Jul 19, 2014

برکات رمضان کے اثرات اور اعتکاف​

0 comments
برکات رمضان کے اثرات اور اعتکاف
رمضان کے روزے تم پر فرض کیے جانے کی غرض و غایت ہی یہ ہے کہ تمہیں صفت تقویٰ عطا ہو جائے یعنی تمہاری روحیں‘ تمہارے اندر کا انسان بہار آشنا ہوسکے‘ پھل پھول سکے‘ اپنی خوشبو دے سکے اور اپنے کمال کو پا سکے۔

یہ مہینہ صرف روزوں کا نہیں حقیقی تبدیلی کا مہینہ ہے۔ یہ ایک بھٹی ہے جس طرح سونے کو بھٹی میں ڈالا جائے تو اس کا کھوٹ نکل جاتا ہے اور وہ صاف ستھرا ہو جاتا ہے۔ اسی طرح رمضان کے تیس دن ایک بھٹی ہے۔ اس میں مومن کندن بن کر نکلتا ہے۔
از افادات
حضرت امیر محمد اکرم اعوان مدظلہٗ
شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ
*******

پیشکش :۔ادارہ نقشبندیہ اویسیہ
دارالعرفان منارہ ضلع چکوال
رمضان کی برکات و اثرات​
ایمان و احتساب کا مہینہ

ماہ مبارک اپنی برکات‘ اپنے انعامات اور اللہ کی بخشش اور عطا کے اعتبار سے تمام مہینوں کا سردار مہینہ ہے جسے اللہ جل شانہٗ نے اپنا مہینہ قرار دیا ہے اور جس کا ایک ایک دن عمر بھر کی خطاؤں کی بخشش کے لئے کافی ہے۔ ارشاد ہے رسول اللہﷺ کا‘ من صام رمضان ایمانا و احتسابا غفرلہ ماتقدم من ذنبہ اوکما قال رسول اللہﷺ کہ ایمان و احتساب سے اللہ پر یقین‘ ضروریات دین پر اور آخرت پر یقین کے ساتھ اپنی زندگی کا محاسبہ کرتے ہوئے اپنے گناہوں اور لغزشوں کو پیش نظر رکھ کر جس نے اللہ سے بخشش طلب کی اور ماہ مبارک کا روزہ رکھا تو ایک روزہ زندگی بھر کی خطاؤں کی بخشش کے لئے کافی ہے۔ اس طرح اس کی ایک ایک رات من قام رمضان ایمانا و احتسابا۔ جس نے رمضان کی رات کو قیام کیا‘ کسی بھی رات کو‘ ایمان و احتساب یہ دوشرائط اس میں بھی ہیں یقین ہو اللہ پر‘ اللہ کے حبیبﷺ پر‘ ضروریات دین پر‘ آخرت پر اور احتساب کرتے ہوئے اس کیفیت کے ساتھ جس نے ایک رات قیام کیا اس رات سے پہلے کی ساری زندگی کی خطاؤں کی بخشش کے لئے کافی ہے۔
عشروں کی فضیلت:
حدیث پاک میں ارشاد ہے کہ اس کا پہلا عشرہ رحمت عامہ ہے جس میں رحمت باری کا سیلاب امڈتا ہے اور رحمت باری ہر لحظہ ہر آن پورے جوبن سے برس رہی ہوتی ہے۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو اپنے کاسۂ دل کو سیدھا رکھتے ہیں۔ اگر کہیں کمی ہوتی ہے ٹیڑھا پن کاسۂ دل میں ہوتا ہے۔ باران رحمت میں کمی نہیں ہوتی کہیں ہمارے اعتقاد کی کمزوریاں‘ کہیں رسومات کی پیروی‘ کہیں ہمارے کردار کی خامیاں ہمارے کاسۂ دل کو ٹیڑھا کر دیتی ہیں اور اس میں کجی آجاتی ہے اور خدانخواستہ عقیدے میں خرابی آئے تو کاسۂ دل الٹ جاتا ہے‘ اس میں کچھ نہیں پڑتا۔ خوش نصیب ہیں وہ لوگ جنہوں نے کاسۂ دل کو سیدھا رکھا اور رحمت باری سے بھر لیا۔
واوسطہ مغفرۃ: اور اس کا درمیانی عشرہ بخشش کا ہوتا ہے۔ ہر طالب کے لئے بخشش عام ہوتی ہے اور آخری عشرہ دوزخ سے برات کی ضمانت دی جاتی ہے۔ جس طرح نبی علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اصحاب بدر اور عشرہ مبشرہ کے لئے دی کہ یہ دس لوگ قطعی جنتی ہیں۔ اس طرح سے آدمی کو جنتی ہونے کی سند مل جاتی ہے۔
بخشش کی نشانی: 
ایک سوال یہاں تشنہ رہ جاتا ہے کہ عشرہ مبشرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بتا دیا‘ اصحاب بدر کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے خبر دی‘ تمام صحابہ کو اللہ نے رضی اللہ عنہم کہہ کر قرآن میں خبر دے دی سب کے جنتی ہونے کی لیکن آج اس عشرہ رمضان میں جسے دوزخ سے برات کی سند مل گئی‘ اسے کیسے پتہ چلے؟ اس کا معیار ہر شخص کے اپنے اندر موجود ہے۔ دوزخ سے برات کی سندمل گئی تو اہل دوزخ جیسے کام کرنے سے نفرت پیدا ہو جائے گی اور ایسے کام کرنے کی رغبت بیدار ہو جائے گی جو اہل جنت کو سزاوار ہیں یہ معیار ہے اس کی بخشش کا۔
رمضان المبارک کو اپنے نقوش ثبت کرنے چاہئیے عملاً اور شکلاً جو روزہ ہے کہ کھانے پینے سے رک گئے یا اور امور سے رک گئے یہ پابندی تو ختم ہوگئی۔ رمضان المبارک کا مہینہ تو گزر گیا لیکن ہر خطا سے رکنے کی پابندی کو اگر طبیعت میں جگہ دے گیا تو رمضان گیا نہیں۔ اگر جھوٹ بولنے سے ڈر لگتا ہے تو اس کی برکات موجود ہیں۔ اگر حرام کھانے سے ڈر لگتا ہے تو اس کی برکات موجود ہیں۔ اطاعت الٰہی کی رغبت باقی ہے تو اس کی برکات باقی ہیں اور اگر یہ چیزیں نصیب نہیں ہوئیں تو پھر واقعی گزر گیا۔ یہ ایک مجاہدہ اضطراری ہے۔ مجاہدے کی دو قسمیں ہیں ایک اختیاری جو ہم اپنی مرضی سے کرتے ہیں۔ ایک اضطراری جو حکماً کرایا جاتا ہے تو یہ ایک مجاہدہ ہے اور اس کے ثمرات کو مدنظر رکھنا چاہیے۔ روزے کی برکت یہ ہے کہ اگر دل میں شعور بیدار ہو گیا‘ اس نے رب کو پہچانا‘ اگر دل میں یہ جرأت پیدا ہوگئی کہ اس نے اپنے رب کا نام لیا‘ اگر دل میں یہ طاقت پیدا ہوگئی کہ اس نے اپنی آرزو اپنے رب کے سامنے پیش کردی تو اس کے رد ہونے کا کوئی امکان نہیں۔
ایمان کی حقیقت:
قارئین گرامی! صدیوں کے فاصلے نے ہمارے ایمان و یقین میں دراڑیں ڈال دی ہیں اور یہ بڑی دردناک بات ہے۔ یاد رکھیے جو ایمان اللہ کی نافرمانی سے روکنے کا کام نہیں کرتا‘ جو ایمان حرام سے روک نہیں سکتا وہ کمزور ہے۔ جو ایمان فرائض کی پابندی سے محروم انسان کے ساتھ گزارا کرتا ہے وہ کمزور ہے۔ آج ہمارے ایمان میں دراڑیں پڑ چکی ہیں جو رسومات ہم نے خود ایجاد کیں‘ ہم ان پر عمل کرتے ہیں۔ وہ شادی کی ہوں‘ جنازے کی‘ مرنے یا پیدا ہونے والے کی۔ ہر رسم کو ہم فرض عین سے زیادہ اہمیت دے کر نبھاتے ہیں لیکن طبیعت خراب ہو تو نماز چھوٹ جاتی ہے۔ مہمان آجائیں تو ذکر الٰہی رہ جاتا ہے۔ حلال و حرام کی تمیز بہت کم کی جاتی ہے‘ یہ کمزور ایمان ہے۔ صدیوں کے فاصلے نے اسے کمزور کر دیا۔ بڑی جرأت کا کام ہے کہ کوئی چودہ سو سال دور بیٹھ کر آج بھی اپنے دل میں جمال مصطفیﷺ اور ان ارشادات کی لذت محسوس کرے جو محمد رسول اللہﷺ نے فرمائے تھے۔ بڑی ہمت کی بات ہے کہ چودہ سو سال دور بیٹھ کر آج بھی اسے توحید باری اسی طرح عزیز ہو جس طرح محمد رسول اللہﷺ نے تلقین فرمائی تھی۔ اس کے سجدوں میں وہ سوز ہو۔ اس کی اذانوں میں وہ گرج ہو۔ اس کے کردار میں وہ مضبوطی ہو اور اس کی فکر میں وہ حیات ہو اس کی نگاہوں میں وہ حیا ہو اور اس کی زبان پر اسی طرح سے حق ہو۔
مانگنے کی چیز:
جس چیز کو رب العالمین سے مانگنا چاہئے ہم وہ نہیں مانگتے بلکہ وہ مانگتے ہیں جو از خود اس نے دینے کا وعدہ کر لیا ہے۔ ہم اس سے رزق مانگتے ہیں‘ رب العالمین سے ہم اولاد اور صحت مانگتے ہیں‘ ہم زندگی مانگتے ہیں۔ ارے یہ ساری چیزیں اس نے اپنے ذمے لے لی ہیں اور وہ ان کو بھی دے رہا ہے جو اس کی مانتے ہی نہیں۔ کافر و مشرک بھی آپ کو صحت مند نظر آئیں گے۔ بے دین بھی آپ کو صاحب اولاد نظر آئیں گے۔ بدکار بھی آپ کو مالدار نظر آئیں گے لیکن ہر کوئی صاحب درد اور صاحب دل نہیں ہوگا مانگنے کی چیز ہے کہ دل زندہ مانگو۔ وہ دل مانگو جس میں آج بھی اس کی ذات اور اس کی تجلیات برستی ہوں۔ جس میں آج بھی عشق رسولﷺ ہو‘ جو آج بھی جمال مصطفویﷺ کا طالب ہو‘ جس میں شہادت کی آرزو ہو‘ جو اس کے وصال کا طالب ہو‘ وہ چیز مانگو جو اپنوں کو دیتا ہے۔
یاد رکھو! ایک دل زندہ مل جائے دو عالم میں کسی چیز کے مانگنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ اسی طرح وہ دین خالص مانگو‘ وہ شعور مانگو جو نبی علیہ الصلوٰۃ واسلام نے اپنے پروانوں کو دیا تھا۔ زندگی کے لئے ایک ہی راستہ اللہ سے طلب کرو اور وہ راستہ ہو سنت رسولﷺ کا۔ 
ہدایت برائے معتکفین:
* چپ کا روزہ اسلام میں نہیں ہے لیکن بلاضرورت بولنا اعتکاف کے مقصد کو نقصان پہنچاتا ہے۔ ایک غلط فہمی یہ ہے کہ مسجد کے اندر رہ کر بات ہو سکتی ہے‘ باہر نہیں۔ یہ بات درست نہیں۔ مسجد کے احترام میں‘ مسجد کے آداب میں ہے کہ مسجد میں دنیا کی باتیں کرنا حرام ہے۔
* معتکف گویا ہر لحظہ بارگاہِ الوہیت میں حاضر ہے۔ بندہ تو ہر آن اللہ کی نگاہ میں ہے لیکن یہ بات تو اللہ کریم کی طرف سے ہے۔
* جب بندہ دنیا کے دھندے چھوڑ چھاڑ کر خالص اللہ کے لئے نبی کریمﷺ کی سنت کو اپنانے کی نیت سے مسجد میں بیٹھتا ہے تو پھر اسے کسی سے کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیئے۔
* شوال کا چاند طلوع ہونے تک معتکف کے لئے دنیا میں کوئی بھی نہیں۔ ایک بندہ ہے اور ایک رب العالمین۔
* زائد از ضرورت کوئی کلمہ کہا نہ جائے اور ضروری بات بھی مختصر الفاظ میں کی جائے تاکہ توجہ اپنے مقصد سے ہٹے نہیں‘ تاکہ اللہ کریم کیفیات یقین عطا فرمائیں۔ مقصد تو اس نور یقین کو حاصل کرنا ہے جیسا کہ حدیث احسان میں ارشاد ہوا: ’’اَنْ تَعْبُدُاللّٰہَ کَاَنَّکَ تَرَاہُ فَاِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَاِنَّہُ یَرَاکَ‘‘ اللہ کی عبادت ایسے کرو گویا تم اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ رہے ہو اور اگر یہ جرأت تم میں پیدا نہ ہو تو یہ یقین کم ازکم پیدا کرلو کہ میرا اللہ مجھے دیکھ رہا ہے۔ 
* رمضان المبارک کا اعتکاف دردِ دل سمیٹنے کا وقت ہے۔ نیک صحبت میں‘ مشائخ کی صحبت میں‘ اخذ برکات کرنے کا وقت ہے تو حضورِ صحبت کے لئے بھی کوشاں رہنا چاہئے‘ جسے فرصت ملے اور وقت اجازت دے تو پھر ضرور صحبت مشائخ اختیار کرے۔ اللہ کریم وہ درد‘ وہ ذوق عطا کرے جو حضورﷺ کے اتباع پر ساری زندگی قائم رکھے یہی حاصل رمضان ہے‘ یہی حاصل لیلۃ القدر ہے‘ یہی حاصل اعتکاف ہے۔
دعوت عام ۔ اعتکاف دارالعرفان منارہ
یک زمانہ صحبت بآاولیاء



بہتر از صد سالہ طاعت بے ریا
مکرمی جناب .......دعوت عام................................... السلام علیکم
رمضان المبارک کی ہر ساعت برکات الٰہی کا مصدر و مسکن ہے۔ پہلا عشرہ رحمت‘ دوسرا مغفرت اور تیسرا دوزخ سے خلاصی کا ضامن ہے۔ یوں تو سارا مہینہ ہی تربیت نفس کا ذریعہ ہے لیکن آخری حصے کو اللہ کریم نے معتکفین مرد و زن کے لئے خاص کر دیا‘عید سے پہلے لوٹ سیل ہے۔ آؤ اور اس کی رحمتوں میں سے جتنا سمیٹ سکتے ہو لے جاؤ۔ کسی کا دامن تنگ ہو تو ہو۔ اس کی رحمت تو بے حساب ہے اور آمادۂ کرم بھی۔ مزید یہ کہ آخری عشرہ کی ہر طاق رات میں لیلۃ القدر کو تلاش کرنے کا حکم ہے۔ شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ حضرت امیرالمکرم فرماتے ہیں:
’’رمضان کے آخری عشرے کی ہر طاق رات میں دنیا کے کسی نہ کسی گوشے میں لیلۃ القدر ضروری ہوتی ہے۔ ہر شب کی محنت منشائے الٰہی ہے ورنہ وہ خود کس ایک رات کو مخصوص کر دیتا۔‘‘
دوران اعتکاف ذکر پاس انفاس اور صحبت شیخ حاصل کرنے دنیا کے جھمیلوں اور شور شرابے سے نجات پاکر سینکڑوں مخلصین ملک کے گوشے گوشے سے دارالعرفان‘ منارہ (چکوال) میں حصول تقویٰ کے لئے کوشاں ہوتے ہیں جہاں کا ماحول ہر قسم کے تعصب اور افراط و تفریط سے پاک ہے۔
امت مسلمہ آج جن مشکلات سے دوچار ہے‘ ایسے میں ہمارے پریشانیوں کا علاج نیتوں کی اصلاح اور دامن مصطفیﷺ سے مکمل وابستگی ہے کیونکہ اسلام نام ہی محمد رسول اللہﷺ کی مکمل اطاعت کا ہے ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اپنی ذات کے ساتھ ساتھ معاشرے کی اصلاح کریں۔ ذاتی مصروفیات سے 10 روز کے لئے اللہ کی خصوصی رحمتوں سے حصہ پانے کے لئے رضائے الٰہی کے طالب بن کر آپ بھی اس قافلے میں ضرور شریک ہوں۔ دس روز ممکن نہ ہو تو سات‘ پانچ یا تین روزہ نفلی اعتکاف تو ضرور کریں۔ اللہ کے مہمان بن کر آئیں اور ہمارے شیخ کی میزبانی سے وہ برکات رسول اللہﷺ حاصل کریں جو شیخ کے قلب اور نسبت اویسیہ سے نصیب ہوتی ہیں‘ مجاہدہ وہ کام نہیں کرتا جو ایک نگاہ کر سکتی ہے۔ یہاں معتکفین کو تزکیۂ نفس اور تصفیہ قلب کے خصوصی تربیتی پروگرام سے گزارا جاتا ہے۔
اللہ والوں کی اس بستی میں کچھ ساعتیں گزارنے سے آپ کا دل پریشانیوں سے محفوظ اور کدورتوں سے پاک ہو گا۔ دل محبت رسولﷺ اور عشق الٰہی سے لبریز ہوگا اور یوں ہم گناہوں کی دلدل سے نکل سکیں گے۔ بس اس کے لئے صرف خلوص شرط ہے۔
ظلمتوں کے اس دور میں فرد یا معاشرے کی اصلاح کے لئے ایسی محنت بے حد ضروری ہے ورنہ تو حاجیوں کی کمی ہے نہ نمازیوں کی لیکن
رہ گئی رسم اذاں روح بلالی نہ رہی جذب دروں کا فقدان ہے
اعتکاف تو لوگ کر ہی رہے ہیں اگر آپ نے اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کرنا ہے تو پھر ایسے گوشے کا انتخاب کریں کہ جہاں معتکف ہونے کا حق ادا کر سکیں۔ رب کریم کی معیت دائمی نصیب ہو اور محبت رسولﷺ آپ کو اطاعت الٰہی پر مجبور کر دے۔ والسلام
مخلص ....................................

*** نعت رسول مقبولﷺ ***
آؤ اس رحمت عالم کی کوئی بات کریں
آج ہم عشق نبیؐ میں یہ بسر رات کریں
مل کے بیٹھے ہیں کریں آج نچھاور دل کو
آؤ اس در پہ کبھی خود سے ملاقات کریں
باتیں اس گل کی کریں ذکر رخ یار کریں
جس کی تعریف‘ نباتات‘ جمادات کریں
اپنے محبوب کی الفت کا تقاضا یہ ہے
بزمِ دنیا میں بیاں اس کی حکایات کریں
ہے گھٹن اور بڑا سخت اندھیرا پھر سے
روشنی پھیلے بیاں اس کی روایات کریں
دل سیمابؔ میں دیکھو تو چمک ہے اس کی
کیوں زمانے پہ نہ ہم اس کی ہی برسات کریں
*** نعت رسول مقبولﷺ ***
مطلع انوار ہے شہرمدینہ دیکھ لو
سبز گنبد کا جڑا اس میں نگینہ دیکھ لو
بٹ رہے ہیں اس کی کرنوں سے جہاں میں پھول دیکھ
ہے جواہر سے گراں تر انؐ کی در کی دھول دیکھ
بٹ رہی ہیں رحمتیں سارے جہانوں کے لئے
مرغِ دل تڑپے سدا ان آشیانوں کے لئے
عاصی و بدکار بھی رہ پا گئے در پر ترے
کیا عجب رحمت کے موتی سج گئے در پر ترے
بن رہا تھا یہ جہاں جنگل درندوں کا حضورؐ
آپؐ نے بانٹا بنی آدم میں پھر الفت کا نور
باغی و سرکش بنے عابد و زاہد بے شمار
جان کے دَرپہ تھے جو ان کو بنایا جاں نثار
بھولے بھٹکے آدمی اللہ کے در پر آگئے
تھے جو بچھڑے مدتوں سے پھر سے گھر پر آ گئے
آپؐ کے لطف و کرم سے بات بگڑی بن گئی
تھے مطیع شیطان کے لیکن اب اس سے ٹھن گئی
وہ ہی بندے جو جہاں میں اپنے رب سے دور تھے
وہ ہی بندے بن گئے روشن منارے نور کے
ہو کرم سیمابؔ پر بھٹکا ہے عصیاں میں غریب
دل ہو روشن نور سے دیدارِ باری ہو نصیب

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

علمی وفکری اختلاف آپ کا حق ہے۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔