Jan 10, 2014

جمال باری کے آئینے

0 comments
تصوف
جمال باری کے آئینے
انسان بدن و روح کا حسین مرکب ہے ،بدن کثیف مادے سے بنا ہے،جبکہ روح لطیف ترین نور ہے۔اللہ تعالیٰ کی صفاتی تجلی کا پرتو ہے،اور اسی کے سبب سے انسان اشرف المخلوقات ہے،اور اسی کے سبب سے اسے فنا نہیں ،بدن کی نشو ونما ،صحت و حفاظت ،آرائش و آرام کے لئے رب العالمین کا ایک وسیع ترین کارخانہ حیات رواں دواں ہے۔زمین اپنے تمام  تر خزانے  انسان کے قدموں  ڈھیر کرتی ہے،تو سواج چاند ستارے اپنی تمام تر توجہ زمین پر مرتکز کئے ہوئے ہیں ۔یہ  سب انسان کے ظاہر ی بدن کی خدمت بجا لاتی ہیں ،جو روح کا مسکن ہے۔
روح کی نشونما ،صحت ،آرام و آرائش کے لئے اللہ کریم ایسے ماہر حیات بھیجتے رہے ہیں  ،جنہیں انبیاء علیہ الصلوۃ والسلام کہا جاتا ہے ان ہستیوں کے سینے ان برکات سے لبریز ہوتے ہیں ،جو انسانی ارواح کے لئے دوا اور غذا کا کام دیتی ہیں ،جیسے روح ظاہری آنکھ کو دکھائی نہیں دیتی ،ویسے ہی یہ برکات ظاہراً نظر نہیں آتی ،یہ دل سے دل کو پہنچ جاتی ہیں ۔ان برکات سے روح کی صفائی کو "تصوف" کہتے ہیں ۔
آپ ﷺ کا دور رسالت  قیامت تک محیط ہے ،آج بھی روح کے ہر زخم کا مرہم آپ ﷺ کے قلب منور سے مترشخ ہو رہا ہے۔ اسلامی تصوف اس قلب  منیرﷺ کی کرنوں کو اپنے دلوں میں اتارنے کا فن ہے ،اس فن کے ماہرین کو ہر دور میں "شیخ " اہل اللہ یا صوفیاء کے نام سے جانا جاتا ہے۔ان کی صحبت میں بیٹھ  کر اپنے قلوب کے زنگ اتارنے جاتے ہیں ،قلوب کو صیقل کیا جاتا ہے ،اور اس قابل بنایا جاتا ہے کہ وہ ایسے آئینے بن جائے  ،جن میں جمال باری مترشخ ہو۔

یہ مضمون ماہنامہ "المرشد" جنوری 2014ء ناشر سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ دارلعرفان منارہ " سے لیا گیا ہے

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

علمی وفکری اختلاف آپ کا حق ہے۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔