Jan 25, 2014

صوفیاء، فقہاء، محققین، مجتہدین

0 comments
صوفیاء، فقہاء، محققین، مجتہدین
صوفیاۓ کرام فن طریقت و علم حقیقت و تصوف کے احکام باطنیہ میں مجتہد ہیں. وہ حضرات احکام ظنیہ باطنیہ کا اسی طرح استخراج کرتے ہیں جیسے فقہا مجتہدین بغیر نصوص صریحہ کے بعض احتمالات کی بناء پر محض اپنے ذوق سے احکام ظنیہ ظاہرہ کا استنباط کرتے ہیں. صوفیاۓ کرام میں فقہاء مجتہدین کے مقابلے میں ایک قوت زائد ہوتی ہے کہ وہ صاحب کشف و الہام ہوتے ہیں. فقہا محض ذاتی راۓ سے مسائل کا استخراج کرتے ہیں اور یہ لوگ الہام و کشف کی روشنی میں. اور کشف و الہام اعلام و اطلاع من اللہ ہوتی ہے اور یہ ظاہر ہے کہ اعلام من اللہ محض ذاتی راۓ سے افضل ہے. جس طرح قیاس و راۓ کی صحت کا معیار یہ ہے کہ کتاب و سنت کے مخالف نہ ہو، اسی طرح کشف و الہام کی صحت کا معیار بھی کتاب و سنت کی موافقت ہے، بہرحال اس کی فوقیت مسلم ہے.

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

علمی وفکری اختلاف آپ کا حق ہے۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔