Aug 15, 2014

وصال

0 comments
وصال
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جمادی الثانی 13ھجری سے بخار کی شکایت شروع ہوئی جو پندرہ روز جاری رہا۔بخار کے آغاز سے ہی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے وصال کا یقین تھا۔ مطمئن تھے کہ ہر کام اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے کیا ہے‘ اللہ ہی اجر دینے والا ہے اور بہتر اجر دے گا۔ اس بات سے بہت خوش تھے کہ نبی اکرمﷺ سے جلد ملاقات ہونے والی ہے۔
بیماری کے عالم میں اپنے معاملات کو اس طرح سمیٹنا شروع کیا گویا سفر آخرت کی تیاری ہے۔ سب سے پہلے اپنے جانشین کے بارے میں صائب الرائے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے فرداً فرداً رائے لی اور حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نامزدگی کا پروانہ لکھوایا جو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زندگی میں ہی پڑھ کر سنایا گیا۔ جب یہ فرمان پڑھا جا رہا تھا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے اور حاضرین نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی موجودگی میں 33 کہتے ہوئے قبولیت کا اعتراف کیا۔ اس کے بعد آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ کو وصیت فرمائی جو فصاحت و بلاغت‘ خطابت اور علم و حکمت کے ایک نادر نمونہ کے طور پر تاریخ میں محفوظ ہے۔
قومی امور سے فارغ ہونے کے بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے ذاتی امور کی طرف متوجہ ہوئے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو تحفتً دی ہوئی جائیداد میں ان کی اجازت سے ان کے بھائی بہنوں کو بھی شریک کیا۔ دورِ خلافت میں بیت المال سے جس قدر وظیفہ لیا تھا‘ اس کا تخمینہ لگایا اور اپنی زمین بیچ کر واپسی کا حکم دیا۔ آخر میں تجہیز و تکفین کے بارے میں  ہدایات دیں۔
وصایا سے فارغ ہوئے تو سکرات کا عالم شروع ہو گیا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا یہ شعر پڑھنے لگیں:
وَاَبْیَضُ تُسْتَسْقٰی الْغَمَامُ بِوَجْھِہٖ
مِثَالِ الْیَتَامٰی عِصْمَۃٌ لِلْاَرَامِلِ
وہ پرنور چہرہ جس کا واسطہ دے کر بادلوں سے بارش مانگی جائے‘ جو یتیموں پر مہربان ہو اور بیواؤں کی پناہ ہو۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے گوارا نہیں کیا کہ یہ شعر ان کے لئے پڑھا جائے۔ فوراً ٹوک دیا کہ یہ شان تو صرف رسول اللہﷺ کی تھی۔
اس موقع پر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سورۃ ق کی یہ آیت پڑھی۔
33333333
اور موت کی سکرات حق کے ساتھ آگئی‘ یہ وہی ہے جس سے تو کتراتا تھا۔
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تو سورۃ ق کی یہ آیت تلاوت کی لیکن اس وقت جبریل امین کون سی آیت تلاوت کر رہے تھے! اس بارے میں خود حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک روایت ہے کہ ایک مرتبہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضورﷺ کے سامنے یہ آیت تلاوت کی:
33333333
اے اطمینان پانے والی روح! اپنے پروردگار کی طرف لوٹ چل تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی۔ (سورۃ فجر آیت 27,28) پھر عرض کیا، یا رسول اللہﷺ! کیا خوب ارشاد ربانی ہے۔ آپﷺ نے فرمایا:
’’ہاں‘ اے ابو بکر(رضی اللہ تعالیٰ عنہ)! جب تم کو موت آئے گی تو اس وقت جبریل امین تم سے یہی کہیں گے۔‘‘ 
آخر وقت زبان مبارک پر یہ دعا تھی:
رَبِّ 
3333
اے رب تو مجھ کو مسلمان اٹھا اور صالحین کے ساتھ ملا۔
رفاقت ابدی
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ بعض صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا خیال تھا کہ وہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جنت البقیع میں شہدا کرام کے ساتھ دفن کریں گے جبکہ ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا چاہتی تھیں کہ اپنے حجرے میں رسول اللہﷺ کے پہلو میں دفن کریں۔ اسی اثنا میں غنودگی طاری ہوئی تو یہ آواز سنی:
ضَمُّوا الْحَبِیْبَ اِلَی الْحَبِیْبِ
دوست کو دوست کے پاس پہنچا دو۔
ہوش آنے پر معلوم ہوا کہ حاضرین نے بھی اس آواز کو سنا ہے۔اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے:
’’میں نے خواب میں دیکھا کہ تین چاند ٹوٹ کر میرے حجرے میں آن گرے ہیں۔ میں نے اپنا یہ خواب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کیا۔ پھر جب رسول اللہﷺ کا وصال ہوا اور آپﷺ کی میرے حجرے میں تدفین ہوئی تو حضرت ابوبکررضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے کہا‘ لو یہ تیرے چاندوں میں سے ایک ہے اور یہ ان سب میں بہتر ہے۔‘‘
دوسرا چاند آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود تھے جنہیں حضورﷺ کے پہلو میں جگہ ملی اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بعد تیسرا چاند حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وصیت کی تھی کہ میرا جنازہ آستانۂ اقدس کے سامنے رکھ کر عرض کرنا:
’’ السلام علیک یا رسول اللہﷺ! یہ ابوبکر حاضر خدمت ہے۔‘‘ 
اگر شرف باریابی ہو اور بابِ کرم وا ہو جائے تو آستانۂ اقدس میں دفن کر دینا‘ ورنہ جنت البقیع میں دفن کر دینا۔
امام رازیؒ نے سورۂ کہف کی تفسیر کے شروع میں حضرت صدیق اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کرامت بیان کرتے ہوئے لکھا ہے:
لَمَّا حُمِلَ جَنَازَۃٌ اِلٰی بَابِ قَبْرِ نَبِیﷺ وَنُوْدِیَ السَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ھَذَا اَبُوْبَکْرٍ بِالْبَابِ فَاِذِ الْبَابُ قَدْ اِنْفَتَحَ فَاِذَا بِھَاتِفٍ یَھْتِفُ مِنَ القَبَرِ اَدْخِلُوا الْحَبِیْبَ اِلَی الْحَبِیْبِ۔
حضرت ابوبکررضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کرامت میں سے ہے کہ جب ان کا جنازہ اٹھا کر روضہ اطہر کے دروازے کے سامنے رکھا گیا اور آوازدی گئی‘ السلام علیک یا رسول اللہﷺ! یہ  ابو بکر درِاقدس پر حاضر ہے تو اچانک دروازہ کھل گیا اور آواز آئی۔
’’دوست کو دوست کے ہاں داخل کر دو۔‘‘
تدفین اس طرح ہوئی کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سر حضورﷺ کے دوش مبارک کے برابر تھا۔ اس موقع پر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان میں ایک طویل اور جذبات سے بھرپور خطاب فرمایا جو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شخصیت کی مکمل عکاسی کرتا ہے:
’’اے ابو بکر(رضی اللہ تعالیٰ عنہ)! اللہ تم پر رحم فرمائے‘ تم رسول اللہﷺکے محبوب‘ مونس راحت‘ معتمد‘ محرم راز اور مشیر تھے۔۔۔ اسلام پر سب سے زیادہ مہربان‘ رسول اللہﷺ کے ساتھیوں کے لئے سب سے زیادہ بابرکت‘ رفاقت میں ان سب سے بہتر‘ مناقب اور فضائل میں سب سے بڑھ چڑھ کر‘ پیش قدمیوں میں سب سے اونچے اور وسیلہ کے اعتبار سے حضورﷺ کے سب سے زیادہ قریب اور حضورﷺ سے سب سے زیادہ مشابہ۔۔۔ پس اللہ اسلام اور اپنے رسول اللہﷺ کی طرف سے تم کو جزائے خیر عطا فرمائے۔۔۔ تم کس قدر خوش قسمت ہو کہ اللہ تعالیٰ نے صدیق کے لقب سے نوازا۔ فرمایا: 33333333 (اور جو شخص سچی بات لے کر آیا اور جس نے اس کی تصدیق کی وہی لوگ متقی ہیں‘ سورۃ الزمر‘  آیت33)۔ تمہاری حیثیت اسلام کے مضبوط قلعے کی تھی۔ کافروں کے لئے عذاب کی بارش اور آگ کا شعلہ تھے‘ مومنین کے لئے رحمت‘ انسیت اور پناہ تھے۔۔۔ تمہاری ہر بات اور ہر دلیل اپنے اندر خاص وزن رکھتی تھی اور تمہاری بصیرت و فراست درجہ کمال کو پہنچی ہوئی تھی..... تم پہاڑ کی طرح مضبوط تھے اور نہایت مستحکم ارادے کے مالک تھے..... رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد تمہاری موت جیسا کوئی حادثہ مسلمانوں پر کبھی نازل نہیں ہوا ..... پس اللہ تم کو تمہارے نبیﷺ سے ملا دے ..... اللہ تمہارے اجر سے تمہیں محروم نہ رکھے اور ہمیں تمہارے بعد گمراہ نہ کرے۔ 3۔
یہ خطاب جب تک جاری رہا‘ مجمع پر سکوت طاری رہا لیکن جونہی تقریر ختم ہوئی‘ فرط غم سے حاضرین کی چیخیں نکل گئیں اور سب نے بیک زبان کہا:
’’بے شک اے رسول اللہﷺ کے داماد(رضی اللہ تعالیٰ عنہ)! آپ نے سچ فرمایا۔‘‘
حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ حجرہ مبارک میں داخل ہوئے اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو مخاطب کر کے فرمایا:
’’اے خلیفۃ رسولﷺ! آپ نے دنیا سے رخصت ہو کر ہمیں سخت محنت و مشقت میں مبتلا کر دیا۔ آپ(رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کا سا ہونا تو درکنار‘ اب تو کوئی ایسا بھی نہیں جو آپ(رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کی گرد تک پہنچ سکے۔‘‘  حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ظاہر و باطن دونوں عالم میں اس بلند ترین منصب و مقام کے حامل ہیں جو صرف آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا خصوصی اعزاز ہے۔ امت کے لئے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کاوشیں اس طرح ہیں جیسے کھیتی کے لئے بارانِ رحمت۔ آقائے نامدارﷺ کے ساتھ دوسرے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں‘ اسلام میں بھی‘ غارِ ثور میں بھی‘ میدانِ بدر میں بھی اور گنبد خضرا میں بھی۔ 
مشائخ عظام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم کے حالات سے قبل تبرکاً حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سوانح کی ایک مختصر جھلک پیش کی گئی۔ ہر دور میں حصول سعادت کے لئے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شان میں حسب توفیق باری تعالیٰ کہنے والے اپنا اپنا حصہ ڈالتے رہے‘ خواہ وہ آقاﷺ کے مدح خوان حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہوں‘ حکیم الامت ڈاکٹر محمد اقبالؒ ہوں یا کوئی خطا کار جو چند اوراق ترتیب دے کر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نسبت کے سائے میں پناہ تلاش کر رہا ہو۔ آخر میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فضیلت کے باب میں آقائے نامدارﷺ کے اس جامع ارشاد کے بعد مزید کچھ کہنے کی گنجائش نہیں رہتی۔ 
’’انبیاء علیہم السلام کے ماسویٰ ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے افضل کسی پر نہ تو آفتاب طلوع ہوا نہ غروب‘‘۔
مناجاتِ صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اعلیٰ پائے کے شاعر تھے لیکن اسلام قبول کرنے کے بعد خود کو مکمل طور پر معرکہ حق و باطل کے لئے وقف کر دیا
اور شعر و شاعری کی طرف توجہ دینے کی فرصت نہ رہی۔ پھر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی زندگی میں ایک دن ایسا بھی آیا کہ دردِ دل کے اظہار کے لئے شاعری کا سہارا لینا پڑا۔ یہ وہ روز تھا جب آقائے نامدارﷺ عالم آب و گل سے پردہ فرما گئے۔ اس وقت صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دل پر کیا گزری؟ تخیل اپنی تمام تر بلندی پرواز کے باوجود اس کا تصور نہیں کر سکتا۔
اس روز ہر صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا غم سوا ہوگا لیکن رفیق ہمدم اور یارِ غار کے دل پر جو گزری ہوگی‘ اس غم میں بھی ان کا کوئی ثانی نہ ہوگا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی اس کیفیت کو شعروں کی زبان دی ہے جو طبقات ابن سعد حصہ دوئم میں تین مرثیوں کی صورت میں محفوظ ہیں۔ ان اشعار کو پڑھتے ہوئے اس دکھ کا ادراک تو ممکن نہیں جو ثانئاثنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دل پر ٹوٹا‘ البتہ اس کی ایک جھلک محسوس کی جاسکتی ہے۔
ایک ر وز امیر المکرم سے ایک نوجوان بے ساختہ پوچھ بیٹھا۔ حضرت رونا نہیں آتا تو انہوں نے جواب دیا: رونا ہمیں بھی نہیں آتا تھا لیکن ایک مرتبہ دل میں خیال آیا کہ جب حضورﷺ نے وصال فرمایا تو مدینہ کی گلیوں میں کیا عالم ہوگا؟ اللہ تعالیٰ نے وہ منظر نگاہ بصیرت کے سامنے منکشف کر دیا تو آنسو اس طرح بہے کہ اب رکتے نہیں۔
حضرت صدیق اکبررضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مناجات عربی ادب کا شاہکار تسلیم کی جاتی ہے۔ یہ مناجات انبیاء علیہم السلام کے بعد انسانیت میں سب سے مہتم بالشان ہستی کے دل کی گہرائیوں سے نکلی ہوئی وہ دعا ہے جس کا ایک ایک لفظ عجز و انکساری کی بے مثل تصویر ہے۔ آخری شعر کی اثر پذیری کا یہ عالم ہے کہ اس کے درد سے انسان دنیا کی نسبت خود کو آخرت کے زیادہ قریب پاتا ہے۔ مناجات کا ایک ایک لفظ دل میں اترتا چلا جاتا ہے جس کا اثر قارئین خود محسوس کر سکتے ہیں۔
خُذْ بِلُطْفِکَ یَااِلٰھِیْ مَنْ لَّہٗ زَادٌ قَلِیْل
مُفْلِسٌ بِالصِّدْقِ یَاتِیْ عِنْدَ بَابِکَ یَاجَلِیْل
تھام اس کو لطف سے کہ توشہ اس کا ہے قلیل
صدق سے در پر تیرے آیا ہے مفلس اے جلیل
ذَنْبُہٗ ذَنْبٌ عَظِیْمٌ فَاغْفِرِالذَّنْبَ الْعَظِیْم
اِنَّہٗ شَخْصٌ غَرِیْبٌ مُذْنِبٌ عَبْدٌ ذَلِیْل
ہیں گناہ اس کے بہت‘ سو بخش تو جرم عظیم
ہے غریب یہ تیرا بندہ اور گنہگار و ذلیل
مِنْہُ عِصْیَانٌ وَنِسْیَانٌ وَسَھْوٌ بَعْدَ سَھْوٍ
مِنْکَ اِحْسَانٌ وَفَضْلٌ بَعْدَ اَعْطَاءِ الْجَزِیْل
اس کے عصیاں اور نسیان‘ بھول اوپر بھول ہے
پھر بھی تیرا فضل و احسان بعد عطائے جزیل
قَالَ یَا رَبِّیْ ذُنُوْبِیْ مِثْلَ رَمْلٍ لَاتُعَدْ
فَاعْفُ عَنِّی کُلَّ ذَنْبٍ فَاصْفَحِ الصَّفْحَ الْجَمِیْل
بیشک اے رب‘ جرم میرے ان گنت ہیں مثل ریت
بخش دے سارے گناہ اور درگزر کر اے جمیل
قُلْ لِّّنَارٍ اَبْرِدِیْ یَا رَبِّ فِیْ حَقِّیْ کَمَا
قُلْتَ قُلْ یَا نَارُکُوْنِیْ اَنْتَ فِیْ حَقِّّ الْخَلِیْل
آگ کو تو کہہ کہ ٹھنڈی ہو مجھ پہ یارب میرے
جیسے تو نے کہہ دیا یانارُ کونی برخلیل
کَیْفَ حَالِیْ یَا اِلٰھِی لَیْسَ لِیْ خَیْرُ الْعَمَل
سُوْءُ اَعْمَالِیْ کَثِیْرٌ زَادُ طَاعَاتِیْ قَلِیْل
حال میرا ہے کیا الٰہی‘ کچھ نہیں اچھے عمل
ہیں برے اعمال میرے زاد طاعت ہے قلیل
اَنْتَ شَافِیْ اَنْتَ کَافِیْ فِیْ مُھِمَّاتِ الْاُمُوْر
اَنْتَ حَسْبِیْ اَنْتَ رَبِّیْ اَنْتَ لِیْ نِعْمَ الْوَکِیْل
سب ہماری مشکلوں میں تو ہی شافی تو ہی بس
تو ہی مالک اور کافی ہے تو ہی بہتر وکیل
عَافِنِیْ مِنْ کُلِّ دَاءٍ فَاقْضِ عَنِّی حَاجَتِیْ
اِنَّّ لِیْ قَلْبًا سَقِیْمًا اَنْتَ مَنْ یَّشْفِی الْعَلِیْل
دے مجھے ہر درد سے آرام حاجت کر روا
توہی شافی مرض والوں کا‘ میرا دل ہے علیل
ھَبْ لَنَا مُلْکًا کَبِیْراً نَجِّنَا مِمَّا نَخَافُ
رَبَّنَا اِذْ اَنْتَ قَاضٍ وَالْمُنَادِیْ جِبْرَءِیْل
دے ہمیں گر سلطنت تو‘ لے بچا دہشت سے تو
رب ہمارے‘ جب تو قاضی ہو‘ منادی جبرائیل
رَبِّ ھَبْ لِیْ کَنْزَ فَضْلٍ اَنْتَ وَھَّابٌ کَرِیْم
اَعْطِنِیْ مَافِیْ ضَمِیْرِیْ دُلَّنِیْ خَیْرَالدَّلِیْل
دے خزانہ فضل کا‘ تو رب ہے وہاب و کریم
کر عطا جو دل میں میرے اور دکھا بہتر دلیل
اَیْنَ مُوْسٰی اَیْنَ عِیْسٰی اَیْنَ یَحْیٰی اَیْنَ نُوْح
اَنْتَ یَا صِدِّیْق عَاصٍ تُبْ اِلَی الْمَوْلَی الْجَلِیْل
ہیں کہاں موسیٰ و عیسیٰ‘ ہیں کہاں یحییٰ و نوح
رہ تو اے صدیقؓ عاصی جانب مولیٰ جلیل

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

علمی وفکری اختلاف آپ کا حق ہے۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔