Sep 25, 2014

قربانی کا بے بہا اجر​,ازافادات: امیر محمد اکرم اعوان حفظہ اللہ تعالیٰ

0 comments
 قربانی کا بے بہا اجر​


نبی اکرم ﷺ نے قربانی کی فضیلت اور بے بہا اجر کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: -1 ”خدا کے نزدیک نحر کے دن (یعنی دسویں ذوالحجہ کو) قربانی کا خون بہانے سے زیادہ پسندیدہ کوئی عمل نہیں ہے۔ قیامت کے روز قربانی کا جانور اپنے سینگوں، بالوں اور کھروں سمیت حاضر ہوگا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے نہیں پاتا کہ خدا کے یہاں مقبول ہو جاتا ہے لہٰذا قربانی دل کی خوشی اور پوری آمادگی سے کیا کرو۔“ (ترمذی، ابن ماجہ) -2 ”صحابہؓ نے نبی ﷺ سے پوچھا یا رسول اللہ ! یہ قربانی کیا چیز ہے؟ ارشاد فرمایا یہ تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ صحابہؓ نے کہا یا رسول اللہ! اس میں ہمارے لئے کیا اجر و ثواب ہے؟ ارشاد فرمایا ہر ہر بال کے بدلے ایک نیکی ملے گی۔ صحابہؓ نے کہا اور اون کے بدلے یارسول اللہ! فرمایا ہاں اون کے ہر ہر روئیں کے بدلے میں بھی ایک نیکی ملے گی۔“ (ترمذی، ابن ماجہ) -3 ”حضرت ابو سعید خدریؓ کا بیان ہے کہ نبی ﷺ نے فاطمہ الزہرا رضی اللہ عنہا سے فرمایا: فاطمہ! اٹھو آﺅ اپنی قربانی کے جانور کے پاس کھڑی ہو اس لیے کہ اس کا جو قطرہ بھی زمین پر گرے گا اس کے بدلے میں خدا تمہارے پچھلے گناہ بخش دے گا۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا، یہ خوشخبری ہم اہل بیت کے لیے ہی مخصوص ہے یا ساری امت کے لیے ہے؟ ارشاد فرمایا: ہمارے اہل بیت کے لیے بھی ہے اور ساری امت کے لیے بھی۔“ (جمع الفوائد بحوالہ البزار) -4 ”حضرت ابن بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ عیدالفطر کے دن بغیر کچھ تناول فرمائے نماز کو نہیں جاتے تھے اور عیدالاضحی کے دن نماز عیدالاضحی پڑھنے سے پہلے کچھ نہیں کھاتے تھے اور جب واپس تشریف لاتے تو قربانی کے جانور کی کلیجی پہلے تناول فرماتے تھے۔“

قربانی کرنے والے کیلئے مسنون عمل
جو شخص بھی قربانی کا ارادہ کرے وہ ذوالحجہ کا چاند دیکھنے کے بعد نہ جسم کے کسی حصے کے بال کاٹے اور مونڈے اور نہ ناخن کتروائے پھر جب قربانی کا جانور ذبح کر لے تو بال اور ناخن وغیرہ بنوائے، یہ عمل مسنون ہے، واجب نہیں ہے اور جو شخص قربانی کی وسعت نہ رکھتا ہو اس کے لئے بھی بہتر یہ ہے کہ وہ قربانی کے دن اپنے بال بنوا لے، ناخن کٹوائے، خط بنوائے اور زیر ناف کے بال کاٹے۔ خدا کے نزدیک اس کا یہی عمل قربانی کا قائم مقام بن جائے گا۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا:”جس کو قربانی کرنا ہو وہ ذوالحجہ کا چاند دیکھنے کے بعد نہ اپنے بال بنوائے اور نہ ناخن کٹوائے یہاں تک کہ وہ قربانی کر لے۔“ (مسلم، جمع الفوائد، جلد اول، صفحہ 541) حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ کا بیان ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں اضحی کے دن (یعنی 10 ذوالحجہ کو) عید مناﺅں، اللہ نے اس دن کو اس امت کے لئے عید کا دن قرار دیا ہے۔ ایک شخص نے پوچھا، یا رسول اللہ! یہ بتایئے کہ اگر میرے پاس ایک ہی بکری ہو جو کسی نے دودھ کے لیے مجھے دے رکھی ہو تو کیا میں اسی کی قربانی کروں؟ ارشاد فرمایا، نہیں تم اس کی قربانی نہ کرو بلکہ (قربانی کے دن) اپنے بال بنوا لینا، اپنے ناخن کٹوا لینا، اپنی مونچھیں کتروا کر درست کرا لینا، اور زیر ناف کے بال صاف کر لینا، بس خدا کے نزدیک یہی تمہاری پوری قربانی ہوجائے گی۔“ (جمع الفوائد، نسائی، ابو داﺅد)
قربانی کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی پرانی خود مذہب یا انسان کی تاریخ ہے۔ انسان نے مختلف ادوار میں، عقیدت و فدائیت، سپردگی و جاں نثاری، عشق و محبت، عجز و نیاز، ایثار و قربانی اور پرستش و عبدیت کے جو جو طریقے اختیار کئے، خدا کی شریعت نے انسانی نفسیات اور جذبات کا لحاظ کرتے ہوئے وہ تمام ہی طریقے اپنی مخصوص اخلاقی اصطلاحات کے ساتھ اپنے لئے خاص کر دیئے۔ انسانوں نے اپنے معبود کے حضور جان کی قربانیاں بھی پیش کیں اور یہ قربانی ہی انسان کی طرف سے اپنے معبود کے حضور فداکاری کا سب سے اعلیٰ مظہر ہے۔ خدا نے اس کو بھی اپنے لئے خاص کر لیا اور اپنے سوا ہر ایک کے لئے اس کو قطعاً حرام قرار دے دیا۔ انسانی تاریخ میں سب سے پہلی قربانی حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں ہابیل اور قابیل کی قربانی ہے۔ قرآن پاک میں بھی اس قربانی کا ذکر ہے: ترجمہ: ”اور ان کو آدمؑ کے دو بیٹوں کا قصہ بھی ٹھیک ٹھیک سنا دیجئے جب ان دونوں نے قربانی کی تو ایک کی قربانی قبول ہوئی اور دوسرے کی قبول نہیں ہوئی۔“ (المائدہ: 27) دراصل ایک نے جس کا نام ”ہابیل“ تھا، دل کی آمادگی سے رضائے الٰہی کی خاطر بہترین دنبے کی قربانی پیش کی اور دوسرے نے جس کا نام ”قابیل“ تھا، بے دلی سے ناکارہ غلے کا ایک ڈھیر پیش کر دیا۔ ہابیل کی قربانی کو آسمانی آگ نے جلا ڈالا اور یہ مقبولیت کی علامت تھی۔ لیکن دوسری کو آگ نے نہیں جلایا اور یہ مقبول نہ ہونے کی علامت تھی۔ قربانی کا حکم تمام الٰہی شریعتوں میں ہمیشہ موجود رہا ہے اور ہر امت کے نظام عبادت میں اسے ایک لازمی جز کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ ”اور ہم نے ہر امت کے لئے قربانی کا ایک قاعدہ مقرر کر دیا ہے تاکہ وہ ان چوپایوں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ نے ان کو عطا فرمائے ہیں۔“ (سورہ
الحج: 34) یعنی قربانی ہر شریعت کے نظام عبادت میں موجود رہی ہے البتہ مختلف زمانوں، مختلف قوموں اور مختلف ملکوں کے نبیوں کی شریعتوں میں ان کے حالات کے پیش نظر قربانی کے قاعدے اور تفصیلات جدا جدا رہی ہیں، لیکن بنیادی طور پر یہ بات تمام آسمانی شریعتوں میں مشترک رہی ہے کہ جانور کی قربانی صرف اللہ کے لئے کی جائے اور اسی کا نام لے کر کی جائے۔ ”پس ان جانوروں پر صرف اللہ کا نام لو۔“ (سورہالحج، آیت: 36) جانوروں پر اللہ ہی کا نام لینا بڑا بلیغ انداز بیان ہے۔ یعنی ان کو ذبح کرو تو اللہ ہی کے نام سے ذبح کرو اور اسی کے نام پر اسی کی رضا کے لیے ذبح کرو۔ وہی ہے جس نے تمہارے لئے یہ جانور مہیا کئے ہیں، وہی ہے جس نے ان کو تمہارے لئے مسخر کیا ہے۔ وہی ہے جس نے تمہارے لئے ان میں گوناگوں فائدے رکھے ہیں۔ اس وقت دنیا کے ہر ہر خطے میں مسلمان جو قربانی کرتے ہیں اور ذبح عظیم کا جو منظر پیش ہوتا ہے، وہ دراصل حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کا فدیہ ہے۔ قرآن میں اس عظیم قربانی کے واقعے کو پیش کرکے اس کو اسلام، ایمان اور احسان قرار دیا ہے۔ قربانی دراصل اس عزم و یقین اور سپردگی و فدائیت کا عملی اظہار ہے کہ آدمی کے پاس جو کچھ بھی ہے وہ سب خدا ہی کا ہے اور اسی کی راہ میں یہ سب قربان ہونا چاہئے۔ یہ دراصل اس حقیقت کی علامت اور پیش کش ہے کہ اس کا اشارہ ہوگا تو ہم اپنا خون بہانے سے بھی دریغ نہ کریں گے۔ اسی عہد و پیمان اور سپردگی و فدائیت کا نام ایمان، اسلام اور احسان ہے۔ ”پس جب وہ (اسماعیل ؑ) ان کے ساتھ دوڑ دھوپ کرنے کی عمر کو پہنچے تو (ایک دن) ابراہیم ؑ نے ان سے کہا، پیارے بیٹے! میں نے خواب میں دیکھا کہ میں تمہیں ذبح کر رہا ہوں۔ غور کرو اب کیا ہونا چاہئے، بیٹے نے (بلا تامل) کہا، ابا جان! آپ کو جو حکم دیا جا رہا ہے اسے کر ڈالیے، انشاءاللہ آپ مجھے ثابت قدم پائیں گے، آخر کو جب باپ بیٹے دونوں نے خدا کے آگے سر تسلیم خم کر دیا، اور ابراہیم ؑ نے بیٹے کو منہ کے بل (زمین پر) گرا دیا، تو ہم نے ندا دی کہ اے ابراہیم ؑ! تم نے خواب سچ کر دکھایا، ہم احسان کی روش چلنے والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں، دراصل یہ ایک کھلی ہوئی آزمائش تھی، اور ہم نے ایک عظیم قربانی فدیے میں دے کر ان کو (یعنی اسمٰعیل کو) چھڑا لیا اور ہم نے پیچھے آنے والی امت میں ابراہیم ؑ کی یہ سنت (یادگار) چھوڑ دی۔ سلام ہے ابراہیم ؑ پر ہم اپنے فداکاروں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں، بلاشبہ وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔“(الصٰفٰت: 102-111) یعنی رہتی زندگی تک امت مسلمہ میں قربانی کی یہ عظیم الشان یادگار حضرت اسماعیل علیہ السلام کا فدیہ ہے۔ خدا نے اس فدیے کے عوض اسماعیل علیہ السلام کی جان چھڑائی کہ اب قیامت تک آنے والے فداکار ٹھیک اسی تاریخ کو دنیا بھر میں جانور قربان کریں، اور وفاداری اور جان نثاری کے اس عظیم الشان واقعے کی یاد تازہ کرتے رہیں۔ قربانی کی یہ بے بدل سنت جاری کرنے والے حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسماعیل ؑ تھے اور اس کو تاقیامت قائم رکھنے والے حضرت محمد ﷺ کی امت کے فداکار ہیں۔ نبی اکرم ﷺ کو قربانی اور فداکاری کی روح پوری زندگی میں جاری و ساری رکھنے کی تعلیم دیتے ہوئے یہ ہدایت کی گئی ہے: ترجمہ: ”کہہ دیجئے کہ میری نماز، میری قربانی، میری زندگی اور میری موت سب اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں، مجھے اسی کا حکم ملا ہے اور میں سب سے پہلا فرمانبردار ہوں۔“‘ (الانعام: 162,163) خدا پر پختہ ایمان اور اس کی توحید پر کامل یقین کے معنی یہ ہیں، کہ آدمی کی ساری تگ و دو اسی کی رضا کے لیے مخصوص ہو اور وہ سب کچھ اسی کی راہ میں قربان کرکے اپنے ایمان و اسلام اور وفاداری و جاں نثاری کا ثبوت دے۔ قربانی کی اصل جگہ تو وہی ہے، جہاں ہر سال لاکھوں حاجی اپنی اپنی قربانیاں پیش کرتے ہیں، دراصل یہ حج کے اعمال میں سے ایک اہم عمل ہے لیکن رحیم و کریم خدا نے اس عظیم شرف سے ان لوگوں کو بھی محروم نہیں رکھا ہے جو مکے سے دور ہیں اور حج میں شریک نہیں ہیں۔ قربانی کا حکم صرف ان لوگوں کے لیے نہیں ہے جو بیت اللہ کا حج کر رہے ہوں بلکہ یہ عام حکم ہے، اور سارے ہی ذی حیثیت مسلمانوں کے لیے ہے اور یہ حقیقت احادیث رسول سے ثابت ہے۔ چنانچہ حضرت عبداللہ ابن عمرؓ کی شہادت ہے کہ ”نبی اکرم ﷺ دس سال تک مدینہ منورہ میں قیام پذیر رہے اور برابر ہر سال قربانی کرتے رہے۔“ (ترمذی، مشکٰوة باب الاضحیہ) اور نبی ﷺ کا ارشاد ہے:”جو شخص وسعت رکھنے کے باوجود قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے۔“ (جمع الفوائد بحوالہ القزوینی کتاب الاضاحی)۔ قربانی کے روحانی مقاصد قرآن پاک نے قربانی کے تین اہم مقاصد کی طرف اشارے کئے ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ قربانی دراصل وہی ہے جو ان مقاصد کا شعور رکھتے ہوئے کی جائے: -1 قربانی کے جانور خدا پرستی کی نشانی ہیں: ”اور قربانی کے اونٹوں کو ہم نے ”شعائر اللہ“ قرار دیا ہے۔“ (الحج: 36)”شعائر“ ”شعیرہ“ کی جمع ہے، شعیرہ اس محسوس علامت کو کہتے ہیں جو کسی روحانی اور معنوی حقیقت کی طرف متوجہ کرے اور اس کی یاد کا سبب اور علامت بنے۔ قربانی کے یہ جانور اس روحانی حقیقت کی محسوس علامتیں ہیں کہ قربانی کرنے والا دراصل ان جذبات کا اظہار کر رہا ہے کہ ان جانوروں کا خون درحقیقت میرے خون کا قائم مقام ہے، میری جان بھی خدا کی راہ میں اسی طرح قربان ہے جس طرح میں اس جانور کو قربان کر رہا ہوں۔ -2 قربانی اللہ کی نعمت کا عملی شکر ہے۔ ”ہم نے اس طرح چوپایوں کو تمہارے لئے مسخر کر دیا ہے تاکہ تم شکر ادا کرو۔“ (الحج: 36) ”اس (خدا) نے اس طرح چوپایوں کو تمہارے لئے مسخر کر دیا ہے تاکہ تم اس کی بخشی ہوئی ہدایت کے مطابق اس کی بڑائی اور کبریائی کا اظہار کرو۔“یعنی ان جانوروں کا خدا کے نام پر ذبح کرنا دراصل اس حقیقت کا اعلان و اظہار ہے کہ جس خدا نے یہ نعمت عطا کی ہے اور جس نے ان کو ہمارے لئے مسخر کر رکھا ہے وہی ان کا حقیقی مالک ہے۔ قربانی اس حقیقی مالک کا شکریہ بھی ہے اور اس بات کا عملی اظہار بھی کہ مومن دل سے خدا کی بڑائی، عظمت اور کبریائی پر یقین رکھتا ہے۔ جانور کے گلے پر چھری رکھ کر وہ اس حقیقت کا عملی اظہار و اعلان بھی کرتا ہے اور زبان سے بسم اللہ، اللہ اکبرکہہ کر اس حقیقت کا اعتراف کرتا ہے۔ قربانی کرنے والا صرف جانور کے گلے پر ہی چھری نہیں پھیرتا بلکہ وہ ساری ناپسندیدہ خواہشات کے گلے پر بھی چھری پھیر کر ان کو ذبح کر ڈالتا ہے۔ اس شعور کے بغیر جو قربانی کی جاتی ہے، وہ ابراہیم و اسمٰعیل علیہما السلام کی سنت نہیں بلکہ ایک قومی رسم ہے، جس میں گوشت اور پوست کی فراوانی تو ہوتی ہے لیکن وہ تقویٰ ناپید ہوتا ہے جو قربانی کی روح ہے۔ ”اللہ تعالیٰ کو ان جانوروں کا گوشت اور خون ہرگز نہیں پہنچتا بلکہ اس کو تمہاری جانب سے تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔“ (الحج: 37) خدا کی نظر میں اس قربانی کی کوئی قیمت نہیں جس کے پیچھے تقویٰ کے جذبات نہ ہوں، خدا کے دربار میں وہی عمل مقبول ہے جس کا محرک خدا کا تقویٰ ہو۔ ترجمہ: ”اللہ صرف متقیوں کا عمل ہی قبول کرتا ہے۔“ (المائدہ: 27) قربانی کے جانور اور ان کے احکام -1قربانی کے جانور یہ ہیں: اونٹ، اونٹنی، دنبہ، بکرا، بکری، بھیڑ، گائے، بیل، بھینس، بھینسا۔ان جانوروں کے علاوہ اور کسی جانور کی قربانی جائز نہیں۔ -2 دنبہ، بکرا، بکری، بھیڑ کی قربانی صرف ایک آدمی کی طرف سے ہو سکتی ہے، ایک سے زائد کئی آدمی اس میں حصہ دار نہیں ہو سکتے۔ -3 گائے، بھینس اور اونٹ میں سات حصے ہو سکتے ہیں۔ سات سے زائد نہیں، مگر اس کے لئے دو شرطیں ہیں۔ پہلی یہ کہ ہر حصے دار کی نیت قربانی یا عقیقے کی ہو، محض گوشت حاصل کرنے کی نیت نہ ہو۔ دوسری شرط یہ ہے کہ ہر حصہ دار کا حٹہ ٹھیک 1/7 ہو، اس سے کم کا حصہ دار نہ ہو۔ ان دو شرطوں میں سے کوئی بھی شرط پوری نہ ہوئی تو کسی کی قربانی صحیح نہ ہوگی۔ -4 گائے، بھینس، اونٹ میں سات افراد سے کم بھی شریک ہو سکتے ہیں، مثلاً کوئی دو، چار یا کم و بیش حصے لے مگر اس میں بھی یہ شرط ضروری ہے کہ کوئی حصہ دار ساتویں حصے سے کم کا شریک نہ ہو ورنہ کسی کی قربانی صحیح نہ ہوگی۔ -5 ایک شخص نے گائے خریدی اور ارادہ یہ ہے کہ دوسروں کو شریک کرکے قربانی کر لیں گے تو یہ درست ہے اور اگر خریدتے وقت پوری گائے اپنے ہی لئے خریدی ، پھر بعد میں دوسروں کو شریک کرنے کا ارادہ کر لیا، تو یہ بھی جائز ہے۔ البتہ بہتر یہی ہے کہ ایسی صورت میں اپنے پہلے ارادے کے مطابق پورا جانور اپنی طرف سے ہی کرے لیکن دوسروں کو شریک کرنا ہی چاہے تو خوشحال آدمی کو شریک کرے جس پر قربانی واجب ہو۔ اگر کسی ایسے شخص کو شریک کر لیا جس پر قربانی واجب نہیں ہے تو درست نہیں۔ -6 گائے، بھینس کی قربانی میں ایک یا ایک سے زائد افراد کے حصے از خود ہی تجویز کرکے قربانی کرلی اور ان افراد کی مرضی اور اجازت نہیں لی تو یہ قربانی صحیح نہیں ہے۔ جن لوگوں کے بھی حصے رکھے جائیں ان کے کہنے سے رکھے جائیں، یہ نہیں کہ از خود حصے دار تجویز کرکے قربانی تو پہلے کر لی جائے اور حصہ داروں کی مرضی اور اجازت بعد میں حاصل کی جائے۔ -7 بکرا، بکری اور دنبہ، بھیڑ جب پورے سال بھر کے ہو جائیں تو ان کی قربانی درست ہے۔ سال بھر سے کم کے ہوں تو قربانی درست نہیں اور گائے، بھینس پورے دو سال کے ہو جائیں تو ان کی قربانی درست ہے، دو سال سے کم کے ہوں تو قربانی درست نہیں اور اونٹ پورے پانچ سال کا ہو تب قربانی درست ہے، پانچ سال سے کم کا ہو تو اس کی قربانی درست نہیں۔ -8 جس جانور کے سینگ پیدائشی طور پر نکلے ہی نہ ہوں، یا نکلے ہوں مگر کچھ حصہ ٹوٹ گیا ہو تو اس کی قربانی جائز ہے۔ البتہ جس جانور کے سینگ بالکل جڑ سے ہی ٹوٹ گئے ہوں اس کی قربانی جائز نہیں۔ -9 اندھے، کانے جانور کی قربانی درست نہیں اور اس لنگڑے جانور کی قربانی بھی درست نہیں جو صرف تین پیروں سے چلتا ہو، چوتھا پیر زمین پر رکھا ہی نہ جاتا ہو یا رکھتا ہو لیکن اس پر زور دے کر نہ چلتا ہو، صرف تین پیروں کے سہارے چلتا ہو۔ ہاں اگر چوتھا پیر بھی کام کر رہا ہو اور چلنے میں صرف لنگ ہو تو پھر قربانی درست ہے۔ -10 جس جانور کا کان ایک تہائی سے زیادہ کٹ گیا ہو، یا دم ایک تہائی سے زیادہ کٹ گئی ہو اس کی قربانی درست نہیں۔ -11 دبلے پتلے جانور کی قربانی تو جائز ہے البتہ بہتر یہ ہے کہ موٹا تازہ صحیح سالم اور خوبصورت جانور خدا کی راہ میں قربان کیا جائے اور اگر جانور ایسا مریل اور دبلا کمزور ہو کہ اس کی ہڈیوں میں گودا ہی نہ رہ گیا ہو تو اس کی قربانی درست نہیں۔ -12 جس جانور کے پیدائشی طور پر کان نہیں ہیں یا ہیں تو بہت ہی چھوٹے چھوٹے ہیں، اس کی قربانی درست ہے۔ -13 جس جانور کے دانت بالکل ہی نہ ہوں اس کی قربانی درست نہیں اور اگر چند دانت گرے ہوں باقی زیادہ دانت موجود ہوں تو اس کی قربانی درست ہے۔ -14 خصی بکرے اور مینڈھے کی قربانی درست ہے۔ خصی ہونا عیب نہیں ہے بلکہ جانور کو فربہ کرنے کا ایک سبب ہے، خود نبی اکرم ﷺ نے خصی دنبے کی قربانی کی ہے۔ -15 ایک خوشحال آدمی نے جس پر قربانی واجب تھی، ایک جانور قربانی کے لئے خریدا، خرید لینے کے بعد اس میں کوئی ایسا عیب پیدا ہو گیا جس کی وجہ سے اس کی قربانی درست نہ رہی تو ضروری ہے کہ وہ شخص دوسرا جانور خرید کر قربانی کرے۔ ہاں اگر کسی ایسے نادار شخص کے ساتھ ایسا واقعہ ہوا جس پر قربانی واجب نہ تھی تو اس کے لئے اسی عیب دار جانور کی قربانی کر لینا جائز ہے۔ -16 گائے اور بکری اگر حاملہ ہو تو اس کی قربانی بھی جائز ہے، اگر بچہ زندہ برآمد ہو تو اس کو بھی ذبح کر لینا چاہئے۔ قربانی کا حکم -1 قربانی کرنا واجب ہے۔ نبی ﷺ کا ارشاد ہے جس کے راوی حضرت ابو ہریرہؓ ہیں:”جو شخص وسعت رکھتے ہوئے قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے۔“ (جمع الفوائد بحوالہ القزوینی) حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے ایک شخص نے پوچھا کیا قربانی واجب ہے؟آپؓ نے جواب دیا:”نبی اکرم ﷺ نے اور مسلمانوں نے قربانی کی ہے۔ اس نے پھر وہی سوال دہرایا (کیا قربانی واجب ہے؟) ارشاد فرمایا تم سمجھتے ہو! نبی ﷺ اور مسلمانوں نے قربانی کی ہے۔“-2 قربانی قارن پر بھی واجب ہے اور متمتع پر بھی۔ البتہ مفرد پر واجب نہیں۔ اگر وہ اپنے طور پر کر لے تو اجر و ثواب کا مستحق ہوگا۔ -3 زائرین حرم کے علاوہ عام مسلمانوں پر قربانی واجب ہونے کے لئے دو شرطیں ہیں۔ ایک یہ کہ وہ خوشحال ہو۔ خوشحال سے مراد یہ ہے کہ اس کے پاس اتنا مال و اسباب ہو جو اس کی بنیادی ضرورتوں سے زائد ہو اور اگر ان کا حساب لگایا جائے تو یہ بقدر نصاب ہو جائے، یعنی جس شخص پر صدقہ¿ فطر واجب ہے اس پر قربانی بھی واجب ہے۔ دوسری شرط یہ ہے کہ وہ مقیم ہو۔ مسافر پر قربانی واجب نہیں۔ -4 قربانی صرف اپنی ہی جانب سے واجب ہے، نہ بیوی کی طرف سے واجب ہے نہ اولاد کی طرف سے۔ -5 کسی شخص پر قربانی شرعاً واجب نہیں تھی لیکن اس نے قربانی کی نیت سے کوئی جانور خرید لیا، تو اب اس جانور کی قربانی واجب ہو گئی۔ -6 ایک شخص پر قربانی واجب تھی لیکن قربانی کے تینوں دن گزر گئے اور وہ کسی وجہ سے قربانی نہیں کر سکا۔ اگر اس نے بکری وغیرہ خرید لی تھی تب تو اسی بکری کو زندہ خیرات کردے اور نہ خریدی ہو تو ایک بکری کی قیمت بھر رقم خیرات کر دے۔ -7 کسی نے منت اور نذر مانی کہ میرا فلاں کام ہو جائے تو قربانی کروں گا۔ پھر خدا کے فضل و کرم سے وہ کام ہو گیا تو چاہے یہ شخص خوشحال ہو یا نادار بہرحال اس پر قربانی واجب ہو گئی، اور نذر کی قربانی کا حکم یہ ہے کہ اس کا سارا گوشت غریبوں اور حاجت مندوں میں تقسیم کر دیا جائے، قربانی کرنے والا خود بھی نہ کھائے اور نہ خوشحال لوگوں کو کھلائے۔ قربانی کے ایام اور وقت -1 عیدالاضحیٰ یعنی ذوالحجہ کی دسویں تاریخ سے لے کر ذوالحجہ کی بارہویں تاریخ تک غروب آفتاب سے پہلے تک قربانی کے ایام ہیں۔ ان تین ایام میں سے جب اور جس دن سہولت ہو، قربانی کرنا جائز ہے لیکن قربانی کا سب سے افضل دن عیدالاضحیٰ کا دن ہے پھر گیارہویں تاریخ اور پھر بارہویں۔ -2 شہر اور قصبات کے باشندوں کے لئے نماز عید سے پہلے قربانی کرنا درست نہیں، جب لوگ نماز سے فارغ ہو جائیں تب قربانی کریں۔ البتہ دیہات کے باشندے نماز فجر کے بعد بھی قربانی کر سکتے ہیں۔ -3 شہر اور قصبات کے باشندے اگر اپنی قربانی کسی گاﺅں میں کرا رہے ہوں تو ان کے جانوروں کی قربانی دیہات میں فجر کے بعد بھی ہو سکتی ہے اور اگر وہاں سے نماز عید سے پہلے ہی گوشت آ جائے، تب بھی یہ قربانی درست ہے۔ -4 ایام قربانی میں، یعنی ذوالحجہ کی دس تاریخ سے بارہویں تاریخ غروب آفتاب تک، جس وقت چاہیں قربانی کر سکتے ہیں، دن میں بھی اور رات میں بھی۔ لیکن افضل یہی ہے کہ شب میں قربانی نہ کی جائے۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی رگ سلیقے سے نہ کٹے، یا رہ جائے اور قربانی درست نہ ہو۔ -5 قربانی واجب ہونے کی دو شرطیں ہیں: مقیم ہونا اور خوشحال ہونا۔ اگر کوئی شخص سفر میں ہے اور وہ بارہویں ذوالحجہ کو غروب آفتاب سے پہلے اپنے وطن پہنچ گیا اور خوشحال ہے تو اس پر قربانی واجب ہو گئی اور اگر وہ مقیم ہے اور نادار ہے لیکن بارہویں ذوالحجہ کو غروب آفتاب سے پہلے خدا نے اسے مال و دولت سے نواز دیا تو اس پر بھی قربانی واجب ہو گئی۔ مُردوں کی طرف سے قربانی خدا تعالیٰ نے جس شخص کو مال و دولت سے نوازا ہے، وہ صرف واجب قربانی پر ہی کیوں اکتفا کرے بلکہ قربانی کا بے حد و حساب اجر و انعام پانے کے لئے اپنے بزرگوں یعنی مردہ ماں باپ، دادا، دادی اور دوسرے رشتہ داروں کی طرف سے بھی قربانی کرے تو بہتر ہے اور اپنے محسن اعظم (ﷺ) جن کی بدولت ہدایت و ایمان کی دولت نصیب ہوئی ہے، کی طرف سے قربانی تو مومن کی بہت بڑی سعادت ہے۔ اسی طرح ازواج مطہرات یعنی اپنی روحانی ماﺅں کی طرف سے قربانی کرنا بھی انتہائی خوش نصیبی ہے۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

علمی وفکری اختلاف آپ کا حق ہے۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔