Oct 24, 2014

قطب کی حقیقت(اسرار الحرمین)

0 comments

قطب کی حقیقت

          تصوف کی کتابوں میں قطب کا ذکر کسی نہ کسی رنگ میں ضرور آجاتا ہے۔ اس اصطلاح اور اس منصب کی وضاحت کردینا مناسب ہے۔
          ‘‘اجابۃ الغوث’’ علامہ شامیؒ، جلد دوم صفحہ 265:
فَالْاَقْطَابُ جَمْعُ قُطْبٍ .... وَھُوَفِی اِصْطِلَاحِھِمْ اَلْخَلِیْفَۃُ الْبَاطِنُ وَھُوَ سَیِّدُ  اَھْلِ زَمَانِہِ، سُمِّیَ قُطْبًا لِجَمْعِہٖ لِجَمِیْعِ الْمَقَامَاتِ وَالْاَحْوَالِ وَدَوْرَانِھَا عَلَیْہِ، مَأْخُوْذٌ مِنْ قُطْبِ الرُّحٰی الْحَدِیْدَۃِ الَّتِیْ تَدُوْرُ عَلَیْھَا ....... اَلْقُطْبُ فِی اِصْطَلَاحِ الْقَوْمِ اَکْمَلُ اِنْسَانٍ مُتَمَکِّنٌ فِی مَقَامِ الْفَرْدِیَّۃِ تَدُوْرُ عَلَیْہِ اَحْوَالُ الْخَلْقِ
مجموعہ رسائل ابن عابدین، رسالہ ‘‘اجابۃ الغوث’’ جلد دوم، صفحہ 265

اس قول میں ‘‘مخلوق کے تمام مقامات و احوال اس پر گردش کرتے ہیں’’ سے کیا مراد ہے؟
          کیا وہ اس کے علم میں لائے جاتے ہیں اور اس کے اثر سے بدلتے رہتے ہیں؟ رہنمائی فرمائی جائے۔
          کیا اس سے مراد غوث ہے؟ جیسا کہ صفحہ 59 پر بیان ہوا۔ ‘‘اللہ سبحانہٗ تعالیٰ قطب کو دنیا کے چاروں کناروں میں پھراتا ہے، جو دنیا کے چار ارکان میں اس طرح پھرتا ہے جس طرح ستارہ آسمان کے کناروں میں پھرتا ہے اور قطب پورے احوال جو کہ غوث ہے۔’’

اقطاب قطب کی جمع ہے.... اور صوفیا کی اصطلاح میں قطب باطنی خلیفہ ہوتا ہے۔ وہ اپنے زمانے کا سردار ہوتا ہے۔ اسے قطب اس بنا پر کہتے ہیں کہ وہ تمام احوال و منازل سلوک طے کر چکا ہوتا ہے۔مخلوق کے تمام مقامات و احوال اس پر گردش کرتے ہیں۔ یہ لفظ لوہے کی اس سلاخ (کِلّی) سے ماخوذ ہے جو چکی کے درمیان ہوتی ہے جس کے گرد چکی کا پاٹ چکر کاٹتا ہے۔........ قطب صوفیا کی اصطلاح میں کامل و اکمل   انسان ہوتا ہے جسے مقام فردیت حاصل ہوتا ہے۔مخلوق کے احوال اس پر گردش کرتے ہیں۔

قطب کی دو اقسام

          علامہ ابن عابدینؒ نے اس کی ذرا اور تفصیل دی ہے کہ قطب دو قسم کے ہوتے ہیں:
اِمَّا قُطْبُ بِالنِّسْبَۃِ اِلٰی جَمِیْعِ الْمَخْلُوْقَاتِ فِی عَالَمَیِ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ وَلَایَسْتَخْلِفُ بَدَلًا مِّنَ الْاَبْدَالِ وَلَایَقُوْمُ مَقَامَہٗ اَحَدٌ مِّنَ الْخَلَائِقِ وَھُوَ قُطْبُ الْاَقْطَاب الْمُتَعَاقِبَۃُ فِی عَالَمِ الشَّھَادَۃِ وَلَایَسْبِقُہٗ قُطْبٌ وَّلَا یَخْلُفُہٗ آخَرُہٗ وَھُوَ الرُّوْحُ الْمُصْطَفَوِیُّ اَلْمُخَاطَبُ بِقَوْلَ لَوْلَاکَ لَمَا خَلَقْتُ الْاَخْلَاَقَ  اِنْتَہَا یعنی لَایَخْلُقُہٗ غَیْرہٗ فِی ھٰذَ الْمَقَامِ الْکَامِلِ  وَاِنْ خَلَفَہٗ فِیْمَادُ وْنَہٗ کَالْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِیْنَ ولایُنَافِی مَاسَیَعْتِی

پہلی قسم وہ قطب ہے جس کی نسبت اس تمام مخلوق سے ہے جو عالم غیب اور عالم ظاہر میں ہے۔نہ اس کا کوئی بدل ہوگا نہ مخلوق میں سے اس کا کوئی قائم مقام ہوگا۔ یہ قطب الاقطاب ہے جو عالم ظاہر میں سب سے آخر آنے والا ہے، نہ اس سے پہلے کوئی ایسا قطب ہوا نہ اس کے بعد کوئی ایسا ہوگا، وہ بزرگ محمد رسول اللہﷺ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مخاطب ہیں کہ اگر میں آپ کو پیدا نہ کرتا تو آسمانوں کو بھی پیدا نہ کرتا یعنی کسی اور کو اللہ تعالیٰ اس کامل مقام کے لئے پیدا نہیں کیا۔ اگرچہ اس کے خلیفہ ہوئے ہیں اس سے کم مرتبہ پر جیسا کہ خلفائے راشدین ۔آگے آنے والی تفصیلات اس کے منافی نہیں ہیں۔
شرح اسرار
            یہاں روح مع الجسد کی بجائے ‘‘روحِ محمدﷺ’’ کی تخصیص ہے، اس لئے کہ بات مناصب روحانی کی ہے۔
l;l;
        ظاہر ہے کہ اعلیٰ ترین درجہ اور اکمل ترین مقام نبوت ہے اور پھر اس مقام پر جو خاتمیت سے تعلق رکھتا ہے نہ کوئی پہلے فائز رہا، نہ بعد کو آئے گا۔
          صاحب روح المعانی اور علامہ انور شاہ صاحبؒ نے ایک اور نکتہ بیان فرمایا جیسا کہ ‘‘روح المعانی’’ جلد پنجم، صفحہ 76 ، سورۃ النساء، آیت 69 اور ‘‘مشکلات القرآن’’ صفحہ 72پر ہے:
وَنَقَلَ بَعْضُ تَلَامِذَۃِ مَوْلَانَا الشَّیْخُ خَالِدُ النَّقْشْبَنْدِّیُّ قَدَّسَ سِرَّہٗ أَنَّہٗ قَرَّرَ یَوْمًا اَنَّ مَرَاتِبَ الْکُمَّلِ اَرْبَعَۃٌ: نَبُوَّۃٌ وَقُطْبُ   مَدَارِھَا نَبِیُّنَا
ثُمَّ صِدِّیْقِیَّۃٌ وَقُطْبُ مَدَارِھَا اَبُوْبَکْرِ ­ الصِّدِّیْقُ

حضرت خالد نقشبندیؒ کے ایک شاگرد نے ان سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے ایک روز تقریر فرمائی کہ کاملوں کے چار مراتب ہیں، پہلا نبوت اور اس کے قطب مدار نبی کریمﷺ ہیں ،
پھر صدیقیت، اس کے قطب مدار ابوبکر صدیق ہیں۔
ثُمَّ شَہَادَۃٌ وَقُطْبُ مَدَارِھَا عُمَرُ الْفَارُوْقُ
ثُمَّ وِلَایَۃٌ وَقُطْبُ مَدَارِھَا عَلَیٌّ
وَأَنَّ الصَّلَاحَ فِی الْاٰیَۃِ اِشَارَۃٌ اِلٰی الْوِلَایَۃِ، فَسَألَہٗ بَعْضُ الْحَاضِرِیْنَ عَنْ عُثْمَانَفِی اَیِّ مَرْتَبَۃٍ ھُوَ مِنْ مَّرَاتِبِ الثَّلَاثَۃِ بَعْدَ النُّبُوَّۃِ؟ فَقَالَ 
اِنَّہُ قَدْ نَالَ حَظًّا مِّنْ رُتْبَۃِ الشَّہَادَۃِ وَحَظًّا مِّنْ رُتْبَۃِ الْوِلَایَۃِ وَأَنَّ مَعْنٰی کَوْنِہٖ ذَاالنُّوْرَیْنِ  ھُوَ ذَالِکَ عِنْدَ الْعَارِفِیْنَ

پھر شہادت ہے اور اس کے قطب مدار فاروق اعظم ہیں۔
پھر ولایت ہے اور اس کے قطب مدار علی ہیں
سوال:  حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کا یہ قول امورِ تکوینیہ کے حوالے سے ہے جبکہ تمام اولیائے کرام کا تعلق امورِ تکوینیہ سے نہیں ہوتا۔
          کیا اس فضیلت میں تخصیص ہے؟ رہنمائی فرمائی جائے۔
          (یہ سوال علماء کی طرف سے آیا)
سوال:  اس قول سے اہل ارشاد پر اہل تکوین کی عمومی فضیلت کا تاثر ملتا ہے جبکہ اس کا تعلق حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ایک خاص واقعہ سے ہے جو برائے تربیت تھا۔ اسی طرح قرآن نے انبیائے علیہم السلام کی تربیت کے اور واقعات بھی ہیں۔ اہل ارشاد پر فضیلت کے اس عمومی تاثر کی نسبت سے شیخ عبدالقادر بغدادیؒ کے اس قول کی وضاحت فرمائی جائے۔
اور(آیت میں) صلاح کے لفظ سے اشارہ ولایت کی طرف ہے۔پس ان سے حاضرین میں سے کسی نے حضرت عثمان کے بارے میں پوچھا کہ وہ نبوت کے بعد تین مراتب میں سے کس مرتبہ پر فائز تھے تو انہوں نے جواب میں فرمایا:بیشک حضرت عثمان نے ولایت اور شہادت دونوں سے حصہ لیا ہے اور صوفیا کرام کے نزدیک ذوالنورین کے معنی یہی ہیں یعنی نورِ ولایت اور نورِ شہادت سے انہیں حصہ ملا۔
          اور ‘‘روح المعانی’’ جلد پنجم، صفحہ 76:
قَالَ الشَّیْخُ عَبْدُالْقَادِرْ بَغْدَادِی قَدَّسَ سِرَّہٗ یَامَعَاشِرَ الْاَنْبِیَاءِ اُوْتِیْتُمُ الْلَقَبُ وَاُوْتِیْنَا مَالَم تُؤتُوْا عَلٰی حَدِّ قَوْلِ الْخِضَرِ لِمُوْسٰی وَھُوَ اَفْضَلُ مِنْہُ یَامُوْسٰی اَنَا عَلٰی عِلْمٍ عَلَّمَنِیْہِ اللہُ تَعَالیٰ لَا تَعْلَمُہٗ اَنْتَ

شیخ عبدالقادر بغدادیؒ نے فرمایا، اے انبیائے کرام کی جماعت! آپ کو اللہ تعالیٰ نے نبوت کے مقدس لقب سے ملقب فرمایا مگر ہمیں وہ چیز عطا فرمائی جو آپ کو نہیں عطا فرمائی۔ اس قول سے مراد حضرت خضر  کا قول ہے حالانکہ حضرت موسیٰ حضرت خضر  سے افضل اور بڑی شان وشوکت والے تھے مگر خضر  نے فرمایا، میں اپنے علم پر ہوں جو اللہ نے مجھے تعلیم کیا اور آپ اس علم کو نہیں جانتے۔
          اس عبارت میں حضرت شیخ عبدالقادؒر کے قول کا اشارہ حضرت خضر   کے اس قول کی طرف ہے۔
            علامہ ابن عابدینؒ نے دوسرے قطب کی تفصیل یوں دی ہے۔
وَھُوَ اِمَّا قُطْبُ بِالْنِسْبَۃِ اِلٰی مَا فِی عَالَمِ الشَّھَادَۃِ مِنَ الْمَخْلُوْقَاتِ یَسْتَخْلِفُ بَدَلًا عَنْہٗ عِنْدَ مَوْتِہٖ مِنْ اَقْرَبِ الْاَبْدَالِ مِنْہُ فَحِیْنَئِذٍ یَقُوْمُ مَقَامَہٗ بَدْلٌ ھُوَ اَکْمَلُ الْاَبْدَالِ۔

قطب کی دوسری قسم وہ ہے جو عالم شہادت کی مخلوق سے متعلق ہے۔ جب اس کی موت کا وقت قریب ہوتا ہے تو ابدال میں سے اکمل کو اس کا خلیفہ بنایا جاتا ہے۔
          ان دو قسموں کی تفصیل سے معلوم ہوا کہ نبوت اور صدیقیت کے درمیان کوئی دوسرا مقام و منصب نہیں ہے۔ صدیق کے اوپر نبی کا مرتبہ ہے مگر شیخ اکبؒر نے بیان کیا ہے، کشف صحیح سے واضح ہوا ہے کہ ان دونوں مراتب کے درمیان بھی ایک اور مرتبہ ہے جسے قربِ عبودیت کہتے ہیں۔ حدیث نبویﷺ میں اسی کی طرف اشارہ ہے۔
ماسبقکم ابوبکر بالصوم ولابالصلوٰۃ ولکن شئ وقد فی قلب ابی بکر


ابوبکر صدیق روزہ اور نماز کی وجہ سے تم سے سبقت نہیں لے گئے بلکہ اس چیز کی وجہ سے جو ان کے قلب میں گاڑ دی گئی ہے۔
          اس سے مراد قرب عبودیت ہے۔ صدیق اکبر کو قرب عبودیت اور صدیقیت دونوں مناصب حاصل تھے جو کسی اور کو حاصل نہیں ہوئے اور کوئی مسلمان اُن کی فضیلت کا انکار نہیں کر سکتا۔ علامہ آلوسیؒ نے سچ فرمایا:
وَلَایُنْکِرُ ذَلِکَ اِلَّازِنْدِّیْقٌ اَوْ رَافِضِیٌّ یُنْکِرُ صُحْبَۃَ الصِّدِیْقِ
روح المعانی، جلد22، صفحہ 20، سورۃ الاحزاب، آیت نمبر33

اس قرب کا انکار صرف زندیق ہی کرے گا یا وہ رافضی جو صحبت صدیق  کا منکر ہے۔
شرح الاسرار
            منصب قرب عبودیت کے بارے میں حضرت جؒی نے مجھ ناچیز کے نام مختلف خطوط میں تذکرہ فرمایا۔ حضرت جؒی تحریر فرماتے ہیں کہ اس منصب کو ‘‘عبودیت’’ بھی کہا جاتا ہے اور ‘‘منصب قرب’’ بھی۔ منازل کا ذکر کرتے ہوئے حضرت جؒی نے دائرہ صدیقیت کے بعد قربِ عبدیت کا تذکرہ فرمایا ہے جس کے آگے منازل نبوت انبیاء کے خاص ہیں۔ یہاں دو خطوط کے عکس ملاحظہ ہوں:
            اس سے آگے جس منصب کا بندہ کو وعدہ دیا جاتا تھا، شعبان کی پندرہ(۱۵)کے بعد معلوم ہوا، منصب قرب عبودیت۔اس قرب عبودیت کے منصب کو عبودیت بھی کہا جاتا ہے اور منصب قرب بھی۔ میں حیران تھا کہ اس منصب پر کسی صوفی نے کیونکر قلم نہیں اٹھائی نہ بیان کیا۔آخر فتوحات ِمکیہ شیخ اکبر میں اشارہ ملا’ منصب ِقربت بھی ہے جو صدیق سے آگے۔ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے ان منصبوں کو حاصل کیا ہے۔ منصب قربت و منصب صدیقیت اور حدیث میں آتا ہے (ماسبقکم۔۔۔۔۔۔فی قلبہ) کہ ابوبکرتم سے سبقت لے گیا تو صوم و صلوٰۃ وجہ نہ تھی۔ وہ وجہ قرب ربی تھا، بس دل بھرپور تھا۔ بہرحال سالک کو ہمیشہ اپنی ترقی الی اللہ و قرب باللہ کا خیال رہنا چاہئے۔وہ اس میں ہوگا کہ رب العٰلمین اور اس کے رسول کی پوری اتباع ہوجو اس کی عبادت میں محبوس ہے۔


عظمت سیدنا ابوبکر صدیق

            فضیلت حضرت ابوبکر صدیق بیان کرتے ہوئے حضرت جؒی نے ارشاد نبویﷺ کا حوالہ دیا جس کا تعلق سیدنا ابوبکر صدیق کی قلبی کیفیت سے ہے۔ اسی ضمن میں آپؒ نے منصب عبودیت اور منصب صدیقیت کا بھی تذکرہ کیا کہ یہ دونوں مراتب آپ کی ذاتِ یکتا کو حاصل تھے۔
            حضرت ابوبکر صدیق خاصۂ انبیاء سے متصف تھے۔ آپ غیرانبیاء میں واحد ہستی ہیں جن کی زندگی میں لمحہ بھر بھی سُکر کا شائبہ تک نہیں ملتا جوکہ خاصۂ انبیاء ہے۔یہ کمال نبوت ہوتا ہے کہ کوئی بھی نبی سُکر کی بات نہیں کرتا لیکن پوری امت میں کوئی ایسا فرد نہیں ہے جس پر کوئی نہ کوئی لمحہ سُکر کا نہ آیا ہو، حتیٰ کہ فاروق اعظم جیسے مضبوط انسان پر بھی سُکر کا ایک لمحہ وارد ہو گیا کہ جب نبی کریمﷺکا وصال ہوا تو انہوں نے تلوار میان سے نکالی اور فرمایا، جس نے کہا حضورﷺ وفات پا گئے ہیں، میں اس سر قلم کر دوں گا، تم بکواس کرتے ہو، ایسانہیں ہو سکتا۔ یہ ہوش کی بات نہیں تھی، یہ سُکرکی بات تھی، پوری امت میں صرف ایک ہستی ابوبکر صدیق ایسے تھے، جنہوں نے بات سن کر دوسروں کو بھی سنبھالا اور انہیں سمجھایا کہ اللہ باقی ہے، حضورﷺ دنیا سے تشریف لے جا چکے، اس لئے جو اللہ کی عبادت کرتا ہے، اسے فکر کرنے کی ضرورت نہیں، اور جو حضرتﷺ کی عبادت کرتا تھا وہ سن لے کہ حضورﷺ دنیا سے رخصت ہو چکے۔ تو یہ واحد ہستی ہے، جو جمال نبویﷺ کی مکمل آئینہ ہے۔ آپﷺکے بعد بلند ترین ہستیوں میں بھی رخِ انور کا یا جمال نبویﷺ کا ایک پہلو ہے، دوسرا دوسرے آئینے میں ہے، تیسرا تیسرے آئینے میں ہے۔ جمال اقدس کے لاکھوں کروڑوں رنگ ہیں، اور ہر ایک کے پاس ایک رنگ ہے لیکن تمام طرح کے جہتوں کو اگر محیط ہے، تو وہ ابوبکر صدیق کا وجود عالی ہے اس لئے قرآن حکیم میں معیت ذاتی جس طرح انبیاء میں نبی کریمﷺ کو نصیب ہے، اس طرح ذاتی معیت غیرانبیاء میں پوری کائنات، پوری انسانیت میں، پوری اولاد آدم میں صرف ابوبکر صدیق کو نصیب ہے:
اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا
            اس میں صرف دو ہستیاں ہیں، انبیاء میں ایک حضور نبی کریمﷺ کی ہستی اور غیر نبیوں میں ابوبکر صدیق کی ہستی ہے۔

حضرت صدیق اکبر اور نسبت اویسیہ

            ان تمام نسبتوں میں نسبت اویسیہ ایک واحد نسبت ہے جس میں مشائخ اویسیہ اور ذات نبویﷺ کے درمیان صرف ایک ہستی ہے اور وہ ہے ابوبکر صدیق ، یہ آپ کی مسلسل برکات کا وہ پہلو ہے، جو جسے نصیب ہو جائے، وہ تمام سلاسل کی انتہا سے بہت آگے جا کر ابتداء کرتا ہے۔
l;l;
          ابدال کے متعلق ‘‘دلائل السلوک[1] ’’ میں وضاحت کر دی گئی ہے۔ اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس منصب پر اولیائے کرام بدل بدل کر آتے رہتے ہیں یعنی ایک کے بعد دوسرا مقرر ہوتا ہے۔ یہ منصب بھی بڑا بلند مقام ہے۔ ان مقامات اور مناصب کا حصول اللہ تعالیٰ کے فضل اور شیخ کامل کی توجہ اور تربیت پر موقوف ہے۔
          علامہ شامیؒ نے اپنے رسالہ ‘‘اجابۃ الغوث’’ کے آخر میں اصحاب منصب کا تذکرہ اشعار میں یوں کیا:
یَا مَنْ اَرَادَ مَنَازِلَ الْاَبْدَالِ

مِنْ غَیْرِ قَصْدٍ مِنْہُ لِلْاَعْمَالِ
اے منازلِ ابدال کے خواہش مند! ان کے اعمال کو اختیار کئے بغیر
لَاتَطْمَعِنَّ بِھَا فَلَسْتَ مِنْ اَھْلِھَا

اِنْ لَّمْ تُزَاحِمْ عَلَی الْاَحْوَالِ
اپنی حالت پر مطمئن نہ ہوکہ تو اس کا اہل نہیں،
جب تک ان کے احوال سے سابقہ نہ پڑے
وَاصْمُتْ بِقَلْبِکَ وَاعْتَزِلْ عَنْ کُلِ مَنْ

یُدْنِیْکَ مِنْ غَیْرِ الْحَبِیْبِ الْوَالِی
اور تو حقیقی خاموشی اختیار کر اور ہر اس شخص سے کنارہ کش رہ
جو تجھے تیرے حقیقی دوست کے سوا کسی اور سے قریب کر دے
وَاِذَا سَھَرْتَ وَجُعْتَ نَلْتَ مَقَامَھُمْ

وَصُحْبَتَھُمْ فِی الْحِلِّ وَالتِّرْحَالِ
اور جب تو شب بیداری کرے گا اور بھوکا رہے گاتو ان کے مقامات کو حاصل کر لے گا
اور ان کی صحبت تجھے سفر و حضر میں میسر رہے گی
بَیْتُ الْوَلَایَۃِ قُسِّمَتْ اَرْکَانُہٗ

سَادَاتُنَا فِیْہِ مِنَ الْاَبْدَالِ
ولایت کے گھر کو ارکان میں تقسیم کیا گیا ہے، اس گھر میں سردار ابدال ہیں
تَوَسَّلْ اِلَی اللہِ الْجَلِیْلِ بِاَقْطَابِ

وَقِفْ طَارِقًابَابَ الْفَتُوْحِ عَلٰی لَبَابِ
قربِ الہٰی کو اقطاب کے وسیلے سے حاصل کرو    اور باب رحمت پر کھڑے مسلسل کھٹکھٹاتے رہو
وَبِالسَّادَۃِ الْاَبْدَالِ دَوْمًاذَوِی   النُّقَبَاع

وَبِالسَّادَۃِ الْاَوْتَادِ ثُمَّ بِاَنْجَابِ
قربِ الہٰی سادات ابدال اور نقباء کے وسیلے سے دائم حاصل کرو،
سادات اوتاد، پھر نجباء
کَذَلِکَ بِالْاَخْیَارِ وَالنُّقَبَاءِ تَفُزْ

بِخَیْرٍ عَلٰی قَطْرِ السَّمَا وَالْحِصٰی رَأْبِی
اسی طرح اخیار اور نقباء کے وسیلے سے حاصل کرو
تو تم کامیاب ہو جاؤ گے بارش کے قطروں اور کنکریوں کے  بقدر خیر و بھلائی کے ساتھ
فَھُمْ عِدَۃٌ لِلنَّاسِ مِنْ کُلِّ نَازِلٍ

بِھِمْ یُتَّقٰی مِنْ کُلِّ ضَیْرٍ وَاَوْصَابِ
وہ لوگوں کے واسطے ہر مصیبت کے آگے ڈھال ہیں
انہیں کے ذریعے سے ہر طرح کے نقصان اور تکالیف سے بچا جاتا ہے
وَکُنْ دَائِمًا مُسْتَمْسِکًا لِائَذَائِھِم

وَدَعْ قَوْلَ اَفَّاکٍ جَھُوْلٍ وَمُرْتَابِ
اور تو ان کا دامن ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تھام لے ان کی جانب سے ملنے والی ایذائیوں یعنی مجاہدات پر ثا بت قدم رہتے ہوئے
اور جھوٹے، جاہل اور شک و شبہ میں پڑنے والے کی باتوں کو چھوڑ دے
وَقُلْ سَیِّدُ یَا مَنْ لَہُ الْاَمْرُ کُلُّہٗ

          نشان زدہ اشعار سے دعا کی ابتدا ہوتی ہے۔ پہلے شعر میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی گئی ہے،  دوسرے میں آقائے نامدارﷺ کے وسیلہ سے سوال ہے اور تیسرے میں آپﷺ کی مدح ہے۔ یہ تینوں شعر آپس میں مربوط ہیں اگرچہ اسرار الحرمین میں پہلے دو شعر شامل نہیں تھے۔
          اگر اجازت ہو تو آدابِ دعا اور ربط کو ملحوظ نظر رکھتے ہوئے پہلے دو اشعار کا بھی اضافہ کر دیا جائے۔
وَمِنْہُ یُفَاضُ الْخَیْرُ مِنْ غَیْر تِطْلَابِ
اور کہیے اے میرے آقا اور اے وہ ذات! جس کے لئے پورے کا پورا  امرہے
اور اسی سے بن مانگے خیر و بھلائی کا فیضان ہوتا ہے
سَأَلْتُکَ بِالْمُخْتَارِ سَیِّدِھِمْ وَمَنْ

عَلَا کُلَّ عَبْدٍ نَاسِکٍ لَکَ اَوَّابِ
میں آپ سے سوال کرتا ہوں، اس مختار (ﷺ) کے وسیلے سے جو سب کے سردارہیں
اور ہر اس عبد سے جو عبادت گزار اور آپ کی جانب رجوع کرنے والا ہے،مقام بلند پر فائز ہیں
مُحَمَّدِنِ الْمَبْعُوْثِ مِنْ خَیْرِ عُنْصَرِ

وَاَشْرَفِ آبَاءِ وَاَطْھَرِ اَصْلَابِ
یعنی محمدﷺ کے وسیلے سے جنہیں مبعوث کیا گیا ہے اعلیٰ خاندان سے
جن کے آباؤ اجداد سب سے معزز و مکرم اور جن کی صلب پاکیزہ ترین ہیں
بِصِدِّیْقِہٖ خَیْرٍالْاَئِمَّۃِ بَعْدُہٗ

کَذَا عُمَرَالْفَارُوْقُ ذَاکَ اِبْنُ خَطَابِ
اور صدیق( ) کے وسیلے سے جو آپﷺ کے بعد سب سے افضل ہیں
اسی طرح عمر فاروق ( )کے وسیلے سے جو خطاب کے بیٹے ہیں
بِعُثْمَانَ ذِیْ النُّوْرَیْنِ جَامِعِ ذِکْرِہِ

بِحَیْدَرَۃِ الضَّرْغَاءِ اَشْجَعَ غَلَّابِ
حضرت عثمان ذوالنورین( ) کے وسیلے سے جو قرآن کریم کو جمع کرنے والے ہیں
حضرت علی حیدر ( )کے وسیلے سے جو بہت بہادر اور اپنے مخالف پر غلبہ حاصل کرنے والے ہیں
وَبِالْقَرَنِی الْمَحْجُوْبِ عَنْ اَھْلِ عَصْرِہِ

اُوَیْسِ اِمَامِ الْفَضْلِ مِنْ غَیْرِ حِجَابِ
اور حضرت اویس قرنی کے وسیلے سے جو اپنے ہم عصروں کی نگاہوں سے اوجھل ہیں
حالانکہ وہ بغیر کسی پردے کے فضیلت کے امام ہیں
وَبِقُطْبِ رُحٰی ھَذَا الزَّمَانِ وَحِزْبِہٖ

اَئِمَّۃِ ھَذَاالْکَوْنِ مِنْحَۃِ تَوَّابِ
اور قطب زماں اور اس کی جماعت کے وسیلے سے
جو اس جہاں کے آئمہ ہیں اور توبہ قبول کرنے والی ذات کا عطیہ ہیں
اَغِثْنِیْ اَغِثْنِیْ یَا مُجِیْبُ وَنَجِّنِیْ

بِھِمْ مِنْ ھُمُوْمِیْ ثُمَّ ضَیْقِیْ وَاَتْعَابِیْ
میری مدد کیجئے، میری مدد کیجئے، اے دعا کو قبول کرنے والے!
ان ہستیوں کے وسیلے سے مجھے نجات دیجئے، میرے غموں،میری مشکلات اور میری پریشانیوں سے





[1] سلوک کے بارے میں مجدد طریقت حضرت العلام مولانا اللہ یار خانؒ کی شہرہ آفاق تصنیف ‘‘دلائل السلوک’’ مع شرح حضرت مولانا امیر محمد اکرم اعوان مدظلہ العالی صفحہ

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

علمی وفکری اختلاف آپ کا حق ہے۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔