Oct 24, 2014

تصرفِ اولیاء کرامؒ

0 comments

تصرفِ اولیاء کرامؒ

          اب رہا یہ کہ کیا قطب مدار جو واقعات میں تصرف کرتا ہے، وہ خود مختار ہوتا ہے تو عرض ہے کہ ہر گز نہیں۔ یہ سب کچھ باذن اللہ، بامر اللہ کرتا ہے۔ جیسا کہ حضرت خضر کے واقعات کے بعد آپ نے حضرت موسیٰ سے کہا:  وَمَافَعَلْتُھُ عَنْ اَمْرِیْط (سورۃ الکہف82-)۔میں نے ان واقعات کا ارتکاب اپنے اختیار سے نہیں بلکہ بامر اللہ کیا۔ جیسا کہ حضرت عیسیٰ مردوں کو زندہ کرتے تھے اور مٹی کے بت میں جان پھونک سے ڈالتے تھے تو حیات تمام باذنِ اللہ تھی۔ پس قطب مدار کا وجود بھی ثابت ہوا، اس کا متصرف ہونا بھی باذنِ اللہ ثابت ہوا۔
          اور قرآن کریم کی متعدد آیات سے ملائکہ کا متصرف ہونا باذن اللہ ثابت ہے۔ اسی طرح رسول اکرمﷺ اور صحابہ کرام کے فعل کو اللہ تعالیٰ نے اپنا فعل بتایا چونکہ ان کے یہ افعال باذنِ اللہ تھے، تو گویا ان سے صادر نہیں ہوئے، اللہ تعالیٰ سے ہوئے ہیں۔
قَالَ اللہُ تَعَالیٰ:
فَلَمْ تَقْتُلُوْھُمْ وَلٰکِنَّ اللہَ قَتَلَھُمْج وَمَا رَمَیْتَ اِذْ رَمَیْتَ وَلٰکِنَّ اللہَ رَمٰیج
پس آپ نے ان کو قتل نہیں کیا  لیکن اللہ نے ان کو قتل کیا اور جب آپ نے (خاک کی مٹھی) پھینکی تو آپ نے نہیں پھینکی بلکہ اللہ نے پھینکی۔ (سورۃ الانفال۔17)
          صحابہ کرام کا قتل کرنا کفار کو، اللہ تعالیٰ نے اپنے قتل کرنے سے تعبیر فرمایا۔ اسی طرح رسول اکرمﷺ کے فعل کو اپنا فعل فرمایا۔ اس سے ان کا اس فعل میں متصرف ہونا بھی ثابت اور باذن اللہ ہونا بھی ثابت ہے۔
قَالَ اللہُ تَعَالیٰ:
 قُلْ یَتَوَفّٰکُمْ مَّلَکُ الْمَوْتِ الَّذِیْ وُکِّلَ بِکُمْ
آپ فرما دیجئے کہ تمہاری جان موت کا فرشتہ قبض کرتا ہے جو تم پر متعین ہے۔ (سورۃ السجدہ۔11)
قَالَ اللہُ تَعَالیٰ:
فَکَیْفَ اِذَاتَوَفَّتْھُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْھَھُمْ وَاَدْبَارَھُمْ
سو ان کا کیا حال ہوگا جب فرشتے ان کی جان قبض کرتے ہوں گے، ان کے مونہوں پر اور ان کے پشتوں پر مارتے جاتے ہوں گے۔ (سورۃ محمدـ27)
قَالَ اللہُ تَعَالیٰ:
 اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰھُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ۔
جب فرشتے ان لوگوں کی روح قبض کرتے ہیں۔ (سورۃ النساءـ97)
          مارنا، زندہ کرنا فعل باری تعالیٰ کا ہے اور فاعل حقیقی باری تعالیٰ ہے اور ملائکہ کی طرف نسبت موت کی مجازاً ہے اور ظاہراً ہے کیونکہ ظاہراً یہی متصرف ہیں لیکن باذن اللہ ہیں۔ اسی طرح قطب، غوث، قیوم، افراد، قطب وحدت، صدیق یہ بھی متصرف ہیں مگر خود مختار نہیں اور متصرف باذن اللہ ہیں اور صحیحین کی حدیث جو حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے، اس میں اسی طرف اشارہ ہے۔(صحیح بخاری، باب التواضع)
عَنْ اَبِی ہرَیرَۃ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہ؛ ‘‘اِنَّ اللہ قَالَ: ...... وَمَا تَقَرَّبَ اِلَی عَبْدِی بِشَیءٍ اَحَبَّ اِلَی مِمَّا افْتَرَضْتُ عَلَیہ، وَمَا یزَالُ عَبْدِی یتَقَرَّبُ اِلَی بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّہ، فَاِذَا اَحْبَبْتُہ: كُنْتُ سَمْعَہ الَّذِی یسْمَعُ بِہ، وَبَصَرَہ الَّذِی یبْصُرُ بِہ، وَیدَہ الَّتِی یبْطِشُ بِہا، وَرِجْلَہ الَّتِی یمْشِی بِہا،

حضرت ابوہریرہ نبی کریمﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ فرمایا اللہ تعالیٰ نے کہ میرا بندہ فرائض سے قرب حاصل کرتا ہے اور پھر ہمیشہ میرا قرب نوافل سے حاصل کرتا ہے، حتیٰ کہ میں اس کو اپنا محبوب بنا لیتا ہوں۔ جب میں اس کو اپنا محبوب بنا لیتا ہوں تو میں اس کے کان بن جاتا ہوں جن سے وہ سنتا ہے، میں اس کی آنکھیں بن جاتا ہوں جن سے وہ دیکھتا ہے، میں اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جن سے وہ پکڑتا ہے، میں اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے۔
وَبِی یَسْمَعُ وَبِی یَبْصُرُ وَبِی یَبْطِشُ وَبِی یَمْشِی۔

پھر میرے ساتھ سنتا ہے، دیکھتا ہے، اخذ کرتا ہے، چلتا ہے۔
          اس حدیث شریف میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مقرب بندہ کو اپنا محبوب فرمایا جس سے ثابت ہوا کہ قربِ الٰہی کو محبت لازم ہے اور یہ بھی ثابت ہوا کہ اپنے اس محبوب بندہ کے تمام افعال و تصرفات کو اپنے افعال و تصرفات فرمایا۔
گفتہ او گفتہ اللہ بَوَد
گرچہ از حلقوم عبداللہ بَوَد
 
‘‘اللہ کے ولی کی بات اللہ ہی کی بات ہوتی ہے اگرچہ وہ بات اللہ کے بندے کے منہ سے نکلی ہوتی ہے۔’’

چند امور

          ابدال غلام ہیں قطبوں کے، قطب غلام ہے غوث کا، غوث غلام ہے قیوم کا، قیوم غلام ہیں افراد کے، افراد غلام ہیں  قطب وحدت کے، قطب وحدت غلام ہیں صدیق کےاور پھر یہ تمام غلام ہیں و متبع صحیح طور پر ہیں انبیاء کے۔ ان کا فاطمی النسل ہونا ضروری نہیں۔ ہاں، ان مناصب والوں کا خلفاء اربعہ کی نسل سے ہونا ضروری ہے مگر یہ بھی قاعدہ و قانونِ کلی نہیں بلکہ اکثری ہے۔
            حضرت جؒی نے مناصب کے بارے میں اس ضابطہ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:
‘‘عزیزم! میں بھی سیدنا علی المرتضیٰ کی لڑی سے ہوں۔ چونکہ یہ مناصب، قطب مدار، قطب ابدال، قطب الاقطاب، قطب ارشاد، غوث، افراد، قطب وحدت، صدیق یہ عموماً ان خلفاء کی اولاد میں ہی رہتے ہیں، ہاں شاذ و نادر جس پر خدا کی مہربانی ہو جائے، شیخ کی قلبی توجہ اس کی طرف ہو تو ان کو بھی مراتب سے حصہ مل جاتا ہے۔’’

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

علمی وفکری اختلاف آپ کا حق ہے۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔