Oct 24, 2014

0 comments
شرح اسرار        

نیابت نبوت:

          نیابت سے مراد جس کا نائب ہو اس کےاحکام کے مطابق اس کے مشن کی تکمیل میں کوشاں رہے۔

فضیلت انبیاء  

فَقَالَ اللہُ تَعَالیٰ:
تِلْکَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَھُمْ عَلٰی بَعْضٍم
یہ سب رسول، ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی۔ (سورۃ البقرہ253-)
          حضراتِ انبیاء کی شان تمام کائنات سے بلند تر ہے اور اس آیت کی رو سے ان میں بعض کو بعض پر فضیلت حاصل ہے۔حضراتِ  انبیاءِ کرام میں رسولوں کی شان بلند ہے، پھر اولُوالعزم پیغمبروں کی شان اُن سے بلند ہے اور امام الانبیاء حضور اکرمﷺ کی شان سب سے بلند ہے۔ حضور اکرمﷺ کے بعد اولُوالعزم پیغمبروں میں حضرت ابراہیم کا مرتبہ ہے، پھر حضرت موسیٰ اور پھر حضرت نوح اور اُن کے بعد حضرت عیسیٰ کا مرتبہ ہے۔

فضیلت صحابہ کرام

          اتباعِ نبویﷺ کے اعتبار سے امت میں بھی مراتب اور فضیلت کے مقام ہیں۔ حضور اکرمﷺ کے صحابہ اتباعِ نبویﷺ میں اس کمال تک پہنچے کہ حضور اکرمﷺ کے صحابہ کی شان تمام انبیاء کے صحابہ کی شان سے بلند ہے۔حضور اکرمﷺ کے صحابہ میں فضیلت کی ترتیب یہ ہے: حضرت صدیق اکبر کی شان سب صحابہ کرام سے بلند ہے، پھر حضرت فاروق اعظم ،  پھر حضرت عثمان غنی اور پھر حضرت علی المرتضیٰ کا مرتبہ ہے۔ نبی کریمﷺ اور صدیق اکبر کے درمیان کوئی دوسرا مرتبہ ہے نہ منصب۔ کَمَا قَالَ اللہُ تَعَالیٰ:  اِنَّہُ کَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّا۔ (سورۃ مریم، آیت41-) صدیق کے بعد متصل نبوت کا ذکر فرمایا۔
          خلفاء اربعہ کے بعد عشرہ مبشرہ کی شان تمام صحابہ  سے افضل ہے۔ ان حضرات کو حضور اکرمﷺ نے ان کی زندگی میں ہی جنت کی بشارت دے دی تھی۔ عشرہ مبشرہ  کے بعد بدری صحابہ کا مرتبہ ہے:
عَنْ عُمَرَ قَالَ ہٰذَا الْاَمْرُ فِی اَہلِ بَدَرَ مَا بَقِی مِنْہمْ اَحَدٌ  ثُمَّ فِی أَہل اُحَدَ  ثُمَّ فِی كَذَا
(فتح الباری، جلد 13،  ص 257،
 باب الاستخلاف، قدیمی کتب خانہ،کراچی)

یعنی انتخاب خلیفہ کا کام بدری صحابہ  کا ہے جب تک ان میں سے ایک بھی موجود ہو۔پھر احدی صحابہ ہیں پھر اسی طرح،  اسی طرح۔

بدری صحابہ کے بعد اُن صحابہ کا رتبہ ہے جو غزوہ احد میں شریک ہوئے، جیسے فتح الباری سے معلوم ہو چکا ہے اور احدی صحابہ کے بعد بیت رضوان والے صحابہ کی شان ہے۔ پھر مجموعی طور پر تمام صحابہ کرام جو فتح مکہ سے پہلے ایمان لائے، مال خرچ کیا اور جہاد کیا اور ہجرت کی۔ ان کی شان اُن صحابہ سے افضل ہے جو فتح مکہ کے بعد ایمان لائے۔
قَالَ اللہ تَعَالیٰ:
لَا یسْتَوِی مِنْكُمْ مَنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقٰاتَلَط اُولٰئِكَ اَعْظَمُ دَرَجَۃ مِّنَ الَّذِینَ اَنْفَقُوْا مِنْم بَعْدُ وَقٰتَلُوْاط وَكُلًّا وَّعَدَ اللّٰہ الْحُسْنٰىط وَاللہ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیرٌO
جو تم میں سے فتح (مکہ) سے پہلے خرچ کر چکے اور لڑ چکے برابر نہیں۔ وہ ان لوگوں سے درجہ میں بہت بڑے ہیں جنہوں نے اس (فتح مکہ) کے بعد خرچ کیا اور لڑے اور اللہ نے سب کے ساتھ بھلائی کا وعدہ فرما رکھا ہے۔ اور اللہ تمہارے سب اعمال سے باخبر ہیں۔ (سورۃ الحدید، آیت 10)
          قرآن مجید کی اس آیت نے فتح مکہ والوں کی شان اور قبل والوں میں فرق بیان فرمایا۔ جنتی دونوں ہی ہیں مگر قبل فتح مکہ والوں کی شان بہت بلند ہے۔ صحابہ کی شان کے بعد تابعینؒ کی شان ہے، اُن کے بعد تبع تابعینؒ  کی۔ ان کے اہل خیر ہونے کی خبر رسول اکرمﷺ نے خود دی ہے:
خَیْرُ الْقُرُوْنِ قَرْنِیْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ
تمام زمانوں سے میرا زمانہ اچھا ہے پھر اس سے جو ملے گا، پھر اس سے جو ملے گا۔(صحیح بخاری)
          آئمہ اربعہ بھی ان میں داخل ہیں۔ آئمہ اربعہ کے بعد شان اولیاء اللہ کی ہے۔ ان میں علمائے ربانی بھی داخل ہیں۔ شان اور فضیلت ایک کلی مشکک ہے جو کمی بیشی سے ثابت ہوتی ہے۔۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

علمی وفکری اختلاف آپ کا حق ہے۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔