Oct 24, 2014

استعانت و اجرائے فیض اولیاء اللہ

0 comments

استعانت و اجرائے فیض اولیاء اللہ

          ‘‘اجابتہ الغوث’’ جلد دوم، صفحہ 271 علامہ شامیؒ نے حضرت ابن مسعود سے بیان کیا ہے کہ:
وَعَنْ اِبْنِ مَسْعُوْد قَالَ قَالَ النَّبِیُّﷺ: اِنَّ لِلہِ عَزَّوَجَلَّ فِی الْخَلْقِ ثَلَاثُمِائَۃٍ قُلُوْبُھُمْ عَلٰی قَلْبِ آدَم وَلِلہِ فِی الْخَلْقِ اَرْبَعُوْنَ قُلُوْبُھُمْ عَلٰی قَلْبِ اِبْرَاہِیْمَ وَلِلہِ فِیْ الْخَلْقِ خَمْسَۃٌ قُلُوْبُھُمْ عَلٰی قَلْبِ جِبْرِیْلَ وَلِلہِ فِی الْخَلْقِ ثَلَاثَۃٌ قُلُوْبُھُمْ عَلٰی قَلْبِ مِیْکَائیْلَ وَلِلہِ فِی الْخَلْقِ وَاحِدٌ قَلْبُہٗ عَلٰی قَلْبِ اِسْرَافِیْلَ فَاِذَا مَاتَ الْوَاحِدُ اَبْدَلَ اللہُ مَکَانَہٗ مِنَ الثَّلَاثَۃِ وَاِذَا مَاتَ مِنَ الثَّلَاثَۃِ اَبْدَلَ اللہُ مَکَانَہٗ مِنَ الْخَمْسَۃِ وَاِذَا مَاتَ مِنَ الْخَمْسَۃِ اَبْدَلَ اللہُ مَکَانَہٗ مِنَ السَّبْعَۃِ وَاِذَا مَاتَ مِنَ السَّبْعَۃِ اَبْدَلَ اللہُ مَکَانَہٗ مِنَ الْاَرْبَعِیْنَ وَاِذَا مَاتَ مِنَ الْاَرْبَعِیْنَ اَبْدَلَ اللہُ مَکَانَہٗ مِنَ الثَّلَاثِمِائَۃِ وَاِذَا مَاتَ مِنَ الثَّلَاثِمِائَۃِ اَبْدَلَ اللہُ مَکَانَہٗ مِنَ الْعَامَّۃِ فِبِہِمْ یُحْیِیْ وَیُمِیْتُ وَیُنْبِتُ وَیُدْفَعُ الْبَلَاءُ، قِیلَ لِعَبْدِ اللہ بْنِ مَسْعُوْدِ : كَیفَ بِہمْ یحْیی وَیمِیتُ ؟ قَالَ : لِأَنَّہمْ یسْأَلُوْنَ اللہ تَعَالیٰ اِكْثَارَالْأُمَمِ فَیكْثُرُوْنُ وَیدْعُوْنَ عَلَى الْجَبَابِرَۃ فَیقْصِمُوْنَ وَیسْتَسْقُوْنَ فَیسْقَوْنَ وَیسْئَلُوْنَ فَیُنْبَتُ لَہمُ الْأَرْضُ وَیدْعُوْنَ فَیدْفَعُ بِھِمْ أَنْوَاعُ الْبَلَاءِ
 اخرجہ ابن عساکر۔
(مجموعہ رسائل ابن عابدین، صفحہ 271، جلد دوم، رسالہ ‘‘اجابۃ الغوث ببیان حال النقباء والنجباء والابدال والاوتاد والغوث’’

حضرت عبداللہ ابن مسعود فرماتے ہیں  کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: بیشک اللہ عزوجل کی مخلوق میں تین سو لوگ ایسے ہیں جن کے قلوب حضرت آدم کے قلب پر ہیں اور اللہ کی مخلوق میں چالیس لوگ ایسے ہیں جن کے قلوب حضرت ابراہیم پر ہیں اور اللہ کی مخلوق میں پانچ لوگ ایسے ہیں جن کے قلوب حضرت جبرائیلؑ کے قلب پر ہیں اور اللہ کی مخلوق میں تین لوگ ایسے ہیں جن کے قلوب حضرت میکائیلؑ کے قلب پر ہیں اور اللہ کی مخلوق میں ایک بندہ ایسا ہے جس کا قلب حضرت اسرافیلؑ کے قلب پر ہے۔ جب یہ ایک بندہ فوت ہوجاتا ہےتو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ پر تین میں سے کسی ایک کو متعین فرما دیتے ہیں اور جب ان تین میں سے کوئی ایک فوت ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ پانچ میں سے کسی ایک کو اس کی جگہ پر متعین فرما دیتے ہیں اور جب پانچ میں سے کوئی ایک فوت ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ سات میں سے کسی ایک کو اس کی جگہ پر متعین فرما دیتے ہیں۔ اور جب سات میں سے کوئی ایک فوت ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ چالیس میں سے کسی ایک ایک کو اس کی جگہ پر متعین فرما دیتے ہیں اور جب چالیس میں سے کوئی ایک فوت ہوتا ہے تو اس کی جگہ پر تین میں سے کسی ایک کو متعین فرما دیتے ہیں اور جب تین سو میں سے کوئی ایک فوت ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ عام لوگوں میں سے کسی ایک کو متعین فرما دیتے ہیں۔پس انہی کے ذریعے زندگی اور موت ملتی ہے اور زمین سے رزق دیا جاتا ہے اور انہی کے ذریعہ آفات و بلیات دور کی جاتی ہیں۔
ابن مسعود سے پوچھا گیا کہ ان کے ذریعہ کیسے زندگی اور موت دی جاتی ہے تو انہوں نے فرمایا: یہ اصحابِ مناصب اولیاء اللہ خدا تعالیٰ سے سوال کرتے ہیں کہ امت بڑھے چنانچہ اللہ تعالیٰ امت میں اضافہ کرتا ہے۔ یہ بارش کے لئے دعا کرتے ہیں، اللہ بارش دیتا ہے۔ ان کی دعا سے مصائب دور ہوتے ہیں۔ محدث ابن عساکر نے یہ حدیث بیان کی۔
          یہ درست ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر ایک کی دعا سنتے ہیں اور ہر شخص اپنے ہی لئے دعا کرتا ہے کیونکہ طبعاً اپنا مفاد عزیز ہوتا ہے مگر یہ حضرات اسی خدمت پر مامور ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے رہیں اور مخلوق کی بھلائی کے لئے دعا کریں۔ اس حدیث کو سن کر بعض حضرات ناک بھوں چڑھانے لگتے ہیں کیونکہ اس سے ان کو شِرک کی بُو آتی ہے۔ بیچارے معذور ہیں، شِرک ان کے رَگ و پے میں اس طرح رَچ بس گیا ہے کہ قول رسولﷺ میں بھی انہیں شرک کی بُو آنے لگتی ہے۔ یہی فنا فی الشرک کا مقام ہے مگر اس کا کیا کیا جائے کہ خود قرآن میں موجود ہے کہ ملائکہ دنیا و آخرت میں اولیاء اللہ کی مدد کرتے ہیں:
 قَالَ اللہُ تَعَالیٰ:
 اِنَّ الَّذِینَ قَالُوْا رَبُّنَا اللہ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَیہمُ الْمَلٰٓئِكَۃ اَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَبْشِرُوْا بِالْجَنَّۃ الَّتِی كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ O
بے شک جن لوگوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہےپھر وہ (اس پر) قائم رہے ان پر فرشتے اتریں گے کہ تم کوئی خوف نہ کرو اور نہ کوئی رنج کرو اور جنت پر خوش ہو جاؤ جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔ (سورۃ حٰم السجدہ، آیت۔30)
اسی طرح دوسری آیت میں فرشتوں کو حکم مل رہا ہے :
قَالَ اللہُ تَعَالیٰ: فَثَبِّتُوْا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْاط۔
(سو مومنوں کی ہمت بڑھاؤ۔ سورۃ الانفال،  آیت12)
          یہ تثبیت امداد نہیں تو او رکیا ہے! یہ ملائکہ سے اجرائے فیض نہیں تو اور کیا ہے!  دنیا، برزخ اور آخرت میں ملائکہ سے امداد مل رہی ہے تو اولیاء اللہ کے ارواح سے اجرائے فیض اور امداد دیا جانا کیونکر شرک ٹھہرا!  شِرک کا سوال تو اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ان کی عبادت کی جائے یا مافوق الاسباب استعانت کا خیال کیا جائے۔ یہ تو اسبابِ عالم سے ایک سبب بنایا ہے۔ آگ، پانی، ہوا، چاند، سورج وغیرہ کو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی مدد کا سبب بنایا۔ اسی طرح حضور اکرمﷺ نے خبر دی کہ ان اولیاء اللہ کے وجود کو اللہ تعالیٰ نے ایک سبب بنایا ہے، وہ دعا کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے اور مخلوق کے کام چلتے ہیں۔ اس میں شرک کو کیا دخل!
            غزوہ بدر میں ملائکہ نے مسلمانوں کی جو مدد کی اس سے کون انکار کرسکتا ہے مگر اس مدد کی صورت کیا تھی؟ قرآن کریم یہی بتاتا ہے کہ القائے ملائکہ سے کفار پر مسلمانوں کی ہیبت اور رعب طاری ہو گیا۔ جنگ کے بعد حضرت جبرائیل نے نبی کریمﷺ سے کہا کہ میں جا کر یہود کے قلعوں میں زلزلہ پیدا کرتا ہوں، ان کے دلوں میں رعب اور خوف ڈالتا ہوں، آپ جلد آجائیں۔
          اسی طرح حدیث میں القائے شیطانی اور الہام مَلکی کا ذکر موجود ہے۔ ملائکہ کے القا کرنے سے شرک لازم نہ آئے تو اولیاء اللہ کی دعا کرنے سے اور روح سے فیض کا اجراء ہونے سے شرک کیوں لازم آتا ہے! روح زندہ ہے ان تمام کمالات سے برزخ میں متصف ہے جو اسے دنیا میں حاصل ہوئے تھے، تو روح کسی ولی اللہ کے دل میں فیض کا القا کردے تو شرک بن جائے، عجیب منطق ہے!

صاحب منصب کے وجود میں کشش

سلسلہ عالیہ میں یہ صورتحال حضرت مدظلہ العالی کی نظروں سے گزری ہے۔  کیا تعین فرمانا پسند کریں گے کہ اس کی ابتداء کب ہوئی اور یہ حضرت جؒی کے کس منصب کی وجہ سے تھی۔
            صاحب منصب کے اثرات دنیا بھر کو متأثر کرتے ہیں۔ حضرت جؒی نے احباب سلسلہ عالیہ کی اصلاح کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:

     ‘‘یہاں بڑی بڑی طاقتیں اگر جھک گئی ہیں، فلموں سے نکالے ہیں، کلب گھروں سے نکالے ہیں، شراب خانوں سے نکالے ہیں، بدکاری کے اڈوں سے نکال کر لائے ہیں اور مسجد کے تنکوں پر رُلائے ہیں۔ سب نے برداشت کیا، ریشمی گدیلوں پر سونے والے!
             وہ کون سی چیز تھی؟ وہ اللہ کے نام کی برکت تھی جو کھینچ کھینچ کر لے آئی۔ یہ مناصب ہوتے ہیں۔ بعض منصب ایسے ہوتے ہیں کہ اس آدمی کے وجود میں اللہ تعالیٰ مقناطیسی قوت رکھ دیتا ہے جو کھینچ کھینچ کر، گھسیٹ گھسیٹ کر اپنی طرف لے آتی ہے۔’’

برکاتِ اہل اللہ کے دنیا پر اثرات

            مولانا تھانویؒ فرماتے ہیں کہ اہل اللہ سے اگر فائدہ حاصل نہ کر سکو تو ان کی تکذیب اور تردید کا جرم نہ کرو کہ دنیا میں جو اللہ کے بندے ہوتے ہیں ان کے وجود سے وابستہ برکات غیرشعوری طور پر بھی لوگوں کو ملتی رہتی ہیں۔ ہم ظاہری اسباب تلاش کرتے رہتے ہیں اور وہ ہمیں نہیں ملتے۔ اگر اہل اللہ کی تردید شروع کر دی جائے تو اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ غائبانہ پہنچنے والی برکات سے بھی آدمی محروم ہوجاتاہے۔ یعنی اگر استفادہ نہ کرسکے، ان کی مجالس میں نہ جا سکے تو تردید نہ کرے کہ تردید کرنے سے وہ برکات جو غائبانہ پہنچتی ہیں ان سے بھی انسان محروم ہو جاتا ہے۔
            میں آپ کے لئے ایک چھوٹی سی بات کی طرف اشارہ کرتا چلوں، من جانب اللہ جب کچھ لوگ مقرر ہوتے ہیں تو ان کے وجود کے ساتھ عجیب و غریب برکات وابستہ ہوتی جاتی ہیں۔
            اس زمانے میں کسی ایسے شخص کو عظمت نصیب ہوئی ہے کہ پوری دنیا میں غیرشعوری طور پر ہر مسلمان اٹھ کر کھڑا ہو گیا ہے۔اب وہ نہیں جانتا وہ ایسا کیوں کر رہا ہے۔ اگر کشمیری میں ہمت آگئی تو پچاس سال پہلے بھی تو یہی کشمیری تھا۔ اگر روس کی مسلمان ریاستیں دین کا نعرہ لے کر کھڑی ہو گئی ہیں تو پچھتر سال پہلے بھی تو وہ یہی تھیں۔ ایک دو دن تو نہیں، پچھتر سال ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کبھی اف نہیں کی اور صرف یہ نہیں اس ملک میں، آپ باہر روئے زمین پر جہاں دیکھیں تو بڑے سے بڑا بدکار جاہل سے جاہل مسلمان بھی واپسی کی سوچ رہا ہے۔ یعنی غیرشعوری طور پر ہر قلب و نظر میں دین کی طرف جانے کی تڑپ پیدا ہو گئی ہے اور یہ وہ اثرات ہوتے ہیں جو اہل اللہ سے مرتب ہوتے ہیں اور لوگ یہ نہیں جانتے، ہمارے علم میں نہیں ہے، وہ آدمی کون ہے؟ وہ کہاں ہے؟ لیکن یہ اثرات دیکھ کر سمجھ آتی ہے کہ کوئی بہت ہی بڑا انسان ہے، اللہ نے کسی کو بہت ہی بڑی عظمت دی ہے کہ غائبانہ طور پر بھی جس کی جرأت و ہمت میں اتنا اثر ہے کہ پوری دنیا حیرت میں ہے کہ یہ عجیب بات ہے، ایک دم سے کیسے ہو گیا!
l;l;

          ‘‘عمدۃ المرید اللجوہرۃ التوحید’’ علامہ برہان ابراہیم اللقائی اور مجموعہ رسائل ابن عابدین، رسالہ ‘‘اجابۃ الغوث’’ جلد دوم، صفحہ 269 :
نَقَلَ الْخَطِیْبُ فِی تَارِیْخِ بَغْدَادَ عَنِ الْکَنَانِیِّ مَانَصَّہٗ: النُّقَبَاءُ ثَلَاثُمِائَۃٍ وَالنُّجَبَاءُ سَبْعُوْنَ وَالْبُدَلَاءُ اَرْبَعُوْنَ وَالْاَخْیَارُ سَبْعَۃٌ وَالْعَمَدُ وَیُقَالُ لَھُمُ الْاَوْتَادُ اَیْضًا اَرْبَعَۃٌ وَالْغَوْثُ وَاحِدٌ

خطیب بغدادی نے بیان کیا کہ نقباء ۳۰۰، نجباء ۷۰، ابدال ۴۰، اخیار ۷ اور عمد یعنی قطب ۴ اور غوث ایک ہوتا ہے۔

          تعداد میں اختلاف سے حیرت نہیں ہونی چاہیٔے۔ ادنیٰ کو اعلیٰ اور اعلیٰ کو ادنیٰ منصب والے کی ڈیوٹی مل جانے سے تعداد بدلتی رہتی ہے۔
(5)     ان حضرات کے حالات
          (ا)     علامہ ابن حجر مکیؒ نے فتاویٰ الحدیثیہ میں،
          (ب)   ملاعلی القاریؒ نے المعد العدنی فی اویس القرنی میں،
          (ج)    علامہ برہانؒ نے عمدۃ المرید میں،
          (د)     احمد شہاب منینیؒ نے شرح کبیر میں،
          (ر)     امام مناویؒ نے مسند فردوس میں،
          (س)   علامہ سیوطیؒ نے الخبر الدال علی وجود القطب میں، اور
          (ص)   علامہ شامیؒ نے اجابۃ الغوث میں لکھے ہیں۔
          علامہ شامیؒ مجموعہ رسائل ابن عابدین، رسالہ ‘‘اجابۃ الغوث’’ جلد دوم،  صفحہ 264 میں فرماتے ہیں:
قَدْ کُنْتُ جَمَعَتُ رِسَالَۃً بِسُؤَالِ بَعْضِ الْاَعْیَانِ عَنْ اَمْرِالْقُطْبِ الَّذِیْ یَکُوْنُ فِی کُلِّ زَمَانٍ وَاَوَانٍ وَعَنِ الْاَبْدَالِ وَالنُّقَبَاءِ وَالنُّجَبَاءِ وَعَدْتُّھُمْ عَلٰی طَرِیْقِ الْبَیَانِ وَبَادَرْتُ ........ وَجَمَعْتُ مَا وَقَفْتُ عَلَیْہِ مِنْ کَلَامِ الْاَئِمَّۃِ الْمُعْتَبِرِیْنَ وَوَقَفْتُ لِلْاِطَّلَاعِ عَلَیْہِ مِنْ کُتُبِ السَّادَۃِ الْمُعَمَّرِیْنَ۔

وجود قطب کے متعلق جو ہر زمانے میں ہوتا ہے اور ابدال، نقباء، نجباء کے متعلق سوال کے جواب میں میں نے ایک رسالہ جمع کیا۔ میں نے ان کے متعلق بیان کرنے کا وعدہ کیا اور میں نے جلدی کی...... میں نے اس ضمن میں جتنا مواد جمع کیا وہ معتبر ائمہ دین کی کتب سے کیا۔
          پھر فرمایا:
قَالَ الشَہَابُ الْمَنِیْنِی: قَدْطَعَنَ ابْنُ الْجُوْزِی فِی اَحَادِیْثِ الْاَبْدَالِ وَحَکَمَ بِوَضْعِھَا وَتَعَقَّبَہٗ السُّیُّوْطِیُّ بِأَنَّ خَبَرَ الْاَبْدَالِ صَحِیْحٌ وَاِنْ شِئْتُ قُلْتُ مُتَوَاتِرٌ وَأَطَالَ ثُمَّ قَالَ مِثْلَ ھٰذَا بَالَغَ حَدَّ التَّوَاتُرِ الْمَعْنَوِیِّ بِحَیْثُ یَقْطَعُ بِصِحَّۃِ وُجُوْدِ الْاَبْدَالِ ضرورۃ انتہی.........

علامہ شہاب منینیؒ فرماتے ہیں کہ ابن جوزی نے کہا ہے کہ احادیث ابدال موضوع ہیں۔ علامہ سیوطیؒ نے اس کا تعاقب کیا اور کہا کہ یہ احادیث صحیح ہیں اور اگر میں چاہوں تو متواتر بھی کہہ سکتا ہوں۔ اس پر طویل کلام کے بعد علامہ سیوطیؒ نے فرمایا کہ یہ احادیث تواتر معنوی کی حد تک پہنچی ہوئی ہیں۔ اس طور پر کہ ان سے ابدالوں کے موجود ہونے پر یقینی علم حاصل ہوتا ہے۔
.......وَیَکْفِیْ فِی ثُبُوْتِہٖ شُھْرَتُھٗ وَاِسْتِفَاضَۃُ أَخْبَارِھٖ وَذِکْرٌ بَیْنَ اَہْلِ ھٰذَالْطَرِیْقِ الْطَاھِرِ۔وَاللہُ تَعَالیٰ اَعْلَمُ.........

ابدالوں کے وجود کے ثبوت کے لئے ان کی شہرت، ان کے متعلق روایات کا عام ہونا اور صوفیا کے سلسلوں میں ان کا تذکرہ ہوتے رہنا کافی ہے۔
....... وَالْکُلُّ مُتَّفِقُوْنَ عَلٰی وُجُوْدِ تِلْکَ الْاَعْدَاد
مجموعہ رسائل ابن عابدین، رسالہ ‘‘اجابۃ الغوث’’ جلد دوم، صفحہ 272

.......ان کے وجود اور ان کی تعداد پر تمام علماء اور صوفیا کا اتفاق ہے۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

علمی وفکری اختلاف آپ کا حق ہے۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔