Oct 24, 2014

مناصبِ اولیاءاللہ(ارواح ثلاثۃ)

0 comments

مناصبِ اولیاءاللہ

          امام سیوطیؒ نے ‘‘الحاوی للفتاویٰ’’ جلد۔2، صفحہ 425 ، ‘‘رسالہ الخبرالدال علیٰ وجود القطب والاوتاد والنجباء والابدال’’ میں ابن مسعود سے نقل کیا۔
عَنْ عَبْدِ اللہ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہ ، اِنَّ لِلہ عَزَّ وَجَلَّ فِی الْخَلْقِ ثَلَاثُمِائَۃ قَلُوْبُہمْ عَلٰى قَلْبِ آدَمَ عَلَیہ السَّلَامُ، وَلِلہ فِی الْخَلْقِ اَرْبَعُونَ قُلُوْبُہمْ عَلٰى قَلْبِ مُوسٰى عَلَیہ السَّلَامُ، وَلِلہ فِی الْخَلْقِ سَبْعَۃ قُلُوْبُہمْ عَلٰى قَلْبِ إِبْرَاہیمَ عَلَیہ السَّلَامُ، وَلِلہ فِی الْخَلْقِ خَمْسَۃ قُلُوبُہمْ عَلٰى قَلْبِ جِبْرِیلَ عَلَیہ السَّلَامُ، وَلِلہ فِی الْخَلْقِ ثَلَاثَۃ قُلُوبُہمْ عَلٰى قَلْبِ مِیكَائِیلَ عَلَیہ السَّلَامُ، وَلِلہ فِی الْخَلْقِ وَاحِدٌ قَلْبُہ عَلٰى قَلْبِ اِسْرَافِیلَ عَلَیہ السَّلَامُ

حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہﷺ نے کہ اللہ کی مخلوق میں اللہ کے بندے تین سو ہیں جن کے دل حضرت آدم کے دل پر ہیں اور اللہ کی مخلوق میں چالیس ہیں جن کے دل حضرت موسیٰ کے دل پر ہیں۔ اللہ کی مخلوق میں سات ہیں جن کے دل حضرت خلیل اللہ کے دل پر ہیں اور اللہ کی مخلوق میں پانچ ہیں جن کے دل حضرت جبرائیل کے دل پر ہیں اور اللہ کی مخلوق میں تین ہیں جن کے دل حضرت میکائیل کے دل پر ہیں اور اللہ کی مخلوق میں ایک ہے جس کا دل حضرت اسرافیل  کے دل پر ہے۔
چاروں کونوں میں پھرانے سے کیا مراد ہے؟ اس قول کی تشریح فرمائی جائے۔
          ‘‘الحاوی للفتاویٰ’’ جلد۔2، صفحہ 432 ، ‘‘رسالہ الخبرالدال علیٰ وجود القطب الخ’’ پر ہے:

وَاللہ سُبْحَانَہ یدِیرُ الْقُطْبَ فِی الْآفَاقِ الْاَرْبَعَۃ مِنْ اَرْكَانِ الدُّنْیا كَدَوْرَانِ الْفَلَكِ فِی اُفُقِ السَّمَاءِ، وَقَدْ سُتِرَتْ اَحْوَالُ الْقُطْبِ- وَہوَ الْغَوْثُ- عَنِ الْعَامَّۃ وَالْخَاصَّۃ غَیرَۃ مِنَ الْحَقِّ عَلَیہ

اللہ سبحانہٗ تعالیٰ قطب کو دنیا کے چاروں کناروں میں پھراتا ہے، جو دنیا کے چار ارکان میں اس طرح پھرتا ہے جس طرح ستارہ آسمان کے کناروں میں پھرتا ہے اور قطب پورے احوال جو کہ غوث ہے عوام و خواص سے بھی پوشیدہ رکھے ہیں، یہ محض غیرت حق کی وجہ سے ہے۔
          اور حضرت عبداللہ بن مسعود کی یہ مذکورہ روایت تین سو اولیاء والی کو محدث ابونعیمؒ نے ‘‘حلیۃ الاولیا’’ جلد اول، صفحہ 9پر مفصل بیان فرمایا ہے اور اسی طرح شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ نے ‘‘مدارج النبوۃ’’ جلداوّل، صفحہ 184 پر بیان کیا ہے اور علامہ خلالؒ نے ‘‘کرامات الاولیاء’’ میں کیا جس سے علامہ ابن تیمیہ بھی اخذ کرتا ہے، محقق سمجھ کر۔ اور اسی طرح اس روایت کو علامہ خطیب بغدادیؒ نے بھی نقل کیا ہے اور اسی طرح محدث طبرانیؒ نے ‘‘معجم الاوسط’’ میں نقل کیا ہے۔
          اور اسی ‘‘الحاوی للفتاویٰ’’ جلد دوم، صفحہ 431 پر امام سیوطیؒ نے بیان کیا ہے۔
وَأَخْرَجَ ہوَ وَالْخَطِیبُ مِنْ طَرِیقِ عُبَیدِ اللہ بْنِ مُحَمَّدِ الْعَبَسِی قَالَ: سَمِعْتُ الْكَنَانِی یقُولُ: اَلنُّقَبَاءُ ثَلَاثُمِائَۃ وَالنُّجَبَاءُ سَبْعُوْنَ وَالْبُدَلَاءُ اَرْبَعُوْنَ وَالْاَخْیارُ سَبْعَۃ وَالْعَمَدُ اَرْبَعَۃ وَالْغَوْثُ وَاحِدٌ

علامہ ابن عساکرؒ اور خطیبؒ نے عبیداللہ بن محمد عبسیؒ سے اخراج کیا۔ وہ کہتا ہے کہ میں نے حضرت علامہ کنعانیؒ سے سنا تھا کہ نقباء تین سو ہیں، نجباء ستر ہیں، ابدال چالیس ہیں، اخیار سات ہیں، عمد (قطب) چار ہیں اور غوث ایک۔
          علامہ ابن جوزی نے حدیث عبداللہ بن مسعود پر اعتراض کیا۔ اس کو موضوع بھی کہا اور اس کے راوی مجہول بھی بتائے مگر ابن جوزی کی جرح بیکار ہے جب تک کوئی غیر متشدد امامِ جرح کی تعدیل ان کے موافق نہ ہو۔ ان آٹھ آدمیوں کی جرح پھر صوفیاء پر کون تسلیم کرے! ان کی کوئی بات صوفیاء کے خلاف کوئی قدر نہیں رکھتی۔ ان کو صوفیاء و صلحاءِ امت سے خدا واسطے کا بیر ہے۔ وہ آٹھ یہ ہیں:
          ‘‘علامہ ابن تیمیہ، علامہ ابن قیم، علامہ شوکانی، علامہ صفانی، ابن عقیل حنبلی، علامہ زرکشی، علامہ ابن جوزی، قاضی شمس الدین ذھبی۔’’
          مگر حدیث عبداللہ بن مسعود پر اعتراض علامہ ابن جوزی نے کیا، بھلا اعتراض کیونکر نہ کرتے!  جب اس نے غوث و اقطاب ابدال کے نام دیکھے تو فوری غصہ میں آکر فرما دیا کہ یہ حدیث غلط ہے۔ صوفیوں کے نام بھی ہوں پھر ابن جوزی حدیث کو صحیح بھی فرمائے! یہ محال ہے۔
          مولانا عبدالحی لکھنویؒ ‘‘الرفع و  التکمیل’’ کے صفحہ 136 پر فرماتے ہیں کہ ان آٹھ دس آدمیوں کی جرح تسلیم نہ کی جائے بغیر تائید غیر متشدد کے، البتہ ان کی تعدیل قبول کی جائے۔ فرمایا:
فَكَمْ مِنْ حَدِیثٍ قَوِی حَكَمُوا عَلَیہ بِالضُّعْفِ اَوِ الْوَضْعِ وَكَمْ مِنْ حَدِیثٍ ضَعِیفٍ بِضُعْفٍ یسِیرٍ حَكَمُوْا عَلَیہ بِقُوَّۃ الْجَرْحِ، فَالْوَاجِبُ عَلَى الْعَالِمِ اَلَّا یبَادِرَ اِلٰى قُبُوْلِ اَقْوَالِہمْ بِدُوْنِ تَنْقِیحِ اَحْكَامِہمْ وَمَنْ قَلَّدَہمْ مِنْ دُوْنِ الْاِنْتِقَادِ ضَلَّ وَاَوْقَعَ الْعَوَامَ فِی الْاِفْسَادِ

اور بہت سی قوی حدیثیں ہوتی ہیں جن پر یہ حکم ضعف کا لگا دیتے ہیں یا وضع کا اور بہت حدیثیں جن میں تھوڑا سا ضعف ہوتا ہے اس پر حکم ضعف کا لگا دیتے ہیں۔ قوت جرح کی وجہ سے ہر عالم پر واجب ہے کہ ان کی جرح کو دیکھ کر جلدی نہ کرے کہ یہ حدیثیں ضعیف ہیں۔ ان کے ضعف کو قبول نہ کرے، سوائے خود تنقیح کرنے کے۔ جس نے ان کی (علامہ ابن جوزی اور دوسرے یعنی ابن تیمیہ وغیرہ) کی تقلید کی بغیر تنقیح کے، وہ خود گمراہ ہوا اور عوام کو فساد میں ڈالا۔
          جیسا کہ ملا علی قاریؒ سے نقل کر چکا ہوں کہ معلوم ہوا کہ ان متشددین حضرات کی جرح کو جلدی قبول کرنا مخلوق کو فساد میں ڈالنا ہے۔
          احادیث و آثار صحابہ و تابعین و مکتوبات و ملفوظات اولیاء اللہ عارفین سے اولیاء اللہ کے چودہ گروہ ملتے ہیں:
          1۔ ابدال، 2۔ ابرار، 3۔ اخیار، 4۔ امانین، 5۔ اوتاد، 6۔ نجباء، 
7۔ نقباء، 8۔ مکتومان، 9۔ قطب، 10۔ غوث، 11۔ قیوم، 12۔ فرد،
13۔ قطبِ وحدت، 14۔ صدیق۔

سوال نمبر۱: ‘‘قطب’’ کے بعد ‘‘صدیق’’ تک مناصب کی ترتیب فضیلت کے اعتبار سے ہے لیکن ابدال کے بعد مکتومان تک سات مناصب کا تذکرہ ہے گویا یہ فضیلت میں ابدال سے اوپر ہوں۔کیا ان سات مناصب کی ترتیب بھی فضیلت کے اعتبار سے ہے؟
          اگر نہیں تو آخری پانچ مناصب کی طرح ان کی بھی بااعتبار فضیلت ترتیب کے بارے میں رہنمائی فرمائی جائے۔
سوال نمبر۲: حضرت جؒی کے بیان کردہ ان 14 گروہوں میں‘‘اخیار’’ کا تذکرہ نہیں ہے اگرچہ ان کو بھی صاحب منصب کہا جاتا ہے۔ اس طرح مناصب کی تعداد چودہ کی بجائے پندرہ ہو جائے گی۔ رہنمائی فرمائی جائے۔
          سوائے مکتومان کے تمام مناصب و مراتب و مقام معلوم ہیں۔ مکتوم ایک ایسا مقام ہے کہ جس کا علم نہ خواص کو، نہ عوام کو معلوم ہے۔ ان کے احوال پوشیدہ ہوئے بوجہ غیرت خداوندی کے۔

... لِاَنَّ الْقُطْبِیَّۃَ وَالْغَوْثِیَّۃَ مَقَامٌ مَعْلُوْمٌ وَمَنْ کَانَ مَعَ اللہِ وَبِاللہِ فَلَا یُعْلَمُ لَہٗ مَقَامٌ وَاِنْ کَانَ لَہٗ فِی کُلِّ مَقَامٍ مَقَامٌ
(الطبقات الکبریٰ المسماۃ بلواقخ الانوار فی طبقات الاخیار للشعرانی، جلد۱، صفحہ 202، تحت ترجمۃ الشیخ احمد بن ابی الحسین الرفاعی )

قطبیت اور غوثیت کا مقام معلوم ہے، جس ولی اللہ کو تعلق مع اللہ اور قربِ الٰہی نصیب ہو جائے تو اس کا مقام معلوم نہیں ہوتا اگرچہ ہر مقام میں اس کا مقام ہوتا ہے۔
          فائدہ:  محققین صوفیاء کرام کی کتب میں ان کو وزیر قطب ارشاد لکھتے ہیں مگر ناچیز پر یہ چیز واضح نہیں ہوئی۔ صرف کتب صوفیاء پر موقوف رکھا اس امر کو، باقی قیوم سے صدیق تک، ان مناصب میں اکثر صحابہ کرام کو پایا گیا۔ افراد منازل تک صحابہ کرام کی کثرت پائی گئی اور قطب وحدت منصب حضرت فاروق اعظم کا پایا گیا۔ بعد والوں کو اگر منصب ملتا ہے تو اول تو جس طرح صحابی و غیر صحابی کی شان میں زمین و آسمان کا فرق ہے، اسی طرح ان مناصب میں بھی فرق ہے۔ پھر بعد والوں کو بوجہ اتباع رسولﷺ اور اتباع صحابہ کے ملتے ہیں۔
شرح الاسرار

قطب وحدت

کیا  حضرت مدظلہ العالی اس دور کا تعین کرنا پسند فرمائیں گے جب سلسلہ عالیہ میں  حضرت جؒی کی وجہ سے  ان خصوصیات کے افراد شروع ہوئے۔
                حضرت جؒی نے دلائل السلوک میں قطب وحدت کی تین امتیازی خصوصیات بیان فرمائی ہیں۔

(1)           اگر کوئی آدمی رات دن مسلسل صحبت میں رہے تو القاء کئے بغیر اس کے لطائف منور ہو جاتے ہیں، بلکہ منازل سلوک بھی شروع ہو جاتے ہیں۔
(2)           اس کا کوئی تربیت یافتہ اس کی اجازت کے بغیر بھی اگر کسی کو لطائف کرانا شروع کر دے تو دوسرے آدمی کے لطائف منور ہو جاتے ہیں، بلکہ صرف لطائف والا شاگرد بھی کسی کی تربیت شروع کر دے تو اسے ضرور فائدہ پہنچتا ہے۔
(3)       وہ اپنے شاگردوں کو توجہ غیبی سے فیض دیتا ہے اور منازل بدستور طے ہوتےرہتے ہیں، مگر مبتدی شاگرد کے لئے یہ حکم نہیں۔
            حضرت جؒی کے دور سے قبل سلاسل تصوف میں یہ عمومی صورت نہیں ملتی۔

مکتومان





l;l;
            ‘‘مسائل السلوک من کلام ملک الملوک’’ جلد نمبر 2،  صفحہ 13 پر ہے۔
قَالَ اللہُ تَعَالیٰ:
خَرَقَھَاط قَالَ اَخَرَقْتَہَا لِتُغْرِقَ اَہلَہا لَقَدْ جِئْتَ شَیئًا اِمْرًا O
(سورۃ الکہف، آیت71)

تو (خضر نے) اس (کشتی) میں دراڑ ڈال دی تب انہوں نے فرمایاکہ آپ نے کشتی میں اس لئے دراڈ ڈال دی تاکہ اس میں سوار غرق ہو جائیں، یقیناً آپ نے بڑی عجیب بات کی۔
قَالَ عَبْدُالضَّعِیْفُ: دَلَّ عَلیٰ صُدُوْرِ بَعْضِ الْاَفْعَالِ اللَّتِیْ ظَاھِرَۃً تُخَالِفُ الشَّرْعَ عَنِ الْاَکَابِرِ وَلَاتَکُوْنُ مُنْکَرَۃً فِی الْوَاقِعِ وَ دَلَّ اَیْضاً عَلیٰ وُجُوْدِ الْاَوْلِیَاءِ الْمُتَصَرِّفِیْنَ فِی الْتَّکْوِیْنِ وَیُسَمُّوْنَ اَقْطَابُ التَّکْوِیْنِ وَاَھْلُ الْخِدْمَۃِ

قرآن کی یہ آیت دلالت کرتی ہے۔ بعض اولیاء اللہ کاملین سے بعض افعال ایسے صادر ہوتے ہیں کہ جو بظاہر شریعت کے مخالف معلوم ہوتے ہیں اور واقع میں وہ مخالف شریعت نہیں ہوتے اور آیت قرآن کریم کی وجود اولیاء اللہ، کاملین، متصرفین، عالم تکوین پر، جن کو قطب تکوین و اہل خدمت کہتے ہیں، دلالت کرتی ہے۔
          بلکہ قطب تکوینی کا ثبوت، جس کوقطب مدار صوفیاء کی اصطلاح میں کہا جاتا ہے، جس کے وجود کی برکت پر خدائے تعالیٰ نے بقاءِ جہان کی مدار رکھی ہے، اس کا ثبوت خود نص قرآنی میں موجود ہے۔ جیسا قرآن کریم نے تین واقعات حضرت خضر سے بیان فرمائے ہیں، کشتی کا توڑنا، لڑکے کا قتل کرنا اور دیوار کا ٹھیک کرنا، جن کا تعلق عالم کون سے ہے۔ ان امورِ ثلاثہ میں حضرت خضر کا تصرف کرنا نص قرآنی میں موجود ہے۔ ان واقعات میں آپ کا تصرف کرنا آپ کو صاحب تصرف ثابت کرتا ہے یقیناً۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

علمی وفکری اختلاف آپ کا حق ہے۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔