Oct 23, 2013

تصوف کیا نہیں

0 comments

تصوف کے لئے نہ کشف و کرامات شرط ہے،نہ دنیا کے کاروبار میں ترقی دلانے کا نام تصوف ہے،نہ تعویز گنڈوں کا نام تصوف ہے،نہ جھاڑ پھونک سے بیماری دور کرنے کا نام تصوف ہے،نہ مقدمات جیتنے کا نام تصوف ہے،نہ قبروں پر سجدہ کرنے،ان پر چادر چڑھانے اور چراغ چلانے کا نام تصوف ہے،اور نہ آنے والے واقعات کی دینے کانام تصوف ہے،نہ اولیاء اللہ کو غیبی ندا کرنا،مشکل کشا اور حاجت رواں سمجھنا تصوف ہے،نہ اس میں ٹھیکداری ہے کہ پیر کی ایک توجہ سے مرید کی پوری اصلاح ہو جائے گی،اور سلوک کی دولت بغیر مجاہدہ اور بدون اتباع سنت حاصل ہو جائے گی،نہ اس میں کشف و الہام کا صیح اترنا لازمی ہے،اور نہ وجد و تواجد اور رقص سرور کا نام تصوف ہے۔یہ تمام چیزیں تصوف کا لازمہ بلکہ عین تصوف سمجھی جاتی ہیں ۔حا لانکہ ان میں سے کسی ایک چیز پر تصوف اسلامی کا اطلاق نہیں ہوتا ،بلکہ یہ ساری خرافات اسلامی تصوف کی عین ضد ہیں۔(دلائل السلوک)









تصوف وسلوک
 

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

علمی وفکری اختلاف آپ کا حق ہے۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔