Oct 24, 2014

قطب ابدال ،قطب ارشاد(اسرار الحرمین)

0 comments

قطب ابدال

          قطب ابدال قطب مدار کا نائب ہے اور اس کی فوج کا، جو ابدال ہیں، ایک اعلیٰ افسر ہے۔ اس کے وجود کی برکت سے خدائے تعالیٰ نے وجود عالم رکھا ہے اور اس کے وجود کی برکت سے تکوینی فیوضات باری تعالیٰ کے مخلوقات کو حاصل ہوتے ہیں،  دفع امراض، ازالہ بلیات، مصائب و آلام اور آسائش، رزق، بارش وغیرہ۔

قطب ارشاد

          اس کے وجود کا فیض ہے ایمان و رشد و ہدایت، نیکی کرنا اور برائی سے بچنا، حصولِ علم، دینی درس و تدریس، تبلیغ وغیرہ۔ احکام شرعی کا تعلق خدا تعالیٰ نے اس کے وجود سے رکھا، یہ اس کے وجود کی برکت ہے۔ قطب ابدال ہمیشہ درکار ہے لیکن قطبِ ارشاد کا ہمیشہ ہونا ضروری نہیں جیسا کہ آخر وقت میں قربِ قیامت تمام دنیا ایمان سے خالی ہو جائے گی۔ اس وقت قطبِ ارشاد نہ ہوگا، اس سے کافی وقت پہلے اٹھا لیا جائے گامگر جب تک کوئی اللہ اللہ کرنے والا ہوگا اس وقت تک قطب مدار، قطب ابدال کا وجود ہوگا۔ جب قرآن کا علم و کعبہ اٹھا لیا جائے گا، اس وقت کے بعد ان کا وجود بھی ختم ہو جائے گا۔ تقریباً اَسّی سال یا چالیس سال بنا بر اختلاف اس زمانہ میں یہ نہ ہوں گے۔ تمام کفر ہی ہوگا مگر قطبِ ارشاد قرآن اور علم کے اٹھنے سے اوّل ہی ختم ہو جائے گا۔ پھر کوئی امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرنے والا نہ ہوگا۔
            احباب کی اک خصوصی محفل میں حضرت جؒی نے قطب ارشاد کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا:
یہاں حضرت داتا گنج بخشؒ کے متعلق قطب ارشاد فرمایا جبکہ ایک اور موقع پر حضرت جؒی نے قطب مدار بھی کہا تھا۔ حیاتِ طیبہ کی اشاعت پر دو مختلف مناصب کے تذکرہ پر احباب کا استفسار تھا۔ یہاں وضاحت ہو جائے تو حیاتِ جاوداں میں بھی وضاحت کر دی جائے گی۔

‘‘معین الدین چشتیؒ  قطب ِارشاد ہوئے۔ قطب الدین بختیار کاکیؒ جو ان کے خلیفہ تھے، دہلی میں فوت ہوئے... اللہ اللہ! وہ قطب ِارشاد ہیں۔ امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی سرہندیؒ جن کی بدولت آج ہم بھی مسلمان بیٹھے ہیں.... سیّد علی ہجویریؒ المعروف بہ داتا گنج بخش قطب ِ ارشاد ہیں۔ ان چار آدمیوں نے آکر ہندوستان میں دین کی بڑی خدمت کی ہے۔ قطب ِ ارشاد بہت بڑی ہستی ہوتی ہے دین کے کاموں میں۔’’

            حضرت جؒی فرمایا کرتے تھے کہ آخر وقت جب تمام دنیا ایمان سے خالی ہو جائے گی اور قطب ارشاد نہ ہوگا تو مجذوبوں کو اللہ مناصب دے دے گا مثلاً اقطاب کے مناصب یا غوث کا منصب مجذوبوں کو دے دے گا جس کے نتیجہ میں وہ تباہی آئے گی کہ قیامت بپا ہو جائے گی یعنی وہ سنبھال ہی نہیں سکیں گے۔ انتظام کائنات کو یا اہتمام کائنات کو وہ سمجھ ہی نہیں سکیں گے۔ اس لئے آپ نے دیکھا ہوگا کہ کسی سلسلہ میں کوئی مجذوب شیخ سلسلہ نہیں ہے۔ یہ اس لئے کہ مجاذیب سے سلسلہ چلتا ہی نہیں۔ اگر کوئی مجذوب ہو تو وہ دوسروں کو فائدہ پہنچانے کی استعداد نہیں رکھتا۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

علمی وفکری اختلاف آپ کا حق ہے۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔