Oct 14, 2013

مسلک اہلحدیث اور بیعت و اارادت

2 comments
مسلک اہلحدیث اور بیعت و اارادت
مسلک اہلحدیث اور سلسلہ بیعت و ارادت:۔مسلک اہلحدیث کے متعلق جہاں دیگر ابہام پائے جاتے ہیں،ان میں سےایک یہ بھی ہے کہ مسلک اہلحدیث میں بیعت وارادت کا سلسلہ نہیں پایا جاتا،گو کہ اس عہد میں یہ حقیقت موجود ہے مگر اکابرین
۱ہلحدیثؒ اس الزام سے کلی طور پر بری الذمہ ہیں ،بلکہ ان کے ہاں یہ سلسلہ بیعت وارادت ایک معمول سا نظرآتا ہے،کسی زمانے میں خاندان غزنوی اور لکھوی بیعت سلوک اور تزکیہ نفس کی تعلیم وتربیعت کے لئے بہت مقبول و معروف تھے۔یہ بات ذہن میں رہے کہ صوفیاء اہلحدیث کا طریق تربیت سلوک بعینہ وہی تھاجو مجدد الف ثانیؒ اور شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ کے ہاں ملتا ہے،یعنی توجہ،لطائف اور مراقبات وغیرہ۔اور یہ بیعت و ارادت اتنی عام تھی ،کہ مشہور سوانح نگارمولانامحمد اسحاق بھٹی فرماتے ہیں۔

’’ بیعت واردات کا یہ سلسلہ اہلحدیث حضرات میں بھی ایک عرصہ تک جاری رہا۔مولانا سید داؤد غزنویؒ کے جد امجد سید عبداللہ غزنویؒ کو ’’ عبدللہ صاحب‘ ‘ کہا جاتا تھا،انکے حالات اپنے فقہا ء ہند کی نویں جلد میں ( جو تیرھویں صدی ہجری کے علماء و فقہاء کے واقعات وکوائف پر مشتمل ہے) تفصیل سے لکھ چکا ہوں۔مولانا محی الدین عبدالرحمٰن لکھویؒ ( مولانا محی الدین لکھویؒ کے جد محترم) نے غزنی جاکر ان سے بیعت کی تھی وہ غزنی سے ہجرت کرکے امر تسر کے قریب بستی’’ خیر دین‘‘ میں تشریف لائے تو میرے دادا(میاں محمد) کے حقیقی چچا میاں امام الدین اور ہماری برادری کے ایک بزرگ حاجی نور الدین بیعت کیلئے انکی خدمت میں گئے تھے، لیکن حضرت عبداللہ فارسی اور عربی بولتے تھے،یا پشتو میں بات کرتے تھے ،اوریہ حضرت انکی بات نہیں سمجھ پاتے تھے،اس لئے انکے حلقہ بیعت میں شامل نہ ہو سکے،اور پھر انکے مرید و مبائع مولانا محی الدین عبدالرحمنؒ لکھوی سے بیعت کر لی ،حضرت عبدللہ صاحب کے صاحب زادگان گرامی حضرت الامام مولانا عبدالجبار غزنوی(جو مولانا داؤد غزنوی کے والد مکرم تھے) اور مولانا عبد الواحد غزنویؒ جو مولانا داؤد غزنویؒ حقیقی چچاتھے،لوگوں سے بیعت لیتے تھے،اور ہمارے لاقے اور خاندان کے بعض لوگ ان سے بیعت ہوتے تھے۔ مولانا معین الدین لکھوی کےوالد محترم حضرت حضرت مولانا صوفی محمد علی لکھوی جلیل القدر عالم تھے، اگر ان سے کوئی شخص بیعت کرنا چاہتا تھا،وہ اپنے حلقہ بیعت میں شامل کر لیتے تھے۔ضلع فیروزپور میں ایک گاؤں ’’ چھنیاں والی ‘‘ تھا،جس میں نہایت متقی بزرگ مولانا کمال الدین قیام فرما تھے،جو مسلکاً اہلحدیث تھے اور ڈوگر برادری سے تعلق رکھتے تھے، اور اس نواح میں مرجع خلائق تھے۔لوگ ان سے بیعت ہوتے تھے،اس فقیر کو چھوٹی عمر میں انکے حلقہ بیعت میں شامل ہونے کی سعادت حاصل ہوئی تھی، حضرت شاہ محمد شریف گھڑیالویؒ کے تدوین وتقوی کو بڑی شہرت حاصل تھی، ان سے بھی لوگ بیعت ہوتے تھے،اس گنہگار کو بھی انھی سے بیعت کا شرف حاصل ہواتھا۔یہ آزادی سے کئی سال پہلے کی باتیں ہیں‘‘ ( ہفت اقلیم از محمد اسحاق بھٹی ص۴۸۴ تا۴۸۶)
سید شاہ محمد شریف گھڑیالویؒ اکابرین اہلحدیث میں سے تھے،آپ نے خود کہاں تصوف وسلوک کی تربیت حاصل کی،اس کے بارے میں کچھ پتہ نہ چل سکا،البتہ آپکے خاندانِ غزنویہ کیساتھ گہرے مراسم تھے۔ ایک زمانے میں انھیں صوبہ پنجاب کی
جماعت اہل حدیث ا امیر منتحب کیا گیا تھا( کاروان سلف ص۵۵)
شیخ الکل سید نذیر حسین دہلویؒ اور بیعت و ارشاد:۔مولانا غلام رسول ؒ قلعوی اور سید عبد اللہؒ غزنوی علم حدیث میں شیخ الکل سید نذیر حسین دہلویؒ سے فیض یافتہ تھے۔حضرت سیدنذیر حسین دہلوی رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ کی مبارک سوانح سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض لوگ آپ سے اقتباسِ علم کے بعد سید عبداللہ غزنویؒ سے بیعت ہوا کرتے تھے اس ضمن میں ایک واقعہ بھی ملتا ہے کہ :۔
’’مولوی شاہ ممتاز الحق صاحب مرحوم صاحب جب حضرت مولانا عبداللہ صاحب غزنوی کے حضور میں بغرضِ بیعت و ارشاد حاضر ہوئے تو عبداللہ صاحب نے فرمایا کہ تم دہلی جاکر وہاں رہو اور شرفِ صحبت شیخ سے مستفید ہوکر ان سے اجازت لیکر یہاں آؤ،چانچہ ایسا ہی ہوا،وہ دہلی آئے اور یہاں بہت دنوں تک رہئے،پھر جب میاں صاحب کے حظ کے ساتھ امر تسر پہنچے،تب عبداللہ صاحب نے ان سے بیعت لی اور مسترشدین میں اپنے داخل کیا‘‘
( الحیات بعد الممات ص۱۳)
مولانا فضل الدین بہاری ؒ جو کے شیخ الکل سید نذیر حسین دہلوی ؒ کے شاگر د رشید تھے ،اور ٓپ کے ساتھ سفر وحضر میں رہے ،آپ نے شیخ الکلؒ کی سوانح حیات ’’ الحیات بعد الممات ‘‘ میں بیعت اور اقسام بیعت پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے ، جو کہ کئی صفحات پر مشتمل ہے ،پھر بیعتِ تصوفسلوک کو مشروع ثابت کرکے حضرت میاں سید نذیر حسین دہلوی ؒ کے متعلق لکھتے ہیں
’’ حضرات ناطرین جب آپ شریعت وطریقت کی حقیقت پڑھ چکے ہیں ،تو اب ہم کو یہ دکھانا ہے کہ ہمارے میاں صاحب کیسے بیعت لیتے تھے،سوائے بیعت خلافت ا وربیعت جہاد ،بیعت ثبات فی القتال ،بیعت ہجرت کے آپ باقی جملہ اقسام بیعت میں سے مناسب حال بیعت مریدوں سے لیتے تھے،مولوی ابومحمد حفاظت اللہ امرتسری آپکے سفر بنگالہ تشریف فرماہوئے تو ہم اور آپکے پوتے حافظ عبداللہ السلام اور حاجی محمد حسین صاحب ساکن میرٹھ آپکے ہمراہ تھے ۔جس راز آپ بمقام دیپ کنڈ رونق افراز تھےآپکی شہرت سن کر اس قدر لوگ جھک پڑے ،جنکی گنتی ناممکن تھی،سب کے سب نے ٓآپ سے شرف بیعت حاصل کیا۔
ایک صاحب اپنی بیعت کی کفیت لکھتے ہیں کہ رحیم آباد میں بعد المغرب ہم میاں صاحب ؒ کے حضور بیعت کیلئے حاضر ہوئے
اس وقت تین چار آدمی قریب بیٹھے ہوئے تھے،لیٹے،لیٹے اپنے دائیں ہاتھ سے میرے دائیں ہاتھ کو پکڑا ،سورہ احزاب کے پانچویں رکوع کو ان المسلمین والمسلمات سے اجراً عظیما۔تک تلاوت فرما کر انکے معنی اور مطالب بووضاحت تمام سمجھاتے رہے،اسکے بعد فرمایا اگر تم ان سب اعمال کے ہمیشہ عامل رہو گے تو میں تمھاری گواہی دوں گا ،ورنہ میں کہاں اور تم کہاں۔‘‘
(الحیات بعدلممات س۴۶)
سفر پنجاب میں لوگوں نے آپکے دست مبارک پر بیعت کی ،مداہنت سے آپکو سخت نفرت تھی،مریدوں اور طلبہ کو اکثر اسکی نصحیت کرتے ،کوئی شاگرد اگر اپنا ارادہ بیعت کا ظاہر کرتا تو فرماتے کہ ’’تم شاگرد ہی کافی ہو ‘‘اسکے بعد اگر اصرار کرتا تو ٓپ بیعت لے لیتے ،جس مجمع میں آپ کسی سے بیعت لیتے تقریباً جملہ حاضرین شریک بیعت ہو جاتے ( الحیات ص ۱۴۸)
سید عبداللہ غزنویؒ اور بیعت و ارادت:۔ حضرت مولانا سید عبداللہ غزنوی ؒ ( جد امجد خاندان غزنویہ)کی مبارک حیات طیبہ کا تذکرہ گذشتہ اوراق میں گذر چکا ہے۔آپ نے اپنے عہد کے جلیل القدر اور بلند شہرت کے حامل ولی اللہ حضرت علامہ شیخ حبیب اللہ قندھارویؒ کے دست اقدس پر بیعت کی،اور ظاہری و باطنی فیوض و برکات حاصل کیے،شیخ حبیب اللہ قندھارویؒ کا روحانی تعلق شاہ اسماعیل شیہدؒ سے تھا،شیخ حبیب اللہ ؒ آپکی ذ ہنی صلاحیت اور روحانی رفعت کے بہت مداح تھے۔سید عبداللہ غزنوی ؒ نے دوسری بیعت طریقت سید امیر ؒ کوٹھا والے کے دست اقدس پر کی ،مولانا غلام رسول قلعویؒ آپکی اس بیعت ثانی کے متعلق فرماتے ہیں :۔
’’ سید عبداللہ صاحبؒ نے محض انکے سلسلہ سلوک میں داخل ہونے کیلئے اخوند سید امیرؒ صاحب کی بیعت کی تھی ،ورنہ انھیں بیعت کی ضرورت نہ تھی‘‘۔
( بحوالہ تذکرۃ النبلاء فی تراجم العلماء ص۱۲۵،تذکرہ غلام رسول قلعوی ص ۱۲۸،۱۱۱)
حضرت مولانا عبداللہ غزنویؒ کے فرزند ارجمند سید عبدالجبار غزنویؒ نے بیعت والہام کے موضعوں پر ایک رسالہ ’’ اثبات الالھام والبیعۃ‘‘ تصنیف فرمایا تھا
خاندان غزنویہ ؒ اور بیعت و ارادت:۔ غزنویہ خاندان اور لکھوی خاندان نے مسلک اہلحدیث کیلئے علوم ظاہری و باطنی یعنی شریعت وطریقت میں جو خدمات سر انجام دی ہیں وہ مسلک اہلحدیث کی تاریخ کا ایک روشن باب ہے جس کا تفصیلی تذکرہ آگے چل کر کیا جائے گا۔ کاروانِ سلف میں بھٹی صاحب لکھتے ہیں:
’’ جس زمانے میں امرتسر شہر میں غزنوی خاندان کے علماء اکرام فروکش تھے،انکا حلقہ ارادت اور دائرہ عقیدت دود دور تک پھیلا ہوا تھا،انکے درس وتدریس کی مسندیں آراستہ تھیں،اور بیعت و ارشاد کے روح پرور سلسلے جاری تھے۔بے شمار لوگ ان سے استفادہ کرتے ،اور انکے طریق عمل اور نہج حیات سے مستفید ہوتے تھے (ص۷۱)
مولانا سید داؤد غزنویؒ اور بیعت و ارادت:۔سید داؤد غزنویؒ فرماتے ہیں:۔
سلسلہ نقشبندیہ میں میری بیعت اپنے والد حضرت مولانا عبد الجبار رحمہ اللہ علیہ سے ہے اور حضرت مولانا عبدالجبار ؒ کی بیعت اپنے والد حضرت مولانا عبد اللہ غزنوی ؒ سے ہے۔حضرت مولان عبد اللہ غزنویؒ کی بیعت شیخ وقت حضرت مولانا حبیب اللہ قندھارویؒ سے ہے۔حضرت مولانا حبیب اللہ قندھارویؒ کی بیعت حضرت سید احمد شہیدؒ سے ہے( حضرت مولانا سید داؤد غزنویؒ ص۱۱۲)
مولانا غلام رسول قلعویؒ اور بیعت و ارادت :۔مسلک اہلحدیث کے مشہور عالم و ولی اللہ مولا نا غلام رسول ؒ قلعوی (متوفی ۱۸۷۴) نے حضرت سیدامیرؒ (کوٹھا شریف) کے دست مبارک پر اصول طریقت کیلئے بیعت ہوئے تھے،اور سید امیرؒ شاہ اسماعیل شہیدؒ کے پیر ومرشد سید احمد شہیدؒ سے تربیعت یافتہ تھے۔تصوف و سلوک کے موضعوع پرسید ؒ کی’ ’صراطِ مستقیم‘‘مشہور ومعروف کتاب ہے۔ سیدعبداللہ غزنویؒ بھی سید امیرؒ سے بھی نسبت قائم کی تھی، ان حضرات کی آپس میں بے حد محبت و عقیدت اور موافقت تھی۔
حافظ غلام الدین بگویؒ اور بیعت و ارادت:۔حافظ غلام الدین بگویؒ جو اپنے کے عہد جلیل ا لقدر اہلحدیث عالم تھے ،مولانا غلام رسول قلعویؒ نے مروجہ درسی کتب انہی ہی سے پڑھی تھی،حافظ غلام الدین بگویؒ نے سندِ حدیث شاہ عبدلعزیز ؒ سے حاصل کی تھی،حافظ غلام الدین بگویؒ نے شاہ غلام الدین مجددی ؒ کی بیعت کیاور ان سے مستفادہ کیا۔(تذکرہ غلام رسولقلعویؒ ص۲۹)
خاندان لکھوی اور بیعت و ارادت:۔خاندان لکھوی کا تذکرہ گذشتہ اوراق میں گذر چکا ہے،حافظ محمد لکھویؒ کے متعلق الفیوض المحمدیہ میں مولانا ابراھیم خلیل ؒ لکھتے ہیں
’’حافظ محمد صاحب ؒ سے مولاناعبدالحقؒ کو دوسری سند تصوف حاصل ہوئی،ویسے تو حافط صاحب ؒ کا کئی اہل طریقت سے سلسلہ تلمذ ونسبت منسلک تھا،لیکن مولوی عبدالحق صاحب کو سند عطا فرمائی اس میں ا پنے والد گرامی کے علاوہ ذکر نہیں کیا۔یہ سند ۱۳۰۹ھ کی ہے‘‘


حا فظ محمد لکھویؒ کے والد محترم حافظ بارک اللہ لکھویؒ نے تصوف کی سند اسماعیل ؒ لاہوری اور بعد ازاں مرزا مظہر جاناں ؒ کے خلیفہ شاہ غلام علی دہلویؒ سے حاصل کی اور ان سے بیعت ہوئے،یہ سلسلہ نقشبندیہ کے مشہور بزرگ تھے۔(تذکرۃا لنبلا فی تراجم العلماٗص۱۰۶)
مولانا عبد الرحمن لکھوی ؒ اور بیعت و ارادت:۔آپکی طبیعت شروع ہی سے تصوف وسلوک کی طرف مائل تھی کیونکہ اس خاندان لکھوی میں ولایت الٰہی کا سلسلہ کئی پشتوں سے جاری تھا۔۱۷ سال کی عمر میں علوم درسیہ سے فراغت پا کر کسی پیر کامل کی تلاش میں تھے،بائیس سال کی عمر میں غزنی پہنچ کرحضرت مولانا سید عبداللہ غزنویؒ کے دست مبارک پر بیعت کر کے منازل سلوک طے کیے۔آپکو طریقت وسلوک میں سید عبد اللہ غزنویؒ سے خلافت بھی عطا ہوئی تھی چنانچہ آپ خود بیعت لے
کر مریدین کی تعلیم وتربیت فرمایا کرتے تھے،’’کرامات اہلحدیث ‘‘میںآپکی خلافتِ طریقت کا تذکرہ ان الفاظ میں ہے:۔
’’ مولانا عبد اللہ غزنوی نے آپکواپنا نائب بھی قرار دیا تھا‘‘(ص۶۱)
حضرت مولانا قاضی سیلمان منصور پوریؒ اور اور اخذ سلوک:۔سیرت النبیﷺ پر لکھی جانے والی شہرہ آفاق کتاب ’’ رحمۃ اللعٰلمینﷺ ‘‘ کے مصنف قاضی سیلمان منصور پوریؒ مسلکاً اہلحدیث تھے ،آپ نے حدیث اور تصوف کی سند اپنے حضرت دادا جانؒ سے حاصل کی تھی ،آپکا شمار صاحب کشف و کرامات اولیا ٗ اللہ میں ہوتا ہے۔آپ کو مولا نا مولانا غلام نبی الربانی سوہدری ؒ سے بھی ایک خاص روحانی تعلق تھا۔(کرامات اہلحدیث صفحہ ۷۰)
؂علماء اہلحدیث کی سوانح وسیر مرتب کرنے والے معروف سوانح نگار عبدا لرشید عراقی صاحب فرماتے ہیں
’’قاضی صاحب مرحوم مغفور اکا برین اہلحدیث کے جملہ صفات کے حامل تھے۔مولانا سید عبداللہ غزنویؒ (م۱۲۹۸)کا زہد،مولانا غلامرسول قلعویؒ (م۱۲۹۱)کا جذ بہ تبلغ ،مولانا سیدعبدالجبار غزنویؒ (م۱۳۳۱) کا ورع وتقویٰ،شیخ پنجاب حافظ عبدالمنان محدث وزیر آبادیؒ (م۱۳۳۴) کی وسعت علم،مولاناشمس الحق ڈیانوی عظیم آبادیؒ (م۱۳۲۹)کی معاملہ فہمی،مولانا شاہ عین الحق پھلواریؒ (م ۱۳۶۳) کی شیفتگئی سنت اور مولانا حافظ محمد بن بارک اللہ لکھویؒ (م ۱۳۱۲) کا جذبہ اتباع سنت ،یہ سب صفات علامہ قاضی سیلمان منصور پوری ؒ کی ذات اقدس میں بدرجہ اتم موجود تھیں ۔
تاریخ مشاہیر جلد اول المعروف سیرۃ الائمہ آپکی وہ تصنیف تھیں جس میں دیگر اکابرین اسلام کے علاوہ صوفیاء عظام ؒ کے سوانح وحالات کو بھی قلمبند کیا گیا ہے۔
مولانا فیض محمد خان بھوجیانی ؒ اور نسبت و ارادت:۔مولانا فیض محمد خان ؒ بھوجیانی مسلک اہلحدیث ممتاز علماء میں سے تھے ،آپ کا ورع وتقوی متقدمین کی مثل تھا،آپ مولانا عطا اللہ حنیف بھوجیانی ؒ کے اساتذہ میں سے تھے،خود عطا اللہ حنیف ؒ فرماتے ہیں کہ میں اپنی زندگی میں سب سے زیادہ متاثر مولانا فیض محمد خانؒ سے ہوا ہوں،مولانا فیض محمد خان ؒ مولانا سید عبد الجبار ؒ کے فیض یافتہ اور ارشد تلامذہ میں سے تھے ’’اشاعت خاص ہفت روزہ الاعتصام بیاد مولا نا عطا اللہ حنیف بھوجیانی ؒ ‘‘ میں اپکے قدرے تفصیلی حالات لکھے گئے ہیں،جس سے معلوم ہوتا ہے کہ صوفیاء اہلحدیث رتبہ ومقام میں صوفیاء احناف کی ماند تھے۔
مولا نا غلام رسول ؒ کی ایک اہم وصیت :۔مولانا غلام رسول رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ۱۸۷۱ میں حج بیت اللہ کیلئے روانہ ہوئے تو اپنے دونوں بیٹوں (مولانا عبدالقادر ؒ اور مولانا عبدالعزیزؒ ) کیلئے وصیت لکھی،جس میں حصول بیعت وتصوف کیلئے خصوصی نصیحت کی۔فرماتے ہیں
’’وصیت کرتا ہوں کہ تمام کاموں پر علم دینی (یعنی) تفسیر،حدیث ،فقہ ،سیرت اور تصوف کو اوّلیں اہمیت دے،اور ہمت کرکے اسکی طرف متوجہ ہوں ،بلخصوص محدثین کی ہم نشینی اختیار کر ے(یاد رکھیں) کہ اہل حدیث ہی اہل اللہ ہیں،علوم دینی سے فراغت کے بعد کسی کامل و اکمل کے ہاتھ پر بیعت کریں،ہمارے علم کے مطابق اس عہد میں حضرت عبداللہ غزنویؒ جیسا کوئی نہیں،ان کی صحبت کیمیاء ہے،اورکامل ومکمل پیر ہیں۔
عبدالقادر ترجمعہ قران انہی سے شروع کرے،اورعبدالعزیز انہی سے بسم اللہ کا آغاز کرے،کیوں کہ میرے عقیدے کی روح سے وہ حضرت جنید ؒ کے مثل اور حضرت با یزیدؒ کی ماند ہیں رحمہ اللہ علیہم
(یاد رکھیں) کوئی مدح کرنے والا انکے خصائص کا احاطہ نہیں کر سکتا ،اگرچہ مدح کرنے میں وہ سب پر سبقت لے گیا ہو،بس اتنی بات ہی کافی ہے ،اگر چہ میں کھوٹا سامان ہوں،لیکن انکے خریداروں کی قطار میں کھڑا ہوں،چاہیے کہ ملحدوں ،زندیقوں اور ان لوگوں کی مجلسوں میں نہ بیٹھیں جو شریعت محمدیﷺ کے بال بھر بھی مخالف ہوں ۔اولیاء اور عامل صوفیاء کے بارے میں حسنِ عقیدت رکھیں امام شعرانی ؒ نے فرمایا ہے،

ایا ک و لحوم الا ولیاء فانھا مسمومتہ
’’ اپنے آپکو اولیاء اللہ کی گوشت خوری سے بچاؤ۔یہ زہریلے گوشت ہیں،یعنی ان کی غیبت نہ کرو،جہاں تک ممکن ہو،انکےساتھ نیک گمان رکھو‘‘
( تذکرہ غلام رسول ؒ قلعوی ص ۴۵۹)
مولانا ابوالکلام آزاد ؒ اور اظہار ارادت ونسبت :۔مولانا ابولکلام آزاد ؒ نسبت مجددی پر اپنے دلی جذبات پر اظہار اس طرح فرماتے ہیں:۔
سیرتِ حضرت مجددلکھتے ہوئے کچھ عجیب انشراخِ خاطر اور انبساطِ طبع بہم پہنچاجس جی کفیت حدِ بیان سے باہر ہے،اوریقیناًاس ارادت ونسبت کا نتیجہ ہے جو حضرت ممدوح سے عاجز اور اس عاجز کے خاندان کے تمام اکا بر کو نسلاً رہی ہے:
وما ذالک الا ان ھنداً حشیۃ تمشت وجرت فی جوا نیہ بردا!
حتیٰ کہ اس کو اپنے خمیر طینت میں ممزوج پاتا وں ،اور اس وقت سے بر سرِ نفوذ و ظہور دیکھتا ہوں کہ
قبل ان اعرف الھویٰ

فصادف قلبا خالیاً تمکنا
’ یہی نسبت اور ارادت کی ایک دولت ہے ،جو شاہدہم بے مائیگان او ر تہی دست راہ کیلئے توشہ آخرت اور وسیلہ نجات ثابت ہو ،اگر اسکے دامن تک ہا تھ نہ پہنچ سکے ،تو اسکے دوستوں کا دامن تو پکڑ سکتے ہیں،اللہ اس راہ میں اثبات وا ستقامت وزرعی عطا فرمائے ،اور اسکے دوستوں کی محبت و ارادت سے ہمارے قلوب ہمیشہ معمور اور آباد رکھے۔
( تذکرہ، ص ۲۵۵،۲۵۶ مطبوعہ لاہور مزید بحوالہ سیرت مجدد الف ثانیؒ )
دج بالا اقتباس سے معلوم ہوتا ہے آپکی نسبت وطریق السلوک نقشبندیہ تھا۔
فاضل جلیل حضرت مولانا سید نواب صدیق حسن خا ن ؒ اور اظہار نسبت و ارادت:۔آپ فرماتے ہیں:۔
’ ’ اگر چہ میں صوفیاء کے تمام طرق کو موصل الی اللہ سمجھتا ہوں ،اور جملہ طرق کے مشائخ کو مانتا ہوں ،لیکن میرے آبا ؤ اجداد ،استاتذہ، اور مشائخ کا طریقہ نقشبندیہ ہے گو اور طرق کی بھی اجازت حاصل تھی ‘‘
مزید فرماتے ہیں:۔
’ ’ میں سلوک سبیل علم میں اپنے باپ ،انکے مشائخ اور اپنے مشائخ اور اپنے شیوخ علم کے طریقہ پر چل رہا ہوں‘ ‘
مولاناغلام نبی الربانی سوہدریؒ اور بیعت و ارادت:۔حضرت مولانا غلام نبی سوہدری مسلک اہلحدیث کے صاحب کشف وکرامات صوفی بز رگ گزرے ہیں۔آپ مشہور عالم دین مولانا عبدالمجید سوہدریؒ کے جد امجد تھے،مولانا غلام نبی الربانی سوہدریؒ نے سید میاں نذیر حسین دہلوی ؒ سے سند احادیث حاصل کی اور حصول طریقت کیلئے مرتسر جاکرسید عبداللہ غزنویؒ کی خدمت میں حاضری دی اور انکے دائرہ بیعت و ارادت میں شریک ہوئے،اور وہاں تین ماہ مسلل قیام فرما کرمنازل سلوک طے فرمائے ۔ آپ نے پیر میر حیدر وزیر آبادی سے بھی اخذسلوک کیا اوراس بات کاتذکرہ آپ کے پوتے مولانا ادریس فارو قی ؒ نے ’’کرامات اہلحدیث‘‘ میں کیا ،اور تعجب کی بات یہ ہے کہ ’’ بزرگان علوی و سوہدرہ ‘‘میں اسکا کہیں ذکر نہیں ملتا۔ مولا نا غلام نبی الربانیؒ سوہدری کا شمار مولانا غلام رسول رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ کے معاصرین میں ہوتا ہے۔
میاں صدر الدین بھوجیانی ؒ اوربیعت وارادت:۔میاں صدرالدین بھوجیا نی ؒ مسلک اہلحدیث کے مشہور ومعروف عالم حضرت مولانا عطا اللہ حنیف بھوجیانیؒ کے والد گرامی تھے۔آپ ؒ کے پوتے حافظ احمد شاکر اپنے خا ندانی حالات میں لکھتے ہیں :۔
’’مولانا فیض اللہ اور میاں صدرالدینؒ نے امرتسر جا کر حضرت امام عبدالجباربن حضرت عبداللہ رحم اللہ کے دست حق پرست پر توبہ و ہدایت کی بیعت کر لی۔دادا جان ہمارے خاندان کے پہلے خوش نصیب انسان تھے ، جنہوں نے دعوت توحید کو قبول کیا،اور امام عبدالجبارؒ سے فیض
پایااور حاندان کیلئے مشعلِ راہ بنے۔
(اشاعت خاص ہفت روزہ الاعتصام بیاد مولا نا عطا اللہ حنیف بھوجیانی ؒ )
حضرت مولانا محمد سیلمان روڑی ؒ اور بیعت و ارادت:۔مولانا محمد سیلمان روڑی ؒ روڑی ضلع حصار کے رہنے والے تھے،اسی(۸۰) سے زائد عمر پائی۔آپکا شمار صاحب کشف واکرامات اہل اللہ میں کیا جاتا ہے۔آپ مولاناامام عبداللہ غزنویؒ کے مریدین میں سے تھے،آپ نہایت رقیق القلب،پارسا،شب زندہ دار، متبع سنت بزرگ تھے۔پاس بیٹھنے والوں پر اتنا اثر ہوتا تھاکہ خشیت الہی طاری ہو جاتی تھی،مولانا عبدالمجید ’’ کرامت اہلحدیث ‘‘میں رقم طراز ہیں کہ:۔
’’راقم الحروف کوجب زیارت کا موقع ملاتو جماعت کے موجودہ بزرگوں میں بس آپ ہی پہ نگاہ ٹھہری تھی۔بڑے مسکین طبع،محب خدا،عاشق رسول واقع ہوئے تھے،پہلے پہل جب بدعات کی تردید کی اورسنت کی اشاعت شروع کی تو بہت کام کیا۔اور آخری عمر میں بجزذکر الٰہی اور کوئی تبلیغی کام نہ کر سکے۔آپکے صاحبزادے مولوی حکیم عبداللہ صاحب بھی صوفی منش بزرگ تھے۔(ص۹۹)

2 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

علمی وفکری اختلاف آپ کا حق ہے۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔