Oct 24, 2014

منصب غوثیت اور اس کا کردار(کنزاطالبین)

0 comments
منصب غوثیت اور اس کا کردار(کنزاطالبین)
            ہر زمانے میں غوث ہوتا ہی ایک ہے اور اپنے عہد کے سارے اولیاء اللہ کا مانیٹر ہوتا ہے۔ الحمدللہ ہمارے پاس تو اس یقین موجود ہے’ ہر عہد میں ہر دور میں ہوتا ہے۔ دو میں سے ایک منصب ہر دور میں خواہ مخواہ رہتا ہے۔ اگر زمانے غوث نہ ہو تو قطب مدار ضرور ہوتا ہے اور بعض اوقات قطب مدار نہیں ہوتا تو اس کا کام بھی غوث کرتا رہتا ہے۔
            یہ جو منصب روحانی ہیں ان میں بھی اتنا مضبوط ایک رشتہ اللہ کریم بنا دیتے ہیں کہ کوئی بندہ کہیں ہو اس سارے نظام میں وہ کام چلتا رہتا ہے۔ کسی کی محنت یا کوشش یا طاقت کی ضرورت نہیں پڑتی۔ بلکہ یہ اتنا مظبوط نظام ہے کہ اس میں یہ بھی ممکن ہے کہ ایک شخص صاحب منصب ہو وہ قطب ہو یا اس کے پاس کوئی اور منصب ہو یا غوث ہو اور ممکن ہے ساری زندگی خود اسے پتہ نہ چلے کہ میں غوث ہوں۔ لیکن اس کی جو روحانیت یا روحانی نظام ہے تو تمام دنیاوی نظام اس کے مزاج کے ساتھ ڈھلتے چلے جائیں گے جیسا اس کا مزاج ہو گا ویسا زمانہ بدلنا شروع ہو جائے گا یعنی اگر وہ خود جرأت مند اور دلیر آدمی ہے تو دین دار طبقہ پوری دنیا میں جرأت مند ہوتا چلا جائے گا۔ اگر وہ خود زیادہ پڑھنے لکھنے والا علمی آدمی ہے تو پوری دنیا میں مسلمانوں میں پڑھنے لکھنے اور دین سمجھنے کا شوق پیدا ہو جائے گا۔ تو اس طرح ایک نظر نہ آنے والا سسٹم غوث کی سوچ کے ساتھ زمانہ کو بدلتا رہتا ہے کبھی کبھی صدیوں بعد غوث کے اوپر کے لوگ آجاتے ہیں جیسے حضرت محمدﷺ کا منصب بغیر شک و شبہ کے صدیق کا تھا۔ غوث اگر ترقی کرے تو قیوم بنتا ہے۔ قیوم کو اگر ترقی نصیب ہو تو فرد بنتا ہے’ فرد کو ترقی نصیب ہو تو قطب وحدت بنتا ہے اور اس سے اگر کسی کو اوپر کا منصب نصیب ہو تو وہ صدیق بنتا ہے۔صدیقیت آخری منصب ہے’ نبوت میں بھی صحابیت میں بھی اور ولایت میں بھی۔ نبی صدیق ہوتا ہے بااعتبار نبوت کے’ اس شان کا صحابی صدیق ہوتا ہے بااعتبار ولایت کے تو صدیقیت آخری منصب ہے۔ تو اس طرح کے لوگ جب آتے ہیں تو وہ جس مزاج کے ہوتے ہیں’ جس سوچ کے ہوتے ہیں زمانہ سارا اسی کے مطابق کروٹ لیتا رہتا ہے۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

علمی وفکری اختلاف آپ کا حق ہے۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔