May 23, 2014

اسلامی انقلاب کی بنیاد :از افادات امیر محمد اکرم اعوان حفظہ اللہ​

0 comments


       اسلامی انقلاب کی بنیاد :از افادات امیر محمد اکرم اعوان حفظہ اللہ​
اسلام کیا ہے؟ نبی کریمﷺ کی وہ کوشش کہ بندوں کی فکر وسوچ میں وہ مثبت تبدیلی اور عمل میں وہ شعور آجائے کہ بندے کا عمل اس کی اپنی انا کی تسکین یا ذاتی فائدے کے لئے نہ رہے بلکہ اﷲ کی رضا کے لئے ہو جائے۔اس عمل میں اسلام نے دو پہلو رکھے ہیں ایک پہلو بندے کا اپنی ذات ، فکر وشعور، باطن اور ضمیر کے ساتھ محنت کر ناتا کہ اپنے آپ کو عظمت الہٰی کا قائل کرسکے ۔ دوسرا پہلویہ ہے کہ اس یقین کو عمل، کاروبار، دوستی ودشمنی اور لوگوں سے تعلقات کو دیکھ کر ہر کوئی کہہ اٹھے کہ مسلمان ایسے ہوتے ہیں۔اسلام اپنی ذات ، خواہشات، اپنے گھر واہل خانہ، احباب ، ماحول اور سارے جہان کے ساتھ جہاد کا نام ہے۔یہ کسی کوزیر کرنے یامٹانے کے لئے نہیں اور نہ ہی کسی کا گھر اْجاڑنے کے لئے ہے بلکہ اﷲ کے بندوں کو اﷲ کی عظمت سے آشنا کرنے کے لئے ہے۔

اسلام کی بنیاد اس فلسفے پر ہے کہ اہل مکہ سے نبی رحمت ﷺ نے ریاست نہیں چھینی اور نہ کسی کو حکم دیا کہ ان سے ریاست چھین لی جائے۔ نہ کوئی درپردہ سازش یا کوشش کی گئی کہ مکہ کے کافروں کو معزول کر کے ان سے چھین لی جائے بلکہ جس کو اسلام نصیب ہوا اس کے وجود پر اسلامی حکومت قائم ہو گئی۔از خود اہل مکہ کی خدائی ان کے وجود سے الگ ہو گئی ساری کوششو ں کے باوجود اہل مکہ اسے اپنے رنگ میں نہ رنگ سکے بلکہ وہ ایک بندہ اس پورے معاشرے میں الگ تھلگ نظر آنے لگا اور جب ان کے لئے ناقابل برداشت ہو گیا تو انہوں نے شہر سے نکال دیا لیکن اﷲ کی شان گھر چھوڑ کر آنے والوں کو ایسا گھر ملاکہ جہاں سارے لوگ اسی رنگ میں رنگے گئے اور از خود اسلامی ریاست بن گئی۔مدینہ منورہ میں بھی مسلمانوں نے کسی سے ریاست نہیں چھینی ۔نہ کسی کا تخت حضورﷺ نے چھینا اور نہ کسی کی امارت پر قبضہ کیا کوئی ایسا انقلاب نہیں آیا کہ حکمرانوں کو قتل کر کے محمد رسول اﷲ ﷺ وہاں بیٹھ گئے ایسا نہیں ہوا بلکہ سارے کا سارا شہر جب حلقہ بگوش اسلام ہوا۔تو ریاست از خود رسول اﷲ ﷺ کے قدموں میں چلی گئی۔ سب سے زیادہ اسلام خلافت راشدہ کے دور میں روئے زمین پر پھیلا ۔نبی کریم ﷺ نے چند جانثار جمع فرمائے ایک مبارک جماعت صحابہؓ کی وجود میں آئی۔جن کے عقائد بھی درست تھے اور جن کا کردار بھی صحیح تھا تعداد میں مٹھی بھر تھے جبکہ روئے زمین پر کفر،برائی اورظلم و جور پھیلا ہوا تھا۔اﷲ ایسا قادر ہے کہ اس نے مٹھی بھر جماعت کو وہ اقتدار بخشا کہ وصال نبویﷺ کے بعد تئیس 23 برس یعنی ربع صدی سے کم عرصے میں دنیاکی بڑی بڑی ریاستیں فتح ہو چکی تھیں ۔ اسلام ہسپانیہ سے چائنہ تک اور سائبریا سے افریقہ تک پھیل چکا تھا۔تین چوتھائی زمین پر اسلامی ریاست تھی ۔گداگر کی جھونپڑی سے لے کر شاہ کے محل تک اﷲ کے دین کی بات پہنچ چکی تھی ۔اس دور میں اسلام کی اشاعت کے لئے نہ کوئی تبلیغی لٹریچر تھا نہ اخبار اور نہ ہی ٹیلی ویژن۔ اس وقت ٹیلیفون، گاڑیاں اور ہوائی جہاز نہیں تھے۔ کوئی تبلیغی جماعت نہیں تھی نہ کوئی تبلیغی جلسہ ہوتا تھا اور نہ ہی کوئی مناظرہ۔ ہر مسلمان مجسم اسلام تھا اسکا بات کرنے کا انداز اس کے تمام معاملات اور لین دین عین اسلام کے مطابق ہوتے تھے وہ جہاں جاتے اسلام کے نمائندے ہوتے ہر مسلمان اس قدر مطمئن تھاکہ ا س کا وجود سراپا تبلیغ بن چکا تھا۔ ان کا سارا بدن مجسم مبلغ ہوتا ان کی ہر حرکت اسلام کی تبلیغ کرتی تھی۔ انہیں دیکھ دیکھ کر لوگ اسلام قبول کرتے تھے۔ اس ساری سلطنت کا فرمانروا مسجد نبویﷺ کا خطیب اور امام تھااور اس ساری سلطنت کے چپے چپے پر عدل و انصاف قائم تھا۔
ہم نے غلطی یہ کی کہ اس پہلے آدھے جزو کو اسلام سمجھ لیا ہے اور اسی پرمطمئن ہو کر بیٹھ گئے آج نمازی کم نہیں ہیں روزہ رکھنے والے کم نہیں شہروں کے شہر روزہ دار ہیں تسبیحات پڑھنے والے، تبلیغ ،تقریرومناظرے کرنے والے اور اﷲ کی راہ میں زکواۃ وصدقات دینے والوں سے ایک کائنات بھری پڑی ہے۔ لیکن اپنی عملی زندگی کواس رنگ میں ڈھالنے والے کہ انہیں جدھر سے پلٹو مسلمان نظر آئے وہ کوئی نہیں ملتا۔چھپن ستاون ریاستیں مسلمانوں کی ہیں مگر اسلام کا تو ایک گاؤں بھی نہیں ہے جہاں اسلام نافذ ہو۔ انگریزی تہذیب ،ہندوؤں کے رواج، نصرانیوں کی صورت ، یہودی کے طور طریقے ، سود کھانے والے اورہر طرح کی کافرانہ ادائیں ایک ہی گھر میں مل جائیں گے۔ باوجود یکہ اس گھر کے سارے لوگ نمازی بھی ہوں گے اور روزے دار بھی۔ سود لیتے ہوں گے یا کوئی کافرانہ رسم ادا کرتے ہوں گے۔ ہندوانہ تہذیب کا شکار ہوں گے یا نصاریٰ کی شکل بنائی ہو گی کہیں نہ کہیں دنیا کا ہر باطل مذہب کسی نہ کسی رنگ میں ہر گھر میں مل جائے گا لیکن کوئی ایسا گھر جس میں ہر ادا پر قرآن اور نبی کریمﷺ کی چھاپ ہو ملنا مشکل ہے۔کتنی عجیب بات ہے عیسائیوں کو عیسائیت پر فخر ہے یہودیوں کو یہودیت پر ناز ہے جس دن اسرائیل کا وزیراعظم قتل ہوا۔ امریکہ کا صدر جب اس کے دفن کی رسم پر آیاتو اس نے اپنی یہودیوں والی ٹوپی پہن رکھی تھی۔یعنی اسے اپنے یہودی ہونے پر فخر تھا وہ اس بات سے نہیں ڈرتا کہ میں دنیا میں ایک بہت بڑے ملک کا سربراہ ہوں۔ اسے اپنے یہودی ہونے پر فخر ہے لیکن کوئی مسلمان سربراہ ایسا دیکھنا نصیب نہیں ہوتا جسے اپنے مسلمان ہونے پر فخر ہو۔ اس نئی روشنی میں مسلمان شرمندہ شرمندہ اور معذرت خواہانہ انداز اختیار کئے ہوئے ہے کہ میں مسلمان ہوں جبکہ بھارت میں ہندو بڑے فخر سے سٹلائٹ پر دکھا رہا ہے کہ ہم گائے کو پوجا کرتے ہیں۔
آج ہر مسلمان کو یہ فکر ہے۔کہ روئے زمین پر اسلام نافذ ہو جائے لیکن اپنی ذات کو چھوڑ کر۔ اس طرح نہیں ہو گا روئے زمین کی فکر چھوڑ کر اپنے بدن پر اسلام نافذ کر لیں توآپ سرخرو ہو جائیں8 گے اگر اپنے آپ پر اسلام نافذ کرنے میں ناکام ہو گئے۔تو شاید یہ ذمہ داری ہم پر آجائے کہ تمہارے نہ سنورنے سے پوری دنیا کا نصیبہ نہ سنور سکا۔اس سوال کا جواب بڑا مشکل ہو گا۔اگر ہم اس جرم میں دھر لئے گئے کہ تم خود پر اسلام نافذ کرتے میری مخلوق اس اسلام سے بہرہ ور ہوتی مخلوق پر اسلامی عدل قائم نہ ہونے کا سبب تم ہو تمہارا خود پر اسلام نافذ نہ کرنا دوسری مخلوق کو اسلام کی برکات سے محروم رکھنے کا سبب بن گیا تو اس کا کوئی جواب ہمارے پاس نہیں ہو گا۔اس کا ایک ہی جواب ہے۔کہ جتنی کوشش ہو سکے اس بات پر صرف کر دی جائے کہ میرے وجود پر اﷲ کی حکومت ہو اﷲ کے نبی کریمﷺ اﷲ کے دین اور اﷲ کی کتا ب کی حکومت ہو ہمارے معاملات ،خریدوفروخت ،دوستی ودشمنی ہر معاملے میں اﷲ جل شانہ کا حکم اور اﷲ کے نبی ﷺکا حکم مقدم ہو تب جا کر بات بنے گی۔اسلامی انقلاب کی بنیاد یہی ہے کی جب مسلمانوں کو یہ فلسفہ سمجھ آ جائے گا کہ یہ نری عبادات کوئی معنی نہیں رکھتی۔عبادات کا مقصد یہ ہے کہ اس کے وجود میں وہ مثبت تبدیلی آئے کہ اس کا عمل اسلام کے آئینے میں ڈھلتا چلا جائے اس کا عمل اﷲ کا شکر ادا کرتا ہوا نظر آئے وہ عملی زندگی میں اﷲ کا بندہ نظر آئے۔ ایک بندے پر نافذ ہونے والا اسلام ، ایک زمانے پر نافذ ہو کر رہے گا۔لیکن اس صورت میں جب مسلمان کہلانے والے کاکردار اسلام کے قالب میں ڈھلتا چلا جائے۔یہی وہ طاقت ہے جس کے سامنے باطل کی کوئی قوت کھڑی نہیں رہ سکتی لیکن اگر ساری عبادتیں،تبلیغیں ،ذکراذکار ،مراقبات، حج اور عمرے کرنے کے باوجود عملی زندگی میں ہم غیر اسلامی طرز حیات کی مدد کرتے رہے تو اسلام نافذ نہیں ہو سکتا۔اسلام کوئی سزا نہیں ہے کہ اوپر سے مسلط کر دی جائے۔یہ اﷲ کا انعام ہے جو رضائے باری سے نصیب ہوتا ہے۔سزائیں وہ ہوتی ہیں جو جکڑ کر دی جاتی ہیں یا جو ٹھونسی جاتی ہیں ۔انعامات ٹھونسے نہیں جاتے ۔انعامات حاصل کرنے کے لئے ہمیشہ جان لڑانا پڑتی ہے۔ کارکردگی دکھائی جاتی ہے اور منعم کو راضی کرنا پڑتا ہے ۔ایک معیار جب پورا ہوتا ہے تو وہ انعام کامستحق قرار پاتا ہے ۔
آج بھی جن کا عقیدہ درست اور عمل حضورﷺ کے حکم کے مطابق ہے اس خوف بھری دنیامیں وہ امن سے جیتا ہے۔اسے سوائے اﷲ کے کسی کا خوف نہیں ۔پہلی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ہم کم از کم ایک اپنی جان کو تو اسلام کے سانچے میں ڈھال سکیں پھر اہل خانہ اور اس کے بعد خاندان او ر اپنے احباب کو اس طرح ایک جمعیت بن جائے گی۔جنہیں پھر سے اﷲ تعالیٰ اختیار واقتدار عطا فرما دے گا۔ اور یوں روئے زمین اور دنیاکو امن نصیب ہو۔ آج زندگی اور مہلت ہے تو آؤ یہ کام کر جاؤ۔ روشنی میں مسلمان شرمندہ شرمندہ اور معذرت خواہانہ انداز اختیار کئے ہوئے ہے کہ میں مسلمان ہوں جبکہ بھارت میں ہندو بڑے فخر سے سٹلائٹ پر دکھا رہا ہے کہ ہم گائے کو پوجا کرتے ہیں۔
آج ہر مسلمان کو یہ فکر ہے۔کہ روئے زمین پر اسلام نافذ ہو جائے لیکن اپنی ذات کو چھوڑ کر۔ اس طرح نہیں ہو گا روئے زمین کی فکر چھوڑ کر اپنے بدن پر اسلام نافذ کر لیں توآپ سرخرو ہو جائیں8 گے اگر اپنے آپ پر اسلام نافذ کرنے میں ناکام ہو گئے۔تو شاید یہ ذمہ داری ہم پر آجائے کہ تمہارے نہ سنورنے سے پوری دنیا کا نصیبہ نہ سنور سکا۔اس سوال کا جواب بڑا مشکل ہو گا۔اگر ہم اس جرم میں دھر لئے گئے کہ تم خود پر اسلام نافذ کرتے میری مخلوق اس اسلام سے بہرہ ور ہوتی مخلوق پر اسلامی عدل قائم نہ ہونے کا سبب تم ہو تمہارا خود پر اسلام نافذ نہ کرنا دوسری مخلوق کو اسلام کی برکات سے محروم رکھنے کا سبب بن گیا تو اس کا کوئی جواب ہمارے پاس نہیں ہو گا۔اس کا ایک ہی جواب ہے۔کہ جتنی کوشش ہو سکے اس بات پر صرف کر دی جائے کہ میرے وجود پر اﷲ کی حکومت ہو اﷲ کے نبی کریمﷺ اﷲ کے دین اور اﷲ کی کتا ب کی حکومت ہو ہمارے معاملات ،خریدوفروخت ،دوستی ودشمنی ہر معاملے میں اﷲ جل شانہ کا حکم اور اﷲ کے نبی ﷺکا حکم مقدم ہو تب جا کر بات بنے گی۔اسلامی انقلاب کی بنیاد یہی ہے کی جب مسلمانوں کو یہ فلسفہ سمجھ آ جائے گا کہ یہ نری عبادات کوئی معنی نہیں رکھتی۔عبادات کا مقصد یہ ہے کہ اس کے وجود میں وہ مثبت تبدیلی آئے کہ اس کا عمل اسلام کے آئینے میں ڈھلتا چلا جائے اس کا عمل اﷲ کا شکر ادا کرتا ہوا نظر آئے وہ عملی زندگی میں اﷲ کا بندہ نظر آئے۔ ایک بندے پر نافذ ہونے والا اسلام ، ایک زمانے پر نافذ ہو کر رہے گا۔لیکن اس صورت میں جب مسلمان کہلانے والے کاکردار اسلام کے قالب میں ڈھلتا چلا جائے۔یہی وہ طاقت ہے جس کے سامنے باطل کی کوئی قوت کھڑی نہیں رہ سکتی لیکن اگر ساری عبادتیں،تبلیغیں ،ذکراذکار ،مراقبات، حج اور عمرے کرنے کے باوجود عملی زندگی میں ہم غیر اسلامی طرز حیات کی مدد کرتے رہے تو اسلام نافذ نہیں ہو سکتا۔اسلام کوئی سزا نہیں ہے کہ اوپر سے مسلط کر دی جائے۔یہ اﷲ کا انعام ہے جو رضائے باری سے نصیب ہوتا ہے۔سزائیں وہ ہوتی ہیں جو جکڑ کر دی جاتی ہیں یا جو ٹھونسی جاتی ہیں ۔انعامات ٹھونسے نہیں جاتے ۔انعامات حاصل کرنے کے لئے ہمیشہ جان لڑانا پڑتی ہے۔ کارکردگی دکھائی جاتی ہے اور منعم کو راضی کرنا پڑتا ہے ۔ایک معیار جب پورا ہوتا ہے تو وہ انعام کامستحق قرار پاتا ہے ۔
آج بھی جن کا عقیدہ درست اور عمل حضورﷺ کے حکم کے مطابق ہے اس خوف بھری دنیامیں وہ امن سے جیتا ہے۔اسے سوائے اﷲ کے کسی کا خوف نہیں ۔پہلی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ہم کم از کم ایک اپنی جان کو تو اسلام کے سانچے میں ڈھال سکیں پھر اہل خانہ اور اس کے بعد خاندان او ر اپنے احباب کو اس طرح ایک جمعیت بن جائے گی۔جنہیں پھر سے اﷲ تعالیٰ اختیار واقتدار عطا فرما دے گا۔ اور یوں روئے زمین اور دنیاکو امن نصیب ہو۔ آج زندگی اور مہلت ہے تو آؤ یہ کام کر جاؤ۔ 

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

علمی وفکری اختلاف آپ کا حق ہے۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔