Jul 1, 2014

مولانا محمد ابرہیم میر سیالکوٹیٌ اور احسان و سلوک

2 comments
مولانا محمد ابرہیم میر سیالکوٹیٌ اور احسان و سلوک
:مولانا محمدابرہیم میر سیالکوٹی ؒ تعارف وخدمات
مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹیؒ ۱۸۷۴ ؁ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے ،آپکے والد کا نام سیٹھ قادر بخش تھا۔مرے کالج سیالکوٹ سے میٹرک پاس کیا۔شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال ؒ آپکے کالج فیلو تھے۔آپکو مولانا عبید اللہ غلام حسن سیالکوٹیؒ اور حافظ عبدالمنانؒ وزیرآبادی سے روحانی عقیدت حاصل تھی۔آپ نے حدیث کی سند حضرت شیخ الکل سید نذیر حسین دہلویؒ سے حاصل کی۔بڑے بڑے علماء نے آپکے سامنے زانو تلمذ تہ کیا،ان میں مولنا محمد اسماعیل سلفیؒ اور مولنا عبد لمجید سوہدری ؒ اور مولانا احمد دین گگھڑوی جیسے عقبری اور نابغہ روزگارعلماء کا نام لیا جا سکتا ہے۔آپ مختلف موضوع پر کتب کثیرہ کے مصنف ہیں۔فہم قرآن میں آپکو خصوصی ملکہ حاصل تھا۔آپکی تصنیفات کی تعداد ایک صد تک بتائی جاتی ہے۔

۱۹۰۶ ؁ میںآپ نے آل انڈیا اہلحدیث کانفرنس میں آپ نے شرکت فرمائی۔کانفرنس کو پورے ملک میں متعارف کرونے کیلئے جب تین اشخاص کا انتخاب کیا گیا ،ان میں سے ایک آپ بھی تھے۔
۱۹۱۶ء ؁ میں ُُٓٓ آپ مسلم لیگ میں شامل ہو گئے ،آپ تحریک پاکستان کے سر گرم حامیوں میں سے تھے۔ آپ نے مولانا شبیر احمد عثمانیؒ کے ساتھ مل کر جمعیت علماء اسلام کے نام سے ایک جماعت بنائی۔اور اس جماعت کی تشکیل کا مقصدقیام پاکستان کی معاونت تھا۔آپکی ایک کتاب کا نام ’’ پیغام در تاہید مسلم لیگ‘‘ کے نام سے بھی ہے۔
ہر مکتبہ فکر میں آپکو تبحر علمی اور وسعت مطالعہ کی بنا ء پر احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔مولانا محمد ابراہیم میر سیالکوٹیؒ تہجد گزار ،شب زندہ دار ،ااحسان وسلوک کے رموز سے آشنا ،با عمل عالم وصوفی تھے۔آپ نے۱۲ جنوری ۹۱۵۶ ؁ء کو وفات پائی۔آپکی نماز جنازہ حافظ عبداللہ روپڑی ؒ نے پڑھائی،اللہ تعالیٰ آپکے درجات میں بلندی عطا فرمائیں۔
 مولانا محمدابرہیم میر سیالکوٹیؒ اور تذکرہ نگار:۔ آپکے حا لات زندگی پر مستقل کوئی تصنیف میری نظر نہیں گزری ،البتہ مسلک اہل حدیث میں آپکی مرکزی حثیت کی وجہ سے آپکا ذکر خیر جا بجا ضرور ملتا ہے۔مسلک اہل حدیث اور توحید وسنت کی اشاعت میں آپ ؒ کا بڑا واضح کردار ہے۔بلکہ آپ کہہ سکتے ہیں،جو چمنستان آج مسلک اہل حدیث کے نام سے قائم و دائم ہے،اسکی آبیاری میں آپکی قلم و قرطاس اور خطابت کا جوہر بھی موجود ہے۔مسلک اہل حدیث کی اشاعت کا صل سبب یہی علمائے ربانین ( صوفیاء عظام )ہی تھے،جنہوں نے شرک وبدعت کا خاتمہ کر کے تو حید باری تعالیٰ سے دنیا کو آشنا کیا۔ان صوفیا عظام رحم اللہ اجمعین کی خدمات دین تاریخ کا ایک روشن باب ہیں۔ان علما ء کاملین میں سے ایک امام العصر مولانا محمد ابراھیم میر سیالکوٹیؒ بھی ہیں۔جو مسلکاً اہلحدیث اور علم ظاہر وباطن میں کامل و اکمل تھے۔
مجھے اس بات پر نہایت قلق ہوا،کہ اس مرد کامل کا ذکر سیر وسوانح کی کتب میں جہاں بھی ہوا،آپ کے دیگر کارناموں کو تو شرف قبولیت بخشی گئی،مگر آپکا جو تعلق تصوف کیساتھ تھا،اسکو لائق التفات ہی نہ سمجھا گیا۔علمائے مسلک اہلحدیث کے کارناموں کو اجاگر کرنے والے ہمارے عہد حاضرہ کے مصنفین آپکی حیات طیبہ کے اس روشن پہلو سے پہلو تہی کرتے نظر آتے ہیں،ملک عبد الرشید صاحب ویسے بھی علماء اہلحدیث کے تذکرہ میں جہاں تصوف و سلوک کی بات آ جاتی ہے،اولیں کوشش میں نظر انداز کرتے ہیں ،اگر با امر مجبوری ،چارو ناچار ذکر کرنا پڑ ہی جائے تو نہات شاطرانہ طرز سے دبے لفطوں میں’’روحانی فیض وغیرہ‘‘ پر ہی اکتفاء کر کے گزر جاتے ہیں،آلبتہ عراقی صاحب کی نسبت مولانا اسھاق بھٹی صاحب کا قلم کچھ بے باک سا لگتا ہے،کیا ہی اچھا ہوتا جہاں بھٹی صاحب نے آپ ؒ کی جہاں جلالی طبعیت کو(قافلہ اہلحدیث میں )اجاگر کیا۔وہاں اس ضمن میں بھی کچھ ارشاد فرما دیتے،تا کہ آپؒ کی زندگی کے تمام پہلو منکشف ہو جاتے۔ممکن ان حضرات کی کچھ مجبوری بھی ہو۔کیونکہ آجکل کافر ومشرک اور بدعتی و وہابی وغیرہ جیسے الفاظ سے مخالفین کو نوازنا ایک عام سی بات ہو گئی ہے۔مگر وقت اور حا لات کا تقاضا یہ ہے کہ ان غیر معتدل اور منشددین حضرات کی پرواء کیے بغیرجو تعلق علماء اہلحدیث کا تصوف واھسان کیساتھ تھا،اسکو برسر منبر بیان کیا جائے۔کیونکہ اصل معاملہ تو رب العالمین کیساتھ ہے،نہ کہ ان جہلا و ضدی لوگوں سے۔

2 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

علمی وفکری اختلاف آپ کا حق ہے۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔