Mar 17, 2015

تصوف و اھل تصوف سلف و خلف کی نظر میں مرتب:حافظ محمد موسی بھٹو

0 comments
علمائے ربانی اور اہل ِ تصوف کا پیغام وہی ہے جو قرآن و سنت کی روح ہے ، یعنی اللہ سے اپنے تعلق کو اتنا مستحکم کرو کہ نفس پرستی اور مادہ پرستی کی قوتیں اور تحریکیں افراد کے فکرونظر اور دل و دماغ کو متاثر نہ کرسکیں ۔ نیز اللہ کی محبت کے زیرِ اثر زندگی کا ہر پہلو صبغتہ اللہ (اللہ کے رنگ) میں رنگ جائے کہ غیر اللہ کے خلاف افراد کی داخلی مزاحمانہ قوت مستحکم ہو جائے۔ اس کتاب میں شامل اکابر بزرگوں اور ممتاز فاضل شخصیتوں کی تحریروں کا حاصل یہی ہے کہ علمائے ربانی کی صحبت کے بغیر قلب کو وہ انوار حاصل نہیں ہوتے جس سے وہ نفس پرستی کی داخلی و خارجی قوتوں کے خلاف مزاحمت کر سکے اور نفسِ امارہ سے نفسِ مطمئنہ کی راہ پر گامزن ہو سکے ۔ کتاب میں جن اکابر بزرگوں اور فاضل شخصیتوں کی تحریریں شامل ہیں ، ان کے اسمائے گرامی (1) حضرت علی ہجویریؒ (2) حضرت خواجہ شہاب الدین سہروردیؒ (3) حضرت مخدوم احمد یحییٰ منیریؒ (4) امام غزالیؒ (5) حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ (6) ابن ِ خلدون (7) علامہ ابن جوزیؒ (8) مولانا اشرف علی تھانویؒ (9) علامہ اقبالؒ (10) مولانا مناظر احسن گیلانیؒ (11) مولانا محمد منظور نعمانیؒ (12) مولانا عبدالماجد دریا بادیؒ (13) مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ (14) یوسف سلیم چشتیؒ (15) مولانا محمد حنیف ندویؒ (16) خواجہ عبدالحکیم انصاریؒ (17) مولانا شاہ ابو احمد غلام دستگیرؒ (18) علامہ یوسف القرضاوی (19) جاوید اکبر انصاری صاحب ۔ آخر میں ایک مضمون مشہور مستشرق پروفیسر اے جے آربری کا شامل ہے ۔ کتاب کے آخری حصے میں راقم الحروف(مرتب کنندہ) کے پانچ ، چھ مضامین شامل ہیں ۔ تصوف کی حقیقت و اصلیت اور اسکے اہداف و خدوخال اور اسکی شرعی حیثیت کے فہم اور تصوف کے سلسلہ میں جملہ غلطیوں کے ازالہ کے لئیے زیرِنظر کتاب ایک مستند دستاویز کی حیثیت اختیار کر گئی ہے ، اسلئیے کہ کتاب میں شامل مضامین ان عرفاء ، علماء اور فضلاء کے ہیں جو امت کا قیمتی سرمایہ ہیں جن کا تبحرِ علمی اور سیرت و کردار ہماری تاریخ کا روشن باب ہے (اقتباس از : حافظ موسیٰ بھٹو نقشبندی )۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

علمی وفکری اختلاف آپ کا حق ہے۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔