Oct 25, 2014

مخالفتِ اولیاء کرامؒ

0 comments

مخالفتِ اولیاء کرامؒ
          معلوم ہوا کہ اولیاء اللہؒ دو قسم کے ہیں، ایک صاحب ارشاد، دوم صاحبِ تصرف، ان کا وجود قیامت تک رہے گا۔ ان کے وجود کی برکات بھی ثابت ہو چکی ہیں، ان کا تصرف امورِ تکوینیہ میں بھی ثابت ہو چکا ہے مگر وہ لوگ بھی دنیا میں آباد ہیں جن کو ان سے ناحق دشمنی و عداوت ہے۔ صالحین اولیاء اور عارفین کا نام سن کر ان کی قبور تک اکھاڑنے کو تیار ہیں مگر خوب یاد رکھیں! 
حبِ درویشاں کلیدِ جنت است
دشمنِ ایشاں سزائے لعنت است

‘‘اللہ والوں کی محبت جنت کی کنجی ہے اور اہل اللہ کا دشمن لعنت کا مستحق’’
          ‘‘تفسیر مظہری’’ جلد6، صفحہ 138 پر ہے:
لٰكِنْ ہٰذِہِ الْوَجْہۃ یتَسَارَعُ النَّاسُ اِلٰى إِنْكَارِہٖ وَمِنْہ اِنْكَارُ مُوْسٰى  عَلٰى خِضَرَ

لیکن لوگ انکار اولیاء اللہ پر جلدی کرتے ہیں جو اسی قبیل سے ہے، انکار حضرت موسیٰ کا حضرت خضر پر۔
          اصالۃ الکبریٰ یعنی حضورﷺ کی مٹی سے ہونا، اس سے کیا مراد ہے؟ کیا یہ اصطلاح بطور استعارہ استعمال کی گئی ہے۔ رہنمائی فرمائی جائے۔
          ‘‘تفسیر مظہری’’ جلد6، صفحہ 74، سورۃ طہٰ، آیت نمبر 55 پر ہے:
          امام ربانیؒ پر ایک مولوی نے اسی وجہ سے اعتراض کیا تھا کہ امام صاحبؒ نے فرمایا تھا کہ میں محمد رسول اللہﷺ کی مٹی سے ہوں یعنی اصالۃ الکبریٰ کا مدعی ہے۔ اصالۃ الکبریٰ صوفیاء کی اصطلاح میں نبی کی مٹی سے ہونا۔
وَاعْتَرَضَ بِذَلِكَ الدَّعْوىٰ عَلَیہ السَّلَامُ  بَعْضُ النَّاسِ اِمَّا جَہلًا اَوْ عِنَادًا فَوَیلُ لِّمَنْ عَانِدُ اَوْلِیاءِ اللہ تَعَالیٰ لَمْ یذْہبْ عَلٰى حُسْنِ الظَّنِّ فِی شَأْنِہمْ۔ وَاللہُ اَعْلَمُ

بعض آدمیوں نے مجدد صاحبؒ کے اس دعویٰ پر یا بوجہ جہالت کے یا بوجہ ضد و عناد کے اعتراض کیا۔ پس خرابی ہے اس شخص کے لئے جواولیاء اللہ سےدشمنی اختیار کرتا ہے اور ان سے حسنِ ظن نہیں رکھتا۔
          نسیم الریاض میں ہے:
وَقَدْ اَنَکَرَ بَعْضُ الْجَھَلَۃِ فِی زَمَانِنَا... الخ

انکار کیا بعض جہلا نے ہمارے زمانے میں۔
          اور ‘‘روض الریاحین فی حکایات الصالحین’’ صفحہ 9 ، الفصل الاول من المقدمۃ پر امام یافعیؒ نے فرمایا:
اَقَلُّ عَقُوْبَۃَ الْمُنْکِرِ عَلَی الصَّالِحِیْنَ اَنْ یُّحْرَمَ بَرَکَتُھُمْ، قَالُو: وَیُخْشٰی عَلَیْہِ سُوْءُ الْخَاتِمَۃِ نَعُوْذُ بِاللہِ مِنْ سُوْءِ الْقَضَاءِ

کم از کم عذاب جو انکارِ صالحین کی وجہ سے ہوتا ہے، وہ یہ ہے کہ ان کے فیض اور ان کی برکات سے محرومی ہوتی ہے اور پھر سوءِ خاتمہ کا بھی ڈر ہے۔ سوءِ خاتمہ سے اللہ کی پناہ!
مختتم بات: ‘‘نسیم الریاض’’ جلد3، صفحہ 177 (فصل ومن ذلک مااطلع علیہ من الغیوب)پر ہے:
عَنْ عَائشَۃ مَرْفُوْعًا فَقَالَ
 لَا تَذْھَبُ الْاُمَّۃُ حَتّٰی یَلْعَنَ آخِرُھَا أَوَّلَھَا ..........


....وَاَدْخَلَ بَعْضُھُمْ فِی ھٰذَا مَنْ سَبَّ بَعْضَ الْاَوْلِیَاءِ وَعُلَمَاءَ السَّلَفِ وَذَکَرَھُمْ بِالسُّوءِ وَافْتَرٰی عَلَیْھِمْ مَالَمْ یَقُوْلُوْہٗ کَمَا شَاھَدْنَاہٗ مِنْ مبَعْضِ السُّفَھَاءِ یَسُبُّوْنَ الْعَارِفَ بِاللہِ سَیِّدِیْ مُحْیِ الدِّیْنَ بْنَ عَرَبِیِّ وَسَیِّدِیْ عُمَرَ بْنَ الْفَارِضِ وَنَحْوِھِمَا مِنْ اَوْلِیَاءِ اللہَ تَعَالیٰ حَتّٰی صَنَّفَ بَعْضُھُمْ تَصَانِیْفَ فِیْ الرَّدِّ عَلَیْھِمْ وَمَقَامُھُمْ اَعْلیٰ مِنْ ذَالِکَ وَالْاِشْتِغَالُ بِمِثْلِ  ھٰذَا تَضِیْعٌ لِلزَّمَانِ وَتَسْوِیْدٌ لِوُجُوْہِ الْاَوْرَاقِ وَیَخْشٰی عَلیٰ الْمُتَصَدِّی لِذَالِکَ مِنْ سُوءِ الْخَاتِمَۃِ نَفَعَنَا اللہُ تَعَالیٰ بِبَرْکَاتِھِمْ وَحَشَرَنَا فِیْ زُمْرَتِھِمْ

مرفوع حدیث: اماں عائشہ صدیقہ  فرماتی ہیں کہ فرمایا رسول اللہﷺ نے، میری امت دنیا سے نہ جائے گی یہاں تک کہ ان میں سے بعد میں آنے والے اپنے پیش روؤں پر لعنت کریں گے۔
 اور علماء نے اس میں داخل کیا ہے اس شخص کو بھی جو اولیاء اللہ کو برا بھلا کہے گا اور علماء سلف صالحین کو برائی سے یاد کرے گا اور ان پر افترا اور جھوٹ گھڑے گا۔ انہوں نے کہا تھا ، جیسا ہم نے دیکھا ہے کہ بعض بے دین، بے وقوف (مولوی) ولی اللہ محی الدین ابن عربیؒ اور عارف کامل سید عمر بن فارضؒ اور ان کے امثال کو گالیاں دیتے ہیں یعنی بعض دوسرے اولیاء اللہ کو بھی۔ حتیٰ کہ بعض بے دین علماء نے ان کے رد میں کتابیں بھی لکھ دی ہیں حالانکہ ان اولیاء اللہ کی شان بہت بلند ہے ان کی گستاخیوں سے۔ ان بے وقوف علماء کے رد میں مشغول ہونا تضیع اوقات کرنا ہے اور کاغذ سیاہ کرنے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے سوئے خاتمہ کا ڈر ہے۔ اللہ  تعالیٰ ان اولیاء اللہ کے وجود سے اور ان کی برکات سے ہمیں نفع عطا فرمائے اور قیامت کے دن ان کی جماعت میں اٹھائے۔
          نوٹ: جس طرح صحابہ کرام پر سب و شتم کرنے والے اس حدیث سے ثابت ہے کہ ملعون ہیں، اسی طرح اولیاء اللہ تعالیٰ پر سب و شتم کرنے والے بھی ملعون ہوئے۔
وجوہِ مخالفت اولیاء کرام
    اولیاء اللہ کے خلاف فتویٰ دینا یا ان کی مخالفت کرنا یا ان کو برا کہنا یا ان پر اعتراض کرنا یا ان کی ہستی یا ان کے کمال کا یا ان کے وجود کی برکات کا یا ان کے باذنِ اللہ تصرفاتِ امورِ تکوینیہ کا انکار کرنا دو وجہ سے ہوتا ہے:
بوجہ جہالت
          یا تو بوجہ جہالت کے کرتے ہیں کہ علومِ صوفیا سے بے علم ہونے کی وجہ سے اعتراض کرتے ہیں کہ یہ خلافِ شرع ہے خواہ وہ حقیقت میں عین ثواب و مطابق شریعت ہی ہو۔
          حضرت خضر نے جو کچھ کیا تھا، عین ثواب تھا اور حق تھا، بامراللہ تھا مگر حضرت موسیٰ کو وہ علم نہیں دیا گیا تھا تو حضرت خضر پر انکار کرنا جائز فرمایا۔ معلوم ہوا کہ جب اکابر انبیاء میں سے بعض کو یہ علم نہ دیا گیا تھا تو دوسرے عوام کا کیا حال ہوگا!
حضرت مولانا عبدالحی لکھنویؒ نے ‘‘الرفع و تکمیل’’ کے صفحہ 310 پر اس تعصب کی کیا خوب وضاحت فرمائی ہے۔
وَمِنْ ذَلِكَ جَرْحُ الذَّہبِی فِی ‘‘مِیزَانِہٖ’’ وَسِیرِ النُّبَلَاءِ وَغَیرِہمَا مِنْ تَالِیفَاتِہٖ فِی كَثِیرٍ مِنَ الصُّوْفِیۃ وَاَوْلِیاءِ  الْاُمَّۃ فَلَا تَعْتَبِرْ بِہٖ مَالَمْ تَجِدْ غَیْرَہٗ مِنْ مُّتَوَسِّطِی الْاَجِلَّۃِ وَمُنْصِفِی الْاَئِمَّۃِ مُوَافِقًا لَہٗ ، وَذَلِكَ لِمَا عُلِمَ مِنْ عَادَۃ الذَّہبِی بِسَبَبِ تَقَشُّفِہ وَغَایۃ وَرْعِہٖ وَاِحْتِیاطِہٖ وَتَجَرُّدِہٖ عَنْ اَشِعَّۃ اَنْوَارِ التَّصَوُّفِ وَالْعِلْمِ الْوَہبِی الطَّعْنُ عَلٰى اَكَابِرِ الصُّوْفِیۃِ الصَّافِیۃ وَضِیْقُ الْعَطَنِ فِیْ مَدْحِ ھٰذِہِ الطَّائِفَۃِ النَّاجِیَۃِ کَمَالَا یَخْفٰی عَلٰی مَنْ طَالَعَ کُتُبَہٗ

امام ذہبی نے میزان و سیر النبلاء میں اور اُن کے علاوہ دوسری تصنیفات میں اکثر صوفیاء اور اولیاء اللہ پر جرح کی ہے۔
پھر فرمایا، یہ جرح اس وجہ سے کی کہ امام ذہبی کا دل خالی ہے انوارِ تصوف اور علم وہبی لدنی سے۔ اس لئے ایسا کرنا امام ذہبی کی عادت ہوگئی ہے، طعن کرتا ہے اکابر صوفیاء پر یعنی اولیاء اللہ پر طعن کرنا اس کی عادت ہو چکی ہے۔
          پھر اسی کتاب میں صفحہ 318 پرفرماتے ہیں:
مَعَ اَنَّ الْحَافِظَ الذَّہبِی كَانَ مِنْ اَشَدِّ الْمُنْكِرِینَ عَلَى الشَّیخ أَی مُحْیی الدّینَ بْنَ الْعَرَبِی وَعَلٰى طَائِفَۃ الصُّوفِیۃ ہوَ وَابْنُ تَیمِیۃ

بے شک الحافظ الذہبی شیخ محی الدین ابن عربیؒ اور جماعت صوفیاء کا انکار کرنے والوں میں متشدد تھا اور یہی حال ابن تیمیہ  کا بھی ہے۔
          پھر صفحہ نمبر 131 پرفرماتے ہیں:
وَقَوْلُ التَّاجِ السُّبْکِی فِی طَبَقَاتِ الشَّافِعِیَّۃِ ھٰذَا شَیْخُنَا الذَّھَبِی لَہٗ عِلْمٌ وَدِیَانَۃٌ وَعِنْدَہٗ عَلٰی اَھْلِ السُّنَّۃِ تَحَامُلٌ مُفْرِطٌ فَلَایَجُوْزُ اَنْ یُّعْتَمَدَ عَلَیْہِ وَھُوَ شَیْخُنَا وَمُعَلِّمُنَا غَیْرَ اَنَّ الْحَقَّ اَحَقُّ بِالْاِتِّبَاعِ۔
 وَقَدْ وَصَلَ مِنَ التَّعَصُّبِ الْمُفْرِطِ اِلٰى حَدٍّ یسْتَحْیٰى مِنْہ، وَأَنَا اَخْشٰى عَلَیہ مِنْ غَالِبِ عُلَمَاءِ الْمُسْلِمِینَ وَاَئِمَّتِہم الَّذِینَ حَمَلُوْا الشَّرِیعَۃ النَّبَوِیۃ، فَاِنْ غَالِبَہمْ أَشَاعِرَۃ وَہوَ اِذَا وَقَعَ بِأَشْعَرِی لَا یبْقی وَلَا یذر وَالَّذِی أَعْتَقِدْہ أَنَّہمْ خُصَمَاؤُہ یوْمَ الْقِیامَۃ

علامہ تاج سببکی کا قول طبقات شافعیہ میں موجود ہے۔ وہ علامہ ذہبی کے متعلق فرماتے ہیں: ہمارے شیخ علامہ ذہبی عالم دین اور دیانت دار شخص ہونے کے باوجود اہل سنت کے نزدیک حدود سے تجاوز کرنے والے ہیں لہٰذا ان پر کامل بھروسہ نہیں کیا جا سکتا حالانکہ وہ ہمارے شیخ اور استاد ہیں لیکن حق بات ہی باعث اتباع ہے۔
تحقیق صوفیاء کے حق میں تعصب، عناد اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ حیاء کیا جاتا ہے اس کے بیان سے اور میں خوف کرتا ہوں علماء مسلمین اور ائمہ دین سے، وہ ائمہ دین جنہوں نے شریعت محمدیہﷺ کا بوجھ اٹھایا۔ غالب ان میں سے اشاعرہ ہیں اور امام ذہبی نے جب امام اشعریؒ کو نہیں چھوڑا تو پھر یہ کسی کو بھی نہیں چھوڑتا اور نہ ہی چھوڑے گا اور وہ چیز کہ جس کا میں عقیدہ رکھتا ہوں کہ تحقیق یہ علمائے دین اور ائمہ دین میدانِ قیامت میں ذہبی کے دشمن ہوں گے۔
          امام ذہبی کے اس تعصب میں عناد، ضد اور لاعلمی دونوں ظاہر ہیں۔ جو شخص اس نور سے منور القلب نہ ہو تو دوسرے صاحب بصیرت حضرات پر اعتراض کرتا ہے اور بوجہ عدم بصیرت کے اس کا حق یہ تھا کہ کہتا کہ بھائی میں اس علم سے اندھا ہوں اور نہ کہ بوجہ اندھا پن کے انکار کرتا، چہ جائیکہ بوجہ ناسمجھی کے اعتراض کرتا۔
بوجہ ضد، عناد و حسد
          دوسری وجہ انکار کی محض عناد و ضد ہے اور صلحاءِ امت پر حسد ہے جس کا علاج ہی محال ہے۔ اس کا کیا علاج کیا جائے کہ جو یہ کہے کہ فلاں شخص کو خدا نے یہ علم دیا ہے اور ہمیں کیوں نہیں دیا، لہٰذا علم کا بھی انکار کر بیٹھے اور لوگوں کی زبان سے محفوظ رہنا محال ہے۔ حسد کی آگ ان کے دل میں ہمیشہ جلتی رہے گی۔
          ‘‘فتح الملہم’’ جلد اول، صفحہ202 (تحت ترجمۃ الامام الاعظم ابوحنیفۃ   ؒ ) پر ہے:
وَقَدْ رُوِی أَنَّ مُوْسٰى عَلَیہ السَّلَام: ‘‘قَالَ یَارَبِّ اِقْطَعْ عَنِّیْ أَلْسِنَ بَنِیْ اِسْرَائیْلَ’’ فَأَوْحٰی اللہ تَعَالٰى إِلَیْہِ: یا مُوْسٰى لَمْ أَقْطَعْھَا عَنْ نَفْسِیْ فَکَیْفَ اَقْطَعُھَا عَنْکَ

حضرت موسیٰ نے دعا مانگی کہ بارِخدایا مجھ سے بنی اسرائیل کی زبان بند کردے کہ میں ان کی زبان سے محفوظ رہوں۔ وحی آئی کہ جب میں نے ان کی زبانیں اپنی مخالفت میں بند نہیں کیں تو تیرے لئے کیسے بند کردوں!

اشعار:

وَلَسْتُ بِنَاجٍ مِّنْ مَّقَالَۃِ طَاعِنٍ


وَلَوْ کُنْتُ فِیْ غَارِ عَلیٰ جَبَلِ  وَعر

میں طعن کرنے والوں کے طعن سے نہ بچ سکا

اگرچہ میں کسی سخت پہاڑ کی غار میں ہوں
وَمَنْ ذَا الَّذِیْ یَنْجُوْ مِنَ النَّاسِ سَالِمًا


وَلَوْ غَابَ عَنْھُمٗ بَیْنَ خَافِیتی نسر




اَلَاقُلْ لِمَنْ ظَلَّ لِیْ حَاسِدًا


اَتَدْرِیْ عَلیٰ مَنْ اَسَأْتَ الاَدَبَ

خبردار ہو وہ شخص جو میرا حاسد ہے!

کیا تو نہیں جانتا ہے کہ کس کی بے ادبی کر رہا ہے!
اَسَأْتَ عَلَی اللّٰہِ فِیْ فِعْلِہٖ


کَاَنْ لَّمْ تَرْضَ لِیْ مَاوَھَبَ

یہ حسد بے ادبی شانِ خداوندی کی نہیں ہے!

گویا اللہ سے، جو اس نے ہم کو یہ انعام دیا ہے، تو راضی نہیں ہے!
          مشہور بات ہے کہ کوئی جاہل عالم کے علم کی انتہاءکو نہیں سمجھ سکتا۔ عالم کے علم کو عالم ہی سمجھ سکتا ہے۔ اِسی طرح ہر فن والے کو اُسی فن کا ماہر ہی سمجھ سکتا ہے۔ یہی حالت ہے ولی کی کہ اس کو کامل ولی ہی سمجھ سکتا ہے۔
          علامہ شعرانیؒ ‘‘لواقخ الانوار فی طبقات الاخیار المعروف بالطبقات الکبریٰ’’ جلد اول، صفحہ 13 پر فرماتے ہیں:
أَنَّ الْوَلِی لَا یَعْرِفُ صِفَاتَہٗ إِلَّا الْأَوْلِیَاءُ  فَمِنْ أَینَ لِغَیرِ الِوَلِی نَفْی الْوِلَایۃ عَنْ إِنْسَانٍ؟
مَا ذَاكَ إِلَّا مَحْضُ تَعَصُّبٍ، كَمَا نَرىٰ فِی زَمَانِنَا ہٰذَا مِنْ إِنْكَارِ ابْنِ تَیمِیۃ عَلَینَا وَعَلٰى إِخْوَانِنَا مِنَ الْعَارِفِینَ فَاحْذَرْ یا أَخِی مِمَّنْ كَانَ ہٰذَا وَصَفُہ وَفِرَّ مِنْ مُجَالَسَتِہٖ فِرَارَكَ مِنَ السَّبُعِ الضَّارِی

محقق بات ہے کہ ولی اللہ کی صفات کو اور ذات کو ولی اللہ ہی پہچان سکتا ہے اور جب غیر ولی اللہ، ولی اللہ کی نفی کرتا ہے یا طعن کرتا ہے، یہ نفی یا طعن تعصب محض کے سوا کچھ نہیں۔ جیسا تو دیکھتا ہے، اس ہمارے زمانہ میں ابن تیمیہ کا انکار کرنا ہم پر اور دوسرے ہمارے بھائی عارفین پر۔ پس اے بھائی! ڈر اس شخص سے اور اس کی مجلس سے اور وعظ سے دور بھاگ جس کی یہ حالت ہو کہ اولیاء اللہ پر طعن کرتا ہو اور اس طرح بھاگ جس طرح انسان درندہ پھاڑنے والے سے بھاگتا ہے۔
          گویا ایسے لوگ جو صلحائے امت پر طعن کریں، جیسا آج صحابہ کرام پر یا سابقہ علماء پر اور اولیاء اللہ پر کر رہے ہیں، یہ بھی درندوں سے کم نہیں۔
          اسی تعصب عناد کی بناء پر علمائے سوء اور مفقودُ البصیرت صاحبان نے اولیاء اللہ کو قسم قسم کی ایذائیں پہنچائیں۔


            لوگ سمجھتے ہیں کہ ایک شخص کو اللہ نے یہ نعمت عطا کی ہے تو شاید ہمیں اسے اپنے سے بڑا ماننا پڑے گا۔ اس ضد میں انکار کرتے رہتے ہیں۔ جب ایسے لوگ چلے جاتے ہیں تو پھر انہیں احساس ہوتا ہے۔ صدیوں تک ان صوفیاء کی کہی ہوئی باتوں کے حوالے دیتے رہتے ہیں کہ فلاں نے یہ فرمایا تھا۔ عجیب بات ہے کہ بڑے بڑے بزرگوں مثلاً حضرت بایزید بسطامیؒ یا ابوالحسن خرقانیؒ کو شہروں سے نکال دیا گیا، کفر کے فتوے لگائے گئے کہ یہ زندیق ہیں، یہ بے دین ہیں، مسلمان ہی نہیں۔ ان کا وصال آبادیوں سے باہر جنگلوں میں ہوا۔ جب وہ دنیا میں نہ رہے اور صدیاں بیت گئیں، لوگ ان کی قبروں پر بیٹھے ہیں۔ صوفیائے کرام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین میں بہت کم نام ایسے ملتے ہیں، جن کی زندگی میں کسی نے حقیقی طور پر ان سے استفادہ کیا ہو۔
            محی الدین ابن عربیؒ کو شیخ اکبر کہتے ہیں لیکن زندگی میں کیا، ابھی تک ایک طبقہ ہے جو ان پر کفر کا فتویٰ لگاتا ہے۔ اللہ نے اس شخص کو اتنی وسیع نظر دی تھی کہ اس نے اس دور میں ایک چھوٹا سا رسالہ لکھا تھا۔ مالا بدقبل القیامہ جن میں ان عجائبات کا ذکر ہے جو قیامت سے پہلے ضرور ظاہر ہوں گے۔اس بندے نے آج کی باتیں کشفاً اس رسالے میں لکھی تھیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ یہ جو کہا جاتا ہے سورج سوا نیزے پر آئے گا یہ تو لوگوں کو قیامت سے پہلے زمین پر روشنی سوا نیزے پر ٹنگی ہوئی نظر آئے گی گویا آج کی سٹریٹ لائٹس صدیوں قبل وہ شخص دیکھ کر لکھتا ہے۔ آج کے ہوائی جہاز اور راکٹ کی سواری کے متعلق وہ رسالے میں لکھتے ہیں کہ ایسی سواریاں ہوں گی جو مہینوں کی مسافت دنوں میں طے کریں گی اور وہ کھانے پینے والی یعنی ذی روح نہیں ہوں گی۔ آپ نے فتوحات مکیہ جب لکھی اس وقت پریس تو نہیں تھا۔ قلم سے لکھی اور لکھنے کے بعد اسے بیت اللہ کی چھت پر پھینک دیا۔ برسوں پڑی رہی، بارشیں ہوئیں، طوفان آئے، برس ہا برس بعد کوئی مرمت کے لئے یا کسی اور غرض سے جب اوپر گیا تو یہ کتاب چھت پر پڑی تھی لیکن اس کا کوئی حرف تک میلا نہ ہوا، اسکے باوجود اس کتاب سمیت آج بھی کئی لوگ انہیں ماننے کو تیار نہیں۔ صوفیاء انہیں شیخ اکبر یا بزرگ صوفی کہتے ہیں۔
            بہرحال یہ ہوتا رہا ہے اور ہوتا رہے گا کیونکہ انسان اپنی انا میں گرفتار ہو کر یہ کرتا رہتا ہے اور جب یہ لوگ گزر جاتے ہیں اور یہ باتیں بتانے والا موجود کوئی نہیں ہوتا تو پھر اس بندے کی صورت تلاش کرنے کے لئے ان کی تصنیفات، ان کی کتابیں، ان ک 

مخالفتِ اولیاء کرامؒ

          معلوم ہوا کہ اولیاء اللہؒ دو قسم کے ہیں، ایک صاحب ارشاد، دوم صاحبِ تصرف، ان کا وجود قیامت تک رہے گا۔ ان کے وجود کی برکات بھی ثابت ہو چکی ہیں، ان کا تصرف امورِ تکوینیہ میں بھی ثابت ہو چکا ہے مگر وہ لوگ بھی دنیا میں آباد ہیں جن کو ان سے ناحق دشمنی و عداوت ہے۔ صالحین اولیاء اور عارفین کا نام سن کر ان کی قبور تک اکھاڑنے کو تیار ہیں مگر خوب یاد رکھیں! 
حبِ درویشاں کلیدِ جنت است
دشمنِ ایشاں سزائے لعنت است

‘‘اللہ والوں کی محبت جنت کی کنجی ہے اور اہل اللہ کا دشمن لعنت کا مستحق’’
          ‘‘تفسیر مظہری’’ جلد6، صفحہ 138 پر ہے:
لٰكِنْ ہٰذِہِ الْوَجْہۃ یتَسَارَعُ النَّاسُ اِلٰى إِنْكَارِہٖ وَمِنْہ اِنْكَارُ مُوْسٰى  عَلٰى خِضَرَ

لیکن لوگ انکار اولیاء اللہ پر جلدی کرتے ہیں جو اسی قبیل سے ہے، انکار حضرت موسیٰ کا حضرت خضر پر۔
          اصالۃ الکبریٰ یعنی حضورﷺ کی مٹی سے ہونا، اس سے کیا مراد ہے؟ کیا یہ اصطلاح بطور استعارہ استعمال کی گئی ہے۔ رہنمائی فرمائی جائے۔
          ‘‘تفسیر مظہری’’ جلد6، صفحہ 74، سورۃ طہٰ، آیت نمبر 55 پر ہے:
          امام ربانیؒ پر ایک مولوی نے اسی وجہ سے اعتراض کیا تھا کہ امام صاحبؒ نے فرمایا تھا کہ میں محمد رسول اللہﷺ کی مٹی سے ہوں یعنی اصالۃ الکبریٰ کا مدعی ہے۔ اصالۃ الکبریٰ صوفیاء کی اصطلاح میں نبی کی مٹی سے ہونا۔
وَاعْتَرَضَ بِذَلِكَ الدَّعْوىٰ عَلَیہ السَّلَامُ  بَعْضُ النَّاسِ اِمَّا جَہلًا اَوْ عِنَادًا فَوَیلُ لِّمَنْ عَانِدُ اَوْلِیاءِ اللہ تَعَالیٰ لَمْ یذْہبْ عَلٰى حُسْنِ الظَّنِّ فِی شَأْنِہمْ۔ وَاللہُ اَعْلَمُ

بعض آدمیوں نے مجدد صاحبؒ کے اس دعویٰ پر یا بوجہ جہالت کے یا بوجہ ضد و عناد کے اعتراض کیا۔ پس خرابی ہے اس شخص کے لئے جواولیاء اللہ سےدشمنی اختیار کرتا ہے اور ان سے حسنِ ظن نہیں رکھتا۔
          نسیم الریاض میں ہے:
وَقَدْ اَنَکَرَ بَعْضُ الْجَھَلَۃِ فِی زَمَانِنَا... الخ

انکار کیا بعض جہلا نے ہمارے زمانے میں۔
          اور ‘‘روض الریاحین فی حکایات الصالحین’’ صفحہ 9 ، الفصل الاول من المقدمۃ پر امام یافعیؒ نے فرمایا:
اَقَلُّ عَقُوْبَۃَ الْمُنْکِرِ عَلَی الصَّالِحِیْنَ اَنْ یُّحْرَمَ بَرَکَتُھُمْ، قَالُو: وَیُخْشٰی عَلَیْہِ سُوْءُ الْخَاتِمَۃِ نَعُوْذُ بِاللہِ مِنْ سُوْءِ الْقَضَاءِ

کم از کم عذاب جو انکارِ صالحین کی وجہ سے ہوتا ہے، وہ یہ ہے کہ ان کے فیض اور ان کی برکات سے محرومی ہوتی ہے اور پھر سوءِ خاتمہ کا بھی ڈر ہے۔ سوءِ خاتمہ سے اللہ کی پناہ!
مختتم بات: ‘‘نسیم الریاض’’ جلد3، صفحہ 177 (فصل ومن ذلک مااطلع علیہ من الغیوب)پر ہے:
عَنْ عَائشَۃ مَرْفُوْعًا فَقَالَ
 لَا تَذْھَبُ الْاُمَّۃُ حَتّٰی یَلْعَنَ آخِرُھَا أَوَّلَھَا ..........


....وَاَدْخَلَ بَعْضُھُمْ فِی ھٰذَا مَنْ سَبَّ بَعْضَ الْاَوْلِیَاءِ وَعُلَمَاءَ السَّلَفِ وَذَکَرَھُمْ بِالسُّوءِ وَافْتَرٰی عَلَیْھِمْ مَالَمْ یَقُوْلُوْہٗ کَمَا شَاھَدْنَاہٗ مِنْ مبَعْضِ السُّفَھَاءِ یَسُبُّوْنَ الْعَارِفَ بِاللہِ سَیِّدِیْ مُحْیِ الدِّیْنَ بْنَ عَرَبِیِّ وَسَیِّدِیْ عُمَرَ بْنَ الْفَارِضِ وَنَحْوِھِمَا مِنْ اَوْلِیَاءِ اللہَ تَعَالیٰ حَتّٰی صَنَّفَ بَعْضُھُمْ تَصَانِیْفَ فِیْ الرَّدِّ عَلَیْھِمْ وَمَقَامُھُمْ اَعْلیٰ مِنْ ذَالِکَ وَالْاِشْتِغَالُ بِمِثْلِ  ھٰذَا تَضِیْعٌ لِلزَّمَانِ وَتَسْوِیْدٌ لِوُجُوْہِ الْاَوْرَاقِ وَیَخْشٰی عَلیٰ الْمُتَصَدِّی لِذَالِکَ مِنْ سُوءِ الْخَاتِمَۃِ نَفَعَنَا اللہُ تَعَالیٰ بِبَرْکَاتِھِمْ وَحَشَرَنَا فِیْ زُمْرَتِھِمْ

مرفوع حدیث: اماں عائشہ صدیقہ  فرماتی ہیں کہ فرمایا رسول اللہﷺ نے، میری امت دنیا سے نہ جائے گی یہاں تک کہ ان میں سے بعد میں آنے والے اپنے پیش روؤں پر لعنت کریں گے۔
 اور علماء نے اس میں داخل کیا ہے اس شخص کو بھی جو اولیاء اللہ کو برا بھلا کہے گا اور علماء سلف صالحین کو برائی سے یاد کرے گا اور ان پر افترا اور جھوٹ گھڑے گا۔ انہوں نے کہا تھا ، جیسا ہم نے دیکھا ہے کہ بعض بے دین، بے وقوف (مولوی) ولی اللہ محی الدین ابن عربیؒ اور عارف کامل سید عمر بن فارضؒ اور ان کے امثال کو گالیاں دیتے ہیں یعنی بعض دوسرے اولیاء اللہ کو بھی۔ حتیٰ کہ بعض بے دین علماء نے ان کے رد میں کتابیں بھی لکھ دی ہیں حالانکہ ان اولیاء اللہ کی شان بہت بلند ہے ان کی گستاخیوں سے۔ ان بے وقوف علماء کے رد میں مشغول ہونا تضیع اوقات کرنا ہے اور کاغذ سیاہ کرنے ہیں۔ ایسے لوگوں کے لئے سوئے خاتمہ کا ڈر ہے۔ اللہ  تعالیٰ ان اولیاء اللہ کے وجود سے اور ان کی برکات سے ہمیں نفع عطا فرمائے اور قیامت کے دن ان کی جماعت میں اٹھائے۔
          نوٹ: جس طرح صحابہ کرام پر سب و شتم کرنے والے اس حدیث سے ثابت ہے کہ ملعون ہیں، اسی طرح اولیاء اللہ تعالیٰ پر سب و شتم کرنے والے بھی ملعون ہوئے۔

وجوہِ مخالفت اولیاء کرامؒ

          اولیاء اللہ کے خلاف فتویٰ دینا یا ان کی مخالفت کرنا یا ان کو برا کہنا یا ان پر اعتراض کرنا یا ان کی ہستی یا ان کے کمال کا یا ان کے وجود کی برکات کا یا ان کے باذنِ اللہ تصرفاتِ امورِ تکوینیہ کا انکار کرنا دو وجہ سے ہوتا ہے:

بوجہ جہالت

          یا تو بوجہ جہالت کے کرتے ہیں کہ علومِ صوفیا سے بے علم ہونے کی وجہ سے اعتراض کرتے ہیں کہ یہ خلافِ شرع ہے خواہ وہ حقیقت میں عین ثواب و مطابق شریعت ہی ہو۔
          حضرت خضر نے جو کچھ کیا تھا، عین ثواب تھا اور حق تھا، بامراللہ تھا مگر حضرت موسیٰ کو وہ علم نہیں دیا گیا تھا تو حضرت خضر پر انکار کرنا جائز فرمایا۔ معلوم ہوا کہ جب اکابر انبیاء میں سے بعض کو یہ علم نہ دیا گیا تھا تو دوسرے عوام کا کیا حال ہوگا!
          حضرت مولانا عبدالحی لکھنویؒ نے ‘‘الرفع و تکمیل’’ کے صفحہ 310 پر اس تعصب کی کیا خوب وضاحت فرمائی ہے۔
وَمِنْ ذَلِكَ جَرْحُ الذَّہبِی فِی ‘‘مِیزَانِہٖ’’ وَسِیرِ النُّبَلَاءِ وَغَیرِہمَا مِنْ تَالِیفَاتِہٖ فِی كَثِیرٍ مِنَ الصُّوْفِیۃ وَاَوْلِیاءِ  الْاُمَّۃ فَلَا تَعْتَبِرْ بِہٖ مَالَمْ تَجِدْ غَیْرَہٗ مِنْ مُّتَوَسِّطِی الْاَجِلَّۃِ وَمُنْصِفِی الْاَئِمَّۃِ مُوَافِقًا لَہٗ ، وَذَلِكَ لِمَا عُلِمَ مِنْ عَادَۃ الذَّہبِی بِسَبَبِ تَقَشُّفِہ وَغَایۃ وَرْعِہٖ وَاِحْتِیاطِہٖ وَتَجَرُّدِہٖ عَنْ اَشِعَّۃ اَنْوَارِ التَّصَوُّفِ وَالْعِلْمِ الْوَہبِی الطَّعْنُ عَلٰى اَكَابِرِ الصُّوْفِیۃِ الصَّافِیۃ وَضِیْقُ الْعَطَنِ فِیْ مَدْحِ ھٰذِہِ الطَّائِفَۃِ النَّاجِیَۃِ کَمَالَا یَخْفٰی عَلٰی مَنْ طَالَعَ کُتُبَہٗ

امام ذہبی نے میزان و سیر النبلاء میں اور اُن کے علاوہ دوسری تصنیفات میں اکثر صوفیاء اور اولیاء اللہ پر جرح کی ہے۔
پھر فرمایا، یہ جرح اس وجہ سے کی کہ امام ذہبی کا دل خالی ہے انوارِ تصوف اور علم وہبی لدنی سے۔ اس لئے ایسا کرنا امام ذہبی کی عادت ہوگئی ہے، طعن کرتا ہے اکابر صوفیاء پر یعنی اولیاء اللہ پر طعن کرنا اس کی عادت ہو چکی ہے۔
          پھر اسی کتاب میں صفحہ 318 پرفرماتے ہیں:
مَعَ اَنَّ الْحَافِظَ الذَّہبِی كَانَ مِنْ اَشَدِّ الْمُنْكِرِینَ عَلَى الشَّیخ أَی مُحْیی الدّینَ بْنَ الْعَرَبِی وَعَلٰى طَائِفَۃ الصُّوفِیۃ ہوَ وَابْنُ تَیمِیۃ

بے شک الحافظ الذہبی شیخ محی الدین ابن عربیؒ اور جماعت صوفیاء کا انکار کرنے والوں میں متشدد تھا اور یہی حال ابن تیمیہ  کا بھی ہے۔
          پھر صفحہ نمبر 131 پرفرماتے ہیں:
وَقَوْلُ التَّاجِ السُّبْکِی فِی طَبَقَاتِ الشَّافِعِیَّۃِ ھٰذَا شَیْخُنَا الذَّھَبِی لَہٗ عِلْمٌ وَدِیَانَۃٌ وَعِنْدَہٗ عَلٰی اَھْلِ السُّنَّۃِ تَحَامُلٌ مُفْرِطٌ فَلَایَجُوْزُ اَنْ یُّعْتَمَدَ عَلَیْہِ وَھُوَ شَیْخُنَا وَمُعَلِّمُنَا غَیْرَ اَنَّ الْحَقَّ اَحَقُّ بِالْاِتِّبَاعِ۔
 وَقَدْ وَصَلَ مِنَ التَّعَصُّبِ الْمُفْرِطِ اِلٰى حَدٍّ یسْتَحْیٰى مِنْہ، وَأَنَا اَخْشٰى عَلَیہ مِنْ غَالِبِ عُلَمَاءِ الْمُسْلِمِینَ وَاَئِمَّتِہم الَّذِینَ حَمَلُوْا الشَّرِیعَۃ النَّبَوِیۃ، فَاِنْ غَالِبَہمْ أَشَاعِرَۃ وَہوَ اِذَا وَقَعَ بِأَشْعَرِی لَا یبْقی وَلَا یذر وَالَّذِی أَعْتَقِدْہ أَنَّہمْ خُصَمَاؤُہ یوْمَ الْقِیامَۃ

علامہ تاج سببکی کا قول طبقات شافعیہ میں موجود ہے۔ وہ علامہ ذہبی کے متعلق فرماتے ہیں: ہمارے شیخ علامہ ذہبی عالم دین اور دیانت دار شخص ہونے کے باوجود اہل سنت کے نزدیک حدود سے تجاوز کرنے والے ہیں لہٰذا ان پر کامل بھروسہ نہیں کیا جا سکتا حالانکہ وہ ہمارے شیخ اور استاد ہیں لیکن حق بات ہی باعث اتباع ہے۔
تحقیق صوفیاء کے حق میں تعصب، عناد اس حد تک پہنچ چکا ہے کہ حیاء کیا جاتا ہے اس کے بیان سے اور میں خوف کرتا ہوں علماء مسلمین اور ائمہ دین سے، وہ ائمہ دین جنہوں نے شریعت محمدیہﷺ کا بوجھ اٹھایا۔ غالب ان میں سے اشاعرہ ہیں اور امام ذہبی نے جب امام اشعریؒ کو نہیں چھوڑا تو پھر یہ کسی کو بھی نہیں چھوڑتا اور نہ ہی چھوڑے گا اور وہ چیز کہ جس کا میں عقیدہ رکھتا ہوں کہ تحقیق یہ علمائے دین اور ائمہ دین میدانِ قیامت میں ذہبی کے دشمن ہوں گے۔
          امام ذہبی کے اس تعصب میں عناد، ضد اور لاعلمی دونوں ظاہر ہیں۔ جو شخص اس نور سے منور القلب نہ ہو تو دوسرے صاحب بصیرت حضرات پر اعتراض کرتا ہے اور بوجہ عدم بصیرت کے اس کا حق یہ تھا کہ کہتا کہ بھائی میں اس علم سے اندھا ہوں اور نہ کہ بوجہ اندھا پن کے انکار کرتا، چہ جائیکہ بوجہ ناسمجھی کے اعتراض کرتا۔

بوجہ ضد، عناد و حسد

          دوسری وجہ انکار کی محض عناد و ضد ہے اور صلحاءِ امت پر حسد ہے جس کا علاج ہی محال ہے۔ اس کا کیا علاج کیا جائے کہ جو یہ کہے کہ فلاں شخص کو خدا نے یہ علم دیا ہے اور ہمیں کیوں نہیں دیا، لہٰذا علم کا بھی انکار کر بیٹھے اور لوگوں کی زبان سے محفوظ رہنا محال ہے۔ حسد کی آگ ان کے دل میں ہمیشہ جلتی رہے گی۔
          ‘‘فتح الملہم’’ جلد اول، صفحہ202 (تحت ترجمۃ الامام الاعظم ابوحنیفۃ   ؒ ) پر ہے:
وَقَدْ رُوِی أَنَّ مُوْسٰى عَلَیہ السَّلَام: ‘‘قَالَ یَارَبِّ اِقْطَعْ عَنِّیْ أَلْسِنَ بَنِیْ اِسْرَائیْلَ’’ فَأَوْحٰی اللہ تَعَالٰى إِلَیْہِ: یا مُوْسٰى لَمْ أَقْطَعْھَا عَنْ نَفْسِیْ فَکَیْفَ اَقْطَعُھَا عَنْکَ

حضرت موسیٰ نے دعا مانگی کہ بارِخدایا مجھ سے بنی اسرائیل کی زبان بند کردے کہ میں ان کی زبان سے محفوظ رہوں۔ وحی آئی کہ جب میں نے ان کی زبانیں اپنی مخالفت میں بند نہیں کیں تو تیرے لئے کیسے بند کردوں!

اشعار:

وَلَسْتُ بِنَاجٍ مِّنْ مَّقَالَۃِ طَاعِنٍ


وَلَوْ کُنْتُ فِیْ غَارِ عَلیٰ جَبَلِ  وَعر

میں طعن کرنے والوں کے طعن سے نہ بچ سکا

اگرچہ میں کسی سخت پہاڑ کی غار میں ہوں
وَمَنْ ذَا الَّذِیْ یَنْجُوْ مِنَ النَّاسِ سَالِمًا


وَلَوْ غَابَ عَنْھُمٗ بَیْنَ خَافِیتی نسر




اَلَاقُلْ لِمَنْ ظَلَّ لِیْ حَاسِدًا


اَتَدْرِیْ عَلیٰ مَنْ اَسَأْتَ الاَدَبَ

خبردار ہو وہ شخص جو میرا حاسد ہے!

کیا تو نہیں جانتا ہے کہ کس کی بے ادبی کر رہا ہے!
اَسَأْتَ عَلَی اللّٰہِ فِیْ فِعْلِہٖ


کَاَنْ لَّمْ تَرْضَ لِیْ مَاوَھَبَ

یہ حسد بے ادبی شانِ خداوندی کی نہیں ہے!

گویا اللہ سے، جو اس نے ہم کو یہ انعام دیا ہے، تو راضی نہیں ہے!
          مشہور بات ہے کہ کوئی جاہل عالم کے علم کی انتہاءکو نہیں سمجھ سکتا۔ عالم کے علم کو عالم ہی سمجھ سکتا ہے۔ اِسی طرح ہر فن والے کو اُسی فن کا ماہر ہی سمجھ سکتا ہے۔ یہی حالت ہے ولی کی کہ اس کو کامل ولی ہی سمجھ سکتا ہے۔
          علامہ شعرانیؒ ‘‘لواقخ الانوار فی طبقات الاخیار المعروف بالطبقات الکبریٰ’’ جلد اول، صفحہ 13 پر فرماتے ہیں:
أَنَّ الْوَلِی لَا یَعْرِفُ صِفَاتَہٗ إِلَّا الْأَوْلِیَاءُ  فَمِنْ أَینَ لِغَیرِ الِوَلِی نَفْی الْوِلَایۃ عَنْ إِنْسَانٍ؟
مَا ذَاكَ إِلَّا مَحْضُ تَعَصُّبٍ، كَمَا نَرىٰ فِی زَمَانِنَا ہٰذَا مِنْ إِنْكَارِ ابْنِ تَیمِیۃ عَلَینَا وَعَلٰى إِخْوَانِنَا مِنَ الْعَارِفِینَ فَاحْذَرْ یا أَخِی مِمَّنْ كَانَ ہٰذَا وَصَفُہ وَفِرَّ مِنْ مُجَالَسَتِہٖ فِرَارَكَ مِنَ السَّبُعِ الضَّارِی

محقق بات ہے کہ ولی اللہ کی صفات کو اور ذات کو ولی اللہ ہی پہچان سکتا ہے اور جب غیر ولی اللہ، ولی اللہ کی نفی کرتا ہے یا طعن کرتا ہے، یہ نفی یا طعن تعصب محض کے سوا کچھ نہیں۔ جیسا تو دیکھتا ہے، اس ہمارے زمانہ میں ابن تیمیہ کا انکار کرنا ہم پر اور دوسرے ہمارے بھائی عارفین پر۔ پس اے بھائی! ڈر اس شخص سے اور اس کی مجلس سے اور وعظ سے دور بھاگ جس کی یہ حالت ہو کہ اولیاء اللہ پر طعن کرتا ہو اور اس طرح بھاگ جس طرح انسان درندہ پھاڑنے والے سے بھاگتا ہے۔
          گویا ایسے لوگ جو صلحائے امت پر طعن کریں، جیسا آج صحابہ کرام پر یا سابقہ علماء پر اور اولیاء اللہ پر کر رہے ہیں، یہ بھی درندوں سے کم نہیں۔
          اسی تعصب عناد کی بناء پر علمائے سوء اور مفقودُ البصیرت صاحبان نے اولیاء اللہ کو قسم قسم کی ایذائیں پہنچائیں۔


            لوگ سمجھتے ہیں کہ ایک شخص کو اللہ نے یہ نعمت عطا کی ہے تو شاید ہمیں اسے اپنے سے بڑا ماننا پڑے گا۔ اس ضد میں انکار کرتے رہتے ہیں۔ جب ایسے لوگ چلے جاتے ہیں تو پھر انہیں احساس ہوتا ہے۔ صدیوں تک ان صوفیاء کی کہی ہوئی باتوں کے حوالے دیتے رہتے ہیں کہ فلاں نے یہ فرمایا تھا۔ عجیب بات ہے کہ بڑے بڑے بزرگوں مثلاً حضرت بایزید بسطامیؒ یا ابوالحسن خرقانیؒ کو شہروں سے نکال دیا گیا، کفر کے فتوے لگائے گئے کہ یہ زندیق ہیں، یہ بے دین ہیں، مسلمان ہی نہیں۔ ان کا وصال آبادیوں سے باہر جنگلوں میں ہوا۔ جب وہ دنیا میں نہ رہے اور صدیاں بیت گئیں، لوگ ان کی قبروں پر بیٹھے ہیں۔ صوفیائے کرام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین میں بہت کم نام ایسے ملتے ہیں، جن کی زندگی میں کسی نے حقیقی طور پر ان سے استفادہ کیا ہو۔
            محی الدین ابن عربیؒ کو شیخ اکبر کہتے ہیں لیکن زندگی میں کیا، ابھی تک ایک طبقہ ہے جو ان پر کفر کا فتویٰ لگاتا ہے۔ اللہ نے اس شخص کو اتنی وسیع نظر دی تھی کہ اس نے اس دور میں ایک چھوٹا سا رسالہ لکھا تھا۔ مالا بدقبل القیامہ جن میں ان عجائبات کا ذکر ہے جو قیامت سے پہلے ضرور ظاہر ہوں گے۔اس بندے نے آج کی باتیں کشفاً اس رسالے میں لکھی تھیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ یہ جو کہا جاتا ہے سورج سوا نیزے پر آئے گا یہ تو لوگوں کو قیامت سے پہلے زمین پر روشنی سوا نیزے پر ٹنگی ہوئی نظر آئے گی گویا آج کی سٹریٹ لائٹس صدیوں قبل وہ شخص دیکھ کر لکھتا ہے۔ آج کے ہوائی جہاز اور راکٹ کی سواری کے متعلق وہ رسالے میں لکھتے ہیں کہ ایسی سواریاں ہوں گی جو مہینوں کی مسافت دنوں میں طے کریں گی اور وہ کھانے پینے والی یعنی ذی روح نہیں ہوں گی۔ آپ نے فتوحات مکیہ جب لکھی اس وقت پریس تو نہیں تھا۔ قلم سے لکھی اور لکھنے کے بعد اسے بیت اللہ کی چھت پر پھینک دیا۔ برسوں پڑی رہی، بارشیں ہوئیں، طوفان آئے، برس ہا برس بعد کوئی مرمت کے لئے یا کسی اور غرض سے جب اوپر گیا تو یہ کتاب چھت پر پڑی تھی لیکن اس کا کوئی حرف تک میلا نہ ہوا، اسکے باوجود اس کتاب سمیت آج بھی کئی لوگ انہیں ماننے کو تیار نہیں۔ صوفیاء انہیں شیخ اکبر یا بزرگ صوفی کہتے ہیں۔
            بہرحال یہ ہوتا رہا ہے اور ہوتا رہے گا کیونکہ انسان اپنی انا میں گرفتار ہو کر یہ کرتا رہتا ہے اور جب یہ لوگ گزر جاتے ہیں اور یہ باتیں بتانے والا موجود کوئی نہیں ہوتا تو پھر اس بندے کی صورت تلاش کرنے کے لئے ان کی تصنیفات، ان کی کتابیں، ان کے رسالے، ان کے خطوط پڑھتے ہیں۔ مثلاً حضرت مجددؒ پر کفر کا فتویٰ لگا، جیل گئے، قید ہوئے، یہ سارے تماشے ہوئے لیکن اب ان کے خطوط بہت مستند ہیں اور بجائے خود ایک سند ہیں۔لیکن آپؒ کی ذات کو اس وقت کے لوگوں نے سند نہ مانا۔ شاید یہ لوگوں کے اپنے نصیب کی بات ہوتی ہے کہ ان نعمتوں سے اللہ کریم انہیں نوازنا نہیں چاہتے۔
            یہ اتفاقی بات نہیں ہوتی۔ ان سے فائدہ اٹھانا محض ذات باری کا انعام ہوتا ہے اور ان ہی لوگوں کو نصیب ہوتا ہے جن پر وہ منعم حقیقی انعام فرماتا ہے۔ جنہیں انعام نہیں ملنا ہوتا ہے وہ ان لوگوں کے پاس حصول فیض کے لئے نہیں پہنچتے بلکہ ان کے گزرنے کے بعد ان کے حوالے تلاش کرنے کے لئے پہنچ جاتے ہیں۔ یہ ایسی باتیں ہیں جو صدیوں بعد اللہ کریم نے کسی کو کہنے کی توفیق دی اور شاید ایسے لوگ پھر صدیوں بعد پیدا ہوں۔
l;l;



ے رسالے، ان کے خطوط پڑھتے ہیں۔ مثلاً حضرت مجددؒ پر کفر کا فتویٰ لگا، جیل گئے، قید ہوئے، یہ سارے تماشے ہوئے لیکن اب ان کے خطوط بہت مستند ہیں اور بجائے خود ایک سند ہیں۔لیکن آپؒ کی ذات کو اس وقت کے لوگوں نے سند نہ مانا۔ شاید یہ لوگوں کے اپنے نصیب کی بات ہوتی ہے کہ ان نعمتوں سے اللہ کریم انہیں نوازنا نہیں چاہتے۔
            یہ اتفاقی بات نہیں ہوتی۔ ان سے فائدہ اٹھانا محض ذات باری کا انعام ہوتا ہے اور ان ہی لوگوں کو نصیب ہوتا ہے جن پر وہ منعم حقیقی انعام فرماتا ہے۔ جنہیں انعام نہیں ملنا ہوتا ہے وہ ان لوگوں کے پاس حصول فیض کے لئے نہیں پہنچتے بلکہ ان کے گزرنے کے بعد ان کے حوالے تلاش کرنے کے لئے پہنچ جاتے ہیں۔ یہ ایسی باتیں ہیں جو صدیوں بعد اللہ کریم نے کسی کو کہنے کی توفیق دی اور شاید ایسے لوگ پھر صدیوں بعد پیدا ہوں۔
l;l;


0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

علمی وفکری اختلاف آپ کا حق ہے۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔