Oct 20, 2013

سراجاًمنیرا

0 comments


عرض احوال
مولانا محمد ابراہیم میرؒ سیالکوٹی کا شمار برصغیر کی نامور شخصیات میں ہوتا ہے۔ مسلک اہلحدیث اور قران وسنت کی اشاعت کے علاوہ تحریک پاکستان میں بھی آپ کا ا نمایاں کردار ہے۔ آپ کی تصنیفات کی تعداد ایک صد کے لگ بھگ ہے۔ آپ کو صرف ظاہری علوم ہی میں نہیں بلکہ علوم باطنی ( احسان و سلوک) میں بھی اعلی مدارج حاصل تھے۔ گو کہ آج کے تذکرہ نگار آپ کی زندگی کے اس روشن پہلو سے پہلو تہی ہی کرتے ہی نظر آتے ہیں، ان ہی خطرات کے پیشِ نظر کہ کہیں آفاتِ زمانہ آپ کا یہ روحانی پہلو خرد برد نہ کرد آپ کی تصنیف''سراجاً منیرا'' کو پیش کیا جا رہے ''سراجاً منیرا '' آپ کی وہ تصنیف ہے، جس میں آپ نے برکات نبوت (احسان وسلوک) زیارتِ رسول ﷺ، فضائل درود شریف، اذکار و وظائف وغیرہ پر مختصرا مگر بڑا جامع اور مدلل انداز میں بیان فرمایا ہے۔
یہ کتابچہ اتنا پر تاثیر ہے، کہ وہ حضرات جو راہ سلوک سے ناآشنا ہیں، کم فہم اور خشک مزاج لو گوں کی بد گمانی سے متاثر ہو کر احسان و سلوک سے انکار کر بیٹھے ہیں، وہ اس کا مطالعہ ضرور فرمائیں، ا نشاء اللہ العزیز متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے گے، بشرطیکہ وہ اپنی کو تائیوں کی وجہ سے فطرت سلیمہ کو مسخ نہ کر چکے ہوں۔ دو سری طرف وہ لوگ جو مسلک اہلحدیث کو تصوف وسلوک سے نابلد اورگستاخ انبیاء اور اولیاء سمجھتے ہیں (گو کہ کسی حد تک اس عہد میں یہ حقیقت بھی پائی جاتی ہے) زیر بحث کتاب کے مطالعہ کے بعد اپنا نقطۂ نظر تبدیل کرنے پر مجبور ہوں گے، لیکن تعلق اس کا بھی مذکورہ شرط سے ہے۔
اس کتاب کے دیباچہ اول پر 29رمضان 1361ہجری 11اکتوبر1942ء کی تاریخ درج ہے۔ آپ ؒ نے اس کتاب کے دیباچہ ثانی میں لکھا ہے کہ
’’ سراجاً منیرا کے مضمون مولنا ثناء اللہ امرتسری کی حیات طیبہ میں اخبار اہلحدیث امرتسر میں شائع ہوتے رہے ہیں‘‘
یہ بات ذہن میں رہے کہ اخبار اہلحدیث قبل از پاکستان امرتسر) ہندوستان) سے شائع ہوتا رہا ہے’’ سراجاً منیرا مع ازواج النبیﷺ ‘‘کو فاران اکیڈمی۱۷۔ اردو بازار لاہور نے ۲۰۰۲ء میں بھی شائع کیا ہے۔ راقم الحروف کے علم یہ بات آئی ہے کہ یہ کتاب بعد میں بھی پرنٹ ہوئی ہے مگر افسوس کے اس کے بعض مضامین کو حذف کر دیا گیا ہے، جو کہ میں سمجھتا ہوں یہ ایک بہت بڑی علمی خیانت ہے۔ اور یہی کام تو علما بنی اسرائیل بھی کیا کرتے تھے، علاوہ ازیں یہ کتاب وقاری کے علاوہ مصنف مرحوم مغفور (مولانا محمد ابراہیم میرؒ سیالکوٹی) کے ساتھ بھی بعد از مرگ دھوکا ہے، اللہ تعالیٰ ایسے غالی و نا عاقبت اندیش لوگوں سے اس امت کو محفوظ فرمائیں۔
انٹر نیٹ کی دنیا سے تعلق رکھنے والے اہل قلم حضرات سے گذارش ہے اس کتابچہ کو علمی امانت سمجھتے ہوئے، بغیر کسی رد و بدل کے اس کی اشاعت و تدوین میں تعاون فرمائیں۔ یہ گنہگار اس سعی میں ہے کہ اکابرین اہلحدیثؒ کا جو تعلق روحانیت کے ساتھ تھااس کو منظر عام پر لایا جائے، اسی مشن کی تگ و دو میں یہ کتابچہ محترم تنزیل الرحمن صاحب گوجرہ قلعہ میاں سنگھ سے حاصل ہوا، اس سلسلہ میں ایک کتاب ’’اکابرین اہلحدیث کا احسان و سلوک‘‘ زیر طبع بھی ہے، اس لیے جن احباب کے پاس اکابرینؒ کی کوئی تقریر و تحریر جو تصوف وسلوک سے تعلق رکھتی ہو پہنچائی جائے تا کہ اکابرین ؒ کا یہ چھپا ہوا گوشہ بھی قلمبند ہو سکے، اہل علم حضرات سے خصوصی تعاون کی درخواست ہے۔ آخر میں ان تمام احباب کا شکر گزار ہوں جن کے تعاون یہ مرحلہ بخوبی طے ہوا، اور یہ کتابچہ منظر عام پر آسکا۔ دعا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ یہ کوشش قبول و منظور فرمائیں۔ اور مصنف مرحوم و مغفور کے درجات بلند فرمائیں۔ اللہ کرے یہ کاوش حب رسولﷺ کو اجاگر کرنے کا ذریعہ ثابت ہو۔
عقیل احمد قریشی
اسلام پورہ جبر۔ گوجرخان۔ پاکستان
تمہید نمبر ۱
حق تعالیٰ نے جہاں ذات اقدسْ حضور اکرمﷺ کو سارے عالم اور عالمیاں کے لیے رحمت بنایا ہے۔ وہاں آپﷺ کوسراجاً منیرا (آفتاب عالمتاب) بھی فرمایا ہے کہ دنیا جہان کے لوگ آپﷺ سے نور قلبی حاصل کریں۔ رحمۃ للعلمین ہونے کی شان دنیا و عاقبت ہر دو جہاں کے ہے اور سراجاً منیرا کی صفت امور عاقبت کے لیے ہے کہ جو آپﷺ سے عقیدت و محبت رکھتا ہے۔ وہ عاقبت میں درجات عالیہ پاتا ہے اور دنیا میں بھی جو فیض و برکت حاصل ہوتی ہے۔ اس کا انجام بھی ثواب آخرت ہے۔ لیکن آپﷺ کا رحمۃ للعلمین ہونا سو سب جہان کے لئے موجب امن و امان ہے۔ مومنوں کے لئے بھی اور کافروں کے لئے بھی مطیعون فرمانبرداروں کے لئے بھی اور عاصی گنہگاروں کے لئے بھی اور دیگر جانداروں اور غیر ذی روح اشیاء کے لئے بھی آپ بالواسطہ رحمت ہیں کیونکہ عالمین کے لفظ میں اللہ تعالیٰ کے سوائے سب موجودات آ جاتی ہیں۔ اور سراجاً منیرا صرف مومنین متبعین سنت کے لئے ہے۔
قرآن شریف میں سراج کا لفظ صرف دو ہستیوں کے لئے وارد ہوا ہے۔ آفتاب عالمتاب کے لئے جیسے کہ فرمایا
ترجمہ۔ "یعنی اللہ تعالیٰ نے آسمانوں میں چاند کو نور اور سورج کو چراغ بنایا۔ " (نوح
۲۹)
نیز فرمایا :۔ " (فرقان
۱۹ پ) یعنی بہت بلند شان والا ہے، اللہ جس نے بنائے آسمان میں ستارے اور بنایا اس میں چراغ (سورج) اور (بنایا) چاند روشنی والا۔ "
اسی طرح سورت نباء میں فرماتا ہے :۔
" یعنی اور (بنایا) ہم نے چراغ (سورج) چمکتا۔ "
توضیح:۔ عربی زبان میں منیرا لازم ہے اور متعدی بھی، لازم کا مفاد یہ ہے کہ وہ روشن ہے اور متعدی کا حاصل یہ ہے کہ دوسرے کو روشنی دینے والا اور آفتاب کی بھی یہی شان ہے کہ وہ اپنے آپ میں بھی روشن ہے اور دوسروں کو روشنی دیتا ہے۔ یعنی ستاروں کو چاند کو اور زمین کو۔
اسی طرح حق تعالیٰ نے ذات اقدس آنحضورﷺ کی نسبت بھی فرمایا :۔
"یعنی اے بزرگ شان والے نبی! ہم نے آپ کو (اپنی توحید کا) شاہد کر کے اور (جنت کی) خوشخبری دینے والا کر کے اور (دوزخ سے) ڈرانے والا کر کے اور اللہ تعالیٰ کی طرف اس کے اذن سے بلانے والا کر کے اور روشنی دینے والا آفتاب کر کے بھیجا ہے" (احزاب)
تفسیر معالم میں اس آیات کے ذیل میں کہا ہے :۔
"حق تعالیٰ نے آپ کا نام سراج فرمایا ہے کیونکہ آپﷺ سے ہدایت حاصل ہوتی ہے۔ مانند چراغ کے کہ اس سے اندھیرے میں روشنی حاصل ہوتی ہے۔ "
اسی طرح تفسیر کشاف وغیرہ میں کہا ہے :۔
اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کی ذات سے شرک کے اندھیروں کو آشکار کر دیا اور ہدایت پائی آپﷺ سے گمراہوں نے جس طرح کہ رات کے اندھیرے آشکار ہوتے ہیں روشن چراغ سے اور راہ دکھائی دیتا ہے اس سے۔
"یا یہ کہ امداد دی اللہ نے آپﷺ کے نور نبوت سے باطنی بصیرتوں کی روشنی کو، جس طرح کہ چراغ کی روشنی سے ظاہر ی آنکھوں کو امداد پہنچتی ہے۔ "
الغرض حق تعالیٰ نے آپﷺ کے نور نبوت اور فیض و برکت کو روشن چراغ سے یا آفتاب عالمتاب سے تشبیہ دی ہے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ جس طرح جسمانیات و مادیات پر روشن چراغ یا آفتاب کی روشنی پڑتی ہے اور ان پر سے ظلمت کے پردے چاک ہو جاتے ہیں اور چیزوں کی اصلیت و حقیقت بغیر کسی قسم کے اشتباہ کے نمایاں ہو جاتی ہیں اور دماغ انسانی وحشت و تردد کی حیرانی وسرگردانی سے آرام پاتا ہے اسی طرح آنحضرتﷺ کے نور نبوت سے شرک و کفر، بدعت و ضلالت، رسوم جاہلیت و توہمات اور نفسانی خواہشات کی کدورتیں اور ظلمتیں دور ہو گئیں اور حق و باطل کی حقیت غیر مشتبہ طور پر نمایاں ہو گئی اور ہدایت و ضلالت میں واضح طور پر امتیاز ہو گیا۔ جیسا کہ فرمایا :۔
"یعنی دین میں جبر کرنے (کی ضرورت) نہیں کیونکہ ہدایت (بھلائی) گمراہی (و بد راہی) سے بلا شبہ متمیز ہو چکی ہے۔ " (البقرہ
۳ پ)
چونکہ آنحضرتﷺ حاتم النبیین ہیں اور اللہ اس کے فرشتوں کی طرف سے آپﷺ کے خدا یاد امتیوں پر صلوات و برکات نازل ہوتے رہنے کی خبر ہے جس سے واضح ہے کہ آپؐ کے امتیوں میں اصحاب صلاحیت اور ارباب یمن و برکت ہمیشہ قائم رہیں گے۔ جو آنحضرتﷺ کے انوارقدسیہ سے حسب استعداد بہر اندوز ہوتے رہیں گے، پس آپؐ کا فیض مثل چشمہ جاری کے تا قیامت جاری رہے گا اور ا س پر انقطاع و بندش وارد نہیں ہو گی اور چونکہ انبیائے سابقین کی امتوں میں بوجہ ان کے کفر و شرک اور بدعت و ضلالت اور رسوم جاہلیت و توہمات کی ظلمتوں میں پھنس جانے کے ان انبیاء کے انوار حاصل کرنے کی صلاحیت و قابلیت نہیں رہی نیز ان کی شریعتیں ایک حد تک تو منسوخ اور ایک حد تک محرف و مبدل اور ایک حد تک مختلط و مشتہر ہو کر اصلی حالت پر قائم نہیں رہیں اور ان کی حالت مثل چشمہ غیر صافی و مکدر کے ہو گئی ہے اور وہ لوگ اپنے طریق زندگی میں سنن انبیاء سے منحرف ہو کر مثل ان لو گوں کے ہو گئے ہیں جن کے پاس کوئی کتاب الٰہی یا شریعت نہیں ہے۔ اس لئے ان پر ان انبیاء کے انوار منعکس نہیں ہو سکتے۔ اسی امر کے ایک پہلو میں آنحضرتﷺ نے حضرت عمرؓ کے سامنے توراۃ کا مطالعہ کرنے پر فرمایا تھا۔
"قسم ہے اس ذات کی جس کے دست (قدرت) میں محمدﷺ کی جان ہے اگر تمہارے سامنے موسی ؑ ظاہر ہو جائیں اور تم مجھے چھوڑ کر ان کے پیچھے ہو جاؤ۔ تو تم (اللہ کی) سیدھی راہ سے بہک جاؤ گے اور وہ زندہ ہوں اور میری نبوت پالیں۔ تو ضرور ضرور میرے پیچھے چلیں۔ "
حاصل کلام یہ کہ آنحضرتﷺ کا فیض تو جاری ہے لیکن اس بہرہ اندوز ہونے کے لئے استعداد قابلیت شرط ہے۔ یا یوں سمجھوکہ سبب تو موجود ہے لیکن اس کی تاثیر کیلئے جن اسباب ووسائل کی ضرورت ہے۔ ان کو حاصل کرنا چاہیے اور جو امر اس کے مانع و مزاحم ہیں، ان سے بچنا چاہیے۔ واللہ الموفق) تمہید نمبر
۲
ہر امر کا ظہور اللہ تعالیٰ کی مشیت و ارادے سے ہوتا ہے کیونکہ خالق وہی ہے، باوجود اس کے اس نے تمام دنیا کو سلسلہ اسباب سے جکڑا ہوا ہے کہ ایک چیز کو دوسری کے ظہور و پیدائش کا سبب بنا دیا ہے اگر ایک کو دوسری کا معاون و مددگار بنایا ہے۔ تو تیسری کو اس کا مانع و مزاحم بھی کر دیا ہے۔ حقیقت میں یہ سارا سلسلہ اسباب ظاہر بینوں کی نظر کے سامنے ایک پردہ لٹکا دیا ہے۔ ورنہ کرتا سب کچھ وہ خود ہے جب کسی چیز کو کرنا چاہتا ہے۔ تو اس کے اسباب مہیا کر دیتا ہے اور جملہ رکاوٹیں اور مزاحمتیں دور کر دیتا ہے اور جس چیز کو نہیں چاہتا اس کے بنے ہوئے اسباب بھی بیکار کر دیتا ہے اور انسان اور اس کے مقصود کے سامنے ایک ایسی حکمی سدذوالقرنینی کھڑی کر دیتا ہے کہ یا جو ج ما جوج کے حال کی طرح
فما اسطا عوان یظھر وہ وما اسطاعو الہ نقبا ( سورہ کہف 16)
کی صورت ہو جاتی ہے۔ مثلاً جسمانی جنم کے لئے ماں باپ کو وسیلہ بنایا ہے۔ لیکن بہت سے مرد و عورت ہیں کہ ان کہ کے ہاں اولاد نہیں ہوتی اور حضرت مریم ؑ کو فرزند دینا چاہا تو بغیر خاوند کے دید یا۔ اسی طرح روحانی جنم کے لئے مرشد ذریعہ ہوتا ہے۔ لیکن بہت سے بد قسمت ہیں کہ باوجود مدتوں مرشد کامل کی صحبت میں رہنے کے بے نصیب رہتے ہیں۔ اسی معنی میں کہا گیا ہے۔
؎تہید ستان قسمت را چہ سود از رہبر کامل کہ خضر از آب حیواں تشنہ می آرد سکندررا
یعنی بد قسمتوں کو مرشد کامل سے بھی فائدہ نہیں پہنچتا۔ جیسے کہ سکندر بادشاہ حضرت خضرؑ جیسے مرشد کامل کی رہنمائی کے باوجود بھی آب حیات سے پیاساواپس آیا۔
چونکہ اپنی خوش قسمتی یا بد قسمتی کسی کو معلوم نہیں۔ اسلئے ہم کو عالم اسباب میں رہتے ہوئے اللہ عزوجل کے فضل و کرم پر نظر رکھ کر ان اسباب کے ذریعے اپنی قسمت آزمائی کرنی چاہیے۔ جو اس نے ہمارے اختیار میں کئے ہیں۔ تمہید نمبر
۳ جس طرح جسمانی جنم کے بعد جسمانی پرورش کی نگہداشت اور کفالت مہربان ماں باپ کرتے ہیں۔ اسی طرح روحانی جنم یعنی بیعت کے بعد روحانی پرورش و اصلاح کی نگہداشت مرشد مشفق کرتا ہے۔ پس جس طرح بچہ جسمانی پرورش کے زمانہ میں ماں باپ پر اعتماد کر کے جوانی کی عمر کو پہنچتا ہے۔ اسی طرح مرید کو بھی چاہیے کہ وہ روحانی تربیت کے زمانہ میں یعنی جبکہ وہ مرشد کی زیر نگرانی روحانی عملیات مسنونہ کی مشق کرتا ہو۔ اپنے مرشد سے خلوص و عقیدت رکھے اور اس کی تعلیم کردہ ہدایتوں پر عمل کرتا رہے تاکہ اپنی قسمت و کو شش کی مقدر منزلت کو حاصل کر سکے۔ اللہ نے ہر شخص اور ہر شے کے لئے اپنے علم ازلی میں ایک اندازہ مقرر رکھا ہے۔ وہی اس کی قسمت، وہی اس کی تقدیر ہے۔ اس اندازے میں کمی پیشی نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ فرمایا :۔
وخلق کل شیء فقدرہ تقدیرا۔ (فرقان پ
۱۸)
’’یعنی اس نے پیدا کیا ہر شے کو، پس اسے ایک مقرر اندازے پر رکھا۔ ‘‘
حضرت شیخ اکبر ؒ اپنی تفسیر صغیر میں جو ظاہر تفسیر کے علاوہ ارشادات صوفیا کرام ؒ کے متعلق ہے آیت ومن یتو کل علے اللہ حسبہ (الطلاق پ
۲۸)
" یعنی جو کوئی تو کل کرتا ہے خدا پر پس وہ اس کے لئے کافی ہے " کے ذیل میں فرماتے ہیں۔
کا فیہ یو صل الیہ ما قدر لہ و یسوق الیہ ما قسم لا جلہ من الضباء الدنیا والاخرۃ (مطبوعہ جلد
۱۶۳) "خدا اس کے لئے کافی ہے اسے ضرور پہنچائے گا جو کچھ اس نے اس کے لئے مقدر کیا ہے اور چلائے گا اس کی طرف وہ کچھ جو اس کی قسمت میں لکھا ہے دنیا اور آخرت کے نصیبوں میں"
اس طرح اس سے اگلی آیت قد جعل اللہ لکل شیء قدرا یعنی بیشک مقرر کر رکھا ہے اللہ نے ہر شے کے لئے ایک اندازہ۔ ‘‘ میں فرماتے ہیں۔
ای عین لکل امر حد ا معینا وو فتا معینا فی الا زل لا یذید بسعی ساع ولا ینقص بمنع ما نع و تقصیر مقصر ولا یتا خر عن و قتہ ولا یتقدم علیہ (
۱۶۳جلد ۲)
’’اس نے ازل میں ہر امر کے لئے ایک حد اور وقت مقرر کر رکھا ہے۔ کسی کو شش کرنے والے کی کو شش سے اس میں زیادتی نہیں ہو سکتی اور کسی روکنے والے کے روکنے سے اور کوتاہی کرنے والے کی کوتاہی سے اس میں کمی نہیں ہو سکتی اور وہ امر اپنے وقت مقرر سے نہ پیچھے ہو سکتا ہے اور نہ وقت سے پہلے حادث ہو سکتا ہے ‘‘
اسی معنی میں آنحضرتﷺ کی دعا ہے۔ جو آپﷺ ہر فرض نماز سے سلام پھیر نے سے پہلے پڑھا کرتے تھے :۔ اللھم لا ما نع لما اعظیت ولا معطی لما منعت ولا ینفع ذالجدمنک الجد۔ (بخاری ؒ وغیرہ)
’’اے اللہ ! جو تو عطا کرے اسے کوئی روکنے ولا نہیں اور جو تو روکے اس کا دینے والا کوئی نہیں اور کسی کو شش والے کو اس کو شش تیرے (مقرر کردہ) سے (زیادہ) نفع نہیں بخش سکتی۔
تنبیہات
تنبیہ نمبر ۱
شائد آپ کے دل میں کھٹکے کہ جب سب کچھ مقدر ہے تو سعی و عمل کی کیا ضرورت ہے ؟تو اس کا جواب آنحضرتﷺ نے صحابہؓ کے اسی سوال میں فرما دیا تھا
اعملوفکل میسر لما خلق لہ۔ (صحیح بخاری کتاب التفسیرو کتاب القدر)
یعنی تم عمل کئے جاؤ۔ ہر کسی کے لئے وہ امر مہیا ہو جاتا ہے۔ جس کے لئے وہ پیدا کیا گیا ہے۔ شیخ شیخنا حضرت نواب صاحب ؒ سورۂ الیل کی تفسیر میں فرماتے ہیں۔
’’ یعنی لازم ہے تم پر شان عبودیت جس کے لئے تم پیدا کئے گئے اور حکم کئے گئے ہو۔ اور امور ربوبیت غیبیہ کو اس کے مالک (اللہ تعالیٰ) کے سپرد کرو۔ تمہیں اس سے کوئی واسطہ نہیں۔ اس کی نظیر رزق مقسوم ہے۔ لیکن اس کے ساتھ کسب کا بھی امر ہے اور عمر مقرر اجل (بھی اس کی نظیر ہے) لیکن اس کے ساتھ طبی معالجہ بھی ہے، بیشک تو (اے انسان !) ان دونوں میں غیبی حکم الہی کو علت مو جبہ پائے گا اور جو کچھ ظاہری بات ہے وہ صرف ایک خیالی سبب ہے اور خواص اور عوام ہر دو طرح کے لو گوں کا اس امر پر اتفاق ہے کہ ان دونوں میں باطن کی وجہ سے ظاہر کو ترک نہیں کیا جاتا ‘‘۔ یہ بات امام کرخی ؒ نے کہی ہے (فتح البیان جلد دہم
۲۹۱ مطبوعہ مصر) تنبیہ نمبر۲
شائد اپنی ناکامی پر آپ کے بھولے دل میں یہ خدشہ گزر جائے کہ ہم نے فلاں وظیفہ بہت کیا تھا۔ لیکن بنا بنایا کچھ بھی نہیں۔ اس لئے یہ سب عملیات توہمات ہیں اور ان کو ماننا جاہل لو گوں کا کام ہے۔ تو اس خدشہ کا ازالہ یوں کریں۔ کہ مادی علاج معالجہ میں حکیم و ڈاکٹر بہت سے مقاموں پر ناکام رہتے ہیں اور ظاہری اسباب کے استعمال کا انجام سوائے حسرت و افسوس کے کچھ نہیں ہوتا۔ ورنہ موت کا دروازہ بند ہوا جائے پھر بھی آپ ظاہری اسباب اور مادی علاج کے اثر سے انکار نہیں کرتے۔ بلکہ اپنی ناکامی کے لئے فرضی یا حقیقی وجوہات قرار دے لیتے ہیں۔ کہ تدبیر میں فلاں کسررہ گئی یا فلاں امر مزاحم درپیش آگیا۔ اور اس نے ہماری تدبیر کو کارگر نہ ہونے دیا۔ اسی طرح اس روحانی سلسلہ میں بھی بعض وقت عمل میں کسریں رہ جاتی ہیں۔ اور بعض وقت مزاحمتیں واقع ہو جاتی ہیں۔ تو عمل کا اثر موافق مراد ظاہر نہیں ہوتا۔ بلکہ یہ روحانی سلسلہ اس جسمانی سلسلہ سے بہت نازک ہے کیونکہ مادی معالجہ میں حکیم یا ڈاکٹر کا متقی و پاکباز ہونا شرط نہیں۔ لیکن روحانی سلسلہ میں بیمار کے پرہیز گار ہونے کے علاوہ معالج کے لئے بھی تقویٰ و طہارت سب سے پہلی شرط ہے۔ پس ہر شے کا اثر اس کی شرائط عمل کی پابندی سے عمل کیا جائے تو اللہ تعالیٰ کسی سعی کی رائیگاں نہیں ہونے دیتا۔
حضور اکرمﷺ کی زیارت
عام انسانی زندگی میں سب بڑی سعادت و فضیلت جو کسی صاحب قسمت کو حاصل ہو۔ وہ حبیب رب العالمینﷺ کی زیارت کی نعمت ہے۔ جس کی تمنا میں ہزاروں اولیاء اللہ نے بہت کڑی ریاضتوں میں لمبی لمبی عمریں صرف کر دیں۔ کسی کی قسمت نے یاوری کی تو وہ مراد کو پہنچ گیا اور کوئی راہ ہی میں رہ گیا۔
بزرگان دین نے (اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو) اس سعادت کی تحصیل کے کچھ طریقے اور عملیات لکھے ہیں اور اپنے عملیات سے ان طریقوں کا تجربہ بھی کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے ان کی آرزو پوری کر دی۔ حقیقت میں یہ اس کا فضل ہوتا ہے جس کے لئے وہ اس سعادت کا حصول چاہتا ہے۔ اسے اس ذات گرامی صفات سے روحانیت میں قریب کر کے نعمت زیارت کا شرف بخش دیتا ہے۔ ولنعم ما قال العارف جامی قدس سرہ۔
تاب وصلت کار پاکاں من ازیشاں نیستم
چوں سگانم جائے دہ در سایہ دیوار خویش
وسائل زیارت
۱۔ ہر قسم کی ظاہری و باطنی جسمانی و روحانی، ذہنی و اخلاقی، عملی و اعتقادی اور نفسانی و جذباتی پاکیزگی حاصل کرنے کے بعد سب بڑی چیزجس کے ذریعے ذات اقدسﷺ سے روحانی قرب حاصل ہو تا ہے وہ درود شریف کا وظیفہ ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب (قدس سرہ) اپنی بابرکت کتاب القول الجمیل میں فرماتے ہیں۔
واو صانی بموظبۃ الصلوۃ علے النبیﷺ کل یوم و قال بھا وجدنا ما وجدنا۔
’’ یعنی میرے سردار اور والد ( حضرت شاہ عبد الرحیم صاحبؒ) نے مجھے وصیت فرمائی۔ درود شریف کی ہمیشگی پر ہر روز اور فرمایا کہ ہم نے جو کچھ پایا وہ اسی (کی برکت) سے پایا۔ ‘‘
برکات درود شریف
برکات درود شریف کے برکات و فضائل جو احادیث میں وارد ہیں۔ ان پر نظر کرنے سے واضح ہو جاتا ہے کہ آنحضرتﷺ کی ذات با برکات سے روحانی قرب حاصل کرنے کے لئے درود شریف سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ پس لازم ہے کہ طالب زیارت آنحضرتﷺ کی عظمت و محبت اپنے دل میں سب مخلوق سے زیادہ بٹھا دے اور اس میں شوق زیارت کا چراغ ہمیشہ جلائے رکھے۔ یہاں تک کہ حضرت بلالؓ کی طرح عشق و محبت کا درجہ حاصل ہو جائے اور ایسی حالت ہو جائے کہ ماہی بے آب کی طرح سعادت دیدار کی طلب میں تڑپتا رہے اور بغیر دیدار کے کم از کم بغیر درود شریف اور ذکر حبیب کے چین و آرام نہ پائے کیونکہ کثرت ذکر سے بھی دل و دماغ میں ایک کیفیت پیدا ہو جاتی ہے جو قائم مقام ملاقات ہو کر ایک گو نہ مو جب تسکین و تسلی ہو جاتی ہے۔ محدثین جو دن رات حدیث رسول اللہﷺ کا درس دیتے اور لیتے رہنے کی وجہ سے کثرت سے درود شریف پڑھنے کا موقع دوسروں کی نسبت زیادہ پاتے ہیں ان کی شان میں کسی بزرگ نے کہا ہے :
اھل الحدیث ھمو اا ھل النبی وان
لم یصحبو انفسہ انفاسہ صحبوا
’ یعنی اہل حدیث آنحضرتﷺ کے اہل ہیں۔ گو ان کو آپﷺ کی صحبت (جسمانی ( میسر نہیں آئی لیکن آپﷺ کے انفاس طیبہ یعنی کلام پاک کی صحبت تو حاصل ہے۔ ‘‘
حضرت میاں صاحب مرحوم دہلوی کے سمدہی مولانا حفیظ اللہ خاں صاحب مرحوم دہلوی کے مرض الموت میں تھے۔ یہ عاجز مع ڈاکٹر سید جمال الدین صاحب مرحوم پشاوری ان کی زیارت کو گیا۔ آپ کو مو لانا ثنا اللہ صاحب امرتسری کی طرح شعر بہت یاد تھے
۔ مجھے فرمانے لگے۔ یہ شعر لکھ لو۔ اور سمجھو کہ علم حدیث کی نسبت خود آنحضرتﷺ فرماتے ہیں
درسخن پہناں شدم من ہمچو بو در بوگ گل
ہر کہ دیدن میل وارد د ر سخن بیند مرا
تفسیر معالم وغیرہ آیت اولئک مع الذین انعم اللہ علیھم من النبین والصدیقین (پ ۵ النساء) کے شان نزول کے متعلق مرقوم ہے کہ آنحضرتﷺ کے مولیٰ ثوبانؓ کو آنحضرت سے نہایت درجہ کی محبت تھی۔ کہ آپﷺ کو دیکھے بغیر ان کو قرار نہیں تھا۔ ایک دن آنحضرتﷺ کی خدمت میں آئے اور ان کا چہرہ متغیر تھا اور غم کے آثار چہرہ متغیرہ پر نمایاں تھے۔ آنحضرتﷺ نے (از رہ شفقت) دریافت فرمایا کہ تمھارا رنگ کیوں متغیر ہے ؟انہوں نے عرض کی کیا حضور! (میرے ماں باپ آپﷺ پر سے قربان جائے) مجھے کوئی بیماری یا آزار نہیں ہے مگر یہ کہ جب میں آپﷺ کو نہیں دیکھتا تو نہایت بے قرار ہو جاتا ہوں اور (مجھے چین نہیں آتا) حتی کہ آپﷺ سے ملاقات کر لوں پھر جب میں آخرت کو یاد کرتا ہوں۔ تو خوف کھاتا ہوں کہ میں آپﷺ کو وہاں نہیں دیکھ سکوں گا۔ کیونکہ آپﷺ انبیاء علیہم السلام کے ساتھ علین کی بلندی پر ہوں گے اور میں اگر جنت میں داخل ہو بھی گیا تو بہر حال میرا رتبہ آپﷺ کے رتبے سے ادنیٰ ہو گا اور اگر میں (خدا نخواستہ) داخل جنت نہ ہوں تو آپﷺ کو کبھی بھی نہیں دیکھ سکوں گا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ
’’جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا۔ یہ لوگ ان کے ساتھ ہوں گے جن پر خدا نے انعام کیا ہے۔ یعنی انبیاء اور صدیق اور شہید اور صالحین اور یہ لوگ رفیق ہونے میں بہت اچھے ہیں۔ ‘‘ (سورۃ النساء)
پس طالب زیارت عاشق صادق کی طرح اپنے دل کو ہمیشہ آنحضرتﷺ کی محبت سے پر رکھے اور اپنے فانوس سر میں زیارت کے شوق کا چراغ ہر دم روشن رکھے۔ ہدایات
۱۔ خواب میں آنحضرتﷺ کی زیارت کا شوق رکھنے والے کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنی جسمانی پرورش کے لئے کامل طور پر حلال کی خوراک کھائے اور حرام تو کجا مشتبہ سے بھی پرہیز کرے۔ ظاہر شریعت میں مال مشتبہ کی دعوت کھانی جائز لکھتے ہیں۔ لیکن اہل طریقت و اہل محبت کے نزدیک درست نہیں۔ مال حرام کی نسبت تو حدیث شریف میں صاف طور پر وارد ہے اور اسی حدیث میں مشتبہات کا ذکر ہے کہ جس نے مشتبہات سے پرہیز کی اس نے اپنے دین کو ( نقصان سے) اور اپنی عزت کو ( طعن سے) بری رکھا۔ (بخاری کتاب الایمان) یہ مقام ورع ہے۔ جو بعض محققین کے نزدیک مقام تقویٰ سے بلند تر ہے۔
اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ متشاباقت سے بچنے سے ایمان کامل ہوتا ہے اور عزت محفوظ رہتی ہے۔ اسی مقام کے متعلق امام بخاری ؒ نے کتاب اللقطہ میں حضرت ابو ہریرہؓ سے مرفوعاً بطریق ہمام بن منبہ روایت کیا کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ :۔
’’میں بعض اوقات اپنے گھر جاتا ہے۔ تو کوئی کھجور اپنے بستر پر گری ہوئی پاتا ہوں۔ اسے اٹھاتا ہوں کہ اسے کھاؤں، پھر ڈر جاتا ہوں کہ مبادا یہ صدقہ (کی) ہو۔ پس اسے ڈال دیتا ہوں۔
۲۔ اسی طرح شکم کی پاکیزگی کے بعد بدن اور لباس ہمیشہ پاک صاف رکھئے، صحیح بخاری میں ہے کہ آنحضرتﷺ نے اس شخص کو جو پیشاب کی نجاست سے پاک نہیں رہتا تھا۔ قبر کے عذاب میں مبتلا دیکھا۔ پس جو شخص عالم برزخ میں عذاب میں گرفتار ہو گا۔ وہ حکماً اس دار دنیا میں بھی خدا کے غضب کے نیچے ہے۔ پس اس پر آنحضرتﷺ کی زیارت کا لطف و کرم نہیں ہو سکتا۔ بالخصوص لباس کے متعلق اسی طرح پرہیز ضروری ہے جیسی کہ شکم کی خوراک کے متعلق ہے کہ وہ حرام یا مشتبہ وجہ سے حاصل نہ کیا ہو۔ کیونکہ جس کا کھانا پینا اور لباس حرام وجہ سے ہو۔ اس کی تو عام دعا بھی مقبولیت کے قابل نہیں ہے جیسا کہ حدیث میں وارد ہے۔ (بلواغ المرام) چہ جائیکہ اسے آنحضرتﷺ کی زیارت کے شرف سے نواز جائے۔
۳۔ پھر یہ کہ برے اعمال اور برے اخلاق سے کلی طور پر الگ رہے۔ کیونکہ آنحضرتﷺ جیسا کہ قرآن شریف شاہد ہے۔ خلق عظیم پر تھے۔ پس مسی الخلق کو آپﷺ کے قرب میں جگہ نہیں مل سکتی۔ کیونکہ باہمی مناسب و مجانست نہیں ہے۔
۴۔ نیز بری صحبتوں میں نہ بیٹھے والا آنحضرتﷺ کی پاک مجلس میں باریاب نہیں ہو سکتا۔
۵۔ نیز فضول و فحش گوئی سے اور چغلی اور غیبت سے زبان کو پاک رکھے کیونکہ آنحضرتﷺ نے کبھی بھی فحش گوئی نہیں کی۔ جیسا کہ صحیح بخاری میں حضرت عائشہ کی حدیث میں مذکور ہے اور چغلی اور غیبت والا بھی انعام نہیں پا سکتا کیونکہ استنجاپاک نہ رکھنے والے کے ساتھ آپﷺ نے ایک دوسرے شخص کی بھی (قبر میں) عذاب میں مبتلا دیکھا تھا۔ جو چغلی اور غیبت کرتا تھا۔ پس جب وہ عالم برزخ میں گرفتار عذاب ہے۔ تو اس دار دنیا میں بھی حکماً خدا کے قہر کے نیچے ہے۔ لہذا اسے آنحضرتﷺ سے منا سبت نہیں ہو سکتی۔
پس آنحضرت ﷺ کی زیارت کا شوق رکھنے والا پہلے اپنے آپ کو ان مذ کورہ با لا نجاستوں اور کدورتوں سے پاک صاف رکھے تاکہ درود شریف کی برکت سے اسے آنحضرتﷺ کی حضوری میں جگہ مل جائے۔ ولنعم ما قال العارف الجامیؒ
تاب و صلت کا ر پاکاں من ا زیشاں نیستم
چوں سگانم جائے وہ در سایہ دیوار خویش
۶- (ج) اخلاقی صفائی :۔ اس ظاہر ی اور حسی طہارت و صفائی کے بعد اپنے دل کو حسد و بعض اور کبر و عجب اور نخوت و خود نمائی اور ریاکاری اور مخلوق کی لجاجت اور مطلب پرستی اور خود غرضی اور لالچ کی تیرگی سے صاف رکھے کیونکہ یہ سب باطنی عیوب ہیں اور ان سے دل کا آئینہ مکدروسیاہ ہو جاتا ہے اور آئینہ کی صفائی نہایت ضروری ہے تاکہ اس پر سراجاً منیر ا کا عکس جلوہ ریز ہوسکے اور اس آئینہ نورانی جمال محمدیﷺ کی سعادت حاصل کر سکے۔
تمثیل
اس امر کو آپ بجلی کی تمثیل سے بآسانی سمجھ سکیں گے۔ بجلی کی روشنی کے لئے چند چیزوں کی ضرورت ہے۔ اول : خزانہ روشنی یعنی پاورہاؤس مع انجن واسباب ضروریہ۔
دوم: اس خزانہ روشنی سے گھر کے بلب تک وائرنگ کے ذریعے کنکشن۔
سوم : بلب کے اندر کی تار جو بجلی سے متکیف ہوتی ہے۔
چہارم : اس تار کے گرد بلب کا زجاجی خول
اگر ان میں سے کسی شے کی بھی کمی ہو۔ تو روشنی کا حصول ناممکن، یعنی اگر خزانہ روشنی کا انجن کام نہ کرتا ہو۔ یا وائرنگ درست نہ ہو۔ یا بلب کی تار فیوز شدہ ہو۔ یا اس تار کے باہر کا زجاجی خول نہ ہو۔ تو روشنی نہیں مل سکتی۔ توضیح تمثیل
اسی طرح ذات با برکات آں سرورکائناتﷺ تو سراجاً منیرا ہونے کی وجہ سے خزانہ روشنی ہیں اور وائرنگ مرشدو شیخ یا پیراستاد ہے۔ جس کی ایک جانب تو ذات گرامی صفات آنحضرتﷺ ہے اور دوسری طرف بلب ہے۔ جو اپنا۔ یا فیض کے طالب مرید کا دل ہے۔ اوصاف شیخ یا مرید :۔ پس اس مرشد کا متبع سنت۔ صحیح العقیدہ اور صالح العمل ہونا ضروریات سے ہے اور یہ بھی کہ کفر و شرک الحاد و بدعت، فسق و فجور اور اعمال سئیہ کی آلودگیوں سے پاک ہوا اور یہ بھی کہ وہ فرائض و سنن اور مستجات کا ادا کرنے والا محرمات اور مکروہات اور مشتبہات سے پرہیز کرنے والا ہو۔ پس ایسا پاکباز متبع سنت شیخ آنحضرتﷺ (خزانہ روشنی) سے قلبی تعلق رکھتے ہوئے آنحضرتﷺ سے نو ر حاصل کرے اور اس کی انعکاسی شعاعیں مرید کے آئینہ صافی پر ڈالے۔
۲۔ بلب کے اندر کی تار :۔ اور یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ بلب کا خالی خول وائرنگ سے روشنی نہیں حاصل کرتا بلکہ اس کے اندر ایک باریک سی تار ہوتی ہے اور بجلی کی کیفیت سے متکیف ہوتی ہے تو پھر جا کر روشنی لیتی ہے۔ پس دل کا زندہ ہونا بھی ضروری ہے۔
۳۔ دل سے مراد :۔ دل دو معنی پر بولا جاتا ہے ایک تو صنبوبری شکل کا گوشت کا ٹکڑا ہے اس کی بیماری کا سمجھنا اور علاج کرنا اطباء کے متعلق ہے۔ دوم دل اس لطیفہ غیبی اور نور ربانی پر بولا جاتا ہے۔ جو خالق حکیم نے اس گوشت کے ٹکڑے میں رکھا ہے، یہ دل ربانی لوگوں کا مقصود ہوتا ہے۔ پس اس کی زندگی بھی لازمی ہے
باقی رہا بلب کا خول۔ سودہ ظاہر شرع کے احکام ہیں۔ جو اس نور ربانی کے حامل ہیں۔ پس اگر دل میں جو انوار ربانی کا محل ہے۔ ایمان و خلوص نیت اور اللہ کی اطاعت و محبت ہے۔ تو وہ زندہ اور تندرست ہے اور اگر اس میں ایمان نہیں ہے تو وہ مردہ ہے اور اگر خلوص و اطاعت نہیں ہے تو وہ بیمار ہے والذین فی قلوبھم مرض اور اس قسم کی دیگر آیات میں ایسے ہی امراض کا ذکر ہے۔ درجہ استکمال و تکمیل :۔ شرائط مذکور ہ بالا کو پورا کرنے والا بلب ایک روشن اور چمکتا ہوا چراغ ہے کہ جس کہ کمرے میں موجود ہو۔ ۔ اس کمرے کو بھی اور جو لوگ اس کمرے میں موجود ہوں اور ان کی آنکھیں اس بلب کے سامنے ہوں۔ روشن کر دیتا ہے۔ اس طرح وہ دل جو شرائط مذکورہ بالا سے صحیح کنکشن کے ذریعے نور حاصل کرتا ہے۔ خود بھی روشن ہوتا ہے اور اپنے پاس بیٹھنے والوں کو بھی روشنی بخشتا ہے۔ بلب کے اندر اور باہر :۔ پھر آپ نے یہ بھی دیکھا ہو گا کہ باورچی خانے کے بلب عموماً دھوئیں اور مکھیوں کی وجہ سے باہر کی طرف سے گندے ہو جاتے ہیں، وہ بلب جملہ شرائط مذکورہ بالا کے پورا ہونے پر بھی دھندلی سی روشنی دیتا ہے۔ اس معلوم ہوا کہ جس طرح بلب کے خول کی اندرونی سطح کا صاف و بے داغ ہونا ضروری ہے۔ اسی طرح اس کی بیرونی سطح کی صفائی بھی بہت ضروری ہے اسی طرح بعض دل بذات خود تو روشن ہوتے ہیں۔ لیکن ان کی انعکاسی شعاعیں دوسروں پر نہیں پڑسکتیں کیونکہ بہت سی نفسانی کدورتیں اور حجاب ہیں کہ انہوں نے دل کو گندہ کر دیا ہوتا ہے۔ پس وہ دل باوجود روشن ہونے کے روشنی بخش نہیں ہو سکتا۔ پس کمال اسی دل میں ہے۔ جو بشرائط مذکورہ بالا خزانہ روشنی لیتا ہے اور ظاہر و باطن یعنی شریعت و طریقت کی باتباع سنت پابندی کر کے کامل طرح کی صفائی حاصل کر کے استکمال کے بعد تکمیل ناقصین بھی کرتا ہے۔ اللھم اجعلنی ھادیامھدیا۔
درود شریف پڑھنے کے طریقے
۔ ایک طریقہ درود شریف پڑھنے کا یہ ہے کہ ہر روز نماز عشاء کے بعد صاف ستھرے لباس سے جو حلال کمائی سے حاصل کیا ہو۔ ملبوس ہو کر اور تازہ وضو کر کے اور خوشبو لگا کر خلوت میں ہو کر شور و شغب سے توجہ میں خلل نہ پڑے صاف و ستھرا مصلیٰ بچھائے اور یہ درود شریف پڑھے
اللٰھم صل علے سید نا محمد والہ کما تحب و تر ضے۔
یعنی یا اللہ ! تو درود بھیج اوپر سردار ہمارے محمدﷺ اور آپ کی آل کے جس طرح کہ تو پسند کرے اور راضی ہو۔ ‘‘
۲۔ یا یہ درود شریف پڑھے :۔
اللھم صل روح علے سیدنا محمد فی الا رواح و علے جسد سید نا محمد فی الا جساد اللھم صل قبر فی القبور۔
اے اللہ ! تو درود بھیج اوپر روح سردار ہمارے محمدﷺ کے بیچ ارواح کے اور اوپر جسم مبارک سردار ہمارے محمدﷺ کے بیچ اجسام کے۔ اللہ ! تو درود بھیج اوپر آپﷺ کی قبر کے بیچ قبروں کے۔
۳۔ یا جمعہ کے روز (عصر اور مغرب کے درمیان) ایک ہزار مرتبہ یہ درود شریف پڑھے۔
اللھم صل علے سید نا محمد النبی الا می
اے اللہ ! تو درود بھیج اوپر سردار ہمارے محمدﷺ نبی امی کے۔
انشاء اللہ پانچ جمعہ تک جب مناسب روحانی پیدا ہو جائے گی تو گو ہر مقصود سے دامن پر ہو جائے گا اور خواب میں اپنی جگہ بہشت میں دیکھ لے گا۔
عمل دیگر آنحضرتﷺ سے قرب روحانی حاصل کرنے کے لئے سورت انا اعطیناک کا ورد بھی بہت موثر ہے و مجرب ہے کیونکہ اس میں آنحضرتﷺ پر عطائے کوثر (نہر کوثر اور خیر کثیر) کا ذکر ہے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ شب جمعہ کو آداب مذکورہ بالاسے پاک و صاف مصلےٰ پر با وضو بیٹھے اور ایک ہزار بار یہ سورت مع بسم اللہ کے پڑھے اور بغیر کلام اور دیگر تفکرات کے شوق زیارت کے چراغ روشن رکھتے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی جناب میں دعائیں اور التجائیں کرتے ہوئے سوجائے۔ انشاء اللہ شرف زیارت سے مشرف جائے گا۔
تنبیہ :۔ اگر خدا نخواستہ مراد حاصل نہ ہو تو۔ سمجھو کہ دو حال سے خالی نہیں یا تو گناہوں کی نجاست سے پاکیزگی نہیں ہوئی۔ تو حضوری میں باریابی نہیں ہو سکتی۔ پس گناہوں کو یاد کر کے جناب باری میں تضرع و زاری کرے اور توبہ استغفار کرے اور عمل جاری رکھے۔
یا یہ سمجھے کہ میرے ضعف کی وجہ سے عمل میں ضعف ہے۔ پس ہر شب جمعہ کو ایسا کرے حتیٰ کہ عمل میں قوت حاصل ہو کر مقصود حاصل ہو سکے۔ دیکھتے نہیں کہ آیت کریمہ لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظلمین حضرت یونس ؑ نے صرف ایک دفعہ پڑھی تھی اور اللہ تعالیٰ نے رحم کر دیا تھا۔ لیکن اب اس کا عمل سوالاکھ مرتبہ کیا جاتا ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ حضرت یونس ؑ کی ایک آہ درد ہماری سوالاکھ آہ سے بھی زیادہ موثر تھی۔ وہ نبی اللہ تھے اور ہم امتی ہیں۔ نبی اور امتی میں جو فرق مرتبہ کا ہے، وہ ظاہر ہے۔ محتاج بیان نہیں پس بحکم ؂
دست از طلب ندارم تاکام من بر آید !
یا تن رسد بجاناں یا جاں زتن بر آمد !
کئے جاؤ کوشش میرے دوستو!
فیض سینہ بسینہ
مسلمانوں کی زبان سے ایک لفظ سینہ بسینہ اکثر سنا جاتا ہے جو ان معنوں میں بولا اور سمجھا جاتا ہے کہ کوئی علم ایسا بھی ہے۔ جو آنحضرتﷺ نے الفاظ میں نہیں بیان کیا۔ اس لئے وہ احادیث میں منقول نہیں ہوا۔ بلکہ وہ آپﷺ خاص اوقات میں شاہ ولایت حضرت علی کرم اللہ وجہ اور ان جیسے بعض دیگر صحابہ کے سینہ پر القا کیا۔ جس سے وہ منور ہو گئے۔ انہی کے فیض و برکت سے سلسلہ بسلسلہ وہ علم مشائخ طریقت میں چلا آیا اور اب بھی وہ علم اسی طرح سے ا۔ ب۔ ت حروف تہجی والے الفاظ کے بغیر ایک سینے سے دوسرے سینے میں منتقل ہوتا ہے بلکہ بعض اوقات ان سے ایسے امور بھی واقع ہو جاتے ہیں جو اہل ظاہر کی نظر میں خلاف شریعت ہوتے ہیں۔
محبان طریقت تو اسے تسلیم کرتے ہیں۔ بلکہ اپنے طریق کی بنا ہی اس پر سمجھتے ہیں لیکن پیروان، شریعت اس کا انکار کرتے ہیں کہ کوئی ایسا علم جو قرآن و حدیث میں صریحاً یا اشارۃً مذکور نہ ہو۔ آنحضرتﷺ کی طرف منسوب ہو سکے کیونکہ حق جل و علا نے ذات قدسی کو اپنے اور اپنے بندوں کے درمیان اپنا رسول اور سفیر بنایا اور اپنی خصوصی وحی سے آپﷺ کو علم دیا۔ اپنا پاک کلام آپﷺ پر اتارا اور ان پیغامات و احکام کی تبلیغ آپﷺ کا فرض قرار دیا۔ چنانچہ فرمایا۔
یا یھاالرسول بلغ ما انزصل الیک من ربک وان لم تفعل فما بلغت رسالۃ (مائدہ پ
۶)
یعنی اے ( میرے عظیم الشان) رسولﷺ جو کچھ آپﷺ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے اتارا جاتا ہے۔ وہ (سب کا سب) پہنچا دیں۔ یعنی اس کی تبلیغ (بندوں کو) کر دیں۔ اور اگر آپﷺ نے ایسانہ کیا۔ یعنی اگر تبلیغ نہ کی۔ تو آپﷺ نے اللہ تعالیٰ کی رسالت کی تبلیغ نہیں کی۔ ‘‘
یعنی اس کے پیغامات اس کے بندوں تک پہنچا دینے کے منصب کو سر انجام نہ دیا۔ اور اپنا منصب تبلیغ رسالت پورا نہ کیا۔
اسی وجہ سے آنحضرتﷺ نے حجۃ الوداع میں سب حاضرین سے جن کی تعداد (کم و بیش) ایک لاکھ یا سوالاکھ تھی۔ بطور شہادت لینے کے پوچھا۔ ھل بلغت یعنی کیا میں نے تم کو تبلیغ کر دی! تو صحابہؓ نے جواب میں کہا کہ ہاں حضور !آپ نے دین الہی پہنچا دیا اور کامل خیر خواہی سے پہنچایا۔ (صحیح بخاری ؒ وغیرہ)
پس صحابہؓ نے جن میں حضرت علیؓ بھی موجود تھے۔ اسی وصیت کی رو سے دین کی تبلیغ کی اور انہی کی تبلیغی روایات کا نام حدیث ہے جن کی باقاعدہ تدوین خلیفہ عمر بن عبد العزیزؒ نے حکم سے شروع ہوئی اور آج وہ ہمارے پاس موطا امام مالک ؒ اور صحیح بخاری ؒ اور صحیح مسلم ؒ وغیرہ کتابوں کی صورت میں موجود ہیں۔ پس کوئی ایسا علم جو قرآن و حدیث میں مذکور نہیں یا اس سے ماخوذ نہیں ذات اقدس ﷺ کی طرف منسوب نہیں ہو سکتا۔ لہذا بغیر زبان کی گویائی اور کان کی شنوائی کے آنحضرتﷺ سے کوئی علم منقول نہیں۔
فیض سینہ بسینہ کا صحیح مفہوم :۔ ہاں آپﷺ کے سینہ فیض گنجینہ کے انوار جو دوسرے قابل دلوں پر منعکس ہوتے تھے اور ان میں ایک باطنی کیف پیدا کر کے اسے منور کر دیتے تھے۔ ان سے انکار نہیں ہو سکتا اور ہم فیض سینہ بسینہ کے ان معنوں میں ہونے اور سلسلہ بسلسلہ بزرگان دین میں برابر چلے آنے کو برابر مانتے ہیں اور اسی کے ثابت کرنے اور سمجھانے کے لئے ہم نے عنوان کو مقرر کیا ہے۔ واللہ الھادی!
طریقت اور شریعت میں مخالفت نہیں ہو سکتی :۔
شریعت و طریقت میں مخالفت کا ہونا گو کبھی ہو۔ یہ امر بھی باطل ہے کیونکہ جس امر کو خدا تعالیٰ نے بواسطہ اپنے رسولوں کے علی الاعلان الفاظ میں ظاہر کیا اور اس کی فرمانبرداری بندوں پر لازم کر دی اوراس کی نا فرمانی سے اپنی ناراضی صاف و صریح الفاظ میں ذکر کر دی۔ اس کی خلاف ورزی اس کو کس طرح پسند آسکتی ہے۔ پس اگر طریقت خدا رسی کے طریق کا نام ہے۔ تو اس کا شریعت کے مطابق و موافق ہونا لازمی ہے۔ اسی لئے اہل طریقت بزرگوں کا (اللہ تعالی ان سے راضی ہو) متفقہ قول کہ طریقت بغیر شریعت کے زندقہ و بے دینی ہے۔
یہ بات اتنی مسلم اور مشہور ہے کہ ہم کو اس کے لئے ان اقوال کے نقل کرنے اور کتابوں کے حوالے ذکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ مولا نا روم صاحبؒ نے مثنوی شریف میں اور خواجہ علی ہجویری ؒ لاہوری نے کشف المحجوب میں اور سید عبدالقادر جیلانی ؒ نے غنیۃالطالبین اور فتوخ الغیب میں اور حضرت مجدد صاحبؒ نے اپنے مکتوبات میں نہایت صفائی سے اسے بیان کیا ہے۔
محاکمہ
یہ ذرہ بے مقدار (بد نام کنندۂ نکو نامے چند) متبع سنت ہو کر اہل طریقت سے بھی عقیدت و محبت رکھتا ہے۔ ان دونوں فریقوں کی نزاع کو یوں مٹانا چاہتا ہے کہ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ ہمارے پاس آنحضرت ﷺ کی تبلیغ صرف قرآن و حدیث کی صورت میں ہے اور ان ہر دو سے باہر ہم کسی چیز کو آنحضرتﷺ کی طرح منسوب نہیں کرسکتے۔
کیونکہ جب ہر دو منجانب اللہ ہیں اور ہر دو اللہ کے پاس پہنچنے کی سبلییں ہیں تو ان میں مخالفت کیوں ہو گی ؟ اگر کسی کو نظر آتی ہے تو ہر دو (اہل شریعت و اہل طریقت) میں سے کسی طرف کی غلط فہمی ہے اگر ہر دومقام صحت پر کھڑے ہوں تو دونوں مخالف نہیں ہو سکتی لیکن یہ کہنا یا سمجھنا کہ ایک سینہ سے دوسرے سینہ سے سینہ میں بغیر حرفوں کی تعلیم کے کچھ آ نہیں سکتا۔ یہ خشکی اور بے ذوقی ہے
قدر ایں بادہ ندانی بخدا تا نچشی
کا معاملہ ہے کیونکہ کیفیات و وجدانیات کا احساس صاحب کیفیت اور صاحب وجدان کے سوا کوئی دوسرا نہیں سمجھ سکتا اور یہ وہ حقیقت ہے جو الفاظ میں بیان نہیں ہو سکتی۔ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب ؒ کے والد ماجد حضرت شاہ عبدالرحیم صاحب ؒ جو عالم عامل اور ولی کا مل تھے
بیان توجہ میں فرماتے ہیں :۔
ومن لم یزق لم یدر۔ یعنی جس نے چکھا ہی نہیں وہ کیا جانے اور کیا سمجھے ؟اسی اصول پر اللہ تعالیٰ نے منکرین نبوت محمدیہﷺ کو یوں خطاب کیا ہے۔ افتمارونہ عل مایری (النجم پ 27) ’’یعنی تو کیا تم اس نبیﷺ سے ایسے امر میں جھگڑا کرتے ہو۔ جسے وہ ( عیاناً سامنے) دیکھ رہا ہے ‘‘
اب اس امر کو اسی علم (معقول و منقول) سے سمجھئے۔ جس سے آپ مانوس ہیں کہ علم دو طرح پر ہوتا ہے۔ حروف سے اور قلب سے کتابی علم حرفوں کے ذریعے اہل علم استاد سے حاصل ہوتا ہے اور قلبی علم اہل دل مرشد سے قلبی مناسبت پیدا کرنے اور زہ د و عبادت اور مجاہدہ و ریاضت سے ملتا ہے اور ان سب میں آداب شرعیہ کی رعایت اور اتباع سنت اس حد سے بڑھ کر کرنی پڑتی ہے جس حد تک آپ اپنی نماز وغیرہ عبادت کی صحت کے لئے کا فی جانتے ہیں۔ یہ تو خلاصہ مطلب ہے۔ اب معقولاً و منقولاً اس کی تشریح کی مطالعہ فرمایئے:
جس طرح اس مادی عالم میں ایک شے موثر بھی ہے کہ دیگر شے اثر ڈالتی ہے اور کسی دوسری چیز کا اثر قبول بھی کرتی ہے۔ اسی طرح ایک قلب و روح انسانی دوسرے دل پر اثر ڈالتا بھی ہے اور دوسرے قلب سے اثر کو قبول کرتا ہے۔ اصل چیز تاثیر و تاثر کے لئے یہی دل ہے۔ باقی سب اعضااس کے تابع ہیں کہ بلا تردد و تامل اور بلا وقفہ و مہلت اور بلا انکار و کراہت اس کی اطاعت کرتے ہیں۔ اس خاکدان دنیا میں ایسی اطاعت کسی اور جگہ نہیں ملے گی۔ بس یہی سمجھ لیجئے کہ خالق حکیم نے لشکر اعضا کی فطرت میں اپنے سلطان یعنی قلب کی نافرمانی رکھی ہی نہیں۔ اسی لئے کہتے ہیں۔ القلب سلطان البدن یعنی ’’دل بدن کے باقی اعضا کا بادشاہ ہے۔ ‘‘ پس اعضا پر جو بھی اثر ہوتا ہے، وہ سب اسی کی و ساطت سے ہوتا ہے اور اگر وہ بھی کسی دوسرے پر اثر ڈالتے ہیں تو اسی کے فیض سے ڈالتے ہیں۔
زبان کی تاثیر مسلم ہے۔ اس کی افسون گری دل پر ایسا قبضہ جما لیتی ہے کہ اسے کسی اور اپنے کے مطلب کا نہیں رہنے دیتی سرورکائنات ﷺ خود افصح العرب تھے۔ کسی شاعر کی تقریر سن کر فرمانے لگے۔ ان من البیان لسحرا۔ یعنی بیان میں بھی جادو کا اثر ہوتا ہے۔
مولانا ثناء اللہ صاحب امر تسری (مدظلہٗ) نے امرتسرمیں اس عاجزی کی سب سے پہلی تقریر سن کر فرمایا تھا۔
اثر لبھانے کا پیارے ! تیرے بیان میں ہے
کسی کی آنکھ میں جادو تیری زبان میں ہے
لیکن جب اس کے بولے ہوئے الفا ظ میں بولنے والے کی قلبی کیفیت بھی بسی ہوئی ہو۔ تو اس کا جذب لوہے کی زنجیر سے طاقتور ہو جاتا ہے، اسی معنی میں کہا گیا ہے۔
سخنے کہ از دل بیروں آید در دل جامی گیرد۔ ’’ یعنی جو بات دل سے نکلتی ہے۔ وہ دل میں جگہ پکڑتی ہے ‘‘
اسی طرح آنکھ کی مقناطیسی کشش سے کون انکار کر سکتا ہے۔ جو ایک نظارے سے تڑپا دے اور ایک اشارے سے گھائل اور آسیب زدہ کی طرح حیران و ششدر کر کے کھڑا دے۔ زمین پر ٹپکا دے۔
اب سوال یہ ہے کہ زبان اور آنکھ محض اپنے گوشت اور جسم مادی سے اثر ڈالتے ہیں یا دل کی کیفیت سے متکیف ہو کر اپنا جادو چلاتے ہیں۔ اگر پہلی صورت ہے یعنی بغیر دل کے خود بخود موثر ہیں۔ تو یہ تاثیر ہر وقت کیوں نہیں اور اگر دوسری صورت ہے۔ جو واقعی ہے تو سلسلہ اسباب میں اصل موثر دل ہو اور دل آنکھ زبان وغیرہ اس کے آلات تاثیر ہوئے۔ وھذاھوالمراد۔
جب یہ معلوم ہو گیا کہ تمام اعضا دل کے فرمانبردار اور تحت ہیں اور وہ اسی سے اثر پذیر ہو کر حرکت کرتے اور اپنے فعل انجام دیتے ہیں۔ تو اب سمجھناچاہیے کہ سینہ، آنکھ اور کان کی نسبت دل کے بہت قریب ہے بلکہ جملہ اعضائے بدن سے نزدیک ہے کیونکہ سینہ ظرف اور دل مظروف چنانچہ خالق اکبر فرماتا ہے :۔ فانھالا تعمی الابصارولکن تعمی القلوب التی فی الصدور۔ ’’یعنی (ان بصیرتوں کی) آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں۔ بلکہ دل اندھے ہیں۔ جو سینوں کے اندر ہیں ‘‘
اور ظاہر ہے کہ ظرف و مظروف میں جو قرب و اتصال ہوتا ہے۔ دوسروں کو حاصل نہیں ہو سکتا۔ پس سینہ دل کے جذبات کوائف سے نسبت دیگر اعضا کے بہت جلد اور بہت زیادہ متکیف ہو جاتا ہے اور چونکہ سینہ میں نہ تو زبان کی طرح گویائی ہے کہ بول کر اثر ڈالے اور نہ آنکھ کی مثل بینائی ہے کہ دیکھ کر اور آنکھ سے آنکھ ملا کر کسی کو کھینچ سکے۔ اس لئے یہ کلام اور نظرسے اثرانداز نہیں ہوتا۔ بلکہ خالق حکیم نے اس میں دو دیگر قوتیں ودیعت کی ہیں۔ جن سے اپنے اعضائے بدن کے علاوہ بیرونی اشیاء (اجسام و قلوب) کو بھی مسخر کے ان پر حکومت جما لیتا ہے اور ا ن کو اپنی کیفیت سے متکیف کر دیتا ہے۔
پہلی یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے اعصاب حاسہ (حس والے پٹھوں) میں قلبی کیفیات کو جذب کرنے کی دیگر سب اعصاب سے زیادہ رکھی ہے۔ اس لئے یہ قوت لا مسہ کے ذریعے بھی اثر ڈالتا ہے۔ یعنی اگر عامل اپنے معمول کے سینے کو اپنے سینے سے لگا دے اور پوری توجہ سے دبا دے۔ تو عامل کے دل کی کیفیتیں معمول کے دل میں منعکس ہو جاتی ہیں۔ بشرطیکہ ان میں جذب و انجذاب کی قابلیت ہو۔ دوسری یہ کہ خدائے جبار نے اس میں ایک ایسا و صف بھی رکھا ہے کہ جب یہ خود نور و محبت الہی سے بھر جاتا ہے تو اس کے اندر ایک انبعاث (ابھار) پیدا ہوتا ہے۔ جو کبھی رقت کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور صاحب دل زور زور سے رونے اور گڑگڑانے لگتا ہے اور کبھی جو ش کی صورت میں نمودار ہوتا ہے اور یہ اس کی جلالی حالت ہوتی ہے ایسی حالت میں اس سے نور کی شعاعیں نکلتی ہیں۔ جو فیض کی خواہش اور قابلیت رکھنے والے دل پر اس کے سینہ کے گوشت اور ہڈیوں کو چیرتی ہوئی منعکس ہو جاتی ہیں۔ ایسی حالت میں لمس اور مس۔ یعنی سینے سے لگانے یا چھونے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔ بس ایک جلالی توجہ ہی کام کر جاتی ہے۔ بلکہ ایسی حالت میں شیخ کے سامنے ہونے کی بھی حاجت نہیں۔ بلکہ مسافت بعیدہ سے بھی اثر ہو سکات ہے
وجر بت ذلک مرار والحمداللہ۔ یشھدبذلک من وقع علیہ ھذاالحال من مخلص ھذا العبدالائیم
اگر مرشد کے دل کی کیفیتیں اور اس کے جذبات پاک ہیں اور وہ انوار قدسیہ سے منور ہے اور مرید کا دل بھی کدورت نفسانیہ سے پاک ہوتے ہوئے انوارقدسیہ کا طالب و خواہشمند اور اس کے فیض کے حاصل کرنے کے قابل ہے۔ تو اس میں بھی اس کی رسائی بھر نور بھر جاتا ہے۔ چنانچہ یہ مضمون اہل طریقت و اشارات کے طریق پر اس آیت سے سمجھاجا سکتا ہے۔
انزل من السماء ماء فسالت اودیتہ بقدرھا۔ (رعد پ 13 )
’’یعنی حق تعالیٰ آسمان کی طرف سے بارش اتارتا ہے۔ تو وادیوں میں بقدر ان کی وسعت کے پانی بہہ پڑتا ہے۔
اس اثر کو اہل طریقت کے ہاں تصرف کرنا یا فیض و برکت بخشنا کہتے ہیں اور آئندہ ہم اسے اسی نام سے ذکر کریں گے انشاء اللہ۔ تنبیہ :۔ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب کے والد ماجد شاہ عبدالرحیم صاحب ارشادات رحیمیہ ‘‘ میں فرماتے ہیں:۔ طریقہ توجہ خواجگان (قدس اللہ اسرار ہم و آں توجہ را تصرف نامند بریں وجہ است کہ بدل متوجہ دل طالب شوند و ازراہ گذران ارتباط اتصال و اتحاد سے میان دل ایشاں و باطن آں طالب واقع می شود، و بطریق انعکاس ازول ایشاں پر تو بر باطن دے می تابداویں صفتے است کہ ناشی از استعداد ایشاں ست، کہ بطریق انکاس درآئینہ استعداد آں طالب ظاہر شدہ، اگر ایں ارتباط متصل شود آنچہ بطریق انعکاس حاصل شدہ بعد صفت دوام پذیر د، وتبین شرائط تصرف دوقائق آں و تفصیل روش آں بگفتن مرشد تعلق دارد۔ ومنقول است از حضرت خواجہ محمدیحیٰ پسر حضرت خواجہ عبیداللہ احرار (قدس تعالیٰ اسرار ھما) کہ ارباب تصرف بر انواع اند، بعضے ماذون و مختارکہ باذن حق سبحانہ و تعالیٰ و باخیتار خود ہر گاہ کہ خواہندہ تصرف کنندہ واور ابمقام فنا بیخودی رسانند و بعضے دیگر ازاں قبیل اند کہ با جود قوت تصرف جزبامر غیبی تصرف نکتند۔ تا از پیشگاہ مامور نشوند بکسے توجہ نکتندو بعضے دیگر آنچناں کہ گاہ گاہ صفتے و حالتے بر ایشاں غالب شود ودرغلبہ آں حال درباطن مرید تصرف کنندہ واز حال خود ایشاں رامتاثر سازند۔ پس کسے کہ نہ مختار بو دونہ ماذون ونہ مغلوب، ازوچشم تصرف نبایدادشت (ارشادات رحیمہ)
(ترجمہ) توجہ خواجگان کا طریقہ (اللہ تعالیٰ ان کے بھیدوں کو پاک کر دے) اور وہ اس توجہ کا نام تصرف رکھتے ہیں۔ یہ ہے کہ اپنے سارے دل سے طالب کے دل کی طرف متوجہ ہونے ہیں اور ارتباط کی وجہ سے ان کے دل میں اور طالب کے دل میں اتصال و اتحاد پیدا ہو جاتا ہے۔ اور بطریق انعکاس ان کے دل سے اس (طلب) کے باطن پر پر تو پڑتا ہے اور یہ ایک ایسی صفت ہے جو ان (بزرگوں) کی استعداد کے آئینہ میں ظاہر ہو جاتی ہے۔ اگر یہ ارتباط متصل ہو جائے۔ تو جو کچھ بطریق انعکاس حاصل ہوا تھا وہ دوام کی صفت پکڑتا لیتا ہے اور شرائط تصرف اور اس کی باریکیوں کا بیان اور اس کے طریقہ کی تفصیل مرشد کے بتانے کے متعلق ہے۔ اور حضرت خواجہ محمد یحیٰ بن حضرت عبیداللہ (قدس اللہ اسراراھما) سے منقول ہے کہ اصحاب تصرف کئی قسم پر ہیں۔ بعضے ماذون و مختار ہیں کہ حق سبحانہ و تعالیٰ کے اذن اور اپنے اختیار سے جب چاہتے ہیں تصرف کرتے ہیں اور اس (طالب) کو مقام فنا اور بیخودی پر پہنچا دیتے ہیں اور بعض دوسرے اس قسم کے ہیں کی باوجود قوت تصرف کے سوائے امر غیبی کے تصرف نہیں کرتے۔ جب تک درگاہ الہی سے مامور نہ ہوں کسی کو توجہ نہیں دیتے اور بعض دیگر اس طرح کے ہیں کہ ان پر کبھی کبھی کوئی صفت یا کوئی حالت غالب ہو جاتی ہے۔ تو اس غلبہ حال کے وقت مرید کے باطن میں تصرف کرتے ہیں اور انکو اپنے حال سے متاثر کر دیتے ہیں۔ جو شخص نہ مختار ہو اور نہ ماذون ہو اور نہ مغلوب ہو اس سے تصرف کی امید نہیں رکھنی چاہیے۔ ‘‘
تنبیہہ:۔ اس فیض و برکت کا ذکر کتب سابقہ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور آپ کی نسل کے انبیائے بنی اسرائیل کے حالات میں بھی ملتا ہے اور اسے انگریزی میں (تو گو بلیسنگس)
To Give Blessings کہتے ہیں۔ یعنی کسی کو فیض و برکت بخشنا۔
تقریب مقصد
گذشتہ تمہید اور تفہیم کے بعد ہم اپنے مقصود کو احادیث صحیحہ اور واردات نبویہ سے ثابت کرتے ہیں :۔
حدیث اول
( صحیح بخاری کتاب الوحی و کتاب التفسیر) غار حرا میں جب آنحضرت سرورانبیاءﷺ کو خلعت نبوت سے نوازگیا حضرت جبرائیل ؑ نے آپ سے کہا۔ اقراء۔ یعنی پڑھئے تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ ماانابقاریء۔ ’’یعنی میں پڑھا ہوا نہیں۔ ‘‘ اس پر جبرائیل ؑ نے آپﷺ کو تین دفعہ (یکے بعد دیگرے) اپنے سینے سے لگایا اور زور سے دبایا۔ اس طرح تین بار کرنے کے بعد اقراء باسم ربک الخ یعنی سورت علق کی پانچ ابتدائی آیتیں پڑھائیں عطائے نبوت پر یہ سب سے پہلی وحی ہے۔ حضرت شاہ عبدالعزیز صاحب ؒ اس سینے سے لگانے اور دبانے کے متعلق سورت علق کی تفسیر میں فرماتے ہیں :۔
(نکتہ) دوم آنکہ تاثیر حضرت جبرئیل ؑ در روح ایشاں بواسطہ افشرون در گر فتن نہایت مرتبہ کمال ثابت وراسخ کردند۔ (ص 245)
(ترجمہ) دوسرا (نکتہ) یہ ہے کہ حضرت جبرئیل فرشتہ کی تاثیر آنرض تﷺ کی روح پاک میں جھنجھوڑنے اور بغل میں لینے کے ذریعے کمال کے آخر ی مرتبہ میں جائے گیر و پختہ کر دی۔ (245)
اس کے بعد تاثیر و توجہ کے اقسام اربعہ باتفصیل بیان کرتے ہیں کہ وہ چار ہیں۔
اول دوم سوم چہارم
القائی اصلاحی اتحادی
پھر اس قسم چہارم یعنی اتحادی کی تفصیل میں فرماتے ہیں۔ چہارم تاثیر اتحادی کہ شیخ روح خود دراکہ حامل کمالست باروح مستفید بقوت تمام سازد۔ تاکمال روح شیخ باروح مستفید انتقال نماید، وایں مرتبہ اقویٰ ترین انواع تاثیراست چہ ظاہر است کہ بحکم اتحاد روحین ہر چہ درروح شیخ بروح تلمیذمیر سد۔ وباربارحاجت استقادہ نمی ماند ودر اولیاء اللہ ایں قسم تاثیر بہ ندرت واقع شدہ۔ (صفحہ 245)
(ترجمہ) چوتھی قسم تاثیر اتحادی ہے کہ شیخ (پیر حقانی) اپنی روح کو جو کمال کی حامل ہے، فیض حاصل کرنے والے (مرید) کی روح کے ساتھ پوری قوت سے متحد کر دینا ہے۔ تاکہ شیخ کی روح کا کمال مستفیدکی روح میں منتقل ہو جائے اور یہ مرتبہ تاثیر کی اقسام میں سے سب سے زیادہ قوی ہے کیونکہ ظاہر ہے کہ ہر دو روحوں کے اتحاد سے جو کمال کے شیخ کی روح میں ہے وہ تلمیذ ( مرید با صفا و شاگرد رشید) کی روح میں پہنچ جاتا ہے اور بارباراستفادہ کی حاجت نہیں رہتی اور اس قسم کی تاثیر اولیاء اللہ میں بھی گا ہے بگاہے واقع ہو جاتی ہے‘‘
حضرت مجدد صاحب رحمۃاللہ علیہ کے مرشد کامل حضرت خواجہ باقی باللہ صاحب رحمۃاللہ علیہ کا ایسا ہی ایک واقعہ نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں :۔
’’بالجملہ تا ثیر حضرت جبرئیل ؑ دریں افشردن تاثیر اتحادی بو کہ روح لطیف خود را از راہ مسام بدن درون آنحضرتﷺ داخل فرمودہ باروع مبارک متحدسا خنتندوچوں شیر و شکر بہم آمخیتندو حالت عجیب درمیان بشریت و ملکیت پیدا شد نمی آید۔ (صفحہ 245,246)
(ترجمہ) غرضیکہ اس جھنجھوڑنے میں حضرت جبرائیل ؑ کی تاثیر اتحادی تھی کہ انہوں نے اپنی لطیف روح کو آنحضرتﷺ کے بدن مبارک میں مساموں کے رستے آپﷺ کی روح مبارک کے ساتھ متحد کر دیا ہے اور ان کو شیر و شکر کی طرح ملا دیا اور بشریت و ملکیت کے درمیان ایک ایسی عجیب حالت پیدا ہو گئی جو زبان قال میں نہیں آسکتی۔ ‘
بس اسے وہی دل سمجھ سکتا ہے جس پر وہ حالت طاری ہوتی ہے کیونکہ زبان کوائف سے ناآشنا ہے۔ خدا تعالیٰ نے وجدان کے لئے دل پیدا کیا ہے۔ نہ زبان۔
حضرت شاہ عبد العزیز صاحب ؒ کے جد امجد شاہ عبدالرحیم صاحب ؒ ارشادات رحیمیہ صفحہ
۲۲ میں فرماتے ہیں :۔

تسبیح و تحمید
تسبیح یہ ہے کہ ذات بر حق کو جملہ عیوب و نقائص سے مبرا و منزہ اعتقاد کریں اور اس کی ذات پاک کے لئے ایسے الفاظ و معانی سے پرہیز کریں۔ جو اس کی شان کبریائی کے لائق نہ ہوں اور تحمید یہ ہے کہ اسے ذاتی طور پر سب کمالات و خوبیوں سے موصوف جانیں اور بیان کریں۔

عارفوں کے نزدیک تسبیح کا درجہ اسے بھی اونچا ہے۔ وہ یہ کہ ذات پاک کو وہم و قیاس اور گمان و خیال سے بھی بر تر اعتقاد کریں چنانچہ قاضی مبارکؒ خطبہ سلم کی شرح میں لا یحد کے ذیل میں فرماتے ہیں :۔
لخر و جہ عن احا طۃالا دراک والقیاس۔
اے بر تراز خیال و قیاس گمان و ہم
وزہر چہ گفتہ اندو شنید یم و خواندہ ایم
اور قاضی بیضادی ؒ اور خطیب شربینی تفسیر آیت الکرسی میں فرماتے ہیں :۔
متعال عما ید ر کہ وھم عظیم لا یحیط بہ فھم (بیضاوی مطبوعہ مصر صفحہ
۲۵۹)
اسی طرح امام غزالی ؒ نے بھی شرح اسماحسنیٰ میں و ھوالعلی العظیم (آیت الکرسی) کے معانی میں فرمایا ہے۔
غرض تسبیح و تحمید ہر دو کے جمع کر نے میں اتم درجہ کی تعریف ہے۔ کیونکہ یہ اوصاف ثبوتیہ اور سلبیہ ہر دوکی جامع ہے۔
قرآن شریف میں خالص تحمید اور تسبیح و تحمید کو جمع کر کے بکثرت ذکر کیا گیا ہے۔ قرآن شریف کی روزانہ تلاوت کرنے والے اصحاب ان آیات کو بلا کلفت معلوم کرسکتے ہیں
حدیث شریف میں تسبیح و تحمید کے فضائل بیش از بیش ہیں، ان میں سے بعض کا ذکر کیا جا تا ہے۔
۱۔ رسول کریمﷺ سے پوچھا گیا۔ ای الکلام افضل یعنی (کلام الہی کے بعد) کونساکلام افضل ہے۔ آپﷺ نے فرمایا۔ ما اصطفے اللہ لئلا ئکتہ۔ یعنی جو اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتوں کے لئے چنا۔ (اور وہ یہ ہے) سبحان اللہ و بحمدہ (رواہ مسلم۔ مشکوٰۃ صفحہ ۱۹۲)
۲۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا دو کلمے ہیں۔ جو زبان پر ہلکے ہیں۔ میزان (عمل) میں بھاری ہوں گے۔ (اللہ) رحمن کو بہت پیارے ہیں (وہ یہ ہیں) سبحان اللہ و بحمدہ سبحان العظیم۔ (متفق علیہ مشکوٰۃ صفحہ ۱۹۲)
۳۔ یہ بھی فرمایا کہ جو کوئی دن سو دفعہ کہے سبحان اللہ و بحمدہ اس کی (جملہ) خطائیں دور ہو جاتی ہیں۔ اگرچہ (کثرت میں) سمندر کی جھاگ کی مثل ہوں۔ (متفق علیہ مشکوٰۃ صفحہ ۱۹۲)
۴۔ ام المومنین حضرت جویریہؓ کہتی ہیں۔ کہ (ایک دن) جب آنحضرتﷺ صبح کی نماز پڑھ چکے۔ تو میرے پاس سے باہر چلے گئے۔ میں اس وقت اپنے گھر کی مسجد میں (ذکٰر الہی میں مشغول) تھی۔ آپﷺ چاشت کے وقت پھر تشریف لائے تو میں ابھی اسی جگہ بیٹھی تھی۔ آپﷺ نے فرمایا۔ میں نے تجھے جس حالت میں چھوڑا تھا۔ ابھی تو اسی حالت ر ہے۔ میں نے عرض کیا (حضورﷺ!) ہاں ! آپﷺ نے فرمایا ! میں نے تیرے پیچھے چار کلمے تین دفعہ کہے ہیں۔ اگر وہ اس (وظیفہ) کے ساتھ جو تو نے آج (اس وقت تک) کیا ہے۔ تو لے جائیں تو وہ وزن میں اس سے بڑھ جائیں۔ (وہ یہ ہیں) :۔
سبحان اللہ وبحمدہ عدد خلقہ ورضانفسہ ورنۃ عر شہ ومداد کلماتہ۔ (رواہ مسلم مشکٰوۃ صفحہ
۱۹۲)
یعنی ’’ تسبیح پڑھتا ہوں میں اللہ کی اس کی حمد کو ساتھ ملا کر اس کی مخلوقات کے شمار کے برابر اور اس کی ذات کی رسا کے برابر اور اس کی عرش کے وزن اور عزت کے برابر اور اس کے کلمات کی سیاہی کے برابر۔ ‘‘
۵۔ آنحضرتﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ بندے جو بھی صبح کرتے ہیں۔ اس میں ایک ندا کرنے والا (فرشتہ) ندا کرتا ہے۔ سبحو الملک القدوس (رواہ الترمذی مشکوٰۃ صفحہ ۱۶۳)
یعنی ’’ (اللہ تعالیٰ) پاک بادشاہ (حقیقی) کو خوب یاد کرو۔ ‘‘
۶۔ حضرت یسیرہؓ جو مہاجرات خواتین سے تھیں۔ فرماتی ہیں کہ رسول کریمﷺ نے ہم سے فرمایا (اے عورتو!) لازم پکڑو تسبیح اور تہلیل اور تقدیس کو اور شمار کرو انگلیوں کے پوروں سے۔ پس تحقیق وہ (قیامت کو) پوچھے جائیں گے اور زبان دئیے جائیں گے اور غافل نہ ہو جانا۔ پس تم رحمت سے بھلا دی جاؤ گی۔ (رواہ الترمذی و ابو داؤد۔ مشکوٰۃ صفحہ ۱۹۴)
(نوٹ) :۔ تسبیح کے معنی سبحان اللہ کہنا اور تہلیل کے معنی لا الہ الا اللہ کہنا اور تقدیس کے معنی بھی تسبیح کی طرح پاکیزگی بیان کرنے کے ہیں۔ لیکن حسب قبول صاحب تفسیر رحمانی تسبیح ذات کی پاکیزگی کے متعلق اور تقدیس صفات پاکیزگی کے متعلق ہے اور حضرت شیخ اکبر نے کسی قدر طوالت سے ارفام فرما کر ان میں عموم و خصوص کی نسبت بتائی ہے کہ تسبیح تقدیس کی نسبت عام ہے۔ واللہ اعلم۔
تہلیل

تہلیل کے معنی لا الہ الا اللہ کہنا۔ یعنی الوہیت کو صرف اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص کرنا۔ دین اسلام کی اصل بنیاد یہی ہے اور یہی اس کا طرہ امتیاز ہے۔ قرآن شریف میں سب زیادہ اسی کی تاکید ہے اور جملہ دیگر مذاہب میں جو شرک پھیلا۔ وہ اسی کو صحیح طور پر نہ سمجھنے اور قائم نہ رکھنے کی وجہ سے پھیلا۔ یہی شرک سوز کلمہ توحید ہے اور اس کے صحیح رکھے بغیر کوئی شخص مسلمان نہیں ہوسکتا۔ صوفیائے کرام ؒ نے ذکر الہی کی مشق کے لئے اسی کو منتخب کیا ہے اور ان کے نزدیک اس کا نام نفی اثبات کا ذکر ہے۔ یعنی لا الہ میں غیر اللہ کی الوہیت کی نفی ہے اور الا اللہ میں خاص اللہ کے لئے اس کا اثبات ہے اور حدیث شریف میں افضل الذکر اسی کو قرار دیا ہے (مشکوٰۃ شریف صفحہ
۱۹۳)
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے درگاہ ایزدی میں عرض کی۔ کہ باری تعالیٰ ! مجھے کچھ سکھا جس سے میں تیرا ذکر کروں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ یا موسیٰ !قل لا الہ الا اللہ یعنی اے موسیٰ لا الہ الا للہ کہا کر۔ موسیٰ نے عرض کیا۔ اللہ وند!تیرے سب بندے یہی کہتے ہیں۔ میں تو ایسا ذکر چاہتا ہوں۔ جس سے تو مجھے مخصوص کرے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ اے موسیٰ علیہ ا لسلام!اگر ساتوں آسمان اور ان کے آباد کرنے والے سوائے میری ذات کے اور ساتوں زمینیں بھی (ساتھ ملا) کر ایک پلڑے میں رکھے جائیں اور (یہ کلمہ توحید) لا الہ الا اللہ دوسرے پلڑے میں رکھا جائے لا الہ الا اللہ ان سے بھاری ہو گا۔ ( روانی شرح السنتہ مشکوٰۃ صفحہ
۱۹۳)
میں عاجز محمد ابراہیم میر بوجہ کثرت اشغال کے ذکر کے وقت پوری توجہ سے دل نہیں باندھ سکتا۔ جب کبھی اپنے دل سنبھل جاتا ہے۔ اس اثر کی وجہ سے عاجز نے اپنے نزدیک اس کا نام مھی القلب رکھا ہوا ہے۔ اللھم انی اسئلک حلاوۃ ذکرک۔ قرآن شریف میں سب سے زیادہ ذکر توحید الوہیت کا ہے۔ کیونکہ اسی کے متعلق سب قسم کے اشراک سرزد ہوتے ہیں۔ ورنہ زمین وآسمان کی خالقیت و مالکیت میں کبھی کسی نے شرک نہیں کیا۔ قرآن شریف میں ہے۔
ولئن سا لتھم من خلق السموت و الارض وسخر الشمس والقمراور ولئن سا لتھم من السماء ماء فاحیا بہ الارض من بعد موتھا (العنکبوت پ
۲۰) ولئن سا لتھم من خلفھم۔ (زخرف پ ۲۵) قل لمن ومن فیھا۔ اور قل من رب السموت السبع ورب العرش العظیم اور قل من بیدہ ملکوت کل شیء و ھو یجیر ولا یجار علیہ (مومنون پ ۱۸) وغیرہ وغیرہ سوالات کے جواب میں ایک ہی بات فرمائی ہے۔ کہ ان امور میں سب کو اقرار ہے۔ کہ یہ کلام اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہیں۔ پھر اس قرار سے ان الزام قائم کیا ہے۔ کہ انہی باتوں پر الوہیت کا مدار ہے۔ پھر الوہیت میں اسی کو منفرد کیوں نہیں جانتے اور کرتے پھر غیروں کی پر ستش اور ان سے طلب حاجات اور ان کے نام وظائف اور ان ان کے نام کی نذریں نیازیں کیوں کرتے ہو۔ غرض دین کی جڑ یہی کلمہ توحید ہے ہندو عیسائی۔ موسائی، زردشتی، بدعتی، جس نے بھی شرک کیا۔ اس کو چھوڑنے سے کیا۔ اسی لئے قرآن مجید میں بھی اس کی زیادہ تعلیم و تاکید ہے۔ چنانچہ فرمایا۔ فا علم انہ لا الہ الا اللہ (محمد پ ۲۶) رب المشرق والمغرب لا الہ الا ھوفاتخذوکیلا۔ (مزمل پ۲۹) لا الہ لا ھو یحی و یمت (دخان پ ۲۵) الم ۰ اللہ لا لہ الا ھو الحی القیوم (آل عمران پ ۳)
جامع ترمذی میں حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا۔ نہیں کہا کسی بندے نے کلمہ لا الہ الا اللہ خالص دل سے مگر کھولے جاتے ہیں۔ اس کے لئے آسما ن کے دروازے حتیٰ کہ پہنچتا ہے (یہ کلمہ) عرش تک جب تک کہ وہ بندہ کبیرہ گناہوں سے اجتناب رکھے (مشکوٰۃ صفحہ
۱۹۴)
تکبیر

تکبیر کے معنی ہیں اللہ اکبر کہنا اور مراد اس سے یہ ہے کہ کبریائی اور بڑائی حقیقی اللہ برتر کے لئے مخصوص کی جائے اور سب سے بزرگ اوربڑاسمجھا جائے۔ آنحضرتﷺ کو عطائے نبوت کے بعد تبلیغ دین کے لئے جو پہلی وحی اس میں یہ حکم بھی تھا۔ و ربک فکبر۔ (مدثر پ
۲۹) یعنی (اے پیغمبر ﷺ!) اپنے رب تعالیٰ کی بڑائی بیان کرو۔ ‘‘
مخلوق پرستی کی آفت اس سے پیدا ہوتی ہے کہ لو گوں نے جب کسی قسم کی بڑائی کسی میں دیکھی۔ تو اس کی پر ستش شروع کر دی۔ خواہ کسی آدمی میں خواہ کسی دیگر جانور میں۔ خواہ دریا۔ خواہ ارواح میں اجرام فلکیہ میں۔ خواہ اکابر فرشتوں میں۔ ابتدائے دعوت اسلام میں ربک فکبر کی وحی اسی لئے بھیجی کہ کبریائی کا مالک حقیقی تو وہ مالک الملک ہے۔ دیگر کسی میں جو بڑائی دیکھتے ہو۔ وہ سب اللہ تعالیٰ کی داد بخشش ہے۔ پس عبادت اسی کو چاہئے۔
جھکا ؤ تو سر اس کے آگے جھکاؤ
ہمارے سردار مولانا ثناء اللہ ؒ صاحب مرحوم جلسوں میں پڑھا کرتے تھے۔
اگر انبیاء ہیں تو تیرے بنائے
اگر اولیاء ہیں تو تیرے بنائے
اگر بادشاہ ہیں تو تیرے بنائے
اگر ہم گدا ہیں تو تیرے بنائے
نیکوں کو تو نے ہی پیدا کیا ہے
بروں کو ہستی کا خلعت دیا ہے
غرض اگر ایک چیز کو اللہ نے پیدا کیا ہے۔ تو اس کی ضد کو بھی اسی نے پیدا کیا ہے اور اگر ایک چیز اس نے پیدا کی ہے۔ تو اس کی ہم جنس بھی اسی نے پیدا کی ہے۔ کیونکہ خالق الاجناس والاضداد وہی ایک ہے چنانچہ فرمایا:۔
قل اللہ خالق کل شیء و ھو الواحد القھار (رعد پ
۱۳)
ذیل میں ہم ایک نقشہ میں دو دو چیزوں کو بالمقابل لکھ کر ہر ایک کے متعلق قرآن کی آیت لکھتے ہیں:۔ 1 زندگی موت: خلق الموت والحیوۃ۔ (ملک پ
۲۹)
2 آسمان زمین: الحمدللہ الذی خلق السموت والارض (انعام پ
۷)
3 نور ظلمت: و جعل الظلمت والنور۔ (انعام پ
۷)
4 مرد عورت: خلق الذوجین الذکر والا نثی (قیامۃ پ
۲۹)
5 غنا فقر: االلہ یسط الذزق لمن یشاء و یقدر (رعد پ
۱۳)
6 ہدایت ضلالت: (
۱) قل ان اللہ یضل من یشاء یھدی الیہ من اناب (رعد پ۱۳)
(
۲) ولکن یضل من یشاء یھدی من یشاء (اللم پ ۱۴)
7 حکومت ماتحتی: قل اللھم مالک الملک تونی الملک من تشاء و تنذع الملک ممن تشاء (آل عمران پ
۳)
8 عزت ذلت: و تعزمن تشاء وتذل من تشاء (آل عمران پ
۳)
9 دن رات: وھو الذی جعل الیل و النھار خلقۃ (القران پ
۱۹)
10 حرکت سکون: وھو الذی جعل لکم الیل لباسا و النوم سباتا وجعل النھار نشورا۔ (الفرقان)
11 بیداری نیند: وجعل النھار نشورا۔ (الفرقان پ
۱۹)
ان مذکورہ بالا امور کے علا وہ بہت سے دیگر امور ہیں۔ جو ایک دوسرے کا جوڑا ہیں۔ ان سب کے لئے ہی جامع آیت یاد رکھئے کہ سورۂ ذاریات پ
۲۷ میں فرمایا :۔
ومن کل شیء خلقنا زوجین لعلکم تذکرون۔
’’یعنی ہم نے ہر شئی کو جوڑا پیدا کیا ہے تاکہ (توحید الہی کا) سبق سیکھو۔ ‘‘
کیونکہ جب تک خالق کل ایک نہ ہو۔ تب تک ان جوڑوں میں تنا سب کی رعایت نہیں ہو سکتی اور زوجیت دو طرح پر ہوتی ہے۔ اول جنسیت کی کہ ایک شے کی ہم جنس دوسری شے ہے کہ وہ اس کے افعال و خواص کی معین و مددگار ہے۔
دو مقابلہ اور ضدیت کی کہ ایک شے دوسری کے مقابلہ میں اس کی ضد ہے کہ وہ اس کے افعال و خواص کو باطل کرتی ہے۔ ہم جنسوں میں ایک دوسرے میں مدد تو ظاہر ہے اور ضدین کا فائدہ یہ ہے کہ اگر ایک شئے نے ضرر دیا ہے تو اس کا ضرر دور کرنے کے لئے اس کی ضد کا استعمال کیا جاتا ہے جیسا کہ طب یونانی اور انگریزی میں علاج با لضد کی صورت سے ظاہر ہے۔
اعتذار:۔ ہم نے اس مضمون کو جو بطور جملہ معترضہ کے ہے اس کے لئے لمبا کیا ہے کہ قرآن شریف نے اسے توحید الہی کے ثبوت میں پیش کیا ہے اور ہر امر کے لئے آیتیں بیان کی ہیں اور اس طرز پر اس مضمون کا بیان غالباً اچھوتا ہے اور یہ مضمون لکھتے لکھتے اللہ تعالیٰ نے اس عاجز گنہگار کے دل پر اس کا فیضان کیا ہے۔ لہذا میں نے اسے اپنے سینہ کے صندوق میں بند رکھنا نہ چاہا۔
آمدم بر سر مطلب:۔ غرض جب لو گوں نے مخلوق میں بعض و ہمی اور بعض واقعی لیکن عارضی بڑائیوں کی وجہ سے ان کی پر ستش کر دی تھی۔ تو اس شرک کے استیصال کے لئے ضروری تھا کہ سب سے پہلے اللہ اکبر کی آواز بلند کی جائے اور انسان کے دماغ و ذہین میں اس کی بات کو پختہ کر دیا جائے کہ ذات الہی سب ے بزرگ ہے۔ اسی لئے اذان بھی اسی کلمہ سے شروع کی ہے اور نماز میں داخل ہونے کے لئے سب سے پہلے رکن اسی کو قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ حدیث شریف میں فرمایا تحریمھا التکبیر (ترمذی وغیرہ) اور میدان جنگ میں بھی آنحضرتﷺ صحابہؓ کی مقدس جماعت سمیت اسی نعرہ لگاتے تھے۔ (اللہ اکبر خریت خبیر) (بخاری)
اسی طرح غزوہ خندق میں بھی آپﷺ نے بڑا وزنی پتھر توڑتے وقت یہی نعرہ تکبیر ہی پکارا تھا اور اخیر زمانہ میں حضرت عیسیٰ ؑ کے نزول اور امام مہدی کے ظہور پر جب قسطنطنیہ پھر فتح کی جائے گی۔ تو اسی نعرہ تکبیر سے کی جائے گی۔ (صحیح مسلم ؒ)
غرض آنحضرتﷺ نے اسی کلمہ تکبیر سے انسانی دماغ کو غیر اللہ کی کبریائی سے صاف کیا اور اس کی بجائے اللہ واحد کی کبریائی اور عظمت کا سکہ دل و دماغ میں جماد یا اور اسی امر سے دل میں توحید قائم ہوتی ہے۔ پس یہ کلمہ ہر قسم کے اعتقادی و عملی شرک پر ایک زبردست ضرب ہے اور جب اللہ جل شانہ کی کبریائی دل میں جم جائے تو کسی قسم کا شرک نہیں ہوسکتا۔ ھذا واللہ الھادی۔ اور بات بھی یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کبریائی کے آگے سب سرنگوں ہیں۔ چنانچہ بطور حصر کے فرمایا۔ ولہ الکبریاء فی السموت والارض وھو العذیزالحکیم (جاثیہ پ
۲۵) یعنی کبریائی اسی سے مخصوص ہے آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی اور وہ بڑا زبردست اور بڑا با حکمت ہے۔
نیز فرمایا:۔ و کبر تکبیرا۔ (بنی اسرائیل پ
۱۵) یعنی اے نبی ﷺ! اللہ کی بڑائی خوب طرح سے بیان کرو۔
مشرک لوگ غیر اللہ کی نذریں مانتے۔ ان کی تعظیم کے لئے قربانیاں کرتے اور جانور ذبح کرتے۔ پس جہاں ما اھل بہ لغیر اللہ اس قسم کے کھانوں کو حرام کیا۔ وہاں اپنے مومنوں کو تعلیم کیا کہ وہ عند الذبح قلبی نیت کے ساتھ خالص اللہ کی تعظیم و رضا کے لئے قربانی کریں اور عام طور پر بھی عند الذبح زبان سے بسم اللہ واللہ اکبر بھی کہا کریں تاکہ وہ جانور اعتقاد او عملاً داوعملاً اپنے خالق اللہ تعالیٰ کی تعظیم کے لئے ذبح ہو۔
نیز یہ کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ حج کے موقع پر قیام منیٰ کے ایام میں اپنے آباؤ اجداد کے مفاخر اور بڑائیاں بیان کرتے تھے۔ سو اس ذہنیت کو بدلنے کے لئے فرمایا۔
فا ذا قصیتم منا سککم فاذکر واللہ کذ م ابا ئکم (البقرہ پ
۲) یعنی جب تم (عرفات سے واپس آ کر) حج امور تمام کر چکو۔ (اور منیٰ میں قیام کرو) تو (ان دنوں میں) اپنے آباء و اجداد کے مفاخر بیان کر نے کی بجائے اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا کرو۔ (جس کو عبادت اللہ اور حج سے مناسبت ہے) ‘‘۔ نہ کہ آباء و اجداد کے مفاخر کہ ان کو حج اور عبادات الہی سے مناسبت نہیں۔ بلکہ اس کے منافی ہے۔ اس کی تعمیل میں رسول اللہ کریم ﷺ نے یوم حج یوم عرفہ (۹ذی الحج) کی صبح سے لے کر ایام تشریق (۱۳ذی الحج) کی عصر تک ہر نماز کے فرضوں کے بعد مسلسل طور پر بلند آواز سے تکبیریں پکارنی تعلیم کیں۔ نیز عرفات سے لوٹتے ہوئے مشعر الحرام پر آ کر بھی تکبیر کہی۔ نیز منیٰ میں جمرات پر کنکر مارتے وقت بھی تکبیریں کہیں۔
نیز یوں بھی عام نمازوں میں ہر نماز کے فرضوں کا سلام پھیرنے پر سب سے پہلا کلمہ جو آنحضرتﷺ پڑھتے تھے۔ وہ تکبیر ہوتی تھی۔ یعنی اللہ اکبر کہتے۔ اس کے بعد دیگر اوراد و اذکار پڑھتے۔ (صحیح بخاری وغیرہ)
نیز رمضان شریف کے بیان میں اللہ تعالیٰ نے فر مایا۔ لتکبر واللہ علے ما ھدا کم۔ یعنی تاکہ تم اللہ کی بڑائی بیان کرو۔ اس طریق پر جو تم کو (آنحضرتﷺ کی معرفت بتایا۔ ‘‘
امام شافعی کتاب الام میں اور حضرت شاہ ولی اللہ صاحب ؒ مصفے ٰ شرح موطا امام مالک ؒ میں فرماتے ہیں۔ کہ عید الفطر کا چاند دیکھ لینے پر نماز عید کے شروع کرنے تک متواتر تکبیریں پکاری جائیں۔ گھر میں بھی اور باہر بھی مجتمعاً بھی اور منفرد بھی۔ (مل کر بھی اور علیحدہ بھی۔
نیز ہر نماز فرض ہو یا نفل۔ اس کو شروع بھی کرایا تکبیر سے اور اس کے عام انتقالات میں یعنی رکوع کرتے وقت اور سجدہ کرتے وقت اور سجدہ سے سر اٹھاتے وقت اور تشہد سے اٹھتے وقت اللہ اکبر اللہ اکبر کا وظیفہ مقرر کیا ہے۔
حضرت ابو سعید خدریؓ اور حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسولﷺ نے فرمایا۔ جس نے ( صدق دل سے) کہا لا الہ الا اللھ واللہ اکبر۔ تو رب تعالیٰ اس کی تصدیق کرتا ہے۔ کہ بیشک میرے سواکوئی معبود نہیں اور میں ہی سب سے بڑا ہوں اور جب بندہ کہتا ہے لا الہ اللہ اللہ وحد لا شریک لہ۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے بیشک میرے اکیلے کے سوائے کوئی دوسرا معبود نہیں ہے اور میرا کوئی بھی شریک نہیں ہے اور جب بندہ کہتا ہے۔ لاا لہ ا لااللہ لہ الملک ولہ الحمد۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ باد شاہی میری ہی ہے اور احمد بھی میرے لئے ہی ہے (مخصوص) ہے اور جب بندہ کہتا ہے لا الہ الا اللہ ولا حول ولا قوۃ الا باللہ۔ تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے سوائے کوئی معبود نہیں ہے اور کوئی طاقت گناہ سے بچنے کے لئے اور کوئی قوت نیکی کرنے کی نہیں ہے۔ سوائے میری توفیق کے اور آنحضرتﷺ فرمایا کرتے تھے جس نے کہے یہ کلمات اپنی بیماری میں۔ پھر وہ اس میں مر گیا تو اسے آگ نہیں کھائے گی۔ (مشکوٰۃ بروایت ترمذی و ابن ماجہ) تسبیح، تحمید اور تکبیر کا اکٹھا ذکر
حدیث پاک کی رو سے ان تینوں کا اکٹھا ذکر بھی موجب ثواب اخروی اور باعث برکات دنوہی ہے۔ خاتون جنت حضرت فاطمہ زہراؓ نے آنحضرتﷺ سے اپنے گھر کے کام کاج سے تھک جانے کی وجہ سے کوئی خادم مانگا۔ آپﷺ نے فرمایا۔ (بیٹی!) میں تمہیں ایسا ورد بتاؤں جو خادم سے بہتر ہو۔ ہر نماز کے بعد اور جب تم رات کو بسترے پر لیٹو۔ تو تینتنس بار سبحان اللہ اور تینتیس با ر الحمد اللہ اور چونتیس بار اللہ اکبر پڑھا کرو۔ (رواہ مسلم۔ مشکوٰۃ صفحہ
۲۰۱)
۱۔ یہ عاجز محمد ابراہیم سیالکوٹی بھی کثیر الا شغال ہے جب کبھی بہت تھک جاتا ہو ں۔ تو رات کو بستر پر لیٹے وقر یہ وظیفہ پڑھتا ہوں۔ تو اللہ تعالیٰ تکان اتار دیتا ہے اور دیگر برکات تو وہی جانتا ہے۔ جس کے ہاتھ میں سب برکتیں ہیں، واللہ الموافق۔
۲۔ فقرائے مہاجرین نے آنحضرتﷺ کی خدمت میں عرض کی۔ (حضور ﷺ!) مالدار لوگ تو بلند رتبے اور نعیم مقیم لے گئے۔ آپﷺ نے فرمایا۔ وماذاک یعنی کسی لئے ؟انہوں نے عرض کیا۔ کہ وہ ہماری طرح نماز پڑھتے ہیں اور روزے بھی رکھتے ہیں۔ (لیکن وہ صدقہ خیرات دیتے ہیں اور ہم نہیں دے سکے اور وہ غلاموں کو آزاد کرتے کراتے ہیں۔ اور ہم نہیں کرسکتے اس پر کہف الفقراء سردار دوجہاں نے فرمایا۔ میں تم کو ایسی بات نہ سکھاؤں۔ جس سے تم اپنے سے سابقین سے جا ملو اور اپنے سے بعد والوں سے آگے بڑھ جاؤ اور کوئی بھی تم سے افضل نہ ہو۔ مگر وہی جو تمہاری مثل کرے، انہوں نے عرض کیا۔ ہاں حضورﷺ ! ضرور سکھائیے) آپﷺ نے فرمایا۔ تم ہر نماز کے بعد تینتیس تینتیس بار سبحان اللہ اور اللہ اکبر اور الحمد للہ چونتیس مرتبہ پڑھا کرو۔ (متفق علیہ۔ مشکوٰۃ شریف صفحہ ۸۱)
۳۔ حضرت کعب بن عجرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا چند کلمے ایک دوسرے کے پیچھے آنے والے ہیں کہ ہر فرض نماز کے بعد ان کا کہنے والا نامراد نہیں رہتا۔
تینتیس تسبیحیں یعنی
۳۲سبحان اللہ اور تنیتیس تحمیدیں یعنی تنیتیس بار الحمد للہ کہنا اور چونتیس تکبیریں یعنی چونتیس بار اللہ اکبر کہنا (رواہ مسلم مشکوٰۃ صفحہ ۸۱)
۴۔ حضرت ابوہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول کریمﷺ نے فرمایا۔ جس نے ہر نماز کے بعد ۳۳ بار اللہ تعالیٰ کی تسبیح پڑھی یعنی سبحان اللہ کہا اور ۳۳ بار اللہ تعالیٰ کی حمد کہی یعنی الحمد للہ کہا اور ۳۳ بار اللہ تعالیٰ کی کبریائی بیان کی یعنی اللہ اکبر کہا۔ پس یہ کل ۹۹ ہوئے اور سو کو پورا کیا اس کلمے سےیعنی لا الہ اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک و لہ الحمد وھو علے کل شیءٍ قدیر سے تو اس کی کل خطائیں بخشی گئیں۔ اگر چہ سمندر کی جھاگ کی مثل (کثرت سے) ہوں۔ ‘‘ (رواہ مسلم ؒ مشکوٰۃ صفحہ ۸۱)
ان چاروں کلمات کے فضائل

حضرت عبداللہ بن مسعودؓکہتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ جس رات مجھے معراج کرائی گئی۔ میں ابراہیم ؑ سے ملا ہے۔ تو انہوں نے کہا کہ اپنی امت کو میری طرف سلام کہنا اور ان کو خبر دینا کہ جنت اچھی مٹی والی اور میٹھے پانی والی جگہ ہے اور وہ صاف چٹیل میدان ہے اور اس میں درخت لگتے ہیں۔ سبحان اللہ و الحمد للہ ولا الہ الا اللہ اکبر کے۔ (ترمذی مشکوٰۃ صفحہ194)
یعنی جنت اچھی قابل زراعت زمین ہے۔ ناقص و شور نہیں ہے کہ اس میں درخت اگے نہیں۔ اس کی کھیتی کے لئے وہاں پانی بھی میٹھا ہے کھاری نہیں کہ درخت جمے نہیں، پس تم اس میں ان چاروں کلموں کے درخت لگاؤ۔ یعنی کثرت سے یہ کلمات جتنے پڑھو گے اتنے ہی پھلدار درخت لگیں گے۔ اس میں ترغیب دی ہے ان چاروں کلمات کو پڑھنے کی اس سے ان کی فضیلت بھی ظاہر ہے۔ عجیب خواب :۔ اس عاجز ذرۂ بے مقدار کا سب سے پہلا تبلیغی سفر
۱۸۹۸ء میں شہر جہلم میں ہوا۔ اس وقت سے اس وقت تک ان لوگوں کو اور ان کی اولاد کو اس گنہگار سے الفت و عقیدت ہے۔ اب مئی ۱۹۴۶ء میں جو وہاں پر میرا جانا ہوا۔ تو اس خاندان کی ایک معمر خاتون نے جس خاندان سے کہ جہلم میں توحید و سنت کا ولولہ پیدا ہوا اور وہ میرے ظن میں نہایت اللہ یاد ذاکرات سے ہے۔ میرے پاس آ کر بیان کیا کہ پچھلی دفعہ جب آپ تشریف لائے تھے اور آپ نے اللہ کی یاد کے لئے چند اوراد و وظائف بتلائے تھے۔ اللہ کا شکر ہے کہ میں اس کی توفیق سے وہ اذکار پڑھتی ہوں، ایک رات خواب میں دیکھا۔ کہ گوری رنگت کے ایک سفید ریش بزرگ جو عمدہ سفید لباس زیب تن فرمائے ہوئے تھے۔ میرے سامنے آ گئے۔ میں نے ان کی بزرگی کی وجہ سے ان کی تعظیم کی اور اپنے سب حالات بیان کئے انہوں نے مجھے وظیفہ بتایا۔ اس کے بعد وہ اور نصائح فرماتے رہے اور میں سنتی رہی۔ آخر میں جرات کر کے عرض کیا آپ کہ کون بزرگ ہیں۔ فرمانے لگے میں ابراہیم خلیل اللہ ہوں۔ میں نے عرض کیا۔ مجھے وہ وظیفہ جو آپ نے ابھی بتلایا تھا بھول گیا ہے۔ پھر فرمائیں کہ وہ کس طرح ہے ؟انہوں نے آپ کا نام لے کر کہا کہ وہ وظیفہ مولو ی ابراہیم سیالکوٹی سے پو چھ لینا۔ اس کے بعد رخصت ہو گئے اور میری آنکھ کھل گئی۔ میں اس وقت کی کیفیت بیان نہیں کر سکتی کہ میرے دل پر کیا گزرا۔ ہر دم شوق رہا کہ ہمت ہو تو سیالکوٹ پہنچوں لیکن عمر اور مالی حالت کی کمزوری کی وجہ سے اس شوق کو پورا نہ سکی۔ اب آج سنا تھا کہ آپ جہلم تشریف لائے ہیں تو بصد شوق و تمنا حاضر ہوئی ہوں کہ وہ وظیفہ کون سا ہے ان کے خویشوں میں سے مولوی عبدالعزیز (آہ !آج وہ فوت شدہ ہیں) مرحوم مع دیگر مردمان و خواتین کے میرے پاس بیٹھے تھے۔ میں نے ان سے کہا کہ کیا مشکوٰۃ شریف تمہارے پاس ہے؟ انہوں نے کہا۔ ہاں مظاہر حق (اس کی شرح) موجود ہے۔ میں نے کہا لے آؤ۔ وہ اپنے گھر سے مظاہر حق لے آئے اور میں نے یہ حدیث اس میں سے نکال کر ان کو پڑھوائی اور کہا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس امت مرحومہ کو نبی الرحمۃﷺ کی معرفت جو وظیفہ سکھایا ہے، وہ یہی ہے۔ غالباً حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مراد یہی ہو گی۔ میں خود تو اس لائق نہیں ہوں کہ ان کی پاک کی مجلس میں باریابی حاصل کر سکوں، بلکہ جیسا کہ مولانا جامی ؒ نے فرمایا ہے۔
تاب وصلت کا ر پاکاں من ازیشاں نیستم
چوں سگانم جائیے دہ در سایہ دیوار خویش
میں اس نسبت سے بھی کمتر نسبت والا ہوں۔ نیز بھجوائے ‘‘ مجھ سے میرا ذکر بہتر ہے کہ اس محفل میں ہو۔ ‘‘لیکن الحمدللہ ثم للہ کہ جب سے مشکوٰۃ شریف میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا یہ پیغام پڑھا ہے۔ اس وقت سے یہ وظیفہ عموماً کرتا ہوں۔ غالبااسی وجہ سے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس سن رسیدہ نیک خاتون کو جو اپنے عام اوقات ذکر اللہ سے معمور رکھتی ہے۔ میری طرف رجو ع کرنے کی ہدایت فرمائی ہے۔
باری تعالیٰ ! تو جانتا ہے کہ میں بہت گنہگار ہوں اور اس سے زیادہ گنہگار ہوں۔ جس قدر کہ کوئی مجھے جانے لیکن باوجود اس کے تیری رحمت کا امید وار ہوں۔ اس لئے مغفرت کے زیادہ لائق گنہگار ہی ہیں۔ پس تو اپنی ستاری و غفاری اور کریمی و رحیمی کے صدقے میرے حال پر رحم فرما اور مجھے اپنے ذکر کی حلاوت نصیب کو اور اسے قبول فرما کر اور میرے گناہ بخش کر اپنی رحمت کے سایہ میں لے لے۔ آمین یا ارحم الراحمین آمین !
۱ (۸ تا ۸۳) رجوع بمطلب:۔ اسی طرح صحیح مسلم میں ہے کہ افضل الکلام اور ایک روایت میں ہے احب الکلام چار کلمے ہیں۔ سبحان اللہ و الحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر۔ صحیح مسلم ہی کی دوسری روایت میں ہے کہ سبحان اللہ والحمد للہ ولا لہ الا اللہ واللہ اکبر کہوں۔ تو مجھے اس چیز سے جس سورج طلوع کرے۔ بہت محبوب ہے (مشکوٰۃ شریف صفحہ ۱۹۲) شرح الحدیث :۔ ان چار کلموں کو خیر الکلام افضل اور جب احب الکلام۔ ان کے مضمونوں کی جامعیت کی وجہ سے کہا ہے۔ کیونکہ یہ چاروں مل کر اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور تحمید اور توحید اور تکبیر پر مشملک ہیں اور معلوم ہے کہ ذکر کی فضیلت مذکور کی فضیلت سے ہوتی ہے چونکہ اس میں ذات و صفات باری عزاسمہ کا ذکر ہے۔ اس لئے یہ سب سے بہتر کلام ہے۔ ورنہ بحیثیت مطلق کلام کے قرآن مجید سب سے بہتر اور احسن ہے۔ جیسا کہ خو د اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اللہ نزل احسن الحدیث کتابامتشابھا الا یہ۔ (زمر پ ۲۳) یعنی اللہ تعالیٰ نے اتارا ہے سب سے بہتر کلام۔ یعنی کتاب جس کے مضامین ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں اور باہم متضاد نہیں ہیں۔ اسی طرح آنحضرتﷺ جمعہ اور عیدین اور نکاحوں کے خطبوں میں کہا کرتے تھے۔ اما بعد فان خیرا الحدیث کتاب اللہ (الحدیث صحیح مسلم خطبہ الجمعہ صفحہ ۳۸۴ جلد اول)
نیز صحیح مسلم وغیرہ میں ایک اور کتا ب روایت ہے۔ جس کے الفاظ یہ ہیں۔ اما بعد فان اصدق الحدیث کتاب اللہ۔ الحدیث۔
حاصل مطلب یہ کہ ان چاروں کلموں کی فضیلت باعتبار جامعیت مضامین کے ہے جو ذات و صفات باری عزاسمہ پر شامل ہیں اور اہل منطق کہا کرتے ہیں۔
لو لا الا اعتبارات لبطلت الحکمۃ۔ یعنی اگر اعتبار ات کا لااظ نہ کیا جائے۔ تو حکمت و دانائی کا تو وجود ہی نہیں رہے گا۔ ہذا و اللہ اعلم !
٭٭٭
سراجاًمنیرا کی مکمل فائل آپ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں سراجاً منیرا

ومن لم یذق لم یدر
یعنی جس نے چکھا ہی نہیں وہ نہیں جان سکتا؟
زبان محسوسات کا مزہ چکھنے کے لئے ہے۔ دماغ معقولات کے سمجھنے کے لئے ہے اور وجدانیات و کوائف روحانیہ و لطائف قلبیہ کے لئے خالق اکبر نے دل پیدا کیا ہے۔ غرض اللہ تعالیٰ نے ہر عضو کا فعل الگ الگ رکھا ہے۔ ایک کو دوسرے کے فعل سے کوئی واسطہ نہیں۔
اللھم اذقنا من حلا وۃ افضالک وافض علینا من برکا تک و اشرح صدورنا و نو ر قلوبنا بانو ارک
لذیذ بود حکایت دراز تر گفتم !
چنانکہ حرف عصاگفت مو سیٰ اندر طور حدیث دوم
چشمہ فیض و برکت رسول کریمﷺ کے چچازاد بھائی حضرت عبداللہ بن عباس کہتے ہیں :۔
ضمنی النبی صلے اللہ علیہ وسلم الی صدرہ وقال اللھم علمہ الحکمۃ ومن طریق ابی معمراللھم علمہ الکتاب
’’یعنی مجھ کو (مصدر فیض و کرم) حضرت نبی کریمﷺ نے اپنے سینے مبارک سے لگایا۔ اور یہ دعا دی۔ باری تعالیٰ ! اسے حکمت (سمجھ کی درستی) عطا کر اور ابو معمر کی روایت میں یوں ہے کہ اسے اپنی کتاب (قرآن مجید) کی سمجھ عطا کر۔ ‘‘
چنانچہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ قرآن شریف کے فہم میں صحابہؓ میں ممتاز تھے۔ یہ سب کچھ آنحضرتﷺ کے سینہ مبارک سے لگنے اور آپﷺ کی دعا کی برکت تھی۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ مجہتدین صحابہؓ میں سے ہیں۔ ان کا قول فتح الباری میں منقول ہے۔
’’نعم ترجمان القران ابن عباسؓ’’ یعنی حضرت ابن عباسؓ بہت اچھے ترجمان قرآن ہیں۔
الغرض یہ احادیث اور ان جیسی دیگر احادیث ہمارے مقصد صدری کے ثابت و واضح کرنے میں بالکل صاف ہیں۔ اس کے بعد ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ آنحضرتﷺ کا سینہ مبارک تو تھا ہی مصدر فیض و کرم۔ آپ کی یہ فیض گستری تو اتنی زبر دست اور موثر تھی کہ آپﷺ ایک ایک جزو بدن اطہر حتی کہ آپ کا بال بال بلکہ آپﷺ کے جسد مبارک کے عوارض و متعلقات و فضلات بھی موجب فیض و برکت تھے .پڑھتے جائیے اور گنتے جائیے۔
دست مبارک کی برکات

۱۔ حدیث اول
حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہ کو حضورﷺ نے یمن میں قاضی مقرر کر کے بھیجنا چاہا۔ انہوں نے عرض کیا۔ حضور !میں نے یہ کام کبھی کیا نہیں۔ یعنی مجھے سابقاًاس کا تجربہ و مشق نہیں۔ حضورﷺ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سینہ مبارک پر ہاتھ مارا اور دعا کی:۔
اللھم اھد قلبہ و سدد لسانہ۔ یعنی باری تعالیٰ اس کے دل کو اور اس کی زبان کو پختہ (حق ترجمان) رکھ اور ساتھ یہ ہدایت بھی فرمائی کہ جب تک دوسرے فریق کی بات سن نہ لیا کرو۔ تب تک دونوں فریقوں کے فیصلہ کا حکم نہ سنایا کرنا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں :۔
افواللہ ما شککت بعد ھا فی قضاء بین اثنین
اللہ کی قسم اس واقعہ کے بعد مجھے کبھی دو فریقوں میں فیصلہ کرنے کے متعلق شک وتر لاحق نہیں ہوا۔
اور حضرت علیؓ کا یہ کمال صحابہؓ میں عام طور پر مشہورومسلم تھا چنانچہ صحیح بخاری میں حضرت عمر فاروقؓ کا قول منقول ہے۔’’ افضانا علی’‘ ’’یعنی ہم (جماعت صحابہؓ) میں سے حضرت علیؓ سب سے بڑے قاضی ہیں۔ ‘‘
حضرت علیؓ میں یہ کمال آنحضرتﷺ کے دست مبارک اور دعا کی برکت سے تھا۔
۲۔ حدیث دوم
حضرت جریر بن عبداللہ بجلی جب مشرف باسلام ہوئے۔ تو آنحضرتﷺ نے ان کو ذی الخلصہ بت خانے کے گرانے پر مامور فرمایا۔ انہوں نے عرض کیا حضور!میں گھوڑے کی پشت پر قائم نہیں رہ سکتا یعنی میں پختہ سوار نہیں ہوں گر پڑتا ہوں۔ آنحضرتﷺ نے اپنا دست مبارک ان کے سینے پر مارا اور دعا دی۔ اللھم ثبتہ واجعلہ ھادیا مھدیا۔ یعنی اے اللہ ! (اسے گھوڑے پر) قائم رکھیو اور اسے ہدایت کرنے والا اور ہدایت یافتہ بنائیو۔ حضرت جریرؓ کہتے ہیں۔ فما و قعت عن فرسی بعد۔ یعنی میں اس کے بعد پھر کبھی گھوڑے سے نہیں گرا۔
خاتمۃالحفاظؓ نے اس حدیث کی شرح میں امام حاکم ؒ سے بتفصیل نقل کیا۔ کہ (جب) حضرت جریرؓ نے آنحضرتﷺ کی خدمت میں گھوڑے پر سے گر پڑنا عرض کیا۔ تو حضورﷺ نے فرمایا۔ ’’نزدیک آؤ۔ ‘‘ حضرت جریرؓ نزدیک ہوئے تو آپﷺ نے اپنا دست مبارک ان کے سر پر رکھا اور چہرے سر اور سینے پر پھیرتے ہوئے زیر ناف تک پہنچے۔ پھر (دوبارہ) ان کے سر پر دست مبارک رکھا اور پشت پر پھیرتے ہوئے زیر کمر تک پہنچے اور پہلے کی طرح دعا دی۔ اس کے بعد حافظ ابن حجرؓ لکھتے ہیں۔
’’فکان ذلک للتبر ک بیدہ المبارکۃ۔ ’’یعنی یہ اپنے دست مبارک سے برکت دینے کے لئے تھا۔
۳۔ حدیث سوم
مسند داری ؒ میں حضرت ابن عباس ؒ کی روایت ہے کہ ایک عورت اپنے بیٹے کو آنحضرتﷺ کی خدمت میں لائی اور کہنے لگی۔ یا رسول اللہﷺ میرے اس بیٹے کو جنون ہے۔ جو اسے دن کے کھانے اور رات کے وقت گرفت کرتا ہے۔ آنحضرتﷺ نے اس کے سینہ کو مسح کیا۔ یعنی اس پر اپنا دست مبارک پھیرا اور دعا کی۔ اس لڑکے نے خوب کھل کر قے کی اور اس کے پیٹ سے ایک شے (کوئی) بلا کتے کے پلے شکل کی نکلی اور دوڑ گئی۔ (مشکوۃٰ صفحہ
۵۳۳)
۴:۔ حدیث چہارم
ابو الحقیق ابو رافع آنحضرتﷺ کے جانی دشمنوں میں سے تھا۔ آنحضرتﷺ کی ہجو کیا کرتا تھا اور خیبر میں جا کر اسے مرکز شرارت بنا رکھا تھا۔ قبیلہ خزرج کے غیرت مندوں نے آنحضرتﷺ سے اس کی سزا دہی کی اجازت مانگی اور پانچ بہادر جن کا سردار عبد اللہ بن عتیک تھا روانہ ہوئے۔ حضرت عبداللہ بن عیتکؓ نے اس کی کا کام تمام کر دیا۔ واپسی پر سیڑھی سے پاؤں اکھڑ گیا، اور پنڈلی کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ ان کے ساتھی ان کو پٹی باندھ کر اور ان کو اٹھا کر آنحضرتﷺ کی خدمت میں لے آئے۔ ۔ حضرت عبداللہ کہتے ہیں، کہ میں نے یہ ماجرا آنحضرتﷺ سے عرض کیا آپﷺ نے فرمایا، ابسط رجلک، یعنی اپنا پاؤں (سیدھا کر کے) پھیلاؤ۔ فمسحا آپﷺ نے اپنے دست مبارک سے اسے مسح کیا، یعنی اس پر اپنا دست مبارک پھیرا۔ فکانمالم اشتکھاقط یعنی تو میں ایسا صحیح سلامت ہو گیا۔ کہ مجھے اس کے متعلق کوئی تکلیف تھی ہی نہیں۔ (رواہ البخاری ؒ)
قاضی عیاض رحمۃاللہ علیہ نے اپنی بے نظیر کتا ب شفا میں آنحضرتﷺ کے دست مبارک کی برکت سےپانی۔ غلہ اور کھانے میں کثرت ہو جانے کے متعلق صحیح بخاری مسلم، موطا امام مالک ؒ، جامع ترمذی وغیرہ کتب حدیث سے حضرت انسؓ، حضرت جابرؓ اور حضرت ابن مسعودکی روایات ذکر کی ہیں۔ جن کی نقل موجب طوالت ہے۔
لعاب مبارک کی برکت

لعاب (آب دہن) ایک قسم کا فضلہ ہے جو زبان کی جڑ کے نیچے کے دوسوراخوں سے منہ میں آتا رہتا ہے تاکہ زبان اور منہ ہر وقت تر رہے۔ ہر چند کہ یہ ایک فضلہ ہے۔ لیکن نہایت کار آمد ہے اور چونکہ زبان کی جڑ سے پیدا ہوتا ہے اور پیغمبر ان خدا کی زبان وحی الہی کی ترجمان ہوتی ہے۔ اس لئے اس میں یمن و برکت ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تسبیح و تہلیل وغیرہ اذکار اور تلاوت قرآن مجید اور درود شریف میں مشغول رہنے اور خطبہ و تذکرہ اور خلق اللہ کو ارشاد و ہدایت اور تفسیر و حدیث کی تدریس میں لگےرہنےسے بزرگان دین کے لعاب و دم میں بھی برکت پیدا ہو جاتی ہے اور ان سے بیمار شفاء پاتے ہیں۔
اس کے بر خلاف جن لوگوں کی زبانیں جھوٹ۔ بیہودہ بکواس، گالی گلوچ غیبت و بد گوئی اور دیگر منکر باتوں میں لگی رہتی ہیں، ان کے لعاب میں ایک روحانی زہر پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ دوسروں کے لئے باعث ضرر ہو جاتا ہے بلکہ ان کا سانس بھی اس سے متکیف ہو جاتا ہے۔ جس طرح کسی کو مسوڑھوں میں یا منہ کے اندرونی حصے میں کوئی طبی و خلطی بیماری ہو یا زخم کے سبب اس میں پیپ پڑ گئی ہو۔ تو اس کا لعاب دوسروں کے لئے موجب حدوث مرض ہو جاتا ہے۔ بلکہ اس کا سانس بھی خطرناک ہو جاتا ہے۔
اس تمہید کو سمجھ جانے کے بعد احادیث ذیل کو مطالعہ فرمائیں :۔ پہلی حدیث
جنگ خیبر کے موقع پر آنحضرتﷺ نے حضرت علی مرتضی ؓ کو جھنڈا دینے کے لئے یاد فرمایا۔ صحابہؓ نے عرض کیا۔ ھو یا رسول اللہ یشتکی عینیہ۔ یعنی حضور ! ان کی آنکھوں میں تکلیف ہے۔ آپﷺ نے بلوایا۔ فبصق رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم فی عینہ۔ (یعنی) آنحضرتﷺ نے ان کی دونوں آنکھوں میں تھوکا۔ فبرء حتے کان لم یکن بہ وجع (یعنی) پس آپ کو عافیت ہو گئی۔ گویا کہ آپ کو کوئی تکلیف و بیماری تھی ہی نہیں۔ (متفق علیہ صفحہ
۱) دوسری حدیث :۔ صحیح بخاری ؒ میں یزید بن ابی عبید کی روایت ہے کہ میں نے حضرت سلمہ بن اکوع (صحابیؓ) کی پنڈلی پر ضرب کا نشان دیکھا۔ میں نے پو چھا اے ابو سلمہ !یہ ضرب کیسی ہے ؟فرمایا یہ وہ ضرب ہے جو مجھے خیبر (کی لڑائی (کے دن لگی تھی۔ جس پر لوگ کہتے تھے کہ سلمہ مر گیا۔ میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہو ا۔ تو آپﷺ نے اس پر تین دفعہ تھوکا۔ پھر مجھے اس ساعت تک شکایت نہیں ہوئی۔ (مشکوۃ صفحہ ۵۲۲)
حضورﷺ کے پسینہ میں خوشبو

پسینہ ہضم رابع کا فضلہ ہے۔ جس سے رفیق مواد خارج ہو تے ہیں اور وہ بد بو دار ہوتا ہے۔ لیکن حبیب خداﷺ کا پسینہ بھی خوشبودار تھا۔ چنانچہ مشکوٰۃ شریف میں بخاری و مسلم کی متفق علیہ روایت سے منقول ہے کہ حضورﷺ کبھی اپنے خادم خاص حضرت انسؓ کے گھر جاتے تو ان کی والدہ حضرت ام سلیمؓ آپﷺ کے لئے چمڑے کا بستربچھادیتیں۔ اور آپ اس پر قیلولہ فرماتے۔ آنحضرتﷺ کو پسینہ زیادہ آتا تھا حضرت ام سلیمؓ حضورﷺ کے پسینہ کو ایک شیشی میں لے لیتیں اور کسی دوسری خوشبو میں ملا کر اپنے پاس رکھتیں (اور نئی دلہن یا لڑکیوں کو بطور تحفہ دیتیں) آنحضورﷺ نے (ایک دن) دریافت کیا۔ ام سلیمؓ !یہ کیا ؟ (کرتی ہو) اس نے عرض کیا حضور ! (میرے ماں باپ آپ پر سے قربان ہوں) ہم اسے دوسری خوشبو میں ملا دیتی ہیں تو وہ بہت عمدہ (قسم کی) خوشبو ہو جاتی ہے اور ایک روایت میں ہے کہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہﷺ ہم اس سے اپنے بچوں کے لئے برکت کی امید رکھتی ہیں۔ آپﷺ نے فرمایا اصت یعنی ام سلیمؓ تو نے ٹھیک کیا۔ (متفق علیہ ) ۔ آنحضرتﷺ کے خادم حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ کی رنگت نہایت روشن تھی اور آپﷺ کے پسینہ (کے قطرے) گویا کہ موتی (دانے) تھے چلنے کے وقت کچھ آگے کو جھک کر چلتے اور میں نے ریشم یا پٹ آپﷺ کی ہتھیلی مبارک سے زیادہ نرم نہیں چھوا اور نہ کوئی کستوری نہ منبر۔ آپﷺ کے (جسدمبارک) کی خوشبو سے زیادہ خوشبو دار سونگھی۔ (متفق علیہ) مشکوٰۃ صفحہ
۵۰۸۔ ۵۰۹) ٍ
۳۔ صحیح مسلم میں حضرت جابر بن سمرہؓ سے روایت ہے کہ میں نے آنحضرتﷺ کے ساتھ پیشین (ظہر) کی نماز پڑھی۔ آپ (مسجد سے) گھر کو نکلے۔ تو میں بھی حضورﷺ کے ساتھ ہی نکلا۔ سامنے سے آپﷺ کو ( رستہ میں) چند بچے آتے ہوئے ملے۔ آپﷺ نے (بکمال شفقت و محبت) ایک ایک کے چہرے پر دست مبارک پھیرا اور میرے چہرے پر بھی پھیرا۔ میں نے آپﷺ کے دست مبارک کی ٹھنڈک اور خوشبو ایسی پائی۔ کہ گویا آپﷺ نے اپنا ہاتھ مبارک کسی عطار کے ڈبے سے نکالا ہے۔ (مشکوٰۃ صفحہ ۵۰۹)
۴۔ اسی طرح جامع ترمذی میں حضرت جابرؓ سے مروی ہے کہ آنحضرتﷺ جس رستے سے چلتے تھے۔ آپﷺ کے بعد کا چلنے والا پہچان لیتا تھا کہ حضورﷺ اس رستے سے گزرے ہیں۔ آپﷺ کی خوشبو کی وجہ سے۔ ‘‘ (مشکوٰۃ صفحہ ۵۰۹)
الغرض حضور انور ﷺسراپا برکت تھے اور سب انبیاء علیہم السلام اللہ تعالیٰ کی وحی کے سبب ہر امر میں ایمن و برکت والے ہوتے ہیں۔ چنانچہ حضرت عیسیٰ کی زبانی نقل کیا کہ انہوں نے آغوش مادر میں کہا۔ وجعلنی مبارکا اینماکنت۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے مجھ کو صاحب برکت بنایا ہے۔ جہاں کہیں میں ہوں۔ (زمین پر یا آسمان پر۔ سفر میں یا حضر میں) اور حضرت ابراہیم و اسحاق (علیہاالسلام) کے حق میں فرمایا :۔ وبارکنا علیہ وعلے اسحق۔ (صافات پ 23) یعنی ’’ ہم نے برکت رکھی اس پر یعنی ابراہیم ؑ پر اور اسحاق پر (بھی) ‘‘۔
اور اہل صلاحیت کے دم قدم کی برکت سے بیماریوں اور آفتوں کا دور ہونا اور بارشوں کا بوقت ضرورت برسنا اور رزق و مال میں افزائش احادیث صحیحہ مرفوعہ اور آثار صحابہ اور دیگر بزرگان دین کے واقعات سے ثابت ہے اور یہ متواترات کی جنس سے ہے اس سے انکار کی گنجائش نہیں۔ ھذا واللہ الھادی۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے پاک کلام قرآن مجید کی نسبت فرمایا:۔
کتاب انزلنہ الیک مبارک۔ (ص پ
۲۳) یعنی (اے پیغمبرﷺ!) ہم نے (یہ) برکت والی کتاب آپ کی طر ف اتاری ہے۔ ‘‘
نیز فرمایا:۔ وھذا ذکر مبارک انزلنہ (انبیا پ 17) یعنی یہ برکت والا ذکر (نصحت نامہ) ہے، جسے ہم نے مقام عظمت سے) اتارا ہے۔ ‘‘
نیز فرمایا:۔ و ھذا کتاب انزل مبارک۔ (انعام پے
۷) یعنی یہ کتاب برکت والی کتاب ہے جسے ہم نے (مقام عظمت سے) نازل کیا ہے۔
۔ الغرض یہ برکت والی کتاب حضورﷺ کے قلب پاک پر اتاری گئی جیسا کہ فرمایا۔
فانہ نذلہ علے فلبک باذن اللہ (بقرہ پ)
’’یعنی حضرت جبرئیلؑ تو یہ قرآن آپﷺ کے قلب پر اللہ تعالیٰ کے حکم سے لے کر آئے ہیں (پھر ان کی دشمنی کے کیا معنی ؟)
نیز فرمایا :۔ نزل بہ الروح الامین علے قلبک (الشعرا پ 19) یعنی ’’اے پیغمبر !) آپﷺ کے قلب پر اس قرآن کو الروح الامین لیکر آئے ہیں۔ ‘‘
ان آیات سے واضح ہو گیا کہ حضورﷺ کا قلب فیوض و برکات رحمانیہ کا خزینہ اور انوار واسرار رہاانیہ کا گنجینہ ہے۔ جس کسی کو عبداللہ بن عباسؓ وغیرہ کی طرح اس سے اتصال و انضمام نصیب ہو گیا۔ اس کا سینہ نور و سکینہ سے بھر گیا اور جس کی کسی پر آپﷺ کی نظر کرم پڑ گئی۔ اس کا دل خدا کی طرف متوجہ ہو گیا۔
چنانچہ تفسیر سراج منیر میں خطیب شربیتی ؒ آیت ویزکبھم ( جمعہ پ 28) کے ضمن میں فرماتے ہیں :۔
ویذکیھم’ یعنی یہ نبی امیﷺ پاک کرتا ہے۔ ان کو شرک اور رذیلے اخلاق اور ٹیڑھے عقائد سے اور آنحضرتﷺ کا یہ تزکیہ اپنی حیات طیبہ میں ان لو گوں کی طرف نظر (کرم) کرنے اور ان کو علم دین کے سکھانے اور ان پر قرآن شریف کے تلاوت کرنے سے تھا۔ پس کبھی ایسا بھی ہوتا کہ آپﷺ کسی انسان کی طرف نظر محبت سے دیکھتے تو اللہ تعالیٰ اس کی قابلیتوں کے موافق اور ان امور کے مطابق جن کی نسبت اللہ تعالیٰ نے عالم قضا و قدر میں مقرر رکھا ہے۔ ‘‘کہ وہ عالم اسباب میں مہیا ہوں۔ اس شخص کا تزکیہ کر دیتا۔ پس وہ شخص آپﷺ کا نہایت درجے کا عاشق (صادق) اور آپﷺ کی اتباع (پیروی) کو اچھی طرح سے لازم پکڑنے والا اور اللہ کی کتاب اور آپﷺ کی سنت میں نہایت درجہ کا راسخ و پختہ ہو جاتا۔ (انتہی مترجما)
یہ اثر بالمشافہ ان ارباب عقیدہ پر تھا جن کو اللہ تعالیٰ نے آپﷺ کی پاک صحبت کے لئے منتخب کر لیا تھا اور اب بعد وفات شریف کے آپﷺ کے انوار کی برکت کے لئے اللہ کی کتاب تو وہی ہے اور آپﷺ کے نفس طیبہ کی بجائے آپﷺ کے انفاس طیبہ ہیں۔ جو آپﷺ کے علمی اور تعلیمی فیوض و برکات کے حامل ہیں اور اسفار حدیث قلب کو پاک صاف کرنا نزول برکات موجب ہے اور جو لوگ شب و روز آپﷺ کے آثار و احادیث طیبہ کا شغل و ذکر کر رکھتے ہیں۔ ان کو آپﷺ کی معنوی صحبت کا رتبہ ملتا ہے۔ چنانچہ اسی معنی میں کہا گیا ہے۔
اھل الحدیث ھمواھل النبی وان
لم یضحبوا نفسہ انفا سہ صحبوا
یعنی اہل حدیث۔ نبی کریمﷺ کے اہل ہیں۔ اگر چہ انہوں نے آپﷺ کی ذات گرامی کی صحبت کا شرف نہیں پایا۔ لیکن آپﷺ کے انفاس طیبہ کی صحبت تو حاصل ہے۔ ‘‘
حضرت شاہ عبداللہ مجدوی ؒ المعروف شاہ غلام علی صاحب ؒ مقامات مظہری میں بضمن ذکر حاجی محمد افضل صاحب سیالکوٹی حضرت مرزا مظہر جانجاناں شہید کا قول نقل فرماتے ہیں۔
حضرت (مرزا جانجاناں ؒ) صاحب فرماتے تھے کہ اگرچہ میں نے حضرت (حاجی محمد افضل) صاحبؒ سے بظاہر (سلوک فقر) کا حضرت (حاجی) صاحب کاستفادہ نہیں کیا۔ لیکن حدیث شریف کے سبق کے ضمن میں آپ کے باطن شریف سے فیوض فائض ہوتے تھے اور عرض نسبت میں قوت پہنچی تھی۔ حضرت (حاجی) صاحب کو حدیث شریف کے بیان میں رسو ل اللہﷺ کی نسبت میں استغرق ہو جاتا ہے تھا اور بہت سے انوار و برکات ظاہر ہوتے تھے گویا کہ معنوی طور پر پیغمبر خداﷺ کی صحبت حاصل کی صحبت حاصل ہو جاتی تھی۔ الخ ( مقامات مظہری)
الغرض حضور اکرمﷺ چشمہ فیض کے و برکت ہیں اور آپﷺ کا فیض بوجہ آپﷺ کے خاتم النبین ہونے کے تا قیام دنیا جاری ہے اور ان فیوض کے حصول کے ذرائع قرآن و حدیث کی اتباع اور محدثین عظام کی صحبت ہے قرآن و حدیث تو اصل منبع و مخزن شریعت ہیں اور محدثین و اولیاء اللہ آنحضرتﷺ کے علوم و اعمال کے محافظ و رہنما ہیں۔ بس ان کی رہنمائی میں سیدھے چلے جاؤ اور دائیں بائیں نہ دیکھو۔ پھر اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنی محبت بھر ثمرہ پا لو گے۔ حضرت مرزا مظہر جانجاناں فرماتے ہیں:۔
اللہ تعالیٰ طبیعت مرا رد رغایت اعتدال آفرید ہ است، و در طینت من رغبت اتباع سنت نبویﷺ ودیعت نہادہ۔ (مقامات مظہری صفحہ
۱۶) روحانی استعداد میں ترقی:۔ روحانی ترقی کی صورت یہ ہے کہ روح میں جذب الی اللہ کی صفت حاصل ہو جائے اور یہ بات دائمی توجہ الی اللہ اور کثرت ذکر سے حاصل ہوتی ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب حقیقت نسبت کے بیان میں فرماتے ہیں۔
اس کی تفصیل اس طرح ہے کہ جب بندہ طاعات اور طہارت اور اذکار پر ہمیشگی کرتا ہے تو اس کو ایک صفت حاصل ہوتی ہے جس کا قیام نفس ناطقہ میں ہوتا ہے اور اس توجہ کا ملکہ راسخہ پیدا ہو جا تا ہے۔ (انتہی مترجماً القول الجمیل)
پھر حضرت شاہ صاحب اس شبہ کا حل کہ متاخرین صوفیہ ؒ کا طریق ذکر صحابہ و تابعین سے منقول نہیں ہے یوں کرتے ہیں :۔
میرے نزدیک ظن غالب یہ ہے کہ حضرات صحابہ اور تابعین سکینہ یعنی نسبت کو اور ہی طریقوں سے حاصل کرتے تھے۔ سو منجملہ ان کے مواظبت (ہمیشگی) ہے۔ صلوات اورتسبیحات پر خلوت میں خشوع اور خضوع کی شرط کے ساتھ اور منجملہ ان کے مواظبت ہے طہارت پر اور لذتوں کی تو ڑ نے والی (موت) کی یاد پر، اور (یاد کرنا) اس کو جو حق تعالیٰ نے مطیعوں کے واسطے ثواب تیار کر رکھا ہے نیز (یاد کرنا اس کو جو نافرمانوں (گنہگاروں) کے لئے عذاب معین کر رکھا ہے تو اس مواظبت اور یادسے لذات حسیہ سے جدائی اور انقطاع ہو جاتا ہے اور منجملہ ان کے مواظبت ہے قرآن مجید کی تلاوت پراور اس کے معانی میں تدبر کرنے پر اور واعظین کی پند و عظت سننے پر اور ان حدیث کے سننے سمجھنے پر جن سے دل نرم ہو جاتے ہیں۔ حاصل کلام یہ کہ (صحابہؓ اور تابعین) اشیائے مذکورہ پر مدت دراز تک (پختگی سے) مواظبت کرتے تھے۔ پس ان کو اس سے ملکہ سے راسخہ اور ہیات نفسانیہ حاصل ہو جاتی تھی۔ پھر باقی تمام عمر تک اس کی محافظت کرتے تھے۔ (کہ متاع بے بہا کہیں ضائع نہ ہو جائے) اور یہ معنی متوارث ہے رسول کریمﷺ سے ہمارے مشائخ کے طریق سے، اس میں کسی قسم کا شک نہیں رہتا ہے اگر چہ رنگ مختلف ہیں اور حاصل کرنے کے طریقے جدا جدا ہیں۔
ّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّّمولانا خرم علی صاحب القول الجمیل کے ترجمہ شفاء العلمین میں اس عبارت کے ترجمہ کے بعد فرماتے ہیں:۔
خلاصہ جواب یہ ہے کہ جس امر کے واسطے اولیائے طریقت رضی اللہ عنہم نے یہ اشغال مقرر کئے ہیں۔ وہ زبان رسالت سے اب تک برابر چلا آیا ہے۔ گو یا طریق اس کی تحصیل کے مختلف ہیں۔ تو فی الواقع اولیائے طریقت مجتہدین شریعت کے مانند ہوئے۔
یہ عاجز خاک پائے حضرات بزرگان دین کہتا ہے کہ کثرت ذکر اور تسبیحات اور تلاوت قرآن مجید پر حدیث شریف میں بکثرت ہے۔ ہم قارئین کے لئے بعض مقامات مع ترجمہ اور تشریحات کے نقل کرتے ہیں حق تعالیٰ نے سورہ احزاب پارہ
۲۲ میں فرمایا:۔
یا یھا الذین امنو اا ذکرواللہ ذکرا کثیرا و سبحوہ بکرۃ واصیلا
اے لو گو! جو ایمان لائے ہو ( تمہارے ایمان کا مقتضےٰ یہ ہے کہ) تم خدا کو بہت بہت یاد کیا کرو اور تسبیح پڑھتے رہا کرو اس کی صبح و شام۔ (تاکہ ان ہر دو اوقات میں تسبیح کرنے سے ان کے درمیانی اوقات یعنی باقی دن اور رات میں بھی کثرت تسبیحات کا اثر جاری وساری رہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے ذکر اور تسبیحات سے نو ر قلب اور تصفیہ و تزکیہ باطن حاصل ہو تا ہے۔ پھر فرمایا :۔
ھوالذی یضلے علیکم وملا ئکتہ لیخر جکم من الظلمت الیالنور وکان بالمومنین رحیما
اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جو تم پر (دائماً) برکات نازل کرتا ہے اور فرشتے بھی تمہارے لئے مغفرت و رحمت کی دعائیں کرتے ہیں۔ تاکہ (اللہ تعالیٰ) تم کو) کفر و شرک اور بدعات و توہمات اور معاصی و شبہات اور نا پاک اخلاق و عادات اور نفسانی حجابات کی) ظلمتوں سے نکال کر ایمان و اتباع سنت اور طاعات و خیرات اور کسوف و مشاہدات کی) روشنی میں لے کر آئے۔ اور وہ مو منوں پر (تو خصوصیات سے) مہربان ہے چنانچہ قیامت کے دن اور بھی لطف و کرم کرے گا کہ ان ذاکرین و مسبحین کواس کے دربار سے سلام کا تحفہ ملے گا جو ہر طرح کی آفت سے سلامتی کا ضامن ہو گا۔ چنانچہ اس کے بعد فرمایا:۔
تحیتھم یو م یلقونہ سلام’‘ یعنی جس دن (یہ مومن) اس کی ملاقات کریں گے تو ان کا تحفہ سلام ہو گا اور مزید برآں یہ کہ واعدلھم اجر کریما۔ ( احزاب پ
۲۲) یعنی اور تیار کر رکھا ہے ان کے لئے اجر نہایت عزت و قدر والا۔
ذکر کثیر

احادیث و آیات سے ثابت ہے کہ فر شتوں کی پیدائش نور سے ہے ان کا مایہ حیات ذکر خدا ہے تسبیحات ان کا دن رات کا شغل ہے نہ وہ اس تھکتے ہیں نہ اکتاتے ہیں انسان خاکی ہے پھر سر کش نفس بھی اس پر سوار ہے۔ سفلیات میں گرنا اس کا کام ہے اس لئے اس خاک کے پتلے کو نورانی لوگوں سے مناسبت و مشابہت تب حاصل ہو۔ جب وہ روزانہ مشق اور دائمی ریاضت سے ممنوع نفسانی خواہشوں سے تو کل پاک ہو جائے اور مباحات میں تقلیل (کمی) کر کے نفس کے اضطراب اور نفسانی خواہشوں کی کشمکش سے سلامت رہے اور سکون خاطر اور فراغ قلب سے اپنے اوقات کو طاعات و ذکر خدا سے معمور رکھے اور یقین جانیے کہ قلب کی حقیقی طمانیت تو بس ذکر میں ہے اگر کسی کا دل اس کے سوا کسی اور چیز سے مانوس ہو گیا اور وہ سمجھتا ہے کہ میں اس حالت میں مطمئن ہوں تو یہ اس کی نادانی ہے جیسے کہ بچوں کا کھیل یا کھلونے سے سکون و قرار ہو جاتا ہے۔ اسی طرح دنیا دار جو ذکر خدا کی لذت سے آشنا ہیں۔ وہ امور دنیا اور اس نہ رہنے والی زندگی کی لذت میں اپنا سکون و قرارسمجھ لیتے ہیں۔ اسی معنی میں فرمایا۔
ان الذین لا یر جون لقاء نا ورضوا بالحیوہ الدنیا و اطمانو ا بھا والذین ھم عن ایا تنا غافلون اولئک ماوھم النار کانو ا یکسنون (یونس پ
۱۱)
’’یعنی جو ہماری ملاقات کا ڈر نہیں رکھتے اور دنیوی زندگی پر راضی ہو گئے اور اسی سے مطمئن ہو گئے اور وہ ہمارے احکام سے غافل ہو گئے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ ان کا ٹھکانہ جہنم میں ہو گا۔ اس کمائی کے بدلے جو وہ کرتے رہے۔ ‘‘
اور خدا یاد لوگوں کی نسبت فرمایا:۔
الذین امنو و تطمئن قلوبھم بذکر اللہ الا بذکراللہ تطمئن القلوب۔ (رعد پ
۱۳)
’’یعنی) خدا کی طرف وہ لوگ رجوع لاتے ہیں۔ جوا یمان لے آتے اور خدا کے ذکر سے ان کے دل پکڑتے ہیں۔ سن رکھو کہ دلوں کو اطمینان (حقیقی) صرف یاد خدا ہی ملتا ہے‘‘
حاصل مطلب :۔ یہ کہ امور دنیا میں کمی کر کے ذکر خدا کے لئے فراغت حاصل کی جائے اور اطمینان قلب اور سکون خاطر سے خدا کو یاد کیا جائے اور مشق روزانہ اور دائمی چاہیے کیونکہ ناغوں سے استعداد ناقص رہتی ہے اور کمال حاصل نہیں ہوتا۔ حضرت عائشہؓ صدیقہ فرماتی ہیں کہ حضورﷺ نے فرمایا
احب الا عمال الی اللہ ادومھا وان قل۔ متفق علیہ (مشکوٰۃ صفحہ
۱۰۲)
(یعنی) حضورﷺ نے فرمایا کہ خدا کے نزدیک سب سے پیارے اعمال وہ ہیں جو دائمی ہوں۔ اگرچہ تھوڑے ہی ہوں۔ ‘‘
اسی لئے ذکر خدا کے حکم یا ترغیب کے ساتھ قرآن شریف میں کثیرا کا لفظ بکثرت وارد ہے۔
ملاحظہ ہو آیات ذیل :۔
۱۔ حضرت یحیٰ کی ولادت کی بشارت کے سلسلہ میں حضرت زکریا ؑ کو حکم دیا
واذکر ربک کثیرا۔ (آل عمران پ
۳)
۲۔ جہادی دشمنوں کے مقابلہ میں ڈٹے رہنے کے ساتھ یاد الہی میں مشغول رہنے کا حکم دیا۔ واذکرواللہ کثیرا (انفال ۱۰) یعنی یاد کرتے رہو خدا کو بہت بہت۔
۳۔ حضرت موسیٰ ؑ نے حضرت ہارون کو معاون بنانے کے سلسلے میں عرض کیا تھا۔ کہ نسبحک کثیرا و نذکرک کثیر (طہٰ پ ۱۶) یعنی ہم دونوں مل کر تسبیح کریں تیری بہت بہت اور یاد کریں تجھ کو بہت بہت۔
۴۔ مساجد کی شان میں فرمایا۔ و مساجد یذکرفیھا اسم اللہ کثیرا (حج پ۱۷) یعنی مسجدیں جن میں خدا کا نام بہت بہت یاد کیا جاتا ہے۔
۵۔ ایماندار اور نیکوکار شاعروں کے وصف میں فرمایا۔ وذکراللہ کثیرا (شعراء پ ۱۶) یعنی یاد کرتے ہیں وہ خدا کو بہت بہت۔ ‘‘
۶۔ اتباع سنت کے سلسلے میں مومنوں کی شان میں فرمایا۔ و ذکراللہ کثیرا۔ (احزاب پ ۲۲) یعنی مومن متبع سنت ہو کر یاد کرنا چاہیے خدا کو بہت بہت۔
۷۔ مومنوں کے اوصاف میں فرمایا۔ والذاکرین اللہ کثیراوالذاکرت (احزاب پ۲۲) یعنی وہ مرد اور عورتیں جو یاد کرتے ہیں خدا کو بہت بہت۔
۸۔ مومنوں کو یاد خدا کے حکم خصوصی میں فرمایا :۔ یایھا الذین امنو ااذکراللہ ذکراکثیرا۔ (احزاب پ ۲۲) یعنی اے مومنو ! یاد کیا کرو اللہ تعالیٰ کو بہت بہت۔
۹۔ نماز جمہے کے بعد دنیا کے کاموں میں لگ جانے پر بھی یاد خدا کا حکم کیا۔ واذکر اللہ کثیرا (الجمہو پ ۲۸) یعنی یاد کیا کرو خدا کو بہت بہت
قرآن شریف میں ان نو مقامات پر ذکر خدا کے ساتھ کثیرا کا لفظ وارد ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ کو اپنا ذکر کثیر مطلوب ہے اور ذکر قلیل اسے پسند نہیں۔ چنانچہ منافقوں کی حالت یوں بیان فرمائی۔
ولا یذکرون اللہ الا قلیلا مذبدبین ذلک۔ (النساء پ
۵) یعنی منافق نہیں یاد کرتے خدا تعالیٰ کو مگر تھوڑا۔
سابقاً حضرت شاہ ولی اللہ صاحب ؒ کے کلام سے بھی گذر چکا ہے اور اس عاجز نے بھی برکات محمدیہ کے سلسلہ کی سب سے پہلی تصنیف قنوت نوازل و اذکار مسنونہ۔ ‘‘(طبع اول) میں بالتصریح لکھ دیا تھا۔ ’’قرآن و حدیث کی تصریحات و اشارات اور بزرگان دین کے تجربات سے اس عاجز نے قرب نوافل میں سب زیادہ موثر چار چیزوں کو پایا۔ ‘‘ اول دوم سوم چہارم نماز تہجد تلاوت قرآن مجید کثرت درود شریف کثرت استغفا دہ
’’پس جملہ ارادت مند احباب ان ہر چہار کو ( عملی طور پر) اپنے اوپر گردانیں۔ اگر پہلے طبیعت پر بوجھ پڑے تو اکتا نہ جائیں۔ بغیر ریاضت و مشتم کے کوئی کام پورا نہیں ہو سکتا۔ اگر بالفرض رات کو ناغہ ہو جائے تو دن کو اور دن کو ہو جائے تو رات کو پورا کر لیں۔
پھر صفحہ
۱۴ پر پانچویں چیزتسبیحات بھی لکھی ہیں اور اب چھٹی چیز تہلیل (لا الہ الا اللہ) بھی لکھتا ہوں۔ کیونکہ حدیث پاک میں اسے افضل الذکر کہا گیا ہے۔ (مشکوٰۃ شریف)
سو نماز تہجد کے متعلق ایک مستقل جامع رسالہ بنام نماز تہجد مدت سے شائع ہو چکا ہے۔ اسی طرح تلاوت قرآن مجید کے متعلق بھی بہت جامع اور بے نظیر رسالہ بنام حلاوت الایمان بتلاوۃ القرآن چھپ چکا ہے۔اب اس مقام پر خدا کی توفیق سے استعفادہ و تسبیحات و تہلیلات وغیرہ کا ذکر کیا جاتا ہے۔ واللہ الموفق۔
استغفار

جمعے بدت گر یہ و آہ آورند جمعے ھمہ دید ہ و نگا ہ آوردند !!
جمعے شنید ند آوازہ عفوترا رفتند و جہاں جہاں گناہ آوردند
استغفار :۔ باب استفعال ہے، مادہ غفرسے۔ اس کے معنی ہیں لغزشوں اور خطاؤں کی بخشش و پردہ پوشی چاہنا۔ چنانچہ صراح میں ہے۔ استغفار ’’آمر ز ش خواستن۔ ‘‘ خطیات چھوٹی بھی ہوتی ہیں اور بڑی بھی عمداً اور ارادہ سے بھی کی جاتی ہیں اور بھول سے غلطی سے بھی ہو جاتی ہیں۔ کسی خاص اثر سے متاثر ہو کر بھی کی جاتی ہیں اور دلیری اور بیباکی اور ضد و عناد سے بھی ان کا ارتکاب کیا جاتا ہے۔ غرض مختلف حالتوں اور مختلف صورتوں میں انسان سے ایسے افعال سر زد ہو جاتے ہیں جو منا سبب نہیں ہوتے۔ پھر اس مناسبب کے بھی کئی پہلو ہیں۔ بعض امر شرع کی رو سے مناسب بلکہ ممنوع ہیں اور بعض شرعاً تو نا درست نہیں۔ لیکن تفاضائے وقت اور مصلحت کے خلاف ہیں بعض اخلاقاً مذموم ہیں اور بعض سو سائٹی کے لحاظ سے ناموزوں ہیں اور بعض ایسے بھی ہیں کہ ایک حالت میں تو نامناسب ہیں لیکن دوسری جہت سے بالکل با مصلحت بلکہ ضروری ہو جاتے ہیں اور بعض وقت اشخاص کے رویہ سے بھی مناسب کا حکم لگ جاتا ہے۔ عوام عموماً بازاروں میں اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے کھاتے پیتے شور و غوغا کرتے رہتے ہیں ان کی نسبت ان باتوں کی پرواہ نہیں کی جاتی۔ لیکن اگر یہی حرکات خواص سے سر زد ہوں تو ان کے وقار و منصب کے خلاف سمجھا جاتا ہے۔ عرض اس کا طول و عرض بہت وسیع ہے اور اس کی شقیں بکثرت ہیں جن کی بنا پر اس کی تقسیم صغیرہ و کبیرہ اور خطا و عمدہ اور سہو و نسیان اور اقرار و عناد میں کی گئی اور پھر اس پر پشماپن و شرمندہ ہونے یا اس پر ضد و اصرار کرنے کی وجہ سے ان کا حکم بھی الگ الگ رکھنا پڑتا ہے ان سب حالتوں کا جامع علاج استغفار ہے۔ اس سے طبیعت میں تواضع و انکساری پیدا ہوتی ہے اور غرور نخوت اور کبر و رعونت دور ہو جاتی ہے۔ اس لئے استغفار کا وظیفہ صرف گنہگاروں۔ سیاہ کاروں اور خطا کاروں ہی کے لئے ہی نہیں بلکہ خدا کے مقرب و پاکباز بندے اسے بدل و جان کثرت سے رٹتے رہتے ہیں۔ بلکہ گنہگار تو بوجہ دل کی سیاہی کے اس پر مشکل سے عمل کرتے ہیں۔ محض عقل و ذہن سے نہیں۔ بلکہ نظر و مشاہدہ سے، حقیقی نیکوں اور بدوں کے حالات کو دیکھوں۔ تو تو ان میں نمایاں امتیاز پاؤ گے۔ قرآن شریف میں عام طور پر استغفار کرنا نیک لو گوں کا شعار کہا گیا ہے اور متمردو سر کشوں کا کام ضد اور اصرار بتایا گیا ہے۔ آیات ذیل سے یہ بات واضح ہو جائے گی۔
الذین یقولون ربنا اننا امنا فا غفرلنا ذنو بنا و قنا عذاب النار الصدبر ین و الصادقین والقانتین والمنفقین والمستغفرین با لا سحار (ال عمران پ
۳)
(جنت ان متقین کیلئے تیار رکھی ہوئی ہے) جو کہتے ہیں اے ہمارے پروردگار ! ہم ضرور ایمان لے آئے ہیں۔ پس بخش ہم گناہ گار ہمارے۔ اور بچا ہم کو عذاب دوزخ سے، وہ جو صبر کرتے ہیں اور سچ بولتے ہیں اور عاجزی کرتے ہیں اور (اللہ تعالیٰ کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں اور سحر گاہ استغفار کرتے ہیں
نیز فرمایا :۔ ان المتقین فی جنت و عیون
۰ اخذین ما اتھم ربھم انھم کا نو قبل ذلک محسنین ۰ کا نوقلیلامن الیل ما یھجعون ۰ وبا لا سحار ھم یستغفرون ( زاریات پ۲۶) بیشک پرہیز گار بیچ باغوں اور چشموں کے ہو نگے لینے والے ہو نگے وہ جو کچھ دے گا انکو ان کا پروردگار تحقیق وہ تھے اس سے پہلے (دنیا میں) نیکو کار وہ رات کو تھوڑا سوتے اور سحر گاہ کو استغفار کرتے تھے ہیں ‘‘
یہ خدا یاد۔ پرہیز گار نیکوکار لوگوں کا حال ہے۔ اس کے بر خلاف ضدی سرکشوں کا حال حضرت نوحؑ کی زبانی ذکر کیا کہ انہوں نے جناب خداوندی میں اپنی قوم کی شکایت ان الفاظ میں بیان کی۔
وانی کلما دعوتھم لتغفر لھم جعلو ا اصا بعھم فی اذانھم واستغشواثیا بھم واصر و او ستکبروا استکبارا۔ ( نوح
۲۹)
’’اور میں نے جب کبھی ان کو بلایا۔ تاکہ تو ان کو مغفرت کرے تو انہوں نے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیں اور اپنے کپڑے سمیٹ لئے (تاکہ وہ مجھے نہ چھوئیں) اور انہوں نے ضد کی اور نہایت درجے کا تکبر کیا۔ ‘‘
الغرض پرہیز گار نیکو کار استغفار کر کے اپنے قلوب کو کبر و نخوت اور رعونت و پنداشت سے پاک کرتے ہیں اور ضدی و سرکش استغفار کو مو جب عار جان کر گناہ پر اصرار کرتے ہیں۔
استغفار کا بہتر وقت

بعد از نماز تہجد ہے۔ جیسا کہ آیات مندرجہ بالا سے ظاہر ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی تجلی خصوصی کے نزول کا یہی وقت ہے جیسا کہ حدیث النزول سے ثابت ہے۔ تفسیر معالم التنزیل میں آیت سوف استغفر لکم ربی (یوسف
۱۳) کے ذیل میں اکثر مفسرین کا قول نقل کیا ہے کہ (حضرت یعقوب ؑ نے اپنے بیٹوں کے لئے فوراً استغفار نہ کیا بلکہ ان سے وعدہ کیا کہ عنقریب بخشش مانگوں گا) اس سے ان کی مراد سحر کے وقت دعا کرنا تھی۔ ‘‘ (جلد ۲ صفحہ ۴۷۵)
فضائل استغفار کے بیش از پیش ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا جالب ہے۔ گناہ اور گناہ کرانے والی قوتوں (کے میل) کے لئے صابن کا حکم رکھتا ہے۔ حدیث ابن ماجہ میں ہے۔ ’’خوشخبری ہے اس کے لئے جس نے پایا اپنے نامہ اعمال میں استغفار کثیر۔ (مشکوٰۃ شریف)
سید الا ستغفار:۔ صیغے استغفار کے بہت ہیں۔ سب کا سردار یہ صیغہ ہے :۔
اللھم انت ربی لا الہ الاانت خلقتی وانا عبدک وانا علے عھدک وو عدک ما استطعت اعوذبک من شرما صنعت ابوء لک بنعمتک علی و ابوء بذنبی فاغفرلی فلا یغفر الذنوب الا انت۔
الہی ! تو میرا پروردگار ہے۔ تیرے سوا کوئی بھی مستحق عبادت نہیں۔ تو ہی نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا ہی بندہ ہوں۔ میں تیرے عہد اور وعدے پر قائم ہوں جہاں تک میری استطاعت ہے۔ میں اپنے اعمال کی برائی سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ مجھے پر جو تیری نعمتیں ہیں۔ میں ان کا اقرار کرتا ہوں اور اپنے گناہوں کا بھی قرار کرتا ہوں۔ پس مجھے بخش دے۔ بات یہی ہے کہ تیرے سوا کوئی بھی گناہ نہیں بخش سکتا۔ ‘‘
ان کلمات کی نسبت آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ جو شخص ان کو دل کے یقین سے دن کے وقت کہے اور پھر اس دن میں شام سے پہلے فوت ہو جائے تو جنتی ہے اور جو کئی ان کو دل کے یقین سے رات کے وقت کہے اور پھر اس رات صبح ہونے سے پہلے فوت ہو جائے۔ تو وہ بھی جنتی ہے۔ روایت کیااس حدیث جو امام بخاری ؒ نے اپنی صحیح میں۔
حدیث ابن عباسؓ میں ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا۔ جس نے لازم پکڑا استغفار کو کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے ہر تنگی سے خلاصی (کی صورت) اور ہر غم فکر سے کشائش اور رزق پہچاحتا ہے اسے جہاں سے گمان نہیں ہوتا۔ روایت کیااس حدیث کو امام احمد، اور امام ابو داؤد امام ابن ماجہ رحمۃ اللہ علیہ نے امام طبرانی ؒ نے حضرت ابو دردا صحابیؓ سے روایت کیا۔ کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا۔ جو شخص سب مومن مردوں اور مومن عورتوں کیلئے ہر روز پچیس یا ستائیس دفعہ بخشش مانگتا ہے۔ وہ ان لوگوں میں سے ہو جاتا ہے۔ جن کی دعا مستجاب ہوتی ہے اور اہل زمین کو ان کی برکت سے رزق ملتا ہے۔ (حصن حصین ص
۵۴، ۱۲منہ)
تحدیثاً بنعمۃاللہ یہ بندہ حْیر سراپا تفصیر محمد ابراہیم میر سیالکوٹی اللہ تعالیٰ کے حسن توفیق سے سالہاسال سے عموماً ہر شب کو بوقت تہجد اس حدیث کے مطابق خاص خاص فوت شدہ اور زندہ احباب اور ان کی ازواج اور اپنے تمام اساتذہ کرام اور ان کی ازواج اور اپنے تمام اقربا (ذکور اناث) اور اپنے تمام اور اپنے ارادتمند مبایعین اور مخلص خدام اور محسنین و محبین اور جن کی میں نے کبھی غیبت کی یا جس کی کسی پر ناحق ظلم کیااورجس کسی کا میرے ذمہ حق باقی رہ گیا ہو اور میں نہیں جانتا۔ ان سب کے لئے دعائے مغفرت کرنے کے بعد ستائیس دفعہ حضرت نوح علیہ السلام والا استغفارپڑھا کرتا ہوں وہ بہت جامع ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل عمیم سے مجھے اس کی برکت سے متمتع کرے۔ آمین ورنہ میں بہت بڑا گناہ گار ہوں۔ سوائے اس کے فضل کے کوئی سہارا نہیں۔
اللھم مغفرتک اوسع من ذنوبی ورحمتک ارجی عندی من عملی۔ (ترجمہ) اے اللہ تیری بخشش میرے گناہوں سے زیادہ وسیع ہے اور مجھے اپنے عمل کی نسبت تیری رحمت کی زیادہ امید ہے۔
۵۔ نیز امام طبرانی ؒ نے حضرت عبادہ بن صامتؓ سے روایت کیا کہ آنحضرت نے فرمایا۔ جو شخص مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لئے بخشش مانگنا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے لئے ہر مومن مرد اور مومن عورت کے عوض ایک نیکی لکھتا ہے۔ ۱۲ (حصن حصین صفحہ ۲۰۶)
۶۔ امام احمدؒ نے حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت کیا کہ رسول کریمﷺ نے فرمایا کہ شیطان نے اللہ تعالیٰ سے کہا تھا۔ تیری عزت و جلال کی قسم ہے کہ جب تک بنی آدم میں ارواح باقی رہیں گے میں ان کو گمراہی میں ڈالتا ہوں گا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ مجھے بھی اپنی عزت و جلال کی قسم ہے کہ جب تک وہ مجھ سے بخشش مانگتے رہیں گے میں ان کو بخشتا رہوں گا۔ (حصن حصین صفحہ ۲۰۵، مشکوٰۃ۱۹۶)
7۔ نماز توبہ:۔ سنن اربعہ میں حضرت صدیق اکبرؓ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا کہ جس شخص سے کوئی گناہ ہو جائے تو وہ طہارت کر کے دو رکعت نماز پڑھے اور اللہ تعالیٰ سے بخشش مانگے تو اس کو گناہ بخشا جاتا ہے۔ ( (حصن حصین صفحہ
۱۵۴)
۸۔ نیز مستدرک حاکم میں حضرت جابر انصاریؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص آنحضرتﷺ کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا۔ ہائے گناہ !ہائے گناہ ! حضورﷺ نے فرمایا تو کہہ :۔
اللھم مغفرتک اوسع من ذنوبی ورحمتک ارجی عندی من عملی۔ (حصن حصین صفحہ
۱۵۴)
’’یا اللہ ! تیری بخشش زیادہ کشادہ ہے میرے گناہ ہوں سے اور تیری رحمت میرے نزدیک بہت لائق امید ہے۔ میرے عمل کی نسبت ‘‘
اس شخص نے یہ کلمات کہے تو حضورﷺ نے فرمایا۔ پھر دوبارہ کہہ۔ اس نے پھر یہ کلمات کہے۔ آپﷺ نے فرمایا پھر کہہ۔ اس نے پھر تیسری بار) کہے تو آپ نے فرمایا۔ اٹھ ! اللہ تعالیٰ نے تجھے بخشش دیدی۔ (حصن حصین صفحہ
۱۵۴)
تنبیہ :۔ یہی مذکور ہ بالا دعا نماز توبہ کے تشہد میں بعد درود شریف کے مانگے یا کوئی اور مسنون دعا جس میں استغفار کا مضمون ہو تو اختیار ہے
حضرات انبیاء (علیھم السلام) کے استغفار

قرآن مجید میں حضرت انبیاء علیہم السلام کے استغفار کرنے کا بھی ذکر ہے۔ مثلاً:۔
۱۔ ابو البشر حضرت آدم (علیہ السلام) نے کہا۔ ربنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفرلناو تر حمنا لنکونن من الخاسرین۔ (اعراف پ ۸)
یعنی اے پروردگار ! ہم دونوں (میاں بیوی) نے اپنی جانوں پر ظلم کیا اگر تو نے ہمیں بخشش نہ دی اور ہم پر رحمت نہ کی تو ہم زیاں کاروں میں سے ہو جائیں گے۔
۲۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے کہا :۔ رب اغفرلی ولوالدی ولمن دخل بیتی مومناوللمومنین والمومنات (سورت نوح پ ۲۹)
یعنی اے میرے پروردگار !بخش دے مجھے بھی اور میرے والدین کو بھی اور اسے بھی جو میرے گھر میں مومن ہو کر داخل ہوا۔ (بیوی یا مہمان یا ملاقاتی) اور باقی تمام مومن مردوں کو بھی اور مومن عورتوں کو بھی۔ ‘‘
۳۔ حضرت ابراھیم (علیہ السلام) نے کہا :۔ رب اجعلنی مقیم الصلوۃ ومن ذریتی ربنا و تقبل دعاء ربنا اغفرلی ولوالدی وللمومنین یوم یقوم الحساب۔ (ابراہیم پ ۱۳)
۴۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا :۔ رب اغفرلی ولا خی واذ لنا فی رحمتک وانت ارحم الرحمین۔ (اعراف پ)
۵۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) وظن داؤد انما فتنہ فاستغفر ربہ وخر راکعا واناب (ص پ ۳)
یعنی داؤد ؑ نے گمان کیا کہ بات تو صرف یہ ہے کہ ہم نے (اس واقعہ) اسے صرف آزمایا ہے۔ پس اس نے اپنے رب سے بخشش مانگی اور جھک کر (سجدے میں) گرا اور رجوع لایا۔ ‘‘
۶۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) رب اغفر لی وھب لی ملکا لا ینبغی لا حد من بعد ی انک انت الوھاب (ص پ ۲۳)
اے میرے پروردگار ! مجھے بخش دے اور عطا کر مجھے ایسی بادشاہی کہ نہ شایاں ہو کسی کو میرے بعد بے شک تو بہت کچھ عطا کرنے والا ہے۔
۷۔ حضرت یونس (علیہ السلام) لا الہ الا انت سبحنک کنت من الظلمین (انبیاء پ ۱۷)
یعنی تیرے سوا کوئی بھی لائق عبادت نہیں کہ اس کے سامنے التجا کی جائے اور پنا ہ لی جائے بیشک میں بیجا کرنے والوں سے ہو گیا ہوں۔ ‘‘
تنبیہ :۔ حضرت یونس ؑ کی اس تسبیح میں استغفار کی تصریح نہیں ہے لیکن چونکہ اس میں قصور کا اعتراف ہے اور انبیاء السلام کا اعتراف متضمن استغفار بھی ہوتا ہے۔ جیسا کہ حضرت آدم علیہ السلام کی دعا میں اعتراف بھی اور استغفار کی تصریح بھی ہے اس لئے ہم نے اس دعا کو استغفار کے ذیل میں بیان کیا ہے اور انشاء اللہ آئندہ تسبیح کے ذیل میں بھی ذکر کریں گے۔
۸۔ سید المرسلینﷺ کو قرآن مجید میں کئی مقام پر استغفار کرنے کا حکم ہوا ہے۔ اپنے لئے اور دیگر مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لئے بھی۔ (سورت محمد وغیرہ پ ۲۶) اور حضور اکرمﷺ اس حکم کی تعمیل میں بہت بہت دفعہ (صد ہا دفعہ) استغفار کیا کرتے ہیں۔ بعض بزرگوں نے اس کی تاویل کی ہے کہ اس سے امت کے لئے استغفار کرنا مراد ہے۔ لیکن اس تاویل کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ سورت محمدﷺ کی محولہ بالا آیت میں آپﷺ کا اور آپﷺ کی امت کے بلکہ تمام مومن مردوں ور عورتوں کا صریح لفظ ہے۔ ہاں اس کی حقیقت وہی ہے۔ جو دیگر انبیاء علیہم السلام کے استغفار کی ہے۔ جسے ہم خدا کی توفیق سے مستقل طور پر الگ فصل میں ذکر کرتے ہیں۔
حقیقت استغفار انبیاء (علیہم الصلوۃ والسلام)

انبیاء اعلیہم السلام کے استغفار کرنے سے بعض لوگوں کو یہ وہم گزرا ہے کہ) معاذاللہ) ان سے بھی گناہ ہو جاتا تھا۔ خواہ کبھی کبھی ہو۔ یہ لوگ سخت غلطی پر ہیں۔ حضرات انبیاء علیہم السلام کے استغفار کی حقیقت دیگر لوگوں کے استغفار جیسی نہیں ہے بلکہ دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے حضرت مو لانا رومی ؒ فرماتے ہیں۔
کار پا کاں راقیاس از خود مگیر
گرچہ ماند در نوشین شیرو شیر
اور حضرت سعدی ؒ شیرازی اس سے بھی زیادہ صفائی سے بالتصریح فرماتے ہیں
عاصیاں از گناہ توبہ کنند !
عارفاں از اطاعت استغفار
اس کی مختصر تفصیل یوں ہے کہ گناہ کہتے ہیں عمداً و قصداً جاننے بوجھتے خلاف شرع کام کرنے کو انبیاء علیہم السلام اس قسم کے ارتکاب سے قبل از نبوت بھی پاک ہوئے تھے چہ جائیکہ بعد از نبوت ان سے ایسے افعال سرزد ہوں۔
آپ کہیں گے کہ پھر جو آیات قرآنیہ اوپر مذکور ہوئی ہیں اور آنحضرتﷺ جو کثرت سے استغفار کرتے رہتے تھے۔ ان کے معنی کیا ہوں گے ؟ تو اس کا مجمل جواب یہ ہے کہ حضرات انبیاء علیہم السلام کبھی تو محض اظہار عبدیت اور تواضع و انکساری کیلئے استغفار کرتے تھے اور کبھی ان سے اجتہاد میں خطا ہو گئی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کواس خطا پر قائم نہیں رہنے دیا۔ بلکہ فوراً بذریعہ وحی اصلاح کر دی جیسے طعمہ بن ابیرق کے قصے میں زید بن سیمن یہودی کے گھر سے مال مسروقہ بر آمد ہونے پر آپﷺ نے اس کو چور سمجھا لیکن یہ کام اس نے نہیں کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے آگاہ کر دیا۔ سورت النساء پارہ پنچم کی آیات انا انذلنا الیک الکتاب بالحق لتحکم بین الناس بما ارک اللہ کی تفسیر و شان نزول میں یہ قصہ مذکور ہے اور کبھی ان کو سہو و نسیان ہو گیا اور یہ منافی عصمت نہیں کیونکہ رسالت سے بشریت کلیہ زائل نہیں ہو جاتی جیسے کہ آدمؑ کی نسبت فرمایا :۔ ولقد عھد نا الی ادم قبل فنسی ولم نجدلہ عر ما (پ طہ)
’’یعنی البتہ تحقیق عہد بھیجا ہم نے طرف آدم ؑ کی پہلے آپ سے۔ پس وہ بھول گیا اور ہم نے (اس خطاپر) اس کا عزم نہیں پایا۔
اور کبھی دو اختیاری کاموں میں ایک تو اختیار کردہ امر خلاف مصلحت وقت پڑ گیا اس صورت میں بھی اللہ تعالیٰ ان کو آگاہ کر دیتا ہے۔ جیسے کہ سفر تبوک میں نہ جانے کے لئے بعض لوگوں نے آنحضرتﷺ کے سامنے اپنے عذر پیش کر کے اجازت چاہی۔ آنحضرتﷺ کو اجازت دینے یا نہ دینے ہر دو امر کا اختیار تھا۔ آپﷺ کی اجازت نے دیدی۔ اللہ تعالیٰ نے اللہ تعالیٰ نے اس پر فرمایا:۔
عفا اللہ عنک لم اذنت لھم حتی یتبین لک الذین صدقواوتعلم الکا ذبین (توبہ
۱۰) یعنی ’’ (اے پیغمبر ﷺ!) اللہ نے آپ کو معاف کیا یا معاف کرے۔ آپﷺ نے ان کو کیوں اجازت دیدی تھی، حتیٰ کہ آپ صادق بھی ظاہر ہو جاتے۔ اور آپ کا زبوں کو بھی معلوم کر لیتے۔)
اور کبھی دو اختیاری کام کہ دونوں حد شرع میں جائز ہیں۔ بیک وقت جمع ہو گئے۔ لیکن عمل میں اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ ایک پہلے (مقدم) کرنا پڑتا ہے دوسرے کو پیچھے (موخر) کرنا پڑتا ہے اور بعض وقت یہ تقدیم و تاخیر خلاف مصلحت و خلاف موقع ہو جاتی ہے اور یہ گناہ نہیں ہے کیونکہ خلاف مصلحت اور خلاف شرح میں فرق ہے۔ جیسے کہ آنحضرتﷺ صنادید قریش میں عور کی تلقین اور تبلیغ احکام الہی فرما رہے تھے کہ اس حالت میں عبداللہ بن ام مکتوم نابینا صحابیؓ نے آ کر آپﷺ سے کچھ دریافت کرنا چاہا۔ آنحضرتﷺ وعظ تبلیغ میں مشغول تھے۔ سلسلہ کلام میں حضرت عبداللہ کا دخل اندازہ ہو نا۔ آپﷺ کو پسند نہ آیا۔ آپﷺ نے توجہ نہ کی۔ اور بیان جاری رکھا۔ یہ دونوں کام بہ یک وقت تو نہیں ہوسکتے تھے، عبداللہ وہ مسئلہ پھر بھی پوچھ سکتا تھا۔ کیونکہ وہ مخلص مومن تھا۔ لیکن قریش کی مجلس کی یہ صورت اختیاری نہ تھی۔ شاید پھر ایسا موقع کب بنتا۔ آپﷺ کولو گوں کے اسلام لانے اور ان کے نجات پانے کی فکر تھی۔ اس لئے آپﷺ نے تبلیغ کو ترجیح دی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے عبداللہ کی مسکینی اور شوق قلبی کی قدر کر کے آپﷺ پر وحی نازل فرمائی۔ کہ اس موقع پر ان کے سامنے عبداللہ کی قدر افزائی کرنی چاہیے تھی۔ تعلیم و تبلیغ ہر دو صورتیں ہیں۔ آپﷺ کو بہر حال اپنے فرض کی بجا آوری کا ثواب مل ہی جاتا اور عبداللہ کی خاطر داری اور اس سے صنادید قریش کے دل اچھا اثر پڑتا۔ وہ علاوہ تھا۔ ظاہر ہے کہ امر یہ عصیان و نافرمانی نہیں، کہ اسے گناہ سمجھیں اور عصمت کے منافی جانیں۔
ایسی ہی تقدیم و تا خیر کی نسبت اللہ تعالیٰ نے سورت انا فتحنا میں فرمایا۔ لیغفر لک اللہ ما تقدمن ذ نبک وما تا خر۔ یعنی اس فتح (صلح حدیبیہ کا نتیجہ یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ آپ کی لغزشیں جو قسم تقدیم و تاخیر ہیں۔ تمام بخش دے گا۔ ‘‘
یہ سورت سفر حدیبیہ سے واپسی پر اتر ی تھی۔ سیاسی نقل و حرکت و انتظامات میں بعض امور میں ضرورۃً بعض میں اجہامداً اور بعض میں سہواً اور بعض میں اضطراراً تقدیم و تا خیر ہو جاتی ہے۔ پس خوشخبری سنادی کہ اس قسم کی سب باتیں مغفور ہیں کیونکہ نتیجہ اس صلح کا بہت بابرکت ہے اور اس لئے اس کو فتح مبین کہا گیا ہے۔
اس جگہ تقدیم و تاخیر کے معنی وہ ہیں جو بعض نے لکھے ہیں کہ ان سے قبل اور بعد نبوت کے گناہ مراد ہیں (معاذ اللہ)
آنحضرتﷺ تہجد کے وقت ایک لمبی دعا میں یہ بھی کہا کرتے تھے۔ فا غفرلی ماقدمت وما اخرت (حصن حصین صفحہ
۷۰) یعنی (الہی) مجھے بخش دے وہ جو مقدم میں نے (جسے مو خر کرنا چاہیے تھا) ۔ ‘‘
کبھی یوں اتفاق ہو گیا کہ دو کام ہیں۔ ایک رتبہ میں اولیٰ و افضل ہے دوسرا اس سے ادنیٰ ہے لیکن۔ حد شرع میں جائز دونوں ہیں۔ بعض وقت کسی خاص وجہ سے اولیٰ و افضل ترک ہو جاتا ہے اور اس سے کمتر رتبہ والا مل آ جاتا ہے۔ ایسی صورت میں گناہ بھی نہیں ہے۔ اس کی مثال میں بھی حضرت عبداللہ بن مکتوم والا واقعہ پیش ہو سکتا ہے۔
چنانچہ امام رازی ؒ سورت عبس پ
۳۰ کی تفسیر میں فرماتے ہیں :۔
کان ذلک جا ریا مجری ترک الا فضل فلم یکن ذنبا البتہ ( جلد ا خیر ہ صفحہ
۳۳۲) ’’ یعنی یہ کام ترک افضل کی طرح ہے گناہ ہر گناہ نہیں ہے ‘‘۔
حاصل کلام یہ کہ انبیاء علیہم السلام کے وہ امور جو کسی منکر عصمت کی نظر میں کھٹک سکے ان حقائق سے باہر نہیں ہیں اور قران و حدیث کسی نبی کے متعلق ایک دفعہ بھی ایسا مذ کور نہیں ہے کہ اس میں دیدہ دانستہ اللہ کے حکم کے خلاف ورزی پائی جائے
چونکہ ان کے باطن پاک ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلال ان کے قلوب پر از حد پر تو افگن ہو تا ہے۔ اس لئے وہ اپنی اس حالت سے اپنی طہارت و پاکیزگی کی وجہ سے استغفار کرتے ہیں ۔ جس سے ان کو مراتب قرب الہی میں ترقی حاصل ہوتی ہے۔
نہ کہ وہ معاذاللہ دوسرے لوگوں کی طرح دیدہ دانستہ قوائے نفسانیہ سے مغلوب ہو کر ارتکاب گناہ کرتے ہیں اور پھر استغفار کرتے ہیں اس امر کو ذہن نشین کرنے کے لئے حضرت مولا نا رومیؒ اور حضرت شیخ سعدی ؒ کے اشعار پھر پڑھیں۔ بلکہ بار بار پڑھیں۔ حتیٰ کہ آپ کے ذہین اور قلب میں اور یہ بات مستقرہو جائے
کار پاکاں را قیاس از خود مگیر گرچہ ماند در نوشین شیروشیر
عاصیاں از گناہ توبہ کنند عارفاں از عبادت استغفار
صیغے استغفارکے بہت ہیں۔ قرآن شریف میں سے بعض اوپر گزر چکے ہیں۔ اب بعض وہ ذکر کئے جاتے ہیں۔ جو حدیث شریف میں وارد ہیں۔ ان میں سے جو چا ہو پڑھو !
۱۔ استغفار اللہ الذی لا الہ الاھو الحی القیوم و اتوب الیہ۔ (تین یا پانچ دفعہ) (۱) میں بخشش مانگتا ہوں، مانگتی ہوں۔ اللہ سے جس کے سوائے کوئی بھی معبود نہیں۔ سدا زندہ ہے۔ سدا قائم ہے اور میں اس کی طرف رجوع کرتا یا کرتی ہوں۔
۲۔ رب اغفرلی و تب علی انک انت التوب الرحیم (سو دفعہ)
اے میرے پروردگار بخش دے مجھ کو اور مہربانی سے رجوع کر مجھ پر۔ بیشک تو ہی ہے تو بہ قبول کرنے والا۔ رحم کرنے والا۔
۳۔ اللھم اغفرلی ماقدمت وما اخرت وما اسررت وما اعلنت وما اسرفت وماانت اعلم بہ منی انت المقدم وانت المو خرانت الھی۔
یا اللہ! بخش دے مجھ کو جو کچھ میں نے آگے اور جو کچھ میں نے پیچھے کیا اور جو کچھ میں نے چھپ کر کیا اور جو کچھ میں نے علانیہ کیا اور جو کچھ زیادتی کی میں نے اور جس بات کو تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے تو ہی آگے کرنے والا ہے اور تو ہی پیچھے ہٹانے والا ہے۔ تو ہی میرا معبود ہے۔
لا الہ الا انت ولا حول ولا قو ۃ الا باللہ۔
نہیں طاقت (نیکی کرنے کی) اور نہیں قوت (بدی سے بچنے کی) مگر اللہ ( توفیق) سے۔ ‘‘
۴۔ رب اغفرو ارحم انک انت الاعذالا کرم۔
’’ اے میرے پروردگار بخش دے اور رحم کر بیشک تو ہی بہت عزت والا اور بزرگی والا۔ ‘‘
۵۔ اللھم اغفرلی ذنبی کلہ دفہ وجلہ واو لہ واخررہوعلا نیتہ و سرہ۔
یا اللہ ! بخش دے مجھ کو میرے گناہ سارے کے سارے چھوٹے بھی اور بڑے بھی اور پہلے کے بھی اور پیچھے بھی اور علانیہ کئے ہوئے اور پوشیدہ کئے ہوئے بھی۔ ‘‘

حواشی وحوالہ جات

سراجاً منیر والی آیت جو اس وقت زیر تفسیر ہے۔ اس سے پہلے خاتم النبین والی آیت اور آپﷺ کے خدا یاد امتیوں پر خدا طرف سے اور اس کے فرشتوں کی طرف سے صلوات و برکات کی بارش ہوتے رہنے کی آیت مذکور ہے۔ (قرآن شریف کھول کر دیکھ لو) پس یہ فائدہ ان کے باہمی ربط و ارتباط سے تباط سے مستفادہے۔ 12 منہ غفرلہ)
اس شعر میں خواجہ حافظ نے جو سکندر کو حضرت خضر ؑ کا رفیق سفر کہا ہے تو بناء بر عام مشہور قول کے کہا ہے جس میں سکندر یونانی کو ذو القرنین نہیں سمھا گیا ہے لیکن تحقیق یہ ہے کہ یہ شخص سکندر یونانی نہیں تھا کیونکہ ذوالقرنین نبی اللہ یا صاحب الہام ولی اللہ تھے اور سکندر یونانی تو بت پرست تھا۔ ہم نے سورۂ کہف کی تفسیر میں اس مسئلہ کو باتفصیل بیان کیا ہے۔ طالب راعب اس کا مطالعہ کرے۔
اس عا جز نے اس کتاب کو ’’ بابرکت ‘‘ اس لئے کہا ہے کہ مجھ گنہگار کو اس کتاب نے رنگ دیا ہے۔ ورنہ میں گنہگار کہاں اور یہ فیوض و برکا ت کہاں ؟
؂ وہ آئیں گھر پہ ہمارے خدا کی قدرت ہے
کبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں۔
بقیہ اللھم اجذہ عنی جزاء جسنا
۱۲ عفی عنہ
صحیح مسلم کی حدیث سے ثابت ہے کہ جب یہ سورت نازل ہوئی اور آنحضرت ﷺ نے صحابہؓ کو فرمایا کہ ابھی مجھ پر خدا نے ایک سورت نازل فرمائی ہے ۔پھر آپﷺ نے بسم اللہ شریف ساتھ پڑھ کر باقی سورت صحابہؓ کو سنائی ۔اس سے معلوم ہوا بسم اللہ شریف جس جس سورت کے ابتدا میں مکتوب ہے وہ اس سورت کے ساتھ اتری ہے اس کی جز ہے ۔
۱۲منہ
یہ عملیات کتاب عملیات خاندان شاہ عبدالعزیز صاحب ؒ دہلوی سے ماخوذ ہیں ۔
۱۲منہ
گناہوں کی نجاست تو بہت بری بلا ہے۔ پرانے اہل دہلی میں تو یہ بھی مشہور تھا کہ حضرت شاہ عبد العزیز صاحب ؒ کو حضور سرورکائناتﷺ کی حضوری کا مرتبہ حاصل تھا۔ ایک دفعہ آپ کے ہاں کوئی مہمان آیا اور وہ حقہ پیتا تھا۔ خادم اس کے لئے کہیں سے حقہ لے آئے۔ لیکن خادموں کو اس حقہ کا مکان سے نکال دینا یاد نہ رہا۔ کئی روز کے بعد حضرت شاہ صاحب سے آنحضرتﷺ نے فرمایا۔ مکان میں حقہ ہے۔ اس لئے ہم اس جگہ تشریف فرما نہیں ہوسکتے۔
۱۲منہ
آپ بمقام سرگودھا انتقال فرما چکے ہیں۔ (15اپریل 1948ء
اس سے پیشتر آب کو میری تقریر سننے کا موقع نہیں ملا تھا۔ یہ واقعہ اسلامی مجلس مناظرہ کے سالانہ جلسہ پر ہوا۔ جو گھنٹہ گھر کے قریب ہوا۔ جو گھنٹہ گھر کے قریب ہوا تھا۔ 12منہ۔
علامہ اقبال مرحومؒ نے فرمایا ہے’’ دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے‘‘
الحمد للہ میں نے اس کا کئی بار تجربہ کیا ہے۔ اس گنہگار بندے کے مخلص دوستوں میں سے جن پر یہ کیفیت گزری ہے۔ وہ اس کی گواہی دیں گے۔
حضرت مولانا ثناء اللہ صاحب (رحمۃ اللہ) نے اس موقع پر جلدی سے کام لیا کہ اخبار اہل حدیث کے اس پرچہ میں یہ مضمون شائع ہوا تھا۔ یہ نوٹ لکھ دیا۔ ’’سنت مطہرہ سے اس کا ثبوت چاہیے ‘‘ (اہلحدیث) گزارش ہے کہ اگر آنجناب اگلا صفحہ ملاحظہ فرما لیتے ہیں تو آپ کو یہ لکھنے کی ضرورت نہ پڑتی۔ کیونکہ اگلے صفحہ پر اسی مطالبہ کو سنت مطہرہ سے ثابت کیا گیا ہے۔ فافہم 12منہ
صحیح بخاری کتاب المناقب ۔
۱۲منہ
فتح الباری جز
۲۲۷ مطبوعہ دہلی ۱۲منہ
سیرت ابن ہشام یہ ذکر بالتفصیل مذکور ہے (جلد
۲ص ۲۰۹ علی بامش ا لروض الائف۔ ۱۲منہ
مشکوۃ باب المعجزات ص
۵۲۴، ۵۲۵۔ ۱۲منہ
شفاء قاضی عیاضؓ، طبوعہ قسطنطینہ جلد اول ص
۲۴۰سے ص ۲۴۶تک۔ ۱۲منہ
متفاد از مفرح القلوب شرح قانو بچہ دوم ص
۱۱۳۔ ۱۲منہ
امور اس کثرت سے مشاہدہ میں آتے رہتے ہیں کہ انکار کی گنجائش نہیں۔
۱۲
مشکوۃ ص
۵۵۵،۵۵۶باب مناقب علی بن ابی طالبؓ ۔۱۲منہ
صحت مزاج اور قوت بدن کی علامت ہے ۔
۱۲منہ
یعنی اس کی صفات و صفت ہی اور ہو جاتی ہے ۔
۱۲منہ
صحیحین کی روایات کو جمع کر کے بطور حاصل مطلب کے لکھا ہے ۔
۱۲منہ
نفس ف کی سکون کے ساتھ بر وزن فلس۔ بمعنی تن و ذات اس کی جمع نفوس آتی ہے اور نفس ف کے نتیجہ کے ساتھ بر وزن فرس بمعنی دم سانس، اس کی جمع انفاس آتی ہے ( صراح منتہی الا رب) حاصل اس شعر کا یہ ہے کہ اہل حدیث کو اگر چہ بعد زمانہ کے سبب پیغمبرﷺ کے جسد مبارک کی مصاحبت حاصل نہیں ہوسکی۔ لیکن آپﷺ کے انفاس طیبہ سے پیدا شدہ کلام یعنی احادیث شریف سے تو صحبت حاصل ہے کہ وہ آپﷺ کے ارشادات کی برکات کے حامل ہیں اللھم اجعلنا منھم۔ 12منہ
حاجی محمد افضل صاحب سیالکوٹی اکابر دین سے تھے۔ اپنے وطن سیالکوٹ سے دہلی میں وطن پذیر ہو گئے اور وہیں وفات پائی، آپ کا مرزا حضرت خواجہ باقی بااللہ کے مزار سے متصل ہے۔ حدیث میں حضرت مظہر جان جاناں ؒ کے علاوہ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب ؒ کے بھی استاد ہیں۔ آپ نے شیخ سالم بن عبداللہ بصری ؒ ثم المکی سے مکہ شریف میں علم حدیث حاصل کیا۔ علاوہ علوم ظاہری کے باطنی کمالات میں بھی کامل تھے۔ ان کے کچھ حالات مقامات مظہری کے فضل سوم میں مذکور ہیں۔ رحمہ اللہ
۱۲منہ۔
حضرت صوفیائے کرام کے نزدیک نسبت سے مراد خدا تعالیٰ سے ارتباط قلب کا نام ہے اور وہ اس کا نام سکینہ اور نور بھی رکھتے ہیں ۔ مستفادازرسالہ القول الجمیل مصنفہ شاہ ولی اللہ صاحب ؒ
۱۲منہ
یعنی بے ضرورت۔
۱۲
مشکوۃ المصابیح ص
۱۹۶ باب الاستغفاروالتوبہ، ۱۲منہ
اس مضمون یعنی ترک اولیٰ کو حضرت مجددصا حبؒ نے مکتوبات میں بالتفصیل ذکر کیا ہے۔
۱۲منہ
عاجز محمد ابراہیم میر سیالکوٹی کی انبیا علیہم السلام کی عصمت کے متعلق دو کتابیں سابقاً تصنیف شدہ ہیں، ایک کا نام عصمت انبیاء ہے جو عیسائیوں کی کتاب بے گناہ نبی ‘‘کے جواب میں ہے اور دوسری کا نام عصمت و نبوت ہے جو عیسائیوں کی زہریلی کتاب ’’عدم معصومیت محمد ﷺ‘‘ کے جواب میں ہے لیکن اب دونوں ختم ہو چکی ہیں۔ کاغذ کی گرانی کی وجہ سے دوبارہ نہیں چھپ سکیں۔
۱۲منہ

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

علمی وفکری اختلاف آپ کا حق ہے۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔