Nov 29, 2014

مکتب طریقت

0 comments
ذکر ِ اسمِ ذات
            اللہ تعالیٰ کے ننانوے صفاتی ناموں کا ذکر قرآنِ حکیم اور احادیث ِ مبارکہ میں ملتا ہے لہ الاسمآء الحسنییعی اس کے لئے خوبصورت نام ہیں لیکن اس کاذاتی نام ایک ہی ہے‘ اللہ سبحانہ‘ وتعالیٰ جل جلالہٗ وعم نوالہٗ ۔ قرآنِ حکیم میں اسمِ ذات کا تعارف جس نسبت سے کرایا گیا ہے‘ اس کے پس منظر کو سمجھنے کے لئے چشمِ تصور سے ماضی کے دریچوں میں ایک نگاہ ڈالتے ہیں۔
     غارِ حرا کی تنہائیاں اور حبیبِ کبریاﷺ کے شب وروز‘ اس عالم کا تصور محال‘ صرف اتنا پتہ چلتا ہے کہ جب پیمانۂ شوق   ووارفتگی لبریز ہونے کو تھا توربِّ کائنات کے حکم سے حجابات اٹھنے لگے اور بارگاہ ِ جلالت مآب سے اس کے پیامبر حضرت جبریل امیں علیہ السلام کے ذریعے  غارِ حرا کے مکیں  ﷺ کو پہلا پیغام ملتا ہے:
اقرا باسم ربک پڑھئے اپنے رب کے نام کے ساتھ  (العلق۔1)
            ابتدائے سخن تعارف کے ساتھ اور اس تعارف کا واسطہ خود آپﷺ کی ذات ِ اقدس قرار پائی۔ روح الامین علیہ السلام کی آمد اورنزولِ وحی کے ساتھ یہ حقیقت عیاں ہو گئی کہ سیّدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حریمِ ناز‘ غارِ حرا کے مکین اور مکہ والوں کے امین ‘ حقیقت میں اللہ تعالیٰ کے نبی ﷺہیں‘   ازل تا ابد‘ سرورِ انبیاء اورختم ُالرُّسل ﷺ ‘ لیکن تعارف کا یہ انداز بھی کیا خوب ہے۔
’’پڑھئیے! اس نام کے ساتھ جو آپ  ﷺ کے رب کا نام ہے۔ ‘‘
            رب کے نام سے تو عرب کا بچہ بچہ واقف تھا لیکن اب پہچان کا واسطہ آپ  ﷺ ٹھہرے۔ وہ اللہ ! جو آپ ﷺ کے  رب کا نام ہے۔ یہ تھا  غارِ حرا کا درسِ اوّل ‘   اللہ تعالیٰ کا تعارف آقائے نامدارﷺ کے واسطے سے۔
اقرا باسم ربک… اور اس کے ساتھ نزول وحی کا سلسلہ شروع   ہوتا  ہے۔ کچھ عرصہ بعد اسی مبارک نام کے حوالے سے ایک اورحکم ملتاہے۔
واذکرسم ربک وتبتل الیہ تبتیلا
 اپنے رب کے نام کا ذکر کریں سب سے منقطع ہو کر
(المزمل۔8)
            اللہ اللہ کی تکرار کریں اور اس قدر کریں کہ اس ذکر میں محویت کی کیفیت حاصل ہو جائے۔ یہ خطاب براہ ِراست آپﷺ سے ہے۔ آقائے نامدار ﷺکے اس ذکر کی صورت اورتبتّل کی کیفیّت کیا ہو گی؟ ام المومنین سیّدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اس کیفیت کو ان الفاظ میں بیان کرتی ہیں۔ کَانَ یَذْکُرُ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ اَحْیَانِہٖ۔ کہ آپ ﷺ   ہرآن اللہ کا ذکر کرتے ہیں یعنی ذکر کی مستقل حالت‘ ذکر ِدوام۔
            زبان سے کچھ دیر اللہ اللہ کہنا ذکر ِلسانی کہلاتا ہے جو صرف ان ساعتوں پر موقوف ہو گا جب زبان ذکرِالٰہی میں مصروف ہو لیکن ذکرِدوام ایک مستقل کیفیت ہے جواس وقت حاصل ہوتی ہے جب اللہ کا نام نہاں خانۂ دل میں اتر جائے۔ قلب اللہ اللہ کرنا شروع کر دے اور پھر یہ ذکر قلب کا مستقل وظیفہ بن جائے۔ اٹھتے‘ بیٹھتے‘ سوتے‘ جاگتے دل کی ہر دھڑکن میں اللہ کا ذکر  ہو۔
کان یذکر اللہ علیٰ کل احیانہ
جو اللہ کا ذکر کرتے ہیں کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے ہوئے۔
(آل عمران۔191)
            یعنی کوئی ساعت ذکرِ الٰہی سے خالی  نہ ہو  اور یہ بجز ذکرِ قلبی ممکن نہیں۔ اسی ذکر کی بابت ارشاد ہوا۔

ألا بذكر الله تطمئن القلوب

سن لو کہ اللہ تعالیٰ کی یاد سے دل مطمئن ہوتے ہیں۔
(الرعد۔28)
قلب
   جسمِ انسانی میں دل گوشت کا ایک لوتھڑا  ہے جو حیاتِ جسمانی کو رواں دواں رکھتاہے۔ خون کی ترسیل کا ایک چھوٹا سا پمپ جس کی حرکت سے رگوں میں خون موجزن ہے اورجب یہ رک جائے تو زندگی کا سفر تمام ہو جاتا ہے۔ جس طرح بدن کے اعضائے رئیسہ میں دل سب سے اہم عضو ہے اورہر جاندار کی حیات اسی کی حرکت کی رہینِ منت ہے‘ اسی طرح جب روح کی بات ہو گی تو یہاں دل کے بجائے قلب مراد ہے جو روح کے اعضائے رئیسہ یعنی قلب‘ روح‘ سری‘ خفی اور اخفیٰ  میں سے اہم ترین ہے۔قرآنِ حکیم میں قلب کا ذکر ایک دوسرے پیرایہ میں فرمایا گیا ہے۔ وہ قلب جو لطیفۂ ربانی ہے‘ جو سنتا ہے اوردیکھتا ہے حالانکہ سمع وبصر کانوں اور آنکھوں کے فعل ہیں۔ وہ قلب جو باشعور ہے‘ تَفَقُّہ اور تدبر کرنے والا‘ جو ایمان کا مخزن ہے۔ جب منور ہوتا ہے تو ا س کے سامنے سورج کی چمک ماند پڑ جاتی ہے۔ وہ قلب جو اللہ تعالیٰ سے کلام کرتا ہے‘ اللہ تعالیٰ کے نور سے دیکھتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کا گھر بن جاتا ہے۔ یہی قلب جب اللہ تعالیٰ کی نافرمانی پر اتر آئے تو زنگ آلود ہو  جاتا ہے اور نافرمانی اگر اس قدر بڑھ جائے کہ کفر کی حدوں کو پار کرنے لگے تو اس پر مہر لگ جاتی ہے۔
            یہ سب افعال محض گوشت کے لوتھڑے  کے نہیں ہو سکتے۔ بات جب اس قلب کی ہو گی جو تجلیاتِ باری تعالیٰ کو وصول کر سکتاہے‘ جو برکاتِ نبوی ﷺ کا امین بن سکتاہے تو اس سے مراد گوشت اور رگوں سے لطیف اور مادی آلات کی گرفت سے ماوریٰ  لطیفۂ قلب ہو گا۔ قلب کا مقام جسمِ انسانی میں بظاہر وہ گوشت کا لوتھڑا ہی ہے جو  جوفِ سینہ میںبائیں سمت ہمہ وقت متحرک رہتا ہے لیکن اس کا مکین وہ لطیفۂ قلب ہے جو محشر کے بازار میں کام آنے والا واحد سکہ ہے۔
جس دن نہ مال ہی کچھ فائدہ دے سکے گا نہ بیٹے۔ ہاں جو شخص اللہ کے پاس قلبِ سلیم لے کر آیا وہ بچ جائے گا۔
 يَوْمَ لا يَنفَعُ مَالٌ وَلا بَنُونَ إِلا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ(الشعرآئ۔89-88)
آقائے نامدارﷺ کے الفاظ میں:
قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ اِنَّ فِیْ الْجَسَدِ لَمُضْغَۃً اِذَا صَلُحَتْ صَلُحَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ وَاِذَا فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ  اَ لَا وَھِیَ الْقَلْبُ
’’حضورﷺ نے فرمایا‘ جسمِ انسانی میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے۔ اگر وہ ٹھیک ہو گیا تو سارا جسم درست ہو گیا اور اگر وہ بگڑا تو سارا جسم بگڑا۔ سنو! وہ قلب ہے۔‘‘
            جب قلب بن جائے تو انسان سنور جاتاہے‘ جب یہ بگڑ جائے تو قسمت بگڑ جاتی ہے اور بدن سے وہ اعمال سرزد ہو نے لگتے ہیں جو سراسر بگاڑ ہوتے ہیں۔ قلب بنتا ہے  تو اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ‘ یہ سنورتا ہے  تو صرف اس کی یاد کے ساتھ‘ یہ منوّر ہوتا ہے تو تجلیات ِباری تعالیٰ کے ساتھ یہاں تک کہ اس کی ہر دھڑکن ‘ چاہت‘ سبھی  جذبے اور محبتیں اللہ تعالیٰ کے لئے وقف ہو جاتی ہیں۔
نہ غرض کسی سے نہ واسطہ مجھے کام اپنے ہی کام سے
تیرے ذکر سے تیری فکر سے تیری یاد سے تیرے نام سے
            یہ کیفیت  تب  نصیب ہوتی ہے جب لطیفۂ قلب جاری ہو جائے  جس کا واحد ذریعہ ذکرِ قلبی ہے۔
ذکر قلبی
            ذکر اسمِ ذات بطریق پاسِ انفاس یعنی ذکر اسمِ ذات اللہ اللہ قلب میں کیا جائے لیکن اس تسلسل کے ساتھ کہ کوئی سانس اللہ کے ذکر سے خالی نہ ہویعنی ہر سانس کے ساتھ ذکر قلبی کا ربط قائم رہے۔ مکمل یکسوئی اور توجہ کے ساتھ ہر سانس کی آمدورفت پر اس طرح گرفت ہو کہ ہر داخل ہونے والے سانس کے ساتھ اسمِ  ذات اللہ دل کی گہرائیوں میں اترتا چلا جائے اور خارج ہونے والے ہر سانس کے ساتھ قلب پر ھو کی چوٹ لگے۔ اس طرح سانس کی آمد و رفت کے ساتھ قلب  میں اللہ ھو کا ذکر ایک تسلسل کے ساتھ شروع ہو جائے۔ ابتداء میں شعوری طور پر ہر سانس کی نگرانی کی جائے حتیٰ کہ مسلسل مشق کے بعد ہر سانس کے ساتھ غیر شعوری طور پر قلب میں اللہ ھو کا ذکر جاری ہو جائے۔ سانس کی نگرانی کے اس عمل کو پاس انفاس کہتے ہیں۔ ذکر  کے دوران سانس تیزی اور قوت سے لیا جائے اور ساتھ ہی جسم کی حرکت بھی ہو جو سانس کے تیز عمل کے ساتھ خود بخود شروع ہو جاتی ہے۔ کوئی سانس اللہ کے ذکرسے خالی نہ ہو‘ توجہ قلب پرمرکوز رہے اور ذکر کا تسلسل ٹوٹنے نہ پائے۔
            قوت اور تیزی کے ساتھ کچھ دیر ذکر کرنے کے بعد اب پھر سانس طبعی طور پر لیا جائے لیکن توجہ بدستور قلب پر مرکوز رہے۔ پاسِ انفاس کی صورت اس حال میں بھی برقرار رہے یعنی کوئی سانس اللہ کے ذکر سے خالی نہ ہو۔کچھ دیر شعوری طور پر اللہ ھو کے  اس ذکر کے بعد محسوس ہو گا کہ اب قلب خودبخود سانس کی آمدورفت کے ساتھ اللہ ھو کہہ رہا ہے‘ گویا اسے جو سبق دیا گیا تھا اب وہ خودبخود  اسے دہرا رہا ہے۔ چند یوم صبح  شام مسلسل ذکر کے بعد ایک  وقت ایسا بھی آئے گا کہ ذکر اسمِ ذات یعنی اللہ  شعوری اور غیرشعوری، ہر دو حالت میں قلب کا مستقل وظیفہ بن جائے گا۔ ذکر کی یہ کیفیت ذکرِ دوام کہلاتی ہے اور صوفیاء کی اصطلاح میں اسے قلب کے جاری ہونے  سے تعبیر کیا جاتاہے۔قلب کا جاری ہو جانا صرف محنت اور مجاہدوں پر موقوف نہیں‘ یہ ایک کیفیت ہے جس کے حصول کے لئے اہل اللہ کے سامنے  زانوئے تلمذ تہہ کرنا ضروری ہے۔
             حضرت جی ؒ بھی اس کچی قبر کے پہلو میں بیٹھے ذکرِ قلبی سے طریقت کے درسِ اوّل کا آغاز کرتے ہیں۔ وہ بزرگ آپ ؒکے ساتھ دائیں طرف بیٹھے ہیں اور مسلسل ذکر ہو رہا ہے ‘ اللہ ھو  اللہ ھو  اللہ ھو‘  بطریق پاسِ انفاس لیکن اس عمل کے دوران صاحب ِ قبر کی توجہ شاگردِ رشید کے قلبِ باصفا پر مرکوز ہے۔ اس سارے عمل میں توجہ ہی وہ مؤثر اور فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہے جس کے بارے میں بجا طور پر کہا گیا:
نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں
توجہ
            غار ِحرا کا پہلا سبق تھا‘ اقراء
 یعنی پڑھو لیکن آقائے نامدارﷺ نے حضرت جبرائیل امین علیہ السلام کو جوا ب دیا‘ مَا اَنَا بِقَارِی۔ (میں پڑھا ہوا نہیں ہوں) حضرت جبرائیل علیہ السلام نے آپﷺ کو سینے سے لگا کر زور سے بھینچا اور کہا ‘
۔ جواب  اس مرتبہ بھی وہی تھا۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے ایک بار پھر آپ ﷺ کو سینے سے لگا کرزور سے بھینچا اورکہا‘    لیکن جواب اس مرتبہ بھی وہی ملا یعنی مَا اَنَا بِقَارِی‘ حتیٰ کہ جبرائیل امین  علیہ السلام نے تیسری مرتبہ آپ  ﷺ کو سینے سے لگا کرخوب زور سے بھینچا اور اس کے بعدسے 
تک پیامِ حق کی ترسیل مکمل کی۔
    یہ تھی پہلی وحی!  تین مرتبہ سینے سے لگا کر بھینچنے کے متعلق مفسرینِ کرام نے کمالِ ادب اور احتیاط سے کلام کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِحَقِیْقَۃِ الْحَالِ یعنی  اللہ تعالیٰ ہی حقیقت حال کا علم رکھتے ہیں لیکن اسی سنت کے مطابق اہل اللہ  کے ہاں تین بار توجہ دینے کا عمل ملتاہے۔
            توجہ وہ قوت یا تصرف ہے جس کے ذریعہ مکتبِ طریقت کے مبتدی طالب علم کے قلب کو اخذِ فیض کے لئے تیار کیا جاتا ہے۔ عقل ودانش کے پیمانوں سے تصوف وسلوک کے اسباق کا احاطہ ممکن نہیں۔ اس مکتب کا طالب علم قلب ہے جو القائی اورانعکاسی عمل کے ذریعہ یہاں کے اسباق لیتاہے۔ توجہ کا منبع قلبِ شیخ ہوتا ہے اور اس کانقطۂ ارتکاز سالک کا قلب۔ تین بار توجہ کے ذریعہ سالک کے قلب میں وہ صلاحیت پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ راہِ سلوک  پر اپنے سفر کا آغاز کر سکے ۔ شیخ کامل ہوگا  تو اس کی توجہ میں قلوب کو متأثر کرنے کی صلاحیت ہو گی جو ما و شما  کا کام نہیں۔
ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء
یہ عطائے الٰہی ہے جس کو چاہے عطافر ما دے۔(المآئدہ۔54)
            توجہ کا مقصد اصلاح ِباطن ہے لیکن شیخِ کامل کی توجہ سے مستفید ہونے کے لئے قلب کا طالب ہونا بھی ضروری ہے ۔ انابت سے محروم قلب کے لیٔ شیخِ کامل کی توجہ بھی پتھریلی چٹان پر برسنے والی بارش کی طرح بے اثر ثابت ہو تی ہے۔
            شیخ کی یہ باطنی قوت یا توجہ دراصل صحبت ِبرکاتِ نبویﷺ کی ایک انعکاسی جھلک ہے۔ ایمان کے ساتھ جو شخص بھی صحبتِ نبوی ﷺ میں حاضر ہوا‘  اِک نگاہ کے ساتھ برکات ِصحبت اس کے قلب میںاتر گئیں اور وہ ولایت کے بلند ترین مقام‘ صحابیت پر فائز ہوا۔ صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی نگاہ ِپرُ اثر سے تابعینؒ بنے اور پھر تابعینؒ کی نگاہ سے تبع تابعینؒ کی جماعت تیار ہوئی۔ اس کے بعد اہل اللہ کے ذریعہ یہ  ولایت بٹتی چلی گئی ۔ جس کسی نے بھی برکاتِ صحبتِ نبوی  ﷺ کے منبع سے جاری کسی بھی دھارے سے رابطہ جوڑا‘ اسے اس کی استطاعت کے مطابق یہ برکات نصیب ہوئیں۔ برکاتِ صحبت ِ نبوی ﷺ کی ترسیل کے یہ مختلف دھارے سلاسلِ تصوف  کہلاتے ہیں۔
سلاسلِ تصوف
            آج باطنی تربیت کے جس مکتب کی بات کریں ‘خواہ وہ نقشبندی ہویا قادری‘ چشتی ہو یا سہروردی ‘اس کے پیچھے اہل اللہ کا ایک سلسلہ  تواتر کے ساتھ نظر آتا ہے۔ اصل منبعٔ فیض آقائے نامدار ﷺ کی ذاتِ اقدس ہے جن کی ایک نگاہ سے صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعینکے قلوب منورہوئے۔ صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم سے  برکاتِ نبوی  ﷺ تابعینؒ کے قلوب تک پہنچیں‘ ان سے تبع تابعینؒ نے وصول کیں اور پھر اہل اللہ کے ذریعہ  برکاتِ نبوی  ﷺ کی  یہ ترسیل  ہمہ وقت جاری ہے۔ ایک  چراغ سے کئی چراغ جلے اور بعض قلوب ایسے بھی تھے جو بیک وقت سینکڑوں بلکہ ہزاروں اور لاکھوں قلوب کو منور کرنے کا ذریعہ بن گئے۔
              آج دنیا میں جہاں کہیں بھی کوئی قلب منور نظر آتا ہے‘ اس کی روشنی اسی ضیا  ء پاشی کی رہینِ منت ہے جس کا منبع قلبِ اطہر  رسول  اللہ  ﷺہے اور درمیان میں تابعینؒ، تبع تابعینؒ اور اہل اللہ کے سلاسل ہیں جواس قلب تک یہ روشنی منعکس کرنے کا واسطہ ہیں۔ تمام سلاسلِ تصوف حضرت علیؓ  تک پہنچتے ہیں سوائے سلسلۂ نقشبندیہ کے‘ جس کی پہلی کڑی جناب صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ ہیں۔
             سلسلۂ نقشبندیہ میں ایک سلسلۂ تصوف ایسا بھی ہے جس میں روحانی تسلسل برقرار رہتاہے لیکن زمانوی اعتبار سے توجہ دینے والی ہستی اور سالک کے درمیان بعض اوقات صدیوں کے فاصلے بھی  حائل ہو سکتے ہیں۔ اس سلسلۂ عالیہ میں ترسیلِ فیض کے لئے زمانہ کی قید ہے نہ باہمی نشست وصحبت کی‘  جس طرح حضرت اویس قرنی رحمۃ اللہ علیہ کو آقائے نامدار ﷺ کی  خدمت میں حاضر ہوئے بغیرروحانی طور پر فیض حاصل ہوا۔ حصولِ فیض  کے اس طریق کی مطابقت چونکہ حضرت اویس قرنی     ؒکے طریقۂ حصولِ فیض سے ہے‘ اس لئے یہ طریق ِ اویسیہ کہلاتا ہے۔(ابو الاحمدین رحمہ اللہ)

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

علمی وفکری اختلاف آپ کا حق ہے۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔