Oct 22, 2013

0 comments
اسلامی تصوف کی حقیقت
لغت کے اعتبار سے کی تصوف کی اصل خواہ صوف ہو اور حقیقت کے اعتبار سے اسکا رشتہ چاہے صفا سے جاملے اس میں شک نہیں کہ یہ دین کا ایک اہم شعبہ ہے ،جس کی اساس خلوص فی العمل اور خلوص فی النیت پر ہے،اور جس کی غایت تعلق مع اللہ اور حصول رضائے الٰہی ہے۔قرآن وسنت کے مطالعہ نبی کریم ﷺ کے اسوہ حسنہ اورآچار صحابہ سے اس حقیقت کا ثبوت ملتا ہے۔
 عہد رسالت اور صحابہ اکرام کے دور میں جس طرح دین کے دوسرے شعبوں تفسیر ،اصول ، فقہ ، کلام وغیرہ کے نام اور اصطلاحات وضع نہ ہوئی تھی ہر چند کہ ان کے نام اور اصطلاح وضع نہ ہوئی تھی ،ہر چند کہ ان کے اصول کلیات موجود تھے،اور ان عنوات کے تحت یہ شعبے بعد میں مدون ہوئے،اسی طرح یہ دین کا ہم شعبہ بھی موجود تھا ،کیونکر تزکیہ باطن پیغمبرﷺ کے فرائض میں شامل تھا۔

کیونکہ تزکیہ باطن  خود پیغمبرﷺ کے فرائض میں شامل تھا۔صحابہ رضوان اللہ  کی زندگی  بھی اسی کی نمونہ تھی ،لیکن اسکی تدوین بھی دوسرے شعبوں کیطرح بعد میں ہوئی ،صحابیت کے شرف اور لقب کی موجودگی میں  کسی علحیدہ اصطلاح کی ضرورت نہیں تھی ،یہی وجہ ہے کہ صحابہ کے لئے متکلم،مفسر، محدث ، فقہیہ، اور صوفی کے القاب  استعمال نہیں کیے گئے ہیں،اسکے بعد جن لوگوں نے دین  کے اس شعبہ کی خدمت کی اور اس کے حامل  اور مختفصص قرار پائے گئے ۔



ہد رسالت اور صحابہ اکرام کے دور میں جس طرح  دین کے دوسرے شعبوں  تفسیر ،اصول ، فقہ ، کلام وغیرہ کے نام اور اصطلاحات وضع نہ ہوئی تھی ہر چند کہ ان کے نام اور اصطلاح وضع نہ ہوئی تھی ،ہر چند کہ ان کے اصول کلیات موجود تھے،اور ان عنوات کے تحت  یہ شعبے بعد میں مدون ہوئے،اسی طرح یہ دین کا ہم شعبہ بھی موجود تھا ،کیونکر تزکیہ باطن پیغمبرﷺ کے فرائض میں شامل تھا۔

 

ہد رسالت اور صحابہ اکرام کے دور میں جس طرح  دین کے دوسرے شعبوں  تفسیر ،اصول ، فقہ ، کلام وغیرہ کے نام اور اصطلاحات وضع نہ ہوئی تھی ہر چند کہ ان کے نام اور اصطلاح وضع نہ ہوئی تھی ،ہر چند کہ ان کے اصول کلیات موجود تھے،اور ان عنوات کے تحت  یہ شعبے بعد میں مدون ہوئے،اسی طرح یہ دین کا ہم شعبہ بھی موجود تھا ،کیونکر تزکیہ باطن پیغمبرﷺ کے فرائض میں شامل تھا۔

 

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

علمی وفکری اختلاف آپ کا حق ہے۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔