Jul 18, 2014

زندگی کی حقیقت اور قلب کی اہمیت

0 comments
زندگی کی حقیقت اور قلب کی اہمیت
حیات انسانی مختصر لیکن قیمتی ہے۔ زندگی کا مقصد حسن عمل ہے۔ حسن عمل کیلئے حسن نیت ضروری ہے۔ نیت کا تعلق قلب سے ہے۔ لہٰذا اصلاح قلب یعنی تزکیہ نفس ازحد ضروری ہے۔انسانی روحوجود انسانی دو اجزاء کا مرکب ہے روح اور جسم۔ جسم کے پانچ اجزائے رئیسہ دل‘ دماغ‘ معدہ‘ پھیپھڑے اور جگر ہیں۔ اسی طرح روح کے پانچ اجزائے رئیسہ ہیں انہیں اولیائے کرام لطائف کہتے ہیں جو قلب‘ روح‘ سری‘ خفی اور اخفی ٰ ہیں۔ ان میں قلب زیادہ اہم ہے چونکہ اخروی کامیابی کا مدار اصلاح قلب پر ہے۔ ایمان‘ اللہ اور رسول کریمﷺ کی محبت بھی قلب میں ہی پیدا ہوتی ہے۔ اسی طرح روح کو کمزور کرنے والی بیماریاں مثلاً حسد‘ بغض اور نفاق وغیرہ بھی قلب میں ہوتی ہیں۔قلب انسانی قرآن کریم کی نظر میں ُقرآن کریم میں قلب کی پندرہ اقسام کا ذکر ہے مثلاً مہر لگا ہوا قلب‘ متکبر قلب‘ مجرم قلب‘ ٹیڑھا اور نہ سوچنے والا قلب‘ زنگ آلود قلب‘ اندھا قلب‘ مطمئن‘ ایمان والا اور دانشمند قلب وغیرہ۔حضورﷺ کے قلب کا نورقلب کی تمام بیماریوں کا علاج نبی کریمﷺ کے قلب اطہر سے جاری ہونے والے نور سے ہوتا ہے۔ ہر مومن کا قلب آپﷺ کے قلب اطہر سے آنے والے نور کو جذب کر کے ایمان اور اللہ کی محبت حاصل کرتا ہے۔ نیز رسول کریمﷺ کے قلب اطہر سے جاری ہونے والے نور سے پوری کائنات منور ہے۔ یہ نور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے براہ راست نبی کریمﷺ کے قلب اطہر سے حاصل کیا۔ ہمیں یہ نعمت آج بھی کسی شیخ کامل کی صحبت اور نسبت سے حاصل ہوسکتی ہے۔ذکر الٰہیحیات انسانی میں جو اہمیت سانس کو ہے وہی اہمیت روح کی حیات کے لئے یادِ الٰہی کی ہے۔ رسول کریمﷺ کی نظر میں یادِ الٰہی سے محروم شخص مردہ ہے۔ فی زمانہ ماحول میں پھیلی ہوئی نحوست اتنی شدید ہے کہ صرف نماز و تلاوت جو کہ ذکر الٰہی ہیں سے ہماری زندگیوں میں وہ تبدیلی نہیں آرہی جو پہلے لوگوں کو نصیب ہو جاتی تھی۔ یہ تبدیلی صرف اور صرف ذکر اسم ذات اور صحبت شیخ سے ہی ممکن ہے اور یہی کام سلاسل تصوف کرتے آرہے ہیں۔قلبی ذکرذکر الٰہی کی تین مشہور اقسام ہیں:
* لسانی ذکر
* عملی ذکر
* قلبی ذکر
ذکر قلبی کو لسانی ذکر پر فضیلت حاصل ہے اور ذکر قلبی کے بغیر مثبت تبدیلی مشکل ہے۔ کتاب الاذکار میں امام نوویؒ فرماتے ہیں:
’’ذکر لسانی بھی ہوتا ہے اور قلبی بھی‘ افضل ذکر وہی ہے جو دونوں سے کیا جائے اور اگر ایک پر اکتفا کرنا ہو تو ذکر قلبی افضل ہے۔‘‘شیخ عبدالقادر جیلانیؒ فرماتے ہیں: ’’ذاکر وہی ہے جو اپنے قلب سے ذکر کرے‘‘۔ حصول برکات نبویﷺ بغیر ذکر قلبی کے حاصل نہیں ہو سکتیں اور یہ برکات نبوتﷺ سینہ بن سینہ شیخ کے سینہ تک پہنچتی ہیں لہٰذا برکات نبویﷺ کے حصول کے لئے صحبت شیخ لازمی ہے۔ اس کے بعد ہی عملی زندگی میں تبدیلی ممکن ہے۔
ضرورت شیخ
’’علم اور چیز ہے۔ تربیت اور چیز ہے۔ امراض روحانی کا فقط ایک علاج ہے اور وہ ہے اللہ والوں کی صحبت۔ ان کے جوتوں کی خاک کے ذروں میں وہ موتی ملتے ہیں جو بادشاہوں کے تاجوں میں نہیں‘‘ (حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ )۔ انسانی تعلیم و تربیت اگر محض کتابوں سے ممکن ہوتی تو کتاب اللہ کے ساتھ رسول کریمﷺ کو معلم بنا کر بھیجنے کی ضرورت نہ ہوتی۔ اس لئے سورۃ فاتحہ میں صراط مستقیم کی نشاندہی میں انعام یافتہ لوگوں کی ضرورت و اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔
شیخ کامل کی پہچان
* کوئی ایسا اللہ والا جسے دیکھ کر اللہ یاد آئے۔
* دین کا ضروری علم رکھتا ہو۔ عملی زندگی بھی قرآن و سنت کے مطابق ہو۔
* کسی کامل سے نسبت اور تربیت حاصل کی ہو۔
* ایسا کامل ولی جو ہر طالب کے قلب میں اللہ اور رسولﷺ کی محبت کی ایسی شمع روشن کر دے کہ اس کی زندگی کا واحد مقصد اتباع رسولﷺ بن جائے۔اس بھیس میں ٹھگ بھی ہوتے ہیں کیونکہ جھوٹے نبی ہو سکتے ہیں تو ولایت کا جھوٹا دعویٰ کیا مشکل ہے؟ لیکن طلب صادق ہو تو اسے ہدایت کرنا اللہ کریم کا کام ہے۔ خلوص نہ ہو تو کسی کامل سے بھی فائدہ نہیں ہوتا۔بارگاہ رسالت ﷺ تک رسائی
* ’’اے راہ آخرت کے مسافر! تو ہر وقت رہبر کے ساتھ رہ یہاں تک کہ وہ تجھے پڑاؤ پر پہنچا دے‘ تجھے تیرے نبیﷺ کے حوالے کردے۔
‘‘ (حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ )
* ’’یاد رکھو فقیر فنا فی اللہ صاحب حضور ہوتا ہے۔ واحدانیت الٰہی میں غرق کرنا اور مجلس نبویﷺ میں پہنچانا اس کے لئے کچھ مشکل نہیں اور جس شخص کو یہ قدرت حاصل نہیں اسے کامل کہنا ہی غلط ہے۔‘‘ (حضرت سلطان باہوؒ )
* میرے پاس خرچہ لے کر آؤ جو فن میں نے چالیس سال میں سیکھا ہے تمہیں چار سال میں سکھا دوں گا‘‘ (مولانا احمد علی لاہوریؒ )۔
* چھ ماہ کے لئے اس ناچیز کے پاس آجائیں پھر انشاء اللہ خود دیکھ لیں گے کہ روح کس طرح پرواز کرتی ہے نیز اسے بارہ نبویﷺ میں حاضر کیا جائے گا۔‘
‘ دلائل السلوک (حضرت العلام مولانا اللہ یار خانؒ )
* ’’میں یہ بات ڈنکے کی چوٹ پر کہتا ہوں کہ میں ایک نگاہ میں ایک شخص کے وجود کے ایک ایک ذرے کو اللہ کا ذکر سکھا سکتا ہوں۔ یہ مجھ پر اللہ کا احسان ہے جس کام کیلئے برسوں لگتے ہیں‘ جس کے لئے بڑے بڑے صوفی برسوں کا وقت طلب کرتے ہیں‘ مجھے اللہ نے یہ قوت بخشی ہے کہ وہ بات میں ایک لمحے میں کر سکتا ہوں۔ یہ اللہ کی عطا ہے۔ماحول میں پھیلی ہوئی دلدل میں آپ کو میری ذات کی صورت میں ایک مضبوط چٹان مل سکتی ہے جس پر آپ پاؤں رکھ کر انشاء اللہ‘ اللہ کی بارگاہ میں تو پہنچ سکتے ہیں لیکن اس سے بت نہیں تراش سکتے۔ مجھے یہ بھی پسند نہیں کہ کوئی شخص میرے ہاتھ کو بوسہ دے۔‘‘ (کنز الطالبین صفحہ ۱۰۱)
(شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ حضرت امیر محمد اکرم اعوان دامت فیوضہم‘ دارالعرفان‘ منارہ‘ ضلع چکوال)
اصلاح و تربیت کا نظام اور اس کے ثمرات
 سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ نے تربیت کا باقاعدہ نظام ترتیب دے رکھا ہے تاکہ سال کو بیعت کے بعد دینی علوم کا ضروری حصہ پڑھایا جائے۔ وطن عزیز اور مختلف ممالک میں پھیلے ہوئے سالکین کو صبح و شام انٹرنیٹ پر ذکر کروایا جاتا ہے۔جگہ جگہ ذکر کے مراکز قائم ہیں جن میں تربیت کر کے مراقبات کروائے جاتے ہیں اور جب سالک میں اہلیت اور استعداد پیدا ہو جائے تو اسے فنافی الرسولﷺ کا مراقبہ اور روحانی بیعت کروائی جاتی ہے۔اس تربیت کا اثر یہ ہے کہ اس قافلے میں شریک نوجوانوں کے قلوب اللہ کی یاد سے منور‘ چہرے سنت رسولﷺ سے مزین اور راتیں تہجد سے روشن ہیں۔ تین ہزار سے پندرہ ہزار تک روزانہ درود شریف پڑھنے والے اور کئی خوش نصیب ایسے ہیں جو کروڑوں مرتبہ سے زیادہ درود شریف پڑھ چکے ہیں۔ ان کے قلوب محبت رسولﷺ سے لبریز ہیں‘ اس کے ساتھ ساتھ وہ عملی مسلمان ہیں جو راہبانہ کی بجائے مجاہدانہ زندگی گزار رہے ہیں۔قارئین کرام! کیا آپ بھی جذب اندرون‘ لذت آشنائی اور محبت رسول اللہﷺ کے طالب ہیں !​
توصدائے عام ہے یاران نکتہ داں کیلئے
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

علمی وفکری اختلاف آپ کا حق ہے۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔