Oct 24, 2014

اسرارا الحرمین

0 comments

نیابتِ نبوت

            نیابتِ نبوت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت جؒی فرماتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ کی کامل اتباع کے بغیر ولایت کا تصور بھی نہیں ہو سکتا۔ یاد رکھیں کہ نبوت نبیﷺ کی ذات کا وصف بن جاتا ہے لیکن ولایت ولی کی ذات کا وصف نہیں بنتی۔ ولایت مشروط رہتی ہے ہمیشہ اوصاف انسانی سے، اسی لئے نبی معصوم ہوتا ہے، اس سے خطا ہو ہی نہیں سکتی اور ولی مکلف ہوتا ہے کہ جب کبھی وہ وصف چھوڑ دے گا جو ولایت کی تعمیر کا سبب بنا تو ساری عمارت دھڑام سے گر جاتی ہے۔

مدارجِ فضیلت

  قرآنِ حکیم کا انبیاء و رسل کی فضیلت بیان کرنے کا اسلوب یہ نہیں ہے کہ کوئی نبی کسی نبی سے درجہ میں کم ہے۔ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰی بَعْضٍم بعض کو بعض پر ہم نے فضیلت دی۔ سارے فضیلت والے ہیں اور بعض زیادہ فضیلت والے ہیں۔ اس سے علماء نے اخذ فرمایا ہے کہ اللہ کے بندوں کا، اولیاء اللہ کا ذکر خیر ہو تو کبھی یہ مت کہو کہ فلاں ولی اللہ درجے میں فلاں سے کم تھا۔ یہ قرآنی اسلوب نہیں ہے۔ ہاں یہ کہہ سکتے ہو کہ سارے اچھے تھے، فلاں ان میں بھی بہت اچھا تھا۔ سب سے اللہ کی رحمتیں تقسیم ہوئیں، سب نے اللہ کے بندوں کو ہدایت کا درس دیا لیکن فلاں بزرگ نے بہت اچھا دیا لیکن آپ کسی کو کم نہیں کہہ سکتے کہ رب العٰلمین نے اس قانون کا لحاظ رکھا اور اپنے کسی نبی کو کم نہیں کیا۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

علمی وفکری اختلاف آپ کا حق ہے۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔