May 4, 2014

سوال 1:۔ کیا اذکار و اشغال مشائخ و ہیئت جلسہ ذکر‘ اور دو وقت ذکر کرنے اور اجتماعی طور پر ذکر کرنے کا وجود قرنِ ثلثہ میں ملتا ہے جو قرون مشہور باالخیر ہیں‘ اگر ان کا وجود قرونِ ثلثہ میں موجود نہ تھا تو اس کو بدعت کہنا بعید نہ ہو گا ؟

0 comments
سوال 1:۔ کیا اذکار و اشغال مشائخ و ہیئت جلسہ ذکر‘ اور دو وقت ذکر کرنے اور اجتماعی طور پر ذکر کرنے کا وجود قرنِ ثلثہ میں ملتا ہے جو قرون مشہور باالخیر ہیں‘ اگر ان کا وجود قرونِ ثلثہ میں موجود نہ تھا تو اس کو بدعت کہنا بعید نہ ہو گا ؟
جواب1:۔ سب سے پہلے بدعت کا مفہوم سمجھ لینا چاہیے؛ جو چیز بوجوہ شرعی قرون ثلثہ میں موجود تھی وہ سنت ہے اور جو حکم بوجوہ شرعی قرون ثلثہ میں موجود نہ تھا وہ بدعت ہے۔
اب وجودِ شرعی کی تفصیل سنئے۔ اصطلاح اصولِ فقہ میں وجودِ شرعی اسے کہتے ہیں جو بغیر بیان رسولِ کریم ﷺ معلوم نہ ہو سکے اور حسِ عقل کا اس میں دخل نہ ہو‘ اس شئے کا وجود حضورِ اکرم ﷺ کے فرمان اور بیان پر ہی موقوف ہو گا۔ پھر بیان میں خواہ صراحت ہو‘ اشارۃ یا دلالتہ ہو یعنی بیان کی کوئی فروع پائی گئی تو اس حکم کا جواز ثابت ہو گا اور اس حکم کا وجود شریعت میں آگیا‘ خواہ اس وقت اس حکم کی جنس بھی خارج میں موجود نہ ہو ‘ چہ جائیکہ اس کا جزیہ ضروری ہو۔ پس جس حکم کا جواز کلیتہً ثابت ہو گیا وہ حکم لجمیع جزئیات ثابت ہو گا خواہ اس کا کوئی جزیہ بوجوہ خارجی قرون ثلثہ میں موجود ہو یا نہ ہو‘ اگر اس کلیہ کا کوئی جزیہ قرونِ ثلثہ کے بعد خارج میں وجود میں آیا وہ سنت میں داخل ہو گا بدعت نہ ہو گا۔ 
یوں تو اقسامِ حدیث میں قولِ رسول ؐ فعلِ رسولؐ تقریرِ رسولؐ ہوا جس نفسِ رسولؐ عزمِ رسولؐ ہم رسولؐ اور خواطرِ رسولؐ سب ہیں‘ مگر اذکار تو وہ سنت ہے جس کا ثبوت صراحتہً رسولِ کریم ﷺ اور صحابہ کرامؓ کے زمانے میں اور خیر القرون میں پایا جاتا ہے۔ اذکارو اشغال جن کی اصل کتاب و سنت میں موجود ہو اور ان کی جزئیات مشائخ نے اس اصل سے اخذ کی ہوں وہ داخل سنت ہوں گی۔ کیونکہ وسائل و ذرائع حکم مقاصد میں داخل ہیں۔
دوسری چیز یہ سمجھ لی جائے کہ تعلق بااللہ‘ نسبت با اللہ اور توجہ الی اللہ سب مامور من اللہ مامور بہ ہیں اگرچہ کلی مشکک ہے جس کا ادنیٰ درجہ مندوب ہے اور اعلیٰ درجہ افضل ہے اور سینکڑوں آیاتِ قرآنی اور احادیثِ نبوی ﷺ سے ان کا مامور من اللہ ہونا ثابت ہے‘ بلکہ تمام شریعت کا اجمال خلاصہ یہ ہے کہ مال اور اولاد سے تعلق حفاظت کا ہو اور اللہ تعالیٰ سے تعلق عبادت اور اطاعت کا ہو۔ جو شخص قرآن مجید اور حدیث شریف میں غور کرے سینکڑوں آیات و احادیث سے ان کا مامور من اللہ ہونا پائے گا اور غیر سے قلبی انقطاع کا ثبوت ملے گا۔ 
تیسری بات یہ سمجھ لیں کہ مامور بہ اور مامور من اللہ مقصود لذاتہ ہے اور جو چیز مامور بہ ہو اس کی تحصیل کے لئے جو ذرائع اور وسائل اختیار کئے جائیں گے یا جو طریقہ مشخص کیا جائے گا یا مقید کیا جائے گا وہ بھی مامور بہ ہو گا جیسے وضو کو دیکھئے مقصود لذاتہ تو نماز ہے اور نماز موقوف ہے وضو پر ‘ لہٰذا وضو کے لئے پانی مہیا کرنا واجب ہو گا ۔ کیونکہ وہی تو وسیلہ اور ذریعہ طہارت ہے ۔ اسی طرح نماز کے لئے ستر عورت فرض ہے لہٰذا لباس کا مہیا کرنا بھی فرض ہوا‘ لہٰذا ذکرِ الٰہی کے سلسلے میں مشائخ نے جو وسائل اور ذرائع اختیار کئے ‘ یا جن ذرائع کو اصل مقصود کے لئے مشخص کیا یا مقید کیا یا موکد و غیر موکد کیا ‘ جن پر مقصود ذاتی موقوف تھا ‘ وہ بھی مقاصد میں داخل ہوئے ‘ ان کو بدعت نہیں کہا جائے گا یہ احداث فی الدین نہیں ہو گا ‘ ہاں احداث الدین ہو گا جس طرح طبیب ہر زمانہ او ر ہر موسم ادویہ بدلتا اور تجویز کرتا ہے ‘ طبیب کا اصل مقصد تو صحت بدنِ انسانی ہے ‘ اسی طرح اذکار کا اصل مقصد تعلق مع اللہ اور توجہ الی اللہ ہے جس طریقہ سے حاصل ہو وہ اختیار کرنا فرض کے حکم میں داخل ہو گا۔
یا مثلاً اعلائے کلمتہ اللہ ایک مقصد ہے اور جہاد بھی اس کا ایک ذریعہ ہے ‘ جہاد جن آلات حرب پر موقوف ہو گا ان کی تحصیل بھی فرض ہو گی‘ جیسے آج کے حالات کے مطابق توپ‘ ٹینک ‘ ہوائی جہاز وغیرہ‘ ان کو اس وجہ سے بدعت نہیں کہا جائے گا کہ رسولِ کریم ﷺ یا صحابہؓ کے زمانہ میں یا خیر القرون میں ان کا وجود نہیں تھا۔ بس تلوار‘ نیزہ سے ہی کام لینا سنت ہو گا۔ معلوم ہوا کہ مقصد جب اعلائے کلمتہ اللہ کے لئے جہاد کرنا ہے مگر اس مقصد کے حصول کے لئے حالات کے مطابق ذرائع مہیا کرنا ‘ جن پر یہ موقوف ہے وہ بھی واجب ہو گا اسے بدعت نہیں کہا جا سکتا۔
چوتھی بات یہ سمجھ لیجئے کہ حدیث جبرئیل میں احسان کو جزوِ دین کہا گیا ہے اس لئے اس کا حاصل کرنا مسلمانوں پر واجب ہے احسان صرف جزوِ دین ہی نہیں ‘ بلکہ دین کی روح اور خلاصہ ہے جس نے اسے حاصل نہ کیا اس کا دین ناقص ہے ‘ کیونکہ احسان کی حقیقت یہ بیان ہوئی کہ تعبد ربک کا نک تراہ فان لم تکن تراہ فا نہ یراک حدیث میں دین کے تینوں اجزاء کا ذکر ہے ۔ایمان جو اصل ہے ‘ اعمال جو فرع ہیں اور احسان جو ثمرہ ہے اسے چھوڑ دینا ایسا ہے جیسے ایک شخص مغرب کی نماز میں فرض کی دو رکعت پڑھ کر فارغ ہو جائے‘ ظاہر ہے کہ اس کی نماز نہ ہو گی‘ اسی طرح احسان کو چھوڑ دینا دین کے ایک عظیم جزو کو ترک کرنا ہے‘ اس لئے دین ناقص رہ جائے گا۔
پانچویں یہ بات سمجھ لیجئے کہ حضورِ اکرم ﷺ کے زمانہ میں یہ درجہ احسان صرف صحبتِ رسول ﷺ سے حاصل ہو جاتا تھا‘ صرف فرائض کی پابندی کے ساتھ صحبتِ رسول ؐ شامل ہو گئی تو درجہ احسان حاصل ہو گیا اور وہ بھی اس پایہ کا کہ بڑے سے بڑا ولی ایک ادنیٰ درجے کے صحابی کے مرتبہ تک نہیں پہنچ سکتا‘ جب آفتابِ نبوت اوجھل ہو گیا تو مجاہدات و ریاضات کی ضرورت محسوس ہوئی تاکہ دین کا یہ اہم حصہ جو دین کا ما حصل ہے ‘ کمال کا اعلیٰ درجہ اور مقصود لذاتہ ہے حاصل ہو سکے رہا دو وقت ذکر کرنے کا سوال تو یہ نص سے ثابت ہے ۔ مثال کے طور پر دیکھئے۔
۱۔ ان سخر نا الجبال معہ یسبحن با لعشی ولا شراق والطیر محشورہ ۔ ۱۹۔۱۸: ۳۸ 
ہم نے پہاڑوں کو حکم کر رکھا تھا کہ ان کے ساتھ شام اور صبح تسبیح کیا کریں ۔۔۔۔ اور پرندوں کو کو جو جمع ہو جاتے تھے۔
اس حقیقت کو کشف صحیح کی تا ئید بھی حاصل ہے ‘ اولیاء اللہ نے اس آیت سے دو امور ثابت کئے ہیں ۔ اول اجتماعی ذکر ‘ دوسرا اس میں ذاکرین کے انوار کا عکس ایک دوسرے پر پڑتا ہے جس سے نحوست دور ہوتی ہے۔ قلب میں انبساط پیدا ہوتا ہے‘ ہمت قوی ہو جاتی ہے اور اس اجتماعی ذکر سے جو تاثیر پیدا ہوتی ہے وہ الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتی ‘ یہ کیفیت چشیدنی ہے گفتنی نہیں۔
۲۔ واذکر ربک فی نفسک تضرعا وخیفتہ ودون الجھر من القول با الغدو ولاصال ولا تکن من الغافلین۔ 
اس آیت میں ذکرِ قلبی کرنے کا حکم ہے کیونکہ خوف کا تعلق دل سے ہے زبان سے نہیں۔
دوم: صبح شام ذکر کرنے کا حکم ہے ‘ آخری بات یہ نکلی کہ جو شخص اس طرح ذکر نہیں کرتا وہ خدا سے غافل ہے اور ظاہر ہے کہ خدا سے غافل ہو جانے سے بڑھ کر محرومی اور کیا ہو سکتی ہے اور اس غفلت سے دین میں جو نقص پیدا ہو جاتا ہے اس میں کلام کی گنجائش کہاں ہے۔
۳۔ واصبر نفسک مع الذین یدعون ربھم باالغداۃ والعشی
۴۔ ولا تطر د الذین یدعون ربھم باالغدۃ والعشی
یوں تو ہر حالت میں ذکر کرنے اور ذکرِ کثیر کرنے کا حکم ہے مگر دو وقت اہتمام سے ذکر کرنے کی تاکید فرمائی گئی ہے۔
اجتماعی ذکر کے سلسلے میں صحیح حدیث موجود ہے کہ:
لا یقعد قوم یذکرون اللہ الاحفت بھم الملائکتہ وغشیتھم الرحمتہ وتنزلت علیھم السکینتہ ھم قوم لا یشقی جلیسھم۔

اس حدیث میں اجتماعی ذکر کا ثبوت موجود ہے ‘ پھر اس نعمت کا ذکر ہے کہ اس مجلس کو ملائکہ گھیر لیتے ہیں ‘ رحمتِ باری اور سکونِ قلبی نازل ہوتا ہے ‘ یہاں تک کہ اس مجلس میں ویسے بیٹھنے والا بھی بد بخت نہیں رہ سکتا۔
پھر صحیح حدیث موجود ہے کہ ملائکہ کی ایک جماعت حلقہ ذکر کی تلاش میں پھرتی رہتی ہے جہاں کہیں کوئی مجلس ذکر پاتے ہیں دوسرے فرشتوں کو بلاتے ہیں اور اس مجلس میں بیٹھ جاتے ہیں۔
مختصر یہ کہ ذکر کا مامور من اللہ ہونا اور صبح شام اہتمام سے ذکر کرنا نص سے ثابت ہے۔



0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

علمی وفکری اختلاف آپ کا حق ہے۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔