Oct 24, 2014

دورِ صحابہ و تابعین اور کشفِ قبور و کلام بالارواح (اسرار الحرمین)

0 comments

دورِ صحابہ و تابعین اور کشفِ قبور و کلام بالارواح

          علامہ آلوسیؒ کے سامنے سوال ہوا کہ کشف قبور اور کلام بالارواح کا وجود صحابہ کرام اور تابعینؒ میں نہیں ملتا۔ اس سوال کے جواب متعدد دیئے۔ ازاں جملہ فرمایا:
وَلَا یحْسِنُ مِنِّی أَنْ أَقُوْلَ : كُلُّ مَا یُحْكٰىْ عَنِ الصُّوْفِیۃ مِنْ ذٰلِكَ كِذْبٌ لَا أَصْلَ لَہ لِكَثْرَۃ حَاكِیہ وَجَلَالَۃ مُدَّعِیہ ، وَكَذَا لَا یحْسِنُ مِنِّی أَنْ أَقُوْلَ : إِنَّہمْ إِنَّمَا رَأَوُا النَّبِی مَنَاماً فَظَنُّوْا ذٰلِكَ لِخِفَّۃِ النَّوْمِ وَقِلَّۃ وَقْتِہٖ یقْظَۃ فَقَالُوْا: رَأَینَا یقْظَۃ لِمَا فِیہ مِنَ الْبُعْدِ وَلَعَلَّ فِی كَلَامِہمْ مَا یأبَاہ ، وَغَایۃ مَا أَقُوْلُ: إِنَّ تِلْكَ الرُّؤْیۃ مِنْ خَوَارِقِ الْعَادَۃ كَسَائِرِ كَرَامَاتِ الْأَوْلِیاءِ وَمُعْجِزَاتِ الْأَنْبِیاءِ عَلَیہمُ السَّلَامُ وَكَانَتِ الْخَوَارِقُ فِی الصَّدْرِ الْأَوَّلِ لِقُرْبِ الْعَہدِ بِشَمْسِِ الرِّسَالَۃ قَلِیلَۃ جِدًّا وَأَنّٰى یرَى النَّجْمُ تَحْتَ الشُّعَاعِ أَوْ یظْہرُ كَوْكُبٌ وَقَدْ اِنْتَشَرَ ضَوْءُ الشَّمْسِ فِی الْبُقَاعِ
‘‘تفسیر روح المعانی ‘’ علامہ آلوسیؒ، جلد22، صفحہ 39، سورۃ الاحزاب آیت 40

میں اچھا نہیں سمجھتا کہ یہ کہوں کہ صوفیا سے اس بارے میں جو بیان کیا جاتا ہے وہ جھوٹ ہے، اس کی کوئی اصل نہیں جبکہ اس کے حکایت کرنے والے بکثرت ہیں، جلیل القدر علماء اور صوفیا ہیں اور یہ کہنا بھی اچھا نہیں سمجھتا کہ صوفیا نے حضورﷺ کی زیارت کی (خواب میں) مگر ان کو غلط فہمی ہوئی کہ بیداری میں کی۔ اسے زیارت نومی کہنا بعید ہے اور صوفیا کے کلام سے نومی ثابت نہیں ہوئی۔ ہاں میں اتنا کہتا ہوں کہ یہ زیارت بیداری میں تھی، خرقِ عادت کے طور پر تھی جیسے اولیاء کرام کی کرامات اور انبیاء کے معجزات خرقِ عادت کے طور پر ہوتے ہیں۔ ان خوارق کا ظہور صدرِ اول میں آفتاب نبوتﷺ کے زمانہ کے قرب کی وجہ سے بہت کم تھا۔ نورِ آفتاب کے سامنے ستارہ کی روشنی کیونکر ظاہر ہو اور سورج کی روشنی جب ہر طرف پھیلی ہو تو ستارے کیونکر نظر آئیں!
          اول تو یہ سوال ہی جہالت پر مبنی ہے۔ کشف القبور اور کلام بالارواح کا وجود خود ذات نبویﷺ سے ثابت ہے تو کسی زمانے میں کم ہونا اس کی نفی کیونکر کر سکتا ہے! کتبِ حدیث ایسے واقعات سے پر ہیں۔ ایک معراج کی احادیث ہی کافی ہیں، ان کی موجودگی میں کسی اور ثبوت کی فکر کرنا ہی نری حماقت ہے۔
        رہا یہ سوال کہ ایک زمانے میں کم ایک میں زیادہ کیوں ہے، تو جواب ظاہر ہے:
قَالَ اللہُ تَعَالیٰ:
یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ اِنَّا اَرْسَلْنٰکَ شَاھِدًا وُّمُبَشِّرًا وَّنَذِیْرًاo وَّدَاعِیًا اِلَی اللہِ بِاِذْنِہٖ وَسِرَاجًا مُّنِیْرًاo
اے نبی(ﷺ)بے شک ہم نے آپ کو(اس شان کا) پیغمبر بنا کر بھیجا ہےکہ آپ گواہ ہوں گے اور(ایمان والوں کے لئے)خوشخبری دینے والے اور (کافروں کے لئے)ڈرانے والے ہیں۔ اور(سب کو) اللہ کی طرف اس کے حکم سے بلانے والے اور روشن چراغ ہیں۔(سورۃ الاحزاب آیت45-46)
          آفتاب نصف النہار پر ہے، دیئے جلانے کی فکر کیوں ہو! پھر سورج ڈوبنے پر فوراً ہی گھپ اندھیرا نہیں چھا جاتا۔ فرمانِ نبویﷺ میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے۔ خَیْرُ الْقُرُوْنِ قَرْنِیْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُم۔ دورِ نبویﷺ خَیْرُ الْقُرُوْن تھا۔ آفتاب نبوتﷺ اپنی پوری تابانی سے چمک رہا تھا۔ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ روشنی کم ہونے لگی۔ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ یعنی تبع تابعین میں روشنی اور بھی مدھم پڑ گئی اور ظلمت شب پھیلنے لگی۔ اب چراغوں کی ضرورت محسوس ہوئی، صوفیائے کرام آگے بڑھے اور چراغ جلائے۔ ان کے چراغوں کی روشنی ظلمت شب کو چیرنے لگی تو ان چراغوں کو بجھانے کی ابلیسی کوششیں ہر زمانے میں ہوتی رہیں مگر   
اگر گیتی سراسر باد گیرد

چراغ مقبلاں ہرگز نمیرد


(اگر دنیا بھر میں آندھی پھیل جائے
اللہ کے مقبول بندوں کا دیا گل نہیں ہوتا)

مکاشفات و مشاہدات کی دورِ صحابہ میں کمی

            صحابہ کرام کی کثیر تعداد سے مکاشفات اور مشاہدات کی روایت نہیں ملتی۔ یہ نہیں کہ بالکل نہیں، بے شمار ہیں۔
            ایک صحابی مسجد نبویﷺ میں داخل ہوئے تو رسول اکرمﷺ نے فرمایا، ہاں بھئی کیا حال ہے، کیسے صبح کی تم نے؟ انہوں نے عرض کیا، یارسول اللہﷺ! ایمان کے ساتھ تو آپﷺ نے پیار سے فرمایا کہ بھئی بڑی بات کی ہے تم نے۔ تمہارے پاس ایمان کا کیا ثبوت ہے کہ ایمان کے ساتھ تم نے صبح کی تو اس نے کہا، یا رسول اللہﷺ! میں اپنے ان قدموں پر کھڑا ہوا حشر کو قائم ہوتا اور جنتیوں کو جنت میں جاتا اور دوزخیوں کو جہنم میں جاتا ہوا دیکھ رہا ہوں۔ آپﷺ نے فرمایا واقعی یہ تیرے ایمان کی دلیل ہے۔
            سیدنا فاروق اعظم بیٹھے مسجد نبویﷺ میں جمعہ کا خطبہ ارشاد فرما رہے تھے اور ایران میں نہاوند کے مقام پر جہاد ہو رہا تھا اور ایرانیوں نے کوشش کی کہ مسلمانوں کے لشکر کو دھوکا دے کر پہاڑی کی طرف کچھ اپنے سپاہی بھیج دیئے جائیں اور وہاں سے ان پر حملہ کر دیا جائے۔ تو یہ بیٹھے وہاں خطبہ فرما تھے مسجد نبویﷺ میں، اچانک چیخ پڑے یاساریہ الجبل الجبل۔ ساریہ پہاڑی کی طرف دھیان کرو اور لشکر کے ہر مسلمان سپاہی نے یہ آواز سنی کہ پہاڑ کی طرف دھیان کرو۔ سینکڑوں میل دور کہاں مدینہ منورہ اور بندہ اپنے خطبہ میں لگا ہوا ہے اور کہاں وہ نہاوند جہاں جہاد ہو رہا ہے! اللہ کی مرضی اس نے سارے حجابات ہٹا دیئے نگاہ سے بھی اور سارے حجابات ہٹا دیئے مسلمان مجاہدین کی سماعت سے بھی۔
            ایک صحابیؓ فرماتے ہیں کہ میں مکہ مکرمہ سے آرہا تھا، مجھے تو خیال ہی نہیں تھا۔ میں راستے میں گزرا بدر کے قریب سے تو میں نے دیکھا، ایک بندہ ہے وہ بھاگتا ہوا زمین سے باہر نکلتا ہے، آگ کے شعلے لپک رہے ہیں۔ پیچھے بڑی کوئی ہیبت ناک بلا ہے اس کے ہاتھ میں ہتھوڑا سا ہے اور وہ پیٹتی ہوئی پھر گھسیٹ کر اندر لے جاتی ہے۔ وہ پھر چلاتا بھاگتا ہوا باہرآتا ہے، پیچھے پیچھے وہی مصیبت لگی ہے، بڑی ڈراؤنی سی، وہ اسے پھر ہتھوڑے سے مارتی ہے۔ وہ کہتے ہیں میں دیکھتا رہا یہ کیا تماشا ہے۔ میری سمجھ میں تو نہیں آیا۔ مدینہ آکر انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر سے بات کی تو انہوں نے فرمایا، اللہ کے بندے! تجھے یہ نہیں پتہ کہ وہاں ابوجہل دفن ہے اور اسی کا تماشا تو دیکھ رہا تھا، تو کلیب بدر کو دیکھ رہا تھا۔اب وہ خود یہ سمجھ رہا تھا کہ یہ سارا کچھ شاید بظاہر ہو رہا ہے۔ اتنا اسے واضح انکشاف ہو رہا تھا کہ وہ سمجھ رہا تھا کہ یہ سارا کچھ شاید ہر آدمی دیکھ رہا ہے کہ یہ اس طرح سے ہو رہا ہے حالانکہ اسے یہ مشاہدہ ہو رہا تھا۔
            صحابہ کرام کا مقصدمشاہدات نہیں تھا، مقصد ان کا قربِ الٰہی کا پانا تھا۔ اب اس عمل میں بہت سے لوگوں کو جو مشاہدات نہ ہوئے تو اس کی وجہ وہ دنیاوی مصروفیات تھی جو اطاعت الٰہی کے لئے انہوں نے اختیار کیں اور جو ان کی توجہ کا زیادہ حصہ لے گئیں اور کشف نہ ہوا لیکن ترقی درجات کا سبب وہ بنتی گئیں۔ جہاد کئے، تبلیغ کی۔ ایک مخلوق کو اللہ سے روشناس کرایا۔ روئے زمین پر اللہ کی عظمت کو پھیلایا، کفر و شرک کو مٹایا، ظلم و جور سے دنیا کو صاف کیا تو ان سب کاموں کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی اکثریت کو کشف نصیب نہیں ہوا لیکن ترقی درجات میں کمی نہیں آئی بلکہ کشف والوں سے ان کے مقامات شاید زیادہ ہوں گے۔ جنہوں نے زیادہ کام کیا اور یقیناً زیادہ ہوں گے۔
l;l;
          ایک چلتا ہوا سوال یہ کیا جاتا ہے کہ نبی کریمﷺ سے ہدایات لی جا سکتی ہیں تو گویا شریعت میں تغیر و تبدل ہو سکتا ہے۔ یہ سوال حقیقت سے ناواقفیت کی دلیل ہے۔ برزخی کلام کو شریعت کی کسوٹی پر پیش کیا جائے گا۔ اگر وہ کلام مطابق شریعت ہے تو اس پر عمل ہوگا، اگر مطابق شریعت نہیں تو ہمارے نفس کی خطا ہے، رسولﷺ نے غلط نہیں بتایا، سمجھنے میں غلطی لگی، عمل پھر بھی شریعت پر ہوگا۔
          پھر آپ پر بھی تو یہ سوال ہو سکتا ہے کہ اس بات کی دلیل آپ کے پاس کیا ہے کہ کلام بالارواح نہیں ہوئی یا نہیں ہو سکتی؟

برزخی کلام سے ہدایات

            حضرت جؒی نے شریعت مطہرہ کو برزخی کلام کی صحت کے لئے کسوٹی قرار دیا لیکن اس پر عمل صرف صاحب کلام کے ئے ضروری ہوگا۔ عمل نہ کرنے کی صورت دنیوی نقصان ہو سکتا ہے لیکن اخروی نقصان نہ ہوگا۔





0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

علمی وفکری اختلاف آپ کا حق ہے۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔