Jul 21, 2014

حضرت مولانا خواجہ خان محمد رحمتہ اللہ علیہ حوال و آثار

0 comments
حضرت مولانا خواجہ خان محمد رحمتہ اللہ علیہ
تحریر:حافظ حبیب اللہ چیمہ
اِس فانی دنیا میں لاتعداد انسان پیدا ہو ئے اور مالک کی عطا کردہ عمر پوری کرکے دنیا سے رخصت ہو گئے۔ کچھ بندگان باری تعالی دنیا میں تشریف لاتے ہیں تو عوام کے دلوں پر حکومت قائم کرکے واپس مالک کے حضور حاضر ہو جاتے ہیں۔ مخلوق خدا انہیں صدیوں یاد کرتی ہے، جانے والے چلے جاتے ہیں مگر نقصان ان کاہو تا ہے جو باقی رہ جاتے ہیں ۔انہی ہستیوں میں سے ایک ہستی قطب الاقطاب خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد رحمتہ اللہ علیہ کی ہے ۔جن کو ہم سے جدا ہو ئے ایک برس بیت گیا ہے لیکن ابھی تک عقیدت مندوں کی آنکھوں سے آنسو خشک نہیں ہوئے ۔
حضرت خواجہ خان محمد رحمتہ اللہ علیہ گذشتہ برس 5 مئی 2010 کو اس دنیا سے رخصت ہو ئے جبکہ میرے والد گرامی حضرت حافظ عبدالرشید رحمتہ اللہ علیہ ) خلیفہ مجاز حضرت خواجہ خان محمد رحمتہ اللہ علیہ ( یکم جون 2007 کو مدینہ منورہ میں انتقال فرما گئے تھے۔ میرا ارادہ تھا کہ اس بار حضرت پیر و مرشد کے مضمون کے ساتھ ابا جی رحمتہ اللہ کا مضمون بھی ضم کردوں کہ دونوں کی تاریخ وفات کا فرق ایک ماہ سے بھی کم ہے۔ ماہِ مارچ سے مضمون لکھنے کا ارادہ کر رہا تھامگر جب بھی قلم اٹھاتا ذہن ماف ہو جاتااور دل کی کیفیت بدل جاتی کہ کیا لکھوں اور کہاں سے شروع کروں۔ میری خوش بختی جاگی کہ حضرت الاستاد حافظ احمد دین نور اللہ مرقدہ کی خانقاہ احمدیہ سراجیہ کے سجادہ نشین حضرت مولاناصاحبزادہ رشید احمد مدظلہ العالی نے 9 ۔10 ،اپریل 2011 کو خانقاہ احمدیہ سراجیہ دادڑہ بالا ہڑپہ میں حضرت خواجہ خان محمد اور حضرت حافظ احمد دین رحمہم اللہ کی یاد میں سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ کے روحانی اجتماع کا انعقاد کیا جس میں ملک بھر سے سلسلہ نقشبندیہ کے متعلقین اور مذہبی جماعتوں کے قائد ین نے شر کت کی۔ اس پروگرام کی صدارت حضرت پیر ومرشد مولاناخواجہ خلیل احمد مدظلہ العالی نے کی اور پروگرام سے فارغ ہو کر رات کو ) اباجی رحمتہ اللہ علیہ کی خانقاہ رشیدیہ بستی سراجیہ میں ( ہمارے غریب خانہ پر جلوہ افروز ہو ئے ۔اگلے روز حضرت خواجہ خلیل احمد مدظلہ ساہیوال اور اوکاڑہ جبکہ 12 اپریل کو چیچہ وطنی میں حاجی محمد ایوب کے ہاں اور 13 اپریل کو خانیوال تشریف لے گئے ۔اسی دوران پھر مضمون شروع کرنے کا ارادہ کیا لیکن ذہن ماف ،سمجھ سے باہر کہ پہلے یہ کیفیت نہ ہوتی تھی ۔بالآخر حضرت پیرو مرشد خواجہ خلیل احمد کی طرف متوجہ ہوا ،حضرت سے عرض بھی کیا اور بارگاہ الہی میں دست دعا بلند کیا کہ اے اللہ، میرے مرشد کی دعاں کے صدقے میرے قلم کو رواں فرما دیجیے۔ بس پھر لکھنا شروع کر دیا ۔
میرے پیر ومرشد حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد رحمتہ اللہ علیہ سرکاری ریکارڈ کے مطابق 1920 میں کندیاں کے موضع ڈنگ میں پیدا ہوئے لیکن قرائن سے معلوم ہو تاہے کہ آپ کی عمر مبارک زیادہ ہے۔ ابھی آپ کمسن ہیتھے کہ اعلی حضرت مولانا ابو السعد احمد خاں رحمتہ اللہ علیہ ) بانی خانقاہ سراجیہ ( نے آپ کے والد گرامی حضرت خواجہ محمد عمر سے آپ کو یہ کہہ کر مانگ لیا کہ جو آپ کے پاس ہے وہ میرے پاس نہیں ) اپنے بیٹوں میں سے ایک مجھے دے دو ( خواجہ محمد عمر نے تینوں بیٹے پیش کر دئیے تو اعلی حضرت نے، حضرت خواجہ خان محمد کو منتخب کرکے انکی ظاہری تعلیم وتر بیت کے ساتھ ساتھ رو حانی توجہ بھی شروع فر مادی۔ آپ کی ابتدائی تعلیم کا ذمہ حضرت پیر عبداللطیف شاہ صاحب اور حضرت ثانی مولانا محمد عبداللہ رحمتہ اللہ علیہ کے سپرد کی گئی۔ جس کے بعد آپ دارالعلوم عزیز یہ بھیرہ میں مزید تعلیم کے لئے تشریف لے گئے جہاں بگوی خاندان کے مولانا ظہور احمد بگوی اور مولانا نصیر الدین بگوی رحمہم اللہ خانقاہ سراجیہ کے ارادت مند وں میں سے تھے آپ نے بھیرہ میں تین سال رہ کر درجہ وسطی تک تعلیم حاصل کی، یہاں سے آپ دارالعلوم دیو بند اعلی تعلیم کے لئے تشریف لے گئے ۔اس وقت یہ واقعہ پیش آیا جو کہ حضرت اقدس نے خود سنا یا تھا کہ دارالعلوم دیو بند میں میرا داخلہ ہو چکا تھا مگر میرے دو ساتھیوں کو داخلہ نہ ملا توان کے اصرار پر ہم نے جامعہ اسلامیہ ڈا بھیل میں داخلہ لے لیا جہاں دیگر اساتذہ کرام کے ساتھ ساتھ حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری بھی ہمارے استاد تھے۔ 1943 میں آپ نے دورہ حدیث شریف کے لئے دوبارہ دارالعلوم دیو بند میں داخلہ لیا اور عالم اسلام کی اس عظیم مادر علمی سے اپنا تعلیمی دور مکمل کیا ۔
حضرت اقدس خواجہ خان محمد بلو غت کو پہنچے تو اعلی حضرت مولانا احمد خاں رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی لخت جگر سے آپ کی شادی کر دی ۔ اعلی حضرت رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی زندگی میں ہی فرمادیا تھا کہ خانقاہ سراجیہ کی گدی پر میرا ہم نامبیٹھے گا۔ اس پر میرا فیض خاص ہو گا اور وہ امام وقت ہو گا اسے دنیا دیکھے گی۔ چار دانگ عالم میں اس کا شہرہ ہو گا اس کے اور میرے نام میں الف اور میم کا فرق ہو گا۔ اعلی حضرت کے یہ الہامی کلمات سو فیصد درست ثابت ہوئے اور حضرت خواجہ خان محمد افق ولایت پر ایسے آفتاب کی طرح چمکے جس کی روشنی نے ہزاروں لاکھوں قلوب کو عشق حقیقی کی تپش سے گرما دیا 1941 میں اعلی حضرت مولانا احمد خان رحمتہ اللہ علیہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے اور آپ کی شرعی وصیت کے مطابق آپ کے خلیفہ حضرت ثانی مولانا محمد عبداللہ خانقاہ سراجیہ کے سجادہ نشین ہو ئے تو حضرت اقدس خواجہ خان محمد رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت ثانی کی خدمت و اطاعت میں ایک مثال قائم کردی۔ حضرت ثانی نے بھی حضرت اقدس پر بھر پور توجہ فرمائی کیو نکہ انہیں علم تھا کہ میرے شیخ نے جو امانت میرے سپرد کی ہے دراصل یہ ہی اس امانت کے وارث ہیں۔ اس بات کا اظہار حضرت ثانی رحمتہ اللہ علیہ نے کئی ایک اہم شخصیات سے ملاقات میں بھی کیا تھا۔ حضرت ثانی رحمتہ اللہ علیہ کی زندگی میں حضرت اقدس خواجہ صاحب کے ذمہ اعلی حضرت رحمتہ اللہ علیہ کے خانگی امور کی انجام دہی، لنگر خانہ کے ساتھ ساتھ خانقاہ شریف میں قائم مدرسہ سعدیہ کی تدر یسی ذمہ داریاں بھی عائد تھیں ۔یہاں یہ بھی عرض کردوں کہ میرا تعلق اس خانقاہ عالی سیچار پشتوں سے ہے کہ میرے پردادا حاجی غلام نبی چیمہ کا رو حانی تعلق اعلی حضرت مولانا ابو السعد احمد خان رحمتہ اللہ علیہ سے تھا۔ چیچہ وطنی کے علاقہ میں پہلے پہل خانقاہ سراجیہ کے متعلقین میں حاجی غلام نبی چیمہ ،مولانا غلام محمد (بانی جامع مسجد)،حضرت حافظ احمد دین( دادڑہ بالا) ،حکیم احمد خاں تونسوی ،میر سید نذیر احمد( میر رضا الدین کے دادا جو کہ چیچہ وطنیکی آبادکاری کے وقت یہاں کے تحصیل دار تھے) اور ماسٹر حاجی فضل دین ڈوگر( بھائی عابد مسعود کے دادا) قابل ذکر ہیں۔ اعلی حضرت رحمتہ اللہ علیہ اور حضرت ثانی رحمتہ اللہ علیہ اور آپ دونوں حضرات کے خلیفہ حضرت حاجی جان محمد رحمتہ اللہ علیہ (باگڑ سر گانہ) اکثر وبیشتر چیچہ وطنی تشریف لاتے رہے ہیں ان حضرات کی توجہ اور برکت سے میر سید نذیر احمد نے بطور تحصیل دار اپنی تعیناتی میں یہ طے کیا ہوا تھا کہ شہری حدود کے دس میل کے اندر کسی غیر مسلم کو زرعی زمین الاٹ نہیں کرو نگا اور وہ اپنے اس فیصلے پر عمل بھی کرتے رہے ۔
1956 میں حضرت مولانا محمد عبداللہ کے انتقال کے بعد حضرت خواجہ خان محمد رحمتہ اللہ علیہ خانقاہ سراجیہ کے مسند نشین ہوئے تو اس خانقاہعالی کو اللہ تعالی نے دنیا بھر میں روحانی طور پر روشنی پھیلانے والے آفتاب کی مانند روشن کر دیا۔ اس خانقاہ کے اکابر نے ابتدا سے ہی نہ صرف تحریک تحفظ ختمِ نبوت کی بھرپور سر پرستی فرمائی بلکہ ہر مشکل دور میں اس تحریک کی آبیاری میں بھر پور کردار ادا کیا ۔امیر شریعت سید عطا اللہ شاہ بخاری رحم اللہ علیہ نے اپنے رفقا سے مل کر 1929 میں مجلس احرارِ اسلام کی بنیاد رکھی اور 1934 میں شعب تبلیغ تحفظ ختمِ نبوت قائم کیا تو بانی خانقاہ سراجیہ اعلی حضرت مولانا احمد خاں نے اس تحریک کی بھر پور سر پرستی فرمائی ۔تحریک مسجد شہید گنج کے واقعہ اور لدھا رام کیس میں اعلی حضرت کے مشوروں اور دعاں نے اپنا اثر دکھایا جس کا اظہار اکابراحرار نے متعدد مقامات وواقعات میں کیا ہے ۔قیام پاکستان کے بعد 1953 میں چلنے والی تحریک ختمِ نبوت میں بھی خانقاہ سراجیہ نے اہم کردار ادا کیا۔ حضرت مولانا محمد عبداللہ نے خانقاہ سراجیہ اور لاہور میں اپنی قیام گاہ( بیڈن روڈ) کو تحریک کے لئے وقف کردیا اور حضرت اقدس خواجہ خان محمد سے فرمایا کہ یا تو خانقا ہ کا نظام سنبھالو اور میں تحریک ختمِ نبوت کے لئے کام کروں یا پھر تم تحریک ختمِ نبوت کے لئے وقف ہو جا۔شیخکے حکم پر حضرت خواجہ خان محمد نے تحریک ختمِ نبوت 1953 میں بھر پور حصہ لیا اور میانوالی سے گرفتار ہو کر لاہور جیل میں قید بھی ہو ئے ۔حضرت خواجہ خان محمد برسوں پرانی روایات کے سچے امین تھے اپنے دور کے تمام اہل علم سے حضرت خواجہ خان محمد محبت فرماتے تھے اور تمام اہل علم ودانش بھی آپ کی محبت کا دم بھرتے تھے ۔حضرت خواجہ خان محمد کا حلقہ ارادت پاکستان ،ہندوستان ،بنگلہ دیش ،افغانستان ،انگلستان ،عرب ریاستوں سمیت پوری دنیا میں پھیلا ہوا تھا ۔حضرت مولانا محمد یوسف بنوری رحمتہ اللہ علیہ کے عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوت کے امیر بننے کے ساتھ ہی حضرت بنوری کی خواہش و حکم پر آپ کو عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوت کا نائب امیر منتخب کیا گیا حضرت بنوری کے انتقال کے بعد سے تادم واپسی آپ عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوت کے امیر مرکزیہ رہے ۔عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوت کی امارت اور جمعیت علما اسلام کی سر پرستی کے ساتھ ساتھ مسلک دیوبند کی تمام مذہبی وسیاسی جماعتوں کو حضرت مولانا خواجہ خان محمد رحمتہ اللہ علیہ کی سر پرستی حاصل رہی ۔
راقم الحروف کے والد گرامی حضرت حافظ عبدالرشید کی روایت ہے کہ ایک نجی مجلس میں مولانا مفتی محمود نے حضرت خواجہ خان محمد سے عرض کیا کہ زندگی موت کا علم نہیں لیکن میرے بعد فضل الرحمن( قائد جمعیت ) کا خیال رکھنا ۔پھر دنیا نے دیکھا کہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد نے سیاست کے اس طفلِ مکتب کی انگلی پکڑ کروہ کچھ کردکھا یا کہ غیروں کیساتھ ساتھ اپنے بھی حیران وپر یشان ہوگئے۔ بابائے جمہوریت نواب زادہ نصر اللہ خاں نے بھی حضرت خواجہ خان محمد رحمتہ اللہ علیہ کے حکم پر ہی مولانا فضل الرحمن کی سیاسی تر بیت اور سرپرستی کی حامی بھر ی تھی۔ یہ وہ وقت تھا کہ اگر اس وقت حضرت خواجہ خان محمد رحمتہ اللہ علیہ مولانا فضل الرحمن کی سر پرستی نہ فرماتے تو آج حالات یکسر مختلف ہو تے ۔اس کا اظہار مولانا فضل الرحمن نے اپنے تعزیتی خطاب میں ان الفاظ میں کیا کہمیں جس محاذ پر کام کر رہا ہوں وہ طوفانوں کا محاذ ہے اور میرے راستے میں بے شمار بڑے بڑے طو فان آئے لیکن جب میں دیکھتا تو ان طو فانوں کے سامنے حضرت خواجہ خان محمد رحمتہ اللہ علیہ پہاڑ بن کر کھڑے ہوتے اور طو فان ملیا میٹ ہو جاتے میرے والد گرامی حضرت حافظ عبدالرشید نے تعلیم مکمل کرکے پہلی بیعت خانقاہ سرا جیہ کے فیض یافتہ حضرت حاجی جان محمد رحمتہ اللہ علیہ سے کی جنہیں خانقاہ سراجیہ کے بڑے اکابر نے ضلع ملتان ،ضلع فیصل آباد اور ضلع ساہیوال میں اپنی نیابت عطا فرمائی ہوئی تھی حضرت حاجی جان محمد رحمتہ اللہ علیہ نے پوری دل جمعی اور توجہ کے ساتھ سلسلہ نقشبند یہ مجددیہ کے مقامات کی تکمیل کے بعد اس سلسل عالیہ کی خلافت سے نوازا۔
1962 میں حضرت حاجی جان محمد رحمتہ اللہ علیہ کے انتقال کے بعد حضرت والد محترم نے حضرت خواجہ خان محمد رحمتہ اللہ علیہ سے تجدید بیعت کی تو بعد ازاں حضرت خواجہ خان محمد رحمتہ اللہ علیہ نے بھی کمال شفقت فرماتے ہوئے حضرت والد صاحب کو اپنی خلافت عطا فر مائی اور فرمایا کہ حافظ جی آپ حضرت حاجی جان محمد رحمتہ اللہ علیہ کے کام کو آگے بڑھائیں لیکن حضرت والد محترم نے عرض کیا کہ آنجناب کی موجودگی میں میرے لئے ایسا کرنا ممکن نہیں ہے ۔حضرت والد گرامی نے ہمیشہ خود کو نمودو نمائش سے دور اور اپنی باطنی کیفیت وحیثیت کو پرد اخفا میں ہی رکھا ۔متعدد اسفار میں اپنے شیخ حضرت خواجہ خان محمد رحمتہ اللہ علیہ کے ہمراہ رہے ۔آپ نے سفر حج ۔دارالعلوم دیو بند کے جشن صد سالہ 1980 اور حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ کے مزار سر ھند شریف کے سفر میں متعدد بار کے علاوہ اندرون ملک سینکڑوں مرتبہ حضرت شیخ کے ہمراہ سفر کیے۔ یہاں صاحبزادہ حافظ محمد عابد رحم اللہ علیہ (فرزند ارجمند حضرت ثانی) کا ذکر کیے بغیر چارہ نہیں جن کی محبت وشفقت خانقاہ سرا جیہ سے متعلق ہر شخص کے ساتھ تھی اور ہر کسی کے ساتھ حضرت شیخ کے تعلق کا بھی بخوبی علم ہو تا تھا ہمارے لئے تو وہ خاندان کا ایک فرد تھے اورہر مرحلے میں انہوں نے ہماری سر پرستی فرمائی۔ حضرت والد محترم سے اس قدر انس تھا کہ کبھی خود آگئے اور کبھی والد صاحب کو خانیوال بلا لیا۔ حضرت کے اسفار میں والد محترم کو شامل رکھتے تھے۔ اللہ کے برگزیدہ بندوں کی کرامات ظاہر ہوتی رہتی ہیں ہمارے حضرت خواجہ خان محمد رحمتہ اللہ علیہ کی بھی لامحدود کرامات کی گواہیاں موجود ہیں جن کا احاطہ ناممکن ہے پھر بھی ۔۔۔ سرگودھا کے ایک بزرگ نوٹوں والی سر کار کے نام سے مشہور تھے لوگ ان کے پاس آتے نوٹ پھینک کر چلے جاتے لیکن وہ کسی سے بات نہیں کرتے تھے جو رقم ہوتی وہ بھی غریبوں اور اپنے دیگر متو سلین میں تقسیم کردیتے تھے۔ ایک دن اچانک مسکرائے اور بولے الحمد للہ، خواجہ خان محمد رحمتہ اللہ علیہ قطب کے عہد ے پر فائز ہو گئے اور پھر خاموش ہو گئے ۔چیچہ وطنی میں چودھری مقبول چیمہ ایک زمیندار تھے ۔بڑی عمر کے لوگ جانتے ہیں کہ مقبول چیمہ سخت مزاج اور اکھڑ قسم کے آدمی تھے اس دور میں گاڑی کسی کسی کے پاس ہوتی تھی۔1970 میں حضرت خواجہ خان محمد رحمتہ اللہ علیہ چیچہ وطنی تشریف لائے تو میرے والد محترم کے کہنے پر مقبول چیمہ اپنی کار پر حضرت خواجہ رحمتہ اللہ علیہ کو ہمارے گاں 42/12-L لے کر گئے۔ راستے میں مقبول چیمہ نے کار میں قوالی چلا دی حضرت خواجہ خان محمد رحمتہ اللہ علیہ نے فر مایا کہ اس کو بند کر دو لیکن مقبول چیمہ نے اپنی طبیعت کے مطابق کہا کہ حضرت یہ قوالی ہی ہے کچھ نہیں ہو تا جس پر حضرت خواجہ خان محمد رحمتہ اللہ علیہ نے وہ ٹیپ خود بند کر دی ۔دیکھنے اور سننے والے آج بھی زندہ موجود ہیں کہ کاریگروں نے بہت زور لگا یا لیکن پھر مقبول چیمہ کی کار میں دوبارہ ٹیپ ریکارڈر نہ چل سکا اور مقبول چیمہ نے وہ کار فروخت کر دی ۔والد محترم راوی ہیں کہ 1980 میں دارلعلوم دیو بند (انڈیا) کے صد سالہ جشن کے موقع پر ہم ہندوستان گئے ہمارا ویزہ دیوبند کی بجائے سہارن پور کا تھا میں اور صاحبزادہ حافظ محمد عابد نے سہارنپور کے ایس پی سے رابطہ کیا لیکن اس نے دیوبند کی اجازت دینے سے انکار کر دیا حضرت اقدس کی خدمت میں صورتحال عرض کی تو آپ نے فرمایا کہ ان شا اللہ پرسوں دیوبند چلیں گے۔ دوسرے روز ہم دوبارہ ایس پی آفس گئے تو دیکھا کہ ایس پی سہارنپورنے دیوبند جانے کی اجازت دے دی ہے۔ والد محتر م مارچ 1993 میں ادائیگی عمرہ کے لئے حرمین شریفین گئے صاحبزادہ محمد عابد مرحوم اور حضرت استاد حافظ احمد دین رحمتہ اللہ علیہ بھی شریک سفر تھے۔ یاد رہے کہ حضرت شیخ ہوں یا صاحبزادہ محمد عابد مرحوم جس سفر میں میرے والد محترم ساتھ ہوتے مالیا ت اور طعام کا شعبہ والد محترم کے ہاتھ میں ہوتا۔ 1993 کے سفر میں بھی ایسے ہی ہوا ۔والد صاحب فرماتے تھے کہ ایک دن حساب کیا تو تقریبا 60 ریال حساب میں کم ہوگئے مکمل پڑتال کی لیکن حساب درست نہ ہوسکا۔ اسی دوران حرم کعبہ میں بیٹھ کر تلاوت قرآن مجید کر رہا تھا سامنے بیت اللہ شریف نظر آرہا تھا کہ ایک آدمی میرے پاس آیا اور میرے رومال میں کچھ ریال رکھ کر چلا گیا میں نے دیکھا تو وہ شخص غائب ہوچکا تھا میں نے ریال دیکھے تو وہ اتنے ہی تھے جتنے میرے حساب میں کم ہو رہے تھے اس سے کم نہ زیادہ یہ واقعہ سنا کر والد محترم نے کہا کہ یہ حضرت کی دعا اور توجہ کی بر کت سے ہوا والد محترم نے فرمایا کہ حضرت ثانی رحمتہ اللہ علیہ کے انتقال کے بعد جن دنوں حضرت خواجہ خان محمد رحمتہ اللہ علیہ اپنے گاں ڈنگ تشریف لے گئے اور وہاں مستقل قیام کی غرض سے آپ نے مسجد اور خانقاہ کی تعمیر کاارادہ فرمایا تو انہی دنوں حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوری رحمتہ اللہ علیہ وہاں تشریف لائے تو حضرت خواجہ خان محمد رحمتہ اللہ علیہ نے حضرت رائے پوری کو بتایا کہ حضرت یہاں خانقاہ اور ساتھ مسجد تعمیر کرنے کا ارادہ ہے ۔کچھ دیر تو قف کے بعد حضرت رائے پوری رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا مولانا ضرور یات کے مطابق کمرے وغیرہ تعمیر کرلیں لیکن مسجد تعمیر نہ کروائیں میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ خانقاہ سراجیہ ہی جائیں گے اور خانقاہ آپ کی منتظر ہے جب آپ چلے گئے تو یہ مسجد بے آباد ہو جائے گی جو کہ کسی بھی طرح جائز نہیں کہ مسجد تعمیر کرکے بے آباد کردی جائے حضرت رائے پوری کے الفاظ کچھ ہی عرصہ بعد حقیقت کا روپ دھا ر گئے والد محترم نے فرمایا کہ حضرت ثانی رحمتہ اللہ علیہ کے انتقال کے بعد ہم حضرت حاجی جان محمد کی معیت میں خانقاہ شریف پہنچے تو حضرت حاجی جان محمد نے اپنے سے بہت ہی کم عمر حضرت خواجہ خان محمد کے ہاتھ پر تجدید بیعت کی تو کسی نے پوچھا کہ حاجی صاحب آپ تو بڑے حضرات کے خلفا میں سے ہیں اپنی بڑھاپے کی عمر میں ایک نوجوان کی بیعت کرنے کی کیا ضرورت تھی تو حضرت حاجی جان محمد نے تاریخی جملے ارشاد فرمائے کہ میں اپنے نفس کوبے لگام گھوڑا نہیں بنانا چاہتا اور حضرت حاجی جان محمد بیعت کے بعد ہمیشہ حضرت خواجہ خان محمد کی خدمت میں دو زانوہی بیٹھتے اور بڑے حضرات کی طرح ہی حضرت خواجہ کا ادب و احترام فرماتے تھے۔
جولائی 1997 میں حضرت خواجہ خان محمد رحمتہ اللہ علیہ نے سر ہند شریف ہندوستان کا سفر کیا تو آپ کے ہمراہ صاحبزادہ حافظ محمد عابد ،حضرت حاجی عبدالرشید رحیم یار خان ، مولانا محب النبی لاہور، اورنگ خان موسی زء شریف ،محمود احمد خان اسلام آباد ،حضر ت حافظ عبدالرشید چیچہ وطنی اور راقم الحروف حبیب اللہ شامل تھے ۔جب ہم خانقاہ سرہند شریف پہنچے تو کچھ ہی دیر بعد حضرت اقدس کی معیت میں حضرت امام ربانی مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پر حاضری دی وہاں عجیب واقعہ پیش آیا کہ حضرت اقدس سمیت سب حضرات مراقب ہو گئے میری کم عقلی کہیں یا جہالت کہ میں مراقبہ میں اپنے شیخ کی بجائے حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ کی جانب متوجہ ہوا تو مجھے جھٹکا لگا دو تین بار یہی کیفیت ہونے کے بعد بھی جب میں نہ سمجھ سکا تو یکا یک مجھے ایسا شدید جھٹکا لگا کہ میں پیچھے جا گرا تو پھر میں حضرت مجدد رحمتہ اللہ علیہ کی بجائے اپنے شیخ حضرت اقدس خواجہ خان محمد رحمتہ اللہ علیہ کی جانب متوجہ ہوا جس سے پہلی کیفیت بدل گئی اور غیر معمولی سکون محسوس ہوا۔ بعد ازاں میں نے حضرت والد محترم سے یہ واقعہ عرض کیا تو والد صاحب نے فرمایا کہ یہ بات گستاخی کے زمرے میں آتی ہے کہ اپنے شیخ کی موجودگی میں براہ راست کسی اور سے فیض حاصل کیا جائے اور اگر شیخ موجود نہ بھی ہوں تب بھی کسی سے فیض حاصل کرتے وقت اپنے شیخ کا تصور ذہن میں رکھنا چاہیے ۔ اسی سفر کے دوران حضرت حاجی عبدالرشید مدظلہ، حضرت خواجہ محمد زبیر کے مزار پر حاضر ہوئے تو مکاشفہ میں حضرت خواجہ محمد زبیر نے حاجی عبد الرشید سے فرمایا کہ حضرت خواجہ خان محمد سے کہنا کہ ہمیں بھی مل جائیں اس پیغام پر حضرت اقدس مع احباب کے حضرت خواجہ محمد زبیر کے مزار پر کافی دیر تشریف فرما رہے۔ اس سفر میں حضرت اقدس کی معیت میں وہ کچھ دیکھا اور حاصل کیا کہ قلم لکھنے سے قاصر ہے۔ حضرت خواجہ خان محمد ہمارے والد محترم کی وجہ سے ہم سب پر انتہائی کرم فرماتے تھے۔
میرے والد محترم اپریل 2003 میں فالج کی وجہ سے چلنے پھر نے سے معذور ہو گئے تو کچھ عرصہ بعد حضر ت اقدس میرے والد صاحب کی عیادت کے لئے چیچہ وطنی تشریف لائے اور یہ آپ کا چیچہ وطنی کا آخری دورہ تھا 2006 میں والد محترم کا عمرہ کا پروگرام بنالیکن ویزہ لگنے کے باوجود نہ جا سکے مئی 2007 کو دوبارہ عمرہ کا پروگرام بنا انہی دنوں حضرت شیخ خواجہ خان محمد باگڑ سرگانہ تشریف لائے تو میں والد محترم کو لے کر باگڑ سرگانہ حاضر ہوا پہلے ہم حضرت حاجی جان محمد رحم اللہ علیہ کے مزار پر حاضر ہوئے وہاں مراقبہ کے بعد میں نے ابا جی سے پوچھا کہ حضرت حاجی صاحب سے اجازت مل گئی تو آپ نے فرمایا الحمد للہ۔ اس کے بعد ہم حضرت خواجہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ابا جی نے عمرہ پر جانے کی اجازت مانگی حضرت خواجہ صاحب نے مسکراتے ہوئے اجازت دی تو ابا جی نے پوچھا کہ حضرت میں نے وہیں رہنا ہے یا واپس آ جاں گا تو حضرت رحمتہ اللہ علیہ مسکرائے اور فرمایا حافظ جی آپ جائیں اللہ پاک خیر فرمائیں گے۔ ہم 26مئی 2007 کو حرمین شریفین پہنچ گئے 3 دن مکہ مکرمہ رہنے کے بعد مدینہ منورہ حاضری ہو ئی اور یکم جون بروز جمعتہ المبارک صبح 7 بجے ابا جی ہمیں چھو ڑ کر مالک حقیقی سے جا ملے اور جنت البقیع کے اس قدیم حصہ میں تدفین ہو ئی جہاں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے مزارات واقع ہیں ۔ ابا جی کی زندگی میں بھی حضرت شیخ مجھ ناچیز پر بڑی شفقت فرماتے تھے میں پیدا ہوا تو حضرت شیخ نے میرا نام رکھا ۔کمسنی کے دور میں حضرت شیخ کی گود میں بیٹھتا رہا ۔ میں نے قرآ ن پاک حفظ کیا تو حضرت شیخ نے ختم قرآن کی تقریب میں شرکت فرمائی ۔میری تقریب نکاح میں حضرت شیخ تین دن چیچہ وطنی میں تشریف فرما رہے۔ میرے بچوں سعید احمد اور رقیہ کا نام بھی حضرت شیخ نے تجویز فرمایا یہاں پھر ایک کرامت ہوئی کہ جب سعید احمد پیدا ہوا تو سسرال والوں نے نام تجویز کیے لیکن میں نے کہا کہ نام صرف میرے شیخ ہی رکھیں گے ۔تین سال بعد جب بیٹی پیدا ہو ئی تو میں نے حضرت شیخ سے نام کاعرض کیا تو آپ نے فرمایا کہ اس کے ننھیال والوں سے پو چھو وہ ناراض نہ ہو جائیں ۔چیچہ وطنی کے میر رضا الدین کے والد میر سید ریاض الدین جو کہ خاندانی طور پر موسی زء شریف سے لے کر آج تک خانقاہ سراجیہ سے منسلک ہیں ان میر ریاض الدین سے کسی نے حضرت خواجہ خان محمد کی کرامات کا پو چھا تو انہوں نے کہاکہ میں اپنے شیخ کی دو باتوں سے اتنا مغلوب ہوں کہ اور کچھ سو چتا ہی نہیں کہ سالہا سال ہو گئے دیکھتا ہو ں کے حضرت اقدس کی کوئی نماز تکبیر اولی کے بغیر نہیں ہوئی اور 1956 سے حضرت سے میرا تعلق ہے میں نے بارہا کوشش کی کہ نماز تہجد کا وضو میں خود حضرت کو کراں لیکن پوری ہمت کے ساتھ جلدی اٹھ کر بھی دیکھا تو حضرت کو نماز میں ہی مشغول پایا۔ حضرت شیخ کے ایک مرید صوفی محمد اسلم تھے یہ صا حبِ کشف اور حضرت ثانی رحمتہ اللہ علیہ سے بھی بیعت تھے۔
کئی سال پہلے چیچہ وطنی تشریف لائے میرے ابا جی سے محبت تھی ہمارے ہاں ایک ہفتہ قیام کیا میرے پوچھنے پر متعدد واقعات سنا ئے ایک واقعہ اس طرح سنا یا کہ میں حضرت سید بہا الدین زکریا ملتانی رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پر مراقب ہوا دیکھا کہ حضرت زکریا ملتانی کی مجلس ہے اور حضرت زکریا ملتانی اپنے ہاتھ سے شرکائے مجلس کو چائے دے رہے ہیں جب میری باری آئی تو فرمایا کہ تیری چائے تو کندیاں شریف ہے وہاں جا یہاں کیاکر رہے ہو ۔راقم الحروف نے اپنے ابا جی کی زندگی کے آخری دنوں میں ابا جی سے عرض کیا کہ زندگی موت کا علم نہیں لیکن حضرت شیخ کے بعد ہم کس سے رابطہ رکھیں تو میرے والد گرامی نے فرمایا کہ صاحبزادہ خلیل احمد صاحب سے رابطہ رکھنا ہے اسی طرح گزشتہ سال فروری 2010 میں حضرت صاحبزادہ خلیل احمد مدظلہ اور حضرت صاحبزادہ رشید احمد مدظلہ سرہند شریف (ہندوستان) حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پر تشریف لے گئے آپ کے ہمراہ تقریبا 25 افراد بھی تھے جن میں راقم الحروف بھی شامل تھا اس دوران حضرت صوفی اشفاق اللہ واجد مجددی (جنہیں میں چچا جان کہتا ہوں) نے ایک دن بعد نماز فجر حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پر حاضری دی تو انہیں مکاشفہ میں حضرت مجدد رحمتہ اللہ علیہ کی زیارت نصیب ہوئی حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ نے انہیں فرمایا کہ خلیل احمد کا احترام کیا کرو۔گزشتہ سال جب حضرت اقدس اپنی بیماری کے دنوں میں سیال کلینک ملتان داخل ہوئے تو متعدد بار حاضری ہوئی اور بیماری کے باوجود ہر مرتبہ خصوصی توجہ اور شفقت فرماتیرہے آخری روز انتقال سے دو گھنٹے پہلے بھی حاضرِخدمت ہوا تو شفقت کی انتہا فرما دی کیا معلوم تھا کہ یہ آخری زیارت ہے ابھی گھر نہیں پہنچا تھا کہ اطلاع مل گئی کہ حضرت اقدس ہمیں چھوڑ گئے ۔اگلے روز 6 مئی کو اپنے برادرانِ مکرم حاجی عبداللطیف خالد چیمہ اور بھائی جاوید اقبال چیمہ کی معیت میں دیگر ساتھیوں سمیت خانقاہ سراجیہ حاضری ہوئی تو تاحدِ نگاہ مخلوق خدا کا ہجوم تھا۔ پوری ہمت کے ساتھ جگہ بناتے بناتے پہلی صف میں پہنچا ہی تھا کہ مجا ہد ختمِ نبوت بھا ئی مولانا محمد علی صدیقی نے بازو سے کھینچ کر ایمبو لینس کے ساتھ لگا دیا اور نماز جنازہ ادا کی گئی۔ ہمارے حضرت خواجہ خان محمد رحمتہ اللہ علیہ اب ہمارے درمیان نہیں حضرت کے تمام صاحبزاد گان ہمارے سر کاتاج اورہمارے دلوں کی دھڑ کن ہیں الحمد للہ تمام صاحبزادگان نے ولیِ کامل حضرت شیخ مولانا خلیل احمد دامت برکاتہم کی سجادہ نشینی کو عطائے ربانی تسلیم کرتے ہوئے سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ اور خانقاہ سراجیہ کے لاکھوں خدام کی حوصلہ افزائی فرمائی اور ہمت بڑھائی ہے اللہ تعالی خانقاہ سراجیہ اور سلسلہ عالیہ کو دن دگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے آمین۔
لنک 

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

علمی وفکری اختلاف آپ کا حق ہے۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔