Oct 28, 2013

حصول تزکیہ

0 comments
                                             حصول تزکیہ
تزکیہ کس طرح ہوتاتھا؟صرف نگاہ مصطفیﷺ سے اور صحبت نبوی ﷺ سے،خواہ وہ بالکل تھوڑی دیر کے لئے ہو،کہ صفائی باطن سے ولایت خاص نصیب ہوتی ہے۔اگر سارے جہان کے ولی جمع ہو جائیں تو صحابی نہیں بن سکے گے،بلکہ اسکی گرد پا پر سب نثار ہیں۔اورآپ ﷺ کی صحبت کا کمال یہ ہے کہ آن واحد میں درجہ صحابیت پر فائز کر دیتی ہے۔
آپ ﷺ سے دوطرح کا فیض نصیب ہوتا ہے،ایک علم ظاہر کہ اقوال و افعال رسول ﷺ کا مرقع ہے،قرآن وحدیث اور فقہ سب اسی قبیل سے ہیں ،اور (دوسرا)فیض صحبت کہ انعکاسی طور پر مجلس میں حاضر ہونے والوں کو نصیب ہوتا ہے۔اور مس خام کو کندن بناتا ہے،دلوں کو روشن اور سینوں کو منور کرتا ہے،اور استقامت علی الحق کی استعداد پیدا کرتا ہے۔اور پہلی قسم کے فیض کی بنیاد بھی یہی فیض صحبت بنتا ہے ورنہ علم پر فائدہ مرتب نہیں ہوتا
تزکیہ کے لئے کتاب اور معلم دونوں کی ضرورت ہے :۔تزکیہ اس باطنی طہارت کا نام ہے جو اطاعت رسو ل ﷺ کا جذبہ پیدا کرے ،دل سے انا کے بت ٹوٹیں،اور عظمت الٰہی نصیب ہو،جو نگاہ میں وسعت دے کہ دونوں جہانوں کو دیکھ رہی ہو ،جو یہ قابلیت عطا کرے کہ انسان بستا دنیا میں ہواور تعمیر آخرت کی کر رہا ہو۔( تفسیر قرآن اسرار التنزیل سے اقتباس)

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

علمی وفکری اختلاف آپ کا حق ہے۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔