May 20, 2014

علامہ ابن عبد البرؒبن عاصم نمری اندلسی قرطبی مالکی علیہ الرحمۃ

0 comments
علامہ ابن عبد البرؒ
             مفتی محمد عارف باللہ القاسمیؔ
======================================
ابو عمر یوسف بن عبد اللہ بن محمد بن عبد البر بن عاصم نمری اندلسی قرطبی مالکی علیہ الرحمۃ ،ابن عبدالبر کے نام سے معروف و مشہور ہیں، آپ اپنے وقت کے بڑے متبحرعالم ، صاحب التصانیف مجتہد ،محدث اور مؤرخ تھے۔
ولادت
آپ کی پیدا ئش اموی حکومت کی راجدھانی قرطبہ میں ربیع الاول یا جمادی الاولی ۳۶۸؁ھ میں ہوئی ، اور وہیں پر آپ کی پرورش وپرداخت ہوئی ۔آپ کے والد ماجد ابو محمد عبد اللہ بن محمد بھی اپنے وقت کے بڑے محدث تھے ۔
تعلیم وتربیت
آپ کی جائے پیدائش’’ قرطبہ ‘‘علم وفن کا مرکز ومحورتھا ، اس لئے آپ نے وہاں کے اہل علم کی مجلس درس میں شرکت کرکے فقہ ، حدیث ، اور لغت وتاریخ کے علوم میں مہارت حاصل کی ،اور  اس وقت کے بڑے بڑے علماء اور محدثین ومؤرخین کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرکے اپنی علمی تشنگی کو دور کیا ، آپ کے اساتذہ حدیث میں چند محدثین یہ ہیں:
سعید بن نصر ، محمد بن خلیفہ الامام ، علی عبد الوارث ابن سفیان ، معمر محمد بن ضیفون ، عبد اللہ محمد بن عبد المؤمن ، احمد بن عبد الملک المکوی ، احمد بن قاسم الناہرتی ، عبد اللہ بن محمد الجہنی ، عمر بن حسن بن نابل ، احمد بن محمدبن الجسور ، یحیی بن وجہ الجنۃ ، محمد بن رشیق ، عبد الرحمن مروان القنازعی ، احمد بن فتح، احمد بن عبد اللہ الباجی ، حافظ خلف بن القاسم ، حسین بن یعقوب البجانی ، عبد الرحمن الوہرانی ، ابو عمرالطلمنکی ، ابو الولید بن الفرضی ، وغیرہ ، البتہ آپ کو اپنے والد سے سماع حدیث اور حصول علم کا موقع نہ مل سکا، کیونکہ آپ کے والد ابو محمد عبد اللہ بن محمد کا انتقال  ۳۸۰؁ھ  میں ہی  ہوگیا جب کے آپ کی عمرتقریبا بارہ سال تھی۔
نیز علامہ ابو عمربن حزم اندلسی سے آپ نے علم فقہ حاصل کیا ، آپ ابتداء ً  مسلک ظاہریہ کی طرف مائل تھے ، لیکن پھر میدان علم وتحقیق کی بادیہ پیمائی کے بعد آپ نے مالکی مسلک کو اختیار کیا۔(سیراعلام النبلاء) چونکہ آپ کو بڑے اصحاب علم وفضل سے شرف تلمذ حاصل ہوا تھا ،اس لئے آپ بھی اپنے وقت کے بڑے متبحر عالم اور محدث وفقیہ بن گئے ، اور پھر آپ خود مرجع خلائق اور تشنگان علوم نبوت کے مورد  و محور بن گئے اور بہت سے شاگروں نے آپ سے شرف تلمذ حاصل کیا ، آپ سے شرف تلمذ حاصل کرنے والوں میں سے چند قابل ذکرحضرات یہ ہیں:
علی بن حزم اندلسی ، ابو محمد بن ابو قحافہ ، حافظ ابو علی غسانی، ابو بحر سفیان بن العاص ، ابوداؤد سلیمان بن ابی القاسم نجاح ، ابو العباس دلائی، ابو الحسن بن مفوز ، حافظ ابوعبد اللہ الحمیدی ، محمد بن فتوح الانصاری، ابو عمران موسی بن ابوتلیدوغیرہ۔رحمہم اللہ رحمۃ واسعۃ
ترک وطن
جن دنوں آپ کی قرطبہ میں پیدائش ہوئی اور آپ نے وہاں تعلیم وتربیت پائی ان دنوں اندلس میں بنو امیہ کی حکومت تھی ، اس کے آخری خلیفہ’’ ہشام معتمد علی اللہ ‘‘کے اقتدار کے بعد   ۱۰۳۱؁ء میں جب اموی حکومت کا خاتمہ ہوگیا ، اور وہاں خانہ جنگی اور تخت وتاج کی لڑائیوں کا پہلے سے گرم بازار مزید گرم ہوگیا تو آپ نے وہاں سے اسپین کے شہر ’’بطلیوس ‘‘کا رخ کیا ، اور وہاں آکر مقیم ہوگئے ، وہاں امراء بنوالافطس کی حکومت تھی،اور مظفر بن الافطس کے دور اقتدار میں آپ ’’اشبونہ‘‘ میں عہدہ قضاء پر فائز کئے گئے ، بعدازاں آپ نے وہاں سے کوچ کرکے اسپین کے مشرق میں واقع ’’فالنسیا‘‘ میں طرحِ اقامت ڈالی ،پھر کچھ دنوں ’’دانیہ ‘‘ میں رہے اور پھر مقام شاطبہ پر آپ نے زندگی کے آخری لمحات کوگزارا ۔ اور یہیں پر ربیع الاول  ۴۶۳؁ھ میں آپ نے داعی اجل کو لبیک کہا۔ اللہ نے آپ کو ۹۵ ؍سال ، ۵؍دن کی طویل بابرکت حیات عطا کی تھی۔
تصانیف
آپ اپنے زمانہ کے بڑے ممتاز صاحب تصانیف محقق عالم ومحدث تھے، چناں چہ آپ نے مختلف اسلامی فنون میں مختلف کتابیں تصنیف کی ہیں، آپ کی تصانیف یہ ہیں:
       (۱) الاجوبۃ الموعبۃ فی الاسئلۃ المستغربۃ (۲)الاستعیاب فی معرفۃ الاصحاب (۳) اخبار ائمۃ الامصار (۴) اختلاف اصحاب مالک بن انس واختلاف روایاتہم عنہ (۵) الاستذکار الجامع لمذاہب فقہاء الامصار وعلماء الاقطار(۶) تجرید التمہید (۷)الاشراف علی ما ہو فی اصول فرائض المواریث من الاجماع والاختلاف (۸)الاکتفاء فی قراء ۃ نافع وابی عمر بن العلاء (۹) الانباء علی قبائل الرواۃ (۱۰)الاتقاء فی فضائل الثلاثۃ الائمۃ الفقہاء (۱۱) الانصاف فیما فی بسم اللہ من الخلاف (۱۲)البستان فی الاخدان (۱۳) بہجۃ المجالس وانس المجالس (۱۴) البیان عن تلاوۃ القرآن (۱۵)التجرید والمدخل فی علم القرآت بالتجوید (۱۶) التقصی لما فی المؤطا من حدیث الرسول (۱۷) التمہید لما فی المؤطا من المعانی والاسانید (۱۸)جامع بیان العلم وفضلہ (۱۹) جمہرۃ الانساب (۲۰) الدرر فی اختصار المغازی والسیر (۲۱)رسالۃ فی ادب المجالسۃ وحمد اللسان (۲۲)شرح زہدیات ابی العتاہیۃ (۲۳)الشواہد فی اثبات خبر الواحد (۲۴)العقل والعقلاء (۲۵) الکافی فی فقہ اہل المدینۃ (۲۶) القصد والامم فی التعریف باصول انساب العرب والعجم ۔
آپ کی ان تصانیف سے علوم اسلامیہ میں آپ کا مرتبہ کمال اور مقام اجتہاد نمایاں طور پر معلوم ہوتا ہے ۔اوریہ کتابیں آج بھی علماء امت کے لئے سرمہ نگا ہ ہیں۔
٭٭٭

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

علمی وفکری اختلاف آپ کا حق ہے۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔