Jul 1, 2017

مسئلہ اعانت واستعانت

0 comments
مسئلہ اعانت واستعانت
برصغیرپاک وہندمیںمسلمانوں کے درمیان جو اختلاف پائے جاتے ہیں ان میں ایک بڑا شدید اختلافی مسئلہ غیر اللہ سے غائبانہ اعانت واستعانت کا ہے۔ہمارے پاس الحمد للہ اس مسئلہ کے حل کے لئے دونوںطرح کے دلائل موجود ہے جہاں تک ظاہری علوم کا تعلق ہے۔تو یہ مسئلہ قرآن و حدیث میں بالکل واضح ہے۔دوسری دلیل اہل ذوق کے لئے کہ وہ آئے خود محنت کرے ، خود ولی بنےاللہ کرے گاانشاء اللہ تو ان پر حقائق واضح ہو جائیں گے۔اسے معلوم ہو جائے گا کہ حقیقت میں فیض کسے کہتے ہیں؟تصرف فی اولیاء کی حقیقت کیا ہے؟
ہمارےہاںایک طبقہ نےتوکشف ومشاہدات کاانکارکردیاہےاوردوسرے طبقے نے اولیاء اللہ کو مشکل کشا مان لیا ہے ان کا خیال ہے کہ جو چاہئں وہ کر سکتے ہیں اصل میں یہ مسئلہ بین بین ہے۔
اولیاء اللہ کو کشف ومشاہدہ ہ اور تصرف بھی ہوتا ہے اس میں کچھ شک نہیں۔حضرت سلیمان علیہ السلام کے صحابی کا واقعہ قرآن میں ہے۔قَالَ يٰٓاَيُّهَا الْمَلَؤُا اَيُّكُمْ يَاْتِيْنِيْ بِعَرْشِهَا قَبْلَ اَنْ يَّاْتُوْنِيْ مُسْلِمِيْنَ ( 38) قَالَ عِفْرِيْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِيْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَ  ۚ وَاِنِّىْ عَلَيْهِ لَقَوِيٌّ اَمِيْنٌ)39)قَالَ الَّذِيْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ اَنَا اٰتِيْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ يَّرْتَدَّ اِلَيْكَ طَرْفُكَ  ۭ فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ قَالَ ھٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّيْ   ڷ لِيَبْلُوَنِيْٓ ءَاَشْكُرُ اَمْ اَكْفُر ُ  ۭ وَمَنْ شَكَرَ فَاِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ  ۚ وَمَنْ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّيْ غَنِيٌّ كَرِيْمٌ   ( 40؀ ) 
سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے سردارو ! تم میں کوئی ایسا ہے کہ ان کے فرمانبردار ہو کر آنے سے پہلے اس (ملکہ) کا تخت میرے پاس لے آئے( 38)تو ایک قوی ہیکل جن نے عرض کیا کہ میں پہلے اس کے آپ اجلاس سے اٹھیں آپ کی خدمت میں پیش کردوں گا اور بیشک میں بہت طاقتور بھی ہوں اسے لاسکتا ہوں (اور) امانتدار بھی ہوں(39) جس کے پاس کتاب (الٰہی) کا علم تھا اس نے کہا میں آپ کی آنکھ جھپکنے سے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کیے دیتا ہوں۔ پس جب انہوں نے اس (تخت) کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا تو فرمایا یہ میرے پروردگار کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے کہ میں شکر ادا کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں۔ اور جو شخص شکر ادا کرتا ہے تو وہ اپنے ہی نفع کے لئے کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو یقینا میرا پروردگار بےنیاز (اور) کرم کرنے والا ہے(40) (اکرام التراجم)
صاحب اسرار التنزیل ان آیات کی تفسیر میں”کتاب اللہ “کی تفسیر میںلکھتے ہیں کہ:
 ”کتاب اللہ کا علم کیا ہےحق یہ کہ کتاب محض الفاظ ومعانی ہی نہیں ہوتےبلکہ ہر لفظ میں انوارات و تجلیات اور کیفیات ہوتی ہیںجو سب نبی کے دل پر وارد ہوتی ہیںاور اس کی حقیقت متبعین کو سینہ بسینہ نصیب ہوتی ہیں انہی کیفیات کے حامل ولی اللہ کہلاتے ہیں اور ایسے علماء ہی انبیاء کے وارث ہوتے ہیں ورنہ محض الفاظ و معانی سے کھیلنے والے عموماً کتاب اللہ کو بھی ذریعہ معاش بنا پاتے ہیں اور بس۔ان کیفیات کے حامل لوگوں میںتصرف کی قوت بھی حسب استعداد ہوتی ہےجس کا اظہاربھی مختلف مواقع پر ہوتا رہتا ہے ۔ قلبی طور پر اس کی تحقیق جو حضرت  کے حکم پر کی گئی تھی یہ سمجھ آئی تھی کہ اس شخص نے جو آپ کا صحابی اور درباری تھااور مفسرین جس کا نام اآصف بن برخیا لکھا ہےاپنے قلب کے انوارات تخت پر القا ء فرما کرایک بار اللہ کہاتو تخت سامنے پڑا تھا“۔ 
مگر یہاں پر جو خاص بات جاننے اور سمجھنے والی ہےوہ یہ ہے کہ اس طرح کے روحانی تصرف کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ اولیاء اللہ جب جو اور جیسے چاہے کشفاً دیکھتے رہےاور تصرف کرتے رہے،ایسا ممکن نہیں ۔یہ قوت صرف اللہ کی ہے کہ وہ جو چاہےاور جیسے چاہےکر سکتا ہے۔ہوتا یہ ہے کہ جب اللہ چاہتا ہےدنیا دار السبب ہےاللہ بطور سبب اپنے محبوب بندے کے دل میںبات ڈال دیتا اور جوں ہی وہ توجہ کرتا ہے کام ہو جاتا ہے اور اسے کرامت کہتے ہیںاور بعض کرامت خود صاحب کرامت کو بھی حیران کر دیتی ہے۔
قرآن مجید میں حضرت ابراہیم ؈کا ذکر مبار ک موجود ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کے اولولعزم نبی تھے اللہ نے ان کے سامنے کائنات منکشف کر دی وَكَذٰلِكَ نُرِيْٓ اِبْرٰهِيْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلِيَكُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِيْنَ(سورۃ الانعام:75)مگر وہی ابراہیم علیہ السلام ہیںوَلَقَدْ جَاۗءَتْ رُسُلُنَآ اِبْرٰهِيْمَ بِالْبُشْرٰي قَالُوْا سَلٰمًا  ۭ قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَاۗءَ بِعِجْلٍ حَنِيْذٍ  (سورۃھود 69؀)
”صاحب اسرار التنزیل فرماتے ہیںاس آیت سے یہ عقدہ بھی کھلا کہ انبیاء اپنے علم کی وسعت کے باوجود ہر آن اللہ کے دربار میں ہی امیدوار کرم رہتے ہیں اور وہی جانتے ہیں جو وہ بتاتا ہے کہ فرشتے تھے انھوں نے کھانا تو نہ کھانا تھا مگر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پہچان نہ سکے اور انسان سمجھ کر تو اضع کی لیکن جب انھوں نے کھانے کی طرف ہاتھ نہ بڑھایا تو آپ گھبراگئے کہ عرب اور فلسطین کا دستور تھا کہ دشمن کا کھانا نہ کھاتے تھے آپ نے سمجھا کہ شاید کوئی دشمن ہوں مگر فرشتوں نے عرض کیا کہ ہم تو اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں اور اللہ نے قوم لوط کو تباہ کرنے کے لئے بھیجا ہے تو ان کی بیوی ہنس دیں۔ غالباً اسی بات سے کہ کس قدر جلدی فرمائی بچھڑا ذبح کیا مجھ سے پکوایا اور اب پتہ چلا کہ یہ تو فرشتے ہیں انھیں کھانے پینے سے غرض نہیں ۔(تفسیر اسرار التنزیل)
اب یہ اللہ کی شان ہے کہاں پوری کائنات کا منکشف ہونا اور کہاں فرشتوں کو انسان سمجھ کر ان کے آگے تلا ہو ابچھڑا رکھ دینا۔اسی طرح حکم دیافَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْیَ قَالَ یَا بُنَیَّ إِنِّی أَرٰی فِی الْمَنَامِ أَنِّی أَذْبَحُکَ فَانْظُرْ مَاذَا تَرَیجب وہ ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ دوڑنے کی عمر کو پہنچے تو اُنہوں نے فرمایا: اے پیارے بیٹے! میں خواب میںدیکھتاہوں کہ تمہیں ذبح کررہاہوں۔ بتاؤ! تمہاری کیا رائے ہے ؟(سورۃ الصافات۔102)یَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِیْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِینَ .اے میرے والد بزرگوار!آپ کو جو حکم دیاجارہاہے اس کو پورا کرگزرئیے، اگر اللہ نےچاہاتو یقینا آپ مجھے صبرکرنے والوںمیں پائیں گے۔(سورۃ الصافات۔102)
جب انہیں حکم دیا کہ بیٹے کو میرے سامنے ذبح کرو تو آخر تک نہیں بتایا کہ تیرے بیٹے کو بچا لوں گا۔بسم اﷲ، اﷲ اکبر چھری چلا دی خون بہہ نکلاجسم تڑپ کرٹھنڈا ہو گیا اور ابھی تک حضرت ابراھیم علیہ السلام سمجھ رہے ہیں کہ میں نے اسمٰعیل علیہ السلام کو ذبح کر دیا ۔ آنکھوں سے پٹی ہٹائی تو حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کھڑے مسکرا رہے ہیں او ر دنبہ ذبہ ہوا پڑا ہے۔گھبرا گئے میں نے اسمٰعیل علیہ السلام کو ذبح کرنا تھاکیا میری قربانی ضائع گئی؟ فوراً اﷲ کی طرف سے یہ وحی آئی فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِینِ . وَنَادَیْنَاهُ أَنْ یَا إِبْرَاهِیمُ ،قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْیَا إِنَّا کَذَلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِینَ جب وہ دونوں نے حکمِ الہی کو تسلیم کیا اور والد نےلخت جگر کو پیشانی کے بل لٹادیا اور ذبح کرنے لگے توہم نے انہیں ندا دی کہ اے ابراہیم ! واقعی آپ نے خواب سچا کردکھایا‘ بے شک ہم محسنوں کو ایساہی بدلہ دیتے ہیں ۔ (سورۃ الصافات ۔ 104) 
اللہ کا امتحان تھا اگر پہلے بتا دیا جاتا تو امتحان نہ ہوتا ورنہ اس طرح تو کسی کے لئے کچھ مشکل نہیں کہ اسے پتہ ہو کہ بچے کے گلے پر چھری پھیرو بچہ ذبح نہیں ہو گا دنبہ ہوگا تو پھر کیا مشکل ہے حضرت ابرہیم نے اپنی طرف اسماعیل کے گلے پر چھری پھیری تھی آگے اللہ کی اپنی مرضی تھی۔
اسی طرح قرآن کریم میں حضرت یوسف کے واقعے میں ملتا ہے کہ حضرت یوسف ؑ نے اپنے بھائیوں کو مصر میں اپنا کرتہ عطاء کیا اورکہاکہ یہ میرے والد کی آنکھوں پر لگانا ان کی بینائی لوٹ آئے گی اور وہ شخص کرتہ لے کر جب مصر سے نکلا کنعان میں بیٹھے ہوئے حضرت یعقوب ؑ نے فرمایا آج مجھے یوسف ؑ کی خوشبو آرہی ہے۔ وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيْرُ قَالَ اَبُوْهُمْ اِنِّىْ لَاَجِدُ رِيْحَ يُوْسُفَ لَوْلَآ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ    94؀جب قافلہ (مصر سے) روانہ ہوا تو ان کے والد فرمانے لگے کہ بیشک مجھے یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو آرہی ہے اگر تم یہ نہ کہو کہ بڑھاپے میں بہکی باتیں کررہا ہوں
لیکن عجیب بات کہ مصر جو کم وبیش آٹھ دن کی مسافت پر تھا وہاں سے خوشبو آنے لگی مگر خود کنعان کے کنویں  
اور قافلے والوں کے پاس سے نہ آئی پھر مصر میں بھی
انھیں برسوں بیت چکے تھے پہلے تو نہ آئی اس کا آسان ساجواب یہ ہے کہ کشف اور مشاہد ہ ازقسم ثمرات ہے جو ہمیشہ وہبی ہوتے ہیں جب اللہ چاہے بتا بھی دے دکھا بھی دے اور جو نہ چاہے نہ بتائے ۔ جب تک اسے منظور تھا نہ یوسف (علیہ السلام) نے اطلاع بھجوائی اور نہ ہوانے خوشبوپہنچائی اور جب اس نے اجازت بخشی تو انھوں نے بھی پیغام روانہ کردیا اور ہوا بھی خوشبولے اڑی۔
  تو ثابت ہوا کہ اللہ کریم اپنے بندوں کو غیب کی خبریں پہنچا تے ہیں  خصوصا انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو اور سب سے زیادہ آقائے نامدار (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غیب پر اطلاع دی گئی جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان کے مطابق تھی مگر یہ علم کسی ذریعے سے پہنچتا ہے کشف الہام القاء وجدان یا پھر انبیاء کو سب سے مضبوط ذریعہ جو نصیب ہوتا ہے وہ وحی الٰہی کا ہے اور نبی کا کشف والہام تو کیا نبی کا خواب بھی وحی ہوتا ہے لیکن یہ سب علم غیب نہیں کہلائے گا علم غیب صرف اللہ کا خاصہ ہےجس میں کوئی بھی دوسرا اس کا شریک نہیں اور آسان لفظوں میں علم غیب کی تعریف یہ ہے کہ بغیر کسی سبب کے حاصل ہو۔ اگر درمیان میں سبب یاواسطہ آگیا تو غیب کی خبر کہلائے گا علم غیب نہ ہوگا اور بغیر واسطے یا کسی ذریعے کے جاننایہ صرف اللہ کریم کا خاصہ ہے۔
یہ چند مثالیں سمجھانے کے لئے قرآن سے بیان کی گئی ہیں ورہمارے ہاں توانتہاء پسندی ہےجہاں یہ عقیدہ رکھنا کہ اولیاء اللہ کچھ تصرف نہیں رکھتے گمراہی ہے اور وہی یہ عقیدہ رکھنا کہ جو وہ چاہئے کر سکتے ہیں تو یہ بھی نری جہالت ہےجو حقیقت وہ عرض کر دی گئی ہے ۔اب یہ اللہ کی مرضی ہے کہ وہ کیا چھپاتا ہے اور کیا منکشف کرتا ہے یہ اسی مالک الملک کہ دست قدرت میں ہے کوئی بندہ کتنا بھی اللہ کاقرب پا جائے ۔بندہ بندہ ہی رہے گا ،خدا نہیں بن سکتا اور اللہ کتنا ہی قریب کیوں نہ ہو اللہ اللہ ہے۔ 
ہمارے ہاں مسلک و شخصیت پرستی اور پھر علماء سو اپنے مفاد کے لئے لوگوں کو حقائق بتانے کے بچائے الٹا گمراہ کر رہے ہیں۔کہیں تو حید کے نام پر اولیاء اللہ کی توہین کی جاتی ہے اور کہیں اولیاء اللہ کی محبت میںانھیں مشکل کشا اور حاجت رواں سمجھا جاتا ہے۔
راقم الحروف نے ایک سفر کے دوران  حافظ غلام قادریحفظہ اللہ تعالی سے اس مسئلہ کے متعلق استفسار کیا تو درج بالا تقریر کے بعد آپ نے مجھے ایک واقعہ بھی سنایا کہ:   
”1971ء کی جنگ میں ہماراکیمپ گجرات کے علاقہ میں تھا ،جس کی پوزیشن جنگی حالات کے پیش نظربدلتی رہتی تھی ۔گجرات شہر میں بھی ہمارا آنا جانا لگا رہتا تھا۔گجرات سے متصل علاقہ مہمداں میں ایک بزرگ( سائیں کرم الٰہیؒ) عرف کاواںوالی سرکارکامدفن ہے۔ایک دن ذاکرین ساتھیوںکے ہمراہ سائیں کرم الٰہی کے مزار پر جانے کا اتفاق ہوا۔میرے ہمراہ رشید احمد بھی تھا۔رشید احمد سمندری کا رہنے والا تھا ۔کیمپ ایریا میں ہی اس نے میری دعوت پر ذکرکرناشروع کیا تھا۔رشیداحمدکواللہ تعالیٰ نےبہت تیز قوت بصیرت عطا فرمائی تھی۔میں مزار پر پہنچ کر ابھی وضو ہی کر رہا تھا کہ رشیداحمد آئےاور مجھے کہنے لگے صاحب قبر فرما رہے ہیں کہ حافظ غلام قادری کو کہو کہ وہ جلدی آئے ۔وضو سے فارغ ہو کرہم نے مزار پر جا کر ذکر شروع کیا۔
کشفاً یہ معلوم ہوا کہ انہوں نے فقیرانہ سے لباس (ایک پاجامعہ ،کرتا) میں زندگی بسر کی ہے، انہوں نے فرمایا کہ میںشاہ دولہؒ کے بعد آیا ہوں اور کچھ عرصہ ان کے مزار پر بھی رہا ہوں۔ اسی اثناء میں ایک ٹانگہ آکر رکا اس سے ایک عورت اتری اور اس نے قبر کے پتھر کو پکڑ کر زور زور سے روناچیخناشروع کر دیااور ساتھ یہ دوہائی بھی دے رہی تھی کہ میں سالم(سپیشل )ٹانگہ کرکے ہائی ہوں۔ سائیں کاواں والیاں میری مشکلیں آسان کر دے،مجھے آنکھیں عطا کراور مزید بھی کچھ اس طرح مانگ رہی تھی۔ اس دوران مشاہدہ میں یہ آرہا تھا کہ صاحب قبر اس کی طرف کچھ توجہ نہیں کر رہے تھے بلکہ وہ ہماری طرف متوجہ ہیں ۔میں نے رشید احمد کو کہا کہ صاحب قبرسے عرض کرو کہ آپ اس عورت کی طرف بھی توجہ کریں۔انہوں نے جواباً فرمایامیں اس کے لئے کیا کر سکتا ہوں،ہم نے عرض کیا دعا تو کرسکتے ہیں مگر انہوں نے دعا بھی نہ کی ۔ پھر میں نے رشید احمد سے کہا کہ ان سے عرض کرو کہ اس عورت کے ایمان کے لئے دعا کریںتو پھر انہوں دعا کر دی ۔
پھر وہ فرمانے لگے کہ حافظ غلام قادری کو اس علاقہ میں اتنے عرصہ سے دیکھ رہا ہوں مگر یہ بڑے عرصہ بعد میرے پاس آئے ہیں۔رشید احمد نے عرض کیا کہ آپ کو یہ کیسے پتہ چل گیا۔انہوں نے فرمایا کہ تم لوگ جہاں بھی ذکر کرتے ہو ہمیں پتہ چل جاتا ہے جس طرح گپ اندھیرا ہواور اس میں دیا سلائی بھی جلائی جائے تو بڑے دور سےروشنی نظر آتی ہے اسی طرح آپ لوگ ہمیں دنیا میں نظر آتے ہو ۔آخر میں ہم نے عرض کی کہ جب ہم ذکر کرتے ہیں تو آپ توجہ کیا کریں۔ انہوں نے فرمایا یہ کہنے کی ضرورت نہیں ایک میں نہیں بلکہ آپ جہاں ذکر کریںگے وہاں کے تمام صوفیاء خود بخودمتوجہ ہوجاتے ہیں کیونکہ ہم نے خود زندگی میں یہ محنت کی ہے اور یہی ذکر کرنے والے لوگ ہمیں اچھے لگتے ہیں۔
حافظ غلام قادری فرماتے ہیںکراچی کے ہی ایک دورہ موقع پرمیں نے حضرت مولانا اللہ یار خان سے پوچھا کہ حضرت ہماری یونٹ کے خطیب صاحب مشکل وقت کے لئے ایک دعا بتاتے ہیں کہواَعِینُوني یَا عِبَاد اللہ، اے اللہ کہ نیک بندو میری مدد کرو۔آپؒ نے فرمایایو ں کیو ں نہ کہو اَعِینُوني یَا اللہ،اے اللہ میری مدد فرما۔
(یہ  ایک موضو ع احادیث ہے اس پر ذرا تفصیل سے کلام کرنا ہے)
اصل بات یہ ہے کہ اولیاءاللہ تو عالم برزخ میں اپنے مقام پر تشریف فرما ہوتے ہیںجس مقام کے لئے انھوں نے دن رات محنت کی ،دنیا کی لذّات کو چھوڑا ،انھیں برزخ میں بارگاہ نبویﷺ کی حاضری نصیب ہوتی ہے۔اب کہاں بارگاہ نبوی ﷺ کی حاضری اور آخرت کی عظیم نعمتیں اور کہاں یہ دنیاوی لتھیڑے،انھیں اس بات سے کیا غرض کہ کون ان کی قبر پر آ رہا ہے اور کیا مانگ رہا ہے؟۔ہاں اگر روحانی رابطہ ہو کشف قبور ہو تو دعا کے لئے عرض کی جا سکتی ہے ،مگر یہ بھی ان کی مرضی کہ دعا کریں یا نہ کریںکیونکہ وہ اس بات کے مکلف نہیں۔
حضرت علی ہجویری کی قبر پر ہمارے ایک ساتھی گئےداتا گنج بخش ؒ سے روحانی کلام نصیب ہوا تو عرض کیا حضرت ساری زندگی جس کام سے آپ لوگوں کو منع کرتے رہے آج وہ تمام بدعات وخرافات آپ کی قبرپرہو رہی ہیں انہوں نے فرمایا جب تک ہم دنیا میں تھے ہم مکلف تھے ہم نے لوگوں کو منع کیا اب تم مکلف ہو ،جواب دہ ہو،یعنی انہوں نے شرعی مسئلہ بھی سمجھا دیا۔کہ ہم تو قبر(عالم برزخ)میں ہیں ہم دارالعمل سے دارالاجزاء میں منتقل ہو چکے ہیںتم دنیا میں تمھارا کام لوگوں کو برائی سے روکنا اور اچھائی کی دعوت دینا ہے۔ 
کرامت اور تصرف میں فرق
یہاں تصرف اور کرامت کے متعلق کچھ ضمناًعرض کرتا چلوں کہ تصرف اور کرامت میں ایک باریک فرق یہ بھی ہے کہ تصرف میں صاحب تصرف کا ارادہ شامل ہوتا ہے جبکہ کرامت کے اظہار پرتو بعض اوقات صاحب کرامت بھی حیران رہ جاتا ہے۔دوسرا تصرف اصطلاح میں خیال و نظر کی طاقت استعمال کر کے حیرت انگیز کام صادر کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے جس کے لئے نبی یا ولی بلکہ مسلمان ہونا بھی شرط نہیں۔
تصرف مسمریزم جیسا ایک عمل ہے۔بس اس کو آپ یو ں سمجھ لیں جیسے اسلحہ، مسلمان علاء کلمۃ اللہ کے لئے استعمال کرے گا اور کافر باطل مقاصد کے لئے۔بس تصرف بھی ایک ایسی ہی قوت ہےجسے صوفیاء نیک مقاصد میں بروئے کار لاتے ہیں اور اہل باطل لوگوں کو دھوکا دینے کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔اہل اللہ کےہاں جو تصرف ہوتا ہے اس میں باطنی قوتوں کے علاوہ روحانی قوت بھی شامل ہوتی ہےاس لئے اہل اللہ کے ہاں عموماً ایسے موقعوں پر جدھر توجہ کرتے ہیں معملات کھل جاتے ہیںجیسے مذکورہ بالا واقعہ میں حضرت سلیمان کے درباری صحابی نے اعلی الاعلان کہا کہ میں پلک چھپنے سے پہلے تخت لے کر آسکتا ہوں ۔اسی طرح آپ ﷺ کے امتیوں میں بھی ایسے صاحب قوت اہل اللہ موجود ہوتے ہیں ۔ جو باطل نظریات کا رد بھی روحانی قوت سے کر سکتے ہیں۔
اسی ضمن میںحضرت مولانا اللہ یار خان نوّر اللہ مرقدہ اکثر حضرت امداد اللہ مہاجر مکیؒ کا مشہور واقعہ بیان فرمایا کرتے تھے جس میں اُن کی طرف سے علماء نے پادری فنڈر کو چیلنج کیا تھا کہ اسلام اور عیسائیت کے مابین حقانیت کے ثبوت میں علمی مناظرہ کے بعد عملی مناظرہ بھی ہو گا۔  چونکہ مسلمانوں کا دعویٰ ہے کہ اسلام ہی تمام انبیاءعلیہم السلام کا دین ہے اور اس طرح وہ حضرت عیسیٰ کے حقیقی وارث ہیں، اس لئے وہ پادری فنڈر کے ساتھ ایک بوسیدہ قبر پر کھڑے ہو کر قُمْ بِاِذْنِ اللّٰہ کہیں گے اور جس کے کہنے پر مردہ زندہ ہو گیا، وہی حضرت  عیسیٰ کا اصل جانشین ہو گا کیونکہ نبی کا معجزہ مثل ِ کرامت، حقیقی جانشین کو وَرثہ کی صورت میں منتقل ہوتا ہے۔ عیسائی مبلغ خوب جانتا تھا کہ جب اللہ کا ایک ولی اس طرح کا  دعویٰ کر گزرتا ہے، اس کے  پیچھے اللہ کا ہاتھ ہوتا ہے ا ور یقیناً اسی طرح ہو کر رہتا ہے۔ چنانچہ وہ عملی مناظرے کی شرط سے خائف ہو کر مقابلے سے ہی دستبردار ہو گیا۔
اولیاء اللہ کو عالم الغیب ، مشکل کشا اور حاجت رواں سمجھناجہالت وگمراہی ہے۔حقیت تو یہ ہے کہ بریلوی مسلک کے جیدعالم دین علامہ  غلام رسول سعیدی ؒاپنی مایہ ناز تفسیر وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ۔۔۔۔۔کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
”ہمارے زمانہ میں بعض جہلا اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے کے بجائے اپنی حاجتوں کا سوال پیروں ‘ فقیروں سے کرتے ہیں اور قبروں اور آستانوں پر جا کر اپنی حاجات بیان کرتے ہیں اور اولیاء اللہ کی نذر مانتے ہیں ‘ حالانکہ ہر چیز کی دعا اللہ تعالیٰ سے کرنی چاہیے اور اسی کی نذر ماننی چاہیے ‘ کیونکہ دعا اور نذر دونوں عبادت ہیں اور غیر اللہ کی عبادت جائز نہیں ہے ‘ البتہ دعا میں انبیاء کرام اور اولیاء عظام کا وسیلہ پیش کرنا چاہیے۔
اسی طرح علم الغیب کے متعلق خلاصہ بحث یہ فرماتے ہیں
”اس تمام بحث کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو علی حسب المراتب غیب کی خبروں پر مطلع فرمایا ہے لیکن غیب مطلق (یعنی تمام معلومات کا احاطہ کاملہ) یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے اور اسی کو غیب مطلق کا علم ہے ‘ اور غیب کی جن خبروں پر اللہ نے اپنے خواص کو مطلع فرمایا ہے ان کے اعتبار سے ان بندوں کو غیب کا علم ہے ‘ لیکن اس کو علم الغیب کہنا درست نہیں ہے کیونکہ ان کو ایسی صفت حاصل نہیں ہے جس سے ان پر ہر غیب منکشف ہو ‘ یہ علامہ شامی کی بیان کردہ توجہیہ ہے ‘ اور علامہ آلوسی کی توجیہ یہ ہے کہ اگرچہ ان کو بعض غیوبات پر مطلع کیا گیا لیکن ظاہر آیات سے تعارض کی بناء پر یہ کہنا درست نہیں ہے کہ ان کو غیب کا علم ہے ‘ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ ان کو غیب پر مطلع کیا گیا ہے یا ان پر غیب ظاہر کیا گیا ہے ‘ اور امام احمد رضا قادری ؒکی تحقیق ہے کہ مطلقا غلم غیب بولا جائے تو اس سے علم ذاتی مراد ہوتا ہے ‘ اس لیے یہ کہنا جائز نہیں ہے کہ فلاں شخص کو علم غیب ہے ‘ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بعض غیوب کو ظاہر فرمایا ‘ آپ کو بعض غیوب پر مطلع کیا گیا یا آپ کو غیب کی خبریں دی گئیں اور جن علماء اور فقہاء کی عبارات میں مخلوق کی طرف علم غیب کا اسناد کیا گیا ہے ‘ وہاں چونکہ غیب سے مراد غیب مطلق نہیں ہے اس لیے وہ عبارات عقلا جائز ہیں اور کفر وشرک نہیں ہیں لیکن ایسا کہنا شرعا مستحسن نہیں ہے۔(تبیان القرآن ج۱ ص) 

Mar 24, 2017

ahan posh col imam,آہن پوش کرنل امام،جنگ افغان کا اصل ہیرو

0 comments

آہن پوش 


کرنل امام شہیدؒ کا شمار ان مجاہدین میں کیا جاتا ہے جو عہد ساز کہلاتے ہیں ،افغان
جنگ کے اصل ہیرو کرنل امام ہی تھے ، آپ کو جہاد کے یہ جذبے اسلام کی سربلندی کی یہ لگن سلسلہ عالیہ نقشبندیہ اوّیسیہ کے شیخ حضرت العلام مولانا اللہ یارخانؒ اور حضرت امیرمحمد اکرم اعوان کی صحبت سے نصیب ہوئے۔صوفیاء عظام کی روحانی تربیت کا یہ اثر تھا کہ ساری زندگی اللہ کی راہ جہاد کرتے گزار دی 
اورباالآخر خوارج کے ہاتھوں شہید ہو گئے۔



Feb 7, 2017

آپ کس خوشی میں ویلنٹائن ڈے مناتے ہیں؟الشیخ المکرم حضرت امیر محمد اکرم اعوان مدظلہ العالیٰ

0 comments
  آپ کس خوشی میں ویلنٹائن ڈے مناتے ہیں؟
الشیخ المکرم حضرت امیر محمد اکرم اعوان مدظلہ العالیٰ:
 بڑی عجیب بات ہے لوگوں کو عشق ہو جاتا ہے اوریہ عشق ہمیشہ جنس مخالف سے ہی ہوتا ہے عشق کے لیے یہ ضروری نہیں کہ جنس مخالف ہو جنس مخالف ہماری ضرورت ہے ہم ضرورتوں کو محبت کا نام دے دیتے ہیں عشق کا نام دے دیتے ہیں یہ ہماری ضرورت ہے اور بعض اوقات یہ ہوتا ہے کہ شادی سے پہلے تو بڑا عشق ہوتا ہے اور چند ہفتے گزرتے ہیں تو نوبت طلاق تک پہنچ جاتی ہے یعنی ایک دوسرے کو صحیح جانتے نہیں ہوتے جب ایک دوسرے پر کھلتے ہیں توکہتے ہیں کہ ہمارا تو گزارا نہیں ہو سکتا یہ کہاں کا عشق ؟عشق ایک کیفیت کانام ہے کہ جب آپ کو احساس ہو کہ کوئی میرا بہت ہی خیال رکھنے والا ہے مجھے خود اپنا اتنا خیال نہیں جتنا میری بہتری چاہنے والا میرا خیال رکھتا ہے اس کے جواب میں جوآپ کو اس ہستی سے محبت ہو گی ایک کیفیت آپ کے دل پر آئے گی آپ اس سے پیار کریں گے اسے اچھا جانیں گے اس کا احترام کریں گے اسی کا نام عشق ہے اور سوائے اﷲ کے کوئی دوسرااس کا مستحق ہی نہیں کہ سب سے زیادہ ہماراخیال وہی رکھتا ہے جو آنکھ کے ایک ایک ذرے، باڈی کے ایک ایک سیل کی نشو نما کررہا ہے ہم اسے مانیں یا نہ مانیں، ہم جانیں یانا جانیں وہ چلا رہا ہے پھر عشق ہے اس ذات کے ساتھ جس نے ہمیں اﷲ سے آشنا کردیااگر درمیان میں وہ ذات نہ ہو تو ہم اپنی سوچ ، اپنی فکر سے اﷲ تک نہیں پہنچ سکتے تو عشق وہ ہے جو آپ کو اپنے نبی ﷺ سے ہو گا جس نے آپ کی ہرضرورت کی خوبصورت راہ متعین کردی اگر آپ ان راہوں پرچلیں تو اس دنیا میں بھی آپ معزز و معتبراور آخرت میں بھی آپ معزز اور معتبر اور اﷲ کی بارگاہ میں سرخرو انسانوں کااتنا زیادہ بھلا چاہنے والاکون ہے ؟ لوگوں نے پتھر برسائے ،تلواریں چلائیں، جنگیں کیں، مخالفت کی لیکن اس ہستی نے ان کا بھی بھلا چاہا اﷲ نے فرشتوں کو فرمایا کہ میرے نبیﷺ سے اجازت لے لو اور طائف والوں پر پہاڑ الٹ دوتوآپ ﷺ نے فرمایااے اﷲانہیں تباہ نہ کران کو ہدایت دے اور اگر یہ ہدایت نہیں پائیں گے تو شاید ان کی اولادیں ہدایت پا جائیں پتھر مارنے والوں کی بہتری چاہے حالانکہ خون مبارک  نعلین مبارک میں جم گیا تھا، زخموں سے چور تھے اور اگرکوئی کسی شہر ،کسی گاؤں جاتا ہے اور وہ اس کو پتھر مارنے لگ جائیں تو وہ کتنا صبر کرے گا؟ دل کی کیسی کیفیت ہو گی؟پھر وہ بندہ ان پتھر مارنے والو ں کی بہتری چاہے تو کیسی کریم ذات ہے ؟اگر ہم ان کے کرم سے محروم ہیں تو اس کا مطلب ہے ہم نے رشتہ توڑا ہوا ہے وہ تو ان پر بھی کرم برساتے ہیں جنہوں نے انہیں پتھر برسائے تو اگر یہ نسبتیں پیدا ہو جائیں تو یہ عشق ہے باقی ہماری ضرورتیں ہیں بھائی پیسے سے محبت نہیں ہے پیسہ ہماری ضرورت ہے اقتدار سے محبت نہیں ہے اقتدار ہماری ضرورت ہے ہم خود کو بڑا بنانا چاہتے ہیں جنس مخالف سے محبت نہیں ہے ہماری ضرورت ہے ہاں کسی میں انسانیت ہو تو وہ محض اسے ضرورت نہیں سمجھتا پھر وہ اس کا احترام بھی کرتا ہے جنس مخالف جب ایک دوسرے کے قریب ہو جاتے ہیں تواگر دونوں کے رشتے میں خلوص ہو تودونوں ایک دوسرے کااحترام کرتے ہیںاسے محبت کہتے ہیں لیکن یہ بہت ادنیٰ درجہ ہے محبت کا یہ ضرورتوں کی محبت ہے ہم اولاد سے محبت کرتے ہیں بچوں سے پیار چھوٹے چھوٹے بچے راتوں کو جاگ کر پالتے ہیں کما کر کھلاتے ہیں بڑا ہو کر اگر کمائی نہ کرے نافرمان ہو جائے کہا ں جاتی ہے محبت؟ محبت ہوتی تو ختم نہ ہوتی ضرورت تھی پوری نہیں ہوئی تم ہم ڈسہلٹ ہوگئے توقعات پوری نہیں ہوئیں اس کو ہم نے محبت کا نام دے رکھا ہے کیونکہ یہ دولت سے محبت یا عورت سے محبت یہ ساری خرافات ہیں یہ ضرورتیں ہیں اور ضرورت کہیں سے بھی پوری ہوجاتی ہے کوئی ہمیں پیار سے پانی پلا دے تو ہمیں اس کا شکریہ تو ادا کرنا چاہیے لیکن یہ محبت کا ادنیٰ درجہ ہے اورعشق تو بہت بڑا جذبہ ہے جو میں نہیں سمجھتا کہ رسول ﷺ کے سوا کسی ہستی سے ہو سکتا ہے؟ 
 ملکوں میں آئین و دساتیر بنتے ہیں لیکن خود ان کے ملک میں اس پر عمل نہیں ہوتا کوئی بھی ملک کسی دوسرے ملک کے آئین کو تسلیم ہی نہیں کرتا انہیں وہ فٹ بھی نہیں بیٹھتا اور اس پروہ عمل کر بھی نہیں سکتے ان کے موسم الگ ہوتے ہیں لباس، رہائش وبودوباش الگ ہوتی ہے طریقے الگ ہوتے ہیں لیکن فرمایا  نٓ وَالْقَلَمِ وَمَا یَسْطُرُوْنَ(القلم:۱) یہ زمانہ گواہ ہے اہل علم گواہ ہیں خود قلم گواہ ہے اور تمام وہ باتیں جو قلم سے لکھی گئیں وہ اس بات پر گواہ ہیں کہ یہ آپ ﷺ کا معجزہ عظیم ہے کہ آپ نے ایسا کردیا اور صرف اس وقت کے لیے نہیں تب سے لے کر قیامت تک یہ انقلاب جاری رہے گا تو دو طبقے بن گئے دو جماعتیں بن گئیں دوفریق بن گئے ایک اسلامی نظام کو مٹانے کے درپے ہے دوسرا اسلامی نظام کو زندہ قائم کرنے پر جانیں لٹا رہا ہے یادرکھیں جو لوگ اسلامی نظام کے حق میں ہیں وہ اس بات پر نہیں رہتے کہ حکومت نظام لائے توہم اختیار کریں گے وہ اپنی زندگی پہلے ہی اس نظام کے مطابق ڈھال لیتے ہیں اور حضور ﷺ کی معیت اسی کو نصیب ہو گی جو عقیدے عبادت سے لے کر عمل تک کو سنت کے مطابق ڈھال لے اگر کوئی چاہتا ہے مسلمان ہے کلمہ پڑھتاہے نمازیں پڑھتا ہے اچھی بات ہے زکوٰۃ دیتا ہے اور حج کرتا ہے اچھی بات ہے اﷲ اس کا قبول کرے صدقہ،خیرات کرتا ہے اچھی بات ہے لیکن اپنے روز مرہ کے لین دین، معامالات ،عدالتیں ، سیاست ،نظام تعلیم، معاشی اور معاشرتی نظام میں کہتا ہے یہ میں کافروں جیسے کروں گا انہیں ناراض نہیں کرنا جیسے بھی ہیں ان کے ساتھ دنیا میں رہنا ہے تو ان کو خفا نہیں کرنااسے منافقت کہتے ہیں منافقت کفر کی بدترین قسم ہے اﷲ ہمیں پناہ دے ۔آج کے مسلمان ماسوائے چند خوش نصیب ریاستوں کے ساری حکومتیں اس میں پھنسی ہوئی ہیں کوئی امریکہ کی خوشنودی کے لئے کوئی روس کی رضامندی کے لیے کوئی یورپ کی خوشنودی کے لئے کافرانہ نظامِ معیشت ،کافرانہ نظام عدالت، کافرانہ نظام تعلیم ، کافرانہ لباس ،کافرانہ حلیے، کافرانہ انداز، کافرانہ رسومات اپنائے ہوئے ہیں آپ نے کبھی سوچا۔
الحمد اﷲ میں روئے زمین پر پھرا ہوں اﷲ نے مجھے توفیق دی شلوار قمیض ویسٹ کوٹ اور پگڑی پسند کرتے تھے تعریف کرتے تھے عزت کرتے تھے یہ زرعی کھسے جو ہم پہنتے ہیں یہاںمجھ سے برطانوی اور امریکی نو مسلم لے کر گئے میںنے ایک امریکی سے پوچھا بھئی تم وہ کھسہ لائے تھے اس کا کیا ہوا؟اس نے کہا وہ کھسہ میں نے ڈرائنگ روم میں دیوار سے ٹانگا ہوا ہے یعنی اتنا اسے وہ تحفہ نادر لگا لیکن کبھی آپ نے دیکھا کسی انگریز نے کھسہ پہنا ہوا ہو؟ کبھی دیکھا کسی انگریز نے شلوار قمیض پہنی ہو؟ روئے زمین پر کسی کافر کو دیکھا اس نے شیروانی پہنی ہو؟ تو پھرآپ کس خوشی میں ٹائی تک درست کررہے ہوتے ہیں؟ آپ پتلون کوٹ اور ٹائی لگا کر مونچھ داڑی صاف کرکے اور ٹیڑھے بال کر کے انگریز بننے کی کس خوشی میں کوشش کر رہے ہیں ؟کسی امریکن، کسی یورپین ،کسی خاتون کو دیکھا اس نے برقعہ پہنا ہو، پردہ کیا ہو؟ کوئی اسلامی رسم جس کی وہ تعریف بھی کرتے ہیں ،پسند بھی کرتے ہیں، کسی نے اپنائی؟ کسی کافر ملک نے رمضان کی یا قربانی کی عید منائی ؟ کسی کافر ملک میں عید کے ایک دن پر چھٹی کی گئی؟ تو پھر وہاں جو خرافات ہوتی ہیں وہ آپ کیوں اپنا لیتے ہیں؟ شرم نہیں آتی آپ کس خوشی میں ویلنٹائن ڈے مناتے ہیں؟ آپ کسی خوشی میں اپریل فول مناتے ہیں؟ آپ کسی خوشی میں بلیک فرائی ڈے مناتے ہیں؟ ہفتہ یہودیوں کا متبرک دن تھا اتوار عیسائیوں کا متبرک دن تھا جمعہ مسلمانوں کو متبرک دن کے طور پر عطا ہواہفتے کے دنوں میں سب سے مبارک دن اسے کافروں نے کہہ دیا یہ سیاہ دن ہے اور اس دن یہ یہ کام کرنے ہیں وہی کام اب آپ پاکستان میں کر رہے ہیں ہم مسلمان ہیں؟ مسلمان دنیا سے گزر جاتا ہے تو مسلمان جمع ہو کر اس کی مغفرت کی دعا کرتے ہیں عیسائی، یہودی، کافرمرجاتا ہے تو وہ موم بتیاں جلاتے ہیں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کرتے ہیں ان کے پاس کرنے کو کچھ نہیں آپ بھی اب موم بتیاں جلاتے ہیں اور ایک منٹ کی خاموشی اختیار کرتے ہیں کبھی انہوں نے فاتحہ خوانی کی جس طرح آپ کرتے ہیں؟ کبھی انہوں نے مرنے والے کے لئے دعا کی؟ کبھی انہوں نے مرنے والے کے لیے اپنی کتاب ہی بیٹھ کر پڑھی؟ قرآن نہ پڑھتے یہودیوں اور عیسائیوںکے پاس کتاب ہے تورات و انجیل کبھی انہوں نے انہیں پڑھنے کا اہتمام کیا؟ تو پھر آپ کو شرم نہیں آتی آپ کس خوشی میں ان کے تہوار مناتے ہیں؟ اور کیا یہ اسلام ہے؟ یہ منافقت ہے جو بدترین کفر ہے ۔
مجھے بڑی حیرت ہوئی بے شمار لوگ ،مرد،عورتیں،بچے ،بوڑھے اچھل کود رہے تھے آتش بازی چلائی جا رہی تھی ہمارے زرائع ابلاغ دکھا رہے تھے اور میں سوچ رہا تھا یہ وہ قوم ہے جس کے ہزاروں لوگ اس سال میں بے دردی سے قتل کر دئیے گے سینکڑوں بچے سکول میں تیع تیغ کردیے گئے ،پڑھا لکھاطبقہ وکلا ء تک، امیر ،غریب، بازاروں میں، گھروں میں ،سارا سال آگ اور خون کا کھیل جاری رہا اﷲ کریم نے توفیق دی فوجی جرنیل کو اس نے ہمت کی کتنے فوجی شہید ہوئے ؟کتنے اہل کار پولیس کے ،رینجر کے شہید ہوئے؟ اور شاید ایک بڑے خون کے دریا سے نکل کر ہم اس ۲۰۱۶ سے ۲۰۱۷ تک پہنچے سب کچھ بھول کر لوگ اچھل کود رہے تھے کسی کو احساس نہیں کہ اﷲ کی بارگاہ میں رجوع کریں توبہ کریں گناہوں کی معافی مانگیں آئندہ سال کے لیے عافیت مانگیں چند امراء نے غریبوں کو لوٹ کر کھربوں روپے جمع کر لیے ہیں اس سے آتش بازیاں چلا ئی جارہی ہیں ملی بھگت سے دولتیں جمع کرلیں ہیں اب اس کا اظہار ہورہا ہے آخرت کی فکر کسی کو نہیں ہے خوف خدا نہیں ہے آخرت کی فکر نہیں تو دنیا ہی کی کر لو ذرا بیٹھ کر سوچیں تو سہی لیکن عجیب بات ہے اﷲ پاک شعور دے اور احساس دے و ہ جو علامہ محروم نے کہا تھا ناکہ کارواں کے دل سے احساس ضیاع جاتا رہا قافلے تو لٹتے رہتے ہیں اور پھر بن جاتے ہیں لیکن اگر انہیں یہ احسا س ہوتو کہ ہمارا نقصان ہوا توتلافی کر لیتے ہیں ہماری بدنصیبی یہ ہے کہ ہمارا تو احساس ضیاع بھی رخصت ہو چکا ہے۔


ماخوذ:
 المرشد پروگرام نمبر :  40  
02-01-2017  بیان   
29-11-2016  بیان






































Feb 4, 2017

”عبادان“ صوفیاء کی اوّلین خانقاہ:ابن محمد جی قریشی(اقتباس ،اشاعت حدیث میں صوفیاء برصغیر کا کردار)

0 comments
”عبادان“ صوفیاء کی اوّلین خانقاہ
امام ربیع بن صبیح جس طرح احادیث کے اوّلین مصنفوں میں سے ہیں اسی طرح اللہ نے آپ ؒ کو یہ سعادت بھی بخشی حاملین برکات نبوتﷺ کا اوّلین مرکز عبادان کے مقام پر قائم کیا۔عبادان کی اس اوـلین خانقاہ(رباط)کاایک پہلو یہ تھاکہ یہ اہل زہاد و عباد کا مرکز تھا جہاں پورے عالم اسلام سے اہل زہاد عباد کھنچے چلے آتے تھے۔حضرت بشر بن حارث جیسے صاحب علم وعرفان نے بھی عبادان کا سفر کیا۔دوسرا اس کا پہلو یہ تھا اسلامی شہروں کی طرح آئمہ حدیث اور علمائے دین حدیث کا درس دیتے تھےاور حدیث کے طالب علم اپنے علمی اسفار میں عبادان کا سفر کرتے تھے۔امام احمد بن حنبل   جیسے عظیم المرتبت محدث نے تحصیل حدیث اور برکات نبوت کے لئے عبادان کا سفر اختیار کیا۔ عبادان کاتیسرا پہلویہ تھایہ ایک سرحدی قلعہ تھا۔قاضی اطہر مبارک پوری فرماتے ہیں:
    ” ۱۴هہجری میں بصرہ آباد کیا گیا ۔عبادان بصرہ سے کچھ دوردریائے دجلہ اور دریائے خورستان کے دو آبہ میں واقع ایک معمولی سا گاؤں تھا۔عبادان کا نام عباد بن حصین حبطی کے نام پر رکھا گیاہشام بن کلبی کی روایت کے مطابق عباد بن حصین نے سب سے پہلے خوداس مقام پر مرابطت کی اس کے بعد ربیع بن صبیح نے اہل بصرہ سے چندہ کر کےعبادان کی قلعہ بندی کی اور یہیں رہ کر رضا کارانہ طور پر اسلامی سرحد کی نگرانی کرنے لگے“۔
عبّاد بن حصین حبطی کا تعلق بنو تمیم سے تھا۔ابن زبیر کے عہد حکومت میں بصرہ کے اعلی پولیس آفسر تھے۔آپ کا شمار اپنے عہد کے جری شاہ سہواروں میں کیا جاتا ہے۔خارجیوں سے معرکہ آرائیوں میں عمر بن عبید اللہ بن عمر کی حمایت بنو تمیم کے سردار تھے ۔اس جنگ میں خوب جانفشانیاں دکھائی ۔ امام حسن بصری اور عباد بن حصین قابل کی فتح میںایک ساتھ رہے۔امام حسن بصری نے آپ کی جرات وبہادری کی داد ان الفاظ میں دی ہے:
”جب میں نے عباد بن حصین کے کارناموںکو دیکھا تو مجھے یقینا آیا کہ ایک آدمی ایک ہزار آدمیوں کے قائم مقام کیسے ہو سکتاہے“۔
ابن اشعت نے جب حجاج بن یوسف کے خلاف خروج کیا تو اس وقت آپ بوڑھے ہو چکے تھے۔ابن اشعت کو آپ نے بعض جنگی نوعیت کے مشورے بھی دئیے ۔آپ کےبیٹے جہضم نے ابن اشعت کا ساتھ دیا۔ابن اشعت کو جب شکست ہوئی تو حجاج نے آپ کے بیٹے کو قتل کر دیا اور آپ حجاج کے خوف سے بھاگ کر قابل آگئے جہاں آپ کے دشمنوں نے آپ کو قتل کر دیا(المعارف اردو،ص ۴۲۴/۴۲۵،ابی محمد عبداللہ بن مسلم ابن قتیبہ الدینوری ۲۱۳هھ/۸۲۸ء۔ ۲۷۲هھ/۸۸۹ء۔مترجم پروفیسر علی محسن ،قیرطاس پیبلیشر)
اب سوال یہ ہے کہ عبادان کی بنیادحضرت عباد بن حصین نے کب رکھی تھی تو یقیناً عبادان کی پہلی قلعہ بندی حضرت عبد اللہ بن زبیر؄ کے عہد حکومت اس وقت رکھی گئی جب حضرت عباد، ؒابن زبیر؄ کی طرف سے بصرہ میں پولیس کے اعلی عہدے پر تھے۔کیونکہ آپ کی زندگی کا اکثر حصہ جہاد میں گزرا ہے۔جغرفیائی لحاظ سے بھی عبادان بصرہ کے قریب ہی واقع ہے۔قاضی اطہرمبارک پوری ؒ نے لکھا ہے:
عبادان فوجی ا عتبار سےبہت اہم مقام تھااور دشمن اس کے نواحی علاقےسے عراق پر حملہ کر سکتے تھےاس لئے یہاں مطعوعین اورمرابطین کی جمعیت جو عام طور پرعباد ز ہاد اور علماء و صلحا پر مشتمل ہوتی تھی جس کا کام باغی عناصر،خوارج اور بحری ڈاکوئوں کا مقابلہ کر کے شکست دینا تھا۔(مسلمانوںکی عظمت رفتہ ص۱۵۳)
عبادان کی مزید ترقی اور شہرت دینے والے حضرت ربیع بن صبیع بصری ہندی ہیں ۔حضرت ربیع بن صبیح کی تاریخ پیدائش کا واضح تعین نہ ہو سکا، آلبتہ محسن ہند محقق تاریخ ہندو عرب قاضی اطہر مبارک پوری نے لکھا ہے کہ آپ نے دوسری صدی ہجری کے اوائل میں آنکھ کھولی(ص۱۳۸)اور آپ کی وفات ۱۶۰ ہجری میں ہندوستان میں ہوئی۔تو اس لحاظ سے یہ اندازہ ہوتاہے کہ عبادان کی خانقاہی حثیت (رباط)دوسری صدی ہجری کا وسط دہائی ہو گئی یہیں وہ زمانہ جس میں علم حدیث باقاعدہ علم وفن کی صورت میں سامنے آیا ۔اس سے یہ ثابت ہوا کہ علوم الا حسان اور علوم الحدیث تدوینی لحاظ سے ہم عصر ہیں۔
مرابطت اور رباط اسلامی حربی سیاست میں بہت اہم شعبہ ہےاس کے ذریعہ اسلامی سرحدوں کی حفاظت کی جاتی ہےاور دشمن سے باخبر رہا جاتا ہے ساتھ ہی اندرونی بد امنی کوفرو کیا جاتا ہےجہاد کی طرح ربا ط کے بڑے فضائل ہیںاور اس میں بڑا اجرو ثواب ہےاسی لئے عباد وزہاد اہل اللہ یہ خدمت اپنے ذمہ لیا کرتے تھےاور جستہ للہ دور دراز مقامات پر جا کر ذکر الٰہی کے ساتھ اسلامی سرحدوں کی نگرانی کرتے تھے۔بعد میں مرابطت اور رباط کا تصوربزرگوں کی خانقاہوں میں تبدیل ہو گیا افریقہ میں سنوسیوں کی رباطین اور زاویے ایک حد تک اسی قدیم حقیقت پر مبنی تھے۔جن میں رہ کر عوام کو فرانسیسی جبرو استبداد کے خلاف تیار کرتے تھےمگر عام طور پر اب رباط کا لفظ خانقاہ کے ہم معنی ہو گیا ہے بلکہ سرائوں اور مسافر خانوں پر بھی بولا جانے لگا ہے۔(مسلمانوں کی عظمت رفتہ ص ۱۵۲)
عبادان کے محل وقوع کے متعلق بشاری مقدسی نے تفصیل سے کام لیا ہےجس کا خلاصہ یہ ہے عبادان بصرہ سے کچھ دوردریائے دجلہ اور دریائے خورستان کے دو آبہ میں معمولی شکل میں ایک گاؤں تھاجہاں ساحل سمندرہونے کی وجہ سےآب ہوا مرطوب تھی اور وبائی امراض کی کثرت تھی پانی کے لئےسیلے کی بڑی قلت تھی اور مد وجزر کی وجہ سے یہ بستی ہمیشہ معرض خطرہ میں رہا کرتی تھی ۔اس میں مرابطین کے زاویے تھے جن میں اکثر عباد اور صلحا ءتھےان کی اکثریت چھلکے کی چٹائیاں بناتی تھی۔بشاری مقدسی کا یہ بیان چوتھی صدی ہجری سے تعلق رکھتا ہے۔
(اقتباس،زیر طبع اشاعت حدیث میں صوفیاء برصغیر کا کردار)

Feb 2, 2017

وَاللّٰہُ أَخْرَجَکُم مِّن بُطُونِ أُمَّہَاتِکُمْ لاَ تَعْلَمُونَ شَیْْئاً وَجَعَلَ لَکُمُ الْسَّمْعَ وَالأَبْصَارَ وَالأَفْئِدَۃَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُون((سورۃ النحل‘ آیت 78۔اکرام التفاسیر)

0 comments
الْسَّمْعَ وَالأَبْصَارَ وَالأَفْئِدَۃَ (اکرام التفاسیر)
اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم‘ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمنِ الرَّحِیْمِ
وَاللّٰہُ أَخْرَجَکُم مِّن بُطُونِ أُمَّہَاتِکُمْ لاَ تَعْلَمُونَ شَیْْئاً وَجَعَلَ لَکُمُ الْسَّمْعَ وَالأَبْصَارَ وَالأَفْئِدَۃَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُون
اور اللہ نے تم کو تمہاری ماؤں کے پیٹ سے اس حالت میں نکالا کہ تم کچھ بھی نہ جانتے تھے اور اس نے تم کو کان عطا فرمائے اور آنکھیں اور دل تاکہ تم شکر کرو (سورۃ النحل‘ آیت 78)
مولایا صلی وسلیم دائما ابدا‘ علی حبیبک خیر الخلق کلھم
    ترجمہ: اللہ کریم نے تمہیں تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے اس عالم میں پیدا فرمایا کہ تم کچھ نہیں جانتے تھے۔ پھر اس نے تمہارے لئے سننے اور دیکھنے کی قوت عطا فرمائی۔ والافئدۃ اور دل کی گہرائی میں ایک لطیفہ ربانی عطا فرمایا تاکہ تم اللہ کا شکر ادا کرسکو۔ اللہ کریم نے علم کے بنیادی ذرائع تین ارشاد فرمائے۔ سمع‘ بصارت اور افئدۃ۔ افئدۃ یا فواد دل میں ایک لطیفۂ ربانی ہے جو عالم امر سے ہے۔ آنکھیں دنیا بھر سے علوم حاصل کرتی ہیں۔ آدمی کے سیکھنے کے ذریعے دو ہی ہیں۔  یا وہ دیکھ کر سیکھتا ہے یا سن کر سیکھتا ہے۔ بنیادی طور پر جاننے کے ذریعے‘ اور علم کہتے ہیں جاننے کو۔ لکھنا پڑھنا ایک الگ صفت ہے کہ آپ جو کچھ جانتے ہیں اسے لکھ کر محفوظ کر سکتے ہیں۔ جو پڑھنا جانتا ہے اسے پڑھ کر آپ کے علوم سے واقف ہو سکتا ہے۔ علم کو آگے منتقل کرنے کا ذریعہ لکھنا اور پڑھنا ہے۔ فی نفسہٖ لکھنا پڑھنا علم نہیں ہے بلکہ یہ ایک ذریعہ ہے کہ آپ علم کو آگے منتقل کرتے ہیں اور اگلے لوگ آپ سے سیکھتے ہیں۔ بنیادی ذرائع سمع اور بصارت ہے۔ ہم دیکھتے ہیں جو بچہ جہاں پیدا ہوتا ہے وہاں کی زبان بغیر سکھائے سیکھ جاتا ہے صرف والدین سے سن کر سیکھتا ہے وہاں کے حالات دیکھ کر سمجھ جاتا ہے۔یہ دو ذرائع تو وہ ہے جسے ہر انسانی بچہ استعمال کرتا ہے۔ ہر انسان استعمال کرتا ہے اور کرتا رہتا ہے زندگی بھر۔ نئی سے نئی چیزیں جانتا رہتا ہے‘ سنتا رہتا ہے۔ نئی سے نئی چیزیں دیکھتا رہتا ہے اور عمر بھر اس کا علم بڑھتا رہتا ہے چیزوں کے بارے‘ اس کی تحقیقات بڑھتی رہتی ہے۔ لہٰذا چونکہ یہ دونوں مادی ذرائع ہیں سمع بھی اور بصارت بھی اور یہ مادی علوم کے حصول کا ذریعہ ہے۔ دنیا بھر کے مادی علوم ان سے حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ افئدۃ قلب کی گہرائی میں‘ دل میں ایک لطیفہ ربانی ہے جو عالم امر سے اور یہ علوم الٰہیات حاصل کرتا ہے۔ مادی علوم سمع و بصارت سے حاصل ہوتے ہیں‘ اللہ کی ذات اس کی صفات‘ اس کا نظام اس کی قدرت کاملہ‘ دنیا اور اس کا انجام‘ افعال و اعمال‘ کردار اور اس کے نتائج‘ یہ نتائج جاننا‘ آخرت کو سمجھنا‘ عظمت الٰہی کو پانا یہ افئدۃ  کا کام ہے۔ اور یہ  افئدۃ‘لطیفہ ربانی جو ہے صرف انسان کو عطا ہوا ہے۔ سمع و بصارت ہر ذی روح کو اللہ نے دی اور وہ اپنی حیثیت‘ اپنی استعداد کے مطابق‘ اپنی ضرورت کے مطابق اپنی زندگی گزارنے کے لئے جو چیزیں اسے چاہئیں وہ سیکھتا ہے۔ یہ جانوروں میں بھی ہیں‘ پرندوں میں بھی ہیں سمندری آبی جانوروں میں بھی ہیں‘ ہر جاندار میں جہاں روح ہے وہاں سمع و بصارت بھی ہے۔ اپنی زندگی کرنے کا طریقہ‘ ہر چیز  سیکھ لیتا ہے۔ لیکن یہ قلب میں لطیفہ ربانی جو ہے یہ صرف انسان کو ودیعت ہوا ہے اور یہ ودیعت ہوا ہے عظمت الٰہی کو پانے کو‘ معرفت الٰہی کو پانے کو ‘ اس دنیا کے آگے جو حقیقی دنیا ہے اس کے پانے کو ۔ سمع و بصارت تمام عالم سے سیکھتا ہے ‘ افئدۃ صرف انبیاء علیہم السلام سے علوم حاصل کرتا ہے  کیونکہ اللہ کی معرف کے علوم کے امین انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام ہوتے ہیں۔ اس میں اتنی قوت ہوتی ہے کہ جتنا اسے علوم عطا کرنے والا‘ جتنا اس فن کا کوئی ماہر یا بلند ہستی ہو اتنے فیوضات و برکات یہ حاصل کر لیتا ہے۔ حتیٰ کہ یہ نبی پر ایمان لے آئے  اور نبی کی صحبت پا لے تو یہ ایک نگاہ میں شرفِ صحابیت پر فائز ہو جاتا ہے‘ اتنا کچھ حاصل کر لیتا ہے ایک نظر میں کیونکہ وہ دینے والی ہستی جو ہوتی ہے وہ بہت بلند ہوتی ہے۔ اس کے منازل بہت بلند ہوتے ہیں۔ مقام نبوت عظیم تر مقام ہے۔ اسی طرح صحابہ کی صحبت پائے‘ تابعی بن جاتا ہے‘ تابعین کی صحبت پائے تبع تابعی بن جاتا ہے۔ یہ تین طبقے ایسے ہیں اور یہ تین ہستیاں اس قدر قوی ہوتی ہیں کہ ان کی ایک نگاہ یہ سارا کام کر جاتی ہے۔ اس کے بعد ان لوگوں کی باری آتی ہے جنہوں نے یہ برکات حاصل کیں تو ان سے اسے محنت مجاہدہ کر کے حاصل کرنا پڑتا ہے جیسے سن کر علم حاصل کرنا پڑتا ہے ‘ پڑھ کر ذریعہ علم بنتا ہے اور حاصل کرنا پڑتا ہے ‘ اسی طرح اس لطیفہ ربانی پر محنت کر کے اور پڑھنے کے لئے کچھ چاہئیے‘ کوئی تحریر چاہیئے کہ آپ پڑھ سکیں‘ سننے کے لئے کوئی آواز چاہیئے  کہ آپ اسے سن کر سیکھ سکیں۔ اسی طرح اس لطیفہ قلب کے لئے بھی کوئی ایسی ہستی چاہیئے کہ جو اسے روشن کرے‘ جو اس کی آنکھیں کھولے ‘ جو اسے علوم عطا کرے اور معرفت الٰہی سے آشنا کرے۔ یہ ایک ایسی عجیب نعمت ہے اور اللہ کریم کا اتنا بڑا انعام ہے کہ دنیا و مافیھا‘ جو کچھ دنیا میں ہے اس کے مقابلے میں ہیچ ہے‘  اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ دنیا میں جو کچھ ہے وہ مادی نعمتوں کے حصول کے لئے ہے ‘ مادی حالات کو جاننے کے لئے ہے اور جسم کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ہے لیکن کیا انسانی زندگی صرف جسم کو پالنا ‘ اولاد پالنا یا گھر بنانے تک محدود ہے‘ نہیں۔ اس کے نتائج ہوں گے کہ زندگی کس انداز سے گزاری۔ اس پر اس کی دائمی زندگی کا مدار ہے‘ اخروی زندگی کا مدار ہے۔ اس کے مطابق اس سے سلوک کیا جائے گا اور اخروی زندگی کی اگر خبر ہی نہ ہو‘ جان ہی نہ پائے‘ تو اس کے لئے تیاری کیا کرے گا۔ لہٰذا ساری اصلاح احوال کا مدار اس افئدۃ پر ‘ لطیفہ ربانی پر جو قلب میں ہے‘ اس پر ہے کہ اگر جتنا یہ مضبوط ہو گا‘ جتنی اس میں زندگی ہو گی‘ جتنی اس میں قوت ہو گی‘ جتنا یہ حقائق کو جانے گا ‘ اس قدر دنیوی زندگی بھی بہتر ہوتی چلی جائے گی‘ اور آخرت کی زراعت بنتی چلی جائے گی۔ دنیوی زندگی کیا ہے!  یہ ایک زراعت ہے جو آخرت کے لئے ہے ۔ جو کچھ دنیا میں کرتا ہے‘ جو کچھ سوچتا ہے ‘ جو کچھ سنتا ہے‘ جو کچھ دیکھتا ہے ‘جو کردار اپناتا ہے‘ آخرت میں اس کھیتی کا پھل کاٹے گا۔ اکثریت لوگوں کی محض ان دو ذرائع کو استعمال کرتی ہے ساری زندگی‘ چونکہ کفر ایک ایسی مصیبت ہے کہ جب تک وہ ایمان نہ لائے‘ یہ لطیفہ ربانی زندہ نہیں ہوتا۔ اس میں موجود رہتا ہے‘ ایمان لانے کی استعداد موجود رہتی ہے‘ اور وہ مکلف ہے کہ اپنی سمع و بصارت سے دیکھ کر فیصلہ کرے‘ سن کر فیصلہ کرے‘ اور اللہ کے نبی پر ایمان لائے کہ نورِ ایمان اس لطیفہ قلب کو حیات بخشتا ہے۔ اب حیات تو جو بچہ پیدا ہوتا ہے‘ اس میں بھی ہے ‘ جو دنیا بھر کے علوم میں ماہر ہوتا ہے اس میں بھی ہے۔ تو حیات کے بعد ہر کوئی آگے چلتا ہے‘ سیکھتا ہے‘ چیزوں کو جانتا ہے ‘ ان کے نفع و نقصان کو جانتا ہے‘ ان کے اثرات اور نتائج سے آگاہ ہوتا ہے ‘ اسی طرح یہ لطیفہ قلب بھی زندہ ہو جائے تو پھر اسے مزید معلومات کی‘ مزید تعلیم و تربیت کی ضرورت ہوتی ہے  تاکہ یہ معرفت الٰہی کو پا سکے۔ حقائق کو جان سکے‘ حقیقی زندگی کو جان سکے‘ اس کی ضروریات کو جان سکے‘ پھر ان کے مطابق یہ دنیوی زندگی جو چند روزہ ہے ‘ اس کے مطابق بسر کرے تاکہ آخرت میں اسے عظمت نصیب ہو اور اللہ کا قریب نصیب ہو اور اللہ کی بخشش نصیب ہو۔ لیکن بڑے دکھ کی بات یہ ہے کہ بہت کم لوگ اس ذریعہ علم کو استعمال کرتے ہیں۔ لوگوں کی اکثریت جو ہے وہ انہی دو مادع ذرائع کو استعمال کر کے ‘ مادی زندگی بسر کر کے رخصت ہو جاتے ہیں۔ اسی لئے فرمایا کہ (وَقَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّکُوْرُ‘ سورۃ سبا‘آیت 13) بہت قلیل ‘ بہت تھوڑے میرے بندے ہوتے ہیں جو شکر ادا کرتے ہیں‘ اور شکر کیا ہے؟ اس پر بڑی لمبی باتیں ہوئیں ‘ بڑی بحثیں ہوئیں‘ بڑے انداز لکھے گئے کہ شکر نہ کرسکنا ہی شکر ہے‘ یہ جان لینا کہ شکر ادا نہیں کر سکتا‘ یہ شکر ہے اور بہت سے اقوال ملتے ہیں لیکن اس کی حقیقت یہ ہے کہ شکر کی حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی اطاعت کی جائے۔ جتنی اللہ کی اطاعت کرے گا‘ اتنا اس نے اللہ کا شکر ادا کیا۔ اطاعت کے لئے جاننا شرط ہے۔ ایک آدمی نیکی کرتا ہے‘ نیک کام کرتا ہے تو اس کے لئے جاننا شرط ہے کہ نیکی کیا ہے‘ برائی کیا ہے۔ بھلا کیا ہے‘ برا کیا ہے۔ کیا اچھاہے‘ کیا اچھا نہیں ہے۔ جانتا ہو گا تو اچھے کام کو منتخب کر کے اس پر عمل کرے گا۔ اسی طرح انسان مکلف ہے کہ اس تیسرے ذریعہ علم کو اور حقیقی علم کو پانے کا جو ذریعہ ہے‘ اس کو بھی استعمال کرے سمع و بصارت کے ساتھ۔ پھر یہ ایک دوسرے متآثر کرتے ہیں۔ انسان لطیفہ قلب پر محنت نہ کرے اور صرف سمع و بصارت پہ رہے تو پھر یہی مادی چیزیں اس پر بھی غالب آجاتی ہیں اور وہ بے بس ہو جاتا ہے۔ اور اگر اسے استعمال کرے‘ اس پر محنت کرے اور اللہ جل شانہٗ کے قرب کی کیفیات نصیب ہوں تو پھر یہ سمع و بصارت پہ غالب آجاتا ہے  پھر اچھی چیزیں دیکھ کر بندہ خوش ہوتا ہے اور برائی دیکھنے کو جی نہیں کرتا۔ اچھی بات سن کر اسے سکون ملتا ہے اور بری باتیں سننے کو اس کا جی نہیں چاہتا۔ بری باتوں کے سننے سے بھی پرہیز کرتا ہے۔ آپس میں ان کا رشتہ یہ ہے کہ جو جتنا طاقتور ہوگا وہ دوسرے پر بھی اثر انداز ہوگا‘ اسے مغلوب کر لے گا۔ تو اب آپ سوچئے‘ آپ انداز کیجئے کہ اس بھری دنیا میں کتنے لوگ ہوں گے جو اس لطیفہ ربانی کو جانتے ہیں ‘ سمجھتے ہیں یا اس پر محنت کرتے ہیں یا اس کے ذریعے علوم آخرت یا حقیقی علوم تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بہت تھوڑے خوش نصیب ایسے ہوتے ہیں جو اس تک پہنچتے ہیں‘ اس پر محنت کرتے ہیں۔ اور حقیقی زندگی یہی ہے کہ اس ذریعہ علم کو زندہ کیا جائے‘ اسے استعمال کیا جائے‘ اس سے استفادہ کیا جائے‘ اور اس کے مطابق کردار کو ڈھالا جائے تو اللہ کا شکر ادا کرنے کا انداز یہی ہے۔ آپ آنکھ پر اگر پٹی باندھ دیں اور وہ برسوں بندھی رہے تو برسوں بعد کھولیں گے تو آنکھ میں بینائی نہیں ہوگی۔ کان بند کردیں اور برسوں بند رہیں تو پھر انہیں کھول بھی دیں تو اس میں قوت سماعت نہیں رہے گی۔ ایک بازو کو گلے سے لٹکا دیں‘ باندھ دیں ‘ کچھ عرصہ بندھا رہے تو پھر وہیں رک جائے گا‘ اس میں حرکت نہیں رہے گی۔ اسی طرح اگر کوئی شخص زندگی بھر اس لطیفہ ربانی کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوتا ‘ اسے زندگی کرتا ہی نہیں‘ اس پر محنت ہی نہیں کرتا‘ تو یہ بھی رفتہ رفتہ مر جاتا ہے‘ ختم ہو جاتا ہے‘ بے کار ہو جاتا ہے۔ آپ نے دیکھا ‘ اللہ کریم فرماتے ہیں (ینظرون الیک وھم لا یبصرون) آپ کی طرف دیدے تو گھماتے ہیں‘ آپﷺ کو دیکھ نہیں پاتے۔ وجود عالی تو انہیں نظر آتا تھا‘ لیکن وہ سمجھتے تھے‘ ہمارا ایک قریشی بھائی ہے۔ محمد(ﷺ) نام ہے‘ حضرت عبداللہ کے فرزند ہیں‘ اور مکہ مکرمہ کے رہنے والے ہیں‘ محمد الرسول اللہ ﷺ انہیں نظر نہیں آتے تھے۔اسی طرح قرآن کریم فرماتا ہے‘ آپ کی بات یہ سن نہیں پاتے‘ ان کی کانوں میں پردے دیئے گئے ہیں‘ تو آپﷺ کی آواز مبارک تو سنتے تھے‘ تبھی تو ناراض ہوتے تھے‘ اعتراض کرتے تھے‘ لیکن اس میں جو اصل مفاہیم تھے‘ ان کو پانے کی اہلیت نہیں رکھتے تھے۔ اس لئے کہ انہوں نے اپنے اس  افئدۃ کو مردہ کر دیا تھا‘ بیکار کر دیا تھا‘ اس میں استطاعت ہی نہیں رہی تھی‘ تو مسلسل غفلت سے یہ بھی مردہ ہو جاتا ہے ‘ اس میں استطاعت نہیں رہتی اور یہ بہت سخت سزا ہے اللہ کریم کی طرف سے کہ کوئی زندگی بھر اس کی طرف متوجہ ہی نہ ہو ‘ یہ بہت بڑی ناشکری شمار ہوتی ہے‘ بہت بڑی ناشکری۔ اور اللہ کا فرمان ہے (لعلکم تشکرون) تاکہ تم اللہ کا شکر ادا کر سکو ‘ سمع کو استعمال کرو‘ بصارت کو استعمال کرو‘ اور افئدۃ  کو‘ لطیفہ ربانی جو قلب میں ہے اسے استعمال کر کے علوم حاصل کرو۔ تم ماؤں کے پیٹ سے پیدا ہوئے تو کچھ نہیں جانتے تھے‘ پھر تمہیں جاننے کے لئے یہ تین ذرائع عطا فرمائے گئے‘ سمع‘ بصارت اور افئدۃ۔ تم شنوائی سے‘ قوت سماعت سے سیکھتے ہو‘ بصارت سے سیکھتے ہو‘ بہت بڑے بڑے عہدے پاتے ہو‘ حکومتیں‘ اقتدار پا لیتے ہو‘ دولت جمع کر لیتے ہو تو طبقہ امراء میں آجاتے ہو‘ زندگی کی سہولتیں اپنی پہنچ اور اپنی حیثیت کے مطابق حاصل کرتے ہو‘ دنیا میں دولت‘ اقتدار اور چیزوں کے پیچھے تگ و دو کرتے ہواور حاصل کرتے ہو ‘ اگر یہ سمع و بصارت نہ ہوتی‘ نہ تم سیکھتے‘ نہ جانتے تو کیسے ان کے لئے دوڑتے۔ سمع و بصارت تھی جس نے یہ چیزیں تم پر آشکارا کیں تو تم ان کے پیچھے دوڑے۔ اسی طرح  افئدۃ تیسری قوت ہے حصول علم کی ‘ تیسرا ذریعہ علم ہے اور سمع و بصارت مادی علوم حاصل کرتے ہیں‘ دنیا میں بدن کی ضروریات کی تکمیل اور انسان کی دنیوی ارادوں کی تکمیل کے ذرائع اور وسائل حاصل کرتے ہیں لیکن  افئدۃ اور یہ لطیفہ قلب  بہت اعلیٰ اور سب سے قیمتی ہے کہ یہ علوم الٰہیات حاصل کرتا ہے۔ عظمت الٰہی کو پاتا ہے ‘ معرفت الٰہی کو حاصل کرتا ہے اور قرب الٰہی کی تمنا اس میں جاگتی ہے  اور اس کا واحد ذریعہ اللہ کا شکر ہے‘  اور شکر ہے جتنی کامل‘ پرخلوص ‘ جتنی دل کی گہرائی سے اطاعت کی جائے گی اتنا ہی شکر ادا ہو گا۔ شکر ادا کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ کریم کی پورے خلوص اور دل کی گہرائی سے اطاعت کی جائے۔ اطاعت شکر ہے اور عدم اطاعت ناشکری ہے۔ ناشکری کو ہی کفر بھی کہا گیا ہے۔ تو اگر اس پر نظر کی جائے تو الحمدللہ بیشمار لوگ ہیں جنہیں اللہ کریم نے نورِ ایمان عطا فرمایا‘ کافر کی تو اس میں بحث ہی نہیں ہے‘ کافر کو تو افئدۃ سے سروکار ہی نہیں ہے‘ لطیفہ قلب سے سروکار ہی نہیں ہے‘ اس نے تو قناعت کر لی سمع و بصارت پر ‘ مادی چیزوں پر اور اسی دارِ دنیا پر اور اسی کی نعمتوں پر وہ تو قانع ہو گیا ‘ اسے اس سے زیادہ کی جستجو ہی نہ رہی۔ نورِ ایمان جسے نصیب ہوتا ہے اس میں بڑے بڑے نام ہیں‘ بڑے بڑے عالم ہیں‘ بڑے بڑے جاننے والے ہیں‘ اور عام مسلمان بھی بہت سی چیزیں جانتا ہے سن کر‘ دیکھ کر‘ کتابیں پڑھتا ہے‘ اہل علم سے سنتا ہے۔ اس سب کے باوجود کتنے لوگ ہیں جنہوں نے  افئدۃ کو استعمال کیا۔کم از کم میں نے جتنا کچھ دیکھا ہے‘ اللہ کریم نے پڑھنے کی توفیق عطا فرمائی ہے‘  تفاسیر‘ احادیث کی شرح‘ اسلامی علوم‘ جتنی کتابیں میری نظر سے گزریں‘ میں نے کسی میں اس افئدۃ کی بحث نہیں پڑھی۔یہ بھی ایک عجیب بات ہے کہ بندہ دین میں آکر‘ اسلام میں آکر‘ مسلمان ہو کر پھر بھی انہیں دو ذرائع پر قناعت کر جائے۔ آپ بہت بحثیں پڑھیں گے کہ ایسی بات سننی چاہیئے ‘ ایسی نہیں سننی چاہئے‘ اچھی بات سنی جائے‘ بری نہ سنی جائے‘ اچھائی دیکھی جائے‘ برائی کی طرف توجہ نہ کی جائے‘ بری چیزیں‘ برے واقعات دیکھے بھی نہ جائیں‘ برائی دیکھنا منع ہے۔ لیکن ان ساری بحثوں کے ساتھ تیسرے ذریعہ علم جو حقیقی ذریعہ علم ہے اور جس کے نتائج ہمیشہ کی زندگی کو متاثر کرتے ہیں اور جس پر پوری دنیوی زندگی کا بھی مدار ہے۔ کہ اگر یہ زندہ و بیدار نہیں ہوگاتو انسان دنیا کی نعمتوں کے حصول کے پیچھے عمر بسر کر دے گا۔ ساری عمر یا پیسہ جمع کرنے کی سوچتا رہے گا یا کہیں اقتدار و وقار حاصل کرنے کی سوچتا رہے گا ‘ اسی میں عمر بسر کر دے گا۔ اب بڑی عجیب بات یہ ہے کہ میں نے اس پر کوئی بحث پڑھی نہیں ہے ‘ میری نظر سے نہ گزری ہوگی۔ ہاں! صوفیاء نے اس پر بحث کی ہے ۔ ایک طبقہ ہے پوری امت میں ‘صوفیاء کا‘ ذاکرین کا ‘ اللہ اللہ کرنے والوں کا اور علمائے باطن جنہیں کہتے ہیں‘ تو انہوں نے شروع سے لے کر آخر تک بحث ہی اس پر کی ہے۔ آپ صوفیاء کی کتابیں‘ بزرگوں کی کتابیں‘ اہل اللہ کی کتابیں یا علمائے باطن کی کتابیں دیکھیں گے تو ان میں بنیادی بحث ہی اس پر ہے اور سمع و بصارت کی بات وہ ضمناً کرتے ہیں اور یہی صحیح طریقہ ہے۔ لیکن میں نے علمائے ظواہر کو بھی دیکھا ہے کہ وہ ان کی اس بحث پر گرفت کرتے ہیں ‘ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے فالتو بات چھیڑ دی‘ اس کی ضرورت کیا تھی‘ یہ درست نہیں ہے‘ یہ صحیح نہیں ہے۔ یہ بڑی عجیب بات ہے!قرآن کریم اس کو اہم ترین ذریعہ علم کے طور پر ارشاد فرماتا ہے‘ آپ اگر اسے اہم نہ سمجھیں تو سمع و بصارت کے برابر تو ذریعہ علم خواہ مخواہ سمجھنا پڑے گا۔ کہ قرآن نے اسے اس صف میں (وَجَعَلَ لَکُمُ الْسَّمْعَ وَالأَبْصَارَ وَالأَفْئِدَۃَ) تمہارے لئے سماعت بنائی‘ بصارت بنائی‘ تم کچھ نہیں جانتے تھے  اور افئدۃ بنایا۔ تو یہ تینوں کو برابر توجہ تو کم از کم دی جائے۔ تینوں میں جو ایک نہیں ہوگا‘ دنیا کے علوم میں بھی اگر کان نہ رہیں تو آدھا ذریعہ علم ختم ہو جاتا ہے۔ آنکھیں نہ رہیں تو بہت بڑا ذریعہ علم ختم ہو جاتا ہے۔اور اگر یہ لطیفہ قلب نہ رہے تو پھر یہ تو اہم ترین ذریعہ علم ہے عظمت الٰہی اور معرفت الٰہی کو جاننے کی انسان کو جو استعداد دی گئی ہے اور جس نے اسے اشرف المخلوقات بنایا۔ قرآن کریم اللہ کا کلام ہے اللہ کا کلام نازل ہوتا ہے انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام پر اور اللہ کلام جیسے موسیٰ علیہ السلام پر (وکلمہ ربہ تکلیما) آپ اللہ کے کلیم تھے‘ اللہ سے باتیں کرنے کا شرف حاصل تھا انہیں‘ تو بارہا میں نے حضرتؒ نے سنا‘ آپؒ فرماتے تھے کہ اللہ کا کلام صرف کان نہیں سنتے تھے کہ اللہ کی طرف سے ارشاد ہوتا اور موسیٰ علیہ السلام کے کان سنتے بلکہ ہر جزو بدن سنتا تھا‘ ہر ذرہ بدن کلام کو سنتا تھا‘ نبیﷺ ایک ایسی ہستی ہیں جسے اللہ کریم نے ساری مخلوق میں بے مثل اور بے مثال پیدا فرمایا ۔ وہ حسن ظاہر ہو‘ قد و قامت ہو ‘ لب و رخسار ہوں‘ ہر چیز آپﷺ کو ایسی عطا ہوئی جیسی دوسرے کسی انسان کو عطا نہیں ہوئی‘ سب سے افضل ترین‘ سب سے اعلیٰ ترین۔ اسی طرح سمع و بصارت بھی آپﷺ کی سب سے اعلیٰ تھی۔ آپﷺ کا دماغ بھی سب سے اعلیٰ تھا‘ لیکن جب قرآن نازل ہوتا ہے تو قرآن کریم فرماتا ہے (علی قلبک) آپ کے لطیفہ قلب پر نازل ہوا۔ کلام الٰہی کو وصول کرنے کا آلہ نہ کان ہیں‘ نہ آنکھ ہے یا حصول علم کے دوسرے نہیں ہیں یہی لطیفہ قلب جو ہے ‘ انبیاء کا کلام باری کو یہی لطیفہ حاصل کرتا ہے۔ ورنہ حضورﷺ کا دماغ عالی کائنات کا افضل ترین دماغ تھا۔ دماغ ذریعہ علم ہے‘ اس پر بھی نازل ہو سکتا تھا فرمایا‘ نہیں! اللہ کا کلام (علی قلبک) آپ کے قلب اطہر پر وارد ہوتا ہے‘ قلب اطہر پر نازل ہوتا ہے۔ اب اس کلام سے مستفید ہونے کے لئے بھی یہی لطیفہ ربانی چاہیئے۔ جن کے یہ لطائف‘ یہ صفت جن میں ختم ہو چکی تھی ‘ جن کا یہ لطیفہ مر چکا تھا‘ تو آپﷺ سے سن کر تو انہیں اور نفرت پیدا ہوتی تھی محبت کی بجائے الٹا اثر ہوتا تھا ‘ اس لئے کہ وہ آلہ اس کے سننے کا‘ وہ ہے ہی نہیں۔ ایک آدمی کی سماعت بند ہے تو اس کے سامنے راگ الاپتے رہیں‘ اس کے سامنے خوبصورت باتیں کریں‘ اسے کیا فرق پڑتا ہے۔ ایک آدمی کی نظر ہے ہی نہیں آپ اس کے سامنے دنیا بھر کے نظارے لے آئیں‘ اسے کیا فرق پڑتا ہے۔ اسی طرح قلب جب مر جاتا ہے‘ لطیفہ ربانی جس میں ہے ‘ یہ اپنی استعداد کھو دیتا ہے‘ تو اس کے سامنے انبیاء کے ارشادات اور اللہ کا کلام بھی کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ کتنے لوگ ہیں جن کو اللہ کا کلام پڑھے بغیر دن نہیں گزرتا‘ کتنے لوگ ہیں۔ کوئی چیز دوعالم میں اللہ کے کلام سے بڑھ کر قیمتی‘ اللہ کے کلام سے بڑھ کر شیریں‘ اللہ کے کلام سے بڑھ کر لذیذ ہے؟ ہر گز نہیں۔ تو پھر اتنی قیمتی‘ اتنی لذیذ‘ اتنی اعلیٰ چیز گھروں میں  طاقوں پہ رکھی ہے‘ ریشمی غلافوں میں رکھی ہے۔ فرصت کیوں نہیں ہوتی کہ اسے دیکھا جائے ‘ پڑھا جائے‘ سمجھا جائے ۔ سمع و بصارت ہے لیکن سمع و بصارت کو اس سے کچھ لذت نہیں ملتی ‘ اس کی لذتیں نصیب ہوتی ہیں لطیفہ قلب کو۔ اور یہ زندہ ہو تو اس کے بغیر چارہ نہیں۔ میں نے صوفیوں کو دیکھا ہے کہ دن پر قرآن کریم بغل میں اٹھائے پھرتے ہیں‘ جہاں فرصت ملی‘ وہاں بیٹھ کر کھول لیا‘ تلاوت کی۔ وہ کیوں پاگلوں کی طرح اٹھائے پھرتے ہیں؟ قرآن کریم تو مسلمانوں کے گھروں میں بیشمار موجود ہیں‘ بڑے ادب و آداب سے رکھے ہیں‘ بڑے قیمتی غلافوں میں رکھے ہیں‘ انہیں اس سے لذت ملتی ہے۔ ان کا لطیفہ قلب اور ذریعہ علم حیات ہے ‘ زندہ ہے‘ کام کر رہا ہے‘ اور انہیں اس سے شیرینی ملتی ہے۔ اکثریت کیوں نہیں کرتی‘ اس لئے کہ ان کے صرف سمع و بصارت ہے‘انہوں نے دل کو زندہ ہی نہیں کیا‘ سمع و بصارت جو ذرائع علم ہیں‘ ان کی تو عام ہر جگہ چیزیں مل جاتی ہیں‘ دیکھنے کو بھی‘ سننے کو بھی ۔ ذریعہ قلب جو ہے اس کے دیکھنے اور سننے کو چیزیں ہر جگہ نہیں ملتیں۔ یہ اللہ کے خاص لوگ ہوتے ہیں‘ اللہ کے خاص بندے ہوتے ہیں جنہوں نے زندگیاں لگا کر اپنے پہلوں سے‘ اپنے مشائخ سے ‘ اپنے بزرگوں سے یہ نعمت حاصل کی ہوتی ہے جو یہ آگے بانٹ سکتے ہیں۔ اس کے ذرائع جو ہیں وہ اس طرح عام نہیں ہیں کہ ہر چیز کو دیکھ کر قلب زندہ ہو جائے بلکہ دنیا اور دنیا کے حالات تو اس پر گرد ڈالتے ہیں‘ دنیا اور دنیا کے واقعات اور سمع  بصار ت کے ذریعے حاصل ہونے علوم تو اس پر مزید گرد ڈالتے ہیں ‘ تاریکی پھینکتے ہیں اور اس کی قوت کو کمزور کرتے ہیں۔ یہ تو چاہئے کہ سمع و بصارت کی نسبت یہ لطیفہ قلب زیادہ مضبوط ہو جائے ‘ زیادہ قوی ہو جائے تاکہ سمع و بصارت اس پر گرد نہ ڈال سکیں بلکہ یہ اپنی روشنی ان پر بھی ڈالے ۔ ان کو بھی اس میں مصروف کر دے اور آنکھوں اور کانوں کو بھلی بات سننے کا چسکہ ہو جائے  اور برائی سے بھاگ جائیں۔ تو یہ ان قوتوں میں مقابلہ ہوتا ہے لیکن انسان مکلف ہے اس کا کہ وہ کس نعمت کا کتنا استعمال کرتا ہے اور افئدۃ  برکات نبوت سے لطیفہ قلب زندہ ہوتا ہے ‘ اطاعت الٰہی‘ اتباع رسالتﷺ اور خلوص کے ساتھ یہ سینچا جاتا ہے حتیٰ کہ اللہ اس کو اتنی طاقت دے دے کہ پھر یہ اتنا قوی ہو جائے کہ سمع و بصارت پر یہ غالب آجائے اور جو چیز اس کے لئے مفید ہو وہی کان بھی سنیں ‘ جو اس کے لئے مفید ہو وہی آنکھیں بھی دیکھیں۔ اور پھر ہاتھ اور پاؤں اور کردار اسی سانچے میں ڈھل جائے تب جا کر بات بنتی ہے۔ لیکن بڑے دکھ اور بڑے افسوس کی بات ہے‘ اس پر عمل کرنا تو اللہ کے بڑے کرم کی بات ہے اس پر میں نے تو بحثیں بھی نہیں سنیں۔ اس پر لکھنا بھی ہاں! صوفی شروع سے لے کر آج تک صوفیاء اس پر لکھتے بھی رہے ہیں‘ بیان بھی کرتے رہیں ہیں اور الٹے ان پر فتوے لگا کئے۔ اس کی تردید کی گئی ہے۔ لوگوں کو اس سے روکا گیا ہے یہ بڑی عجیب بات ہے۔ سو اللہ کریم کا یہ احسان ہے کہ کسی ایسی مجلس میں‘ کسی ایسی جگہ پہنچا دے‘ جہاں اس پہ بھی بات ہو‘ اس پہ بھی کام ہو‘ اس کی زندگی کے اثبات پہ بات ہو اور عملی طور پر اس کو حیات دینے کا کام کیا جائے۔ یہ نعمت اگر اس دنیا میں نصیب ہو جائے تو یہ اس دنیا میں بے مثال نعمت ہے جس کی کوئی دوسری مثال نہیں ملتی۔ اور دنیا کی ساری لذتیں اس کے سامنے ہیچ ہیں۔ دنیا بھر کی حکومت بھی کسی کو مل جائے ‘ وہ بات نہیں بنتی جو ایک دلِ زندہ سے کسی کو نصیب ہو جائے۔ میں نے حضرتؒ سے کئی بار یہ سنا ‘ فرماتے تھے کہ اگر کوئی مجھے کہے کہ ساری دنیا کی حکومت لے لو تو یہ دل کا کام اور یہ ذکر الٰہی چھوڑ دو تو میں اسے ٹھوکر مار دوں گا۔ یہ اتنا قیمتی ہے کہ پوری دنیا کی سلطنت کے مقابلے میں بھی چھوڑا نہیں جا سکتا۔ اب جتنی یہ بات قیمتی ہے‘ اتنی ہی ضروری بھی ہے کیونکہ آخرت کا مدار دنیا کے عقیدہ اور عمل پر ہے اور عقیدہ اور عمل کی تصحیح کے لئے دلِ زندہ چاہیئے ورنہ سب رسم و رواج رہ جاتے ہیں۔ الحمد للہ ‘ اللہ کی اطاعت نصیب ہو‘ بڑی اچھی بات ہے لیکن اس میں جان اور روح اسی لطیفہ قلب سے پیدا ہوتی ہے ورنہ اطاعت بھی ہم رسم و رواج کی طرح کرتے رہتے ہیں‘ اس میں روح نہیں ہوتی۔ اس میں وہ خلوص نہیں ہوتا ‘ اس میں وہ خشوع و خضوع نہیں ہوتا۔ یہ خشوع و خضوع‘ خلوص اور گہرائی  یہ ساری وہ چیزیں ہیں جو اس لطیفہ قلب سے اور اس ذریعہ علم سے متعلق ہیں۔ اللہ کریم یہ نعمت نصیب فرمائے تو اس پر ایسی محنت کی جائے تو اس کا حق ہے۔ اور زندگی میں اس کو ہر کام میں اولیت دی جائے۔ کھانے پینے‘ لباس‘ بول چال میں ہر چیز میں یہ احتیاط کی جائے کہ کوئی ایسا کام نہ کیا جائے ‘ کوئی ایسی بات نہ سنی جائے ‘ کوئی ایسا لفظ نہ بولاجائے ‘  جو اس لطیفہ قلب کو متاثر کرتا ہو‘ اس کا نقصان کرتا ہو۔ اور ہر قدم ایسا اٹھایا جائے جو اس میں ترقی کا سبب بنے‘ اس میں کیفیات کے بڑھنے کا سبب بنے۔ یہ ذرائع علم دوسرے جو ہیں‘ کان آواز سنتے ہیں‘ آنکھیں کوئی مادی چیز دیکھتی ہیں‘ یہ ذریعہ علم افئدۃ جو ہے اس کے لئے کیفیات چاہیے اور یہ کیفیات کو جذب کر کے علوم الٰہیات کی طرف بڑھتا ہے اور حقیقی زندگی سے آشنا کرتا ہے‘ اسے اللہ حیات دے دے‘ تو پھر ایک زندگی دنیوی نظر نہیں آتی‘ دنیا اور آخرت سامنے آجاتی ہیں‘ آخرت اور دنیا مل کر چل رہی ہوتی ہیںاور سامنے آ جاتی ہیں اور آدمی آخرت کو پسند کر کے چلتا رہتا ہے۔ یہ کیفیات اس افئدۃ کی حیات سے نصیب ہوتی ہیں۔اللہ کریم نے اگر یہ انعام فرمایا کہ ہمیں یہ ذریعہ علم جاننے اور سیکھنے کا موقع نصیب ہوا‘ تو وہ مہربانی فرمائے ہمیشہ اس پہ قائم رکھے اور اس میں ترقی عطا فرمائے۔ اور اسی پر‘ ایمان پر‘ یقین پر‘ خلوص  پر خاتمہ نصیب فرمائے۔
وآخر دعونا عن الحمد اللہ رب العلمین

Jan 26, 2017

مسئلہ اعانت واستعانت تحریر ابن محمد جی قریشی

0 comments
مسئلہ اعانت واستعانت      تحریر ابن محمد جی قریشی
برصغیرپاک وہندمیںمسلمانوں کے درمیان جو اختلاف پائے جاتے ہیں ان میں ایک بڑا شدید اختلافی مسئلہ غیر اللہ سے غائبانہ اعانت واسعانت کا ہے۔ہمارے پاس الحمد للہ اس مسئلہ کے حل کے لئے دونوںطرح کے دلائل موجود ہے جہاں تک ظاہری علوم کا تعلق ہے۔تو یہ مسئلہ قرآن و حدیث میں بالکل واضح ہے۔دوسری دلیل اہل ذوق کے لئے کہ وہ آئے خود محنت کرے ، خود ولی بنےاللہ کرے گاانشاء اللہ تو ان پر حقائق واضح ہو جائے گے۔اسے معلوم ہو جائے گا کہ حقیقت میں فیض کسے کہتے ہیں؟تصرف فی اولیاء کی حقیقت کیا ہے؟ہمارے ہاں ایک طبقہ نے تو کشف ومشاہدات کاانکار کر دیا ہےاور دوسرا اولیاء اللہ کو مشکل کشا مان لیا ہے ان کا خیال ہے کہ جو چاہئے وہ کر سکتے ہیں اصل میں یہ مسئلہ بین بین ہے۔
اولیاء اللہ کو کشف ومشاہدہ ہ اور تصرف بھی ہوتا ہے اس میں کچھ شک نہیں۔حضرت سلیمان علیہ السلام کے صحابی کا واقعہ قرآن میں ہے۔قَالَ يٰٓاَيُّهَا الْمَلَؤُا اَيُّكُمْ يَاْتِيْنِيْ بِعَرْشِهَا قَبْلَ اَنْ يَّاْتُوْنِيْ مُسْلِمِيْنَ ( 38) قَالَ عِفْرِيْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِيْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَ  ۚ وَاِنِّىْ عَلَيْهِ لَقَوِيٌّ اَمِيْنٌ)39)قَالَ الَّذِيْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ اَنَا اٰتِيْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ يَّرْتَدَّ اِلَيْكَ طَرْفُكَ  ۭ فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ قَالَ ھٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّيْ ڷ لِيَبْلُوَنِيْٓ ءَاَشْكُرُ اَمْ اَكْفُرُ  ۭ وَمَنْ شَكَرَ فَاِنَّمَا يَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ ۚ وَمَنْ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّيْ غَنِيٌّ كَرِيْمٌ   ( 40؀ ) 
سلیمان (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے سردارو ! تم میں کوئی ایسا ہے کہ ان کے فرمانبردار ہو کر آنے سے پہلے اس (ملکہ) کا تخت میرے پاس لے آئے( 38)تو ایک قوی ہیکل جن نے عرض کیا کہ میں پہلے اس کے آپ اجلاس سے اٹھیں آپ کی خدمت میں پیش کردوں گا اور بیشک میں بہت طاقتور بھی ہوں اسے لاسکتا ہوں (اور) امانتدار بھی ہوں(39) جس کے پاس کتاب (الٰہی) کا علم تھا اس نے کہا میں آپ کی آنکھ جھپکنے سے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کیے دیتا ہوں۔ پس جب انہوں نے اس (تخت) کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا تو فرمایا یہ میرے پروردگار کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے کہ میں شکر ادا کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں۔ اور جو شخص شکر ادا کرتا ہے تو وہ اپنے ہی نفع کے لئے کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو یقینا میرا پروردگار بےنیاز (اور) کرم کرنے والا ہے(40) (اکرام التراجم)
صاحب اسرار التنزیل ان آیات کی تفسیر میںکتاب اللہ کی تفسیر میںلکھتے ہیں کہ:
 کتاب اللہ کا علم کیا ہےحق یہ کہ کتاب محض الفاظ ومعانی ہی نہیں ہوتےبلکہ ہر لفظ میں انوارات و تجلیات اور کیفیات ہوتی ہیںجو سب نبی کے دل پر وارد ہوتی ہیںاور اس کی حقیقت متبعین کو سینہ بسینہ نصیب ہوتی ہیں انہی کیفیات کے حامل ولی اللہ کہلاتے ہیں اور ایسے علماء ہی انبیاء کے وارث ہوتے ہیں ورنہ محض الفاظ و معانی سے کھیلنے والے عموماً کتاب اللہ کو بھی ذریعہ معاش بنا پاتے ہیں اور بس۔ان کیفیات کے حامل لوگوں میںتصرف کی قوت بھی حسب اسعداد ہوتی ہےجس کا اظہاربھی مختلف مواقع پر ہوتا رہتا ہے ۔ قلبی طور پر اس کی تحقیق جو حضرت  کے حکم پر کی گئی تھی یہ سمجھ آئی تھی کہ اس شخص نے جو آپ کا صحابی اور درباری تھااور مفسرین جس کا نام اآصف بن برخیا لکھا ہےاپنے قلب کے انوارات تخت پر القا ء فرما کرایک بار اللہ کہاتو تخت سامنے پڑا تھا۔ 
مگر اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ جب ،جو اور جیسے چاہئے کشفاً دیکھتے رہےاور تصرف کرتے رہئے،ایسا ممکن نہیں ۔یہ قوت صرف اللہ کی ہے کہ جو چاہئے اور جیسے چاہئے کر سکتا ہے۔ہوتا یہ ہے کہ جب وقت برابر ہوتا ۔دنیا دار السبب ہےاللہ بطور سبب اپنے محبوب بندے کے دل میں ڈال دیتا اور جوں ہی وہ توجہ کرتا ہے کام ہو جاتا ہے اور اسے کرامت کہتے ہیں۔
تصرف اور کرامت میں ایک باریک فرق یہ بھی ہے کہ تصرف میں صاحب تصرف کا ارادہ شامل ہوتا ہے جبکہ کرامت کے اظہار پرتو بعض اوقات صاحب کرامت بھی حیران رہ جاتا ہے۔دوسرا تصرف اصطلاح میں خیال و نظر کی طاقت استعمال کر کے حیرت انگیز کام صادر کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے جس کے لئے نبی یا ولی بلکہ مسلمان ہونا بھی شرط نہیں، تصرف مسمریزم جیسا ایک عمل ہے۔بس اس کو آپ یو ں سمجھ لے جیسے اسلحہ، مسلمان علاء کلمۃ اللہ کے لئے استعمال کرے گا اور کافر باطل مقاصد کے لئے استعمال کرے گا۔بس تصرف بھی ایک ایسی ہی قوت ہےجسے صوفیاء نیک مقاصد میں بروئے کار لاتے ہیں اور اہل باطل لوگوں کو دھوکا دینے کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔
قرآن مجید میں حضرت ابراہیم ؈کا ذکر مبار ک موجود ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کے اولولعزم نبی تھے اللہ نے ان کے سامنے کائنات منکشف کر دی وَكَذٰلِكَ نُرِيْٓ اِبْرٰهِيْمَ مَلَكُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلِيَكُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِيْنَ(سورۃ الانعام:75)مگر وہی ابراہیم علیہ السلام ہیںوَلَقَدْ جَاۗءَتْ رُسُلُنَآ اِبْرٰهِيْمَ بِالْبُشْرٰي قَالُوْا سَلٰمًا  ۭ قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَاۗءَ بِعِجْلٍ حَنِيْذٍ  (سورۃھود 69؀)
صاحب اسرار التنزیل فرماتے ہیںاس آیت سے یہ عقدہ بھی کھلا کہ انبیاء اپنے علم کی وسعت کے باوجود ہر آن اللہ کے دربار میں ہی امیدوار کرم رہتے ہیں اور وہی جانتے ہیں جو وہ بتاتا ہے کہ فرشتے تھے انھوں نے کھانا تو نہ کھانا تھا مگر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پہچان نہ سکے اور انسان سمجھ کر تو اضع کی لیکن جب انھوں نے کھانے کی طرف ہاتھ نہ بڑھایا تو آپ گھبراگئے کہ عرب اور فلسطین کا دستور تھا کہ دشمن کا کھانا نہ کھاتے تھے آپ نے سمجھا کہ شاید کوئی دشمن ہوں مگر فرشتوں نے عرض کیا کہ ہم تو اللہ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں اور اللہ نے قوم لوط کو تباہ کرنے کے لئے بھیجا ہے تو ان کی بیوی ہنس دیں۔ غالیا اسی بات سے کہ کس قدر جلدی فرمائی بچھڑا ذبح کیا مجھ سے پکوایا اور اب پتہ چلا کہ یہ تو فرشتے ہیں انھیں کھانے پینے سے غرض نہیں ۔
اب یہ اللہ کی شان ہے کہاں پوری کائنات کا منکشف ہونا اور کہاں فرشتوں کو انسان سمجھ کر ان کے آگے تلا ہو ابچھڑا رکھ دینا۔اسی طرح حکم دیافَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْیَ قَالَ یَا بُنَیَّ إِنِّی أَرٰی فِی الْمَنَامِ أَنِّی أَذْبَحُکَ فَانْظُرْ مَاذَا تَرَیجب وہ ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ دوڑنے کی عمر کو پہنچے تو اُنہوں نے فرمایا: اے پیارے بیٹے! میں خواب میںدیکھتاہوں کہ تمہیں ذبح کررہاہوں۔ بتاؤ! تمہاری کیا رائے ہے ؟(سورۃ الصافات۔102)یَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِیْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِینَ .اے میرے والد بزرگوار!آپ کو جو حکم دیاجارہاہے اس کو پورا کرگزرئیے، اگر اللہ نےچاہاتو یقینا آپ مجھے صبرکرنے والوںمیں پائیں گے۔(سورۃ الصافات۔102)
جب انہیں حکم دیا کہ بیٹے کو میرے سامنے ذبح کرو تو آخر تک نہیں بتایا کہ تیرے بیٹے کو بچا لوں گا۔بسم اﷲ اﷲ اکبر چھری چلا دی خون بہہ نکلاجسم تڑپ کرٹھنڈا ہو گیا اور ابھی تک حضرت ابراھیم علیہ السلام سمجھ رہے ہیں کہ میں نے اسمٰعیل علیہ السلام کو ذبح کر دیا ۔ آنکھوں سے پٹی ہٹائی تو حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کھڑے مسکرا رہے ہیں او ر دنبہ ذبہ ہوا پڑا ہے۔گھبرا گئے میں نے اسمٰعیل علیہ السلام کو ذبح کرنا تھاکیا میری قربانی ضائع گئی؟ فوراً اﷲ کی طرف سے یہ وحی آئی فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِینِ . وَنَادَیْنَاهُ أَنْ یَا إِبْرَاهِیمُ ،قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْیَا إِنَّا کَذَلِکَ نَجْزِی الْمُحْسِنِینَ جب وہ دونوں نے حکمِ الہی کو تسلیم کیا اور والد نے صاحبزادہ کو پیشانی کے بل لٹادیا اور ذبح کرنے لگے توہم نے انہیں ندا دی کہ اے ابراہیم ! واقعی آپ نے خواب سچا کردکھایا‘ بے شک ہم محسنوں کو ایساہی بدلہ دیتے ہیں ۔(سورۃ الصافات ۔ 104) 
اللہ کا امتحان تھا اگر پہلے بتا دیا جاتا تو امتحان نہ ہوتا اس طرح تو کسی کے لئے کچھ مشکل نہیں کہ اسے پتہ ہو کہ بچے کے گلے پر چھری پھیرو بچہ ذبح نہیں ہو گا دنبہ ہوگا تو پھر کیا مشکل ہے حضرت ابرہیم نے اپنی طرف اسماعیل کے گلے پر چھری پھیری تھی آگے اللہ کی اپنی مرضی تھی۔
اسی طرح قرآن کریم میں حضرت یوسف کے واقعے میں ملتا ہے کہ حضرت یوسف ؑ نے اپنے بھائیوں کو مصر میں اپنا کرتہ عطاء کیا اورکہاکہ یہ میرے والد کی آنکھوں پر لگانا ان کی بینائی لوٹ آئے گی اور وہ شخص کرتہ لے کر جب مصر سے نکلا کنعان میں بیٹھے ہوئے حضرت یعقوب ؑ نے فرمایا آج مجھے یوسف ؑ کی خوشبو آرہی ہے۔ وَلَمَّا فَصَلَتِ الْعِيْرُ قَالَ اَبُوْهُمْ اِنِّىْ لَاَجِدُ رِيْحَ يُوْسُفَ لَوْلَآ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ    94؀جب قافلہ (مصر سے) روانہ ہوا تو ان کے والد فرمانے لگے کہ بیشک مجھے یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو آرہی ہے اگر تم یہ نہ کہو کہ بڑھاپے میں بہکی باتیں کررہا ہوں
لیکن عجیب بات کہ مصر جو کم وبیش آٹھ دن کی مسافت پر تھا وہاں سے خوشبو آنے لگی مگر خود کنعان کے کنویں اور قافلے والوں کے پاس سے نہ آئی پھر مصر میں بھی انھیں برسوں بیت چکے تھے پہلے تو نہ آئی اس کا آسان ساجواب یہ ہے کہ کشف اور مشاہد ہ ازقسم ثمرات ہے جو ہمیشہ وہبی ہوتے ہیں جب اللہ چاہے بتا بھی دے دکھا بھی دے اور جو نہ چاہے نہ بتائے ۔ جب تک اسے منظور تھا نہ یوسف (علیہ السلام) نے اطلاع بھجوائی اور نہ ہوانے خوشبوپہنچائی اور جب اس نے اجازت بخشی تو انھوں نے بھی پیغام روانہ کردیا اور ہوا بھی خوشبولے اڑی۔
  تو ثابت ہوا کہ اللہ کریم اپنے بندوں کو غیب کی خبریں پہنچا تے ہیں  خصوصا انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کو اور سب سے زیادہ آقائے نامدار (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غیب پر اطلاع دی گئی جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان کے مطابق تھی مگر یہ علم کسی ذریعے سے پہنچتا ہے کشف الہام القاء
 وجدان یا پھر انبیاء کو سب سے مضبوط ذریعہ جو نصیب ہوتا ہے وہ وحی الٰہی کا ہے اور نبی کا کشف والہام تو کیا نبی کا خواب بھی وحی ہوتا ہے لیکن یہ سب علم غیب نہیں کہلائے گا علم غیب صرف اللہ کا خاصہ ہےجس میں کوئی بھی دوسرا اس کا شریک نہیں اور آسان لفظوں میں علم غیب کی تعریف یہ ہے کہ بغیر کسی سبب کے حاصل ہو۔ اگر درمیان میں سبب یاواسطہ آگیا تو غیب کی خبر کہلائے گا علم غیب نہ ہوگا اور بغیر واسطے یا کسی ذریعے کے جاننایہ صرف اللہ کریم کا خاصہ ہے۔
یہ چند مثالیں سمجھانے کے لئے قرآن سے بیان کی گئی ہیں ورہمارے ہاں توانتہاء پسندی ہےجہاں یہ عقیدہ رکھنا کہ اولیاء اللہ کچھ تصرف نہیں رکھتے گمراہی ہے اور وہی یہ عقیدہ رکھنا کہ جو وہ چاہئے کر سکتے ہیں تو یہ بھی نری گمراہی ہےجو حقیقت وہ عرض کر دی گئی ہے ۔اب یہ اللہ کی مرضی ہے کہ وہ کیا چھپاتا ہے اور کیا منکشف کرتا ہے یہ اسی مالک الملک کہ دست قدرت میں ہے کوئی بندہ کتنا بھی اللہ کاقرب پا جائے ۔بندہ بندہ ہی رہے گا ،خدا نہیں بن سکتا اور اللہ کتنا ہی قریب کیوں نہ ہو اللہ اللہ ہے۔ ہمارے ہاں مسلک و شخصیت پرستی اور پھر علماء سو اپنے مفاد کے لئے لوگوں کو حقائق بتانے کے بچائے الٹا گمراہ کر رہے ہیں۔کہیں تو حید کے نام پر اولیاء اللہ کی توہین کی جاتی ہے اور کہیں اولیاء اللہ کی محبت میںانھیں مشکل کشا اور حاجت رواں سمجھا جاتا ہے۔
راقم الحروف نے ایک سفر کے دوران  حافظ غلام قادریحفظہ اللہ تعالی سے اس مسئلہ کے متعلق استفسار کیا تو درج بالا تقریر کے بعد آپ نے مجھے ایک واقعہ بھی سنایا کہ:   
1971ء کی جنگ میں ہماراکیمپ گجرات کے علاقہ میں تھا ،جس کی پوزیشن جنگی حالات کے پیش نظربدلتی رہتی تھی ۔گجرات شہر میں بھی ہمارا آنا جانا لگا رہتا تھا۔گجرات سے متصل علاقہ مہمداں میں ایک بزرگ( سائیں کرم الٰہیؒ) عرف کاواںوالی سرکارکامدفن ہے۔ایک دن ذاکرین ساتھیوںکے ہمراہ سائیں کرم الٰہی کے مزار پر جانے کا اتفاق ہوا۔میرے ہمراہ رشید احمد بھی تھا۔رشید احمد سمندری کا رہنے والا تھا ۔کیمپ ایریا میں ہی اس نے میری دعوت پر ذکرکرناشروع کیا تھا۔رشیداحمدکواللہ تعالیٰ نےبہت تیز قوت بصیرت عطا فرمائی تھی۔میں مزار پر پہنچ کر ابھی وضو ہی کر رہا تھا کہ رشیداحمد آئےاور مجھے کہنے لگا صاحب قبر فرما رہے ہیں کہ حافظ غلام قادری کو کہے کہ وہ جلدی آئے ۔وضو سے فارغ ہو کرہم نے مزار پر جا کر ذکر شروع کیا۔
کشفاً یہ معلوم ہوا کہ انہوں نے فقیرانہ سے لباس (ایک پاجامعہ ،کرتا) میں زندگی بسر کی ہے، انہوں نے فرمایا کہ میںشاہ دولہؒ کے بعد آیا ہوں اور کچھ عرصہ ان کے مزار پر بھی رہا ہوں۔ اسی اثناء میں ایک ٹانگہ آکر رکا اس سے ایک عورت اتری اور اس نے قبر کے پتھر کو پکڑ کر زور زور سے روناچیخناشروع کر دیااور ساتھ یہ دوہائی بھی دے رہی تھی کہ میں سالم(سپیشل )ٹانگہ کرکے ہائی ہوں۔ سائیں کاواں والیاں میری مشکلیں آسان کر دے،مجھے آنکھیں عطا کراور مزید بھی کچھ اس طرح مانگ رہی تھی۔ اس دوران مشاہدہ میں یہ آرہا تھا کہ صاحب قبر اس کی طرف کچھ توجہ نہیں کر رہے تھے بلکہ وہ ہماری طرف متوجہ ہیں ۔میں نے رشید احمد کو کہا کہ صاحب قبر عرض کرو کہ آپ اس عورت کی طرف بھی توجہ کرے۔انہوں نے جواباً فرمایامیں اس کے لئے کیا کر سکتا ہوں،ہم نے عرض کیا دعا تو کرسکتے ہیں مگر انہوں نے دعا بھی نہ کی ۔پھر میں نے رشید احمد سے کہا کہ ان سے عرض کرو کہ اس عورت کے ایمان کے لئے دعا کرے ،تو پھر انہوں دعا کر دی ۔
پھر وہ فرمانے لگے کہ حافظ غلام قادری کو اس علاقہ میں اتنے عرصہ سے دیکھ رہا ہوں مگر یہ بڑے عرصہ بعد میرے پاس آئے ہیں۔رشید احمد نے عرض کیا کہ آپ کو یہ کیسے پتہ چل گیا۔انہوں نے فرمایا کہ تم لوگ جہاں بھی ذکر کرتے ہو ہمیں پتہ چل جاتا ہے جس طرح گپ اندھیرا ہواور اس میں دیا سلائی بھی جلائی جائے تو بڑے دور سےروشنی نظر آتی ہے اسی طرح آپ لوگ ہمیں دنیا میں نظر آتے ہو ۔آخر میں ہم نے عرض کی کہ جب ہم ذکر کرتے ہیں تو آپ توجہ کیا کرے۔ انہوں نے فرمایا یہ کہنے کی ضرورت نہیں ایک میں نہیں بلکہ آپ جہاں ذکر کرے گے وہاں کے تمام صوفیاء خود بخودمتوجہ ہوجاتے ہیں کیونکہ ہم نے خود زندگی میں یہ محنت کی ہے اور یہی ذکر کرنے والے لوگ ہمیں اچھے لگتے ہیں۔
اصل بات یہ ہے کہ اولیاءاللہ تو عالم برزخ میں اپنے مقام پر تشریف فرما ہوتے ہیںجس مقام کے لئے انھوں نے دن رات محنت کی ،دنیا کی لذات کو چھوڑا ،انھیں برزخ میں بارگاہ نبویﷺ کی حاضری نصیب ہوتی ہے۔اب کہاں بارگاہ نبوی ﷺ کی حاضری اور آخرت کی عظیم نعمتیں اور کہاں یہ دنیاوی لتھیڑے،انھیں اس بات سے کیا غرض کہ کون ان کی قبر پر آ رہا ہے اور کیا مانگ رہا ہے؟۔ہاں اگر روحانی رابطہ ہو کشف قبور ہو تو دعا کے لئے عرض کی جا سکتی ہے ،مگر یہ بھی ان کی مرضی کہ دعا کرے یا نہ کرےکیونکہ وہ اس بات کے مکلف نہیں۔
حضرت علی ہجویری کی قبر پر ہمارے ایک ساتھی گئےداتا گنج بخش ؒ سے روحانی کلام نصیب ہوا تو عرض کیا حضرت ساری زندگی جس کام سے آپ لوگوں کو منع کرتے رہے آج وہ تمام بدعات وخرافات آپ کی قبرپرہو رہی ہیں انہوں نے فرمایا جب تک ہم دنیا میں تھے ہم مکلف تھے ہم نے لوگوں کو منع کیا اب تم مکلف ہو ،جواب دہ ہو،یعنی انہوں نے شرعی مسئلہ بھی سمجھا دیا۔کہ ہم تو قبر(عالم برزخ)میں ہیں ہم دارالعمل سے دارالاجزاء میں منتقل ہو چکے ہیںتم دنیا میں تمھارا کام لوگوں کو برائی سے روکنا اور اچھائی کی دعوت دینا ہے۔ 
اولیاء اللہ کو عالم الغیب ، مشکل کشا اور حاجت رواں سمجھنانری گمراہی ہے۔حقیت تو یہ ہے کہ بریلوی مسلک کے جیدعالم دین علامہ  غلام رسول سعیدی ؒاپنی مایہ ناز تفسیر وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ۔۔۔۔۔کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
ہمارے زمانہ میں بعض جہلا اللہ تعالیٰ سے دعا کرنے کے بجائے اپنی حاجتوں کا سوال پیروں ‘ فقیروں سے کرتے ہیں اور قبروں اور آستانوں پر جا کر اپنی حاجات بیان کرتے ہیں اور اولیاء اللہ کی نذر مانتے ہیں ‘ حالانکہ ہر چیز کی دعا اللہ تعالیٰ سے کرنی چاہیے اور اسی کی نذر ماننی چاہیے ‘ کیونکہ دعا اور نذر دونوں عبادت ہیں اور غیر اللہ کی عبادت جائز نہیں ہے ‘ البتہ دعا میں انبیاء کرام اور اولیاء عظام کا وسیلہ پیش کرنا چاہیے۔
اسی طرح علم الغیب کے متعلق خلاصہ بحث یہ فرماتے ہیں
اس تمام بحث کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو علی حسب المراتب غیب کی خبروں پر مطلع فرمایا ہے لیکن غیب مطلق (یعنی تمام معلومات کا احاطہ کاملہ) یہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے اور اسی کو غیب مطلق کا علم ہے ‘ اور غیب کی جن خبروں پر اللہ نے اپنے خواص کو مطلع فرمایا ہے ان کے اعتبار سے ان بندوں کو غیب کا علم ہے ‘ لیکن اس کو علم الغیب کہنا درست نہیں ہے کیونکہ ان کو ایسی صفت حاصل نہیں ہے جس سے ان پر ہر غیب منکشف ہو ‘ یہ علامہ شامی کی بیان کردہ توجہیہ ہے ‘ اور علامہ آلوسی کی توجیہ یہ ہے کہ اگرچہ ان کو بعض غیوبات پر مطلع کیا گیا لیکن ظاہر آیات سے تعارض کی بناء پر یہ کہنا درست نہیں ہے کہ ان کو غیب کا علم ہے ‘ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ ان کو غیب پر مطلع کیا گیا ہے یا ان پر غیب ظاہر کیا گیا ہے ‘ اور امام احمد رضا قادری (رح) کی تحقیق ہے کہ مطلقا غلم غیب بولا جائے تو اس سے علم ذاتی مراد ہوتا ہے ‘ اس لیے یہ کہنا جائز نہیں ہے کہ فلاں شخص کو علم غیب ہے ‘ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر بعض غیوب کو ظاہر فرمایا ‘ آپ کو بعض غیوب پر مطلع کیا گیا یا آپ کو غیب کی خبریں دی گئیں اور جن علماء اور فقہاء کی عبارات میں مخلوق کی طرف علم غیب کا اسناد کیا گیا ہے ‘ وہاں چونکہ غیب سے مراد غیب مطلق نہیں ہے اس لیے وہ عبارات عقلا جائز ہیں اور کفر وشرک نہیں ہیں لیکن ایسا کہنا شرعا مستحسن نہیں ہے۔(تبیان القرآن ج۱ ص) 
قارہین اکرام! یہاں جو کچھ عرض کیا گیا ہے بغیر کسی تعصب کے ،بریلوی دیوبندی اہل حدیث سے بالا تر ہو کر لکھا گیا ہے صرف اس غرض سے شاید کسی کو یہ حقیقت سمجھ میں آ جائے اور مسلمانوں کے اختلاف دور ہو جائے ۔میری قارہین سے گذارش وہ اس جو بھی تبصرہ فرمائیں یہ ان کا حق ہے مگر خدا راہ اگر آپ کا وسیع مطالع نہیں ہے اور اہل اللہ صوفیاء کی صحبت میں بھی نہیں بیٹھے ہیں تو پہلے اس علم کو حاصل کیجئے ۔کیونکہ یہاں میں نےکشف کے واقعات تو لکھے مگر اس موضوع پر دلائل نہیں دئیے جو انشاء اللہ پھر کبھی سہی ۔
متقدمین اور متاخرین مفسرین و آئمہ کے دلائل اس اندیشہ کے پیش نظر چھوڑا دیا کہ بات بہت طویل ہو جائے گی۔اللہ ہو کو صراط مستقیم پر استقامت نصیب فرمائیں۔

Jan 18, 2017

لطائف ستہ کی حقیقت

0 comments
لطائف ستہ کی حقیقت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال:میں یه
جاننا چاہتا ہوں کہ جس طرح صوفیاء لطائف کی بات کرتے ہیں تواسی طرح یوگ فلاسفی اور آکوپنکچر بھی بات کرت ہیں۔اب اس میں حقیقت کیا ہے وضاحت فرمائیں

جواب:لطائف ستہ کی حقیقت

 لطائف راہ سلوک میں ابجد الف،ب کی حثیت رکھتے ہیں ،راہ سلوک حدیت سے شروع ہوتی اور لا منتہی ہے ،اللہ کے قرب کی کوئی انتہا نہیں ۔انسان ہر حال میں یا اللہ کے قریب یا دور ہو رہا ہوتا ہے۔دنیا کے اندر اگر کوئی خیر وحکمت موجود ہے تو اسکا تعلق "وحی"سے ہےاگر وہ خیر وحکمت کسی کافر کے پاس بھی ہے تو مومن کی گمشدہ میراث ہے۔
یوگا:میں نے یوگا کو کچھ خاص پڑھا یا سیکھا نہیں ہےالبتہ نیٹ یا ٹی وی سے کچھ معلومات ملتی رہتی ہیں ،کافر کی جتنی بھی کاوش ہوتی اسکا حاصل دنیا ہوتی ہے اور مومن کی کاوشوں کا حاصل اللہ کا قرب ہے ،یہ ممکن ہے کہ ہندوں لوگ ارتکاذ توجہ کی سے مادی حد تک کشف حاصل کر لیتے ہیں جیسے ہم ٹی وی پر دیکھتے تو ارتکاز توجہ سے بتا سکتے ہیں یا پھر شیطان سے تعلق پیدا کر کے اسطرح کے غرائب حاصل کرتے ہیں جس سے شہرت ،پیسہ اور لوگوں میں بڑا بننے کا شوق پورا کرتے ہیں ۔تصوف یہ ہے کہ اپنی انا مٹا کر فقط زبان سے نہیں کردار سے ثابت کرنا ہے کہ اللہ ہی بڑا ہے۔بندہ مومن کو جو کشف حاصل ہوتا ہے اسکا تعلق بالائے آسمان سے ہے ،کافر پر بالائے آسمان کے دروازے نہیں کھلتے ‘‘لاتفتح لھم ابواب اسماء’’ کافر کا کشف اتنا ہی ہے کہ ایک شہر میں بیٹھ کر دوسرے شہر کےحا لات دیکھ لئے۔بندہ مومن کے جب لطائف منور ہ ہوتے برزخ نظر آتا ہے ،فرشتے نظر آتے ہیں ،عمل اس جہاں میں کرتا اور نتیجہ آخرت کا دیکھتا ہے۔اس لئے جو صوفیاء کے پاس خلوص ہے اسکا تعلق برکات نبوت علیہ الصلوۃ والسلام سے ہے۔(ہاں یہ واضح رہے کہ ہر سالک کو کشف نہیں ہوتا ہاں عملی زندگی پر جو نتائج مرتب ہونے چائیے وہ مقصود ہیں۔)
لطائف روحانی :لطائف کے منور ہونے سے حضور حق کا احساس پیدا ہوتا ہے ،لطائف جسم میں ایک ایسی محسوسی قوت ہے جس سے نیک وبد کی تمیز ہوتی ہے ،لطائف کا تعلق برکاتِ نبوت سے ہے ۔جب لطائف ذکر اللہ سے منور ہوتے ہیں تو بندہ کو اللہ اور اسکے رسول سے محبت بڑھتی ہے ۔ایسا ایسا جذبہ اندروں نصیب ہوتا ہے کہ اللہ کا ذکر اوڑھنا بچھوڑنابن جاتا ہے،معرفت الہی نصیب ہوتی ہے۔
جاننا یہ چاہتا ہوں کیا ہندوں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوتا ہے؟
 دیکھا یہ گیا ہے کہ لطائف پر جب کفیات تیز ہوتی ہے ہیں تو توجہ الی اللہ بہت بڑھ جاتی ہے اور نماز میں عجیب لذت ملتی ہے ۔اور جب بندہ بے نمازیوں میں اٹھتا بیٹھتا ہے بازاروں میں گھومتا ہے تو لطائف بہت دھیمے پڑ جاتے ہیں ۔سب سے زیادہ روافضیوں کی صحبت سے لطائف پر برا اثر پڑتا ہے ،بعض اوقات تو ہاتھ ملانے سے ہی ایسا محسوس ہوتا ہے جسے تمام کفیات ختم ہوگئی ہے اور صحبت شیخ کے بغیر انکی بحالی کا پھر چارہ نہیں ،بعض کمزور صوفی کفیات کو بچانے کے لئے تنہائی اختیار کرتے ہیں اور عامہ الناس اسکو کرامت کا درجہ دیتی جو حقیقت میں کمزوری ہے
آخر میں ایک اہل حدیث صوفی کا واقعہ سنئے:
مولوی قطب الدین ؒ کا بیان :
آخر میں اس تمام بحث کو حضرت مولانا غلام رسول قلعویؒ کے ایک شاگرد و مرید مولوی قطب الدین صاحب ؒ کے بیان پر ختم کرتا ہوں، جس میں صوفیائے اہل حدیث کے طریق السلوک، یعنی بیعت، لطائف پر توجہ کر کے ذکر کرنا اور صحبت صوفیاء سے کیا حاصل ہوتا ہے، ذیل کے واقعہ سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ مولوی قطب الدین ؒ علوم ظاہری و باطنی میں مولانا غلام رسول قلعویؒ کے شاگرد تھے فرماتے ہیں:
”جب میں علوم امدادی سے فارغ ہو چکا، میں نے آپ (مولانا غلام رسولؒ) سے ترجمہ شروع کیا۔ ایک سیپارہ پڑھنے سے میرے تمام اذکار جاری ہو گئے ۔اس اثناء میں مولوی صاحب نے مجھ پر توجہ نہ کیاور نہ ہی میں نے آپؒ کے ہاتھ پر بیعت کی۔اللہ کی قسم میری بیعت والوں سے اچھی حالت تھی۔ میں اپنی ذات میں بڑا خوش تھا۔ ایسا ذوق اور ایسی حلاوت تھی جو بیان میں نہیں آ سکتی۔ میرے آنسو ہر وقت جاری رہتے تھے۔ یہاں تک کہ مجھے قر آن شریف پڑھنا اور مولوی صاحب کا بیان سننا مشکل تھا۔ جب میں مولوی صاحب سے سبق پڑھنا شروع کرتا تھا، اس طرح معلوم ہوتا تھا کہ گویا قر آن شریف اب نازل ہو رہا ہے۔ میں یہ خیال کرتا تھا کہ پڑھنے والا میں ہوں اور پڑھانے والے رسول اللہ
ہیں۔ میرے ہر رونگٹے سے ذکر کلمہ طیبہ جاری ہو گیا۔ میرے تمام گناہ بالمشافہ ہو گئے۔ میرے سامنے حشر برپا رہتا تھا۔ معلوم ہوتا تھا کہ ہر ایک کا حساب کتاب ہورہا ہے اور میں رب العالمین کے سامنے کھڑا ہوں۔ دنیا و مافیہا کی کچھ خبر نہ رہی۔ اگر نیند آتی میں جھٹ چونک اٹھتا۔ بھلا کس کو نیند اور کس کو آرام۔ کبھی مجھے ایسا کشف ہوتا کہ میں تمام جہان کو اور جو کچھ اس میں ہو رہا ہے اس کو دیکھتا ہوں۔ برابر میری وہ حالت تھی جو شیخ سعدی ؒ نے یعقوب ؑ کی حالت بیان کی ہے۔ کسی سائل نے آپ سے یوسف ؑ کا حال پوچھا۔ کہا آپ ؑ کو چاہ کنعان میں پڑا ہوا نہ معلوم ہو سکا اور مصر سے ان کے پیراہن کی خوشبو سونگھ لی۔ یعقوب ؑ نے فرمایا:
بگفت احوال ما برق جہا نست دمے پیدا و دیگر نہاں است
گہے بر طارم اعلیٰ نشینیم گہے پر پشت پائے خود نہ بینم
میں موضع کھبیکی میں، جو کہ قلعہ میہاں سنگھ سے ایک میل بجانب مغرب ہے، رات کو جا کر رہتا تھا۔ کیونکہ وہاں کوئی اہل علم نہیں تھا اور وہاں کے باشندوں نے مولوی صاحب کی خدمت میں درخواست پیش کی تھی کہ ہمیں کوئی اپنا طالب علم دیا جائے جو صبح سے شام تک آپ کے پاس رہا کرے اور شام کو کھبیکی پہنچ جایا کرے اور ہمیں نماز پڑھا دیا کرے۔ مولوی صاحب نے مجھے وہاں رہنے کا حکم دیا ہوا تھا۔ اس لئے میں روزانہ بعد عصر چلا جا تا تھا۔ ایک دن آپ نے مجھے جاتے وقت فرمایا :
”قطب الدین آج تمھیں رستے میں ایک بے دین صوفی ملے گا، اس سے پرہیز کرنا۔ اس کے پھندے میں نہ پھنس جانا وہ شیطان مجسم ہے۔“
میں مولوی صاحب سے روانہ ہوا۔ جب نصف فاصلہ طے کر چکا تو ایک آدمی کو اپنی طرف آتے دیکھا۔ ہرچند میں نے اس سے کنارہ کیا، مگر اس نے میرا نام لے کر پکارا اور مجھے ٹھہرا لیا، اور آتے ہی مجھے سینے سے لگا لیا۔ اس کے سینے سے لگتے ہی میرا تمام فیض اور تمام ذوقِ حلاوت جاتا رہا۔ صرف ایک لطیفہ قلب جاری رہا،باقی تمام جاتے رہے۔ میں شام کو کھبیکی پہنچا۔ نماز کو دل نہ چاہا لیکن بصد مشکل میں نے نماز ادا کی۔ صبح قلعہ مولوی صاحب کی خدمت میں حاضر ہونے کو دل نہ چاہتا تھا،لیکن دل پر جبر کر کے حاضر ہوا۔ آپ نے مجھے دیکھتے ہی فرمایا:
 میں مولوی صاحب سے روانہ ہوا۔ جب نصف فاصلہ طے کر چکا تو ایک آدمی کو اپنی طرف آتے دیکھا۔ ہرچند میں نے اس سے کنارہ کیا، مگر اس نے میرا نام لے کر پکارا اور مجھے ٹھہرا لیا، اور آتے ہی مجھے سینے سے لگا لیا۔ اس کے سینے سے لگتے ہی میرا تمام فیض اور تمام ذوقِ حلاوت جاتا رہا۔ صرف ایک لطیفہ قلب جاری رہا،باقی تمام جاتے رہے۔ میں شام کو کھبیکی پہنچا۔ نماز کو دل نہ چاہا لیکن بصد مشکل میں نے نماز ادا کی۔ صبح قلعہ مولوی صاحب کی خدمت میں حاضر ہونے کو دل نہ چاہتا تھا،لیکن دل پر جبر کر کے حاضر ہوا۔ آپ نے مجھے دیکھتے ہی فرمایا:
”قطب الدین وہ شیطان تمہیں مل گیا تھا۔ میں نے عرض کی حضرت میرے بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ لیکن جو کچھ رات بھر میرے خیالات میں تبدیلی ہوتی رہی اور جو کچھ میں نے دل سے بحث کی وہ عرض کر دیتا ہوں۔ آپ سے جس قدر فیض حاصل ہوا تھا، وہ اس کے ملنے سے کافور ہوگیا۔ نماز بھی مشکل سے ادا کی۔ دل کو بہت سمجھایا کہ میں عالم ہوں، میرا بے نماز ہونا بہت لوگوں کو گمراہ کرے گا۔ کبھی دل میں خیال آتا کہ کیا یہ شریعت نکمی ہے؟ کیا یہ قر آن مجید اور احکام فضول ہیں؟ رات انہیں خیالات میں گذر گئی ہے۔ صبح آپ کی خدمت میں دل پر جبر کر کے حاضر ہوا ہوں۔ آپ میری باتیں سن کر مسکرائے اور خلاف عادت مجھ سے معانقہ کیا۔ آپ کا معانقہ کرنا اور میرے وسوسوں کا دور ہونا، سبحان اللہ۔ وہی حلاوت، وہی لذت، وہی برکات پھر عود کر آئیں۔ آپ نے دیوان حافظ کا یہ شعر پڑھا؎
چہ نسبت است برندی صلاح وتقوی را۔۔۔۔۔۔۔ سماع وعظ کجا نغمہ رباب کجا
مجھے فرمایا:
”قطب الدین چہار شیخ جن سے سلسلہ صوفیہ شروع ہوا ہے،اور نام علیحدہ علیحدہ رکھے گئے ہیں،گویا ایک ہی چشمہ کی چار نالیاں ہیں۔ یعنی (نقشبندی ،سہروردی، قادری اور چشتی) اور اس چشمہ سے مراد رسول اللہ
کا چشمہ فیض ہے۔ جو حضور کا سرمو مخالف ہو وہ اس چشمہ کا، یا اس نالی کا، پانی نہیں پی سکتا۔ منتہائے مقصد سب کا ایک ہی ہے۔ صرف طریق اذکار میں فرق ہے۔ یہ مشائخ سب حضرت کی پیروی کے سخت پابند تھے۔ ان کے نام نہاد متبعین جاہلوں کا قصور ہے اور وہ مخص متہم کیے گئے ہیں۔ ورنہ وہ لوگ دنیاوی آلودگیوں سے پاک اور دین کے لئے جان تک قربان کر دینے کے لئے ہر دم تیار رہتے تھے۔ انہوں نے پاک زندگی بسر کی۔
توجہ دینا یا ذکر سکھانا بادی الریٰ لوگوں میں بدعت ہے اور وہ بھی اس کو ان کے اختراعات سے جانتے ہیں۔ یہ ان کی غلط فہمی اور قر آن و حدیث میں یہ تدبر نہ کرنے کے نتائج ہیں، ورنہ ان کا اثر اگر نظر عمیق اور قلب سلیم سے قر آن وحدیث کا دیکھا جائے پایا جاتا ہے۔ افسوس اور صد افسوس ایسے لوگوں پر جو ایسے لوگوں کو اہل بدعت کہے اور ان پر طعن و تشنیع کرے۔ یہ لوگ محافظ اور حامی دین ہوئے ہیں۔ ان کےیہ طریق دین کی خاطر تھے۔ اول روح کو ذکر و افکار؟ سے صاف کر لیتے پھر استقامت علی الدین کے لئے تلقین فرماتے۔ اسی کی طرف آیہ کریمہ میں ارشاد ہے۔ ان الذین قالو ربنا اللہ ثم استقاموا۔ ان کے اصاف حمیدہ اوراعمال مخلصانہ مطابق رسول اللہ
کے تھے۔ گویا وہ مجسم دین تھے،ان کے افعال کی خبر دے رہے ہیں کہ اسلام اس کا نام ہے ۔
پھر آپ نے مجھ سے بیعت لی اور فرمایا وہ شیطان آج پھر تمہیں ملے گا۔ ان شاء اللہ تعالیٰ اسکا اثر تجھ پر کچھ نہیں ہو گا۔ چنانچہ جب میں جا رہا تھا پھر شام کے وقت وہ فقیر اسی جگہ پر ملا۔ اس نے مجھے بلایا،میں ٹھہر گیا۔ میرے پاس آ کر کہنے لگا تیرا مرشد زور والا ہے۔ تم جاؤ۔ بس میں چلا گیا۔ صبح کو جب میں پھر خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے مسکرا کر فرمایا:
”اب اس کا تجھ پر نہ اثر ڈالنا یہ میری بیعت کا سبب ہے۔ میں نے عرض کیا حضرت! اگر وہ شیطان ہے پھر اتنی جلدی اس کا اثر کیوں ہوتا ہے،حالانکہ خدا وند کریم نے فرمایا ہے إِنَّ عِبَادِي لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطَانٌ۔[سورة الإسراء – الآية 65] فرمانے لگے،یہ تو سچ ہے،مگر اب تک عباد میں داخل نہیں ہوئے،جب آپ بندہ خدا بن جائے گے،تو پھر شیطان تم کو دیکھ کر بھاگے گا۔ کیا حضرت عمر؄ کا حال تم نے نے نہیں سنا۔ یہ بھی فرمایا کہ بد بو خوشبو پر اکثر غالب آ جاتی ہے، ہاں جب خوشبو کا انسان عادی ہو جائے تو پھر بد بو دماغ کو ضائع کر دیتی ہے، بلکہ بعض اوقات عمدہ دماغ کے آدمی ہلاک ہو جاتے ہیں ،شیخ سعدیؒ نے اسی طرف اشارہ کیا ہے ؎
 تحکم کند سیر بوئے گل
انسان کو خدا وند کریم نے صحیح ایماندار کی شناخت کا میعارعطا فرمایا ہے۔فَاِنْ اٰمَنُوْا بِمِثْلِ مَآ اٰمَنْتُمْ بِہٰ فَقَدِ اھْتَدَوْا۔وَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَاھُمْ فِیْ شِقَاقٍ۔ (بقرہ:
۱۳۷)یعنی اصحابوں کا ایمان۔ جو اس کسوٹی پر پورا نہ اوے وہ مومن نہیں،اور نہ ہی مرشد بن کر بیعت لینے کے لائق ہےمولوی رومی صاحب کا اسی طرف اشارہ ہے ؎
اے بسا ابلیس آدم روئے ہست پس بہر دستے نباید داد دست
مولوی قطب الدین صاحب فرماتے تھے کہ میں بھی اس وقت تحصیل یافتہ تھا لیکن آپ کی اس تقریر سے میرا دل صاف ہو گیا میں حق ایمان کا سمجھ گیا یقین کر لیا کہ ایمان اس کا نام ہے کئی صوفی وغیرہ وغیرہ دیکھے لیکن دل نہیں چاہا کہ ان کے پاس بیٹھا بھی جائے۔ میرے خیال میں کوئی ایسا آدمی شاید ہی ہو مگر میں نے نہیں دیکھا۔مولانا کے کلام کا ایک اور جملہ یاد آ گیا جو کہنے کے قابل ہے ،خلاف شرع کوئی شخص ہو خواہ ہندو، خواہ مسلمان، زہد اور ریا ضت کر لے اس کو دنیا میں ثمرہ مل جاتا ہے۔ اس کے ملنے سے استدراج کے طور پر دوسرے پر بھی غالب آ جاتا ہے۔ خلاف شرع بھی پہلے اللہ کا نام لیتے ہیں اور اسی کو پکا رتےہیں،وہی طالب کے دل پر جاری ہوتا ہے۔نور اور درجات اور بقا درجات اتباع رسول اللہ
سے ہی حاصل ہوتا ہے ،اگر ایسے لوگوں کا مقابلہ اہل شرع سے شریعت کے کاموں میں ہو تو اہل شرع کو خدا وند کریم غلبہ دے گا ،یہ اس کا وعدہ ہے لا غلبن انا ورسلی۔(30)