسکے وجود میں رکھی ہوتی ہے اس طرح کی کیفیات بھی حاصل کرتاہے اور جس طرح کا شعورو آگہی کا مادہ اس میں اللہ کریم نے رکھا ہوتاہے اسی طرح سے وہ سمجھتاہے۔تو اصولی بات یہ ہے کہ جو بنیادی عقائدہیں شریعت کے اصل ہیں۔آگے یہ سب تشریحات ہیں اور کوئی تشریح ان حدودسے متحاوزنہیں ہونی چاہیے جو شریعت مطہرہ نے متعین فرمادی ہیں۔
ان حدودکے اندروضاحتیں ہیں تفصیلات ہیں۔جیسے قرآن حکیم کی تفسیر میں بے شمار تفصیل لکھی حضرات نے اللہ مفسرین کرام پرکروڑوں رحمتیں نازل فرمائے لیکن اس سب کا معیار یہ ہے کہ وہ جتنی تفصیل میں چلے جائیں وہ تفصیل ان حدود کے اندرہونی چاہئے جو حضوراکرم ﷺ نے متعین فرمادیں۔ شارحیں حدیث نے حدیث مبارکہ پر بڑی لمبی بحثیں فرمائی ہیں۔مختلف لوگوں نے اعتراض کئے۔حضرات نے ان کے جواب دئیے اور ایک ایک حدیث پر بہت بڑی بڑی لمبی بحثیں ہیں تو شرط بنیادی صرف یہ ہے کہ جو نبی کریم ﷺ کی مراد رتھی۔ارشاد سے آپ ﷺ کی مراد کیا تھی اس کی دلیل یہ ہے کہ صحابہ کرام نے اس کا کیامفہوم سمجھا، اس پر حضور ﷺ کے سامنے کیسے عمل کیا اور حضور ﷺ نے اسکی تصدق فرمائی وہ ہوجاتی ہے۔ ان الفاط سے مراد کیا تھا اس حد کے اندر جتنی تشریح ، جتنی تفصیل ہوتی رہے۔جب اس حد سے متصادم ہو گی تو باطل ہو جائے گی۔چو نکہ حق اس کے اندر ہے۔اس طرح صوفیا کے مراقبات ہوتے ہیں کیفیات ہوتی ہیں مختلف کیفیات سمجھتے ہیں وہ اور ان کی تعبیر ات ان کو دیتے ہیں لیکن اس سب کی شرط یہی ہے کہ شریعت مظہرہ کی حدود کے اندجو کچھ ہے وہ حق ہے جہاں سے کسی کی کیفیت یا کسی کا کشف یا کسی کا الہام شریعت سے متصادم ہوگا تو باطل ہو جائے گا اور شریعت بر حق ہے۔
وحی کی کیفیت اور کشف والہام
ہوتایہ ہے کہ انبیا ءعلیہم الصلوۃ والسلام نے بھی ساری شریعت کشف وا لہام سے ، وحی سے حاصل فرمائی۔وحی کی کیفیت بھی صرف نبی پہ ظاہر ہوتی ہے کوئی دوسرا جو پاس بیٹھا ہوا اور وحی نازل ہو رہی ہوتو دوسرے کو سمجھ نہیں آتی۔اس طرح کشف و الہام بھی صاحب کشف والہام پہ وارد ہوتاہے کوئی ساتھ دوسرا بیٹھا ہواسے سمجھ نہیں آتی۔لیکن نبی کریم ﷺ پر جو وارد ہوتااس میں دوباتیں یقینی تھیں۔اس میں ایک تو حضور ﷺ پہ جوکچھ واردہوتاوہ حق ہوتا تھا۔اس میں شیطان مداخلت نہیں کرسکتا تھا۔دوسری بات یہ حق ہوتی تھی کہ جو کچھ حضور پہ وحی یا کشف سے ‘ یا نبی کا خواب بھی وحی الہیٰ ہوتاہے ‘ خواب سے اگر کوئی بات نبی پہ وارد ہوتی ہے تو وہ بھی وحی ہوتی ہے اور وہ بھی برحق ہوتی ہے نہ اس میں شیطان مداخلت کرتاہے اورنہ اللہ کے نبی کوسمجھنے میں غلطی لگتی ہے۔
صوفیا ء اور انبیا ءکے کشف اور مجاہدہ میں فرق :
جو کشف اور مجاہدہ صوفیاءکو ہوتاہے وہ بھی وہی ہوتاہے جو نبی کو ہوتاہے۔اس لئے کہ باتباع نبی اور نبی کی اطاعت میں فنا ہونے سے وہ برکات نصیب ہوتی ہیں۔لیکن یہاں بہت بڑا فرق ہے۔صوفی کے مشاہدے یا اس کے القایا کشف میں شطان بھی مداخلت کرسکتاہے۔یہ دونوں خطرات ولی کے ساتھ موجود ہیں جو نبی کے ساتھ نہیں ہیں ،لہٰذاہر ولیٰ االلہ کا کشف ومشاہدہ محتاج ہے نبی کے ارشادات عالیہ کا۔ اگر حضور ﷺ کے احکام کی حدود کے اندر ہے ،اس کے مطابق ہے تو درست ہے اگر متصادم ہے تو باطل ہے۔دوسری بات یہ ہوتی ہے کہ جو کشف نبی کو ہوتوہے ،جوا لہام نبی ہوتا ہے ،جو وحی نبی پہ آتی ہے ، جو خواب اللہ کا نبی دیکھتا ہے ساری امت اس کی مکلف ہوتی ہے۔پوری امت کو وہ ماننا پڑتا ہے۔ جو مشاہدہ ولی کو ہوتا ہے کو ئی دوسرا بندہ اس کا مکلف نہیں۔صاحب مشاہدہ اگر اس کا مشاہدہ شرعی حدود کے اندر ہے تو اس پر عمل کرنے کا پابند نہیں ہے کہ فلاں کو یہ کشف ہوااس لئے میں یہ عمل کروں۔ یہ شان صرف انبیاءعلیہم الصلوۃوالسلام کی ہے تو لہذا کو ئی بھی نظریہ ہو یا اسے آپ اصطلاح کہیں یا کشف کہیں یا مشاہدہ کہیں تو بنیاد شریعت مطہرہ ہے اور ارشادات نبوی ﷺاور قرآن اور حدیث ہے اور سنت ہے اس کے اندر اندر اس کی تشریحات اس کی تفصیلات علماءکو اللہ کریم علم کے راستے بتادیتاہے ،علم کے ذریعے سے سمجھادیتا ہے اور بڑی بڑی بحثیں علماء حضرات نے فرمائی ہیں اور علما ہی کو مشاہدات بھی نصیب ہوتے ہیں۔جو اس طرف آجائے اس اللہ کریم کشف اور مشاہدے سے سرفراز فرماتے ہیں ان کے کشف سے کوئی نیا حکم جاری نہیں ہو سکتااور شرعی حدود سے باہر بھی نہیں ہو سکتیں۔اسلام تو ارشادات نبویﷺ کا نام ہے ، اسلام تو اعمال نبوی کا نام ہے ،اسلام تواخلاق نبوی ﷺکا نام ہے۔جو حضو ر ﷺ نے سکھادیا وہ اسلام ہے۔(بحوالہ ماہنامہ المرشد فروری اور مارچ 2007)
راہ سلوک میں اس مسئلہ کی حثیت نہ فرض ،نہ واجب پھراس پر جرح فضول ہے ،میرے علم کے مطابق اس عہد میں یہ مسئلہ اہل سلوکو پیش ہی نہیں ہے ۔پھر منکرین تصوف کا اس پر زور ماسوائے جہالت اور تلبس کے کچھ بھی نہیں۔فی زمانہ میں اہل سلوک کے چاروں سلاسل وحدت الوجود بامعنی عقیدہ حلول بری الذمہ ہیں۔نقشبندیہ کے سرخیل امام مجدد الف ثانیؒ نے صاف صاف لکھا ہے:۔
”ہم کو نص سے کلام ہے نہ فص سے فتوحات مدینہ یعنی حادیث نے ہم کو فتوحات مکیہ سے لاپرواہ کر دیا ہے“۔( مکتوبات۱۰۰جلد اول)
سوال کا دوسرا حصہ یہ ہے:۔
ایسے عقائد کے حامی صوفیاءکی حمایت کیوں کی جاتی ہے؟
جہاں تک ابن عربیؒ کی حمایت کی بات تو اس صف میں بڑے بڑے لوگ نظر آتے ہیں ، اور س کی حمایت کی وجہ یہ ہے کہ ہر شخص اپنے علم وفکر کی نظر سے دیکھتا ہے۔کیلانی صاحب کو چاہے تھا کہ وہ یہ سوال صوفیاء سے پوچھنے کے بجائے پہلے اپنے ہم مسلک علماء سے پوچھتے کہ اکابرعلماء اہل حدیث امام ابن عربیؒ کے اتنے دیوانے کیوں تھے؟
مسلک اہل حدیث کے پیشواوموسس شیخ الکل سید نذیر حسین دہلویؒ کی مبارک سوانح میں ملتا ہے:
 سید نذیر حسین دہلویؒ اور عقیدت علامہ ابن عربیؒ:۔
 حضرت سید نذیر حسین دہلوی ؒ صوفیاءعظام سے بے حد عقیدت ومحبت اور احترام کیا کرتے تھے۔خاص الخاص شیخ اکبرعلامہ ابن عربیؒ سے تو بہت زیادہ عقیدت تھی۔مولانا بہاریؒ لکھتے ہیں:۔
 ”طبقہ علماءاکرام میں شیخ محی الدین ابن عربیؒ کی بڑی تعظیم کرتے ،اور خاتم الولایہ المحمدیہ فرماتے۔اور بات بھی یہی ہے کہ علم ظاہر وباطن کی ایسی جامعیت ندرت سے خالی نہیں ہے۔مولانا قاضی بشیر الدین قنوج علیہ الرحمہ جو شیخ اکبر کے سخت مخالف تھے۔ایک مرتبہ دہلی سے اس غرض تشریف لائے کہ انکے بارے میں میاں صاحبؒ سے مناظرہ کریں ،اور دو مہنے دہلی میں رہے،اور روزانہ مجلس مناظرہ گرم رہی،مگر میاں صاحب اپنی عقیدت سابقہ سے جو شیخ اکبر ؒ کی نسبت رکھتے تھے،ایک تل کے برابربھی پیچھے نہ ہٹے،آخرممدوح جن کو میاں صاحب ؒ سے کمال عقیدت تھی،دومہینے کے بعد واپس تشریف لے گئے ۔
مولانا مغفور اکثر طلباءکو کتب درسیہ پڑھا کر حدیث پڑھنے کے لئے دہلی بھیج دیتے ، چنانچہ پیشتر شاگرد مولانا مغفور کے میاں صاحبؒ کے بھی شاگرد ہیں۔مگر چونکہ ان لوگوں کے خیالات شیخ اکبر کی طرف سے مولانا مغفور کے سنیچے ہوئے تھے،ان میں بہت کم ایسے تھے جو شیخ اکبر کے ساتھ حسن ظن رکھتے ہوں۔مولانا ابوالطیب محمد شمس الحق (جو مولانا مغفور کے تلمیذ خاص اور میاں صاحب ؒ کے شاگرد رشید ہیں)نے بھی میاں صاحب ؒ سے کئی دن متواتر شیخ اکبر کی نسبت بحث کی ،اور فصوص الحکم شیخ اکبر پر اعتراض جمائے۔میاں صاحب نے پہلے سمجھایا ،مگر جب دیکھا کہ ابھی لا تسلم ہی کے کو چہ میں یہ ہیں تو فرمایاکہ:۔
” فتوحات مکیہ“ آخری تصنیف شیخ اکبر کی ہے ،اور اسی لیے اپنی سب تصانیف ما سبق کی یہ ناسخ ہے“
اس جملہ پر یہ بھی سمجھ گئے(الحیات بعد الممات ص ۳۲۱،۴۲۱)
مولانا ابرہیم میر سیالکوٹی اور عقیدت ابن عربیؒ:۔
مولانا محمد ابرہیم میر سیالکوٹیؒ صوفیاءعظام سے بے حد محبت اور عقیدت و احترام رکھتے تھے،اور صوفیاءعظام ؒ کے طریق کو دنیا وآخرت کی کامیابی کا ذریعہ جانتے تھے، ”تاریخ اہل حدیث “ میں آپؒ نے علم وعمل بالحدیث ہندوستان کے تحت جن علما ء کا تذکرہ فرمایا ،وہاں آپ ؒ نے حضرات محدثین ؒ کے تعلق تصوف و احسان کو بھی کھل کر بیان فرمایا۔
آپ اپنی مایہ ناز تفسیر ام لقرآن واضح البیان میں فرماتے ہیں:۔
”جن پر اللہ تعالیٰ کی باطنی و روحانی نعمتیں ہوئیں اور وہی اس قابل ہیں کہ اللہ تک پہنچنے کےلئے انکی راہ اختیار کی جائے،اور وہی اس لائق ہیں کہ انکی اقتداءکی جائے“۔(ص)
ابن عربی رحمہ اللہ سے عقیدت اور وحدت الوجود:۔
آپ کواپنے استاد شیخ الکل سید نذیرحسین دہلویؒ کی طرح شیخ ابن عربی ؒ سے بڑی عقیدت و مواظبت تھی،آپ نے اپنی تصنیفات میں مختلف مقامات پر ابن عربیؒ کی کتب سے خوب استفادہ کیا،اور بڑی عقیدت ومحبت سے ” حضرت شیخ اکبر رحمہ اللہ“ کے لقب سے یاد فرماتے ہیں ۔آپ وحدت الوجود کے بھی قائل تھے
 ”مولانا ثناءاللہ امرتسریؒ فرماتے ہیں کہ ہم نے مولانا ابرہیم میر سیالکوٹی ؒ سے سلسلہ وحدۃ الوجود کے متعلق دریافت کیاتھا۔وحدت الوجود کے سواہ چارہ نہیں“۔(فتاوی ثنائیہ جلد اول)
یہ ذہن میں رہے کہ وحدۃ الوجود سے مراد یہ ہر گز نہیں ہے کہ ہر شئے ہی خدا ہے ،یہ جہلاءکا نظریہ ہے۔
نواب صدیق حسن خان اور مسئلہ وحدت الوجود:
نواب صدیق حسن خانؒخطیرۃالقدس میں اس موضوع پر تفصیلی بحث فرمائی ہے اس اختلاف کے متعلق فرماتے ہیں:۔
”ہم لوگ چونکہ ان اختلافات کے بعد پیدا ہوئے ہیں اس لئے ہم کو طرفین میں سے کسی ایک طرف جزماًمیلان نہیں ہو سکتا ۔مذہب وحدت الوجود اور مذہب وحدت شہود دونوں پر اگر نظر ڈالی جائے تو جسطرح ایک جانب بہت سے دلائل ہیں اسی طرح دوسری طرف بھی بہت سی دلیلیں ہیں ہم پر اعتقادً لازم ہے کہ ہم کسی جانب بھی ضلالت اور گمراہی کا خیال دل میں نہ لائیں کیونکہ اس میں بہت سے علماءاکرام اور مشائخ عظام کی تضلیل و تکفیر لازم آتی ہے،وحدت الوجود کے اثبات یا ابطال میں لب کشائی نہ کرنی چاہئے اگر خود ذی فہم ہے تو
 اپنی فہم پر قناعت کرے اور اگر وہ نہیں سمجھتا تو ان اقوال کو انکے قائلین پر چھوڑ دے “۔
مزید فرماتے ہیں:۔
وحدت الوجود وشہودجس سے مراد ہستی حق اور نیستی کو زمانہ حال و استقبال میں پیش نطر رکھاجائے تو یہ امر شرع کے اصل مقصد کے منافی نہیں ہے البتہ جو اختلاف اقوال و احوال اور اسکے شرح و بسط میں پیدا ہو گئے ہیں ۔کچھ شک نہیں کہ وہ شریعت سے کسی قدر بعد رکھتے ہیں اور ایک عالم کی گمراہی کا سبسب بن گئے۔اگر یہ خدشہ مانع نہ ہوتا تو میں اس مسلئہ وحدت الوجود کو متکلمین کے ہفوات چھوڑ کر محدثین کے اقوال و اشارات اور دلائل عقلی و نقلی سے اس طرح ثابت کرتا کہ علماءظاہری میں سے بھی کسی کو اس سے انکار نہ ہوتااور وہ اسکے خلاف میں لب کشائی نہ کر سکتا مگر کیا کیا جائے مصیبت تو یہ ہے کہ جوارباب علم ہیں انکو تفنن عبارات کی طرف توجہ رہتی ہے نہ معانی کی طرف ورنہ اگر حقیقتاً دیکھا جائے تو اس میں مابہ النزاع بات نہیں ہے،ع الا کل ۔اخل اللہ باطل اس سے بڑھ کر نادانی کیا ہو سکتی ہے کہ آدمی ہر مرتبہ اور ہر حال میں احکام وجود کا منکر اور ہمہ اوست کے معانی نعوذ باللہ شریعت سے آزاد ہونا سمجھے۔(تفصیل دیکھئے خطیرۃ القدس و مآثر صدیقی حصہ چہارم)
ابن عربی ؒ مولانا ثناء اللہ امرتسری کی نظر میں:
مولانا ثناء اللہ امرتسری ؒ سےجب پوچھا گیا کہ اکثر علماء اورصوفیاء اکرام ابن عربی ؒکو مقدس بزرگ مانتے ہیں اور بعض علماء انکو مسلئہ وحدت الوجود کا قائل ہونے کی وجہ سے کافروالحاد کی طرف منسوب کر کے دائرہ اسلام سے خارج فرماتے ہیںان کے متعلق آپ کا کیا خیال ہےاور مسلمانوں کیا گمان رکھنا چاہئے؟
جواب:شیخ ابن عربی کو کافرقرار دینے والا مسئلہ بہت نازک ہےمولانا نواب صاحب(نواب صدیق حسن خانؒ)بھوپال اپنی کتاب تکثار میں علامہ شوکانی سے نقل کرتے ہیںکہ میں نے چالیس سال تک شیخ ابن عربی کی تکفیر کی آخر میں میری رائے غلط معلوم ہوئی تو میں نے رجوع کیا،نواب صاحبؒ شیخ ابن عربی کوعزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اورمولانا سید نذیر  حسین المعروف حضرت میاں صاحب دہلویؒ شیخ ابن عربی کو شیخ اکبرلکھتے ہیںحضرت مجدد سرہندی بھی شیخ موصوف کومقربان الٰہی سے لکھتے ہیںاس لئے خاکسار کی ناقص رائے میں بھی شیخ موصوف قابل عزت لوگوں میں ہیں۔(فتاوی ثنائیہ جلد 1صفحہ 332)
یہ تمام حضرات مسلک اہل حدیث کی مستند شخصیات میں سے ہیں ،طوالت کے خوف سے ان ہی حوالہ جات پر اکتفاءکرتا ہوں ورنہ صوفیاءاہل حدیث کے اس مسلئہ پر مزید حوالہ جات بھی میرے علم میں ہیں ۔
یہ رائے اب صاحب علم لوگوں کی ہے ،اب کیلانی جیسا شخص جو نہ ظاہری علوم میں کامل اور نہ علوم باطنی کو جانتاہے ایسے شخص کی کیا حثیت کہ معارف سلوک میں گفتگو کریں اور اہل اللہ پر جرح کریں علم سلوک کے متعلق مناظر اسلام ابولوفا مولانا ثنا ءاللہ امرتسریؒ جیسا اہل حدیث عالم یہ کہنے پر مجبور ہے
راہ اعتدال مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ
”اس مسئلہ کی غلط فہمی سے کہ شریعت کو طریقت سے کیا نسبت اورر تعلق ہے مسلمانوں میں سخت افراط وتفریط ہو رہی ہے بعض بلکہ اکثر جہّال تو اس بہانے سے کہ شریعت ظاہر ہے اور ظاہر بینوں کے لئے ہے تمام احکام شریعت کو جواب دے بیٹھےہیں ،شریعت مطہرہ کے کسی حکم کا ادب انکے دل میں نہیں ہے حتی کہ نماز روزہ کو بھی جو نشان اسلام سمجھے جاتےہیں،یہ نالائق ٹٹی کی آڑ میں شکار کھیلنے والے صاف صاف لفظوں میں جواب دیتے ہیں،اور کھلے منہ بغیر مطلب سمجھنے کے ایسے راگ الاپتے ہیں ؟
                نہ رکھ روزہ نہ مر بھوکا نہ جا مسجد نہ دے سجدہ                  
                   وضو  کا توڑ  دے کوزہ شراب شوق پیتا جا  
ایسے ہی جاہلوں کے زغم اٹھا کر بعض اہل شریعت،طریقت اور تصوف سے منکر ہو جاتے ہیں،اور یہ سمجھتے ہیں کہ یہی نماز یں جو ہم سیدھی ٹیڑی پڑھتے ہیں، بس یہی اصل اسلام ہیں،یہی پیغمبر اسلام علیہ السلام کی تعلیم کا خلاصہ اور اصل ہیں مگر بغور دیکھیں تو دونوں کی رائے غلط۔ گو پہلے فریق کی تو اغلط بلکہ کفر تک پہونچتی ہیں۔اس لئے میں نے چاہا کہ اس رسالہ میں شریعت وطریقت کی نسبت اور تعلق بتلاوں ،جو پیغمبر علیہ السلام نے ان دونوں کو بتلایا ہے۔مگر مشکل یہ ہے کہ طریقت اور تصوف بیان مشکل ہے جسکی بابت کہا جاتاہے کہ
                             فنّ التصوّف ما ادقّ   بتحیر فیہ الام الرازی                                      
” یعنی تصوف کافن ایسا باریک ہے کہ امام رازی ؒ جیسی فاضل اجل اور باریک بین بھی اس میں حیران و سرگردان ہیں“
پھر مجھ جیسے کج مج زبان سے کیونکر اسکا مطلب ادا ہو سکے۔مگر چونکہ اس مسئلہ کو بزرگانِ دین اور اکابرانِ ملّت قویم علماءکرام و صوفیاءعظام رضی اللہ عنہم نے جو شریعت اور طریقت کے مسلّمہ امام ہیں واضح طور سے بیان کیا ہوا ہے ،لہذا انہی کی کتابوں سے نقل کر کے مسئلہ ہذا کی توضیح کر تا ہوں۔الفضل اللمتقدم“۔(مولانا ثناءاللہ امرتسری، رسالہ شریعت اور طریقت ص 1۔2 ،مطبع اہلحدیث امرتسر اشاعت 30 دسمبر 1909ء)
کیلانی صاحب کی کتاب انتہائی سطحی نوعیت کی ہےافسوس ہے کہ مجھے تلاش وبیسار سے بھی کوئی ایسی بات نہ مل سکی جس کا جواب دینا ضروری ہوکیونکہ مولانا صاحب اصل اور نقل میں فرق کرنے سے محروم تھے ۔یہاں پر میں نے فقط ایک سوال کا جواب دیا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ قارہین پر اس کتاب کی حقیقت واضح ہو جائے
میری احباب سے گذارش ہے کہ اگر کسی سوال کو اہم سمجھتے ہیں تو اسکو پیش کریں ان شاءاللہ اس کا جواب دیا جائے گا ،میں نہیں چاہتا ہے کہ وقت کو ان فضول باتوں میں ضائع نہ کروں۔

ابن محمد جی قریشی
ibne_m.jee@hotmail.com
http//knooz-e-dil.blogspot.com
fcbook:qureshiaqeel/5940
WhatsAPP:0331-9110527