Feb 4, 2017

”عبادان“ صوفیاء کی اوّلین خانقاہ:ابن محمد جی قریشی(اقتباس ،اشاعت حدیث میں صوفیاء برصغیر کا کردار)

0 comments
”عبادان“ صوفیاء کی اوّلین خانقاہ
امام ربیع بن صبیح جس طرح احادیث کے اوّلین مصنفوں میں سے ہیں اسی طرح اللہ نے آپ ؒ کو یہ سعادت بھی بخشی حاملین برکات نبوتﷺ کا اوّلین مرکز عبادان کے مقام پر قائم کیا۔عبادان کی اس اوـلین خانقاہ(رباط)کاایک پہلو یہ تھاکہ یہ اہل زہاد و عباد کا مرکز تھا جہاں پورے عالم اسلام سے اہل زہاد عباد کھنچے چلے آتے تھے۔حضرت بشر بن حارث جیسے صاحب علم وعرفان نے بھی عبادان کا سفر کیا۔دوسرا اس کا پہلو یہ تھا اسلامی شہروں کی طرح آئمہ حدیث اور علمائے دین حدیث کا درس دیتے تھےاور حدیث کے طالب علم اپنے علمی اسفار میں عبادان کا سفر کرتے تھے۔امام احمد بن حنبل   جیسے عظیم المرتبت محدث نے تحصیل حدیث اور برکات نبوت کے لئے عبادان کا سفر اختیار کیا۔ عبادان کاتیسرا پہلویہ تھایہ ایک سرحدی قلعہ تھا۔قاضی اطہر مبارک پوری فرماتے ہیں:
    ” ۱۴هہجری میں بصرہ آباد کیا گیا ۔عبادان بصرہ سے کچھ دوردریائے دجلہ اور دریائے خورستان کے دو آبہ میں واقع ایک معمولی سا گاؤں تھا۔عبادان کا نام عباد بن حصین حبطی کے نام پر رکھا گیاہشام بن کلبی کی روایت کے مطابق عباد بن حصین نے سب سے پہلے خوداس مقام پر مرابطت کی اس کے بعد ربیع بن صبیح نے اہل بصرہ سے چندہ کر کےعبادان کی قلعہ بندی کی اور یہیں رہ کر رضا کارانہ طور پر اسلامی سرحد کی نگرانی کرنے لگے“۔
عبّاد بن حصین حبطی کا تعلق بنو تمیم سے تھا۔ابن زبیر کے عہد حکومت میں بصرہ کے اعلی پولیس آفسر تھے۔آپ کا شمار اپنے عہد کے جری شاہ سہواروں میں کیا جاتا ہے۔خارجیوں سے معرکہ آرائیوں میں عمر بن عبید اللہ بن عمر کی حمایت بنو تمیم کے سردار تھے ۔اس جنگ میں خوب جانفشانیاں دکھائی ۔ امام حسن بصری اور عباد بن حصین قابل کی فتح میںایک ساتھ رہے۔امام حسن بصری نے آپ کی جرات وبہادری کی داد ان الفاظ میں دی ہے:
”جب میں نے عباد بن حصین کے کارناموںکو دیکھا تو مجھے یقینا آیا کہ ایک آدمی ایک ہزار آدمیوں کے قائم مقام کیسے ہو سکتاہے“۔
ابن اشعت نے جب حجاج بن یوسف کے خلاف خروج کیا تو اس وقت آپ بوڑھے ہو چکے تھے۔ابن اشعت کو آپ نے بعض جنگی نوعیت کے مشورے بھی دئیے ۔آپ کےبیٹے جہضم نے ابن اشعت کا ساتھ دیا۔ابن اشعت کو جب شکست ہوئی تو حجاج نے آپ کے بیٹے کو قتل کر دیا اور آپ حجاج کے خوف سے بھاگ کر قابل آگئے جہاں آپ کے دشمنوں نے آپ کو قتل کر دیا(المعارف اردو،ص ۴۲۴/۴۲۵،ابی محمد عبداللہ بن مسلم ابن قتیبہ الدینوری ۲۱۳هھ/۸۲۸ء۔ ۲۷۲هھ/۸۸۹ء۔مترجم پروفیسر علی محسن ،قیرطاس پیبلیشر)
اب سوال یہ ہے کہ عبادان کی بنیادحضرت عباد بن حصین نے کب رکھی تھی تو یقیناً عبادان کی پہلی قلعہ بندی حضرت عبد اللہ بن زبیر؄ کے عہد حکومت اس وقت رکھی گئی جب حضرت عباد، ؒابن زبیر؄ کی طرف سے بصرہ میں پولیس کے اعلی عہدے پر تھے۔کیونکہ آپ کی زندگی کا اکثر حصہ جہاد میں گزرا ہے۔جغرفیائی لحاظ سے بھی عبادان بصرہ کے قریب ہی واقع ہے۔قاضی اطہرمبارک پوری ؒ نے لکھا ہے:
عبادان فوجی ا عتبار سےبہت اہم مقام تھااور دشمن اس کے نواحی علاقےسے عراق پر حملہ کر سکتے تھےاس لئے یہاں مطعوعین اورمرابطین کی جمعیت جو عام طور پرعباد ز ہاد اور علماء و صلحا پر مشتمل ہوتی تھی جس کا کام باغی عناصر،خوارج اور بحری ڈاکوئوں کا مقابلہ کر کے شکست دینا تھا۔(مسلمانوںکی عظمت رفتہ ص۱۵۳)
عبادان کی مزید ترقی اور شہرت دینے والے حضرت ربیع بن صبیع بصری ہندی ہیں ۔حضرت ربیع بن صبیح کی تاریخ پیدائش کا واضح تعین نہ ہو سکا، آلبتہ محسن ہند محقق تاریخ ہندو عرب قاضی اطہر مبارک پوری نے لکھا ہے کہ آپ نے دوسری صدی ہجری کے اوائل میں آنکھ کھولی(ص۱۳۸)اور آپ کی وفات ۱۶۰ ہجری میں ہندوستان میں ہوئی۔تو اس لحاظ سے یہ اندازہ ہوتاہے کہ عبادان کی خانقاہی حثیت (رباط)دوسری صدی ہجری کا وسط دہائی ہو گئی یہیں وہ زمانہ جس میں علم حدیث باقاعدہ علم وفن کی صورت میں سامنے آیا ۔اس سے یہ ثابت ہوا کہ علوم الا حسان اور علوم الحدیث تدوینی لحاظ سے ہم عصر ہیں۔
مرابطت اور رباط اسلامی حربی سیاست میں بہت اہم شعبہ ہےاس کے ذریعہ اسلامی سرحدوں کی حفاظت کی جاتی ہےاور دشمن سے باخبر رہا جاتا ہے ساتھ ہی اندرونی بد امنی کوفرو کیا جاتا ہےجہاد کی طرح ربا ط کے بڑے فضائل ہیںاور اس میں بڑا اجرو ثواب ہےاسی لئے عباد وزہاد اہل اللہ یہ خدمت اپنے ذمہ لیا کرتے تھےاور جستہ للہ دور دراز مقامات پر جا کر ذکر الٰہی کے ساتھ اسلامی سرحدوں کی نگرانی کرتے تھے۔بعد میں مرابطت اور رباط کا تصوربزرگوں کی خانقاہوں میں تبدیل ہو گیا افریقہ میں سنوسیوں کی رباطین اور زاویے ایک حد تک اسی قدیم حقیقت پر مبنی تھے۔جن میں رہ کر عوام کو فرانسیسی جبرو استبداد کے خلاف تیار کرتے تھےمگر عام طور پر اب رباط کا لفظ خانقاہ کے ہم معنی ہو گیا ہے بلکہ سرائوں اور مسافر خانوں پر بھی بولا جانے لگا ہے۔(مسلمانوں کی عظمت رفتہ ص ۱۵۲)
عبادان کے محل وقوع کے متعلق بشاری مقدسی نے تفصیل سے کام لیا ہےجس کا خلاصہ یہ ہے عبادان بصرہ سے کچھ دوردریائے دجلہ اور دریائے خورستان کے دو آبہ میں معمولی شکل میں ایک گاؤں تھاجہاں ساحل سمندرہونے کی وجہ سےآب ہوا مرطوب تھی اور وبائی امراض کی کثرت تھی پانی کے لئےسیلے کی بڑی قلت تھی اور مد وجزر کی وجہ سے یہ بستی ہمیشہ معرض خطرہ میں رہا کرتی تھی ۔اس میں مرابطین کے زاویے تھے جن میں اکثر عباد اور صلحا ءتھےان کی اکثریت چھلکے کی چٹائیاں بناتی تھی۔بشاری مقدسی کا یہ بیان چوتھی صدی ہجری سے تعلق رکھتا ہے۔
(اقتباس،زیر طبع اشاعت حدیث میں صوفیاء برصغیر کا کردار)

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

علمی وفکری اختلاف آپ کا حق ہے۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔