Jan 17, 2018

0 comments

ردِّ قادیانیت اور

حضرت العلام مولانا اللہ یارخان ؒ کا کردار

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  نے قادیانیت کے بارے میں محکمہ جیل کی ملازمت کے دوران ہی مطالعہ کا آغاز کردیا تھا جب کہ دینی تعلیم کا آغاز اس ملازمت سے سبکدوش ہونے کے بعد فرمایا۔ آپؒ برصغیر میں فتنۂ قادیانیت کے خلاف علماء کی جدوجہد سے خود کو پوری طرح باخبر رکھتے۔
            1963ء میں حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  کے اپنے علاقے میں قادیانی مذہب کے ردّ میں ایک یادگار جلسہ منعقد ہوا۔تلہ گنگ میانوالی روڈ پر پچنند ایک مشہور قصبہ ہے جہاں قادیانیوں کو دراندازی کا موقع مل گیا۔ نہ صرف چند بڑے زمیندار مرتد ہوگئے بلکہ ان کے زیراثر کئی سادہ دیہاتی بھی گمراہ ہوگئے۔
 ان لوگوں نے یہاں ایک خیراتی ہسپتال بنایا اور آئندہ نسل کو گمراہ کرنے کے لئے ایک سکول بھی قائم کیا۔ مردوں کے لیے تربیتی پروگرام شروع کردیئے اور عورتوں میں تبلیغ کے لئے ربوہ سے دوخواتین مبلغ آگئیں جو عورتوں اور مردوں، دونوں کے ایمان کے لئے برابر سمِ قاتل تھیں۔
اس علاقے کا مرکزی قصبہ ہونے کی وجہ سے قادیانیوں کی نظر پچنندپر تھی جہاں سے اٹک، چکوال، تلہ گنگ، میانوالی اورخوشاب وغیرہ کے اضلاع میں پنجے گاڑنے کے لئے ایک ذیلی ربوہ بنایا جا سکتا تھا۔ قادیانیوں کے مذموم ارادوں کو بھانپتے ہوئے یہاں تحریک ِ ختمِ نبوت کے جلسے بھی ہوئے لیکن اصلاح نہ ہوئی۔  پچنند کے ایک غریب شخص نے حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ صورتِ احوال بیان کی تو آپؒ نے یہاں جلسہ رکھا۔ چکڑالہ سے چار سے زیادہ آدمی حضرت جؒی کے ہمرکاب تھے جو اپنا کھانا ساتھ لائے۔
اس جلسہ میں حضرت امیرالمکرم، قاضی جؒی اور سلسلۂ عالیہ کے ابتدائی دور کے چند ساتھی بھی شریک ہوئے۔  میزبان کی غربت کا یہ حال تھا کہ مختلف گھرانوں سے روکھی سوکھی مانگ کر باہر سے آنے والے چند مہمانوں کے کھانے کا بندوبست کیا گیا۔ رات زمین پر بسر ہوئی اور اگلی صبح جلسہ منعقد ہوا۔ حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  کے ساتھ سٹیج پرحضرت امیر المکرم اور قاضی جؒی بھی تشریف رکھتے تھے اور عقیدت مندوں کی ایک بڑی تعداد نے آپؒ کو حصار میں لے رکھا تھا۔ اس جلسہ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت جؒی فرمایا کرتے تھے:
 اگر ان لوگوں کے سامنے ختمِ نبو ت کے دلائل دیئے جاتے تو دیہاتی نہ سمجھتے، چنانچہ مقامی لوگوں کی ذہنی سطح کے مطابق مرزا قادیانی کی اپنی تحریروں کے حوالوں سے اس کی شخصیت، کردار اور عقائد کا ایسا نقشہ کھینچا گیا کہ اس قصبہ کے لوگ قادیانیت سے تائب ہو گئے۔ اس نقشہ میں حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  نے آخر میں جو رنگ بھرا وہ محمدی بیگم کے متعلق مرزا قادیانی کا دعویٰ تھا کہ وہ اس کی منکوحہ ہے ۔ آسمانوں پر نکاح خواں خود اللہ تعالیٰ اور گواہ اس کے فرشتے ہیں اور اسے وہ جنت میں ملے گی۔
 حوالوں کے ساتھ اس کا یہ دعویٰ پیش کرنے کے بعد حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  نے فرمایا:
‘‘ زمیندارو! تم خود ہی بتاؤ، نکاح خدا نے پڑھا، گواہ فرشتے اورنکاح پڑھاگیانبی کا، پھرلے کون گیا؟ دو بیگوں کا زمیندار، جو نبی کی بیوی اٹھا لے گیا۔ خدا بھی دیکھتا رہا، نبی بھی دیکھتا رہا، فرشتے بھی دیکھتے رہے لیکن جٹ گِھن کے بیٹھا نبی کی زنانی کو۔ اب خدا کہتا ہے تمہیں جنت میں دوں گا، واہ! اب دنیامیں کیا زنا ہوتا رہا؟ نہیں ہوتا رہا؟’’
سامعین نے کہا:
 ہاں! ہوتا رہا۔
حضرت مولانا اللہ یارخانؒ نے اپنے مخصوص میانوالی لہجے میں کہا:
          ‘‘پھر اودُھل گئی ناں!’’
       یہ اندازِبیاں انتہائی کارگر ثابت ہوا۔ گاؤں کے لوگ قادیانیت سے تائب ہوئے اور  پچنند کو
ربوہ ثانی بنانے کا منصوبہ خاک میں مل گیا۔
            اسی طرح تھمے والی (ضلع میانوالی) میں ایک قادیانی مبلغ نے کچھ زمین خریدی اور گردونواح کے علاقے میں تبلیغ شروع کردی۔ حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  نے وہاں ایک جلسہ رکھا جو دس بجے قبل دوپہر سے نمازِ ظہر تک جاری رہا۔ اس میں آپؒ نے مرزا غلام احمد قادیانی کی اس طرح سے تصویر کشی کی کہ اس کے بعد قادیانی مبلغ خجالت کے ساتھ وہ علاقہ چھوڑ گیا۔
            حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  ایک قادیانی خاندان کے تائب ہونے اور دوبارہ مسلمان ہونے کا واقعہ اکثر بیان فرمایا کرتے تھے جو آپؒ کے اپنے الفاظ میں مختلف مواقع پر ریکارڈ کر لیا گیا۔یہ واقعہ انتہائی عبرت آموز اور تذبذب کے شکار قادیانیوں کے لیے ذریعۂ ہدایت بن سکتا ہے۔
لیفٹیننٹ رفیق احمد، جو بعد میں لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے سے ریٹائر ہوئے، خاندانی طور پر قادیانی تھے۔ ان کا دادا مرتد ہوا جس کے نتیجے میں پورا خاندان قادیانی ہو گیا تھا اور انہوں نے بھی اسی ماحول میں آنکھ کھولی۔ ایک فوجی کورس کے دوران رسالپور میں احبابِ سلسلہ سے رابطہ ہوا تو عقائد پر بحث کی بجائے انہیں ذکر کی دعوت دی گئی جو ہمیشہ سے صوفیاء کا طریقہ رہا ہے۔
  لیفٹیننٹ رفیق نے قلبی ذکر شروع کیا تو اللہ تعالیٰ نے طلب ِصادق کے نتیجہ میں ہدایت عطا فرما دی۔ حقیقت ِحال واضح ہوئی تو قادیانیت سے تائب ہو گئے۔ کورس مکمل کرنے کے بعد حسب ضابطہ تعطیل ہوئی تو سیدھے حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  کی خدمت میں چکڑالہ حاضر ہوئے اور عرض کیا، اب قادیانی گھرانے میں کس طرح جاؤں؟
آپؒ نے فرمایا:
میرے پاس ہی قیام رکھو۔
ایک روز حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  نے رفیق کو پریشانی کی حالت میں دیکھا تو اس کی وجہ دریافت کی۔
اس نے بتایا کہ چچا کی بیٹی سے منگنی ہوچکی ہے لیکن اس کا ساراگھرانہ کافر ہے۔
 حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  نے فرمایااس کو لکھو:
‘‘ کیاتم محمد رسول اللہﷺ کو خاتم النبیین سمجھتی ہو یا نہیں اور کیا محمدرسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی آ سکتا ہے یا نہیں؟ تمہارا کیاعقیدہ ہے؟’’
اس نے جوا ب دیا:
‘‘میں محمدرسول اللہﷺ کو خاتم النبیین سمجھتی ہوں اور اس سے آگے کی باتوں میں نہ پڑو۔’’
حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  نے فرمایا:
 یہ تو سوال کو ٹال گئی۔ اب اس کو لکھو:
‘‘کیاتم محمدرسول اللہﷺ کوخاتم النبیین سمجھتی ہو اور محمد رسول اللہﷺ کے بعد جو شخص نبوت کا دعویٰ کرتا ہے، کیا تم اسے کافر سمجھتی ہو یامسلمان سمجھتی ہو اور اس کو جو شخص مسلمان سمجھتا ہے یانبی مانتا ہے، اسے تم کافر سمجھتی ہو یامسلمان سمجھتی ہو؟ ان باتوں کا جواب دو۔’’
اس نے جواب میں لکھا:
میں محمدرسول اللہﷺ کو خاتم النبیین مانتی ہوں اور جو شخص محمدرسول اللہﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے اسے کافر سمجھتی ہوں اور جو شخص اسے نبی مانے، اسے بھی کافر سمجھتی ہوں۔’’اس طرح حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  نے مختصر ترین الفاظ میں عقیدۂ ختم ِ نبوت کے خدوخال متعین فرمادیئے۔ اس عقیدہ کے ہر پہلو کو بطور جزوِ ایمان، الگ الگ کہلوانے کا یہ اسلوب اس وقت دستورِ پاکستان میں ایک مسلمان کے حلف نامے میں واضح نظر آتا ہے۔
حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  نے فرمایا:
            اب تو باپ کو بھی کافر کہہ دیا، اس خط کو سنبھال کر رکھنا۔ اس کے بعد لیفٹیننٹ رفیق کی اسی خاتون سے شادی ہوئی اور اسے سلسلہ ٔعالیہ میں شامل ہونے کی سعادت بھی نصیب ہوئی حضرت پیر مہر علی شاہؒ اور سیّد انور شاہ کشمیریؒ کے حالات میں اس چیلنج کا تذکرہ ملتا ہے کہ وہ قبر میں مرزا قادیانی کے حالات کا مشاہدہ کرا سکتے ہیں لیکن فریق مخالف ان کے اس چیلنج کو قبول کرنے کی جرأت نہ کر سکا۔ حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  کا یہ خصوصی اعزاز ہے کہ آپؒ نے قبر میں مرزا قادیانی کی حالت دکھانے کے بارے میں دعویٰ کے بعد عملی طور پر یہ کر بھی دکھایا۔ حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  کی ریکارڈ شدہ گفتگو میں اس واقعہ کا تذکرہ ان الفاظ میں ملتا ہے:
‘‘خیال نہیں سحری کا ذکر تھا یامغرب کا، رفیق سے دریافت کیا:
کیا تم کبھی قادیان گئے تھے اور مرزا قادیانی کی قبر دیکھی ہے؟
 لیفٹیننٹ رفیق نے جواب دیا کہ متعدد بار وہاں جا چکا ہوں۔
کیا ا ب بھی اس کا خیال کر سکتے ہو؟
 اس نے اثبات میں جواب دیا۔
 تو اسے کہا چلو اب روحانی طور پر وہاں پہنچو اور قبر کے اندر خیال کرو۔
قبر میں خیال کرتے ہی وہ گھبرا اُٹھا۔
اندر تو ریچھ ہے!
کوئی اور قبر تو نہیں؟
لیفٹیننٹ رفیق نے جواب دیا:
حضرت! وہی قبر ہے، میں کئی دفعہ گیا ہوں۔’’
یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  نے فرمایا:
‘‘سب سے بڑی سزا یہ ہے کہ جنس تبدیل ہو جائے اور یہی معاملہ مرزا ناصر الدین کا بھی ہے۔عارضی زندگی کے لئے ابدی زندگی برباد کر دی۔ زنانیوں کاعاشق،یہ نبی (کذّاب) کی شان! محمدی بیگم، محمدی بیگم کی تسبیح کرتے مر گیا، جہنم میں پہنچ گیا۔’’
اس کے بعد حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  نے یہ آیت پڑھی۔
وَجَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَالْخَنَازِيْرَ وَعَبَدَ الطَّاغُوتَ ط
اور ان میں سے بعضوں کو بندر اور سؤر بنا دیا ہے اور انہوں نے شیطان کی بندگی کی۔ (سورة المائدہ۔60)
چونکہ لیفٹیننٹ رفیق کے اکثر رشتہ دار قادیانی تھے، احباب نے اس کے دوبارہ گمراہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا تو  حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  نے فرمایا:
‘‘اب قادیانی تو بنتا نہیں، اِنْ شَاءَ اللّٰه!
 مرزا قادیانی کو جو دیکھ لیا، اب مرزائی نہیں ہو گا۔
 ویسے چھوڑ جائے (سلسلہ چھوڑ جائے) مشکل کام ہے، الگ بات ہے۔’’
لیفٹیننٹ رفیق احمد نے عالم برزخ میں مرزا قادیانی کے حالات کا مشاہدہ کرنے کے بعد خاندان کے ایک ایک فرد کو حقیقت حال سے آگاہ کیا اور انہیں خطوط تحریر کئے جس کے نتیجہ میں خاندان کی اکثریت تائب ہو گئی۔  دادا اور باپ تو مرچکے تھے، البتہ والدہ خوش قسمت تھی جو ابھی تک زندہ تھی، وہ مشرف بہ اسلام ہوئی۔
            1977ء میں حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  پشاور کے دورہ پر تھے تو آپؒ کے سامنے ایک فوجی افسر کا مسئلہ پیش ہوا جس کی اہلیہ کا تعلق ایک قادیانی مبلغ گھرانے سے تھا۔ والدین کے اثرات کی وجہ سے گھر میں اکثر بحث شروع ہو جاتی۔ جب اسے بتایا جاتا کہ یہ کفر ہے تو جواب میں کہتی کہ میں اسے کفر نہیں سمجھتی، وہی کلمہ، وہی نماز، قبلہ بھی وہی ہے تو کفر کیسا؟ روز روز کی بحث سے گھریلو ناچاقی پیدا ہوگئی تو بات حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  تک پہنچی۔ آپؒ پشاور کے دورہ پر تشریف لائے تو میاں بیوی کو طلب فرمایااور اس خاتون سے دریافت کیا۔
 تمہارا عقیدہ کیا ہے؟
کہنے لگی، مسلمان ہوں۔
آپؒ نے دوبارہ سوال کیا:
‘‘ہر شخص خود کو مسلمان کہتا ہے، ختمِ نبوت کے بارے میں تمہارا کیا عقیدہ ہے؟
 کیا حضورﷺ کے بعد کوئی نبی آئے گا۔’’
اس نے جواب دیا:
 نہیں۔
حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  نے پوچھا:
‘‘کیا تمہارے والد کا بھی یہی عقیدہ تھا۔’’
‘‘نہیں، وہ احمدی تھا۔’’
حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  نے پھر پوچھا:
‘‘قادیانیوں کے بارے میں تمہارا کیا عقیدہ ہے؟ کیا تم ان کو مسلمان سمجھتی ہو یا کافر۔’’
قدرےتوقف کے بعد جواب دیا:
‘‘میں ان کو کافر سمجھتی ہوں۔’’
حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  مسکرائے اور فرمایا:
‘‘گل ٹھیک اے (بات درست ہے)۔ فکر کی کوئی بات نہیں۔’’
مرزا قادیانی کے متعلق حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  فرمایا کرتے کہ اس شخص کے حالات پڑھ کر یہ دکھ ہوتا ہے کہ اگر اس ظالم کواتنا بڑا دعویٰ ہی کرنا تھا تو اپنا کردار بھی نظر میں رکھا ہوتا۔ اتنا بھی نہ سوچا کہ اس قدر گھٹیاکردار سے یہ دعویٰ کوئی مناسبت نہیں رکھتا۔
            ایک مرتبہ ڈی سی میانوالی نے چکڑالہ کے دورہ کے موقع پر اپنے عملہ کے ہمراہ حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  سے ملاقات کی۔نمازِ عصر کے بعد حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  معمول کے مطابق گھر کے بیرونی صحن میں چند مقامی لوگوں کے ساتھ تشریف فرما تھے۔ ڈی سی کی آمد پر فوراً خیال گزرا کہ یہ شخص قادیانی ہے یا پرویزی۔
  ظلمت اور نحوست عقائد کی نسبت سے جدا جدا ہوتی ہے اور صاحبِ بصیرت کسی شخص کی ظلمت سے اس کے عقائد جان سکتا ہے۔ پرویزیت اور قادیانیت دونوں نے نبوت کو ہدف بنایا۔ ایک نے نبیﷺ  کو بطور معلم اور شارع ماننے سے انکار کر دیا تو دوسرے نے ختم نبوت کا انکار کرتے ہوئے نئی نبوت کا دعویٰ کیا۔ اس حوالے سے دونوں میں ظلمت بھی ایک ہی طرح کی پائی جاتی ہے۔اس شخص نے حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  کو گاؤں کا ایک عام مولوی سمجھتے ہوئے الٹے سیدھے سوال شروع کر دیئے۔ حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  دوسرے ہی سوال پر سمجھ گئے کہ یہ شخص قادیانی ہے۔ آپؒ نے سورة النساء کی آیت نمبر 115 تلاوت کی جس میں مرتدین کا انجام بیان فرمایا گیا ہے۔
وَمَنْ يُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْم بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِيْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَنُصْلِهٖ جَهَنَّمَ طوَسَآءَتْ مَصِيْرًا o
اور جو کوئی اپنے آپ پر حق بات ظاہر ہو جانے کے بعد پیغمبر کی مخالفت کرے اور ایمان والوں کی راہ کے علاوہ (دوسری راہ پر) چلے تو وہ جدھر پھرا ہے ہم اُسے اُدھر ہی پھیر دیں گے اور اُس کو دوزخ میں داخل کریں گے اور وہ جانے کی بہت بُری جگہ ہے۔

حضرت مولانا اللہ یارخانؒ  فرمایا کرتے تھے:‘‘قادیانیت پر کفر کی دلیل اِجماعِ امت ہے۔’’
(حیات جاوداں)

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

علمی وفکری اختلاف آپ کا حق ہے۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔