Jan 22, 2014

سراجاً منیرا ،مصنف مولانا محمد ابراھیم میر سیالکوٹی:Siraj um Muneera aHazrat Molana Muhammad Ibrahim Meer Sialkoti:

0 comments

مولانا محمد ابراہیم میرؒ سیالکوٹی کا شمار برصغیر کی نامور شخصیات میں ہوتا ہے۔ مسلک اہلحدیث اور قران وسنت کی اشاعت کے علاوہ تحریک پاکستان میں بھی آپ کا ا نمایاں کردار ہے۔ آپ کی تصنیفات کی تعداد ایک صد کے لگ بھگ ہے۔ آپ کو صرف ظاہری علوم ہی میں نہیں بلکہ علوم باطنی ( احسان و سلوک) میں بھی اعلی مدارج حاصل تھے۔ گو کہ آج کے تذکرہ نگار آپ کی زندگی کے اس روشن پہلو سے پہلو تہی ہی کرتے ہی نظر آتے ہیں، ان ہی خطرات کے پیشِ نظر کہ کہیں آفاتِ زمانہ آپ کا یہ روحانی پہلو خرد برد نہ کرد آپ کی تصنیف''سراجاً منیرا'' کو پیش کیا جا رہے ''سراجاً منیرا '' آپ کی وہ تصنیف ہے، جس میں آپ نے برکات نبوت (احسان وسلوک) زیارتِ رسول ﷺ، فضائل درود شریف، اذکار و وظائف وغیرہ پر مختصرا مگر بڑا جامع اور مدلل انداز میں بیان فرمایا ہے۔
یہ کتابچہ اتنا پر تاثیر ہے، کہ وہ حضرات جو راہ سلوک سے ناآشنا ہیں، کم فہم اور خشک مزاج لو گوں کی بد گمانی سے متاثر ہو کر احسان و سلوک سے انکار کر بیٹھے ہیں، وہ اس کا مطالعہ ضرور فرمائیں، ا نشاء اللہ العزیز متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے گے، بشرطیکہ وہ اپنی کو تائیوں کی وجہ سے فطرت سلیمہ کو مسخ نہ کر چکے ہوں۔ دو سری طرف وہ لوگ جو مسلک اہلحدیث کو تصوف وسلوک سے نابلد اورگستاخ انبیاء اور اولیاء سمجھتے ہیں (گو کہ کسی حد تک اس عہد میں یہ حقیقت بھی پائی جاتی ہے) زیر بحث کتاب کے مطالعہ کے بعد اپنا نقطۂ نظر تبدیل کرنے پر مجبور ہوں گے، لیکن تعلق اس کا بھی مذکورہ شرط سے ہے۔
اس کتاب کے دیباچہ اول پر 29رمضان 1361ہجری 11اکتوبر1942ء کی تاریخ درج ہے۔ آپ ؒ نے اس کتاب کے دیباچہ ثانی میں لکھا ہے کہ
’’ سراجاً منیرا کے مضمون مولنا ثناء اللہ امرتسری کی حیات طیبہ میں اخبار اہلحدیث امرتسر میں شائع ہوتے رہے ہیں‘‘
یہ بات ذہن میں رہے کہ اخبار اہلحدیث قبل از پاکستان امرتسر) ہندوستان) سے شائع ہوتا رہا ہے’’ سراجاً منیرا مع ازواج النبیﷺ ‘‘کو فاران اکیڈمی۱۷۔ اردو بازار لاہور نے ۲۰۰۲ء میں بھی شائع کیا ہے۔ راقم الحروف کے علم یہ بات آئی ہے کہ یہ کتاب بعد میں بھی پرنٹ ہوئی ہے مگر افسوس کے اس کے بعض مضامین کو حذف کر دیا گیا ہے، جو کہ میں سمجھتا ہوں یہ ایک بہت بڑی علمی خیانت ہے۔ اور یہی کام تو علما بنی اسرائیل بھی کیا کرتے تھے، علاوہ ازیں یہ کتاب وقاری کے علاوہ مصنف مرحوم مغفور (مولانا محمد ابراہیم میرؒ سیالکوٹی) کے ساتھ بھی بعد از مرگ دھوکا ہے، اللہ تعالیٰ ایسے غالی و نا عاقبت اندیش لوگوں سے اس امت کو محفوظ فرمائیں۔
انٹر نیٹ کی دنیا سے تعلق رکھنے والے اہل قلم حضرات سے گذارش ہے اس کتابچہ کو علمی امانت سمجھتے ہوئے، بغیر کسی رد و بدل کے اس کی اشاعت و تدوین میں تعاون فرمائیں۔ یہ گنہگار اس سعی میں ہے کہ اکابرین اہلحدیثؒ کا جو تعلق روحانیت کے ساتھ تھااس کو منظر عام پر لایا جائے، اسی مشن کی تگ و دو میں یہ کتابچہ محترم تنزیل الرحمن صاحب گوجرہ قلعہ میاں سنگھ سے حاصل ہوا، اس سلسلہ میں ایک کتاب ’’اکابرین اہلحدیث کا احسان و سلوک‘‘ زیر طبع بھی ہے، اس لیے جن احباب کے پاس اکابرینؒ کی کوئی تقریر و تحریر جو تصوف وسلوک سے تعلق رکھتی ہو پہنچائی جائے تا کہ اکابرین ؒ کا یہ چھپا ہوا گوشہ بھی قلمبند ہو سکے، اہل علم حضرات سے خصوصی تعاون کی درخواست ہے۔ آخر میں ان تمام احباب کا شکر گزار ہوں جن کے تعاون یہ مرحلہ بخوبی طے ہوا، اور یہ کتابچہ منظر عام پر آسکا۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ یہ کوشش قبول و منظور فرمائیں۔ اور مصنف مرحوم و مغفور کے درجات بلند فرمائیں۔ اللہ کرے یہ کاوش حب رسولﷺ کو اجاگر کرنے کا ذریعہ ثابت ہو۔
ابن محمد جی قریشی
اسلام پورہ جبر۔ گوجرخان۔ پاکستان

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

علمی وفکری اختلاف آپ کا حق ہے۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔