Aug 15, 2014

اولین مصحف قرآن(حیات طیبہ حصہ دوم)

0 comments
اولین مصحف قرآن
قرآن حکیم کے حوالے سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ خصوصی اعزاز حاصل ہے کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پورے قرآن مجید کو ایک مصحف کی صورت لکھوا کر محفوظ کر لیا۔ نزول قرآن کے ساتھ ساتھ حضورﷺ نے صحابہ کبار بشمول حضرت عثمان‘ حضرت علی‘ حضرت ابی بن کعب‘ حضرت زید بن ثابت‘ حضرت معاویہ اور حضرت حنظلہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کو آیات کی ترتیب اور مقام بتا دیئے جس کے مطابق آیات اور سورتوں کو اہتمام کے ساتھ لکھ لیا جاتا۔ اسی ترتیب کے مطابق صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی ایک بڑی تعداد نے قرآن حکیم کو اپنے سینوں میں محفوظ کر لیا۔ 
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں مسیلمہکذاب سے جنگ یمامہ کے دوران 1260 صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم شہید ہوئے جس میں حفاظ کرام کی بہت بڑی تعداد تھی۔ چونکہ حفاظت قرآن کا ایک ذریعہ حفاظ کرام بھی تھے‘ کثرت سے ان کی شہادتوں کو دیکھتے ہوئے حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مشورہ دیا کہ قرآن حکیم کو تحریری صورت جمع کر لینا چاہیے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس مشورے کو پسند کیا اور حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس کام پر مامور کیا جو حضورﷺ کے مقرر کردہ کاتب وحی بھی تھے۔ انہوں نے قرآن حکیم کے تحریر شدہ مختلف حصوں کو اکٹھا کیا اور حفاظ کرام کی مدد سے حضورﷺ کی دی ہوئی ترتیب کے مطابق پورے قرآن کا مصحف تیار کیا جو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس رہا‘ پھر حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے بعد ام المؤمنین حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس محفوظ رہا۔ حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسی مصحف کی مدد سے قرآن مجید کو ایک قرأت پر جمع کیا۔
شجاعت
مسند بزاز میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ کفار قریش نے حضورﷺ پر دست درازی شروع کر دی۔ اس عالم میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ دیوانہ وار آگے بڑھے۔ انہوں نے کسی کو ہٹایا‘ کسی کو دھکا دیا اور حضورﷺ کو کفار کے نرغہ سے نکال لائے۔ ساتھ ساتھ کہہ رہے تھے‘ اَتَقْتُلُوْنَ رَجُلاٌ اَنْ یَّقُوْلَ رَبِّیَ اللّٰہُ بدبختو! تم انہیں اس لئے قتل کرو گے کہ یہ کہتے ہیں اللہ میرا رب ہے۔ (الرحیق المختوم) یہ بیان کرتے ہوئے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ریش مبارک تر ہو گئی اور فرمانے لگے: آل فرعون کا مومن اچھا تھا یا ابو بکررضی اللہ تعالیٰ عنہ؟ واللہ! ابو بکررضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک لمحہ آل فرعون کے مومن جیسے شخص کے ہزاروں لمحات سے بہتر ہے‘ اس لئے کہ وہ شخص اپنا ایمان پوشیدہ رکھتا اور حضرت ابو بکررضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے ایمان کا اعلان کرتے تھے۔
حضرت ابو بکررضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زندگی شجاعت و بہادری کی عظیم مثالوں سے عبارت ہے۔ ہجرت کا واقعہ ایک پر خطر راز تھا لیکن نہ صرف آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بلکہ پورے گھرانے کے سینے اس راز کا مدفن بن گئے۔ بدطینت ابو جہل نے حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اس زور کا طمانچہ مارا کہ ان کی بالی کان سے جدا ہو گئی لیکن وہ یہ راز نہ اگلوا سکا۔
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کہتے ہیں کہ ہم میں سب سے زیادہ جری اور بہادر وہ سمجھا جاتا جو جنگ و حرز میں حضورﷺ کے سب سے زیادہ قریب ہوتا کیونکہ دشمنوں کا سب سے بڑا ہدف حضورﷺ کی ذات مقدسہ ہی تھی۔ غزوہ بدر میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ اعزاز ہے کہ وہ عریش بدر میں غزوہ کے آغاز سے آخر تک حضورﷺ کے ساتھ رہے۔ غزوۂ احد میں جو بارہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم آپﷺ کے پہلو میں کفار کے بھرپور حملہ کے مقابلے میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر محافظت کا حق ادا کر رہے تھے‘ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ان میں شامل تھے۔ اسی طرح غزوہ حنین میں جب کفار کی شدید تیر اندازی کی وجہ سے لشکر اسلام میں ابتری پیدا ہوئی تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ان چند جانبازوں میں شامل تھے جو حضورﷺ کے ساتھ تھے۔ غرض ہر مرحلہ میں حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضورﷺ کے ساتھ نظر آتے ہیں۔
حضورﷺ کے وصال کے فوراً بعد فتنۂ ارتداد‘ جھوٹے مدعیان نبوت‘ قبائل کی بغاوت اور منکرین زکوٰۃ جیسے فتنوں نے یک بارگی زور پکڑا لیکن حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ان تمام محاذوں سے بیک وقت نبٹنا‘ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شجاعت‘ استقلال اور حوصلہ مندانہ طرز عمل کا ثبوت ہے۔جس وقت مجاہدین اسلام مدینہ منورہ سے دور مختلف محاذوں پر برسرپیکار تھے‘ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مدینہ منورہ کی حفاظت کی حکمت عملی تیار کی۔ باغیوں کے ایک گروہ نے مدینہ منورہ پر شب خون مارا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خود ان کا مقابلہ کیا اور جب باغیوں نے پسپائی اختیار کی تو دور تک ان کا تعاقب کیا۔ باغیوں نے دوبارہ حملہ کی تیاری شروع کی تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لشکر اسلام کی خود قیادت فرماتے ہوئے پو پھٹنے پر باغیوں کے کیمپ پر حملہ کر دیا اور ان کا صفایا کرتے ہوئے نجد کے راستے پر مقام ذوالقصہ تک ان کا تعاقب کیا۔ اس واقعہ کے بعد باغیوں کو دوبارہ مدینہ منورہ پر حملہ کرنے کی جرأت نہ ہو سکی۔ شجاعت و بہادری کے ساتھ ساتھ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاں بہترین جنگی حکمت عملی اور منصوبہ بندی بھی ملتی ہے جس کے نتیجے میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور خلافت میں‘ جو انتہائی پرخطر دور تھا‘ اسلامی حکومت کو استحکام اور وسعت نصیب ہوئی۔
انتہائے فنائیت
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے:
دَارُنَا فَانِیَۃٌ وَاَحْوَالُنَا عَارِیَۃٌ وَاَنْفَاسُنَا مَعْدُوْدَۃٌ  وَکَسْلُنَا مَوْجُوْدَۃٌ
ہمارا دنیا کا یہ گھر فانی ہے اور یہاں کے احوال و اسباب ہمارے پاس ادھارے ہیں‘ ہمارے سانس بھی گنتی کے ہیں لیکن پھر بھی ہم غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جس درجہ میں مقام فنا حاصل تھا‘ کوئی صوفی اس درجہ کے قریب بھی نہیں پہنچ سکتا۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے درجۂ فنایت کی شہادت خود آقائے نامدارﷺ نے ان الفاظ میں دی:
مَنْ اَرَادَ اَنْ یَنْظُرَ اِلٰی مَیِّتٍ یَمْشِیْ عَلٰی وَجْہِ الْاَرْضِ فَلْیَنْظُرْ اِلٰی اِبْنِ اَبِیْ قَحَافَۃً۔ اَوْ کَمَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ
جو شخص مردے کو زمین پر چلتا پھرتا دیکھنا چاہے وہ ابن ابی قحافہ(رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کو دیکھ لے۔
اپنے ارادے کی مکمل نفی اور خود کو منشائے باری تعالیٰ اور آقائے نامدارﷺ کی مرضیات کے سپرد کردینے کی چلتی پھرتی تصویر سیدنا صدیق اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حیات طیبہ کی صورت نظر آتی ہے۔
حضرت جیؒ درجۂ فنائیت کے اس حال کے لئے ’’مردہ بدست غسال‘‘ کی اصطلاح استعمال فرمایا کرتے تھے کہ غسال جس طرح چاہے اسے حرکت دے‘ مردہ خود حرکت کرنے سے لاچار ہے۔ آپؒ فرمایا کرتے کہ شیخ کے سامنے مرید کی بھی یہی حالت ہونی چاہیئے کہ اس کی اپنی خواہش اور ارادے کا وجود مٹ جائے۔
حقیقی تصوف
بات منازل ِ ولایت کی انتہا کی ہو تو دائرہ صدیقیت کا ذکر ملتاہے اور مناصبِ ولایت کا ذکر چھڑ جائے تو یہاں بھی بصد ادب و احترام منصبِ صدیق کا نام لینے کے بعد زبان رک جاتی ہے۔ دنیائے تصوف کی یہ عظمتیں جس ہستی کے نام سے موسوم ہیں‘ کسی بڑے سے بڑے صوفی کی اس ہستی سے کیا نسبت ہو سکتی ہے! سلوک حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہپر ختم‘ تصوف آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہپر تمام اور درجہ احسان میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ یکتا لیکن تصوف کے نام پر آج جس بے عملی کا مظاہرہ کیا جاتاہے‘ کیا اس کا کوئی شائبہ بھی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاں نظر آتاہے؟ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سیرت اہل اللہ کے بارے میں پائی جانے والی اس عمومی غلط فہمی کاازالہ کرتی ہے جس کے مطابق گوشہ نشینی اور ترک دنیا کو تصوف سمجھا جانے لگا ہے۔ 
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سیرت دنیوی وسائل سے نفرت کا نہیں بلکہ ان کے حصول کا پیغام دیتی ہے تاکہ وسائل کو اللہ کے راستے میں دین کی سربلندی کے لئے اور طاغوت کے مقابلے میں استعمال کیا جا سکے۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اکثر یہ دعا کیا کرتے:
اَللَّھُمَّ ابْسُطْ لِیَ الدُّنْیَا وَزَھِّدْنِیْ عَنْھَا
اللہ! دنیا کو میرے لئے فراخ بنا لیکن اس میں مبتلا ہونے سے بچا۔
آقائے نامدارﷺ کے عالم برزخ میں تشریف لے جانے کے بعد امت پر جو مشکل ترین وقت آیا‘ اس موقع پر جناب صدیق اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پائے استقلال میں ذرہ بھر لغزش نہ آئی۔ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے احتیاط کے پیش نظر مشورہ دیا کہ جھوٹے مدعیان نبو ت اور منکرین زکوٰۃ سے باری باری نمٹا جائے اور جیش اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روانگی کو مؤخر کیا جائے لیکن سیدنا صدیق اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: جس پرچم کو رسول اللہﷺ نے کھولا تھا‘ میں اسے کس طرح لپیٹ کر رکھ دوں! لشکر اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو رخصت فرماتے ہوئے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو تقریر فرمائی اس سے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سیاسی نقطۂ نظر کی وضاحت ہوتی ہے۔ 
’’لوگو! میں تمہاری طرح کا انسان ہوں۔ مجھے کیا معلوم کہ تم مجھ پر وہ بوجھ ڈالوگے‘ جس کے اٹھانے کی طاقت صرف نبیﷺ کی ذات اقدس میں تھی۔ اللہ تعالیٰ نے تمام جہانوں کی مخلوق سے آنحضرتﷺ کو منتخب فرمایا تھا اور ہر قسم کی آفتوں سے محفوظ رکھا تھا۔ مجھ میں کوئی ہمت نہیں ہے۔ میرا کام آنحضرتﷺ کی اطاعت بجا لانا ہے۔ میں کوئی نئی چیز آپ لوگوں کے سامنے پیش نہیں کروں گا۔ اگر میں سیدھا رہوں تو میری اطاعت کرو۔ اگر ٹیڑھی راہ اختیار کروں تو مجھے سیدھا کردو۔‘‘
جیش اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مہم بین الاقوامی اثرات کی حامل تھی۔ اس لشکر کی روانگی سے اس وقت کی سپر پاور سلطنت روم کو یہ پیغام مل گیا کہ مسلمان اپنی سرحدوں کی حفاظت کرنا جانتے ہیں۔ دوسری طرف یہود سمجھ گئے کہ بین الاقوامی ریشہ دوانیوں سے‘ خاص طور پر نصاریٰ کے ذریعے‘ مسلمانوں سے اپنی جلاوطنی کا بدلہ لینا ممکن نہیں۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تینوں محاذوں پر بیک وقت جنگ لڑی۔ لشکر اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو روانہ کرنے کے ساتھ ساتھ جھوٹے مدعیان نبوت کے خلاف لشکر کشی کی اور اس فتنہ کا سدباب فرمایا۔ مرتدین اور منکرین زکوٰۃ کی اصلاح کے لئے خطوط لکھے لیکن جو سمجھنے کے لئے تیار نہ تھے‘ طاقت سے ان کی سرکوبی فرمائی۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فرمان ہے:
اَوَیُنْقَصُ الْاِسْلَامُ وَاَنَا حَیٌّ (مشکوٰۃ شریف)
کیا اسلام کو نقصان پہنچے گا اس حالت میں کہ میں ابھی زندہ ہوں۔
یہ ہے وہ سراپا عمل تصوف جس کا پیغام حضرت صدیق اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دیا۔ اس کے علاوہ تصوف کا ہر وہ مفہوم جو حقائق سے فرار‘ سمجھوتے یا بے عملی کی کوئی بھی صورت پیش کرتا ہے‘ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کردار اور تعلیمات کے منافی ہو گا۔
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تصوف کے جدامجد ہیں‘ غیر انبیاء میں ولایت الٰہی کے بلند ترین منصب پر فائز ہیں اورآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عملی زندگی حقیقی تصوف کا مکمل نمونہ ہے ۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شخصیت کایہ عملی پہلو ہر صوفی کے لئے واجب الاتباع ہے اور اس کے خلاف ہر طرز عمل‘ خواہ اسے تصوف کی آڑ میں کوئی بھی نام دیا جائے‘ ترک دنیا کہا جائے یا ملامت کے نام پر شریعت سے اعراض کی گنجائش پیدا کی جائے‘ حقیقت سے فرار تو کہلا سکتا ہے لیکن اس کا اس حقیقی تصوف سے کوئی واسطہ نہیں۔
حضرت امیر المکرم حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سیرت کے عملی پہلو کو اپنے خطابات کا موضوع بناتے ہوئے اس ضمن میں اکثر یہ مثال دیا کرتے ہیں کہ اگر کسی شخص کو ٹینک جیسا مؤثر ہتھیار مل جائے اور وہ ہر وقت اس کو چمکانے‘ سنوارنے اور اس کی دیکھ بھال میں لگا رہے‘ دشمن اس کے سامنے آ جائے لیکن وہ فائر نہ کرے بلکہ بدستور ٹینک کی صفائی میں مصروف رہے تو اسے چاہیے کہ اس ٹینک میں اپنی قبر بنا لے۔ وہ صوفی جو مسلسل ذکر و فکر سے باطن کی صفائی میں تو لگا رہے لیکن تعلق باللہ سے حاصل ہونے والی قوت کو شیطان کے خلاف استعمال نہ کرے‘ اس کا ذکر و فکر میدان عمل میں قدم رکھنے سے مانع ہو اور اس کے منازل و مراقبات حقیقت گریزی کا سبب بن جا ئیں تو اسے حاملِ تصوف کہنا محض ایک خود فریبی ہو گی۔
منصبِ صدیق
آقائے نامدارﷺ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں ارشاد فرمایا:
مَا صَبَّ اللّٰہُ فِیْ صَدْرِیْ شَیْءًا اِلَّاصَبَبْتُہٗ فِیْ صَدْرِ اَبِیْ بَکْرٍ اَوْ کَمَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ
اللہ نے جو میرے سینہ میں ڈالا‘ وہ میں نے ابوبکر کے سینہ میں ڈال دیا۔
ایک دوسری روایت میں عظمت حضرت صدیق اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ اس طرح بیان فرمائی گئی:
لَایَبْقِیَنَّ فِیْ الْمَسْجِدِ بَابٌ اِلَّابَابَ اَبِیْ بَکْرٍ اَوْ کَمَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ
’’میری مسجد میں کوئی دروازہ باقی نہیں سوائے ابو بکر(رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کے دروازے کے ۔‘‘
اس حدیث مبارک کی تشریح میں حضرت خواجہ عبیداللہ احرارؒ فرماتے ہیں:’’حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زندگی آقائے نامدارﷺ کی کامل و اکمل محبت سے عبارت ہے۔ لہٰذا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں حاضری کا واحد دروازہ محبت ہے جس کی علامت حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں۔ سلسلہ نقشبندیہ آقائے نامدارﷺ سے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ذریعہ منسلک ہے۔ حضورﷺ کی محبت طالب کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دروازہ پر لے آتی ہے جو اسے حضورﷺ کی محبت تک پہنچا دیتا ہے اور آپﷺ کی محبت اسے اللہ تعالیٰ کی محبت سے ہمکنار کر دیتی ہے۔‘‘
حضرت امیر المکرم نے برکات نبویﷺ کے ضمن میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی افضلیت اس طرح بیان فرمائی کہ نبی کریمﷺ کی جس قدر برکات حضرت ابوبکررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حاصل کیں‘ ان میں کوئی دوسرا ان کا ثانی نہیں ہے۔ ان کے بعد جس طرح سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حاصل کیں‘ پوری امت میں پھر ان کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ ان کے بعد جس درجہ میں حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حاصل کیں‘ پوری امت میں ان کا کوئی ثانی نہیں۔ ان کے بعد جس درجہ میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حاصل کیں‘ ان کے بعد کوئی ان کا ثانی نہیں ہے۔ فیوض و برکات کا مخزن و منبع سینۂ اطہر رسول اللہﷺ ہے اور آپﷺ کا ارشاد ہے کہ میرے سینے سے جوکچھ ابوبکر کے سینہ میں انڈیلا گیا ہے‘ وہ سوائے ابوبکر کے کسی اور کو نصیب نہیں ہوا۔ اب ہر طالب کو نبئ کریمﷺ تک رسائی کے لئے باب صدیق اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہی گزرنا ہوگا۔
حضرت امام غزالیؒ کیمیائے سعادت میں فرماتے ہیں کہ ہر شخص اپنی اپنی معرفت کے مطابق دیدار الٰہی سے مشرف ہوگا۔ جو بڑا عارف ہوگا اس کا دیدار الٰہی سے مشرف ہونا بھی بطریق کامل ہوگا۔ حضرت ابوبکر صدیقرضی اللہ تعالیٰ عنہ کی معرفت کا درجۂ کمال اس حدیث مبارک سے واضح ہے جو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے علاوہ اور کسی کا حصہ نہیں:
اِنَّ اللّٰہَ یَتَجَلّٰی لِلنَّاسِ عَامَّۃً وَلِاَبِیْ بَکْرٍ خَاصَّۃً اَوْ کَمَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِﷺ
اللہ تعالیٰ عوام کے لئے بالعموم تجلی فرمائے گا اور حضرت ابوبکررضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لئے بالخصوص۔
امام ربانی حضرت مجدد الف ثانیؒ فرماتے ہیں:
’’میں نے جملہ اولیاء متقدمین کرام کے مدارج اور مقام کی سیر کی تاآنکہ صحابہ کرام کے ولایت کے مقامات کو دیکھا کہ جملہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم فیضان نبوتﷺ کے فیض اور انوار سے مستفیض ہیں اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فیضان محمدی علیٰ صاحبھا الصلوٰۃ والسلام سے مستفیض ہیں۔‘‘
حضرت شیخ احمد سرہندیؒ فضیلت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ضمن میں مزید لکھتے ہیں کہ نبوت اور صدیقیت کے درمیان کوئی فصل نہیں جس کی دلیل سورۃ النساء کی یہ آیات ہے۔ جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کیا یعنی انبیاء اور صدیقین اور شہدا اور صالحین۔ (النساء آیت 69)
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نام نامی کی نسبت سے مناصب اولیاء میں سب سے بڑا منصب ہی ’’صدیق‘‘ ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہؒ نے حامل منصب صدیق کے لئے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اوصاف کو بطور معیار تحریر کیا ہے مثلاً وہ حق جو نبیﷺ پر نازل ہوا‘ اس کی محبت میں اپنی جان ومال تک قربان کر دیتا ہے‘ اس حق کی محبت کے باعث کسی امر میں اختلاف نہیں کرتا‘ اس کا علم بالرویا ہونا‘ بغیر معجزہ (دلیل) کے سب سے پہلے ایمان لانا‘ حب الٰہی میں غرق رہنا‘ خوف و خشیت سے مغلوب رہنا‘ یہی اوصاف کسی بھی دور میں ایک ’’صدیق‘‘ کے مزاج کا خاصہ ہوں گے۔
حضرت جیؒ نے سیدنا صدیق اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مناقب میں بیان فرمایا کہ منصبِ صدیق سے آگے ایک منصب قربِ عبدیت کا بھی ہے جو سوائے صدیق اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ کے‘ جو صدیق بھی ہیں اور حامل قرب عبدیت بھی ہیں‘ اللہ تعالیٰ نے کسی اور کو عطا نہیں فرمایا۔ آپؒ فرمایا کرتے تھے کہ اولیائے کرام میں جب منصب ِ صدیق کا ذکر ہو گا تو اس کا تقابل کسی بھی طرح حضرت صدیق اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کرنا مقصود نہیں۔ غیر صحابہ میں اس منصب کی حیثیت ایک پرتو کی سی ہے۔ حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا منصب اور ایک غیر صحابی کا صدیق ہونا‘ دونوں میں کوئی تقابل ممکن ہی نہیں۔ 
مشائخ تصوف میں سے اس منصب کے حاملین کی تعداد انتہائی اقل ہے۔ غیر صحابہ میں سے حضرت امام احمد بن حنبلؒ پہلے صدیق تھے جن کے بعد ایک نام حضرت امام غزالی ؒ کا ہے۔ اس کے بعد نگاہ سیدھی حضرت جیؒ پر آ کر رک جاتی ہے۔یہ اس دور ہی کا خاصہ ہے کہ ایک طرف ظلمت اس انتہا کو پہنچ رہی ہے جو اس سے پہلے کبھی نہ تھی‘ تو اسے برکات نبوت سے قطع کرنے کے لئے حضرت جیؒ جیسی بلند مرتبت ہستی عطا فرمائی اور ان سے متصل حضرت امیرالمکرم کو پھر وہی قوت عطا فرمادی جو نور و ظلمت میں توازن برقرار رکھنے کے لئے ضروری تھی۔
حضرت امیر المکرم نے مقاماتِ ولایت کے حوالے سے دائرہ صدیقیت کا بھی تذکرہ فرمایا ہے جو عالم امر میں چوبیسواں دائرہ ہے۔ یہ منصب نہیں بلکہ مقام ہے۔ اس مقام سے آگے ولایتِ انبیاء علیہم السلام شروع ہوتی ہے جس میں کسی ولی کا قدم رکھنا اس خاکروب کی مانند ہے جسے اپنی ڈیوٹی کی انجام دہی کے دوران شاہی محل میں جانا نصیب ہوجائے۔ اولیاء کرام میں جب کسی صدیق کا ذکر ہو گا تو اس کی حیثیت بھی اسی طور سمجھی جائے۔
سلسلہ تصوف خواہ کوئی بھی ہو اور اس کے شجرہ میں مشائخ عظام جو بھی ہوں‘ گذشتہ باب میں حضرت امیر المکرم کے خطاب میں یہ حقیقت بیان ہو چکی کہ برکات نبویﷺ کا واسطہ حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ذات والا صفات ہے لیکن نسبت اویسی سے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا تعلق ایسا منفرد ہے جس پر سلسلہ اویسیہ بجا طور پر خصوصی افتخار کا مستحق ہے۔ اس کا ادراک ان احباب کو بخوبی ہوا ہو گا جنہیں روحانی بیعت کی سعادت نصیب ہوئی۔ آقائے نامدارﷺ کے دست اقدس پر روحانی بیعت کے بعد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دست مبارک کو ہاتھوں میں لینے اور اس کا بوسہ لینے کی سعادت بھی نصیب ہوتی ہے۔ ایسے احباب کی کمی نہیں جنہیں یہ روح پرور نظارہ بخوبی یاد ہو گا اور وہ ان مبارک ہاتھوں کا لمس بھلا نہیں سکتے۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

علمی وفکری اختلاف آپ کا حق ہے۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔