Nov 4, 2013

علم حدیث میں ائمہ تصوف کا مقام و مرتبہ

0 comments

علم حدیث میں ائمہ تصوف کا مقام و مرتبہ

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری
ترتیب و تدوین: محمد یوسف منہاجین
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے شہر اعتکاف میں امام عبدالرحمن السلمی کی کتاب ’’طبقات الصوفیہ‘‘ کا درس ارشاد فرماتے ہوئے ’’ائمہ تصوف کا علم حدیث میں مقام‘‘ کے حوالے سے نہایت علمی و تحقیقی گفتگو فرمائی اور اپنے بیرون ملک قیام کے دوران کئے جانے والی علمی و تحقیقی امور کے متعلق بھی شرکاء کو آگاہ کیا۔ اس موضوع کو اس کی اہمیت کے پیش نظر قارئین کی دلچسپی کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے درس ’’طبقات الصوفیہ‘‘ سے الگ کرکے شائع کیا جارہا ہے۔ بلاشک و شبہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی شخصیت امت مسلمہ کے لئے مینارہ نور ہے اور ان کا ہر علمی و تحقیقی، فکری و اصلاحی کام امت مسلمہ کے لئے گنج گرانمایہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس در سے ہماری نسبت کو قائم دائم رکھے۔ آمین (مرتب)
جب علم کی بات ہوتی ہے تو ان ائمہ کا ذکر آتا ہے جو بطور محدثین، ائمہ حدیث، ائمہ فقہ، ائمہ تفسیر، ائمہ عقیدہ ہیں اور جن کا نام علوم شریعت میں سند ہے، حجت ہے، جو معتبر مصادر ہیں اور اتھارٹیز ہیں۔ ان پر تمام کتابیں بھی لکھی گئیں اور ان کی متصل اسانید کو بیان کیا جاتا رہا۔ گویا علم کے تمام کام ان مبارک ہستیوں پر ہوتے رہے مثلاً امام بخاری، امام مسلم، امام ابو داؤد، امام نسائی، امام ترمذی، امام ابن ماجہ، امام عبدالرزاق، امام ابن ابی شیبہ، امام بیہقی، امام طبرانی وغیرہ۔ پہلی چار صدیاں حدیث کے جلیل القدر مصادر، کتب حدیث کی تالیف اور ترتیب و تدوین کی تیاری میں صرف ہوئیں اور بعد کے محدثین و علماء ان پہلی چار صدیوں میں ہونے والے حدیث کے کام پر اعتماد، استنباط، استخراج اور استفادہ کرتے ہوئے کام کو آگے بڑھاتے رہے۔ گویا جب بھی علم کے باب میں بات ہوتی ہے تو انہی کا ذکر ہوتا ہے اور ان کے نام کو حجت سمجھا جاتا ہے۔ جب بھی حدیث کی بات ہوگی تو امام بخاری، امام مسلم اور دیگر ائمہ حدیث، ائمہ فقہ، ائمہ تفسیر، ائمہ اربعہ کا حوالہ مانگا جاتا ہے۔
مگر بدقسمتی یہ ہے کہ علم کے باب میں اہل علم ائمہ تصوف و ائمہ ولائت کو کبھی حجت تسلیم نہیں کرتے رہے، ان کو صرف اس اعتبار سے جانا جاتا رہا کہ وہ اصحابِ زہد و ورع، اصحابِ تقویٰ، اصحابِ اخلاص تھے۔ ۔ ۔ عبادت و ریاضت کرنے والے۔ ۔ ۔ تزکیہ نفس و تصفیہ قلب رکھنے والے۔ ۔ ۔ کرامات، مشاہدات، مکاشفات، مجاہدات والے تھے۔ ۔ ۔ احوال و مقامات رکھتے تھے، گویا ان کا ذکر انہی حوالوں سے ہوا۔ اولیاء اللہ اور ائمہ تصوف پر جتنی کتابیں لکھی گئیں وہ تمام بھی ان کے حالات زندگی، اقوال و کرامات اور روحانی مقامات پر مشتمل تھیں۔
میری نظر سے آج کے دن تک 4 صفحات یا 8 صفحات کا بھی کوئی ایک رسالہ عرب و عجم کی کسی سمت سے، کسی عالم کا لکھا ہوا، کسی زمانے اور کسی صدی میں لکھا ہوا نہیں گزرا جس نے اس پر کام کیا ہو کہ یہ ائمہ تصوف و سلوک و طریقت اور ائمہ معرفت و ولایت صرف صاحبان کشف و کرامات ہی نہیں تھے بلکہ یہ علم حدیث، علم تفسیر، علم فقہ، علم عقیدہ میں اسی طرح بہت بلند رتبہ و مقام رکھتے تھے جس طرح دوسری سمت کے جلیل القدر ائمہ رکھتے ہیں۔ ۔ ۔ یعنی یہ محدثین بھی تھے۔ ۔ ۔ یہ فقہاء بھی تھے۔ ۔ ۔ یہ ائمہ عقیدہ و علم کلام بھی تھے۔ ۔ ۔ علوم شریعت پر بھی ان کو اس طرح دسترس اور مہارت تامہ حاصل تھا اور ان کا کلام علوم شریعہ میں بھی اسی طرح حجت تھا اور ہے جس طرح دیگر ائمہ علم کا ہے۔
اس اعتبار سے چونکہ ثبوت فراہم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے کہ ان کی اسانید حدیث میں کیا ہیں؟۔ ۔ ۔ ان کے حدیث میں شیوخ کون ہیں؟۔ ۔ ۔ فقہ میں ان کا تلمذ بھی کہیں تھا یا نہیں؟۔ ۔ ۔ علم تفسیر اور علم عقیدہ میں بھی ان کو کوئی تلمذ تھا یا نہیں؟۔ ۔ ۔ اور انہوں نے کسی سے روایت بھی کیا یا نہیں؟۔ ۔ ۔ اور ان سے آگے ائمہ و محدثین نے بھی روایت کیا یا نہیں؟۔ ۔ ۔ یعنی علم حدیث، علم فقہ، علم تفسیر اور علم شریعہ میں ان کا مقام و منزلت کیا ہے؟۔ ۔ ۔
افسوس! اس حوالے سے اس پر کوئی خاطر خواہ کام آج تک نہ کیا گیا، اس کا نقصان یہ ہوا کہ منکرین تصوف کے ہاتھ ایک بہانہ آگیا کہ جب آپ کسی امام تصوف، امام طریقت اور اکابر اولیاء اللہ میں سے کسی ولی کی کوئی سند پیش کردیں تو وہ منکرین تصوف صرف یہ کہہ کر رد کر دیتے ہیں کہ یہ صوفیاء ہیں، ان کو چھوڑیے، علماء کی بات بتائیں کہ انہوں نے اس بارے کیا کہا ہے۔ صوفیاء کی بات سند نہیں ہے، سند تو ان کی بات ہے جو علم میں سند اور امام ہیں۔
نتیجہ یہ نکلا کہ ائمہ تصوف کی پوری تاریخ علم میں حجت ہونے کے اعتبار سے نگاہوں سے اوجھل ہوگئی اور ان کا مقام و مرتبہ اوجھل ہوگیا۔ اگر کسی نے حضرت بشر بن الحارث حافی کا ذکر کیا تو بات یہیں ختم کردی کہ یہ تو ننگے پاؤں بغداد کی گلیوں میں پھرنے والے مجذوب تھے، ولی تھے، ان کی بات شریعت میں کیسے سند ہوسکتی ہے۔ ۔ ۔ امام احمد بن حنبل کی بات بتاؤ، ان کا حوالہ دو۔ ۔ ۔ اور یہ خبر نہ ہوئی کہ امام احمد بن حنبل خود بغداد کی گلیوں میں پھرنے والے اس ننگے پاؤں والے بشر حافی کی مجلس میں گھنٹوں بیٹھے رہتے اور آپ سے استفادہ کرتے تھے۔ ۔ ۔ تو کیا احمد بن حنبل جیسے جلیل القدر امام کسی جاہل کی مجلس میں جاتے تھے؟۔ ۔ ۔
اسی امام عبدالرحمن السلمی کو دنیا آج تک صرف ’’طبقات الصوفیہ‘‘ کے حوالے سے جانتی تھی اور زمرہ صوفیاء میں شمار کرتی تھی، ان کا ایک پہلو بطور محدث بھی ہے جس سے دنیا واقف نہیں۔ آپ محدثین میں اس پائے کے امام و محدث ہیں کہ ان میں اور امام بخاری و امام مسلم میں صرف دو واسطے ہیں۔ ۔ ۔ امام بیہقی، امام ابو عبدالرحمن السلمی کے شاگرد ہیں۔ امام بیہقی نامور محدث ہیں اور مذہب شافعیہ پر ہیں۔ اب امام بیہقی کو ماننے والے اور امام سُلَمِی کا انکار کرنے والے کیا جانیں کہ امام بیہقی جن کو وہ مانتے ہیں، انہوں نے ساری زندگی امام سُلَمِی کے سامنے زانوئے تلمذ طے کیا ہے۔ امام بیہقی نے سنن کبریٰ میں امام سُلَمِی سے کئی احادیث روایت کی ہیں۔ ۔ ۔ مزید یہ کہ صاحب مستدرک امام حاکم، امام سُلَمِی کے کلاس فیلو ہیں۔ ان دونوں نے ائمہ حدیث سے اکٹھے اکتساب علم کیا اور یہ ہر کوئی جانتا ہے کہ امام حاکم حدیث اور اصول حدیث کے باب میں سند اور علی الاطلاق حجت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان دونوں احباب کے درمیان یہ رشتہ بھی ہے کہ امام سُلَمِی، امام حاکم کے شاگرد ہیں اور امام حاکم نے بھی ایک، دو احادیث امام سُلَمِی سے روایت کی ہیں۔ گویا اس لحاظ سے امام حاکم بھی امام سُلَمِی کے شاگرد ہوئے۔
امام سُلَمِی کا یہ گوشہ دنیا کی نظر سے ہمیشہ اوجھل رہا اس لئے کہ ان کا معروف کام تصوف و سلوک تھا، لوگوں نے سمجھا کہ شاید یہ تصوف ہی کے میدان کے لوگ تھے اور علم حدیث ان کے پاس نہیں تھا۔

کثیر العلم ائمہ اور کثیر الروایت ائمہ

علم کے باب میں دو طرح کی شخصیات ہوتی ہیں۔
  1. کثیر العلم ہونا، کثیر الاطلاع ہونا کہ ان کے پاس علم کی کثرت ہے۔
  2. کثیر الروایت ہونا، کثیر البیان ہونا، علم کی زیادہ روایت کرنے والے لوگ۔
محدثین کثیر الروایت تھے اور اولیاء کثیر الاطلاع تھے، روایت ان کا شغف نہ تھا کیونکہ جس کو حال مل جاتا ہے وہ قال کم کردیتا ہے۔ ۔ ۔ جس کو حال جتنا زیادہ ملتا چلاجاتا ہے، وہ قال اتنا کم کرتا چلا جاتا ہے۔ ۔ ۔ یہ طبیعتوں میں فرق تھا، بعض احباب کی ذمہ داری امت میں یہ تھی کہ علم دین اور علم حدیث امت تک پہنچانا تھا اس لئے اللہ نے انہیں طبعاً کثیر الروایت بنایا تاکہ ان ائمہ کے ذریعے علم اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت امت تک پہنچے، فروغ پائے۔
بعض لوگوں کو علم اور اطلاع بے پناہ دی مگر جب ان کو حال میں غلبہ ملا تو ان کی طبع قال سے دور ہوتی چلی گئی۔ پس اول الذکر زبان اور قلم کے ذریعے امت کی اصلاح کرتے رہے اور صاحبان حال، نظر کے ذریعے اصلاح کرتے رہے۔ جب نظر کے ذریعے اطلاع کرنے کا علم شروع ہوجائے تو قال کم ہوجاتا ہے، ان احباب نے چونکہ قال کم کردیا تھا اس لئے لوگوں نے کم اطلاع کو یہ سمجھا کہ شاید انہیں اطلاع نہ تھی۔ وہ لوگ جو خود علم اور اطلاع میں کم ہیں اور جن کے اپنے پاس خود علم اور اطلاع کی کمی ہے انہوں نے انہیں کثیرالروایت نہ دیکھا تو سمجھے کہ یہ صاحبانِ حال لوگ ہیں اور ان کے پاس اطلاع کی کمی ہے، حالانکہ ایسا ہرگز نہ تھا۔ صوفیاء کا انکار کرنا، ان انکار کرنے والوں کی اپنی کم علمی، بے خبری ہے، انہوں نے علم، مطالعہ اور کتب کے سمندر میں غوطہ زنی نہیں کی، وہ کنارے پرپانی کو چھوتے پھرتے ہیں، غوطہ زنی کرنے والے ہوتے تو انکار نہ کرتے۔ صاحبانِ حال کو اطلاع بہت تھی مگر بیان کم تھا۔ ۔ ۔ وہ چپ رہتے تھے مگر جانتے سب کچھ تھے۔ ۔ ۔ لہذا ان کا ہر قول، ان کا ہر عمل ان کا ہر فرمان ان کا ہر فتویٰ مبنی بر علم شریعت تھا اور وہ حجت تھے۔
پس اس حوالے سے کام کے اعتبار سے پورا گوشہ خالی رہا۔ الحمدللہ تعالیٰ بیرون ملک قیام کے دوران میں نے اس کام کو مکمل کیا۔ میں نے 200 احادیث امام ابو عبدالرحمن سلمی کی اپنی متصل سند کے ساتھ مرفوعاً الی النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تلاشِ بسیار کے بعد جمع کرکے کتاب مرتب کی ہے۔ ’’السبل الوہبیہ فی الاسانید الذہبیہ‘‘ کے نام سے طباعت کے مراحل میں داخل میری یہ کتاب جلیل القدر ائمہ تصوف اور ان کی کتب تک میری متصل اسانید کے اسباق پر مشتمل ہے جو میں نے اپنے شیوخ اور اساتذہ سے پڑھیں اور ان کی اجازات لیں۔ اس میں صاحبانِ حال کی علم حدیث میں کل اسانید، ان کے شیوخ، روات تک کو جمع کیا ہے۔ اس کتاب میں موجود ہر صفحہ کا نصف حصہ متصل اسناد کے بیان پر ہے اور بقیہ حصہ ان ائمہ تصوف کے علم حدیث، علم فقہ اور علوم شریعت میں ان کے مقام و مرتبہ پر مشتمل ہے۔ یہ تمام کام ائمہ تصوف کا علم حدیث میں مقام کو واضح کرتا ہے۔
علماء کے لئے یہ بات بڑی توجہ طلب ہے کہ یہ کام ہماری ایک ہزار سال کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے۔ یہ امت کے علماء اور ائمہ اعلام کے ذمہ بہت بڑا ادھار تھا، بوجوہ اس طرف کسی کی توجہ مبذول نہ ہوسکی۔

دیگر علمی و تحقیقی امور

٭ علاوہ ازیں اپنے بیرون ملک قیام کے دوران حدیث کے حوالے سے جو مسلسل کام کررہا ہوں وہ 25 سے 30 ہزار احادیث پر مشتمل مجموعہ ہے جو ’’جامع السنہ‘‘ کے نام سے مرتب کررہا ہوں۔ یہ مجموعہ کم و بیش 15 سے 20جلدوں پر مشتمل ہوگا۔ تمام احادیث کی تحقیق و تخریج بھی ساتھ درج ہورہی ہے۔
حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ کا حضرت علی رضی اللہ عنہ سے لقاء وسماع
٭ اس طرح بیرون ملک قیام کے دوران اس نوعیت کے کچھ اور کام بھی کئے جو 1000 سال سے امت کے ذمہ ادھار تھے۔ ان میں سے ایک اہم کام ’’حضرت حسن بصری کا حضرت علی رضی اللہ عنہ سے لقاء و سماع‘‘ کے حوالے سے ہے۔ محدثین 1000 سال سے حضرت حسن بصری کا حضرت علی رضی اللہ عنہ سے ملاقات اور ان سے سماع کا انکار کرتے رہے ہیں اور یہ کہتے رہے ہیں کہ حضرت حسن بصری کا حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرنا ثابت نہیں ہے جب کہ صوفیاء اس لقاء و سماع کو مانتے ہیں۔ صوفیاء اگر اس بات کو نہ مانیں تو تمام سلاسل کٹ جاتے ہیں چونکہ کل سلاسل اور طرقِ طریقت و سلوک و تصوف حضرت سیدنا امام حسن بصری کے ذریعے ہی مولا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے ملتے ہیں۔ اس لئے صوفیاء مانتے ہیں اور اپنی بات کے ثبوت کے لئے ان کے پاس قرائن ہیں۔ جبکہ محدثین ثبوت، روایت کے ذریعے چاہتے ہیں۔
محدثین ایک ہزار سال سے اس کا انکار کرتے رہے، ان انکار کرنے والوں میں امام عسقلانی، علامہ ذہبی، خطیب بغدادی، امام قسطلانی، علامہ عینی الغرض آپ جس کا بھی نام لے لیں ہر محدث شاہ ولی اللہ محدث دہلوی تک اس کا تواتر کے ساتھ انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ملاقات و سماع ثابت نہیں ہے۔
صوفیاء قرائن سے مانتے ہیں اس لئے کہ امام حسن بصری 20ہجری کو وہیں پیدا ہوئے، 16 سال تک وہیں رہے، گویا قرائن اتنے قوی ہیں کہ ان کا کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ محدثین کہتے ہیں کہ ہم اپنا اعتماد و اعتبار قرائن پر نہیں رکھتے بلکہ ہم روایت کا ثبوت مانگتے ہیں اور محدثین کا یہ طریقہ ہے کہ وہ روایت کا ثبوت مانگتے ہیں تب سند کو قبول کرتے ہیں۔
1000 سال کی تاریخ میں صرف امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ ہی وہ امام ہیں جنہوں نے اس پر کچھ کام کیا مگر وہ کام بھی تشنہ تکمیل تھا، ابھی اس پر بہت کام کی ضرورت تھی اور 1000 سال سے یہ کام بھی امت پر ادھار تھا، الحمدللہ تعالیٰ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نعلین پاک کے صدقے سے توفیق ہوئی اور اس خلیج کو جو 1000 سال سے چلی آرہی تھی، اس کام کو ہم نے الحمدللہ مکمل کردیا اور وہ احادیث جو امام حسن بصری نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیں اور محدثین ان روایات کو نہیں مانتے تھے اور ثبوت کا تقاضا کرتے تھے۔ الحمدللہ میں نے 35 احادیث ذخیرہ احادیث میں تلاش کرکے مکمل ثبوت کے ساتھ اپنی کتاب میں نقل کردی ہیں جس میں امام حسن بصری نے براہ راست حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے۔ یہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نعلین پاک کا صدقہ و خیرات ہے میں نے اس رسالہ کا نام رکھا ہے ’’القول القوی فی سماع الحسن عن علی‘‘۔ اس طرح کے بہت سارے کام اس دوران مکمل کئے۔
ایسا نہ سمجھا جائے کہ 14 صدیوں کے دوران بڑی بڑی ہستیاں تشریف لائیں اور انہوں نے حدیث کے باب میں سارے کام کر دئیے اور اب کچھ کرنے والا کام باقی نہیں رہ گیا اور قیامت تک کوئی اور نیا کام نہ ہوگا۔ ۔ ۔ ایسی بات علم کے باب میں نہیں ہوتی۔ ۔ ۔ ہزارہا کام ابھی ایسے ہیں، ہمارے بعد بھی لوگ آتے رہیں گے جو تشنہ کاموں کو مکمل کرتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ جس کے حصے میں جو توفیق دے گا وہ کام کرتے رہیں گے۔ یہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین کی خدمت کا کام ہے قیامت تک جاری رہنا ہے۔ ایسی بات نہیں کہ زمانہ ماضی میں تمام کام ہوگئے۔ ۔ ۔ اگر باقی کوئی کام کرنے کو رہ ہی نہیں گیا تو پھر قیامت ہی آجائے۔ ۔ ۔ اگر صرف بدی اور گناہ ہی کرنے کو رہ گئے ہیں تو پھر تو قیامت آجانی چاہئے۔ ۔ ۔ المختصر یہ کہ بہت سارے کام ہیں جو آنے والے وقتوں میں اللہ کی توفیق سے لوگ کرتے رہیں گے اور جس جس دور میں اللہ تعالیٰ جس کو جتنا خزانہ، جتنا حصہ اس کے نصیب میں رکھتا ہے وہ اس کو دے دیتا ہے اور وہ اس کام کو کرکے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت کے سپرد کردیتا ہے اور اللہ کا یہ عمل قیامت تک جاری رہے گا۔ خواہ قرآن کی تفسیر کا کام ہو یا حدیث کی شرح کا کام ہو، جس طرح خدا اور رسول کی کوئی حد نہیں ہے اسی طرح ان کے عطا کردہ علوم و معارف کی کوئی حد نہیں ہے۔ ۔ ۔ پس اتنا ہے کہ وہ بڑے لوگ تھے ان کو سمندروں کے حساب سے دیا گیا۔ ۔ ۔ ہم بہت چھوٹے لوگ ہیں ان کے خوشہ چیں ہیں ہمیں قطروں کے حساب سے دیا گیا۔ ۔ ۔ بڑوں کو ان کے ظرف کے حساب سے دیاجاتا ہے اور چھوٹوں کو ان کے چھوٹے ظرف کے مطابق دیا جاتا ہے۔ ۔ ۔ مگر وہ دیتا ہر ایک کو رہتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
مَا كَانَ عَطَاءُ رَبِّكَ مَحْظُورًاO
(بنی اسرائیل، 17 : 20)
’’آپ کے رب کی عطاء (کسی کیلئے) ممنوع اور بند نہیں ہے‘‘۔
گویا عطائے الہٰی قیامت تک جاری ہے اور ہر ایک کو اس کے ظرف کے مطابق ملتی رہے گی۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

علمی وفکری اختلاف آپ کا حق ہے۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔