Jan 25, 2014

عالم خلق اور عالم امر(دلائل السلوک)

0 comments
صاحب تفسیر مظہری نے “الا لہ الخلق و الامر” کی تفسیر میں اس کی تفصیل بیان فرمائی ہے.
صوفیہ کرام نے کہا کہ مراد عالم خلق اور عالم امر سے یہ ہے کہ عالم خلق میں عرش اور جو ماتحت عرش ہے اور جو چیز آسمان اور زمین اور ان کے مابین ہے، شامل ہے، اور اس کے اصول عناصر اربعہ آگ، پانی، ہوا اور مٹی اور جو چیزیں ان سے پیدا ہوتی ہیں. یعنی نفوس حیوانی، نباتاتی اور معدنی ہیں، اور یہ اجسام کثیفہ میں ساری ہیں، سب عالم خلق سے ہیں. اور عالم امر سے مراد مجردات ہیں، یعنی (لطائف خمسہ) قلب، روح سری، خفی اور اخفاء، یہ فوق العرش ہیں، اور یہ نفوس انسانیہ ملکیہ اور شیطانیہ میں یوں ساری ہیں جیسے سورج کی شعاعیں آئینہ میں ساری ہوتی ہیں. لائف کو عالم امر اس لۓ کہتے ہیں اللہ تعالی نے ان کو کسی مادہ سے نہیں، بلکہ اپنے امر کن سے پیدا کیا، اور بفوی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ سفوان بن عینیہ نے فرمایا کہ عالم امر اور عالم خلق دو مختلف چیزیں ہیں. جس نے ان دونوں کو ایک سمجھا اس نے کفر کیا.
 روح پیدائشی عاقل بالغ ہے
روح کو بدن میں جب داخل کیا جاتا ہے تو بدن کی خصوصیات سامنے آتی ہیں مثلا بچپن، جوانی، بڑھاپا، اور بچپن میں ذہن، عقل، فہم ادراک وغیرہ کا ناقص ہونا، پھر رفتہ رفتہ عمر کے ساتھ ترقی کرنا وغیرہ، یہ بدن کی خصوصیات ہیں ورنہ روح تو پیدائش کے وقت سے ہی عاقل بالغ اور ذی فہم ہے اور اگر یہ بات نہ ہوتی تو “الست بربکم” کے جواب میں “بلی” کیوں کہتی. سوال سننا سمجھنا اور جواب دینا روح کے پیدائشی عاقل بالغ ہونے کی دلیل ہے. 
جسم مثالی کی حقیقت
 حیات نام ہے حس حرکت، دیکھنا، سننا، بولنا، قوی ظاہری و باطنی کا موجود ہونا. روح دنیا میں بدن کو زندگی بخشتا ہے. دنیا میں مادی چیزوں کو سنانے میں مادی آلات کا محتاج ہے نہ کہ اپنی حیات میں مادی بدن کا محتاج ہے، بلکہ روح بدن کو حیات بخشتا ہے. برزخ میں جا کر روح مادی دنیا کو اپنی آواز نہیں سنا سکتا. اسی لۓ مادی آنکھیں اسے نہیں دیکھ سکتیں، مادی کان اسکی بات نہیں سن سکتے حالانکہ وہ خود بولتا ہے، سنتا ہے، اس کے سارے اعضاء ذاتی ہیں جیسا کہ ثابت ہو چکا ہے کہ روح اپنے بدن کی شکل پر ہوتا ہے. روح خود جسم لطیف، اس کے کان لطیف، اسکی آواز لطیف، اس کو تمام لطیف چیزیں دیکھ لیتی ہی، اس کی آواز سن لیتی ہیں جیسا کہ ملائکہ قلوب انبیاء، قلوب اولیاء، لطیف چیزوں کو دیکھنے یا سننے سنانے میں کسی غیر جسم کے آلات کا محتاج نہیں ہوتا کہ برزخ میں اس کے لۓ جسم مثالی تسلیم کیا جاۓ. اگر لطیف چیزوں کو دیکھنے یا سننے سنانے میں جسم مثالی کا محتاج مانا جاۓ تو پھر یہ بھی ماننا پڑے گا کہ روح حیات بخش نہیں بلکہ روح کو جسم مثالی حیات بخشتا ہے اور روح کے کوئی ذاتی آلات نہیں وہ ایک پتھر ہے (العیاذ بااللہ) جسم مثالی کا تسلیم کرنا خلاف قرآن، خلاف حدیث اور خلاف سلف صالحین ہے اور جو شخص جسم مثالی کا قائل ہوا اس نے سخت ٹھوکر کھائی ہے. اللہ اس کو ہدایت دے
 (دلائل السلوک)

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

علمی وفکری اختلاف آپ کا حق ہے۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔