May 2, 2014

عالم باللہ کے سوالات عارف باللہ کے جوابات

0 comments

سوال 1:۔ کیا اذکار و اشغال مشائخ و ہیئت جلسہ ذکر‘ اور دو وقت ذکر کرنے اور اجتماعی طور پر ذکر کرنے کا وجود قرنِ ثلثہ میں ملتا ہے جو قرون مشہور باالخیر ہیں‘ اگر ان کا وجود قرونِ ثلثہ میں موجود نہ تھا تو اس کو بدعت کہنا بعید نہ ہو گا ؟
سوال 2 :۔ کیا نجات اخروی کے لئے اور دیگر تمام کمالات کے حصول کے لئے کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ کافی نہیں کہ مزید اذکار و اشغال مشائخ بایں قیودات و تخصیصات اختیار کئے جائیں جب کہ انسان عامل باالکتاب و السنت ہے ؟
سوال3:۔کیاعلم سلوک  تصوف جزودین ہے؟اگر ہے تو قرون ثلثہ اس سے کیوں خالی رہے؟ اگر نہیں تو اسکے حصول کا کیا فائدہ ہے؟
سوال4 :۔ اگر علمِ سلوک جزوِ دین ہے تواس کے حصول کے لئے ولی کامل اور مرشد کامل کو موقوف علیہ ٹھہرانا کہاں ثابت ہے اس کا حصول تو کتب تصوف اور کتاب اللہ اور سنت سے ہو سکتا ہے؟
سوال5 :۔ یہ تو ٹھیک ہے کہ علمِ سلوک ایک باطنی علم ہے مگر حصولِ علم کے لئے زندہ اشخاص کافی ہیں ( علام علوم باطنیہ) جن سے حاصل ہو سکتا ہے مگر جو صوفیائے کرام اور اولیائے عظام میں مشہور ہے کہ فیض روح سے بھی ہو سکتا ہے تو اہلِ قبور سے کس طرح ہو سکتا ہے جب بعد الدارین ہو چکا ہے‘ نیز فقہا میں تو بعض سرے سے سماع موتی کا انکار کرتے ہیں جب حال یہ ہے تو فیض حاصل کرنا کس طرح ہو سکتا ہے ؟ اور امام صاحب کا مذہب بھی بعض عدم سماع بتاتے ہیں۔
سوال6 :۔ خدا تعالیٰ نے سوال کئے بغیر پیدائش انسانی ‘ جنات و شیاطین قرآن میں بیان فرما دیں مگر روح کی پیدائش اور حقیقت باوجود سوال کے نہ بتائی جس سے خوب واضح ہوتا ہے کہ روح کوئی فرشتہ اور جن سے بھی زیادہ لطیف چیز ہے تو ایسی لطیف ہستی سے فیض حاصل کرنا بہت ہی مشکل ہے ‘ فیض کے لئے اول روح سے ہم مجلس ہو ‘ پھر اس کو دیکھے وہ نظر آئے پھر اس سے ہم کلام ہو اس کا کلام سنا جائے‘ پھر اس سے اخذ فیض کیا جائے‘ چہ جائیکہ اس سے خرقہ خلافت لیا جائے جس کی کوئی نظیر آپ فرمائیں اگر ہے تو۔ جب عدم سماع بھی سامنے ہے۔
سوال 7:۔ کیا روح پر موت طارے نہیں ہوتی؟ قرآن میں کل نفس ذائقتہ الموت‘ موجود ہے ‘ اس کلیہ سے آپ روح کو کیسے مستشنیٰ فرماتے ہیں؟ کیا روح کے لئے بھی روح ہے جبکہ حیات کا موقوف علیہ ہی روح ہے۔
سوال 8:۔ فنا فی الرسول ‘ فنا فی اللہ اور بقا باللہ اور دیگر مراقبات کی بھی کوئی حقیقت ہے؟ صوفیائے کرام کے نزدیک ان کے حصول و تحصیل کی کیا صورت ہے؟ کس طرح حاصل کیا جا سکتا ہے ؟ کیا وہ طریقہ آپ ہم کو لکھ کر ارسال کر سکتے ہیں؟ کہ ہم بھی ان کو حاصل کر کے خدا کے خاص بندوں میں داخل ہو جائیں۔ آپ سے دور افتادہ ہیں‘ مہربانی کر کے تفصیل سے لکھیں ‘ نیز کشفِ ملائکہ و جن و قبور جن جن وظائف سے حاصل ہو جاتے ہیں وہ بھی مفصل لکھنا مہربانی ہو گی‘ میں آپ کے حلقہ کا آدمی ہوں۔
جوابات
سوال 1:۔ کیا اذکار و اشغال مشائخ و ہیئت جلسہ ذکر‘ اور دو وقت ذکر کرنے اور اجتماعی طور پر ذکر کرنے کا وجود قرنِ ثلثہ میں ملتا ہے جو قرون مشہور باالخیر ہیں‘ اگر ان کا وجود قرونِ ثلثہ میں موجود نہ تھا تو اس کو بدعت کہنا بعید نہ ہو گا ؟
جواب1:۔ سب سے پہلے بدعت کا مفہوم سمجھ لینا چاہیے؛ جو چیز بوجوہ شرعی قرون ثلثہ میں موجود تھی وہ سنت ہے اور جو حکم بوجوہ شرعی قرون ثلثہ میں موجود نہ تھا وہ بدعت ہے۔
اب وجودِ شرعی کی تفصیل سنئے۔ اصطلاح اصولِ فقہ میں وجودِ شرعی اسے کہتے ہیں جو بغیر بیان رسولِ کریم ﷺ معلوم نہ ہو سکے اور حسِ عقل کا اس میں دخل نہ ہو‘ اس شئے کا وجود حضورِ اکرم ﷺ کے فرمان اور بیان پر ہی موقوف ہو گا۔ پھر بیان میں خواہ صراحت ہو‘ اشارۃ یا دلالتہ ہو یعنی بیان کی کوئی فروع پائی گئی تو اس حکم کا جواز ثابت ہو گا اور اس حکم کا وجود شریعت میں آگیا‘ خواہ اس وقت اس حکم کی جنس بھی خارج میں موجود نہ ہو ‘ چہ جائیکہ اس کا جزیہ ضروری ہو۔ پس جس حکم کا جواز کلیتہً ثابت ہو گیا وہ حکم لجمیع جزئیات ثابت ہو گا خواہ اس کا کوئی جزیہ بوجوہ خارجی قرون ثلثہ میں موجود ہو یا نہ ہو‘ اگر اس کلیہ کا کوئی جزیہ قرونِ ثلثہ کے بعد خارج میں وجود میں آیا وہ سنت میں داخل ہو گا بدعت نہ ہو گا۔ 
یوں تو اقسامِ حدیث میں قولِ رسول ؐ فعلِ رسولؐ تقریرِ رسولؐ ہوا جس نفسِ رسولؐ عزمِ رسولؐ ہم رسولؐ اور خواطرِ رسولؐ سب ہیں‘ مگر اذکار تو وہ سنت ہے جس کا ثبوت صراحتہً رسولِ کریم ﷺ اور صحابہ کرامؓ کے زمانے میں اور خیر القرون میں پایا جاتا ہے۔ اذکارو اشغال جن کی اصل کتاب و سنت میں موجود ہو اور ان کی جزئیات مشائخ نے اس اصل سے اخذ کی ہوں وہ داخل سنت ہوں گی۔ کیونکہ وسائل و ذرائع حکم مقاصد میں داخل ہیں۔
دوسری چیز یہ سمجھ لی جائے کہ تعلق بااللہ‘ نسبت با اللہ اور توجہ الی اللہ سب مامور من اللہ مامور بہ ہیں اگرچہ کلی مشکک ہے جس کا ادنیٰ درجہ مندوب ہے اور اعلیٰ درجہ افضل ہے اور سینکڑوں آیاتِ قرآنی اور احادیثِ نبوی ﷺ سے ان کا مامور من اللہ ہونا ثابت ہے‘ بلکہ تمام شریعت کا اجمال خلاصہ یہ ہے کہ مال اور اولاد سے تعلق حفاظت کا ہو اور اللہ تعالیٰ سے تعلق عبادت اور اطاعت کا ہو۔ جو شخص قرآن مجید اور حدیث شریف میں غور کرے سینکڑوں آیات و احادیث سے ان کا مامور من اللہ ہونا پائے گا اور غیر سے قلبی انقطاع کا ثبوت ملے گا۔ 
تیسری بات یہ سمجھ لیں کہ مامور بہ اور مامور من اللہ مقصود لذاتہ ہے اور جو چیز مامور بہ ہو اس کی تحصیل کے لئے جو ذرائع اور وسائل اختیار کئے جائیں گے یا جو طریقہ مشخص کیا جائے گا یا مقید کیا جائے گا وہ بھی مامور بہ ہو گا جیسے وضو کو دیکھئے مقصود لذاتہ تو نماز ہے اور نماز موقوف ہے وضو پر ‘ لہٰذا وضو کے لئے پانی مہیا کرنا واجب ہو گا ۔ کیونکہ وہی تو وسیلہ اور ذریعہ طہارت ہے ۔ اسی طرح نماز کے لئے ستر عورت فرض ہے لہٰذا لباس کا مہیا کرنا بھی فرض ہوا‘ لہٰذا ذکرِ الٰہی کے سلسلے میں مشائخ نے جو وسائل اور ذرائع اختیار کئے ‘ یا جن ذرائع کو اصل مقصود کے لئے مشخص کیا یا مقید کیا یا موکد و غیر موکد کیا ‘ جن پر مقصود ذاتی موقوف تھا ‘ وہ بھی مقاصد میں داخل ہوئے ‘ ان کو بدعت نہیں کہا جائے گا یہ احداث فی الدین نہیں ہو گا ‘ ہاں احداث الدین ہو گا جس طرح طبیب ہر زمانہ او ر ہر موسم ادویہ بدلتا اور تجویز کرتا ہے ‘ طبیب کا اصل مقصد تو صحت بدنِ انسانی ہے ‘ اسی طرح اذکار کا اصل مقصد تعلق مع اللہ اور توجہ الی اللہ ہے جس طریقہ سے حاصل ہو وہ اختیار کرنا فرض کے حکم میں داخل ہو گا۔
یا مثلاً اعلائے کلمتہ اللہ ایک مقصد ہے اور جہاد بھی اس کا ایک ذریعہ ہے ‘ جہاد جن آلات حرب پر موقوف ہو گا ان کی تحصیل بھی فرض ہو گی‘ جیسے آج کے حالات کے مطابق توپ‘ ٹینک ‘ ہوائی جہاز وغیرہ‘ ان کو اس وجہ سے بدعت نہیں کہا جائے گا کہ رسولِ کریم ﷺ یا صحابہؓ کے زمانہ میں یا خیر القرون میں ان کا وجود نہیں تھا۔ بس تلوار‘ نیزہ سے ہی کام لینا سنت ہو گا۔ معلوم ہوا کہ مقصد جب اعلائے کلمتہ اللہ کے لئے جہاد کرنا ہے مگر اس مقصد کے حصول کے لئے حالات کے مطابق ذرائع مہیا کرنا ‘ جن پر یہ موقوف ہے وہ بھی واجب ہو گا اسے بدعت نہیں کہا جا سکتا۔
چوتھی بات یہ سمجھ لیجئے کہ حدیث جبرئیل میں احسان کو جزوِ دین کہا گیا ہے اس لئے اس کا حاصل کرنا مسلمانوں پر واجب ہے احسان صرف جزوِ دین ہی نہیں ‘ بلکہ دین کی روح اور خلاصہ ہے جس نے اسے حاصل نہ کیا اس کا دین ناقص ہے ‘ کیونکہ احسان کی حقیقت یہ بیان ہوئی کہ تعبد ربک کا نک تراہ فان لم تکن تراہ فا نہ یراک حدیث میں دین کے تینوں اجزاء کا ذکر ہے ۔ایمان جو اصل ہے ‘ اعمال جو فرع ہیں اور احسان جو ثمرہ ہے اسے چھوڑ دینا ایسا ہے جیسے ایک شخص مغرب کی نماز میں فرض کی دو رکعت پڑھ کر فارغ ہو جائے‘ ظاہر ہے کہ اس کی نماز نہ ہو گی‘ اسی طرح احسان کو چھوڑ دینا دین کے ایک عظیم جزو کو ترک کرنا ہے‘ اس لئے دین ناقص رہ جائے گا۔
پانچویں یہ بات سمجھ لیجئے کہ حضورِ اکرم ﷺ کے زمانہ میں یہ درجہ احسان صرف صحبتِ رسول ﷺ سے حاصل ہو جاتا تھا‘ صرف فرائض کی پابندی کے ساتھ صحبتِ رسول ؐ شامل ہو گئی تو درجہ احسان حاصل ہو گیا اور وہ بھی اس پایہ کا کہ بڑے سے بڑا ولی ایک ادنیٰ درجے کے صحابی کے مرتبہ تک نہیں پہنچ سکتا‘ جب آفتابِ نبوت اوجھل ہو گیا تو مجاہدات و ریاضات کی ضرورت محسوس ہوئی تاکہ دین کا یہ اہم حصہ جو دین کا ما حصل ہے ‘ کمال کا اعلیٰ درجہ اور مقصود لذاتہ ہے حاصل ہو سکے رہا دو وقت ذکر کرنے کا سوال تو یہ نص سے ثابت ہے ۔ مثال کے طور پر دیکھئے۔
۱۔ ان سخر نا الجبال معہ یسبحن با لعشی ولا شراق والطیر محشورہ ۔ ۱۹۔۱۸: ۳۸ 
ہم نے پہاڑوں کو حکم کر رکھا تھا کہ ان کے ساتھ شام اور صبح تسبیح کیا کریں ۔۔۔۔ اور پرندوں کو کو جو جمع ہو جاتے تھے۔
اس حقیقت کو کشف صحیح کی تا ئید بھی حاصل ہے ‘ اولیاء اللہ نے اس آیت سے دو امور ثابت کئے ہیں ۔ اول اجتماعی ذکر ‘ دوسرا اس میں ذاکرین کے انوار کا عکس ایک دوسرے پر پڑتا ہے جس سے نحوست دور ہوتی ہے۔ قلب میں انبساط پیدا ہوتا ہے‘ ہمت قوی ہو جاتی ہے اور اس اجتماعی ذکر سے جو تاثیر پیدا ہوتی ہے وہ الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتی ‘ یہ کیفیت چشیدنی ہے گفتنی نہیں۔
۲۔ واذکر ربک فی نفسک تضرعا وخیفتہ ودون الجھر من القول با الغدو ولاصال ولا تکن من الغافلین۔ 
اس آیت میں ذکرِ قلبی کرنے کا حکم ہے کیونکہ خوف کا تعلق دل سے ہے زبان سے نہیں۔
دوم: صبح شام ذکر کرنے کا حکم ہے ‘ آخری بات یہ نکلی کہ جو شخص اس طرح ذکر نہیں کرتا وہ خدا سے غافل ہے اور ظاہر ہے کہ خدا سے غافل ہو جانے سے بڑھ کر محرومی اور کیا ہو سکتی ہے اور اس غفلت سے دین میں جو نقص پیدا ہو جاتا ہے اس میں کلام کی گنجائش کہاں ہے۔
۳۔ واصبر نفسک مع الذین یدعون ربھم باالغداۃ والعشی
۴۔ ولا تطر د الذین یدعون ربھم باالغدۃ والعشی
یوں تو ہر حالت میں ذکر کرنے اور ذکرِ کثیر کرنے کا حکم ہے مگر دو وقت اہتمام سے ذکر کرنے کی تاکید فرمائی گئی ہے۔
اجتماعی ذکر کے سلسلے میں صحیح حدیث موجود ہے کہ:
لا یقعد قوم یذکرون اللہ الاحفت بھم الملائکتہ وغشیتھم الرحمتہ وتنزلت علیھم السکینتہ ھم قوم لا یشقی جلیسھم۔
اس حدیث میں اجتماعی ذکر کا ثبوت موجود ہے ‘ پھر اس نعمت کا ذکر ہے کہ اس مجلس کو ملائکہ گھیر لیتے ہیں ‘ رحمتِ باری اور سکونِ قلبی نازل ہوتا ہے ‘ یہاں تک کہ اس مجلس میں ویسے بیٹھنے والا بھی بد بخت نہیں رہ سکتا۔
پھر صحیح حدیث موجود ہے کہ ملائکہ کی ایک جماعت حلقہ ذکر کی تلاش میں پھرتی رہتی ہے جہاں کہیں کوئی مجلس ذکر پاتے ہیں دوسرے فرشتوں کو بلاتے ہیں اور اس مجلس میں بیٹھ جاتے ہیں۔
مختصر یہ کہ ذکر کا مامور من اللہ ہونا اور صبح شام اہتمام سے ذکر کرنا نص سے ثابت ہے۔

سوال 2 :۔ کیا نجات اخروی کے لئے اور دیگر تمام کمالات کے حصول کے لئے کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ کافی نہیں کہ مزید اذکار و اشغال مشائخ بایں قیودات و تخصیصات اختیار کئے جائیں جب کہ انسان عامل باالکتاب و السنت ہے ؟

جواب 2 :۔ ذکرِ کثیر جو تمام اوقات کو شامل ہے اور صبح شام ذکر کرنے کا مامور من اللہ ہونا نصوص قرآنی اور حدیثِ نبوی ؐ سے ثابت ہے جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے تو یہ ذکر کرنا بھی عمل باالکتاب و السنت ہے ان کو ایک دوسرے سے جدا کیوں سمجھا جائے؟ حدیث جبرئیل سے ظاہر ہے کہ عقائد (ایمان) اور اعمال (اسلام) کے علاوہ بھی دین کا ایک حصہ ہے جس کا پورا کرنا اور اس فرض کو بجا لانا ضروری ہے جسے احسان کہا گیا ہے اسی کو تصوف کہتے ہیں۔ معلوم ہوا کہ انسان کامل طور پر عامل باالکتاب و السنت ہو ہی نہیں سکتا جب تک ذکرِ کثیر با العموم اور صبح و شام ذکر باالخصوص اہتمام سے نہ کرے۔

سوال3 :۔ کیا علم سلوک و تصوف جزوِ دین ہے؟ اگر ہے تو قرون ثلثہ اس سے کیوں خالی رہے؟ اگر نہیں تو اس کے حصول کا کیا فائدہ؟

جواب 3 :۔ پہلے سوال کے جواب میں بیان کر دیا گیا ہے کہ تصوف جزوِ دین ہے۔

سوال4 :۔ اگر علمِ سلوک جزوِ دین ہے تواس کے حصول کے لئے ولی کامل اور مرشد کامل کو موقوف علیہ ٹھہرانا کہاں ثابت ہے اس کا حصول تو کتب تصوف اور کتاب اللہ اور سنت سے ہو سکتا ہے؟

جواب4 :۔ کوئی علم یا فن کسی استاد کی شاگردی اختیار کئے بغیر نہیں سیکھا جا سکتا۔ کتاب اللہ اور سنت رسول ؐ کا صحیح فہم حاصل کرنا کامل اور ماہر استاد کے تعلیم دینے پر موقوف ہے۔ محض کتابوں کے مطالعہ سے کتاب اللہ کے اسرار اور سنت رسول ؐ کی حقیقت سمجھ میں نہیں آ سکتی‘ پھر اس کلیہ سے تصوف کو مستثنیٰ کیوں کیا جائے ‘ اس کے سیکھنے کے لئے مرشد کامل کی ضرورت کا انکار کیوں کیا جائے ‘ جبکہ وہی فن سکھانے کی مہارت اور اہلیت رکھتا ہے۔ کتب تصوف سے نشانِ راہ تو مل سکتا ہے مگر منزل تک رسائی نہیں ہو سکتی ۔ حالات‘ واردات‘ کیفیات اور روحانی ترقی کے لئے مراقبات‘ کتابوں سے سیکھنے کی چیز نہیں کیونکہ واضح نے ان کے لئے الفاظ وضح ہی نہیں کئے یہ کمالات شیخِ کامل کے سینے سے حاصل ہوتے ہیں شیخ کے باطن سے اور اس کے روح سے حاصل ہوتے ہیں‘ جس نے ولایت اور معرفت کا عملی نمونہ دیکھا ہی نہیں وہ عارف کیسے بنے گا‘ ہاں ضرورت اس بات کی ہے کہ شیخ کامل ہو ‘ دل کا اندھا نہ ہو‘ قوی القلب ہو‘ جس کے قلب کے انوارات اتنے قوی ہوں کہ سالک کی روح اور اس کے باطن کو اپنی طرف کھینچ سکے۔

سوال5 :۔ یہ تو ٹھیک ہے کہ علمِ سلوک ایک باطنی علم ہے مگر حصولِ علم کے لئے زندہ اشخاص کافی ہیں ( عالم علوم باطنیہ) جن سے حاصل ہو سکتا ہے مگر جو صوفیائے کرام اور اولیائے عظام میں مشہور ہے کہ فیض روح سے بھی ہو سکتا ہے تو اہلِ قبور سے کس طرح ہو سکتا ہے جب بعد الدارین ہو چکا ہے‘ نیز فقہا میں تو بعض سرے سے سماع موتی کا انکار کرتے ہیں جب حال یہ ہے تو فیض حاصل کرنا کس طرح ہو سکتا ہے ؟ اور امام صاحب کا مذہب بھی بعض عدم سماع بتاتے ہیں۔

سوال6 :۔ خدا تعالیٰ نے سوال کئے بغیر پیدائش انسانی ‘ جنات و شیاطین قرآن میں بیان فرما دیں مگر روح کی پیدائش اور حقیقت باوجود سوال کے نہ بتائی جس سے خوب واضح ہوتا ہے کہ روح کوئی فرشتہ اور جن سے بھی زیادہ لطیف چیز ہے تو ایسی لطیف ہستی سے فیض حاصل کرنا بہت ہی مشکل ہے ‘ فیض کے لئے اول روح سے ہم مجلس ہو ‘ پھر اس کو دیکھے وہ نظر آئے پھر اس سے ہم کلام ہو اس کا کلام سنا جائے‘ پھر اس سے اخذ فیض کیا جائے‘ چہ جائیکہ اس سے خرقہ خلافت لیا جائے جس کی کوئی نظیر آپ فرمائیں اگر ہے تو۔ جب عدم سماع بھی سامنے ہے۔

جواب 5 اور 6 :۔ اولیاء اللہ کے ارواح سے اور ان کی قبور سے فیض حاصل کرنا اہلِسنت و الجماعت کا اجماعی مسئلہ ہے۔ اس کے متعلق سوال کرنا مذہب اہلِ سنت سے نا واقفیت کی دلیل ہے‘ رہا بعد الدارین کا اشکال تو یہ بعد جسم کے لئے ہے‘ روح کی لئے بعد نہیں‘ معراج کی متواتر احادیث کیا آپ کے پیشِ نظر نہیں۔ حضورِ اکرم ﷺ نے جا بجا اہلِ برزخ کو دیکھا‘ ان کو راحت کی حالت میں بھی دیکھا‘ انبیاء کی امامت بھی کرائی‘ ان سے کلام ہوئی حالانکہ وہ برزخ میں تھے اور حضور ﷺ دنیا میں تھے‘ گو اس میں محدثین کا اختلاف ہے کہ مسجد اقصیٰ میں انبیاء ؑ کے ارواح حاضر ہوئے یا روح مع الجسم‘ میں ذاتی طور پر امر ثانی کا قائل ہوں۔ دیکھئے حضرت موسیٰ ؑ سے کتنا فیض ہوا کہ پچاس کی جگہ پانچ نمازیں فرض ہوئیں۔ کیا اس کے بعد بھی روح سے فیض لینے میں شبہ رہ سکتا ہے۔
رہی یہ بات کہ سالک روح کو دیکھتا کیسے ہے‘ کلام کیونکر ہوتی ہے۔ فیض کس طرح ہوتا ہے۔ سوال و جواب کیسے ہوتے ہیں؟ روح کی حیات کس طرح کی ہے وغیرہ؟ تو یہ چیزیں بتائی نہیں جا سکتیں‘ البتہ سیکھی اور سکھائی جا سکتی ہیں۔ میں تصوف کو جزوِ دین اور روحِ دین سمجھتا ہوں اور تحدیثِ نعمت کے طور پر کہتا ہوں کہ جسے سلوک سیکھنا ہو بندہ کے پاس ان شرائط کے ساتھ رہے جو میں پیش کروں گا‘ ان شا ء اللہ تعالیٰ یہ دکھا دوں گا کہ روح سے فیض کیسے اخذ کیا جاتا ہے۔ وہ شخص روح سے کلام کر لے گا ۔ قبر کے عذاب و انعام کو دیکھ لے گا۔ انبیا ء ؑ کی روحوں سے ملاقات کر لے گا اور حضورِ اکرم ﷺ کے دستِ مبارک پر روحانی بیعت کرا دوں گا بشرطیکہ وہ شخص متبع سنت ہو‘ خلوص لے کر آئے۔ پھر سماع موتی کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا۔ گو دلائل سمعیہ بھی سماع کے موئد ہیں‘ ان کا انکار صرف جاہل اور ضدی ہی کر سکتا ہے۔
دورِ صحابہ ؓ میں کشف و الہام بغیر ریاضت و مجاہدہ کے حاصل ہو جاتا تھا۔ صحبتِ رسول ؐ کی موجودگی میں کسی اور چیز کی ضرورت نہیں تھی۔
حیاتِ روح کی حقیقت یہ ہے کہ روح کی حیات نور سے ہے‘ جس طرحروح محرک بدنِ انسانی ہے‘ اسی طرح نور محرک روح ہے۔ اور محرک نور ذاتِ باری تعالیٰ ہے۔ روح کے بدن سے جدا ہونے سے تصرف و تدبیر کا تعلق بدن سے ختم ہو جاتا ہے۔ اس جدائی کو موت سے تعبیر کرتے ہیں۔ روح فانی نہیں۔ روح کی فنا نہیں ہے اور بقا زمانی ہے۔

سوال 7:۔ کیا روح پر موت طارے نہیں ہوتی؟ قرآن میں کل نفس ذائقتہ الموت‘ موجود ہے ‘ اس کلیہ سے آپ روح کو کیسے مستشنیٰ فرماتے ہیں؟ کیا روح کے لئے بھی روح ہے جبکہ حیات کا موقوف علیہ ہی روح ہے۔

جواب 7:۔ کل نفس ذائقتہ الموت کی حقیقت بھی سمجھ لیں۔ قانون یہ ہے کہ ذائق مذوق کے بعد زندہ رہتا ہے جیسے انسان ذائق ہے اور روٹی مذوق۔ روٹی کھائی گئی۔ انسان زندہ موجود ہے ۔ اسی طرح روح ذائق ہے اور موت مذوق ہے اسی لئے موت کے بعد روح زندہ رہتی ہے۔
سماع موتی کے مسئلہ میں امام صاحب کے متعلق جو غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ وہ عدم سماع کے قائل تھے۔ یہ درست نہیں۔ (دیکھئے عرف شدی صفحہ نمبر ۳۸۶)
واشتھر علی السنتہ الناس ان الموتی لیس لھم سماع عند ابی حنیفتہ و صنف ملا علی القاری رسالتہ وذکر فیھا ان المشہور لیس لہ اصل من الائمتہ اصلا
اور لوگوں کی زبانوں پر یہ بات مشہور ہو چکی ہے کہ امام ابو حنیفہ ؒ سماع موتی کے قائل نہیں‘ ملا علی قاری نے ایک مستقل رسالہ لکھا ہے کہ امام صاحب کے متعلق جو یہ مشہور ہے کہ عدم سماع کے قائل تھے اس کی کوئی سند نہیں‘ یہ با الکل بے اصل ہے۔
اور اہلِ سنت والجماعت کا اجماعی عقیدہ ہے کہ میت کو عالمِ برزخ میں دنیا کے حالات کا علم ہوتا ہے‘ ( دیکھئے عرفان شدی صفحہ نمبر ۳۸۷) 
فی شرح المقاصد ان علم المیت مجمع علیہ
شرح مقاصد میں ہے کہ میت کو علم ہونا اجماعی عقیدہ ہے۔
اور ظاہر ہے کہ علم بغیر حیات کے محال ہے اور عرف شدی صفحہ ۳۸۷ پر ہے ۔

والمحققون ان ابا حنیفتہ لا ینکر سماع الاموات
محققین کا مذہب یہی ہے کہ امام ابو حنیفہ سماع موتی کے منکر نہیں تھے۔

اور شیخ عبد الحق محدث دہلوی لمعات ۳:۴۰۱ پر فرماتے ہیں۔
\"
وبا الجملہ کتاب و سنت مملود مشحونند کہ دلالت می کنند بر وجود علم موتی رابدنیا و اہل آں پس منکر نشود آنرا مگر جاہل باخبارو منکر دین و مشائخ گفتہ اندہر کہ ایں اعتقاد ندارد۔ ایمان بحقیقت نبوت ندارد \"
المختصر یہ کہ کتاب و سنت ایسی روایات سے بھری پڑی ہیں جو کہ دنیا اور اہلِ دنیا کے لئے علمِ موت (فوت شدہ لوگوں کا علم) کے وجود پر دلالت کرتی ہیں۔ اس کا انکار وہی کر سکتا ہے جو احادیث سے بے خبر اور دین کا منکر ہو مشائخ نے فرمایا ہے کہ جو شخص یہ عقیدہ نہیں رکھتا وہ نبوت کی حقیقت پر ایمان نہیں رکھتا۔
معلوم ہوا کہ روح زندہ ہے ۔ جو کمالات اسے دنیا میں حاصل ہوتے ہیں جسمانی موت کے بعد روح سے چھین نہیں لئے جاتے‘ جو علم اس نے دنیا میں حاصل کیا تھا برزخ میں اس سے حاصل کیا جا سکتا ہے‘ شرط یہ ہے کہ حاصل کرنے والا برزخ سے روح کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کی قوت رکھتا ہو جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نمازوں کی تعداد میں کمی کرنے کی درخواست کرنے اور کم کرانے کا فائدہ حاصل ہوا تھا۔


سوال 8:۔ فنا فی الرسول ‘ فنا فی اللہ اور بقا باللہ اور دیگر مراقبات کی بھی کوئی حقیقت ہے؟ صوفیائے کرام کے نزدیک ان کے حصول و تحصیل کی کیا صورت ہے؟ کس طرح حاصل کیا جا سکتا ہے ؟ کیا وہ طریقہ آپ ہم کو لکھ کر ارسال کر سکتے ہیں؟ کہ ہم بھی ان کو حاصل کر کے خدا کے خاص بندوں میں داخل ہو جائیں۔ آپ سے دور افتادہ ہیں‘ مہربانی کر کے تفصیل سے لکھیں ‘ نیز کشفِ ملائکہ و جن و قبور جن جن وظائف سے حاصل ہو جاتے ہیں وہ بھی مفصل لکھنا مہربانی ہو گی‘ میں آپ کے حلقہ کا آدمی ہوں۔ 

جواب 8:۔ فنا فی الرسول ‘ فنا فی اللہ اور بقا باللہ سلوک کے وہ منازل ہیں کہ ہزاروں اللہ کے بندے ان کے حصول کے لئے کوشاں رہے‘ مجاہدے اور ریاضتیں کرتے رہے اور یہی آرزو لے کر دنیا سے رخصت ہوئے‘ ان منازل کے حصول کے لئے سچی تڑپ انسان کی سعادت کی بہت بڑی دلیل ہے۔ مگر یہ منازل صرف زبانی اوراد و وظائف سے حاصل نہیں ہوتے ۔ یہ قلب اور وح کا معاملہ ہے اور صرف ذکرِ لسانی سے تصفیہ قلب ارو تزکیہ باطن نہیں ہو پاتا‘ بلکہ ان منازل کے حصول کے لئے دوسری شرائط ہیں ‘ سب سے پہلے اصلاح قلب کی ضرورت ہے ‘ اور اس کی صورت یہ ہے کہ ذکرِ قلبی کثرت سے کیا جائے اتباعِ شریعت اور اتباعِ سنت کا اہتمام کیا جائے ۔ اصلاحِ قلب ایسا کمال ہے جو شیخِ کامل کی رہنمائی کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا۔ 

مولوی ہر گز نشد مولائے روم
تا غلام شمس تبریزی نشد
مولوی اس وقت تک مولانا روم نہیں بن سکتا جب تک کہ وہ شمس تبریز ( جیسے بزرگ اور ولی اللہ) کی غلامی نہ اختیار کر لے۔
اور
کیمیا پیدا کن ازمشت گلے
بوسہ زن برآستاں کاملے 
اس ایک مشت مٹی کے وجود کو \" کسی کامل کی بارگاہ میں بوسہ زن ہو کر \"سونا بنا دے۔
ہست محبوبے نہاں اندر دلت
چشم اگر داری بیا بنما ئمت
ایک محبوب تیرے دل کے اندر پوشیدہ ہے۔ اگر دل کی آنکھ رکھتا ہے تو آ تجھ کو دکھاؤں۔
شیخِ کامل کی راہنمائی میسر آ جائے تواتباع سنت کا اہتمام لازمی طور پر کیا جائے۔
محال است سعدی کہ راہ صفا
تواں رفت جز در پے مصطفیٰ
اے سعدی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق وابستہ کئے بغیر تصوف کی راہ اختیار کرنا محال اور ناممکن ہے۔ 
شیخِ کامل اس راہ پر اس ترتیب سے چلاتا ہے کہ سب سے پہلے لطائف کراتا ہے‘ جب وہ منور ہو جاتے ہیں تو مراقبہ احدیت کراتا ہے‘ جب یہ رابطہ خوب مضبوط ہو جائے تو شیخ اپنی روحانی قوت سے مراقبہ معیت پھر اقربیت کراتا ہے۔ پھر دوائرِ ثلاثہ ‘ پھر مراقبہ اسمِ الظاہر و الباطن۔ یہ مراقبات عالمِ ملکوت سے گزار کر شیخِ کامل کراتا ہے۔ پھر مراقبہ سیرکعبہ ‘ سیر صلواۃ پھر سیر قرآن ‘ اس کے بعد مراقبہ فنا فی الرسول لراتا ہے اور دربارِ نبوی ؐ میں حاضری ہوتی ہے۔ فنا فی الرسول کا مطلب یہ ہے کہ آدمی حضورِ اکرم ﷺ کی محبت اور آپ کی سیرت میں فنا ہو جائے۔ پھر شیخِ کامل توجہ روحانی سے فنا فی اللہ اور بقا باللہ کا مراقبہ کراتا ہے‘ یہ ذکرِ لسانی سے حاصل نہیں ہو سکتے ‘ بلکہ شیخ ِ کامل کی توجہ سے ذکرِ قلبی کرنے سے یہ مقامات حاصل ہوتے ہیں۔ مراقبہ فنا بقا میں عجیب سی کیفیت ہوتی ہے سالک کا وجود زمین پر ہوتا ہے اور روحانی طور پر یوں محصوص کرتا ہے کہ عرشِ بریں پر اللہ تعالیٰ کے سامنے سر بسجود ہے اور سبحان ربی الاعلی اور سبحان ربی العظیم کہہ رہا ہے ‘ عرشِ معلیٰ اللہ تعالیٰ کے ذاتی انوار و تجلیات کا مہبط ہے۔ وہ انوار و تجلیات سرخ سنہری معلوم ہوتے ہیں۔ کائنات کی کیفیت یوں معلوم ہوتی ہے کہ ہر چیز شجر ‘ حجر ‘ حیوان ‘ ملائکہ سبحان ربی الاعلی اور سبحان ربی العظیم پکار رہے ہیں‘ ایک گونج اٹھتی ہے اور سالک پر سب چیزوں سے غفلت طاری ہو جاتی ہے۔
کائنات کی ہر چیز کا تسبیح و تمہید کہنا کوئی تعجب کی بات نہیں۔ علامہ ابن تیمیہ فرماتے ہیں۔ 
قد فطر اللہ الجمادات علی تسبیحہ و تمحیدہ و تنزیہ لطافا و تسبیحھا تسبیح حقیقی
اسی طرح انسانوں کے متعلق بھی تسبیح کے یہی الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ مخلوق دو قسم کی ہے ‘ ذوی العقول اور غیر ذوی العقول ۔ ذوی العقول یعنی انسان معرفتِ الہیٰ اور عبادتِ الہیٰ کے لئے پیدا ہوا ہے ‘ اور غیر ذوی العقول اللہ کی تسبیح و تحلیل کے لئے پیدا ہوئے ہیں۔
ہمارے سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ میں ایک مراقبہ جمادات و اشجار بھی ہے ‘ میں یہ مراقبہ نہیں کرایا کرتا۔ کیونکہ خام آدمی کے لئے نقصان کا خطرہ ہوتا ہے۔ اس مراقبہ میں پتھروں اور درختوں ‘ پانی اور ہوا کی بولی سکھائی جاتی ہے او ر صوفی کامل ان غیر ذی روح چیزوں سے کلام کر سکتا ہے اور ان کی کلام سمجھ سکتا ہے۔
ملائکہ ‘ جنات ‘ شیاطین اور روح سے کلام ہونا تو سلوک کی ابتدائی باتیں ہیں ‘ ہاں اس سلسلے میں طبائع انسانی کے اختلاف کی وجہ سے نتائج بھی مختلف ہوتے ہیں۔ بعض سالک ایسے ہوتے ہیں کہ انہیں سلوک میں منازلِ بالا حاصل ہو جاتیں ہیں ‘ حتیٰ کہ عالمِ امر اور عالمِ حیرت کے منازل بھی طے کر لیتے ہیں‘ مگر انہیں مشاہدات نہیں ہوتے ‘ یہ بھی اللہ کی شان ہے اور اس میں بھی اللہ کی کوئی حکمت پنہاں ہوتی ہے ‘ بعض ایسے ہوتے ہیں جنہیں بالکل ابتداء میں مشاہدات کی نعمت عنائت فرما دیتا ہے ‘ ایسے لوگوں کو روئت اشکال کا مراقبہ بھی کرایا جاتا ہے۔ اس مراقبہ میں روح کی اصل شکل بھی جو بعد موت ہو گی سامنے آ جاتی ہے ‘ اس مادہ پرستی کے دور میں بہت کم ایسے آدمی ملتے ہیں جن کی روح انسانی شکل پر ہو ‘ نعوذ باللہ من ذالک۔ علمائے قشر ایسی باتوں کا انکار کر دیتے ہیں ‘ اس کی وجہ عدم علم ہے ‘ ایسے انکشافات بالخصوص کشف قبور کے متعلق شبہ کی گنجائش تو حال کی سائنس کی ایجادات نے چھوڑی ہی نہیں ‘ مثال کے طور پر ٹیلی ویژن کو لیجئے۔ ٹیلی وژن اسٹیشن اور رسیونگ سیٹ کے درمیان طویل مسافت کے باوجود آواز بھی سنائی دیتی ہے ۔ تصویر بھی سامنے آ جاتی ہے اور آدمی کی تمام حرکات و سکنات بھی نظر آتی ہیں ‘ اسی طرح کشف قبور میں جب روح سے کلام ہوتی ہے تو روح بھی سامنے آ جاتی ہے اس کی کلام بھی سنائی دیتی ہے۔
جمادات میں شعورکے موجود ہونے کاثبوت رآن و حدیث میں موجود ہے۔
قال اللہ تعالیٰ : تسبح لہ السموات السبع والارض 
اور:۔
وان من شئی الا یسبح بحمدہ ولکن لا تفقھون تسبیحھم
اور:۔
الم تر ان اللہ یسجد لہ من فی السموات ومن فی الارض والشمس القمر والنجوم والجبال والشجر والدواب وکثیر من الناس وکثیر حق علیہ عذاب
بعض مفسرین کا قول ہے کہ سجدہ سے دلالت علی الصانع مراد ہے مگر یہ قول درست معلوم نہیں ہوتا کیونکہ الناس کے ساتھ کثیر کی قید نے اس تاویل کو اڑا دیا ہے ‘ کیونکہ صانع پر تو تمام جہان دلالت کرتا ہے مصنوع دال علی الصانع ہوتا ہے اور کثیر من الناس سے ظاہر ہے کہ کچھ ایسے بھی ہیں جو دال علی الصانع نہیں اور یہ بات اصولاً غلط ہے مصنوع ہو اور دال علی الصانع نہ ہو یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ اس لئے یہ قول غلط ٹھہرا ‘ لہٰذا سجدہ اور تسبیح حقیقی ثابت ہوئی۔
ترمذی اور ابن ماجہ میں حدیث موجود ہے۔
عن سھل بن سعد قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ما من مسلم تلبیی الا لبی ما عن یمینہ وشمالہ من حجر والشجر او صدر حتی نقطع الارض من ھھتا وھھنا۔
حضرت سہل ؓ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو مسلم تلبیہ کہتا ہے تو اس کے دائیں بائیں کے تمام پتھر درخت ڈھیلے تک تلبیہ کہتے ہیں۔ حتیٰ کہ مشرق سے مغرب تک تمام تلبیہ کہتے ہیں۔ (حاجی کی تلبیہ سن کر)۔
اس حدیث سے اہلِ کشف کے اس کشف کی تصدیق ہوتی ہے کہ جمادات میں شعور اور حس موجود ہے ‘ جس سے وہ تلبیہ کی آواز سنتے ہیں اور خود کلام کرتے ہیں۔
اور ابو داؤد میں ہے۔
عن ابی ھریرہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان الحصاۃ تناشد اللہ الذی یخرجہا من المسجد لید عھا۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ کوئی شخص مسجد حرام سے کنکریاں اٹھا کر باہر لے جانا چاہے تو وہ کنکریاں اس کو خدا کا واسطہ دیتی ہیں کہ وہ انھیں وہیں رہنے دے باہر نہ لے جائے۔
یہ حدیث بھی اہلِ کشف کی تصدیق کرتی ہے کہ کنکریوں میں شعور اور ادراک ہوتا ہے۔ 

ایک حدیث بخاری اور ترمذی میں آئی ہے۔
عن انس قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان احد جبل یجنا ونحبہ‘ احد ایک ایسا پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔
اس حدیث میں محبت کا لفظ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جمادات میں شعور اور حس موجود ہے۔ نحبہ سے محبت حقیقی مراد ہے تو یحبنا میں بھی محبت کا لفظ حقیقی معنوں پر محمول ہو گا۔ ہاں مسئلہ ظنی ہے داخل عقائد نہ ہو گا۔
جمادات اور اشجار کو تسبیح و تحلیل ‘ تحمید و تنزیہ کے لئے پیدا کیا گیا ہے اور وہ اپنا مقصدِ تخلیق پورا کر رہے ہیں‘ مگر انسان جو معرفتِ الٰہی کے لئے پیدا کیا گیا ہے وہ خدا سے غافل ہو گیا ہے۔ انسان اگر اپنا مقام پہچان لے اور قربِ الٰہی اور رضائے الٰہی کے حصول میں لگ جائے تو اس کی دنیا بھی سنور جائے اور آخرت بھی بن جائے اور اس کا واحد ذریعہ ذکرِ الٰہی کی کثرت ہے۔
یہ خیال رہے کہ مشاہدات ‘ مکالمات ‘ اور مکاشفات کا حاصل ہو جانا یا جمادات اور ارواح سے کلام کر لینا کمال کی چیز نہیں اصل کمال قربِ الٰہی اور رضائے الٰہی کا حصول مقصود ہے۔
اللہ کی اطاعت اور عبادت اس لئے صوفی کامل کے لئے ضروری ہے کہ مشاہدات وغیرہ تمام چیزوں سے صرفِ نظر کرتا ہوا اپنی منزلِ مقصود یعنی قربِ الٰہی کی طرف بڑھتا چلا جائے اور یہ مقصد شیخ کامل کی رہبری سے ہی حاصل ہو سکتا ہے۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

علمی وفکری اختلاف آپ کا حق ہے۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔