Oct 24, 2014

مقدمہ(اسرار لحرمین)

0 comments
اَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم


فَقَالَ اللہُ تَعَالیٰ:
وَجَعَلْنَا بَعْضَكُمْ لِبَعْضٍ فِتْنَۃط اَتَصْبِرُونَج وَكَانَ رَبُّكَ بَصِیرًا O
اور (لوگو!) ہم نے تم میں سے ایک کو دوسرے کے لئے آزمائش (کاذریعہ) بنایا ہے کیا تم صبرو کرو گے؟ (یعنی صبر کرنا چاہیئے) اور آپ کا پروردگار خوب دیکھ رہا ہے۔ (الفرقان: 20)
          حرمین شریفین کی زیارت کی سعادت حاصل ہونا محض اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہوتا ہے اور وہاں کی برکات سے کماحقہٗ بہرہ ور ہونا اہل بصیرت و اہل دل صوفیاء کرام کا خاصہ ہے۔ ان مقدّس مقامات کے اسرار و کیفیات کا بیان کرنے سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ محققین صوفیاء کرام کے مختصر حالات بیان کئے جائیں اور ان حضرات کو اہلِ زمانہ کے ہاتھوں جو مصائب دیکھنے پڑے، ان کا بیان ہو اور اولیاء اللہ کے مناصب اور ان کے فرائضِ منصبی کا اجمالی ذکر ہو جائے۔

          اس سلسلہ میں یہ بنیادی حقیقت سمجھ لینی چاہیئے کہ ولایت کی حیثیت نیابتِ نبوت کی ہے۔ اس لئے نبی اکرمﷺ کی کامل اتباع کے بغیر ولایت کا تصور بھی نہیں ہو سکتا اور اگر کوئی شخص حضور اکرمﷺ کے اتباع سے بے نیاز ہو کر ولایت کا دعویٰ کرے تو وہ یقیناً جھوٹا ہے اور ناقابلِ اعتبار ہے۔

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

علمی وفکری اختلاف آپ کا حق ہے۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔