Oct 24, 2014

امورِ تکوینیہ

0 comments

امورِ تکوینیہ


          حضرت شاہ ولی اللہؒ ‘‘تفہیماتِ الٰہیہ’’ جلد اول کے صفحہ
190 پرفرماتے ہیں:
          ابدال اور قطب ابدال اور اُن کا رئیسِ اعظم قطب مدار، ان تمام کا تعلق امور تکوینیہ سے ہوتا ہے۔

أمَّا قُطْبُ الْمَدَارِ وَجُنُوْدُہ الْأَبْدَالُ وَأشْبَاہہمْ فَقَائِمُوْنَ بِالْأسْرَارِ التَّكْوِینِیۃ لَا بِأسْرَارِ  الشَّرِیعَۃ 
اور فرمایا کہ:
وَاَھْلُ الْاِرْشَادِ ھُمْ وَرَثَۃُ الْأَنْبِیَاءِ عَلَیْہِمُ السَّلَام

اور بہرحال قطب مدار اور اس کا لشکر ابدال اور جو اُن کے مشابہ ہیں ان کا تعلق امور تکوینیہ سے ہے نہ کہ امور شرعیہ سے


اور اہلِ ارشاد انبیاء کے وارث ہوتے ہیں۔
          صاحب تفسیر مظہری واقعہ حضرت موسیٰ و حضرت خضر امام ربانی مجدد الف ثانیؒ سے یوں رقم فرماتے ہیں اور یہ واقعہ خود امام ربانیؒ کے مکتوبات میں بھی موجود ہے۔ قاضی ثناء اللہؒ، صاحبِ تفسیر مظہری نے بھی اس کشفِ امام کی تصدیق کی ہے، اس واسطے تفسیر مظہری کا حوالہ دیا ہے۔



            حضرت جؒی نے مناصب کا تذکرہ فرماتے ہوئے ان کے حصول کی دو شرطیں بیان فرمائیں:
‘‘یاد رکھنا یہ مناصب جو میں نے بیان کئے ہیں ان کے حصول کی دو ہی شرطیں ہیں: اول اتباع شریعتِ محمد رسول اللہﷺ بمعہ اتباع سنت رسول اللہﷺ، دوم ذکرِ دوام بمعہ ربط بالشیخ۔ چونکہ شیخ سے قلبی تعلق ہوتا ہے اور بہت ہی نازک تعلق ہوتا ہے، اس کا خیال کیا جائے۔’’
            حضرت جؒی نے ایک ساتھی کو منصب عطا ہونے پر مبارک دی تو وہ اپنی نااہلی کا اظہار کرنے لگے۔ آپؒ نے فرمایا:
دادِ اُو را قابلیت شرط نیست
بلکہ شرطِ قابلیت دادِ اوست


(اس کی عطا کے لئے قابلیت شرط نہیں
بلکہ قابلیت بھی اس کی عطا سے مشروط ہے۔)

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

علمی وفکری اختلاف آپ کا حق ہے۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔