Nov 1, 2013

کیا صوفی ازم اور نبی کریم صل الله علیہ وسلم کا پیش کردہ دین ایک ہی ہے - اگر ایسا ہی ہے تو اس کے لئے" صوفیت " کی نئی ا صطلا ح استعمال کرنے کا کیا جواز ہے؟؟

3 comments
سوال:۔کیا صوفی ازم اور نبی کریم صل الله علیہ وسلم کا پیش کردہ دین ایک ہی ہے - اگر ایسا ہی ہے تو اس کے لئے" صوفیت " کی نئی ا صطلا ح استمعال کرنے کا کیا جواز ہے؟؟ - اگر یہ اسلام سے ہٹ کر دین اسلام پر چلنے کا ایک نیا طریقہ کار ہے تو پھر قرآن کی اس آیت کا کیا مطلب ہے - ؟؟ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ۚ سوره المائدہ ٣
آج میں تمہارے لیے تمہارا دین پورا کر چکا اور میں نے تم پر اپنا احسان پورا کر دیا اور میں نے تمہارے واسطے اسلام ہی کو دین پسند کیا -
جب دین مکمل ہو چکا تو پھر یہ طریقت و سلوک وغیرہ کے کیا معنی اور کیا اہمیت ؟(ایک اہلحدیث کا سوال)۔
جواب:۔اپکے سوال کے دو جواب ہیں ایک الزامی اور دوسراتحقیقی۔
۱۔کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ اہلحدیث مسلک کے نام کا کوئی گرو آنحضرتﷺ کے دور میں تھا،اگر نہیں تھا اور مسلمانوں کی پہچان مسلم کے نام سے تھی تو پھر اہلحدیث نام رکھنے کا کیا جواز تھا؟اور اگر اہل توحید کی پہچان مسلم نام سے موجود تھی ،اور یہ آیت نازل ہو چکی تھی۔
الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا ۚ سوره المائدہ ٣
آج میں تمہارے لیے تمہارا دین پورا کر چکا اور میں نے تم پر اپنا احسان پورا کر دیا اور میں نے تمہارے واسطے اسلام ہی کو دین پسند کیا -
تو پھر یہ اہلحدیث ،غربا اہلحدیث ، اثری ،سلفی کی کیا حثیت؟؟
۲۔اہل علم محدث تھے ،مفسر تھے۔فقہا تھے ،مگر یہ ااپ مولانا ،مولوی ،الشیخ ،وغیرہ وغیرہ کی اصطلاح کیوں استعمال کرتے ہیں؟
اب سنیے تحقیقی جواب:۔
یہ جواب مجھے دینے کی ضرورت نہیں ،اہل علم نے اسکا جواب بہت سارے مقام پر دیا ہے ،چونکہ آپ مفتی ہیں اسلئے مطالعہ نہیں فرما سکتے ،مگر حقائق جاننے کے لئے یہ زحمت آپ کو گوارہ کرنے پڑھے گی،نعیم یونس صاحب ابن تیمیہؒ کی ایک اہم کتاب الفرقان بین اولیاء الرحمان و اولیاء الشیطان- امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ’‘ صوفی کی وجہ تسمیہ‘‘فرماتے ہیں

صوفی کی وجہ تسمیہ:۔سلف صالحین اہلِ دین و علم کو قراء کہا کرتے تھے چنانچہ علماء اور عبادت گذار لوگ اسی جماعت میں داخل ہیں۔ بعد میں صوفیا اور فقرا کا نام پیدا ہوگیا تھا اور صوفیا کا نام صوف (اون) کے لباس کی طرف منسوب ہے اور یہی صحیح بات ہے۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے فقہاء کی برگزیدگی کی طرف اشارہ ہے۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ نام صوفۃ الفقہاء کی طرف منسوب ہے اور یہ بھی کہا گیا کہ یہ نام صوفہ بن مربن ادّبن طابخۃ کی طرف منسوب ہے جو کہ عرب کا ایک قبیلہ ہے جو کہ عبادت گذاری میں مشہور تھا۔نیز کہا گیا ہے کہ صوفی کا نام اصحاب ِ صُفہّ کی طرف منسوب ہے۔بعض کہتے ہیں کہ صفا کی طرف منسوب ہے بعض کہتے ہیں کہ صفوۃ کی طرف منسوب ہے۔بعض کہتے ہیں کہ اللہ کے سامنے پہلی صف میں کھڑا ہونے کی طرف اشارہ ہے اور یہ قول ضعیف ہیں کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو صفی یا صفائی یا صفوی وغیرہ کہا جاتا اور صوفی نہ کہا جاتا اور فقرا کے نام کا اطلاق اہلِ سلوک پر بھی ہونے لگا اور یہ جدید اصطلاح ہے۔ کتاب الایمان، مذاہب، ج1ص44پر ہے۔ہمارے اہل حدیث عالم و صوفی سید عبد اللہ محدث روپڑی رحمہ اللہ علیہ ست طریقت اور شریقت کے متعلق پوچھا گیا تو کیا خوب آپ نے جواب دیا،سبحان اللہ ہمارے علماء ایلحدیث تصوف وسلوک کسی سے کم نہیں ہیں چند اقتباس پیش کرتا ہوں،فرماتے ہیں:۔
رسول اللہﷺ کے زمانہ میں اور اس کے بعد خیر قرون میں شریعت ، طریقت ، حقیقت ، معرفت وغیرہ کوئی خاص اصطلاح نہ تھیں۔ صرف شریعت کا لفظ دین کے معنی میں استعمال ہوتا تھا باقی الفاظ قریباً اپنے لغوی معنی پر تھے۔ اس کے بعد جیسے فقہ والوں نے احکام کے درجات بتلانے کی غرض سے فرض واجب وغیرہ اصطلاحات مقرر کی ہیں۔ اسی طرح صوفیائے کرام نے تہذیب اخلاق یعنی علم تصوف میں سلوک عبد کے درجات کو ظاہر کرنے کی غرض سے یہ الفاظ مقرر کیے۔ مثلاًشریعت عقائد اور ظاہری احکام کا نام رکھا جیسے نماز۔۔۔ روزہ وغیرہ۔ طریقت ان پر عمل کرنے میں ریاضت اور مجاہدۂ نفس کرنا اور اپنے اندر اخلاص اور للٰہیت پیدا کرنا۔ حقیقت ان کے اسرارپر مطلع ہوکر اپنا عمل اس کے مطابق کرنا جیسے شاہ ولی اللہ صاحب نے حجۃ اللہ البالغۃ میں ان احکام کے اسرار لکھے یا نفس اور دل کے امراض پر مطلع ہو کر ہر ایک مرض کا مناسب علاج کرنا اور باطنی صحت قائم رکھنے کے اسباب پیدا کرنا۔ معرفت کشف اور مراقبہ کی حالت ہے۔ جو یقین اور اطمینان قلبی کا اعلیٰ مقام ہے۔ اس وقت اللہ کے سوا کسی شے کی طرف نظر نہیں رہتی اور ذکر الہی میں وہ حلاوت اورلذت پاتا ہے کہ کوئی لذت اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی بلکہ ذکر الہی ایک طرح سے اس کی غذا ہوجاتا ہے جس کے بغیر اس کی زندگی مشکل ہے۔
مثال ان چاروں مراتب کی مثال درخت کی سی ہے۔ مثلاً درخت کے لئے جڑیں اور تنا ہے ان کے بغیر درخت کا وجود ہی نہیں۔ پھر ٹہنے اورشاخیں ہیں یہ بھی درخت کےلئے لازمی ہیں۔ پھر پھل ہے پھر اس کی لذت ہے۔ ٹھیک اسی طرح تصوف ہے۔ شریعت کے بغیر تو تصوف کوئی چیز ہی نہیں۔ نہ وہاں طریقت ہے نہ حقیقت نہ معرفت کیونکہ شریعت بمنزلہ جڑ اور تنے کے ہے۔ اس کے بعد طریقت کا مرتبہ ہے جو بمنزلہ ٹہنوں اورشاخوں کے ہے۔ اس کے بغیر بھی تصوف کالعدم ہے۔ پھر حقیقت پھل کے قائم مقام ہے اورمعرفت اس کی لذت کے قائم مقام ہے۔ جیسے درخت پھل اور اس کی لذت کے بغیر کامل نہیں اس طرح بندہ بھی خدا کے نزدیک کمال کو نہیں پہنچتا جب تک اس کے اندر حقیقت اور معرفت پیدا نہ ہو جائے۔
اور خلاصہ میں فرماتے ہیں:۔
خلاصہ خلاصہ یہ کہ شریعت ، طریقت ، حقیقت ، معرفت خواہ الگ الگ شاخیں ہوں یا ایک ہوں اور الگ ہونے کی حالت میں چارہوں یا کم ہوں۔ کسی صورت میں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہو سکتے۔ جو ایک دوسرے سے جدا ہونے کے قائل ہیں وہ ان کی حقیقت سے ناواقف ہیں۔ اللہ ان کو سمجھ دے اور راہ راست کی توفیق بخشے۔ آمین
اب آخری اقتباس بھی غور سے پڑھ لو۔۔

شاید کے تیرے دل میں اتر جائے میرے بات
محدث روپڑی ؒ فرماتے ہیں ،غور کرو مقام کیا ہے محدث۔سبحان اللہ تصوف وسلوک کو محدثین ،مفسرین نے اختیار کیا ،جہاں اتنے بڑے بڑے لوگوں کے نام آتے ہوں وہاں یہ کہنا کہ تصوف جہلا کا شعبہ ہے ،ایسا شخص کو دماغ کا علاج کروانا چاہئے۔فرماتے ہیں:۔
اس موقعہ پر یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ دو فرقے غفلت میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ جیسے خارجیوں اور رافضیوں کا حال ہے۔ خارجی طبیعت والا خدا کے نیک بندوں سے ایسا بغض رکھتا ہے کہ خواہ وہ کیسے ہی بزرگ ہوں ان کا ایک آدہ عیب لے کر ان کو برا کہتا ہے۔ اور کسی بات میں ان کو قابل اقتدا نہیں جانتا۔ رافضی خیال کہتا ہے کہ فلاں شخص جوکچھ کرے اچھا ہے اور واجب الاتباع ہے۔ اگر وہ کہے کہ شراب سے مصلےٰ رنگ لے تو رنگ لینا چاہیے۔ کیونکہ وہ بے خبر نہیں اس میں کوئی راز ہے۔ انہی سے بعض اٹھتے بیٹھتے یا بہاؤ الدین مشکل کشا کا ورد کرتے ہیں اور اپنے آپ کو خواجہ بہاؤ الدین﷫ کے محبوں سے سمجھتے ہیں۔ کوئی یا نظام الدین الأولیاء زری زر بخش کا ورد کرتے ہیں یعنی اے نظام الدین اولیاء زری سونا بخش دے۔ بعض نے ہر ضرورت کے لئے یا شیخ عبد القادرجیلانی شیئا للہ کا وظیفہ گھڑ لیا ہے۔ خبردار یہ تمام افتراء اور بہتان ہے بزرگانِ طریقت سے یہ بالکل ثابت نہیں۔ کسی ثقہ نے ان سے اس کی روایت نہیں کی بلکہ معتبر کتابوں میں جوکچھ ان کے احوال درج ہیں ان سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ وہ اپنے مریدوں کوغیراللہ کی طرف نظر ڈالنے سے منع کرتے تھے۔ شیخ الشیوخ ابن عربی عوارف المعارف میں لکھتے ہیں کہ: مرید راست باز اورمخلص بندہ نہیں بنتا۔ جب تک شریعت کی پوری پابندی نہ کرے اور اپنی نظر مخلوق سے نہ ہٹائے۔ ابتدائی مراحل طے کرنے والوں پر جو گمراہی کی آفت آتی ہے اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ ان کی نظر مخلوق کی طرف ہوتی ہے۔ اوررسول اللہﷺ سے ہمیں حدیث پہنچی ہے کہ بندے کا ایمان کامل نہیں ہوتا جب تک اس کی نظر میں تمام لوگ میگنیوں کی طرح نہ معلوم ہوں اوراپنے نفس کو اس سے بھی چھوٹا نہ دیکھے۔ مولاناجامی﷫ نے نفحات الانفس میں
ــــــــــــــــــــــ خواجہ بہاؤ الدین﷫ سے نقل کیا ہے کہ خواجہ بہاؤ الدین نقشبند﷫ فرماتے ہیں: خدا کا مجاوربننا بندوں کے مجاوربننے سے زیادہ لائق ہے۔ یعنی مسجدوں میں بیٹھنا چاہیے نہ قبروں میں۔ تو قبروں کی پرستش کب تک کرے گا خدا کے مردوں جیسے کام کر یعنی شریعت پر چل۔ شاہ عبد القادر جیلانی﷫ جومشائخ کے سردار اوراولیاء اللہ کے سرکردہ ہیں فتوح الغیب میں فرماتےہیں: جو دنیا اور آخرت میں سلامتی چاہتا ہے وہ صبر ورضا بالقضاء کو اپنا شیوہ بنائے اورمخلوق کے پاس اپنی مصیبت کی شکایت اور اپنی ضرورتوں کا پیش کرنا ترک کردے۔ اور خدا کی طرف سے کشادگی کا انتظار کرے کیونکہ خداغیر سےبہتر ہے۔ آج کل عجیب بات یہ ہوگئی ہے کہ پیر پرست قرآن و حدیث کے مقابلہ میں عقلی ڈھکوسلوں سے کام لیتے ہیں۔ کہتے ہیں اولیاء اللہ کے ارواح اگرچہ مخلوق ہیں لیکن بوجہ قرب الہی کے ان کو پکارنا اور ان سے حاجت روائی کی درخواست کرنا کوئی حرج نہیں۔ کیونکہ اولیاء اللہ کو خدا کی طرف سے یہ قدرت ہے کہ کماں سے تیر نکلا ہوا لوٹا دیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے اگر خدا تجھے دکھ پہنچائے تو اس کے سوا کوئی کھولنے والانہیں۔ اگر خیر کا ارادہ کرے تو اس کے فضل کو کوئی روکنے والا نہیں۔ اور رسول اللہﷺ فرماتے ہیں۔ اگر ساری دنیا تجھے نفع پہنچانے میں کوشش کرے جو نفع خدا نے تیرے لئے نہیں لکھا تو وہ اس پر قادر نہیں۔ اگر ساری دنیا تجھے دکھ پہنچانا چاہے جو خدا نے تیرے لئے نہیں لکھا تو اس پر بھی ان کو قدرت نہیں۔ یہ حدیث ایک لمبی حدیث کا ٹکڑا ہے جس میں ابن عباس﷜ کو رسول اللہﷺ نے (توحید کا سبق پڑھاتے ہوئے) فرمایا اے لڑکے! خدا کو یاد رکھ خدا تیری حفاظت کرے گا۔ اللہ کو یاد کر اللہ کو سامنے پائے گا۔ جب سوال کرے اللہ سے سوال کر ، جب مدد چاہے اللہ سےچاہ ، جو کچھ ہونا تھا۔ اس کے ساتھ قلم خشک ہوگیا یہ حدیث پوری کتب حدیث میں اور فتوح الغیب میں موجود ہے۔ شاہ عبدالقادر جیلانی﷫ اس حدیث کو ذکر کر لکھتے ہیں: ہر مومن کو چاہیے کہ اس حدیث کو اپنے دل کا آئینہ اور اپنے بدن کے اندر اور باہر کا کپڑا بنا لے۔ اور بات چیت میں اس کا خیال رکھے۔ پس اپنے تمام حرکات و سکنات میں اس پر عمل کرے تاکہ دنیا اور آخرت میں سلامت رہے۔ اور دونوں جہاں میں خدا کی رحمت سے عزت پائے۔ جو شخص لوگوں سے سوال کرتا ہے۔ وہ خدا سے جاہل ہے اس کا ایمان۔ اس کی معرفت اس کا ایمان کمزور ہے اور حوصلہ کم ہے۔ اس حدیث اور شاہ عبد القادر جیلانی﷫ کے اس کلام سے صاف معلوم ہوا کہ پیر پرستوں قبر پرستوں کا رشتہ نہ شریعت سے ہے نہ طریقت سے ہے۔ اگر یہ لوگ ملاحدہ کی طرح کہیں کہ جس مقام میں ہم ہیں حقیقت ہے۔ جو شریعت اورطریقت سے الگ ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ شاہ عبد القادر جیلانی﷫ فتوح الغیب میں لکھتے ہیں: جس حقیقت کے لئے شریعت سے گواہی نہ ہو وہ کفر اورالحاد ہے۔ شیخ عبد الحق دہلوی مرحوم اس کی شرح میں لکھتے ہیں: حقیقت شریعت سے الگ نہیں بلکہ حقیقت اصل میں شریعت ہے۔ ایمان والے اس کا مشاہدہ کرتے ہیں اوراس کی تہ کو پہنچتے ہیں۔ اگر کسی کوشریعت کے خلاف کشف ہوتو جھوٹ ہے اور باطل ہے۔ اوراس کا اعتقاد کرنے والا کافر ہے۔ ابوسلیمان دارانی﷫ فرماتے ہیں: بہت دفعہ وجدانی نکتہ مچھر کھلتا ہے اوربہت اچھا معلوم ہوتا ہے مگر میں اس کو دوگواہوں عادل کی گواہی کے بغیر قبول نہیں کرتا۔ ایک کتاب اللہ اور دوسرا سنت رسول اللہ ۔ اس بات کو یاد رکھنا چاہیے کہ مراقبہ اور توحید کا مرتبہ شرعی حدود کی حفاظت کے ساتھ صدیقوں اورعارفوں کا مقام ہے جواہل تحقیق ہیں۔ بعض لوگ اس مقام میں پریشان ہوجاتے ہیں۔ بعض اپنے آپ کو دائرہ اسلام سے باہر کردیتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ شریعت ، طریقت الگ شے نہیں بلکہ دین ایک ہے اور یہ اس کی شاخیں اور مراتب اوردرجات ہیں۔ اللہ حق کہتا ہے اور سیدھا راستہ بتلاتا ہے۔ۤ ابو سعید حراز﷫ کہتے ہیں جو باطل ظاہر کے خلاف ہو وہ باطل ہے۔ اور اسی کے موافق سیر المشائخ میں واقعہ لکھا ہے کہ ایک مرتبہ خواجہ بہاؤ الدین ذکریا ملتانی﷫ اپنے معمول کے موافق ملتان کی ایک مسجد میں صبح کی نماز کے لئے گئے۔ امام ایک رکعت پڑھا چکا تھا وہ دوسری رکعت میں شامل ہوئے۔ جب امام التحیات بیٹھا تو وہ سلام سے پہلے ہی اٹھ کر دوسری رکعت ادا کرنے لگے۔ جب فارغ ہوئے تو امام نے کہا اے شیخ امام کے سلام پھیرنےسے پہلے اٹھنا جائز نہیں شاید امام کے ذمہ سجدۂ سہو ہو۔ جس میں مقتدی کی شرکت بھی ضروری ہے اس لئے پہلے نہ اٹھنا چاہیے۔ شیخ نے کہا اگر نورِ باطن سے معلوم ہوجائے کہ امام کے ذمہ اس نماز میں کوئی سجدۂ سہو نہیں تواس وقت پہلے اٹھنے میں کوئی حرج نہیں۔ امام نے کہا اے شیخ جو نور خلاف شرع ہو وہ اندھیرا ہے نور نہیں۔ شیخ ابوعبد اللہ حارث بن اسدی محاسبی﷫ جو علماء مشائخ سے ہیں اورمتقدمین میں اہل طریقت سے ہیں فرماتے ہیں: جس کا باطن راقبہ اور اخلاص سے صحیح ہوگیا اس کے ظاہر کو اللہ تعالیٰ ریاضت اوراتباعِ سنت کے ساتھ خوبصورت کردیتا ہے۔ ابو حفص کبیر حداد﷫ جو اہل طریقت کے بڑوں سے ہیں فرماتے ہیں: جو شخص اپنے اقوال ، افعال اوراحوال کو دو ترازؤوں کتاب وسنت کےساتھ نہ تولے اوراپنے خیالات پر غلط ہونے کی تہمت نہ لگائے تو اس شخص کا شمار مردوں کے دفتر میں نہ کرو۔ شیخ ابو یزید بسطامی﷫ جو مشائخ میں سلطان العارفین کے لقب سے پکارے جاتے ہیں فرماتے ہیں: اگر تم کسی شخص کو دیکھو کہ قسم قسم کی کرامات دیا گیا ہے یہاں تک کہ ہوا میں بیٹھتا ہے۔ پانی پر چلتا ہے تو اس کا کچھ اعتبار نہ کرو جب تک یہ نہ دیکھ لو کہ امر نہی کی پابندی اور حدود کی حفاظت اور احکامِ شرعیہ کی ادائیگی میں کیسا ہے۔ سید الطائفہ جنید بغدادی﷫ جو تمام اہل طریقت کے پیشوا ہیں فرماتے ہیں: مخلوق کی سانس کی گنتی قدر خدا کی طرف راستے ہیں اور سب بند ہیں مگر جو رسول کے قدم بقدم چلا اس کا رستہ خدا تک پہنچتاہے۔ ان بزرگوں کے کلام کا خلاصہ یہ ہے۔ کہ سنت رسول کی پیروی واجب ہے اور امر نہی شرعی کی پابندی لازم ہے اور مخالفِ شرع کے ہاتھ پر خرقِ عادات ظاہر ہونے سے دھوکا نہ کھانا چاہیے۔ کیونکہ قرآن میں ہے کہ ظاہر باطن ہر قسم کے گناہ چھوڑ دو۔ بلکہ بیہقی شعب الایمان میں حدیث لائے ہیں کہ جو بدعتی کی عزت کرے اس نے دین اسلام کے گرانے پر امداد کی۔ بزرگأنِ دین اس میں بہت احتیاط کرتے تھے۔ کہتے ہیں حسین بن منصور حلاج بڑا عابد تھا۔ ہر رات ہزار رکعت نفل پڑھتا۔ جب اس کی زبان سے أنا الحق (میں خدا ہوں) کا کلمہ نکلا تو سید الطائفہ جنید بغدادی﷫ نے اور دوسرے لوگوں نے اس کے قتل کا فتویٰ دے دیا اور سولی پر کھینچ دیا۔ شیخ عبد الحق محدث دہلوی﷫ أخبارالأخیار میں لکھتے ہیں کہ: خواجہ نظام الدین اولیاء سے لوگوں نے پوچھا کہ حسین بن منصور حلاج کا کیا حکم ہے ؟ فرمایا: مردود ہے۔ جنید نے اس کو مردود لکھا۔ جنید اپنے زمانے کا پیشوا تھا۔ اس کا مردود کہنا سب کا مردود کہنا ہے۔ أخبارالأخیار میں شاہ عبد القاد ر جیلانی﷫ کے ذکر میں لکھا ہے کہ: کہ انہوں نے کہا کہ منصور کسی نے نہ پایا۔ کہ اس کی دستگیری کرتا اور جو اس کوغلطی لگی تھی اس سے اس کو روکتا۔ میں اس زمانے میں ہوتا تو اس کی دستگیری کرتا۔ تاکہ وہ اس حد تک نہ پہنچتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس وقت کے مدعی جس بات کو حق سمجھتے ہیں اور اس کو عین معرفت توحید سمجھتے ہیں۔ یہ ان کے پیروں کے نزدیک گمراہی ہے۔ پس ثابت ہوا کہ یہ مدعی جیسے سنت نبوی کے خلاف کرتے ہیں۔ ایسے بزرگوں اور اولیاء کے بھی مخالف ہیں اور ان کا اپنے بزرگوں کی نسبت محبت کا دعویٰ کرنا صرف زبانی ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ منافقوں کی بابت فرماتا ہے۔ اپنی زبانوں سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں۔ شاہ ولی اللہ صاحب﷫ نے جو کچھ لکھا کافی ہے۔ اس سے اچھی طرح واضح ہوگیا کہ خدا نے اپنے بندوں کو اپنے حال پر نہیں چھوڑا کہ جس طرح کوئی چاہے اپنے طور پر ریاضت۔ محنت کر کے خدا سے جاملے۔ بلکہ خدا نے اپنی طرف پہنچنے کا رستہ خود بتلایا ہے اور رسولوں کی معرفت اس کا بیان اپنے ذمہ لیا ہے۔ جو شخص اس کے رستے پر چلے وہ خدا کو مل سکتا ہے جواس کے خلاف کرے وہ دنیا آخرت دونوں جہانوں میں گمراہ ہے۔

3 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

علمی وفکری اختلاف آپ کا حق ہے۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔