Oct 24, 2014

تکوینی فیوضات و رشد و ہدایت

0 comments

    تکوینی فیوضات و رشد و ہدایت

اس عبارت سے یہ تأثر ملتا ہے کہ قطب ابدال تو ترقی کر کے قطب مدار بن سکتا ہے لیکن اس سے آگے ترقی کے لئے دوسرا زینہ ہے جو قطب ارشاد سے شروع ہوتا ہے۔ گویا قطب مدار کے لئے غوثیت سے قبل قطب ارشاد کے منصب سے گزرنا ہوگا۔ کیا یہ تاثر درست ہے؟ رہنمائی فرمائی جائے۔
          اولیاء اللہ بھی مختلف شان اور فضائل رکھتے ہیں اور ان کے مناصب بھی مختلف ہیں، جیسا ابدال، قطب مدار، قطب ارشاد، قطب الاقطاب، غوث، قیوم، افراد، قطب وحدت اور صدیق۔ابدال ترقی کر کے قطب ابدال بن سکتا ہے، قطب ابدال ترقی کر کے قطب مدار بن سکتا ہے۔ اسی طرح دوسری طرف قطب الارشاد و قطب الاقطاب ترقی کر کے غوث بن سکتا ہے، غوث ترقی کر کے قیوم بن سکتا ہے، قیوم ترقی کرکے فرد، علیٰ ھذا القیاس۔ قطب الاقطاب غوث کا محرر ہوتا ہے۔ 

شرطِ ولایت

          مگر خوب یاد رکھ لیں، یہ تمام کمالات و مناصب آقائے نامدار محمد رسول اللہﷺ و صحابہ کی جوتیوں کی خاک سے ملتے ہیں۔
          جو شخص رسول اکرمﷺ کی مخالفت کرے اور اس کے اعمال خلافِ سنت ہوں اور شریعت کی حدود سے تجاوز کا مرتکب بھی ہو اور پھر دعویٰ ولایت کرے تو وہ کذّاب ہے۔ قرآن کریم اسے جھوٹا کہتا ہے۔
 قَالَ اللہُ تَعَالیٰ:
 قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللہُ ۔
کہہ دیجئے اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہوتو میری پیروی کرو اللہ تم سے محبت کریں گے۔ (سورۃ آل عمران، آیت31-)

شرح الاسرار
            حضرت جؒی نے مناصب کا تذکرہ فرماتے ہوئے ان کے حصول کی دو شرطیں بیان فرمائیں:
‘‘یاد رکھنا یہ مناصب جو میں نے بیان کئے ہیں ان کے حصول کی دو ہی شرطیں ہیں: اول اتباع شریعتِ محمد رسول اللہﷺ بمعہ اتباع سنت رسول اللہﷺ، دوم ذکرِ دوام بمعہ ربط بالشیخ۔ چونکہ شیخ سے قلبی تعلق ہوتا ہے اور بہت ہی نازک تعلق ہوتا ہے، اس کا خیال کیا جائے۔’’
            حضرت جؒی نے ایک ساتھی کو منصب عطا ہونے پر مبارک دی تو وہ اپنی نااہلی کا اظہار کرنے لگے۔ آپؒ نے فرمایا:
دادِ اُو را قابلیت شرط نیست
بلکہ شرطِ قابلیت دادِ اوست


(اس کی عطا کے لئے قابلیت شرط نہیں

بلکہ قابلیت بھی اس کی عطا سے مشروط ہے۔)

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

علمی وفکری اختلاف آپ کا حق ہے۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔